منگل، 30 اپریل، 2013

2014 مرکزی انتخابات :کیا کریں اور کدھر جائیں مسلمان؟


محمد علم اللہ اصلاحی 
سہ روزہ دعوت میں شائع
گرچہ ابھی 2014 مرکزی انتخابات کی آمد میں کافی وقت باقی ہے مگر اس کی نوید ہمیں سنائی دینے لگی ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی بساط بچھانا اور اپنا اپنا بگل بجانا شروع کر دیا ہے۔غرض یہ کہ تمام سیاسی جماعتیں باضابطہ طور پر الیکشن کی تیاریوں میں جٹ گئی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے لے کر عام آدمی تک سبھی نے اپنے اپنے حربے استعمال کر نے  شروع کر دِیے ہیں۔اس کے لیے جہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اپنے اپنے راگ الاپنے میں مصروف ہیں، وہیں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر بھی پروپیگنڈہ جاری ہو گیا ہے۔ نئے نئے اخبارات و رسائل و جرائد بھی نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ قیاس آرائیاں ،چہ می گوئیاں ،تبصرے اور لعن طعن کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ فرقے اور کمیونٹیاں اپنے اپنے منصوبوں میں جٹ گئی ہیں۔لیکن اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسلمانوں کی جانب سے اب تک اس قسم کی کوئی سر گرمی شروع نہیں ہو ئی ہے۔ اور نہ اس کی کوئی رمق دکھائی دے رہی ہے۔ہم بیدار تو ہوتے ہیں لیکن اس وقت جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔حالانکہ دنیا میں کامیاب وہی قوم ہوتی ہے جو پہلے سے منصوبے بناتی ہے،لائحہ عمل مرتب کرتی ہے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوگا یا اس سے ہٹ کر کچھ نیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کیونکہ ہم ہمیشہ سے ہی اپنی بے وقوفی کا مظاہرہ کر ہزیمت اٹھاتے رہے ہیں۔سیکولرازم،مذہب اور انسانیت کی آڑ میں سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو مہرا بناتے ہوئے جس قدر استحصال کیا ہے،شاید ہی کسی اور قوم کے نام پر اتناکچھ ہوا ہوگا۔لیکن اس کے باوجود ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہماری مسلم جماعتوں نے بھی محض قرار داد منظور کرنے ،منصوبہ بنانے ،ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے ،فتوے بازی کرنے ،فسادات کے بعد باز آباد کاری کا کام کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔مسلم پرسنل لا ء بورڈ کا قیام ہر طرح کی رہنمائی اور قیادت کے لیے عمل میں آیا تھا۔لیکن اس کا رویہ بھی قابل افسوس اور تشویش کا ہی رہا۔ بعد میں سب کو ملانے اور ایک ہو کر کام کر نے کے لیے مسلم مجلس مشاورت کی تشکیل ہوئی لیکن یہ بھی دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔اور انھوں نے بھی وہی ڈھرا اپنایا جو دوسروں کا اب تک رہا تھا۔جمعیت علمائے ہند ،جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث وغیرہ ملک کی بڑی مسلم تنظیمیں ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انھوں نے بھی اس طرح کے معاملہ میں کوئی منظم قدم یا فیصلہ نہیں لیا اور نہ ہی مسلمانوں کی کوئی بہتر رہنمائی کی۔

اس صورتحال میں اب مسلمان کیا کریں، کون سی راہ اپنائیں، کدھر جائیں، کسے ووٹ دیں، جسے ووٹ دے رہے ہیں اس سے کیا مطالبہ اور کیا معاہدہ کریں؟۔ یہ سب انتہائی اہم سوالات ہیں۔ اور ان کے جوابات تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم نے اس کا کوئی جواب نہیں ڈھونڈا تو پھر ہمارا حال وہی ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اب تک فسادات سے لے کر ظلم و استحصال ،حق تلفی و ناانصافی جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے یہ سب ہمارے اسی غلط رویہ،منصوبہ بندی کے نہ ہونے اور ہماری غفلت شعاری کا نتیجہ ہے۔اس میں ہمارے علمائے دین کی بھی غلطی ہے کہ انہوں نے ہمیں محض نماز،روزہ، زکاۃ اور حج تک محدود رکھا۔دین اور دنیا دو الگ الگ چیزیں بنا دیں۔حالانکہ اسلام میں تو دین و دنیا کی کوئی تفریق ہے ہی نہیں۔اگر دنیوی امور شریعت کے احکامات کی پابندی کے ساتھ ہو تو ہماری دنیا بھی دین ہی ہے۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کی تعلیم دی تھی۔انہوں نے دین اور دنیا کی قیادت کی کوئی تفریق نہیں کی تھی۔اسلام کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک پیکیج ڈیل (Package Deal) ہے۔صرف خانقاہوں اور مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کر نے اور محض چند ارکان پر عمل کر لینے سے معاملات حل نہیں ہو نے والے۔ اسلام کل زندگی اور ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں سیاست،قیادت سبھی کچھ شامل ہے۔

آزادی سے پہلے 1600 سال تک حکمرانی کرتے رہنے کے باوجود انگریزوں کی غلامی میں 200سال تک جکڑ جانے میں بھی ہمارے یہی عوامل کار فرما تھے۔یہ الگ بات ہے کہ مورخین اور تجزیہ کار اسے مغلوں کی نا اہلی ،معیشت کی تباہ حالی یا پھر اورنگ زیب کی کٹر پالیسی جیسی وجوہات سے تعبیر کرتے ہیں۔معاملہ چاہے جو بھی ہو اس پر ہمیں فی الحال بحث نہیں کرنی ، لیکن اگر اس کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو کہیں نہ کہیں ہمارے یہ رویّے ضرور سامنے آتے ہیں، جس سے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ بہر حال غلطی ہماری رہی تھی۔ اس غلطی کے احساس کے بعد گرچہ ملک کو آزاد کرانے کے جتن کئے گئے اور ہمیں اس میں کامیابی بھی ملی، لیکن ہماری حالت ،اور ہماری فکر میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بلکہ ہماری اسی نا اہلی کے سبب دشمنوں کی سازشیں کامیاب ہوئیں اور ملک کا بٹوارہ ہو گیا،ہم اقلیت میں آ گئے۔ اور بھی قومیں اقلیت میں آئیں لیکن انھوں نے سیاست ،معیشت ہر اعتبار سے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور ہم ساٹھ سال میں اور بھی بد سے بد تر ہوتے گئے۔ہم نے کبھی اپنے حالات میں سدھار لانے کی کوشش نہیں کی۔ اس بات کا تجزیہ کرنا گوارہ ہی نہیں کِیا کہ اب تک ہم نے کیا پایا ،کیا کھویا اور پھر آگے کیا کرنا ہے۔ غصہ کرنا ہے، بے صبری کا مظاہرہ کرنا ہے، محض ایک دوسرے پر الزام لگانا ہے، اپنے ہی نظریات کو صحیح سمجھنا ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نا نہ ہوں ،چند کھوٹے سکوں کی خاطر ہماری ہی بیخ کنی کرنے والی پارٹیوں کا آلہ کار بنے رہنا ہے یا پھر یہ سب چھوڑ کر واقعی مسائل پر غور کرنا ہے۔

یہ ساری باتیں مجھے اکثر بے چین کر دیتی ہیں۔اور اسی بے چینی نے مجھے یہ سطریں لکھنے پر مجبور کیا ہے۔میرے ناقص فہم میں ان تمام تفکرات و ترددات سے نکلنے کا بس ایک ہی راستہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب ہم متحد ہوں گے تب ہی کچھ کر پائیں گے۔ہمیں سیاستدانوں کے آگے پیچھے خوشامدانہ انداز میں گھومنے، جذباتی اور بے تکی باتیں کرنے، اخباروں اور کتابوں سے بیزاری برتنے۔ فٹ پاتھ سے ون بائی ٹو چائے لے کر غیر ذمہ دارانہ باتیں کرنے اور اچھے مشورے دینے والوں پر لعن طعن کرنے سے باز آنا ہوگا۔اور یہ بھی اچھی طرح پہچاننا ہوگا کہ کون ہمارا دشمن ہے اور کون دوست۔ ہمیں کوئی مناسب اور منظم لائحہ عمل طے کرنا ہوگا اور اسی کے مطابق اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اب تک جو ہوا سو ہوا۔ اب ہمارے سامنے جو بھی ہے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

ہمیں تمام چیزوں کو بھلا کر یہ کوشش کرنی ہوگی کہ مسلم اکثریت والے علاقوں میں کالج ہوں، ہاسٹل ہوں، اسپتال ہوں، جم ہوں، بینکوں کی شاخیں ہوں، انجینئرنگ کالج ہوں، کونسلنگ سنٹرس ہوں، اچھے راستے اور پارک ہوں، بجلی اور پانی کا اچھا انتظام ہو، روزگار کے مواقع ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے لئے ہر حلقہ میں ایم ایل اے کے ساتھ آپ کی عدالت جیسے پروگرام ہوں اور ان سے ٹائم باونڈ وعدے لئے جائیں۔اس کے لئے باضابطہ طور پر پارٹیوں سے معاہدہ کر کے تھوک کے بھاو میں انھیں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے ماہرین کو بھی چاہئے کہ جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ مسلمانوں میں تعلیمی، معاشی اور سیاسی شعور پیدا کریں۔اور اس میں بات علاقائی زبانوں میں بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے مثلاً مراٹھی، کنڑ، تامل، ملیالم، بنگالی، اڑیہ، پنجابی جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں تاکہ کم پڑھا لکھا اور ایک عام آدمی بھی بات کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکے۔

یہ فی الحال مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اس کا احساس مسلم لیڈروں کو بھی ہمیشہ رہا ہے۔ چنانچہ ماضی میں مسلم مجلس ،اتحاد المسلمین جیسی سیاسی پارٹیوں کا قیام بھی عمل میں آیا لیکن اب تک ان کی ملک گیر تو چھوڑیئے ریاست گیر سیاسی شناخت بھی قائم نہیں ہو سکی ، وہ ہر الیکشن میں کسی دوسری پارٹی کے حاشیہ برداربنتے رہے۔ادھر ماضی قریب میں بھی بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کے بعد علماء کونسل اور پھر ابھی کچھ سال قبل ویلفیر پارٹی آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا ہے۔اسے بھی اوپر اٹھانے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب علماء اور مسلم لیڈر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور طے کریں کہ مسلمان کس پارٹی کو ووٹ دیں۔مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلمان نمائندوں کی جیت کو یقینی بنائیں اورساتھ ہی فرقہ پرستوں کو کسی بھی صورت میں اقتدار سے باہر رکھیں۔

