بدھ, فروری 19, 2014

الوداع (افسانہ)

الوداع 
محمد علم اللہ اصلاحی 
باہر ابھی اجالا ہے ہلکا ہلکا اجالا جو ابھی تھوڑی دیر میں اندھیرے کی شکل لینا شروع کر دے گا ۔ امی باورچی خانے میں ابھی بھی کچھ کھٹ پٹ کر رہی ہیں جبکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں سوٹ کیس اور بیگپیک ہو چکے ہیں اور اب مزید کوئی چیز رکھنے کی جگہ نہیں وہ کرسی پر آرام سے بیٹھا ہے ۔ سامنے واصف پلنگ پر بیٹھا ہے ۔ ابو دروازے پر ٹہل رہے ہیں اور پتہ نہیں کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ کبھی باہر کی طرف دیکھتا ہے، کبھی واصف کی طرف اور کبھی كچن کی طرف، سبھی جیسے کسی چیز کا انتظار کر رہے ہوں ۔ گھڑی کی سوئیوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر ایک خاص جگہ پہنچ جانا بھی جیسے کتنا اداس واقعہ ہے، اور کتنا تھکا دینے والا ہے یہ انتظار ابو باہر ٹہلتے ٹہلتے ہی وقفہ وقفہ سے اسے دیکھ لے رہے ہیں جیسے انہیں یقین ہی نہ ہو کہ وہ اسی گھر میں اسی ٹوٹی کرسی پر بیٹھا ہے ۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر پر کبھی اندر آ رہے ہیں اور کبھی باہر جا رہے ہیں۔ 
امی ایک ڈبے میں کچھ لے کر آ تی ہیں۔
اسے بیگ کی سائڈ والے خانہ میں جگہ بنا کر رکھ لو ۔ '
"کیا ہے یہ ۔۔۔ ؟ ' وہ ڈبے کو بغیر تھامے پوچھتا ہے۔
'راستے میں کھانے کے لئے کچھ ناشتہ۔۔۔ ۔ '
'امی، میں نے کہا تھا نہ نا کہ پلین میں کھانا ملتا ہے ۔ ' وہ جھنجھلا جاتا ہے۔
پر یہ کھانا تھوڑی ہے، تھوڑی - تھوڑی دیر پر نکال کر کھاتے رہنا۔ ' امی تھوڑی سہم جاتی ہیں۔
'امی تم بھی۔۔۔ '
واصف اٹھ کر امی کے ہاتھ سے ڈبہ لے لیتا ہے۔
لاؤ آنٹی، میں رکھ دیتا ہوں ۔ دو چار اپنی جیب میں اور باقی بیگ میں۔۔۔ ۔ ' واصف کہتا ہے۔
ہاں بیٹا، لے رکھ دے ۔ '
ابو پھر اندر آتے ہیں۔
' بیٹا، وہاں جا کر اپنا حساب کتاب دیکھ کر مجھے فون کرنا ۔اور بھی پیسوں کی ضرورت ہوگی تو بتانا ۔ پڑھائی میں دھیان لگانا، پیسوں کی کوئی فکر مت کرنا۔۔۔ ۔ '
اسے پتہ ہے ابو کی عادت ہے یہ، جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے، اسے ہی سب سے زیادہ دستیاب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
واصف چپ چاپ بیٹھا بسکٹ کھا رہا ہے ۔وقفہ وقفہ سے وہ اسے دیکھ بھی لے رہا ہے اور مسکرا رہا ہے ۔ یہ اتنا چپ تو کبھی نہیں رہتا ۔ بسکٹ کھانے میں ایسے لگا ہے جیسے بسکٹ کھانا دنیا کا سب سے ضروری کام ہو اور اس کا مطالعہ کرنے نیو یارک جانا ایک معمولی بات ہو ۔
