ہفتہ, اکتوبر 1, 2016

بارے ترکی بغاوت کے

ترکی کے فوجی بغاوت میں ان مہ جبینوں کے نام ہو سکتے ہیں جنھوں نے مصر میں مرسی کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ جہاں تک بات فتح اللہ گولن اور ان کی خدمات کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں گولن نے اپنے فکر و فلسفہ کو پھیلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے ان کے کئی ادارے ہندوستان میں بھی چل رہے ہیں ، خود حیدر آباد شہر میں ان کی تنظیم کے زیر نگرانی کئی ادارے اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن صوفیت اور جدیدیت کے بینر تلے اس سے اسلام کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے ۔ چونکہ گولن کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس سے قبل انھوں نے طیب اردوان کی حکومت کو گرانے یا نیچا دکھانے کے لئے متعدد قسم کے اقدامات کئے ہیں، جس کی خبریں ہم اخباروں میں دیکھتے اور پڑھتے رہے ہیں اس لئے کوئی بعید نہیں ہے کہ یہ اقدام انھوں نے نہ کیا ہو، ابھی چند ماہ قبل زمان نامی اخبار میں طیب اردوان کے خلاف زہر افشانی کرنے اور ملک مخالف مواد چھاپنے کے الزام میں دو صحافیوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا مگر روزنا مہ زمان جو کہ گولن تحریک کا ایک طرح سے ترجمان ہے کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اردوان کے فکر و فلسفہ سے نالاں ہیں ،چونکہ عالمی سطح پر اردوان اسلام کی ایک معتدل شبیہ رکھنے والی شخصیت کے طور سامنے آئے ہیں اور عالم اسلام میں انھیں ایک مسیحا کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے ایسے میں اسلام دشمن طاقتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ ان کی قیادت مضبوط ہو اس لئے بھی ان کے خلاف اس قسم کی ریشہ دوانیاں کی جا رہی ہیں ۔ اسرائیل اور فلسطین والے معاملہ پر اب تک دو ہی ممالک ایران اور ترکی کا نظریہ کھل کر سامنے آیا ہے ، باقی سب تو منہ میں گھگھنی لئے بیٹھے ہیں انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے کلمہ گو بھائی مارے جا رہے ہیں یا ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا ہے ، انھیں تو بس اپنی کرسی بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے ۔ ابتدائی جانچ میں جس قسم کے انکشافات ہو رہے ہیں وہ بھی چونکا دینے والے ہیں ، داعش کے خلاف ترکی میں موجود امریکہ کے زیر استعمال ہوائی اڈہ میں جنرل کی گرفتاری، کرنل کوز کا فتح اللہ گولن سے رابطہ ، جنرل آکین اوزترک کا اسرائیل سے تعلقات جیسی چیزیں بہت کچھ کہتی ہیں ۔
محمد علم اللہ