سوموار، 27 جون، 2016

پس ماندہ طبقہ اور میڈیا


( افسانہ فورم پر دلت فکشن ایونٹ کے حوالہ سے )

محمد علم اللہ 
 
ابھی حال ہی میں فیس بُک پر چند احباب کے ذریعہ چلائے جا رہے دلت ایونٹ میں شرکت کا موقع ملا جس میں پوری دنیا سے لوگوں نے اپنے مضامین، افسانے اور نظمیں ارسال کیں ان سبھوں کو پڑھنے کا موقع ملا تو مجھے بھی ایک صحافی کی حیثیت سے میڈیا کے حوالہ سے اس پر غور کرنے کاخیال آیا۔ اگر ہندوستان کے دس اہم اخبارات کا مطالعہ کے لحاظ سے نام لیا جائے تو ان میں سب سے اوپر ہندی اخبارات کے نام آتے ہیں۔ دس کی فہرست میں پانچ ہندی اخبارات کے نام ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا کو دیکھیں تو وہاں بھی ناظرین کی تعداد کے لحاظ سے ہندی چینل ہی چھائے ہوئے ہیں۔ ہندی اخبارات کی اشاعت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ حالاں کہ اردو والے بھی اس کا دعوی کرتے نہیں تھکتے۔اردو اخبارات کے اس دعوے کی قلعی ابھی حال ہی میں آنے والی ایک کتاب دہلی میں اردو صحافت کا منظر نامہ جو کہ ایک دیدہ دلیر ریسرچ اسکالر شاہد الاسلام کے ذریعہ لکھی گئی ہے سے بھی ہوتی ہے۔

اردو یا ہندی میڈیا نے اپنے پھیلاؤ اور تشہیر کے میدان میں جتنا کام کیا ہے، اتنا باشعور قاری پیدا کرنے کے لئے نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ میڈیا کے اپنے رویے میں ہے۔ معاشرے کے اثر و رسوخ والے طبقے کے ساتھ مل کر چلنا اور اس کو برقرار رکھنا میڈیا کی بنیادی ضرورت ہے۔ معاشرے کواگر پسماندہ طبقہ کی فکر نہیں ہے تو میڈیا میں بھی اس کے لئے جگہ نہیں ہوگی۔ میڈیا بالآخر سماجی ڈھانچے کا ہی اظہار یہ یا اعلامیہ ہے۔ وہ سماجی طاقت کے مراکز کے ساتھ مل کر چلتا ہے۔ انہیں چھیڑنا میڈیا کی فطرت میں نہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ میڈیا میں سائنسی شعور کے لئے جگہ کم ہے، بیکار مسائل کے لئے جگہ، وقت اور سرمایہ سبھی کچھ ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری میڈیا کے پاس جذباتی یا غیر ضروری کام کے لئے مجمع جمع کرنا آسان ہے، لیکن کسی سنگین مسئلے پر بات چیت کرنا انتہائی مشکل ۔

اس کے لئے صرف میڈیا ذمہ دار ہے، یہ کہنا غلط ہو گا۔ سائنسی شعور اور دانشورانہ سوچ کے لئے معاشرے کے دیگر ساختیاتی ڈھانچے میں ہم نے کتنی جگہ لی ہے، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ سائنسی شعور کی تعمیر میں تعلیم ایک ضروری شئے ہے۔ اگر تعلیم کی ترقی اس بنیاد پر کر پائیں تو میڈیا میں بھی ان کی تصویر دکھائی دے گی۔ کیونکہ میڈیا میں جو لوگ آ رہے ہیں وہ اسی نظام سے آ رہے ہیں۔اب صورت حال یہ ہے کہ سماجی ضرورتوں کا ادراک کئے بغیر کالم سے اخبارات کے پیٹ بھرے اور بے جا لفاظی اور مقصدسے عاری اداریے لکھے جاتے ہیں۔ جب تک ان سب کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا، پسماندہ طبقہ کی بات کیسے ہوگی۔ غیر سائنسی شعور اور اندھی تقلید کی مار کو سب سے زیادہ یہی طبقہ جھیلتا ہے۔ پسماندہ لوگوں میں سے جن حصوں کو سیاسی اقتدار میں حصہ داری ملی ہوئی ہے، وہ بھی ان سے اچھوتے نہیں۔

