اتوار, اپریل 8, 2012

دہلی مدرسہ بورڈ کو لیکر ایک مرتبہ پھر کشمکش



دہلی مدرسہ بورڈ معاملہ
کشمکش ایک مرتبہ پھر جاری 
محمد علم اللہ اصلاحی
نئی دہلی 
مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا ”سانپ اور بچھو ایک سوراخ میں جمع ہوجائیں گے علماءکبھی یکجا اکٹھے نہ ہوں گے، کتّوں کا مجمع ویسے تو خاموش رہتا ہے لیکن ادھر قصاءنے ہڈی پھینکی اور ادھر ان کے پنجے تیز اور دانت زہر آلود ہوگئے۔ یہی حال ان کا ہے۔ ساری باتوں میں متفق ہوسکتے ہیں لیکن دنیا کی ہڈی جہاں سڑ رہی ہو وہاں پہنچ کر اپنے پنجوں اور دانتوں پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ فساق وفجار خرابات میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کا جام تندرستی پیتے ہیں۔ چور اور ڈاکو مل جل کر راہ زنی کرتے ہیں مگر یہ گروہ !خداکی مسجد اور زہد وعبادت کے صومعہ وخانقاہ میں بیٹھ کر بھی متحد ویکدل نہیں ہوسکتا، ہمیشہ ایک دوسرے کو درندوں کی طرح چیر تا پھاڑتا اور پنجے مارتا ہے۔ مئے کدوں میں محبت کے ترانے اور پیار والفت کی باتیں سننے میں آجاتی ہیں، مگر عین محراب کے نیچے پیشواءامامت کے لیے ان میں سے ہر ایک کا ہاتھ دوسرے کی گردن پر پڑتا اورخونخواری کی ہرآنکھ دوسرے بھائی کے خون پر لگی ہوتی ہے۔حضرت مسیح نے احبارِ یہود سے فرمایا تھا تم نے داؤد کے گھر کو ڈاکوؤں کا بھٹ بنا دیا ہے۔ ڈاکوؤں کے بھٹ کا حال تو معلوم نہیں لیکن ہم نے مسجد کے صحن میں بھیڑیوں کو ایک دوسرے پر غرّاتے اور خوں آشام دانت مارتے دیکھا ہے“امام الہندنے یہ باتیں آج سے نصف صد ی قبل قائدین ملت کے رویہ سے عاجز آکر کہی تھی لیکن ان کایہ قول مکمل نہ سہی لیکن کچھ حد تک ضرور ثابت ہورہا ہے۔ کیونکہ ہمارے قائدین کسی بھی مسئلہ میں ایک رائے پر قائم نہیں ہوتے شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اپنے مفاد کی روٹی سینکنے والے افراد اور حکومتیں ہمارا نہ صرف استحصال کرتی ہیں بلکہ نئے نئے مسائل پیدا کرکے ہمیں اپنے اصل مسائل سے الجھا کر رکھتی ہے تاکہ ہمیں اس چیز کا پتہ ہی نا چل سکے کہ ہم کیا مانگیں اور کیا نا مانگیں ۔

شاید دہلی حکومت نے اسی لئے ایک مرتبہ پھر دارلسلطنت دہلی میں مدرسہ بورڈکے قیام کا شوشہ چھوڑ کرمسلم قائدین کے الجھنوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔حالانکہ اس مسئلے پر مسلم تنظیموں میں اختلافات کی وجہ سے دہلی کی حکومت بھی کشمکش کی حالت میں ہے۔مدرسہ بورڈ کے قیام کے منصوبہ کی حمایت اور مخالفت کر رہے دونوں دھڑوں کے بڑھتے دباؤ کے درمیان وزیر اعلٰی نے اقلیتی کمیشن کو دونوں فریقوں سے بات کرنے کے بعد کوئی حتمی رائے قائم کرنے کے لئے کہا ہے ۔خبروں کے مطابق وزیر اعلٰی شیلا دکشت نے اپنے اس منصوبہ کا اظہار کرتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین صفدر خان کو مسلم تنظیموں سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کر نے کے بعد کوئی حتمی رائے قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے،اس بابت حالانکہ مسٹر خان کی جانب سے کوئی خاص پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن علماءاور قائدین کے درمیان بحث و مباحثہ اور موافقت و مخالفت میں بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اس سلسلہ میں صفدر خان کی جانب سے جو خبر ملی ہیں وہ بس اتنی ہے وزیر اعلی نے ان سے کہی ہے کہ اس معاملے پر اتفاق بنائی جائے، ہم اگلے کچھ دنوں میں ایک اجلاس منعقد کریں گے، جہاں دونوں فریقین کو بلایا جائے گا، یہاں دونوں اپنی بات رکھیں گے،ہم کوشش کریں گے کہ اس پر کوئی متفقہ رائے بن سکے۔صفدر خان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ مدرسہ بورڈ کو لے کر کوئی بڑا تنازعہ کھڑا ہو،ہم تمام چاہتے ہیں کہ مدارس اور ان میں پڑھنے والے بچوں کا بھلا ہو۔کوئی بھی فیصلہ اسی بات کو دھیان میں رکھ کر لیا جائے گا،اس بابت انٹرنیشنل اوکنگ سینٹر کے صدرمجاز منگیری کا کہنا ہے کہ ہم دو بار شیلا دکشت سے ملاقات کر چکے ہیں،انہوں نے مدرسہ بورڈ کے قیام کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اب دہلی اقلیتی کمیشن اس معاملے پر اتفاق رائے بنانے کی کوشش میں ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ جلد کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔

