بدھ, فروری 19, 2014

زیر سماعت قیدی صوفیہ کی کہانی


محمد علم اللہ اصلاحی 

آئیے ملتے ہیں زیر سماعت قیدی صوفیہ سے،ان کا آبائی وطن شہر رانچی ہے جبکہ سسرال میرا بورنگ روڈ پٹنہ۔عمر تقریباً 26 سال ، ان کوناجائز طریقہ سے اسلحہ رکھنے کے الزام میں 7اکتوبر 2009کوبرسا منڈا جیل لایا گیا تھا،جب سے اب تک وہ یہیں انصاف کے انتظار میں اسیری کے ایام گذار رہی ہیں۔ کم عمری میں شادی ہو جانے کے سبب شوق کے باوجود اعلی تعلیم حاصل نہ کر سکیں جب ہم نے ان سے ان کی تعلیم کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’’میری شادی بہت پہلے ہو گئی تھی اور چونکہ اس وقت میں بہت چھوٹ تھی تقریبا 17 سال کی تو زیادہ پڑھ نئی پائی۔ بی اے پارٹ 2کی ہے آرٹ سے۔جب ہم نے ان سے ان کے جرم کی بابت پوچھا تو ان کا جواب تھاہم کو ابھی تک مجرم نہیںگردانا گیا ہے۔کچھ سوچ کر اور ادھر ادھر دیکھ کر’ہم کو آرمس ایکٹ میں یہاں لایا گیا‘جبکہ میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں انجانے میں ایک لڑکے سے پیار کر بیٹھی تھی۔ سر نیچا کرکے،مجھ کو اس سے پیار نہیں کرنا چاہئے تھا، آج اسی کی وجہ سے میں یہاں پر ہوں۔ بولتے ہیں نہ پیار اندھا ہوتا ہے تو بس مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ناجائز طریقہ سے کسی قسم کا اسلحہ رکھے ہوئے ہے اور اپنی کارستانی میرے سر تھوپ دے گا۔جب میں جیل آئی تو سب ہی کہتے تھے کہ دور ہو اس سے، میرے بارے میں جھوٹ کہا گیاکہ میں ما نواز باغیوں کی گینگ چلاتی ہوںبہر حال یہاں آنے کے پہلے میں سمجھ گئی تھی کہ ایک دن ایسا ہونے والا ہے ہمارے ساتھ، اب جب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ نہیں پڑنا چاہیے تھا اس کے چکر میں لیکن اب کیا کریں اب تو انصاف کا انتظار ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہونگے۔ہم نے ان سے باہر کی زندگی کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ،بس اپنے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوںکہ کیا ہوگا ان کا، میرے جو شوہر تھے، مطلب پہلے والے ان کاانتقال ہو چکاہے، ان سے میرے دو بچے ہیں، ادتیہ بیٹا اور سرد بیٹی ہے، گھر میںکوئی نہیں ہے اب بس ممی ہی ایک واحدسہارا ہیں،یہ بتاتے ہوئے صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو چھلک آتے ہیں اور گویا ہوتی ہے۔ بہت غصہ آتا ہے مجھ کو کو بہت کچھ یاد کر کے تھوڑی دیر کیلئے کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر صوفیہ بولنا شروع کرتی ہے’ بس صبح شام منت کرتی ہوں کہ یہاں سے نکل سکوں اپنے بچوں کیلئے، میرے بچوں کے سامنے مجھے پولیس نے ذلیل کیا کیا بتاؤں۔‘ تھرڈ ڈگری تو نہیں لیکن ایسی حرکت کا کیااثر ہوا ہوگا ان پر، غصہ آتا ہے جب وہ سب یاد آتا ہے تو بہت زیادہ۔جب ہم نے صوفیہ سے پوچھا یہاں آنے سے پہلے جیل کے بارے میں کیا جانتے تھے اور یہاں اس حقیقی دنیا کو دیکھ کر کیسا لگا تو کہنا تھا۔ بس کچھ کچھ پتہ تھا، نانا جی جج تھے میرے، تو وہی گھر میں آکر تھوڑا بہت بتاتے تھے وہی معلوم تھابس لیکن اندر کیا ہوتا ہے، کیا نہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔مطلب زیادہ کچھ تو نہیںمعلوم تھا، تو اتنا فرق نہیں سمجھے،منتظمین ٹھیک ہی ہیں ،جب پہلی بار ممی آئی تھیں ملنے تو پوچھ رہی تھیں کہ کیسے رہتی ہو یہاں پر؟ بہت دقت ہوتی ہے کیا؟جیل کی پریشانیوں کے بارے میں تو سب کو پتہ ہوتا ہے، اسی حساب سے وہ پوچھ رہی تھیں لیکن میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے، ٹھیک سے رہتے ہیں یہاں مسکراتے ہوئے۔ سنیچر کو کھچڑی بنا کر کھاتے ہیں یہاںسہی معنوں میں جیل ایسا نہیں ہے جیسا لوگ سمجھتے ہیں، ممی کو بھی جو پتہ تھا اسی حساب سے پوچھی تھیں۔اگر دیکھا جائے تو عورتیں یہاں زیادہ محفوظ ہیں! باہر تو جیسے بازار میں یا کہیں بھی لوگ ہم لوگوں کو پریشان کر سکتے ہیں یہاں اتنا نہیں ہے! کبھی کبھی ہو جاتا ہے! پھر بھی ہم لوگ یہاں محفوظ ہیں!ہم نے ان سے پوچھا اچھا فلموں میں جو جیل کے بارے میں دکھا یاجاتا ہے ،اس میں آپ کے خیال میں جیل کی حقیقی دنیا سے کتنی مطابقت ہے تومسکراتے ہوئے ان کا کہنا تھا،گھر میںفلم اتنا کوئی دیکھتا نہیں تھا،ہم بھی بہت کم دیکھے ہیں۔ اب کیسے بتائیںمطلب فلموں میں جودکھایا جاتا ہے کہ چکی پیسنا ہوتا ہے،پتھر توڑنا ہوتا ہے وہ سب یہاں نہیں ہوتا ہے، کھانا دے دیا گیا تو یہ نہیں ہے کہ اسی وقت کھانا ہے،بعد میں بھی کھا سکتے ہیں۔کیا فلمیں کرائم کو بڑھا دیتی ہیں اس کے جواب میں صوفیہ کا کہنا تھا ہاں بالکل ،جرائم کی دنیا یا اس سے متعلقہ چیزوں کو فلموں میں نہیں دکھانا چاہئے۔جیل میں قیدیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی بابت صوفیہ کا کہنا تھا ہاں کسی حد تک درست ہے یہاں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں جھگڑے یہاں،ہم لوگوں پر فقرے بازیاں بھی کی جاتی ہیں۔جیل میں غنڈہ گرد عناصر کی سرگرمیوں کے بارے میں صوفیہ کہتی۔ہاں صد فی صد سچ ہے مسکراتے ہوئے جیسے میں یہاں تھوڑا دبنگ قسم کی ہوں،کیونکہ میرے بارے میں مشہور ہے کہ میں گینگ چلاتی تھی اس وجہ سے لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تھوڑا۔فلموں میں جیل کی کیا تصویر پیش کی جانی چاہئے ہم نے جب یہ پوچھا تو صوفیہ کچھ سوچ کہتی ہیں ہمیں یہاں پر قیدیوں کو کوئی کپڑا نہیں ملتا ہے، باہر سب کو لگتا ہے کہ وہی سفید اور کالی دھاری والا کپڑا پہنتے ہیں تو ویسا نہیں ہوتا ہے نہ مطلب مثبت طرز عمل کو دکھانا چاہئے۔ اس خیال کو توڑنے کیلئے کی ہم لوگ ہمیشہ سے ایسے تھے یا ہمیشہ ایسے رہیں گے، لوگوں کو بتانا چاہئے کی ایسا نہیں ہے، بہت سارے لوگ تو بغیر کچھ کئے ہی پھنس جاتے ہیں،سماج کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے!