سوموار، 23 جولائی، 2012

چاند پر یہ اختلاف کیوں ؟


چاند پر یہ اختلاف کیوں ؟  

رویت ہلال کے مسئلہ پر اتحاد و اتفاق کا جنازہ نکل جانا ملتکے قائدین کے لئے شرمناک 

محمد علم اللہ اصلاحی
 ہمارے ملک کے پرانے اور بار بار جنم لینے والے مسائل میں سے ایک شوال کے چاند کو دیکھنا بھی ہے جس پر اتفاق رائے پیدا کرنا محال بنا دیا گیا ہے،ہر سال رمضان کی آمد کے ساتھ اس معاملہ کو لیکر ہندوستانی مسلمان ایک عجیب قسم کی کشمکش، الجھن اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں،جب امت ایک ہے،قران ایک ہے ،اسکے رسول ایک ہیں ،ان کے مسائل ایک،امت کا ہر حصہ دوسرے سے ایک گہرے جذباتی تعلقات سے جڑا ہوا ہے،ان کی ہر تنظیمیں اور ہر قائداپنے آپ کو سب سے بڑا رہنما اور مسیحا کہتے نہیں تھکتے ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب بات رمضان یا عیدین کی ہوتی ہے، تو پوری قوم تقریبا تمام جگہوں پر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتی ہے۔اپنی ڈفلی اور اپنا راگ کے مطابق کبھی دو دن قبل ہی رمضان شروع ہو جاتے ہیںتو دو دن بعد عید،اور تو اور ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے مختلف صوبوں بلکہ ضلعوں میں الگ عیدیں مناناکوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔اس گو مگوکی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ایک عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ علماءجب ایک مسئلہ میں اتفاق رائے نہیں رکھتے، تو پھر امت میں اتفاق اور اتحاد کیسے ممکن ہے،آخر کب ایک امت وسط کی معنوی حقیقت سامنے آئے گی ،جب اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل میں علماءقوم کی رہنمائی نہیں کر سکتے تو دےگر مسائل مےں ملت کے رہنمائی اور ملت کے حق مےں ان کی خےر خواہی کی کےا امےد کی جاسکتی ہے۔

 اسے شومی قسمت سے ہی تعبیر کیا جائے گا کہ اِس ماہ کا آغاز ’اختلاف‘ سے شروع ہو کر ’اختلاف‘ پر ختم ہو جاتا ہے‘ اب کی بھی ایسا ہی ہوا، اور عین اس وقت جبکہ دنیا بھر سے رمضان المبارک کی آمد پر اظہار مسرت کرنے کی خبریں موصول ہوئیں ،ہندوستان میں اس سال بھی یہ بابرکت موقع اختلاف کی نذر ہو گیا۔امارت شرعیہ نے اپنے شواہد کی بنیاد پرسنیچر کو ہی رمضان ہونے کا اعلان کر دیا،شام کے بلیٹن میں آل انڈیا ریڈیو سے بھی اس کی تصدیق کر دی گئی۔بہارکے علاوہ جھارکھنڈ،آندھرا پردیش،اور کرناٹک میں بھی لوگوں نے سنیچر کو ہی روزہ رکھا ،جبکہ دہلی میں آٹھ بجے ہی مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم کا بیان سامنے آگیا کہ روزہ اتوار کو رکھا جائے گا،جبکہ دیر گئے رات تک جمعیة العلماءاوردیگر تنظیمیں میٹنگیں کرتے رہے ،گیا رہ بجے رات کو شاہی امام نے شاہجہانی جامع مسجد سے صدا لگائی کہ نہیں روزہ سنیچر کو ہی رکھنا ہے ۔