ابھی تین گھنٹے بعد وہ فلائٹ میں ہوگا ۔ سب سے دور ۔۔۔ امی ابو سے، دوستوں سے، اس محلے سے، اس شہر سے، اس ملک سے۔۔۔ ۔
تھوڑی دیر میں طارق بھی آ جاتا ہے۔
'سب تیار ہے نہ نا ؟وہ واصف سے پوچھتا ہے۔
'جی ہاں، جی ہاں سب تیار ہے ۔ بس ۔۔۔ نکلتے ہیں ۔ 'واصف اطمینان سے ایک بسکٹ نکال کر طارق کی طرف بڑھا دیتا ہے۔
معمول کا دن ہوتا تو اتنے سکون سے طارق ایک بسکٹ لے کر کھانے لگتا ؟ واصف کے ہاتھ سے دوسری بھی چھین لیتا اور واصف اسے چھیننے کے لئے اس کی ٹانگوں میں ہاتھ ڈال کر گرا دیتا اور بسکٹ چھیننے لگتا ۔ امی ہمیشہ کی طرح دونوں کی طرف دیکھ کر کہتیں، ' ارے لڑو مت بیٹا ۔ ابھی اور بھی بسکٹ بچی ہوئی ہیں۔ '
مگر طارق ایک بسکٹ آرام سے کھا رہا ہے ۔ امی صوفہ پر بیٹھ کر اس کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ وہ مسکرا دیتا ہے۔
'کیا ہے امی ؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟ '
'کیا ! ہا ں، بیٹا اب ہمیں تو راتوں کو بھی نیند نہیں آئے گی، کیوں کہ تو وہاں اس وقت جاگتا ہو گا اور ہمیں تمہارے فون کا انتظار رہے گا اپنے کھانے - پینے کا خیال رکھنا ۔ رات کو دودھ ضرور پینا ۔۔۔ اور فون کرتے رہنا ۔ تعلیم پر توجہ دینا'
'ارے آنٹی، یہ ہر دو - تین دن پر ای میل کرتا رہے گا اور ہم آ کر اس کا حال چال بتا دیا کریں گے ۔ طارق کہتا ہے۔
جگ جگ جيو بیٹا۔ '
وہ طارق کی طرف آنکھ مار کر دیکھتا ہے ۔ طارق بھی کچھ بتانے کے لئے اس کی طرف دیکھ رہا ہے پر امی کی موجودگی سے دونوں خاموش ہیں ۔ وہ واصف کی طرف دیکھتا ہے ۔ واصف اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ جاتا ہے ۔ وہ اٹھ کر امی کے پاس چلا جاتا ہے۔
'آنٹی وہ نمکین والی بسکٹ دو نہ نا ایک۔ '
'جا بیٹا، اس سفید ڈبے میں ہے، نکال لے ۔ ' امی وہاں سے بالکل نہیں اٹھنا چاہتیں۔
نہیں آنٹی پلیز آپ نکال لاؤ نا ۔ '
'اچھا رکو، ابھی لاتی ہوں ۔' امی آہستہ سے اٹھ کر باورچی خانے کی جانب چلی جاتی ہیں۔
طارق لپک کر اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
'کیا ہوا ؟ ' وہ بے چین نظر رہا ہے۔
'وہ سیدھا ایرپورٹ آئے گی ۔' طارق بتاتا ہے۔
'یار یہاں آ جاتی تو میں نیچے جا کر مل آتا ۔ ایرپورٹ پر تو ابو بھی ہوں گے ۔ کیا بول کر تعارف كراؤں گا اس کا ۔۔۔ ؟ '
'کہہ دینا دوست ہے ۔ ' طارق مشورہ دیتا ہے۔
'جی ہاں پر ۔۔۔ فیرویل (آخری) کس نہیں لے پائے گا ابو کے سامنے ۔ ' واصف مسکراتا ہوا کہتا ہے۔
'ارے یار وہ بات نہیں ۔۔۔ ابھی تک امی ابو کو کچھ نہیں بتایا تو اب جاتے وقت ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا، براہ راست فائنل ڈسيجن کے وقت ۔۔۔ ۔ ' وہ کچھ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
