منگل, ستمبر 8, 2015

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا جشن طلائی

ایک مکمل رپورٹ



محمد علم اللہ
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا جشن پچاس سالہ پروگرام 31اگست 2015ء کو دیر رات گئے تک دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں اختتام کو پہنچا۔ اس میں ملک کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری سمیت سرکردہ اور سربرآوردہ شخصیات نے شرکت کی اور ماضی سے سبق لیتے ہوئے مستقبل کو مزید تابناک اور مسلم قوم کے مسائل سے متعلق آئندہ لائحہ عمل بنانے پر غوروفکر کیا ۔
پورے دن  چلنے والے اس اجلاس میں کل چار سیشن تھے،جس  میں پہلا سیشن مشاورت کی تاریخ اور اس کی حصولیابیوں پر مشتمل تھا، دوسرا اور تیسرا ملک وملت کے مسائل ،جبکہ چوتھا سیشن تقسیم لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ زپر مشتمل تھا۔ اس موقع پر مشاورت کے سوینئر سمیت چار کتابوں کا اجراء بھی نائب صدر جمہوریہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ پہلی کتاب مشاورت کی تاریخ پر مشتمل تھی جس کے مصنف محمد علم اللہ ہیں، دوسری کتاب مشاورت کے بانیان وممبران کے خاکوں پر مشتمل تھی جس کو ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے ترتیب دیا تھا۔ اس موقع سے ڈاکٹر ظفرالاسلام کی ترتیب کردہ دو ضخیم کتابوں کا اجراء بھی عمل میں آیا جس میں ایک مشاورت کے قیام سے لے کر اب تک کے تمام دستاویزات پرمشتمل اردو میں تھی  جبکہ دوسری انگریزی میں۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر تابش مہدی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔تعارفی کلمات ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صدر مسلم مجلس مشاورت نے پیش کئے۔جبکہ استقبالیہ کلمات سید شہاب الدین سابق صدر مسلم مجلس مشاورت نے کہے۔تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ یہ  مشترکہ پلیٹ فارم اپنی عمر کے پچاس نہیں بلکہ اکیاون سال پورے کرچکا ہے۔اس عرصہ میں مسلم مجلس مشاورت نے متحدہ طور سے ان تمام مسائل کے لئے جدوجہد کی اور آواز اٹھائی جو ملت اسلامیہ ٔہند کو درپیش ہیں۔ ہم کچھ مسائل میں کامیاب رہے ہیں اور کچھ میں ناکام ۔ اکیاون سال قبل کے ہمارے بہت سے مسائل اسی یا بدلی ہوئی صورت میں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو ہم سے مزید جدوجہد اور تعاون کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہمارا آج کا اجلاس رسمی یا دکھاوے کا نہیں ہے بلکہ ہم آج نہ صرف اپنے اکیاون سالہ تجربہ پر مختلف طور سے غورکریں گے،مسائل کا تجزیہ کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ ہم کہاں کمزور ہیں اور کیا کچھ کرنا اب بھی باقی ہے۔
مشاورت کے سابق صدر  سید شہاب الدین نے اپنی پیرانہ سالی اور علالت کے باو جود اجلاس میں شرکت کی اورجامع استقبالیہ خطبہ پیش کیا ۔ انہوں کہا کہ اگست 1964ءمیں اپنے قیام کے  پہلے دن سے  مشاورت کا پہلا ہدف تو اس صورت حال کا ازالہ کر ناتھا  ،جو تقسیم وطن کے نتیجے میں پیدا ہوگئی تھی ۔ہمارے بانیان کی نظر زندگی کے ان تمام شعبوں اور میدانوں پر رہی اور یہ کوشش رہی کہ صورت حال کی اصلاح ہو اور ملت  قومی امور میں دیگر اقوام کے ساتھ برابر کی شریک ہو ۔ ملت نے خود اپنی کو ششوں سے اپنی زندگی کی تعمیر نو شروع کی اور رفتہ رفتہ زندگی کے تمام شعبوں میں پیش رفت کی ۔ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ایشوز کو لے کر سرکاری سطح پر مشاورت کی کوششیں اقتدار کے گلیاروں تک پہنچتی رہیں ، لیکن پریشانیوں کے باوجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان مایوسی کے بجائے اپنی تعلیمی،ثقافتی اور ہمہ جہت ترقی کیلئے کامیاب کوشش کرتا رہاہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ملت اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کررہی ہے۔ نئی مسلم نسل تعلیم اور ٹکنالوجی میں آگے بڑھ رہی ہے لیکن سینکڑوں نوجوان لڑکوں کو دہشت گردی کے فرضی الزامات عائد کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے،جہاں سے وہ برسہابرس کے بعد باعزت بری ہورہے ہیں لیکن ضائع ہونے والے سالوں کا کوئی معاوضہ انہیں نہیں مل رہا ہے۔ اب ہم کسی سے یہ امید اور خواہش نہیں رکھتے کہ وہ ہمارے آنسو پونچھے گا۔ہمارے ساتھ ملک کے سیکولر عوام اور انسانیت نواز طاقتیں ہیں جو مانتی ہیں کہ ہم ملک کے لئے مفید اور مساویانہ حقوق رکھنے والے شہری ہیں۔
 