کہا جاتا ہے کہ ’’آزمائے ہوئے کو آزمانا بہت بڑی غلطی ہے‘‘۔ ہم نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو بار بار آزما کر دیکھ لیا۔ دونوں کی ذہنیت ایک ہے بس نام الگ الگ ہیں۔ لیکن اس بابت اس کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا کہ اس وقت مسلم بیزاری کی جو لہر پورے ہندوستان میں جاری ہے ان حالات میں کوئی مسلم سیاسی پارٹی عام ووٹروں کوکس طور متاثر کر پائے گی۔ اگر آسام کی طرح علماء کونسل یا متحدہ مسلم محاذ کو بھی کچھ کامیابی مل جاتی ہے یا اسی طرح آندھرا پردیش میں مجلس اتحاد مسلمین یا کرناٹک میں ایس۔ڈی۔پی۔آئی (سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا)اپنی حد تک مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی مقدور بھر کوشش کر رہی ہے۔مگر اس سے مکمل مسلمانوں کے مسائل حل تو نہیں ہوں گے۔ہاں! اس تجربہ سے ایک حد تک خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے۔مسائل حل نہ بھی ہوں تو جن سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو بندھوا غلام سمجھ رکھا ہے یا جنہوں نے بی جے پی کا خوف دلا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ مسلمان جائیں گے کہاں ؟ لامحالہ ان ہی کے سیکولر دروازہ پر سجدہ ریز ہونگے ایسی تمام پارٹیوں کو ایک زبردست چوٹ لگ سکتی ہے اور تب ان کو مسلمانوں کی سیاسی قوت کا اندازہ ہوگا۔ اس پس منظر میں چھوٹی چھوٹی علاقائی مسلم سیاسی پارٹیوں کی افادیت تو ہے لیکن پورے مسائل کے حل کا یہ علاج نہیں ہے۔ملک کے مختلف علاقوں کا سروے کر کے دیکھا جائے کہ کہاں کہاں مسلمانوں کے ایسے علاقے ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں ، ان مقامات کی نشاندہی کر کے ان علاقوں میں پوری طاقت صرف کی جائے اور مسلمانوں کو تیار کیا جائے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور کسی قیمت پر ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں۔مسلمانوں کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کا متحدہ الیکشن مینی فیسٹو ہو۔ مختلف چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بنانے سے گریز کریں۔اور نہ ہی ایسی پارٹیاں بنائی جائے جو خالص مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہو اس سے فرقہ واریت بڑھے گی۔ اور فرقہ پرستوں کو بالراست فائدہ ہوگا۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ مسلم نوجوانوں کی رہنمائی کا بھی ہے۔ہمارا نوجوان طبقہ اس وقت سب سے زیادہ ذہنی اور فکری انتشار کا شکار ہے۔یوں تو تقریباً تمام معاملات میں ان کی حالت ایسی ہی ہے لیکن اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی انتشار کا شکار ہے۔مانا کہ حالیہ دنوں میں تعلیم وغیرہ کو لے کر نوجوانوں میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے اندر سوجھ بوجھ بھی پہلے کے مقابلہ میں کافی حد تک بیدار ہوئی ہے۔لیکن انہیں تعلیمی لیاقت کے مطابق ملازمت نہ ملنے ،ہر جگہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جانے،ملک کی بیشتر منفی وارداتوں میں بلا وجہ انہیں پھنسا دِیے جانے جیسے رویوں سے ان کے اندر ایک قسم کی بے چینی، اضطراب اور خوف و دہشت کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔وہ زبان کھولتے ہوئے بھی ڈر تے ہیں۔کچھ لوگ اگر زبان کھول بھی رہے ہیں تو جذبات کی رَو میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔اور شر پسند عناصر اسی کا فائدہ اٹھانے کے فراق میں رہتے ہیں۔یہ نوجوان ہر اس شخص کو مسیحا سمجھتے ہیں جو ان سے روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ کئی انتخابات میں اسی وعدہ پر نہ جانے کتنے ووٹ بٹورے گئے۔ نوجوان اپنے رہنماؤں سے سب سے پہلے یہی امید وابستہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی مسائل ہیں لیکن روزگار ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کو سیاسی سطح پر ہی حل کیا جاسکتا ہے صرف وعدہ فردا اس کا حل نہیں ہے۔عام طور پر دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ الیکشن کے آس پاس فسادات، دھماکے اور اس طرح کی غیر انسانی حرکتیں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں۔جس کا فائدہ شر پسند عناصر اٹھانا چاہتے ہیں ایسے موقع پر احتیاط سے کام لینے کے علاوہ مسلم نوجوانوں کے اندر خصوسا صبر و تحمل کا مادہ پیدا کرانا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے اور ہم ان امور میں کامیاب ہو گئے تواس بات کا اغلب امکان ہے کہ ہماری تعداد کے حساب سے انتخابی حلقے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونگے جہاں مسلم اجتماعی فیصلے کے تحت اپنا جلوہ دکھا سکتے ہیں۔ فی الوقت مسلمانوں کو ہر پارٹی میں شامل ہو کر اپنی بات منوانی ہو گی۔ ہم کسی ایک پر نہ تو بھروسہ کر سکتے ہیں نہ ہی کسی ایک پر منحصر رہ سکتے ہیں۔مسلم قیادت اس پر بھی توجہ دے سکتی ہے۔ سیاست میں حصہ لینے والے ملک کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی حالات کا بھی قریب سے جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی اور مسلمانوں کے ساتھ ہم وطن بھائیوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات سے سیاسی وسماجی تعلقات اور ان کے مسائل کو بھی جاننا ہوگا۔ موجودہ مسائل کے حل کے لئے ہم محض اللہ کا نام لے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے بلکہ ہمیں خود ہی پیش قدمی کرنی ہوگی۔ اللہ کی مدد اسی صورت میں آ سکتی ہے کیوں کہ اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے،اور بقول علامہ اقبال:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

نوٹ:اس مضمون کی تیاری میں جناب اعجاز عبید صاحب (حیدر آباد)،جناب ڈاکٹر سیف قاضی(مہاراشٹر)،محترمہ عندلیب صاحبہ( حیدرآباد)،جناب شوکت عزیز (ممبئی)،جناب فارقلیط رحمانی( گجرات) اورجناب عبد الحسیب صاحب (حیدرآباد)کا تعاون شامل رہا ۔جنھوں نے مضمون کی تیاری میں اپنے قیمتی آراء،تجاویز اور مشوروں سے نوازا۔میں سبھوں کا مشکور ہوں ۔اور دعاگو بھی کہ اللہ تعالی انھیں علم و عمل اور دین و دنیا میں مزید ترقی عطا فرمائے ۔اور سبھوں کی شفقت و محبت تادیر قائم رکھے (آمین)


۔۔۔مزید

1984 سکھ مخالف فسادات،ٹائٹلراور متثاثرین کیا انصاف ملے گا؟


محمد علم اللہ اصلاحی 
بابری مسجد انہدام اور گجرات قتل عام سے پہلے آزاد مارکیٹ کی معیشت کی راہ طے کرنے میں ہندو سامراج نے جو دو بڑے پڑاؤ طے کیے، ان میں سے پہلا بھوپال گیس سانحہ ہے تو دوسرا سکھوں کا قتل عام، جسے امریکہ نے نسل کشی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ منموہن کے بدلے راہل کووزیر اعظم بنائے جانے کی بات شروع ہوتے ہی جیسے واشنگٹن نے ویزا کے لئے نریندر مودی کا خیر مقدم کر دیا، اسی طرح وہ گجرات میں قتل عام کی تاریخ کو بھی مسترد کر دیں۔ جمہوریہ ہندمیں گھوٹالوں میں تو کبھی کسی کو سزا ہونے کی اطلاع نہیں ہے، لیکن انسانیت کے خلاف واقع ان چاروں واقعات میں قصورواروں کو سزا نہ ہونا اور ملزمان کے اقتدار سربراہی تک پہنچ جانے کی داستان ،بہر حال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر نظام کی تاریخ میں بدنما داغ سے کم نہیں ہے۔سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں سابق مرکزی سیکرٹری جگدیش ٹائٹلر کو 84 کے فسادات میں کلین چٹ دی تھی۔ لیکن دہلی کی کڑ کڑ ڈوماما کورٹ نے ٹائٹلر کے توقع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے سی بی آئی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔عدالت نے ان کے خلاف پھر سے جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سکھ فسادات کے معاملے میں جگدیش ٹائٹلر کی فائل دوبارہ کھلنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

سکھ قتل عام کے معاملے میں سب سے دلچسپ پہلویہ ہے کہ سکھوں کی نمائندگی کرنے والا اکالی دل اب اس یونین کے خاندان کے ساتھ ہے، جو سکھوں کے قتل عام کے وقت کانگریس کے ساتھ بغیر شرط قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی ۔ اسی درمیان بابری مسجد انہدام معاملے میں اڈوانی کے خلاف اپیل میں کوتاہی کے لیے سپریم کورٹ نے حکومت کی کھنچائی ضرور کی ہے۔تاہم رام مندر تحریک کے ترکیب کے ساتھ اڈوانی نے بھی گجرات قتل عام کے معاملے میں ملزم نریندر مودی کے مقابلے شدت پسند ہندوتو کا پانسا پھینک کر وزیر اعظم بننے کا دعوی پیش کر دیاہے۔ اب وشو ہندو پریشد کی قیادت میں ہندو قوم کے لئے سنگھ پریوار پھر رام مندر تحریک شروع کر رہی ہے۔ اسی درمیان شرومنی اکالی دل نے دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر کے خلاف 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق معاملے کو پھر سے کھولے جانے کو لے کر دئے گئے حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔ جیسا کہ پنجاب کے نائب وزیر اعلی اور اکالی دل کے صدر سکھدیپ سنگھ بادل کہتے ہیں،’’ یہ فیصلہ ہزاروں فساد متاثرہ خاندانوں کے 30 سال کے طویل جدوجہد میں پہلی چھوٹی فتح ہے۔کیسی جیت، کس کی جیت؟ ٹائٹلر کے خلاف 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے منسلک معاملہ تو کھلا!مگر انصاف بھی ملے گا؟ باقی معاملات میں چاہے جو ہوا ہو، سکھوں کو انصاف نہ ملنے کی سب سے بڑی وجہ سکھ سیاست اور قیادت کازعفرانی کرن ہے‘‘۔سکھ بیربادل نے الزام لگایا کہ ’’کانگریس فسادات کے بعد سے ہی دہلی پولس، سی بی آئی اور متاثرہ خاندانوں کو دباؤ بنا کر انصاف کے تمام راستوں کو مسدودکرنے کے لئے کام کر رہی ہے‘‘۔

