سوموار، 23 دسمبر، 2013

اب تو دسمبر بھی جانے کو ہے

محمد علم اللہ اصلاحی 
زندگی کی مدت ایک سال اور کم ہو گئی ہے۔دسمبر پھر سے لوٹ آیا ، بلکہ اب تو ختم ہونے کو ہے ،یہ ہر سال آتا ہے ، مگر پتہ اس وقت چلتا ہے جب ایک سال اور گزر جاتا ہے۔کئی نادانیا ں اس سال بھی ہوں گی اور اب تو وقت نے کچھ اورپختگی دے دی ہے سوچ کو، جینے کا کچھ اور ڈھب آ گیا ہے، کچھ تحمل کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے،کچھ دنیا کے اور رنگ دیکھ لیے ہیں ، اور ڈھیروں پیاری یادیں اس سال سے منسلک ہیں جو وہ اپنے دفتر میں سمیٹے چلا جائے گااور پھر کبھی لوٹ کرنہ آئے گا،لیکن اس کی وہ تمام یادیں دل کے گلستان میں پھولوں کی طرح ہمیشہ تازہ رہیں گی جن کی خوشبوؤں سے دل کو طمانینت اور لبوں کو تبسم کی دولت مل سکے گی اور کچھ ایسی تلخیاں ہیں جو دل دکھا گئیں جن کا اعادہ نہ ہونا ہی بہتر ہے۔پتہ نہیں ایسا ہوگا یا نہیں کل کو کس نے دیکھا ہے ۔مگر اندیشے ابھی سے سر اٹھا رہے ہیں اس لئے ڈر لگتا ہے کہ اگلے برس کیا ہوگا ؟ کیا چھن جائے گا؟ کہیں نیا سال کوئی ایسا زخم نہ دے گا جو عمربھر کا روگ بن جائے ، ایسی سزا نہ دے جس کا زخم تادم حیات مندمل نہ ہوسکے۔زندگی میں مثبت یا منفی کس طرح کی تبدیلیاں آئیں گی۔اللہ کرے بہتر ہی ہو ۔ایک عزم ہے کہ اب پرانی غلطیوں کونہیں دہرانا ۔ اب کہ کچھ نیا کرنا ہے، کچھ ایسا کہ اگلے سال دسمبر میں جب ضمیرکی عدالت لگے اور کٹہرے میں کھڑا ہوں ، تو شرمندگی سے اپنی ہی نظروں میں نہ گر جاؤں،ایسا کوئی گناہ نہ ہو کہ ضمیر کی عدالت میں قابل معافی نہ قرار دیا جائے اورمزید ایک سال کے ضیاع کا مجرم ٹھہروں، کچھ ایسا نہ ہو کہ جس سے کسی کا دل دکھے، کچھ ایسا نہ ہو کہ جس سے کوئی روٹھ جائے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا آجائے، انا مجھے سنگ دل نہ کردے، مجھ سے وابستہ لوگوں کی امیدیں نہ ٹوٹ جائیں، اگلے سال جب دسمبر آئے تو دل مطمئن ہو ، دل پر کوئی بوجھ نہ ہو۔میں دعا گو ہوں خدایا ! زندگی کو سب کے لئے آسان بنا ، ہم سب خوش رہیں،میں اب کے سال زندہ رہوں تووہ زندگی کی کامیابی کے حساب میں ہواورسانسیں اکھڑ جائیں تو لوگ یاد رکھیں۔آپ سے بھی دعا کی درخواست ہے ۔

۔۔۔مزید