کلیدی خطبہ میں نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر حامد انصاری نے مشاورت کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کی تشکیل ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق، تشخص اور وقار کے دفاع کے لئے کی گئی تھی جن کے وہ آئین ہند کے تحت مستحق ہیں۔ آج بھی یہ نصب العین معتبر ہے ،ہر چند کہ اس کے بعض عناصر توسیع شدہ ہیں اور ترمیم شدہ ہیں۔محرومی، عدم شمولیت اور امتیازی رویے بشمول تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی حکومت اور اس کے عوامل کی کوتاہی کا نتیجہ ہیں اور انہیں حکومت ہی کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ یہ کام فوری طورپر انجام دینا ہوگا اور اس کے لئے مناسب میکانزم تیار کرنے ہوں گے۔ملت کے سب سے سربرآوردہ اور قابل احترام ذہنوں کے اس ادارے کو تشخص اور وقار کے مسائل کو مدافعانہ انداز میں دیکھنے سے آگے جانا ہوگا اور یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ان دونوں کو ایک تغیر پذیر ہندوستان اور دنیا میں کیسے آگے بڑھایا جائے تاکہ ملت کے تمام طبقات ،خصوصاً خواتین، نوجوان ور طبقات غیر اشرافیہ ، جو ملت کی اکثریت پر مشتمل ہیں، اور ان کی ناکافی طورپر دریافت ضرورتوں کا ادراک کیا جاسکے۔میری نظر میں مستقبل قریب میں مشاورت کی ذمہ داری سہ گانہ ہے: مکمل قانونی اور آئینی حقوق کے ساتھ خود اقدامی کی جدوجہد کو قائم رکھنا ، اس کا م کو تمام ہموطنو ں سے الگ ہوئے بغیر انجام دینا، اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے موافق فکروعمل کی تطبیق کرنا ہوگا۔ 
یہ افتتاحی سیشن تھا ،جس  میں  مشاورت کے جنرل سکریٹری مفتی عطاء الرحمان قاسمی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ اس سیشن میں نظامت کے فرائض پروفیسرشکیل صمدانی انجام دے رہے تھے ۔ اس کے بعد کا دوسرا  سیشن جو کہ مشاورت کی تاریخ اور اس کی حصولیابیوں پر مشتمل تھا ۔سہ روزہ دعوت کے چیف ایڈیٹر پرواز رحمانی نے مشاورت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے مرحلہ وار مشاورت کے سفر کا جائزہ لیا اور کہا کہ جن حالات میں مشاورت کا قیام عمل میں آیا تھا وہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے آزمائش والے تھے۔فسادات کا سلسلہ ایسے چل پڑا تھا جیسے لگتا تھا ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ ہی  ہوجائے گا لیکن یہ مشاورت کی ہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ہندومسلم دونوں ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر شانہ بشانہ ہندوستان کے سیکولرزم کو بچانے نکل پڑے تھے۔ اس کے بانیوں میں اگرچہ ڈاکٹر سید محمود کا نام آتا ہے، لیکن ان کے ساتھ اس تنظیم میں اپنی توانائیاں اور خلوص نچھاور کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مشاورت نےشروع سے ہی مسلم مسائل کو حل کرنے اور اس کے لئے حکومت پر دباؤ بنانے اور عوام کے درمیان بیداری پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔
مشاور ت کے اثرات پر پروفیسر اختر الواسع نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یقینا یہ تاریخی واقعہ تھا کہ مشاورت کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ مسلمان ایک وفاقی صورت اختیار کریں اور مسلمانوں کے وجود کو سمیٹیں اور اپنی حیثیت کو منوانے کے لئے کوشش کریں۔مشاورت نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پل بنانے کا کام کیا اور اس کے لئے پنڈت سندرلال وغیرہ کو ساتھ جوڑا۔ مختلف تھپیڑوں کے باوجود باقی رہنے والی مشاورت نے ہمیشہ مسلمانوں کے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرتے ہوئے حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں پل کا کام کیا۔ یہ موقع ہمارے لئے پیچھے مڑکر  بھی دیکھنے کا ہے ۔ ہمیں افراد سے عقیدت ہونی چاہئےتاہم یہ عقیدت ترقی کے لئے ہونی چاہئے۔ شخصیات ہمارے لئے  عقیدتوں کا محور ہوسکتی ہیں عقیدہ کا نہیں۔ انہوں نے لوگو ں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عقیدہ کامرکز اللہ ورسول ہوناچاہئے۔