بہر حال، دہلی میں ہوئے 1984 کے سکھ فسادات کے معاملے میں کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی کلوزر پورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ان معاملات کی دوبارہ جانچ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ خبروں کے مطابق اضافی سیشن جج انو رادھا شکلا بھاردواج نے ایک مجسٹریٹ عدالت کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں ٹائٹلر کوکلین چٹ دینے والی سی بی آئی کی کلوزرپورٹ کو قبول کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2 اپریل 2009 کو سی بی آئی نے یہ کہتے ہوئے فساد کیس میں ٹائٹلر کو کلین چٹ دے دی تھی کہ ان کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں۔ ٹائٹلر 1 نومبر 1984 اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پھیلے فسادات میں تین لوگوں کی موت میں ملزم ہیں۔ شمالی دہلی میں واقع پل بنگش گرودوارہ کے پاس بادل سنگھ، ٹھاکر سنگھ، اور گرچر سنگھ کے قتل کے معاملے پر سی بی آئی کی کلوز رپورٹ کو دسمبر2007 میں عدالت نے قبول نہیں کیا تھا ،جس کے بعد معاملے کی دوبارہ جانچ کی گئی تھی۔ سب سے پہلے 2005 میں ناناوتی کمیشن نے اپنے تفتیش میں جگدیش ٹائٹلر کا نام لیاتھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے ٹائٹلر کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس کے سبب ٹائٹلر کو مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ٹائٹلر پر الزام ہے کہ سکھوں کے قتل کے وقت وہ وہاں موجود تھے۔ اس سے پہلے 29 ستمبر 2007 کو کورٹ میں پہلی کلوزر رپورٹ دی تھی۔

رپورٹ میں سی بی آئی نے کہا تھا کہ اس معاملے کا اہم گواہ جسبیر سنگھ لاپتہ ہے اور وہ نہیں مل رہا ہے۔ لیکن معروف ٹیلی ویژن چینل IBN7 نے جس بیر سنگھ کو کیلی فورنیا سے ڈھونڈ نکالا تھا۔جس بیر سنگھ کا کہنا تھا کہ سی بی آئی نے کبھی اس سے پوچھ گچھ ہی نہیں کی۔ اس کے بعد کورٹ نے سی بی آئی کی کلوز رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی دوبارہ جانچ کرنے کا حکم دیا تھا۔کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے کل 6 گواہوں کے بیان درج کئے اس میں جسبیر سنگھ بھی شامل تھے۔ سی بی آئی نے کیلی فورنیا جا کر جسبیر سنگھ کا بیان درج کیا تھا۔ لیکن پھر بھی سی بی آئی نے اس کو قابل اعتماد گواہ نہیں مانا۔ سی بی آئی نے اپریل 2009 میں ایک بار پھر سے معاملے میں کلوزرپورٹ داخل کی۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق 1 نومبر 1984کو پل بنگش میں ہوئے فسادات کے دوران ٹائٹلر موقع پر موجود نہیں تھے۔سی بی آئی نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ ٹائٹلر اس وقت آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی رہائش گاہ تری مورتی بھون میں تھے۔

معلوم ہو کہ 23سال پہلے ہوئے اس قتل عام کے گوا ہ جسبیر سنگھ کی سی بی آئی کو طویل عرصے سے تلاش تھی۔ غور طلب ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں بھڑکے سکھ مخالف فسادات میں تقریبا 3000 سکھ فسادیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔گزشتہ دنوں دہلی کے کڑ کڑڈوما کورٹ نے سکھ مخالف فسادات سے متعلق پل بنگش کیس معاملہ میں یہ حکم دیااور واضح لفظوں میں کہا کہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر اس معاملے میں ملزم ہیں۔سی بی آئی نے عدالت میں اس کیس کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اپنی کلوزرپورٹ پیش کر دی تھی۔ مگر، عدالت نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے سی بی آئی کو حکم دیا کہ اس معاملے کو دوبارہ کھولا جائے اور پھر سے جانچ کرکے ٹائٹلر پر مقدمہ چلایا جائے۔

غور طلب ہے کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں فسادات بھڑک گئے تھے اور ان فسادات کے دوران کانگریس کے کچھ لیڈروں پر فسادات کو بھڑکانے کا الزام لگا تھا۔ ٹی وی چینل آئی بی این 7نے اس کیس کے ایک اہم گواہ جسبیر سنگھ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔جسے سی بی آئی نے اپنی کلوزر رپورٹ میں قابل اعتماد گواہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔قابل ذکر یہ بھی ہے کہ جسبیر پر دہلی میں 1997 میں فسادات کے ایک گواہ پر حملے اور ایک گواہ کو 25 لاکھ کی رشوت کی پیشکش کا بھی الزام ہے۔اس معاملہ پر جسبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹائٹلر کو دہلی کے پل بنگش علاقے میں فسادیوں کو بھڑکاتے ہوئے دیکھا تھا۔آئی بی این 7 نے جسبیر کو جب کیلی فورنیاسے تلاش نکالا تھا۔اس وقت جس بیر نے یہ کہا تھا کہ’’ اگر سی بی آئی انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ دے تو وہ ہندوستان لوٹ کر گواہی دے سکتے ہیں ‘‘۔جس بیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے کنگس وے کیمپ میں اسپتال کے باہر ٹائٹلر کو بھیڑ کو اکساتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے کہ تمہاری وجہ سے میں شرمسار ہوں۔ نارتھ میں سجن کمار کے علاقے میں دیکھو یا ایسٹ میں ایچ کے ایل بھگت کی آس پاس ہر جگہ سکھوں کی کالونیوں کی کالونیاں منہدم کر دی گئی ہیں۔ لیکن میرے علاقے میں ابھی تک صرف کچھ کو ہی مارا گیا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماہ فروری میں کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کو نشانے پر لیتے ہوئے فساد متاثرین نے سی بی آئی پر تفتیش کو غلط طریقے سے آگے بڑھانے کا الزام لگایاتھا۔ فساد متاثرین نے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف ہوئے فسادات میں تین افراد کے قتل کیس میں آگے کی جانچ کی مانگ کی تھی جس ٹائٹلر کا الزام ثابت ہو سکے۔ ایڈیشنل سیشن جج انو رادھا شکلا بھاردواج کو متاثرین نے بتایا کہ’’ سی بی آئی کو بالی وڈاسٹار امیتابھ بچن اور دہلی پولیس کے سابق افسر سے بھی بطور گواہ بازپرس کرنی چاہئے کیونکہ دونوں ہی ایک سی ڈی میں ٹائٹلر کے ساتھ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے جسدخاکی کے پاس کھڑے دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق تری مورتی بھون میں یہ سی ڈی ایک ایجنسی نے ریکارڈ کی تھی۔ فساد متاثرہ لکھوندر کور کی جانب سے دائر کردہ مخالفت کی درخواست کے بعد کورٹ میں اس معاملے پر آخری جرح ہو رہی ہے۔اسی میں کور کے شوہر بادل سنگھ کی فسادات میں موت ہوئی تھی۔ کور نے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ اور ٹائٹلر کو کلین چٹ دئے جانے پر سوالیہ نشان قائم کئے ہیں ۔

کلوزررپورٹ کو صحیح قرار دیتے ہوئے سی بی آئی نے اسی سی ڈی پر یقین ظاہر کیا تھا جسے ملزم ٹائٹلر نے ہی فراہم کیا تھا۔ ٹائٹلر اس سی ڈی کو یہ ثابت کرنے کے لئے لے کر آئے تھے کہ وہ فسادات کے وقت اندرا گاندھی کے جسدخاکی کے پاس ہی تھے۔حالانکہ سی ڈی میں نہ ہی وقت اور نہ ہی تاریخ کا کوئی ذکر ہے۔مبینہ سی ڈی میں آر کے دھون (اندرا گاندھی کے سابق سکریٹری)، گوتم کول (تب کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس) اور امیتابھ بچن ٹائٹلر کے ساتھ ایک جگہ پر ہی کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ متاثرین کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس پھلکا نے سی ڈی کے کی توثیق کے لئے ان ہی تینوں سے بطور گواہ پوچھ تاچھ کرنے کو کہاہے۔ متاثرین کے وکیل نے مطالبہ کیاہے کہ سی بی آئی نے ان تینوں ہی سے کسی بھی طرح کی پوچھ گچھ نہیں کی ہے۔

جسبیر سنگھ 84 کے فسادات میں اہم گواہ ہیں۔ آئی بی این 2007 میں ان تک پہنچا تھا۔سالوں سے 5 مختلف قسم کی تحقیقات، کمیشن اور دباؤ جھیل رہے جسبیر نے آئی بی این 7 سے بات چیت میں اپنا دم خم برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک اپنے بیان پر قائم ہیں۔ سی بی آئی فائلوں میں یہ شخص 1984 میں پل بنگش میں ہوئے سکھوں کے قتل عام کا چشم دید گواہ ہے۔جسبیر نے بتایا کہ کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کے کردار کے بارے میں اس نے کئی بار بولا ہے۔ لیکن سی بی آئی سننا ہی نہیں چاہتی ج بیر نے بتایا کہ سی بی آئی تو اسے لاپتہ قرار دے چکی ہے۔ یہی نہیں سی بی آئی نے ٹائٹلر کو کلین چٹ دے کر اپنی جانچ رپورٹ کی فائل ہی بند کر دی تھی لیکن 2007 میں آئی بی این 7 نے ج بیر سنگھ کو ان کے کیلیفورنیا کے گھر سے ڈھونڈ نکالا تھا۔جسبیرنے الزام عائد کیاہے کہ بیان نہ دینے کے لئے ان کے گھر والوں کو کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی۔ جان پر خطرے کی وجہ سے وہ اپنے خاندان سے دور کیلی فورنیا میں رہ رہے ہیں۔ٹیلی ویژن آئی بی این سیون کے مطابق جس بیر کا یہ کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا بیان دوبارہ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن سی بی آئی کبھی جسبیر تک پہنچی ہی نہیں۔ فساد متاثرہ انصاف کا انتظار کرتے رہے۔ اب عدالت سے سی بی آئی کو 
جھٹکا ملا ہے۔ جس سے فساد متاثرین میں انصاف کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ 

اس پورے معاملہ کو لیکر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ظلم بہر حال ظلم ہے۔عدالتوں،ایجنسیوں اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے والے اداروں کو شفافیت سے کام لینا چاہئے ۔تاکہ جمہوریت کی بالا دستی برقرار رہ سکے ۔ہر ملک میں اقلیتوں کو ان کے حقوق دئے گئے ہیں لیکن جتنا اقلیتوں کے اوپر ظلم و ستم اور ان کے ساتھ استحصال کا رویہ ہمارے ملک ہندوستان میں اپنایا جاتا ہے کسی اور جگہ نہیں ۔اس معاملہ میں عدالت کا رویہ قابل ستائش ہے ۔لیکن عدالت اسی وقت مبارکباد کی مستحق ہوگی جب صحیح معنوں میں متاثرین کو انصاف مل سکے ۔ طبقہ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، حکمرانوں کو ان کے احساسات کا لحاظ کرنا چاہیئے۔ سکھوں نے اس طرح ملک کی سب سے بڑی مسلم اقلیت گجرات کے متاثرین کے لئے بھی راستہ دکھایا ہے کہ معاملہ خواہ کتنا ہی پرانا ،نازک اور حساس کیوں نہ ہو، انصاف کے لئے قانونی طریقہ سے جد و جہد جاری رکھنی چاہیئے۔ آج نہیں تو کل انصاف ضرور ملے گا کہ :
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں 
ناؤ کاغذ کی صدا چلتی نہیں 