میڈیا کی تاریخ اندھی تقلید یا دقیانوسی تصورات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور سائنسی خیالات کے حق میں بیداری پیدا کرنا رہا ہے۔ ایسے رسائل کو نکالنے والوں کی وفاداری اور اپنے ملک اور عوام کے تئیں خدمت اور محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ وہ معاشرے کی بیماری کو پہچانتے تھے۔مگرڈیجیٹل جرنلزم کے بعد ہندوستان میں آج جتنے اخبارات اور چینلز آئے ان میں فضول چیزوں کو شائع کرنے یا دکھانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ انٹر نیٹ کا کوئی بھی صفحہ کھو لئے تو وہاں سب سے پہلے جنس سے متعلق ہیجان انگیز اشتہار، راشی پھل، واستو یا اسی قبیل کی غیر ضروری چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔یعنی سماجی عادات میں اندھی تقلید، جہالت منفی رویہ جات سے ہی میڈیا مطمئن ہے۔ اسے ختم کرنے میں میڈیا یا میڈیا میں کام کرنے والے لوگوں کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔

ہمارے یہاں میڈیا کی اکثریت کسی خاص نظریے کے ساتھ منسلک دکھائی دیتی ہے۔ نظریاتی اور سماجی بحران کے وقت یہ وابستگی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ ہندی میڈیا کا فرقہ وارانہ خیالات کے ساتھ دوستی کا رشتہ کسی سے مخفی نہیں ہے جس کی تفصیلات کئی بار منظر عام پر بھی آ چکی ہے۔ حیرت ہے کہ آج بھی شعور کے رویہ کا فقدان ہے اور بغیر شعور کے نقطہ نظر کو بیدار کئے ہوئے ہم پسماندہ سماج کی بات نہیں کر تے۔پسماندہ طبقہ میں وہ سبھی طبقے شامل ہیں جو سماج میں ذات، جنس، مذہب، جسمانی معذوری کی وجہ سے نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ ان میں دلت، پسماندہ، عورتیں، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، یہودی وغیرہ، جسمانی اور ذہنی طور پر مختلف صلاحیت والے لوگ، سب شامل ہیں۔ پسماندہ لوگوں پر بات کرتے ہوئے خصوصی طور پر دلت پسماندہ طبقات، آدی واسی اور خواتین کی بات کی جاتی ہے، کیونکہ پسماندہ لوگوں میں یہ بڑے دائرے بناتے ہیں۔

جہاں تک میڈیا میں پسماندہ طبقے کی موجودگی کا سوال ہے تو یہ متعدد تحقیقات اور سرویز سے ظاہر ہو چکا ہے کہ ان کی آبادی کے حساب سے میڈیا میں ان کی موجودگی نہ کے برابر ہے۔ رابن جیفری نے کیرالہ ماڈل کو بنیاد بنا کر لکھی گئی اپنی کتاب ’میڈیا اینڈ ماڈرنیٹی‘ میں اس بات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے کہ میڈیا میں دلت طبقے کے نمائندے نہیں ہیں۔کچھ لوگ کچھ کام کر رہے ہیں تو وہ اپنی ذاتی شناخت چھپا ئے ہوئے ہیں۔ مختلف وقتوں میں کئے گئے سرویز بتاتے ہیں کہ پسماندہ طبقہ، میڈیا اداروں میں اونچے عہدوں پرتعداد میں کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کے اتنے سال بعد جبکہ دلت، اقلیتوں، پسماندہ اوردیگر طبقات میں اچھا خاصا متوسط طبقہ پیدا ہو چکا ہے، میڈیا کی خبروں سے وہ کیوں غائب ہے؟ یہ جو نیا متوسط طبقہ آیا ہے اہم ہے، پڑھا لکھا ہے، مگر اس کے لئے روزگار نہیں ہیں۔ ہمارے یہاں تعلیم آدمی کو روزگار سے نہیں جوڑ پاتی بلکہ تعلیم کا ڈھانچہ اس طرح کا ہے کہ اس میں شخص اپنی مہارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ پڑھا لکھا آدمی پیشہ ور نہیں بنتا، وہ صرف روزگار تلاش کرتا ہے۔