'سن تو! ابو کو ایرپورٹ چلنے کے لئے منع کر دے ۔ کچھ بھی بول کر سمجھا لے ۔ کہہ دے کہ دو لوگ تو جا ہی رہے ہیں ۔ ' واصف مشورہ دیتا ہے۔
' ہا ں شاید یہی ٹھیک رہے گا ۔ ' وہ سوچتے ہوئے بدبداتا ہے۔
امی بسکٹ رکھ کر ابو کے پاس چلی گئی ہیں ۔ دونوں آپس میں باتیں کر رہے ہیں ۔ یا اب اکیلے صرف ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی مشق ۔۔۔ ؟ 
ابو پھر اندر آتے ہیں۔
'سردی سے بچ کر رہنا وہاں سردی بہت زیادہ پڑتی ہے ۔ ہمیشہ مفلر لگا کر رہنا ۔ سردی کانوں پر ہی سب سے پہلے حملہ کرتی ہے ۔ کان ہمیشہ ڈھکے ہونے چاہئے ۔ یہ نہیں کہ فیشن میں بال نہ بگڑے، اس لئے مفلر ہی نہ لگاؤ ۔ احتیاط سے کام لینا۔ وہاں کوئی دیکھنے نہیں آئے گا ۔ وہ تمہارا گھر نہیں نیو یارک ہے'
ابو گزشتہ کچھ دنوں سے ہر بات میں گھما پھرا کر نیو یارک کا ذکر ضرور لے آتے ہیں جیسے پوری تصدیق کر لینا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی اتنی دور جا رہا ہے۔
'جی ۔۔۔ ۔ ' اتنی باتوں کے جواب میں وہ صرف ایک لفظ بولتا ہے جو باہر پھیل رہے اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔
ابو باہر جا کر دوبارہ ٹہلنے لگتے ہیں ۔ امی باہر کرسی پر بیٹھی ہیں۔
'آج روز جتنی سردی نہیں ہے ۔ ' طارق کہتا ہے۔
'ہاں بلکہ مجھے تو گرمی لگ رہی ہے ۔ ' وہ کہتا ہے۔
'وہ تو لگے گی ہی، تو نے سویٹر اور جیکٹ دونوں پہن رکھی ہے ۔ مجھے دیکھ ۔۔۔ ۔ ' واصف اسے اپنا ہاف سویٹر دکھاتا ہے۔
'ارے یار، ابو نے زبردستی۔۔۔ '
'تو ابو کے سپوت، اب تو اتار دے ۔ ابو باہر ہیں ۔ اتار کر جیکٹ کی چین بند کر لے ۔ انہیں کیا پتہ چلے گا ۔ ' واصف کہتا ہے۔
وہ جیکٹ اتار کر سویٹر اتار دیتا ہے ۔ پھر جیکٹ پہن کر اس کی چین بند کر دیتا ہے۔
'میں سوچ رہا تھا، یہ سویٹر نہیں لے جاؤں ۔ ' وہ سویٹر کو تہہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔
'صحیح سوچ رہا ہے ۔ یہ پرانے سویٹر کو لے جا کر کیا کرے گا ؟ تین تین اچھے سویٹر تو ہیں تیرے پاس ۔۔۔ ۔ ' طارق سمجھاتا ہے۔
'مگر ابو دیکھ لیں گے تو انہیں برا لگے گا ۔ وہ خود یہ سویٹر میرے لئے تبتین مارکٹ سے لائے تھے ۔ ' وہ ہچكچاتا ہوا کہتا ہے۔
'ابھی نہیں دیکھیں گے نا؟ بعد میں دیکھیں گے تو سوچیں گے غلطی سے چھوٹ گیا ۔ ' طارق سویٹر تہہ کر کے تکیے کے نیچے رکھ دیتا ہے۔
پھر تینوں اچانک چپ ہو جاتے ہیں ۔ طارق اور واصف دونوں اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں۔
'کچھ کہہ رہی تھی ؟ ' وہ متجسس نظروں سے طارق کو دیکھتا ہے۔بھی مسکراتا ہے۔
'نہیں، کچھ خاص نہیں ۔ بس یہی کہ پہنچتے ہی اپنا پوسٹل ایڈریس ای میل کر دینا ۔ جو سویٹر آپ کے لئےبن رہی ہے، مکمل ہونے ہی والا ہے، اسے کورئیر کرے گی ۔ کہہ رہی تھی بہت ساری باتیں ہیں جو تم سے ایرپورٹ پر کرے گی ۔ میں نے کہا مجھے بتا دے، میں آپ کو بتا دوں گا تو ناراض ہونے لگی ۔۔۔ ' طارق کی گفتگو سے وہ محظوظ ہوتا ہے۔
'سالے تجھے کیوں بتائے گی ؟ وہ باتیں تو خضری سے کیوں نہیں کرتا ؟ ' وہ بھی مسکراتا ہے۔
'یار، وہ نہ تو مجھے گھاس ڈالتی ہے نہ میری ڈالی گھاس کھاتی ہے ۔ اس سے کیا باتیں کروں، مجھے تو تیری شاعری ہی پسند ہے ۔ ' طارق سے ہنستا (ہوا گویا ہوتا) ہے۔'
وہ پھر مسکراتا ہے ۔ وہ جانتا ہے اور کوئی دن رہتا تو خضری کا نام سنتے ہی طارق دل پر ہاتھ رکھ کر ساری باتیں آہستہ آہستہ ڈرامائی انداز میں کراہتے ہوئے کہتا ۔ وہ بھی اس کی زبان سے آیت کا نام سنتے ہی اس پر لاتیں چلانے لگتا ؟۔ پر آج کی بات دوسری ہے ۔ آج ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔ آدھے گھنٹے کے اندر وہ ایرپورٹ کے لئے نکل جائیں گے ۔ اس سے پہلے یاروں کے درمیان ہونے والی بے وقوفیوں کو ری وائنڈ کرنا اچھا لگتا ہے۔
ابو امی کے ساتھ پھر اندر آتے ہیں۔
اب نکلتے ہیں بیٹے، کہیں پہنچنے میں دیر نہ ہو جائے ۔ '
'ارے انکل، ابھی تو وقت ہے ۔ ' طارق کہتا ہے۔
'ارے بھئی ٹریفک جام کا کوئی بھروسہ ہے کیا ۔تاخیر ہو سکتی ہے۔'
امی نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہیں۔ ' تیرے جانے کے بعد گھر بالکل سونا ہو جائے گا ۔ ' لگتا ہے امی رو دیں گی۔
'کم آن آنٹی، ہم سونا ہونے دیں گے تب نا ۔۔۔ ۔ ' واصف امی کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے ۔ امی اس کا گال تھپتھپا دیتی ہیں۔
'چلو بیٹا چلو، اب نکلتے ہیں ۔۔۔ آؤ کہیں دیر نہ ہو جائے ۔ ' ابو اس کے پاس آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اسے ابو پر اسی بات سے غصہ آتا ہے ۔ جس بات کو ایک بار منہ سے نکال دیتے ہںے اس کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں۔
'چلو بیٹا، طارق آؤ ۔۔۔ ۔۔۔ ' اس کے سوچنے بھر میں ابو ایک بار اور اپنی بات دہرا دیتے ہیں اور ایک بیگ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
'ارے انکل، آپ کہاں پریشان ہوں گے ؟ ہم ہیں نا ۔۔۔ ۔ آپ آرام کیجئے ۔ ' طارق یہ کہتا ہوا بیگ اٹھا لیتا ہے ۔ واصف دونوں سوٹ کیس اٹھا لیتا ہے۔