۔۔۔مزید

سوموار، 15 اپریل، 2013

سوشل میڈیا اور نوجوان طبقہ


محمد علم اللہ اصلاحی
 سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جس کا موجودہ دور معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاو انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزادشوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرئع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔

اگرچہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ابلاغ و ترسیل میں ماضی کے مقابلے میں حالیہ کچھ سالوں میں ایک بڑا انقلاب آیا ہے اور اسی تبدیلی کے سبب ہم اسے مواصلاتی انقلاب کہتے ہیں۔سوشل ذرائع میں انقلاب کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی انقلاب آیا ہے۔ جس نے مارسل میکلوہان کے بیان کو مکمل طور سچ کر دیا کہ پوری دنیا ایک گاوں میں تبدیل ہو جائے گی۔انسانوں کے بولنے کا انداز بدل جائے گا اور عمل و رد عمل بھی۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے توبالکل ایسا ہی ہوا ہے، آج نوجوان ریڈیو سن رہا ہے، ٹیلی ویژن دیکھ رہا ہے، موبائل سے باتیں کر رہا ہے اور انگلیوں سے لیپ ٹاپ چلا رہا ہے،چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان ایک ساتھ کئی تکنیک سے مواصلات ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ ان کی کئی طریقوں سے میڈیا تک رسائی ہے اور اس میں سب سے موثرسوشل میڈیا ہے۔سوشل میڈیائی ذرائع کا نوجوان طبقے پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں باتیں کریں تو ہر ایک ذریعہ کی طرح اس کے بھی دو پہلو دکھائی دیتے ہیں اولاَ مثبت اورثانیاَ منفی۔ایسے میں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج کی نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذرائع کے کس پہلو سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ مثبت پہلو یا منفی ۔یہ بات الگ ہے کہ سوشل میڈیا ذرائع کی بدولت آج کا نوجوان طبقہ اپنی خواہشات کی تکمیل کر رہا ہے۔لیکن وہ خواہشات کیسی ہیں ؟ اس کا معیار کیا ہے ؟ اس کا بھی پتہ لگانا اور ادراک کرنا اشد ضروری ہے۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق کہیں تو ملک کی تقریبا 58 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرتاہے۔ میڈیا ان نوجوانوں کو خواب دکھانے سے لے کر انہیں نکھارنے بنانے ،سنوارنے اوران کے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے اور اسے شرمندہ تعبیر کرنےمیں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اخبار،میگزین اور رسالے جہاں نوجوانوں کو معلومات فراہم کرنے کافن و ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، وہیں ٹیلی ویڑن ،ریڈیو، سنیما انہیں تفریح کے ساتھ جدیدیت بلکہ جدیدیت کے نام پر اور بھی بہت کچھ سکھا رہی ہیں۔ لیکن ان سب میں سب سے زیادہ اور اہم اثر سوشل میڈیا کا ہی ہے۔

انٹرنیٹ سے لے کر تیسری نسل (تھری - جی) موبائل تک جدید ٹیکنالوجی مکڑی کے جال کی طرح پھیل چکی ہے کہ دنیا کی سرحدوں کا مطلب بالکل ختم ہو گیا ہے۔کوئی دیوار باقی نہیں رہ گئی ہے ،ساری سرحدیں اور بندھنیں ٹوٹ چکے ہیں گویا ان کے خوابوں کی پرواز کو ٹیکنالوجی نے گویا پر لگا دیئے ہیں۔ بلاگنگ کے ذریعے جہاں یہ نوجوان اپنی فہم و فراست اور عقل و دانش کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہیں سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی طرح کی ذہنیت والے لوگوں کو جوڑ کر سماجی معاشرہ کی ذمہ داری کوبطرز احسن نبھا رہے ہیں۔اور اس طرح کے کاموں میں دونوں قسم کے افردا شامل ہیں یعنی مثبت طرز فکر والے اور منفی سوچ والے،سماج کی اصلاح کرنے والے اور سماج کو بگاڑنے والے بھی،معاشرے کے لئے بھلا سوچنے والے یا پھر انھیں قعر مذلت میں ڈھکیل دینے والے بھی۔

حال ہی میں عرب ممالک میں انقلاب اس کی سب سے تازہ مثال ہے۔ ان تحریکوں کے ذریعہ نوجوانوں نے سماجی تبدیلی میں اپنے کردار کا لوہا منوایا تو نوجوانوں کے ذریعہ میڈیا کا بھی دم پوری دنیا نے دیکھا۔ نوجوانوں پر اس کا زیادہ اثر اس لئے پڑا کیونکہ وہ جذباتی اور حساس عادت و طبیعت کے ہوتے ہیں۔ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ہندوستان میں انا ہزارے اور پاکستان میں عمران خان اور مولانا طاہر القادری کی تحریکوںکے علاوہ ملالہ اور ہندوستان میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی دامنی کی مقبولیت اور اس کے ذریعہ پیدہ شدہ حالات کے علاوہ ہمارے ملک کے چھوٹے بڑے مسائل کو لیکر لوگوں کی آرا اور اس پر سنجیدہ اور مثبت رویوں پر مبسوط بحثیں بھی اس میں شامل ہیں۔

لیکن یہاں پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دوسری طرف نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کی چمک کے مایا جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ اس بابت اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ نوجوانوں میں تیزی سے اس کے سبب انحطاط اور علمی و فکری زوال بھی آرہا ہے ، اس میں ان کی گمراہی اورضلالت کو بھی جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور اس کے پیچھے چلنے کی خواہش اور ہوڑ انہیں جدیدیت کا متبادل لگنے لگی ہے۔ ان نوجوانوں کی پوری زندگی اور رہن سہن ان سے متاثر دکھائی پڑ رہی ہے جس سے کھانے پینے سے لیکر رہنے سہنے یہاں تک کہ بول چال تک تمام ہی چیزیں مجموعی طور پر شامل ہے۔آج کے نوجوانوں کو نشہ آور اشیا فیشن کے انداز لگنے لگے ہیں۔انھیں شراب پیتے،گٹکا کھاتے اور اسی طرح سے گانجہ ،سگار ،ہیروئن جیسے مضر صحت اشیا کا استعمال کرتے ہوئے بھی کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی میں یہ وجہ بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ باہمی رشتے ناطوں میں بڑھتی ہوئی دوریاں اور خاندانوں میں انتشار کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انتہائی جدیدہوتے مواصلاتی نظام جسے ہم جدیدمیڈیا کے نام سے جانتے ہیں ایک طرف نوجوانوں کے لئے نعمت ثابت ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ ایک لعنت کے طور پر نوجوانوں کی بے سمتی اور بے راہ روی کو بڑھا رہا ہے۔ اگر اعداد و شمار پر غور کریں تو 30 جون، 2012 تک ملک میں فیس بک اور سوشل سائٹس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریبا 5.9 کروڑ تھی جو گزشتہ دو سال یعنی محض 2010 کے مقابلے میں 84 فیصد زیادہ ہے۔ ان 5.9 کروڑ لوگوں میں تقریبا 4.7 کروڑ نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھیں توہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ فیس بک کا استعمال کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ڈیجیٹل(برقی) انقلاب نے نوجوانوں کی پرائیویسی کو متاثر کیا ہے اور نوجوان اپنی سوچ سے اپنے معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں۔

ابھی حال ہی میں انڈیا بزنس نیوز اینڈ ریسرچ سروسز کی طرف سے 1200 لوگوں پر کئے گئے سروے جن میں 18-35 سال کی عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق تقریبا 76 فیصد نوجوانوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا ان کو دنیا میں تبدیلی لانے کے قابل بنا رہا ہے۔اسی طرح قریب 24 فیصد نوجوانوں نے اس کی معلومات کا ذریعہ سوشل میڈیا کو بتایا۔ تقریبا 70 فیصد نوجوانوں نے یہ بھی مانا کہ کسی گروپ خاص سے منسلک ہو نے سے زمینی حقیقت نہیں بدل جائے گی، بلکہ اس کے لئے بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات ہم بھی مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا ذرائع نے گلوبل ولیج یعنی عالمگیریت کے تصور کو جنم دیا ہے۔جس کے تحت آنے والے ذرائع برقی خطوط، ٹی وی، ریڈیو، موبائل، انٹرنیٹ جیسےان تمام ذرائع نے نوجوان طبقے پر اپنے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔بلکہ اس کا اثرتو اتنا طاقتور اور موثّرہے کی آج کے نوجوان ان ذرائع کے بغیر اپنے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔ادبی اور تعمیری میگزین خریدنے سے زیادہ جنسی اور فحش،رسالے خریدتے اور پڑھتے ہیں اور سہی معنوں میں اپنے کردار کا اخلاقی زوال کر اپنے مستقبل کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ اسی طرح ٹی وی جیسے سب سے زیادہ متاثر کن ذریعے کا بھی نوجوانوں پر اچھا اور برا دونوں طرح کا اثر پڑا ہے ٹی وی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ کسی بھی موضوع کے مثبت اور منفی پہلو کو سمجھ سکتا ہے اگرچہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو لیکن نوجوان طبقہ اس ذریعے کا بھی غلط استعمال کرنے والے لوگوں کو ہی زیادہ دیکھتے ہیں ،کیونکہ ان کو اسی کے ذریعہ فوری لطف اور لذت کا سامان میسر آتے ہیں اور وہ اس دور رس تباہی کو نہیں سمجھ پاتے جس سے ان کا مستقبل نا صرف بگڑتا بلکہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی مان لینے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ فی زمانہ موبائل اور انٹرنیٹ جدید تکنیک کاہی ہے۔ جن میں اس کا استعمال زیادہ تر نوجوانوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ موبائل یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے دور بیٹھے شخص کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے اور اپنے حسین لمحات میموری میں قید کئے جا سکتے ہیں۔ یہ تو اس کا عہد ہی ہے لیکن آج نوجوان اس ذریعے کا غلط استعمال کر ایم ایم ایس جیسے رویوں میں بھی پھنس جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ سوشل میڈیا ذرائع میں سب سے متاثر کن ہے جس نے دوری اور فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ اس کا زیادہ تر استعمال نوجوان طبقے کی طرف سے کیا جاتا ہے جہاں اس کی طرف سے نوجوانوں کو تمام معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ ترقی میں تو مددگار ہے لیکن آج موجودہ وقت میں نوجوان کی طرف سے اس کا غلط استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