وہیں معتبر اردو خبر ایجنسی یو این آئی نے 7بجے شب کی ٹریک میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر اتوار کو پہلا روزہ رکھے جانے کی خبر جاری کر دی یہ الگ بات ہے کہ دیر گئے رات ایجنسی نے پھر دہلی میں سنیچرکو ہی روزہ رکھنے کی خبر جاری کی لیکن اس کے باوجود بعض اخباروں میں پہلے والی ہی خبر شائع ہوئی ،اسی طرح لکھن میں مرکزی صدر کمیٹی کے صدر مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور شیعہ چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نقوی نے اتوار کو روزہ رکھنے کی بات کی ،تو معروف شیعہ عالم دین مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نائب صدرمولانا کلب صادق نے سنیچر کو روزہ رکھے جانے کا اعلان کرتے ہوئے 20اگست کو عید الفطر منانے کا بھی اعلان کیا۔مرادآباد وممبئی شہر میں گھوم گھوم کر آٹو رکشہ کے ذریعہ دیر گئے رات تک یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ سنیچر کو نہیں اتوار کو روزہ رکھنا ہے ،جبکہ بوہرا فرقہ کے مسلمانوں نے اپنے فکس کیلنڈر کے مطابق جمعرات سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیا ،آخر بار بار ایسا کیوں ہو رہا ،اس کے باوجود کہ قرآن مجید میں ’اتحادواتفاق‘ کا واضح حکم موجود ہے ۔

 دراصل یہ شریعت سے تجاہل عارفانہ ،اور صرف’ منبری کی دوکان چلے ‘ جیسی سوچ کا نتیجہ ہے ورنہ شرعی اعتبار سے دیکھا جائے تو چاند دیکھنا اور اس کی شہادت دینا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا پیچیدہ اور مشکل ہمارے علماءنے اسے بنا دیا ہے یہ تو چند اصولوں کے تابع ہے جن پر عمل کرکے اس پیچیدہ مسئلہ کو انتہائی آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ شرےعت میں اس بارے میںواضح احکامات موجود ہیں ، جو ہمیں بتاتی ہے مہینوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے (سورئہ نساءآیت نمبر301)۔اسی طرح قران میں ہی چاندکو مہینوںکے تعین کا آلہ شناخت بتایا گیا ہے،اور بتایا گیا نمازوں کے وقت کا تعین سورج سے ہوتا ہے اور مہینوں کا تعین چاند سے( سورئہ بقرہ کی آیت 981)۔اسی طرح حدیث میں اللہ کے نبی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، اگر تم پر بادل چھائے تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرو‘(صحیح بخاری: کتاب الدم؛ جلد اول، حدیث نمبر2871) ابو داوود کی روایت کے مطابق’ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ اس نے رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ اللہ کے ایک ہونے کی شہادت دیتا ہے، اس نے اعتراف کیا کہ ہاں یہ شہادت دیتا ہے، پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوبحیثیت اللہ کے رسول کا مانتا ہے، اس پر اس نے ہاں کہا اور گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کردےں کہ کل سے روزہ رکھنا ہے‘(راوی حضرت عبداللہ ابن عباس، سنن ابو داو ¿د: حدیث نمبر (3332) اسی طرح ابو داو ¿دکی حدیث نمبر 4332 اور 5332 میں بھی یہی بات دیگر روایات کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔

 ان واضح ہدایات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امت کے ٹھیکیدار امت کی رہنمائی کے نام پر اس پر کتنا عمل آوری کرتے ہیں اگر اس پر ذرہ برابر بھی عمل آوری ہوئی ہوتی تو معاملہ بالکل اس کے بر عکس کبھی نظر نہیںآتا ۔اس سلسلہ میں جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے توبلا وجہ کی تاویلیں کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے ہر جگہ مطلع مختلف ہے اور ”اختلاف المال“ کی بنیاد پر ہر جگہ الگ الگ عید ہونے کو صحیح قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 198 مےں لکھا ہے کہ ’مطلع کے اختلافات کی کوئی اہمیت حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نزدیک نہیں ہے“۔اسی طرح ”مذاہب اربعہ “جلد اول صفحہ 550 پر اس موضوع پر چاروں مسالک کی آ راءکا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب چاند کہیں ثابت ہو جائے تو روزے رکھنا تمام مسلمانوںکا فرض ہو جاتا ہے، مطلع کے اختلافات کی کوئی وقعت نہیں ہے،اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فتاوی؛ جلد پنجم: صفحہ: IIIمیں لکھتے ہیں ”ایک شخص کو کہیں چاند کے نظر آنے کی معلومات بر وقت ہو تو روزہ رکھے اور ضرور رکھے، اسلام کی نص اور سلف کا عمل اسی پر ہے، اس طرح چاند کی شہادت کو کسی فاصلہ یا کسی خاص ملک میں محدود کر دینا عقل کے بھی خلاف ہے اور اسلامی شریعت کے بھی‘۔

 اگر سائنسی اعتبا ر سے دیکھا جائے تو بھی آج کی ترقی کرتی ہوئی دنیا میں سرے سے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ،سائنسدان ،ماہرین ریاضیات اور علم نجوم کا ادراک رکھنے والے چاند (ہلال) کے ظہور کا وقت‘ دورانیہ‘ اور افق پر ظاہر ہونے کا مقام اورکن علاقوں میں اِسے دیکھا جا سکے گا‘ پہلے ہی سے بتا دیتے ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے ’انسانی آنکھ کے ذریعے کسی بھی مہینے کے پہلے روز کے چاند کو دیکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا‘ اگر حساب کتاب سے یہ بتا دیا جائے کہ ’زیر گردش زمین سے چاند کی دوری کے مراحل اور افقی اعتبار سے ا ±س کے ظہور ہونے کا مقام کیا ہے لیکن ہمارے مذہبی حلقے اِس سائنسی توجیہ کو خاطر میں نہیں لاکرمسئلہ کو مزید چوں چوں کا مربہ بنا دتے ہیں، اور ہر سال اس معاملہ کو لیکر اتنی اٹھا پٹک ہوتی ہے کہ الامان و الحفیظ،انھیں پتہ نہیں ہے کہ ان کے اس رویہ سے صرف امت کیجگ ہنسائی ہی نہیں ہوتی ہے‘ بلکہ اس طرح کی بے ےقےنی کی صورت حال سے غیر مسلموں کے درمیان بھی مسلمانوں کے تئیں عدم اعتماد اور کھوکھلے پن کا اظہار ہوتا ہے،حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب اس قدر حساس معاملہ کو بھی مسلکی رنگ دے دیا جاتا ہے ،اور بعض علماءاور تنظیمیں بھی اسے اپنی انانیت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جس کا نتیجہ اہل حدیث ،بریلوی ،دیوبندی اور خدا معلوم کیسی کےسی تفرقہ باز شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ،اگر آپ کو یقین نہ آئے تو فیس بک اور ٹیوٹر میں جا کے دیکھئے جہاں ہزاروں کی تعداد میںرےمارکس مسلمانوں کا منہ چڑا رہے ہیں ،ایسے میں امت کا سواد اعظم کدھر جائے ،کیا کرے ؟ اس سوال کے جواب تک پہنچنے کیلئے قوم کو نہ جانے مزید کتنی مرتبہ رمضان اور عید کے مواقع پر انتشار اورتقسیم کی اذیتوں سے گزرنا ہو گا۔مسلم قےادت کواس کا جواب دینا ہی ہوگا، صرف اپنے اپنے منبروں سے مواعظ اورتقاریر مےں امت مسلمہ کے اتحاد و یگانگت کا راگ الاپنے سے بات نہےں بننے والی ہے، بلکہ رمضان المبارک اور عیدےن جیسے اہم مواقع پر قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ ہونے سے بچانے کے لئے عملی طورپرکچھ کرنا پڑے گا ۔
 alamislahi@gmail.com