'ارے نہیں بیٹا، میں بھی چلتا ہوں ۔ ' ابو پریشان نظر آنے لگے ہیں۔
'چھوڑئے انکل، ڈاکٹر نے ویسے بھی مزید دوڑ دھوپ سے منع کیا ہے آپ کو ۔ آپ یہیں رہیں ۔ ہم ہیں نا ۔۔۔ ' کہتا ہوا واصف باہر نکل جاتا ہے ۔ پیچھے پیچھے طارق بھی۔
'ڈاکٹر نے دوڑنے سے انکار کیا ہے بھئی ۔ مجھے دوڑتے ہوئے تھوڑے ہی چلنا ہے ۔ ۔۔۔ چلتا ہوں میں بھی ۔۔۔ ' ابو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک اداس ہنسی ہنستے ہیں جو اس اداس شام کو اور اداس کر جاتی ہے۔
'رہنے دیجئے ابو، آپ بیکار پریشان ہوں گے ۔ ' وہ ابو سے الوداعی انداز میں کہتا ہے پھر ہاتھ ہلاتے ہوئے امی کو ۔
بیٹا، امی سے ہاتھ تو ملا لو ۔ '
وہ آگے بڑھ کر ہاتھ ملاتا ہے اور پھر ابو سے گلے مل کر مل کر وہ باہر آ جاتا ہے ۔ ابو امید بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے رہتے ہیں ۔
تینوں گھر سے نکل کر سڑک پر آ جاتے ہیں ۔ وہ خود کو ایسے مقام پر پا رہا ہے جہاں ایک واجب خوشی کا احساس دل میں اس لئے نہیں امڈ کر آرہا ہے کیونکہ کچھ چھوٹ جانے کا غم اس پر حاوی ہوتا جا رہا ہے ۔ اپنے دوست، اپنی جگہ، اپنا ماحول ۔۔۔ ۔ ایک نئی دنیا میں جانے کی خوشی پتہ نہیں کیوں اتنی شدت سے ۔
قریب سو میٹر چلنے کے بعد طارق سگریٹ جلا کر دونوں کو ایک ایک تھما دیتا ہے ۔ دونوں سگریٹ کے مرغولے اڑاتے ہوئے آٹو کی طرف جانے لگتے ہیں۔
'آج صبح ڈاکٹر آصف کے گھر پولیس کا چھاپہ پڑا تھا ۔' طارق سگریٹ کا دھواں چھوڑتا ہوا بتاتا ہے۔
'جی ہاں، اس کے ڈیڈی بزنس کی آڑ میں کچھ غلط دھندا کرتے تھے ۔ ' واصف کہتا ہے۔
اس کا دل صبح سے بھاری ہو رہا ہے ۔ وہ اپنی بیتی زندگی اور آنے والی زندگی کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔ ان دونوں کی باتیں سن کر اس کا دل جیسے بیٹھنے لگا ہے ۔ وہ بھی تو اس کے بغیر اکیلے ہو جائیں گے ۔ وہ کتنا مس کرے گا ان کو۔۔۔ ۔
'اچھا سن، وہاں کی لڑکیاں بڑی فرینک ہوتی ہیں ۔ دو چار پٹ جائیں تو بتانا، ہم بھی ٹرائی کر لیں گے ۔ کیوں!! ' طارق کی بات پر اسے ہنسی آ جاتی ہے۔سےوہ ہنسنے لگتا ہے۔
وہ بھی مسکرا دیتا ہے ۔ واصف ایک بار اس کی طرف دیکھ بھر لیتا ہے ۔ وہ دل دكھانے والی باتیں نہیں کرنا چاہتے۔
'میں وہاں تم لوگوں کو بہت مس کروں گا ۔۔۔ ' وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا ہے ۔ واصف اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دبا دیتا ہے۔
'ارے کبھی - کبھی اسے بھی مس کر لینا جو اپنا پیار سویٹر کی شکل میں بھیجنے والی ہے ۔۔۔ ۔ ' طارق جذباتی ہونے کے باوجود بات کو ہنسی میں اڑا دیتا ہے۔