اگرچہ اسکا کچھ افراد کی طرف سے صحیح استعمال کیا جا رہا ہے وہیں تقریبا 100 میں سے 85 فیصد لوگ فحش سائٹس کا استعمال کرتے ہیں اور حیرت بلکہ تعجب کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ سب سے زیادہ وزیٹر بھی ان پورن سائٹس کے ہی ہیں۔ ان فحش سائٹس پر جا کر وہ اپنے جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہیہ ان کے اور معاشرے کے زوال کا باعث ہے۔ ساتھ ہی انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال نے سائبر کرائم جیسے جرائم کو جنم دے کر نوجوانوں میں جرائم کی نئی دنیا پیدا کر دی ہے۔ جس سے آج کا نوجوان طبقہ ذہنی، جسمانی اور اقتصادی زوال کی طرف بڑھنے لگ گیا ہے۔ جو ہمارے سماج کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔
اگرنفس مضمون کی بات کریں تو تمام سوشل میڈیا نے جہاں گلوبل ولیج، تعلیم، تفریح اور رائے عامہ کی تعمیر، سماج کو متحرک بنانے اور معلومات کا بازار بنانے میں تعاون کیا ہے وہیں جنسی، تشدد،لڑائی جھگڑے ،برائی اور سماج کو اخلاقی اور ثقافتی زوال کی جانب گامزن کیا دیا۔ اب ہم نوجوانوں کو خود ہی اس کا انتخاب کرنا ہوگا کہ ہمیں کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ بلندی پر یا پستی کی کی طرف؟
alamislahi@gmail.com
Social media and youth 


۔۔۔مزید

جامعہ کا اردو میڈیم اسکول بنام انگلش میڈیم


محمد علم اللہ اصلاحی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اردومڈل اسکول کا ذریعہ تعلیم اب انگریزی کیا جا رہا ہے۔نئے تعلیمی سال2013-14 سے اس اسکول میں تمام مضامین کی تعلیم انگریزی زبان میں ہوگی۔شیخ الجامعہ نجیب جنگ نے عصر حاضر میں انگریزی کی ضرورت و اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ساتھ ہی اسکول کے بچوں کے یونیفارم تبدیل کرنے اوراسمارٹ کلاس روم بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ جامعہ کے مڈل اسکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس اسکول میں ذریعہ تعلیم ابھی تک اردو اور ہندی تھا۔ معتبر ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ اس اسکول کے اساتذہ کے ساتھ شیخ الجامعہ (وی۔سی۔) کی ایک میٹنگ ہوئی ۔جس میں جون 2010 میں ہی ہوئے فیصلہفیصلہ کے مطابق کہ اِس اسکول میں چھٹی اور اس کے بعد کی کلاسوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی کر دیا جائے۔تاہم متعدد وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا تھا۔اب کی وائس چانسلر نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعدباضابطہ اِس اِسکول میں پہلی جماعت سے ذریعہ تعلیم انگریزی کر دینے کا با ضابطہ فیصلہ لے لیا ہے۔وی سی نے اساتذہ کی بد ذوقی پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اوراب شعبہ تعلیم کی جانب سے منعقد ہونے والے ورکشاپ اور تر بیتی پروگرام میں آنے والے سیشن سے پہلے پہلے اپنے آپ کو بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہل بنا لینے کے لئے کہا ہے۔

یہ خبر ابھی حال ہی میں اخبارات کے ذریعہ دیکھنے کو ملی۔اطلاعات کے مطابق اس فرمان کے آنے بعد کچھ اساتذہ وی سی سے ناراض ہو گئے ہیں وہیں ایک مرتبہ پھر حسب معمول بحث و مباحثہ اور بیان بازی کا بازار گرم ہو گیاہے۔جامعہ کے کچھ اساتذہ سمیت بعض افراد کو یہ فیصلہ جامعہ کے وجود کے لئے خطرہ محسوس ہو رہا ہے تووہیں بعضوں نے اس کی پرزور حمایت کر کے شیخ الجامعہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔اول الذکر گروپ میں مسلمانوں کا بنیاد پرست طبقہ اور جامعہ برادری کے ا فراد بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے :”اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انگریزی ترقی کی زبان ہے، لیکن لگتا ہے اب ترقی پسند ہونے کا مطلب اپنی جڑوں کو ہی کاٹنا ہو گیا ہے“ اس فیصلہ کی مخالفت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم انگریزی تعلیم کے مخالف نہیں ہیں، مگرجامعہ کی تاریخ اور اردو روایت کو ہم قطعی طور پر ختم نہیں ہونے دیں گے۔اس گروہ کی وکالت کرنے والوں میں سماجی کارکن ،صحافی اور آر ٹی آئی اکٹی وسٹ افروز عالم ساحل کا کہنا ہے کہ دراصل، جامعہ کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی سلطنت کی نگرانی میں چلنے والے تعلیمی اداروں اور انگریزی تعلیم کی مخالفت میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں 1920 میں جامعہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ان بزرگوں کی نگرانی میں سب سے پہلے جامعہ کے نام پر صرف ایک مڈل اسکول کی بنیاد رکھی گئی، جسے مدرسہ ابتدائی کے نام سے جانا گیا۔ اور آگے چل کر وہی مدرسہ ابتدائی ایک یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا، جسے آج پوری دنیا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے جانتی ہے۔ مگر یقینا یہ افسوس کی بات ہے کہ آج اسی اسکول پر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اپنے وجود کو بچانے کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔

افروز عالم ساحل ڈاکٹرذاکر حسین (مرحوم) کے ایک قول کہ ” کئی بار ادارے آدرشوں کا قبرستان بن جاتے ہیں جن کے لیے ان کو قائم کیا جاتا ہے۔“کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں۔ذاکر حسین کی یہی بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے، اسی تاریخی اسکول کو انگریزی میڈیم اِسکول بنایا جا رہا ہے۔جس کا قیام ہی مادری زبان کے فروغ کی خاطر عمل میں آیا تھا۔وہ کہتے ہیں اس صف میں شامل گاندھی جی نے بھی بہت شدت کے ساتھ اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا تھا کہ تعلیم کا ذریعہ ہندوستانی زبانوں میں ہی ہونی چاہئیں۔وہ کہتے ہیں اسی سبب جامعہ میں مادری زبان کو ہر زمانہ میں اولیت دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے تعلیمی نظام نے روایتی اور جدید تعلیم میں ایک رشتہ پیدا کیا اور نوجوانوں کو اپنی ثقافت اور ہندوستانی زبانوں پر ناز کرنا سکھایا۔ وہ کہتے ہیں جامعہ کی اسی خصوصیت نے اسے اپنے ہم عصر اداروں کاشی وِدیاپیٹھ(بنارس) اور گجرات وِدیا پیٹھ(احمدآباد)سے بہت آگے پہنچا دیا۔افروز عالم ساحل کے مطابق یہاں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ 30 سال سے اردو میڈیم میں پڑھا رہے ہیں اور اب ان کے لئے انگریزی میں پڑھانا اتنا موثر نہیں ہو گا۔ان کے بقول ہمارا یہ اِسکول ہندوستان کی تحریک آزادی کا ورثہ ہے، اسے بچائے رکھنا بہت ضروری ہے۔ انتظامیہ چاہے تو اور بھی انگریزی میڈیم اِسکول کھول سکتی ہے۔کیونکہ جامعہ کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اس طرح کے مزید ادارے کھول سکے۔وہ کہتے ہیں ویسے بھی جامعہ میں پہلے سے ہی ایک سیلف فائنانس (خود کفالتی) انگریزی میڈیم اسکول موجود ہے جس نے کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔
وہیں دوسرے گروہ جس میں دانشور طبقہ،نوجوان اور جدید خیالات کے حامل افراد شامل ہیں کا کہنا ہے کہ شیخ الجامعہ کا یہ فیصلہ نہ صرف برمحل بلکہ حالات کے تقاضے کے مطابق دیر آید درست آید کے مصداق ہے ،جس کا استقبال کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ جن تقاضوں کے تحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تبلیغ دین کی غرض سے عجمی زبانیں سیکھنے کی نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی تھی بلکہ حکم دیا تھا۔اورجن حالات کے تحت مصطفیٰ کمال اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط تبدیل کر دیا تھا بعینہ اسی طرح شیخ الجامعہ نے بھی وقت کی نبض کو پہچاننے کا کام کیا ہے۔اس طبقہ کے بقول انگریزی زبان کی روزافزوں بڑھتی ہوئی مقبولیت، انٹر نیٹ، کمپیوٹر، انجنیرنگ، سائنس اور میڈیکل کے میدانوں میں اس کی بڑھوتری، اور اس سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے سبب اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔

پیشہ سے معلم ،مترجم اور قلم کار فارقلیط رحمانی گجرات میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔”ہمارے اردو اسکول کے اطراف جو مسلمان آباد ہیں انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ملک میں تلاش معاش میں اردو کی تعلیم رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے بچوں کوگجراتی، انگریزی اور ہندی اسکولوں میں داخل کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اس کا یہ حل نکالا کہ ہم اردو اسکول میں ہی بچوں کو گجراتی و ہندی کی تعلیم دینے لگے،چنانچہ جیسے ہی ہم نے ایسا کیا ،ہمارے اسکول میں بہار آ گئی۔ اوربچوں کی تعداد پھر بڑھ سے گئی۔وہ کہتے ہیں کچھ عجب نہیں کہ دہلی کے والدین نے بھی اپنے بچوں کو بجائے اردو کے انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں بھیجنا شرو ع کر دیا ہو،اور شیخ الجامعہ نے وقت کی نبض کو پہچانتے ہوئے جامعہ کے اردو اسکول ہی میں ہماری طرح انگریزی تعلیم کا با قاعدہ انتظام کر دیا ہو۔ جو کام ہم نے حکومت کی مرضی کے خلاف غیر قانونی طور پر کیا وہی کام شیخ الجامعہ نے قانونی طور پر با قاعدہ کر دیاجس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں “۔

وہیں بعض ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچّوں کو ان کی مادری زبان ہی میں تعلیم دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے بچّے موضوع کو بآسانی سمجھ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی اور زبان میں تعلیم دی جاتی ہے تو بچّوں پر اضافی بوجھ بن جاتا ہے اور بچّے بنیادی اور اصولی باتیں ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتے۔اور آج کے اس مسابقت بھرے ماحول میں انسان کا کامیاب ہونا صرف اس کی زبان پر منحصر نہیں ہوتا۔اس معاملہ میں زبان کے علاوہ بھی دیگر بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔جیسے متعلقہ شخص کا اپنی فیلڈ کے متعلق علم، اس کی محنت، اس کا پروفیشنلزم، اس کا رویّہ (ایٹی چیوڈ)، عام معلومات (کرنٹ افیرز) وغیرہ۔