اس کی وجہ ہے پیشہ ورانہ نقطہ نظر، اہلیت اور قابلیت کی مہمیزی کو روک لگانا، ان کی ہمت افزائی نہ کرنا۔ دلتوں، عورتوں اقلیتوں کی خبریں اگر ہم آہنگ ہوکر میڈیا میں نہیں آ رہی ہیں، تو ان کے اپنے متوسط طبقہ کی پہل کتنی ہے؟ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ آج یہ نہیں کہہ سکتے کہ اخبار یا چینل ہماری خبریں نہیں دے رہے اور ہماری خبریں لوگوں تک پہنچتی نہیں۔ آج سوشل میڈیا ایک بڑا پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے اور ایک بار خبر جب وہاں ٹرینڈ کرنے لگتی ہے تو دیگر میڈیا ہاوسزدباؤ میں آ جاتے ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں ایسی خبروں کو جگہ دینی ہی پڑتی ہے ، لیکن دیکھنا ہوگا کہ معاشرے کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں میں موضوع کی معلومات، اس سے متعلق اظہار کے لئے کتنی ہمت ہے۔ بڑی تعداد میں عورتیں اور پسماندہ طبقہ سوشل میڈیا میں سرگرم ہیں، مگر وہ اپنے طبقے کی ضرورتوں کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں رکھتے۔یہ بات ہم مسلمانوں کے حوالہ سے بھی کہہ سکتے ہیں خصوصا ہندوستانی مسلمانوں کے حوالہ سے انھیں تو سیلفی ، آپسی چپقلش اور فرقہ وارانہ ریوں پر پوسٹ اور کمنٹ کرنے سے فرصت نہیں ملتی ، مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مسلم مسائل سے متعلق علم ہی نہیں تو وہ اس پر کیا بات کریں گے یا ان مسائل پر غور و فکر کی کیا تدابیر سوچیں گے ۔

جہاں تک میڈیا اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کی بات ہے تو وہ کسی کے کردار کو نہیں بناتے، ان میں لگا پیسہ ان کے کردار کو بناتا ہے۔ اگر ایک میڈیا ہاؤس میں تمام پسماندہ لوگ کام کرنے لگیں تب بھی اس کی ضمانت نہیں لی جا سکتی کہ میڈیا کا کردار انقلابی ہو جائے گا۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ میڈیا کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مفاد ات کیا ہیں۔ امریکہ میں امریکی سوسائٹی آف اخبار ایڈٹرس (اے ایس این آئی) نے 1970 میں ہدف طے کیا کہ سن 2000 تک امریکی میڈیا میں آبادی کے تناسب سے پسماندہ لوگوں کو جگہ دی جائے گی۔ لیکن اس سے کیا خبر وں کے معیار پر کوئی فرق پڑا؟ میڈیا کے رویہ میں کوئی تبدیلی آئی ؟ جب تک نقطہ نظر اور شعور میں تبدیلی نہیں لا ئی جاتی کوئی بڑی تبدیلی ناممکن ہے۔

ہمارے یہاں میڈیا کم سے کم وسائل سے کام چلاتا ہے۔ مالکان اپنی کمائی کا انتہائی قلیل حصہ صحافیوں کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ پسماندہ لوگوں کی خبروں کے لئے الگ سے نامہ نگار نہیں رکھتے، ادارے جائے وقوعہ تک جانے دینے کے اسباب مہیا نہیں کراتے۔ خبروں کا کردار سکڑ کر شہروں تک مرکوز ہو گیا ہے۔ کچھ اطلاعات مطلوبہ مراکز سے فون کے ذریعہ حاصل کر کے رپورٹ بنا دی جاتی ہے۔ ایسی خبریں اعتماد پیدا نہیں کرتیں۔ آج ہی وہ دور ہے جب میڈیا کو سب سے زیادہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ حقیقت اور سچائی پیش کر رہی ہے۔ مختلف بیٹ کے اچھے صحافی نہیں، رپورٹر نہیں؛ اب ماہرین کو بلا کر اینکرنگ کے ذریعہ پروگرام تیار ہو رہے ہیں۔ میڈیا روایتی پیشہ نہیں ہے، یہ پیشہ ورانہ رویہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ رویہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھی طے کرتا ہے۔
Md.Alamullah
alamislahi@gmail.com

نوٹ: یہ مضمون ہفت روزہ مشن نئی دہلی میں شائع ہو چکا ہے ۔

۔۔۔مزید

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ



نام کتاب :ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ
مصنفہ : نسترن احسن فتیحی
مبصر : محمد علم اللہ ۔ رانچی ۔جھارکھنڈ
مطبع : عفیف پبلی کیشنز دہلی.( ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس )
سن اشاعت : 2016
قیمت : 360