'انکل آ رہے ہیں ۔ پیچھے پلٹنے سے پہلے سگریٹ پھینک دو ' واصف آہستہ سے پھسپھساتا ہے۔
وہ سگریٹ پھینک کر پلٹتا ہے ۔ ابو تقریباً دوڑتے ( تڑپتے ) ہوئے آ رہے ہیں ۔ وہ آگے بڑھ کر سڑک پار کرتا ہے اور ان کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
'کیا بات ہے ابو ؟ آپ کے لئے دوڑنا نقصان دہ ہے، آپ جانتے ہیں پھر بھی ۔۔۔ ؟ ' وہ ہلکا غصہ ظاہر کرتا ہے ۔ اسے پہلی بار یاد آتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد ابو کی جلد بازی کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا اور وہ جلد بازی میں اپنا نقصان کرتے رہیں گے۔
'ارے تم یہ سویٹر بھول آئے تھے تکیے کے نیچے ۔۔۔ ۔ تمہاری امی نے کہا کہ تمہیں دے آؤں ۔۔۔ اس لئے تھوڑا دوڑنا پڑا ۔ دیکھو بیگ میں رکھ لو ۔۔۔ ' ابو اٹكتی سانسوں کے ساتھ بولے جا رہے ہیں اور ان کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئی ہیں۔
اسے اچانک ابو کے اوپر ترس آنے لگتا ہے، پھر اپنے اوپر ۔ پھر ابو کے اوپر محبت آنے لگتی ہے اور اپنے اوپر غصہ ۔نم آنکھوں اور طویل سانسوں کے درمیان ابو نے کتنی فکر چھپا رکھی ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ ابو کو محبت کی ساری داستان بتا دے اور جو راز اس نے چھپا کر رکھا ہے اسے ظاہر کر دے ۔ کیا پتہ پھر ابو بھی جاتے وقت اسے گلے لگا لیں۔مگر اس کی ہمت نہیں ہو رہی ہے ۔
وہ ڈوبتی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے سویٹر ہاتھ میں لئے تھوڑی دیر کھڑا رہتا ہے اور ابو کو دیکھتا رہتا ہے۔
'ساری ضروری چیزیں رکھ لی ہیں نا؟ یہ یاد رکھنا کہ ہمیشہ اپنی محنت پر یقین رکھنا ۔ صحیح راستہ مشکل ہو یا طویل، ہمیشہ اسے ہی منتخب کرنا ۔ جسم اور پڑھائی دونوں پر توجہ دینا ۔ پیسوں کی فکر مت کرنا ۔ چلو، اب جاؤ، دیکھو طارق نے آٹو طے کر لیا ہے ۔ ۔۔۔ بلا رہا ہے تم کو ۔ ' ابو اپنے آنسو چھپانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
'جی ۔۔۔ ۔ ' وہ خود ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ پلٹتا ہے ۔ دو تین قدم چلنے پر ابو کی آواز سنائی دیتی ہے۔
'کہو تو میں بھی چلے ہی چلوں ۔۔۔ ۔ ویسے بھی گھر پر بیٹھا ہی رہوں گا ۔۔۔ ۔ ' ابو کی سست آواز جیسے کہوں اور نہ کہوں کے تعطل کے درمیان سے نکل کر آ رہی ہے ۔ زمانے بھر کا درد اور اپنی آواز کو انہوں نے اس طرح ظاہر کرنا چاہا ہے جیسے انہوں نے بہت عام اور چھوٹی سی بات کہی ہے اور اس کے نہ مانے جانے پر بھی ان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