شیخ الجامعہ کے فیصلہ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک کمپنی میں (گرافکس)کا کام کرنے والے شوکت پرویز کہتے ہیں جہاں تک بات اردو میڈیم یا انگریزی میڈیم کی ہے تو ایسے بہت سے انگریزی میڈیم کے بچّے ہیں جو "کامیاب" نہیں ہو پاتے اور ایسے بہت سے اردو میڈیم (یا دوسرے ورنا کلر میڈیم) کے بچّے ہیں جو "کامیاب" ہو جاتے ہیں۔وہ مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:” دنیا میں اکثر جگہوں پر انسان ذو لسانی (بلکہ کثیر لسانی) ہوتے ہیں مثلاعرب خطہّ کوہی دیکھیں تو وہاں کے کئی لوگ عربی، انگریزی (اور اب تو اردو، ہندی) بھی بآسانی سمجھ اور بول لیتے ہیں ما فی الضمیر کا مدعا بیان کر لیتے ہیں اور مخاطب کے بیان کردہ مطالب کو بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔وہ مزید مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں شام، لبنان (اور فرانس کی نو آبادیات رہ چکے ممالک کا) تعلیم یافتہ طبقہ بخوبی عربی، فرنچ، اور انگریزی میں گفتگو کر لیتا ہے۔ان کے مطابق یوروپی ممالک کا اکثر تعلیم یافتہ طبقہ اپنی قومی زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی مہارت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم برّصغیر میں رہتے ہیں تو ہندوستان کی مثال بھی دیکھ لیں اکثر ہندوستانی اپنی مادری زبان (جہاں مادری زبان ہندی نہیں) کے ساتھ ساتھ ہندی بآسانی سمجھ بول لیتے ہیں-ہم اگر خود اعتمادی کے ساتھ انگریزی زبان کو استعمال کرنے لگیں گے تو ہم (اِن شاءاللہ) اس میں بھی مہارت حاصل کر لیں گے۔"ذریعہ تعلیم مادری زبان ہی ہونا چاہیے" شوکت پرویزاِس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں” ابتدائی تعلیم تو بہر حال مادری زبان ہی میں ہونی چاہیے، لیکن دھیرے دھیرے دوسری زبانیں بھی سیکھنی چاہیے۔اس سلسلہ میں وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنا ایک شعر سناتے ہوئے کہتے ہیں۔
تعلیم اور زبان تلک ٹھیک ہے مگر
شوکت کبھی نہ سیکھنا فیشن فرنگ کا

جامعہ کے اس فیصلے کو لے کر مسجل(رجسٹرار) ایس۔ ایم۔ راشد کی جانب سے 14 نکات پر مشتمل جو
اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ :”وی سی نے جون 2010کو جامعہ کے اردو اسکول میڈیم کی کارکردگی پر نا خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انگریزی میڈیم کرنے اور اساتذہ کو بطور خاص انگریزی زبان کی تربیت لینے کے لئے کہا تھا۔لیکن تین سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود اس میں کوئی بدلا نہیں آیا۔نا تو اسے انگریزی میڈیم کیا گیا اورنا ہی اساتذہ نے اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کی۔اس نوٹس کے مطابق شعبہ تعلیم کی جانب سے تربیتی ورکشاپ منعقد کرنے پر بھی اسکول کے اساتذہ نے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔جس پر وائس چانسلر نے خود ہی فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ حکم دیاہے کہ اب تمام ہی مضامین کی تعلیم انگریزی میں ہوگی اوراس کے لئے شعبہ تعلیم کے ڈین ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کرائے گی۔جس میں اساتذہ انگریزی میں کیسے تعلیم دیں اس کی ٹریننگ لیں گے۔اور نیا اکیڈمک سیشن شروع ہونے سے پہلے پہلے تمام اساتذہ کو اس کا اہل قرار دینا اور خود کو تیار کر لینا ضروری ہوگا“۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وی۔ سی۔ کا بیان بے وقت کی راگنی نہیں ہے۔انہوں نے توتین سال پہلے ہی حالات میں سدھار کی بات کہی تھی اس کے لئے انھوں نے اساتذہ کی خاطر مفت تربیتی پروگرام کا بھی انعقاد کرایا تھا۔تو پھر اساتذہ نے دلچسپی کیوں نہیں دکھائی یہ بہر حال ایک سوال ہے۔کیا یہ سوچنے کی بات بات نہیں ہے کہ جن کے کندھوں پر ملک و قوم کا مستقبل تعمیر کرنے کی ذمہ داری ہے۔ وہی سستی، کاہلی اور بے دلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔پھر ان سے کیوں کر یہ توقع کی جا سکتی ہے، کہ وہ اپنے طلباءکی رہنمائی بہتر ڈھنگ سے کر سکیں گے۔جامعہ کا قیام جن مقاصد کے لئے عمل میں آیا تھا اگر آج جامعہ اسے پورا نہیں کر پایایا اس میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو بہر حال یہ اساتذہ بھی پوری طرح اس کے ذمہ دار ہیں۔جو لوگ اردو میڈیم اسکولوں کی بات کرتے ہیں یا جو اردو کے اساتذہ وپروفیسران اردو ذریعہ زبان کو ضروری قرار دیتے ہیں ان کے بچے خود کنونٹ ، ڈی اے وی اور مشنری کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔جس میں جامعہ کے اساتذہ کے بچوں کی بھی بڑی تعدادشامل ہے۔کیا جامعہ اسکول کو اس لئے اردو میڈیم ہونا چاہئے کہ اس میں غریب والدین کے بچے پڑھتے ہیں ؟پھر جامعہ اسکول جب اردو میڈیم تھا تب بھی اس نے کون سا پہاڑ توڑ دیا تھا۔کتابیں اردو میں دستیاب نہیں۔اردو کے اساتذہ تربیت یافتہ نہیں۔بچے صحیح ڈھنگ سے ایک شعر کی تشریح نہیں کر سکتے۔اردو میڈیم سے پڑھے ہوئے بچے اپنی اسی کمی کے سبب ملک کے دیگر مسابقتی امتحانات میں نہیں ٹک پاتے۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جانے کے بعد بھی احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی (کانفیڈنس) نہیں ہوتی تو اب اس میں کس کی کمی ہے؟۔ کیا مخالفت کرنے والے اس کا جواب دیں گے ؟۔
 The University's Urdu medium schools versus English Medium
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

ہماری زندگی میں چاند کی کیا اہمیت ہے ؟





نوٹ :ایک عزیز کی جانب سے 
اردومحفل فورم میں ہماری زندگی میں چاند کی کیا اہمیت ہے ؟“پوچھے جانے
پر لکھی گئی ایک ناتمام تحریر-




محمد علم اللہ اصلاحی 

                                                                 :بچپن میں کبھی ہم کہا کرتے تھے
چندا ماما دور کے      
روٹی پکائیں بور کے
آپ تو کھائیں تھالی میں
اور ہم کو دیں پیالی میں
تھالی گئی ٹوٹ
چندا ما ما گئے روٹھ
تھالی لائے اور
چندا ماموں آئے دَوڑ

ہماری زندگی میں ماموں جان کی کتنی اہمیت ہے،دیہاتوں میں اکثر کہتے سنا ماما کچھ لے کر ہی آتے ہیں کبھی خالی ہاتھ نہیں۔ ٹھیک ویسے ہی چندہ ماما بھی ہمیں چاندنی اور سہانی روشنی دیتا ہے۔ چاند سے بھرا آسمان اور چاندنی سے بھری زمین دلفریب لگتی ہے دل کو لبھانے والی راتیں جی ہاں !!راتیں تو راتیں ہیں۔

مگراندھیری اور چاندنی راتوں میں کتنا فرق ہے۔کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آسمان میں اگر چاند نہیں ہوتا تو زمین پر ہماری زندگی کیسی ہوتی۔ راتیں کتنی بھیانک ہوتی بھائیں بھائیں کرتی ڈراونی اتیں شکر ہے اس خدا وند قدوس کا جس نے آسمان کی چھاتی پر چاند کو ٹانک دیا ہے۔کبھی مکمل تو کبھی آدھا جیسا بھی دیکھئے، چاند تو چاند ہے۔


چاندنی رات میں خوشیوں سے بھر جاتا ہے؟ دل کی اس سہانی کیفیت کو بیان کرتے کرتے ادیبوں نے چاند کو بھی پریت (خوبصورتی) کی علامت مان لیا۔ محبوب کے چہرے کے مقابلے چاند سے کر دی۔ لیکن تلسی داس نے رام کے منہ سے سیتا کے چہرے کی خوبصورتی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا۔

!سندرتا کہوں سندر کرئی
!چھوی گرہ دیپ شیکھاجنو برئی
!سب اوپما کوی رہے جٹھاری
!کیہیں پٹتروں ویدیہ کماری

یعنی خوبصورتی کے لئے تمام اشیا کو شاعر نے جھوٹا کر رکھا ہے۔ ہم ودیہ کماری کی خوبصورتی کا موازنہ کس سے کریں۔ہندو عقیدت مندوں کے مطابق رام کے سامنے یہ مسئلہ رہا ہوگا تبھی انہوں نے سیتا سے اولین ملاقات میں ان کے حسن کا بیان چاند سے نہیں کیا، لیکن تب سے لے کر آج تک شاعر حضرات محبوباوں  کی خوبصورتی کے مقابلے چاند سے ہی کرتے رہے ہیں۔چاند کے اندر چرکھا کاتتی بیٹھی بڑھیا کی الگ کہانی ہے، چاند کے اندر کالے دھبے سماج کا عکس ہے۔

جس طرح صحن، چھت اور کھلے دروازے کا ہماری زندگی میں خاص اہمیت ہے۔سورج کی روشنی ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔ سورج سے ہم آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ سورج جتنا تپتا ہے، ہم اس سے دور ہو جاتے ہیں۔لیکن چاندنی کی رات کو ہم کھلے میں کھانا، کھلے میں سونا، دریا میں نہانا پسند کرتے ہیں۔بعض عقیدت مند مکمل چاندنی رات میں کھیر بنا کر چاندنی میں رکھتے ہیں۔خیال ہے کہ اس رات امرت اوس پڑتی ہے۔کامیابی کےحصول کے متمنی اس رات برسے امرت اوس کو اپنی کھیر کی کٹوری میں سنبھال لیتے ہیں۔