اردو میں عموماً نئے موضوعات پرکتابیں کم لکھی جاتی ہیں۔خاص طور سے بدلتے حالات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل کاکسی بھی زاویۂ نظرسے احاطہ کرنے والی کتابیں کم ہی شائع ہوتی ہیں۔ موضوعاتی لحاظ سے تنوع کااحساس دلانے والی کتابیں اگر ملتی بھی ہیں تو ان میں زیادہ ترترجمہ شدہ ہوتی ہیں یاپھر کسی غیر ملکی زبان میں لکھی گئی کتابوں کے چربہ کی شکل میں سامنے آجاتی ہیں جس کااردو متن یا ترجمہ اس قدر گنجلک اور ناقص ہوتا ہے کہ قاری اس سے استفادہ کرنے یا معلومات کشیدکرنے کے بجائے متن کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً قاری ایسی کتابیں کم از کم اردو میں پڑھنے سے یا تو توبہ کر لیتا ہے یا اس کی طبیعت اس قدر مکدر ہو جاتی ہے کہ وہ آئندہ ایسی کتابوں سےدور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ اپنی جگہ،البتہ اچھوتے اور نئے موضوع پربعض اہل قلم کے ذریعہ لکھی گئی کچھ کتابیں ایسی ضرور منظرعام پر آرہی ہیں جن کا مطالعہ قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔

ابھی حال ہی میں عفیف پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ایکو فیمینیزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ بھی ایسی ہی ایک دل آویز اور قابل مطالعہ کتاب ہے،جو معروف افسانہ نگار اور ادیبہ نسترن احسن فتیحی کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔تقریبا تین سو چار صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہمارے عہد کی ماحولیاتی مادریت اور تانیثیت جیسے سنگین مسئلہ کو عصری تانیثی اردو افسانہ کے حوالہ سے پرکھنے اور تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ اس موضوع پر ان کی یہ پہلی کتاب ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو میں اب تک اس مسئلہ پر ادب کے حوالہ سے کسی نے جھانکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس وجہ سے مصنفہ ہم سب کی جانب سے مبارکباد کی مستحق ہیں کہ ایک حساس اوروقت کے سلگتے موضوع پر خامہ فرسائی کر کے انہوں نے اردو کے قارئین کو ایک خوبصورت تحفہ عطا کیا ہے۔

کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں ایکو فیمینزم یعنی ماحولیاتی تانیثیت کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے اور تاریخی جھروکوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر زمانے میں سماج کی ترقی اور بہتری میں اپنی حصہ داری نبھائی ہے۔اس باب میں انقلاب انگلستان اور خواتین .انقلاب فرانس اور خواتین . برطانیہ میں مزدور تحریک اور خواتین .انقلاب روس اور خواتین .تیسری دنیا کا پدر سری معاشرہ .ایکو فیمینزم یا ماحولیاتی مادریت ، ماحولیاتی تنقید.ایکو فیمینزم بحیثیت ادبی تنقید فیمینزم پہلی تانیثی لہر .دوسری تانیثی لہر .تانیثی تحریک کی تیسری لہر.ماحولیات ، فضائی آلودگی پانی کی آلودگی .صوتی آلودگی .ماحولیات سے خواتین کی وابستگی .ماحولیاتی آلودگی اور عوامی تحریکیں .چپکو تحریک.گرین بیلٹ تحریک .کینگ شی آن گرین پروجیکٹ تحریک .نودانیہ تحریک .گری گین ازم.لوک ادب اور ماحولیات .اردو ادب میں ماحولیات جیسے موضوعات پر فاضلانہ انداز میں بحث کی کی گئی ہے۔

کتاب کا دوسرا باب عصری تانیثی اردو افسانہ اور ایکوفیمنزم کا تصور ہے .جس میں مصنفہ نے اپنے تجربات .احساسات .اور مشاہدات کو ذاتی بلکہ نجی حوالے کے ساتھ پرکھنے کے بعد اس کے جزئیات کو احاطہ ٔتحریر میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ آج جو خواتین افسانے لکھ رہی ہیں، ان کے افسانوں میں گوناگوں موضوعات کی رنگا رنگی اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے شعورکو مصنفہ نے اس باب میں کامیابی سے منعکس کرنے کی کوشش کی ہے۔اس حوالہ سے انھوں نے متعدد خواتین قلم کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے فکشن .ڈکشن .ڈسکورس .اسلوب اور رویہ پر خوبصورتی سے گفتگو کی ہے۔