حکومت کے اس منصوبہ کے بعداب تک کئی مسلم تنظیموں نے دہلی مدرسہ بورڈ کے قیام کی وکالت اور مخالفت میں اپنا موقف واضح کرنے اور اس کے فوائد و نقصانات سے اعلٰی حکومتی اہلکاروں کو واقف کرانے کے لئے کئی مرتبہ مل چکے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہلی کی وزیر اعلٰی سے جن تنظیموں نے ملاقات کی ہے ان میں اہم مسلم تنظیم آل انڈیا مجلس مشاورت کے علاوہ آل انڈیا علماءو مشائخ بورڈ کے افراد شامل ہیں اور اس بابت دونوں کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے یعنی اگرمشاورت نے بورڈ نا بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے اس پر اپنا سخت حتجاج درج کرایاہے،تو علماءو مشائخ بورڈ کے ذمہ داروں نے اپنی کلی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جتنا جلد ممکن ہو اسے عملی جامہ پہنانے کی بات کہی ہے۔مدرسہ بورڈ کے قیام کے منصوبہ کی مخالفت کر رہے مشاورت کے سیکریٹری جنرل الیاس ملک نے کہا کہ امدرسہ بورڈکے ذریعے حکومت مدارس کے امور میں دخل اندازی کرنا چاہتی ہے اوراس طرح مدارس کی انفرادیت و سالمیت پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔جس سے مدارس کے وجود کوخطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر دہلی حکومت یا اقلیتی کمیشن کی طرف ہمیں بلایا جاتا ہے تو ہم ضرور جائیں گے، حالانکہ ہمارا یہی رخ ہے کہ مدرسہ بورڈ نہیں بننا چاہئے، اگر حکومت مدارس کو مالی امداد دینا چاہتی ہے تو دے، لیکن اس کے اوپر کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ وہیں آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ کے سکریٹری سید بابر اشرف کی دلیل ہے کہ مدرسہ بورڈ سے مدارس کے وقار یا ان کے معیار تعلیم پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے بلکہ اس سے مدارس مضبوط ہوں گے اور ہزاروں غریب بچے جو مدارس میں زیر تعلیم ہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر انہیں بھی دنیوی روزگار سے جڑنے کے مواقع میسر ہوں گے ۔، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی اس منصوبہ کی کھل کر مخالفت کی ہے، اس بابت پرسنل لاءکے ترجمان عبد رحیم قریشی کا کہنا ہے کہ مدارس کے معاملے میں حکومت کو دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہم مدرسہ بورڈ کے قیام کی کسی بھی پر زوردار احتجاج کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی یو پی اے حکومت سرکار نے مسلمانوں میں تعلیمی بہتری لانے کا بہانہ بنا کر کئی مرتبہ مرکزی سطح پر مدرسہ بورڈ بنانے کی بات کر چکی ہے جس میں خاص طور سے قومی کمیشن برائے اقلیتی و تعلیمی ادارہ جات کے چیئرمین سہیل اعجاز صدیقی کے ذریعہ پیش کئے گئے 3دسمبر2006کی سفارشات قابل ذکر ہیں ۔جس کی بنیاد پر سابق وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ نے21اپریل 2007کو مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام سے متعلق سفارشات کی بات کی تھی جس کی متعدد مسلم تنظیموں بشمول جماعت اسلامی ہند ،جمعیة علمائے ہند سمیت مسلم پرسنل لا کے مولانارابع حسنی ندوی بھی مخالفت کی تھی ،لیکن ان سب کے باوجود دہلی حکومت مدرسہ بورڈ کا قیام کن مقاصد کے تحت عمل میں لانا چاہتی ہے، کیا اس سے مسلمانوں کا بھلا ہوسکتا ہے یا یہ بھی حکومت کی دیگر اسکیموں کی طرح ایک لالی پاپ ثابت ہوگابے شک یہ ایسا پہلو ہے جس پر ہر ایک کو خاص طور سے قائدین ملت اور ارباب مدارس ودانشوران قوم کو سنجیدگی سے مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنا چاہیے اور ذہن وفکر کے تمام دریچوں کو واکرکے ملت کی فلاح وبہبود اور اس کے لیے لازمی عوامل واسباب پر نہایت سنجیدگی سے غور کر کے حکومت اس اقدام کی موافقت یا مخالفت کرنی چاہیے ، صرف شخصی رائے کو پوری ملت کی گردن پہ تھوپنے سے گریز کرنا چاہیے حکومت مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کے درپے کیوں ہے آخر انھیں کون سی ایسی ضرورت آپڑی اسے جاننا انتہائی اہم اورضروری ہے۔