جس طرح ہمارے یہاں اسلام میں چاند کی اہمیت ہے اسی طرح قدیم مذاہب کی کتابوں میں بھی چاند کی خاص اہمیت ہے۔کہا جاتا ہے ”شیو کی جٹا سے گنگا بہتی ہے،اسی جٹا کے اوپر چاند بھی ہے“۔ان کتابوں میں سمندر اور چاند کابھی ذکر ہے اور اس میں اسکی خصوصی اہمیت بتائی گئی ہے۔ مگر افسوس زمینی فضاوں میں ہلچل مچانے والا چاند اب ہمارے میٹرو زندگی سے اوجھل ہو رہا ہے۔آنکھوں کوخیرہ کر دینے والی بجلی۔ بغیر آنگن کے فلیٹ کے سبب چاند آسمان پر آتا تو ہے، مگر ان شہروں میں نظر نہیں آتا۔ لطف کی تلاش میں پانچ ستارہ ہوٹل اور فلیٹوں میں ہم قید ہو جاتے ہیں۔ چاند کسی کھڑکی سے جھانک نہیں سکتا۔ موٹے پردوں کی پرتیں ہیں۔ ایئرکنڈیشن کمرے ہیں۔جس کی وجہ سے چاند اب ہم تک نہیں پہونچ سکتا۔

اس سے نقصان چاند کانہیں، ہماراہو رہا ہے۔ سائنس دوریاں مٹانے کا کام کرتا ہے۔ مگر آج انسان اور چاند کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ شاید اسی لیے ہماری زندگی سے خوشیاں اور مسرت بھی ختم ہو رہی ہے۔میری دادی کہتی ہیں۔اب بچوں کے گیتوں میں چندہ ماما نہیں ہے۔چندہ ماما ارے آب، پارے آب’سونا کے کٹوریوں میں دودھ بھات لے لے آببوا کے منہ میں دے گھٹک“۔بقول دادی اماں ببوا چاند کو دیکھتے دودھ کی کٹوری خالی کر دیتا تھا۔ مگرآج کا منا دودھ چاول نہیں کھاتا۔ ”میگی“ اور ”پزا “کھاتا ہے۔کھانے دیجئےوقت بدلا ہے۔ مگر چاند نہیں بدلا ہے۔ بے چارا ویسے ہی طلوع ہوتا اور ڈوبتا ہے۔ چاندنی پھیلاتا ہے۔

چاند کو اپنا دوست برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ کیونکہ چاند ہمارے لئے فائدہ مند ہے، چاند کے لیے ہم نہیں۔ہمارے خاندانی نظام میں بھی ماموں جان بہت دور ہو گئے۔ بہت سے بچے اپنے ماموں جان کو ہی نہیں پہچانتے تو چندہ ماماتو دور کی ماما ہیں۔چاند سے دور رہ کر ہماری زندگی بد مزہ ہو سکتی ہے۔چاند پر لوگ جانے لگے۔مستقبل قریب میں چاند پر بیاہ شادی بھی رچاے جا سکتے ہیں۔ پر ماموں جان اور سورج کی چاند بہن والے چاند کی بات ہی کچھ اور تھی۔ چندہ ماماتو سننے میں ہی اچھا لگتا ہے۔مگر اب؟؟



۔۔۔مزید

جمعرات، 11 اپریل، 2013

بلیوں کا گرنا اور چوٹ کا نالگنا اس کے پیچھے کی سائنسی توجیہ!



نوٹ:آئیے آج آپ کو ایک دلچسپ معلومات سے آگاہ کراتا ہوں۔ دراصل یہ تحریر اردو محفل فورم میں ایک مراسلہ کے لئے لکھی گئی تھی معمولی حذف و اضافہ کےبعد اسے بلاگ میں اس شائع کیا جا رہا ہے امیدکہ آپ کو پسند آئے گا۔ 

محمد علم اللہ اصلاحی  
نئی دہلی


        
کیا آپ کو پتہ ہے کی بلیوں کا اونچائی سے گرنا کتنا دلچسپ اور عجیب ہے؟ جی ہاں ! بلی ایک ایسا جاندار ہے جس کو اونچائی سے ڈر نہیں لگتا ، کیونکہ اس میں ایک مخصوص قسم کی صلاحیت ہوتی ہے اور وہ ہے گرتے وقت اپنے آپ کو گھما لینے کی ۔ شاید اسی سبب بلیوں کو بہت اونچائی سے گرتے ہوئے بھی چوٹ نہیں لگتی ۔ لیکن اس سے بھی دلچسپ حقیقت یہ ہے، کہ اگر بلی کو کم اونچائی (5-6 منزل) سے گرایا جائے تو انہیں بہت چوٹیں آنے کہ امکانات  رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں 7 منزل یا اس سے بھی زیادہ اونچائی سے گرایا جائے ۔

ہے نا دلچسپ بات؟ آپ سوچیے کہ ایسا کیوں ہو سکتا ہے؟

دراصل یہ ایک ایسی مخلوق ہے، جو حیرت انگیز طور پر اپنے جسم کو ہوا میں ہی گھما سکتی ہے۔ اور نیچے گرنے سے پہلے اپنے جسم کو اس طرح یکجا کر سکتی ہے ، کہ چوٹ کم سے کم لگے۔یہی وجہ ہے کہ بلیوں کو اونچائی سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا اور وہ اونچی عمارتوں کی کھڑکیوں سے اپنے شکار کو دیکھتے ہی اس پر جھپٹ پڑتی ہیں ۔ کئی سائنسدانوں کو بلیوں کے اس عمل پر تعجب ہوا تو اس پر تحقیق کی گئی ۔ بلیوں کے اس رویے کو high-rise syndrome کہا جاتا ہے ۔ تحقیق میں یہ پایا گیا کہ 2 سے 32 منزلہ عمارتوں سے گرنے پر 90 فیصد بلیاں بچ گئیں ۔ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جو بلياں 6 منزل یا اس سے کم اونچائی سے گری تھیں ان کو چوٹیں آئیں تھیں۔
  
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

اس کو سمجھنے سے پہلے آئیے سمجھتے ہیں حاشیائی چال (Terminal Speed) کو ۔ جب کوئی چیز ہوا میں نیچے گرتی یا گرائی جاتی ہے تو کچھ وقت تک (کشش ثقل کی وجہ سے) اس کی رفتار بڑھتی جاتی ہے، لیکن کچھ وقت کے بعد اس پر لگنے والا دباو (نیچے کی طرف) کشش ثقل کے اثر سے ہوا کے دباوکو محسوس کرتا ہے (اور اوپر کے کی طرف) لگنے والے طاقت کے برابر ہو جاتا ہے ، اور اس کے بعد اس کی رفتارافزونی بند ہو جاتی ہے۔ یہ مستحکم رفتار کو ہی حاشیائی چال کہتے ہیں۔ بلیوں کے معاملے میں یہ پایا گیا کہ تقریبا 5 منزلہ عمارت سے بھی  گرنے کے بعد ان کی چال حاشیائی رفتار تک پہنچ جاتی ہے۔ تو جو بلیاں 6 منزل یا اس سے زیادہ اونچائی سے گرتی ہیں،انکی رفتار حاشیائی چال تک پہنچ جاتی ہے اورپھر ان کو اپنےآپ کو یکجا کرنے اور سنبھالنے کا وقت مل جاتا ہے۔ جبکہ جو بلیاں 6 منزل سے کم اونچائی سے گرتی ہیں، وہ حاشیائی چال تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین سے ٹکرا جاتی ہیں اور اپنے جسم کو یکجا نہیں کر پاتیں۔
  
 ! سائنسی توجیہ

 کسی بھی تحقیق کے بعد اس کے نتائج سے اپنے ہاتھ دھو لینا سائنسدانوں کہ پرانی عادت ہے۔ تو اسی طرح اس تحقیق کے بعد بھی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ اونچائی سے گرنے پر ماری جانے والی بلياں جانور ماہر ین کے پاس نہیں لے جائی گئی ہوں گی ، اور اس طرح زیادہ اونچائی سے گرکر مرنے والی بلياں شاید اس  تحقیق کا حصہ ہی نہ رہیں ہوں۔

:اخذ و استفادہ






۔۔۔مزید

سوموار، 8 اپریل، 2013

رام سنگھ کی خودکشی کا معمہ!