تیسرا باب اسی حوالہ سے افسانوں کے انتخاب پر مبنی ہے.جس میں سلمیٰ جیلانی .سبین علی .ترنم ریاض .عینی علی .غزال ضیغم ، ڈاکٹر کوثر جمال .نسیم سید . عذرا نقوی.نگار عظیم .انجم قدوائی .ڈاکٹر نکہت نسیم .شاہین کاظمی .سیمیں درانی .نسترین فتیحی.ڈاکٹر ناہید اختر .نور العین ساحرہ .شہناز یوسف .روما رضوی .صادقہ نواب سحروغیرہم کے کل سترہ افسانے شامل ہیں۔ ہر افسانہ اپنی جگہ ایک کائنات ہے۔یہ افسانے گویا دنیا بھر میں بسنے والی خواتین افسانہ نگاروں کی شاہکارکہانیاں ہیں۔ان افسانوں کا انتخاب ایک خاص پس منظر سے کیا گیاہے۔ اس حوالہ سے افسانوں کا مطالعہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے ۔یہ افسانے عالم کاری کے دباو اور ٹوٹ پھوٹ کو کچھ اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ یہ ماحولیات کے تئیں گہری درد مندی اور سماجی رویوں کے خلاف پر زور احتجاج کی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں ،جن میں دکھ ، درد ، کرب، خواب ، امید ، حوصلہ،عزم سبھی کچھ شامل ہے۔ اس ذیل میں مصنفہ کے نگاہ انتخاب کا بھی کمال ہے کہ جانے کہاں کہاں سے انھوں نے ان جواہر پاروں کو اکٹھا کیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس دور کو اردو کا بانجھ دور کہا جاتا ہے ،اس دور میں ایسی بھی خوبصورت خاتون قلم کار وں کی صف موجود ہے ،جو دنیا کے گوشے گوشے میں اردو کی جوت جگانے میں مصروف ہیں۔
چوتھا اور آخری باب ..ماحولیاتی تانیثیت اور عصری تانیثی افسانے ایک تجزیاتی مطالع کے نام سے ہے -جس میں مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے افسانوں سے بحث کی گئی ہے اور موضوعاتی احساس کو کریدنے کی کوشش کی گئی ہے جوان کہانیوں میں پنہاں ہے ۔اس میں ان مصنفین کے علا وہ دیگر اردو کی معتبر خاتون قلم کاروں کی تخلیق کے نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں اور ان میں چھپے عکس اور خیال کو ابھارنے کی سعی کی گئی ہے ۔ گو کہ سارے افسانے اپنی کہانی خود آپ بیان کرنے میں پوری طرح کامیاب ہیں لیکن ان کہانیوں کا تجزیہ اور مصنفہ کی تفہیم و تشریح کتاب کی وقعت میں اضافہ کا باعث بن رہاہے ۔آخری باب کے تجزیے میں افشاں ملک نکہت فاروق، ڈاکٹر عشرت ناہید اور مہر افروز جیسے خواتین افسانہ نگاروں کے تراشے شامل کئے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ادبی پیکر تراشی ومنظر نگاری اور اسلوب نگارش کی خوبصورت مثا لیں ہیں ۔

زیرتبصرہ کتاب میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔مذکورہ کتاب میں مصنفہ نے جگہ جگہ اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے دانشوروں ادیبوں اور بڑے بڑے قلم کاروں کے اقتباسات پیش کئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس میں چند ایک کوچھوڑ کر باقی مقامات پرانھوں نے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ اگر مصنفہ اپنی اس کتاب میں ان حوالوں کا اہتمام کرتیں تو کتاب کی معتبریت دوچندہوجاتی۔
کتاب کا پیش لفظ معروف دانشور اور انٹر نیشنل اسلامک یونیوورسٹی اسلام آباد پاکستان سے وابستہ فرخ ندیم کا تحریرکردہ ہے-جس میں انھوں نے انتہائی باریکی بینی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ایکو فیمنزم بیسویں صدی کے پہلے پچاس سال اور بعد کے انسانی مسائل کو دیکھنے کے رویہ پر گفتگو کی ہے .. جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مجموعی لحاظ سے یہ کتاب اردو ادب کے جمود کو توڑنے کی ضامن کہلاسکتی ہے۔
مبصر کا پتہ :
alamislahi@gmail.com
Mob No :09911701772

۔۔۔مزید