 !رام سنگھ کی خوکشی کا معمہ

محمد علم اللہ اصلاحی
کہا جاتا ہے کہ امید ہی زندگی ہے، اور جب زندگی میں کوئی آس ہی نہ بچے تو سب کچھ سونا سونا سا لگتا ہے ۔زندگی بے معنی سی لگنے لگتی ہے، گذشتہ دنوں ایسا ہی کچھ دہلی میں پچھلے سال دسمبرمیں رونما ہوئے اجتماعی عصمت دری واقعہ کے کلیدی ملزم رام سنگھ کے ساتھ ہوا، جس نے تہاڑ جیل میں اپنے کپڑوں سے ہی خود کشی کے ذریعہ اپنی زندگی کا قصہ تمام کیا ۔ اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے ان گنت سوالات،سیاسی ،سماجی انتظامی اور نہ جانے کیا کیا ۔اس واقعہ کے بعد جہاں سیاسی سطح پر لے دے شروع ہو ئی ،وہیں یہ سوال اٹھا کہ آخر ملک کی سب سے محفوظ جیل میں یہ ہوا کس طرح۔
 ابتدائی تحقیقات کہتی ہے کہ رام سنگھ نے بیرک میں لگے روشندان کی گرل اور کپڑوں کے ذریعے اپنی زندگی کی روشنی گل کی۔ لیکن تہاڑ انتظامیہ یہ بتانے کی حالت میں نہیں ہے کہ جب رام سنگھ نے دم توڑا تو جےل انتظامیہ کہاں اور کیا کر رہی تھے۔بحث اس پر بھی جاری ہے کہ اس کا یہ اقدام کس سبب اور وجہ کی بنا پر تھا ۔بہر حال دنیا یہ جانتی ہے کہ اگر ملزم کو اس بات کا پکا احساس ہو جائے کہ اسے اب پھانسی سے کم کچھ نہیں ملنے والی، تو اس کی زندگی کا دوسرا پل کیوں؟ اور کس لئے؟ والی حیثیت کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس سلسلہ میں اگر مبصرین یہ کہتے ہیں کہ اس سے ہماری انصاف ،انتطامیہ اور سرکاری مشینری کے رویوں پر انگلیاں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں؟تو یہ غلط بھی نہیں ہے۔ کیونکہ پھانسی کہ سزا سنانا اور اسے نافذ کرنا انہیں دونوں کے ذمہ ہے، اورآنے والے وقت میں ایسا نہ ہو یہ بھی انہیںکو تیقن کرانا ہے؟ اگرمظلومہ اپنے پر ہوئے ظلم کی ایک دردناک داستان لکھ گئی ہے ، تو وہیں اس قتل کے اہم ملزم رام سنگھ نے بھی تہاڑ جیل میں رہ کر جو کارنامہ کو انجام دیا ہے، شاید اسی لئے کئی مبصرین نے کہا ہے کہ رام سنگھ کا یہ عمل بھی کسی بھیانک جرم مظلومی سے کم نہیں اور اس میں یقینا ہمیںمظلوم اور ظالم دونوں کے درمیان ایک مساوی لکیرکھینچنی ہی پڑے گی، کیونکہ مسئلہ انصاف کا ہے جہاںترازو کے دونوں پلڑو ںکا برابر ہونا انصاف کی سب سے اہم جیت ہے۔
شاید اسی لئے سیاسی سطح پر بھی جاری رسہ کشی اور سرد جنگ کھل کر سامنے آ گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ سشل کمار شدے نے اشاروں میں واضح کر دیا کہ وہ آئے دن شیلا دکشت کی طرف سے دہلی پولیس اور اس ان کے عمل پر اٹھائے جانے والے سوالیہ نشانوں سے خوش نہیں ہے۔انہوں نے کہا، اگر انہیں کوئی شکایت ہے یا پھر وہ دہلی پولیس کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہیں تو انہیں یہ لکھ کر دینا چاہئے۔اور بھی کئی لیڈران سے اس پر اپنے اپنے انداز میں باتیں کہی ہیں ۔حالانکہ ماہرین نے اس بابت کہا ہے کہ اس سے دہلی اجتماعی عصمت دری کیس میں میں ملزم رام سنگھ کی خود کشی سے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق رام سنگھ کے خلاف اب ٹرائل نہیں چلے گا۔ باقی ملزمان کے خلاف ٹرائل پہلے کی طرح چلتا رہے گا۔قانونی ماہرین اور دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائر جسٹس ایس ایس ڈھینگرا کے مطابق جب بھی کسی ملزم کی حراست میں موت ہو جاتی ہے تو عدالت کو اس بارے میں بتایا جاتا ہے اور جیل اتھارٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عدالت اس ملزم کے خلاف ٹرائل ختم کر دیتی ہے لیکن باقی ملزمان پر کیس چلتا رہتا ہے۔ مرنے والے ملزم کے خلاف ثبوتوں کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا کیونکہ جو ملزم مر چکا ہوتا ہے اسے قانون کے تحت مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گواہی کے دوران اس کے کردار کا ذکر ضرور ہو سکتا ہے۔ کئی ایسے معاملے بھی ہوتے ہیں جس میں ملزم کو مجرم قرار دیئے جانے کے بعد اپیل کے اسٹیج میں اس کی موت ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مجرم کے گھر والے اگر چاہیں تو وہ اسے بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کیس دائر کر سکتے ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے جہاں ایک طرف رام سنگھ نے خود کو پھانسی دے کر انصاف کے ایک پلڑے کو اپنے حق میں جھکا لیا ہے، جو آنے والے وقت میں انصاف کے ترازو کو برابر رکھنے کے کئی مواقع فراہم کرے گا ۔ وہیں ایشیا کی سب سے بڑی اور جدید مانی جانی والی تہاڑ جیل میں اتنے چاق چوبند انتظامات کے باوجود کوئی ملزم اپنے کرتے پجامے یا پینٹ قمیض سے واقعہ کو سرعام انجام تک پہنچا گیا، جس پھانسی کے لئے ہم اسپیشل رسی کا بنا پھندا اور جلاد کا نظم کرتے ہیں، اسے رام سنگھ کھلم کھلا انجام دے گیا، اور حکومت اور عدلیہ کو اس طرح کےن ناخوشگوار واقعہ کا راستہ تلاش نا ہی ہوگا ۔اس سارے واقعات کے پس منظر میں ملک کے شہریوں کا اپنا غم وغصہ اور میڈیاکی دل دہلا دینے والی خبر ہر پل پھانسی صرف پھانسی اور پھانسی سے کچھ کم نہیں چاہتے نے ملزمان کے دل میں اتنی جڑیں جمالیں کہ ان میں سے ایک اہم ملزم کو اس کام کو انجام دینے میں ذرا بھی وقت نہیں لگا، اور اتنی بڑی جدید جیل کے تمام تر انتظامات دھرے کے دھرے رہے گئے اس کام کو کر رام سنگھ نے بخوبی برسوں سے پھانسی کا انتظار کر رہے تمام ملزموں کو جو عرصے سے زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہیں کو ان سے نجات پانے کا راستہ دکھا دیا، جس کے اثرات مستقبل میں ضرور دیکھنے کو ملیں گے ۔
حالانکہ یہ اپنے آپ میں متضاد سا لگتا ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خطرناک جرم کو انجام دےنے والے مجرموں کی سیکورٹی جیل انتظامیہ کی اولین بلکہ ترجیحی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ اس لیے، کیونکہ ’سزا‘ کا ایک وسیع سماجی تناظر ہوتا ہے۔ سخت سزا دے کر عدالت یہ پیغام دیتی ہے کہ ایسے جرائم کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ سنگین جرم کے معاملات کی سماعت پر گہری نظر رکھتی ہے۔ رام سنگھ کی پیر کو عدالت میں پہلی پیشی ہونی تھی۔ اسے قانون کے سوالات کا سامنا کرنا تھا۔ پوچھتے وقت رام سنگھ شاید یہ بھی بتا پاتا کہ آخر اس کی مجرمانہ ذہنیت کی تعمیر کس طرح ہوئی۔ یہ معلومات مستقبل میں ایسے جرائم کو روکنے میں کام آ سکتی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رام سنگھ کی خود کشی ہندوستانی جیلوں کی ناکامی کو ظاہر کر رہی ہے۔ جیلوں میں خودکشی کے واقعات کی بابت نشنل کرائم ریکارڈ بیورو کا کہنا ہے کہملک کی جیلوں میں ہر سال اوسطا 40 لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ 2011 کی رپورٹ کے مطابق اس سال ہندوستان کی جیلوں میں 68 قیدیوں نے خود کشی کی۔ سنگین جرم کے ملزمین کی طرف سے یہ راستہ منتخب کرنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔اسی لیے جیل انتظامیہ ایسے مجرموں پر نظر رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔لیکن نگرانی کے مناسب نظام کی عدم موجودگی اور جیلوں میں اہلیت سے کہیں زیادہ قیدی ہونے کی وجہ سے یہ کام کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ رام سنگھ کو بھی’ سوسائڈ واچ ‘ کے اندر رکھا گیا تھا۔جیل ذرائع کے مطابق چند روز قبل ہی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس میں خود کشی کے رجحان تیزی سے پنپ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس واقعہ کو روکا نہیں جا سکا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ رام سنگھ سخت سے سخت سزا کا حقدار تھا، لیکن اسے یہ سزا قانون کے دربار میں ہی ملنی چاہئے تھی۔
فی الحال ایک تاریخی معاملے میں، جس پر پورے ملک کی نظر لگی ہوئی ہے، قانون اور اس کا نظام اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے چوک گیا ہے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔موت کیا ہے؟ پھانسی کیا ہے؟ سالوں مہینوں کا خوف اور پل بھر میں اس خوف سے ہمیشہ کے لئے نجات۔ اب حکومت کیا کرے گی؟ اب بہر حال یہ سوال ہے کہ رام سنگھ کی موت کے بعد اس معاملے کا کیا ہوگا، کیا باقی کے ملزمان کو کچھ راحت مل جائے گی؟ معاملہ کمزور تو نہیں ہوگا؟ اصل میں یہی پولیس اور عدالتی نظام کی بڑی ذمہ داری ہے کہ اس ہونہار لڑکی کے باقی کے گنہگاروں کو سزا دلائے، جس نے اپنے ساتھ ہوئی بر بریت کے باوجود آخری سانس تک جد و جہد کی۔ وہ تمام ادارے جواحتجاج کے وقت جھولی بھر کر کھڑی تھیں، وہ انسانیت کے ناطے کچھ مدد کریں گی؟ وگرنا بغیر اس کے  ترازو کا پلہ کیسے برابری پر ہوگا؟ عام دنوں میں تو ہم یہی کہتے سنتے آئے ہیں کہ ”ہمیں مجرم سے نہیں جرم سے نفرت کرنا چاہئے“ رام سنگھ نے پھانسی لگا کر چاہے وہ خوف سے کیا یا ضمیرکے بوجھ سے یا پل پل کی ملامت سے کر خود کو اس جرم کا خود ہی سزا دے کر، ملک کے تمام لوگوںاور جماعتوں کا غصہ ٹھنڈا کر ایک دل میں جگہ بنانے والی ایک اہم پہل کی ہے، چونکہ وہ بھی اسی سماج کا حصہ تھا اس لئے انسانیت کے ناطے حکومت کو اس کی مدد اپنے سرکاری فرائض کو ضرور پوری کرنی چاہئے حالانکہ ہمارے ملک میں جینے سے لے کر مرنے تک ہر بات میں سیاست ضرور ہوتی ہے، اور کچھ تشدد پسند ضدی،رائی کا پہاڑ بنانے والے روڑے ضرور اٹکائیں گے کیونکہ وہ سب ایک ہی آنکھ والے ہیں، جنہیں مظلو م کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آنے والا ۔
اور جیسا کہ خود وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پرائمری سطح پر یہ معاملہ خود کشی کا لگ رہا ہے، مگر عدالتی جانچ سے ہی پوری صورتحال واضح ہوگی۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک ایسے معاملے کے ملزم کی ملک کی سب سے محفوظ جےل مےں موت کیسے واقع ہوگئی، جس پر دنیا بھر کی نظر ہے۔وہ وواقعہ جس نے پورے ملک میں لوگوں کوہلا کررکھ دیا تھا، اور اس کے بعد ہی خواتین کی حفاظت کو لے کر سخت قانون کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالتی اور پولیسیائی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بھی مشاورت تیز کر دی گئی تھی رام سنگھ کی موت کے بعد اس طرح کی بہتری کی ضرورت اور بھی ضروری لگنے لگی ہے۔حالانکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ نے تہاڑ کی کمزور نظام کو بھی اجاگر کیا ہے۔ کئی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں محض تہاڑ کی ہی بات نہیں ہے،بلکہ ملک کی تمام جیلوں کا حالت تشویشناک ہے۔ وہاںاہلیت سے زیادہ قیدی ہیں، جن پر ہر وقت نگرانی رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔مبصرین اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں کہ معاملے کے ملزمین پر نگرانی رکھنے کی جیلوں میں کیا انتظام ہو، کیونکہ ان میں خود کشی کے رجحان پنپ سکتے ہیں۔ بے شک رام سنگھ کے اہل خانہ کو اس کی موت کا سچ جاننے کا حق ہے، پر اس کی آڑ میں ہمدردی کی لہر غلط رجحانات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس واقعہ کو اجتماعی عصمت دری کے قانونی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہئے۔





۔۔۔مزید