مشاورت کو در پیش چیلنج پر مفتی عطاء الرحمان قاسمی نے گفتگو کی انھوں نے کہا  مشاورت کا قیام انتہائی حساس موقع پر ہوا تھا ۔اسکے بانیان نے ملک کی خدمت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ، خصوصا اتحاد و اتفاق کے قیام کے لئے ان کی کوششیں لائق ستائش ہیں ۔ہندو مسلم اتحاد میں مشاورت کے رول کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا جس میں پنڈت سندر لال اور سید محمود جیسے اکابر ایک اسٹیج سے سیکولرزم کے بقاء کی دہائی دیتے تھے ۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ قابل قدر ہے کہ لوگ ان کی بات کو اہمیت دیتے تھے ۔ لیکن آج ان تمام اقدار کو فراموش کیا جا رہا ہے جو ہمارے بزرگوں کا شیوہ تھیں۔ ہمیں اس کو باقی رکھنے کے لئے جدو جہد کرنی پڑے گی ۔ 
اس اجلاس میں پروفیسر محمد سلیمان نے  مشاورت کے مستقبل اور امکانات پر گفتگو کی ۔انھوں نے کہا کہ تاریخ سے لاعلمی  ہمارے قوم کے وجود کو خطرے میں ڈال رہی ہے ، ہمیں بیدار ہونا ہوگا ۔یہ افسوس کی بات ہے کہ  ہمارے نوجوان نہیں جانتے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں۔ اس وقت سیکڑوں تنظیمیں ہیں جو اپنے اپنے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن مستقبل کے لئے لائحہ عمل بنا کر آگے کے لئے کام کرنے والے افراد کی تعداد کم ہے ۔ ہمیں اس جانب توجہ دینی ہوگی ۔اس ملک میں 1800سیاسی جماعتیں ہیں، 300 مسلم پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں۔ مسلم سیاسی تنظیموں کے درمیان بھی وفاق کی حیثیت سے اس پر غور کیا جائے۔پروفیسر سلیمان نے مستقبل کے امکانات کا خاکہ پیش کرتے موجودہ دور کی مذہبی منافرت پر پانی ڈالنے کیلئے ہمہ تن کوشش کرنے کی ترغیب دلائی۔
اس سیشن کی صدار ت مولانا سالم قاسمی نے کی انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں اتحاد واتفاق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشاورت شروع سے ہی وحدت فکر اور اتحادکی ترجمان رہی ہے۔ مشاورت کا قیام تمام ملی جماعتوں کے مجموعہ کے طور پر مسلم ایشوز کے تئیں فعال کارکردگی نبھانے کیلئے ہوا تھا ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے ۔انتہائی پیچیدہ اور دشوار کن مراحل میں بھی مضبوطی کے ساتھ قیادت کا فريضہ انجام دیاہے ۔اس وقت تباہی سے نمٹنا اور اختلاف وافتراق کو ہوانہ دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ مسلم تنظیموں کو مشاورت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے آگے آنا چاہئے ۔ آج ملت کو  اجتماعی فکر کی ضرورت ہےاور اسے مشاورت کے علاوہ کوئی انجام نہیں دے سکتاہے۔ مشاورت اس کے لئے ہمیشہ سے  فکر مند رہی ہے اور رہے گی۔ انھوں نے انتہائی رقت آمیز دعا بھی کرائی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اتحاد واتفاق کو قام رکھنے کی توفیق بخشے اور  ہمیں سمجھ عطا فرمائے کہ ہم اپنے مسائل کو بہتر ڈھنگ سے حل کرسکیں۔
دوسرا سیشن  ملک و ملت کے مسائل پر تھا ۔اس سیشن میں نظامت کے فرائض سہیل انجم انجام دے رہے تھے۔ اس موقع پر معاشیات پر گفتگو کرتے ہوئے ممبئی یونیورسٹی کے ڈاکٹڑ رحمت اللہ نے کہا کہ اسلام نے دولت کی  آمد پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔ البتہ ذرائع کو منظم کرنے اور حلال وحرام کے دائرے  میں رہتے ہوئے اعتدال کا رویہ اپنانے کی بات  کہی ہے  ۔اسلام نے سرمایہ دارانہ رویہ کی ممانعت کی ہے جو اپنی دولت سے لوگوں کا خون چوستے ہیں۔ اسلام اعتدال اور انصاف کے قیام کی بات کرتا ہےاور فاشزم اور سوشلزم جیسے فرسودہ نعروں کی نفی کرتا ہے ۔یہ  سارے غیر فطری نظام ہیں ۔ ہماری سوچ اس نظام تعلیم سے ہونی چاہئے جس سے اتحاد اورسکون ملے۔اس وقت  اسلامی معاشی نظام توجہ کا طالب ہے جو انصاف اور جائز طریقہ سے معیشت کے بٹوارے کی ترجمانی کرتا ہے ۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ غیر قوموں کے مقابلہ میں ہمارے حالات زیادہ خراب ہیں ۔معاشیات پر توجہ دیں ۔توکل کو اسلامی نہج پر واپس لائیں۔ قلت اور ذلت سے بچیں۔ توکل محض کے رویہ سے اجتناب کریں اور ترقی ، تگ و دو اور زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے کوشش کریں ۔
اس سیشن میں آئی پی ایس ریٹائرڈ منظوراحمد نے کہا کہ  ہمیں اس وقت  دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے دیکھا  جا رہا ہے۔حالیہ دنوں میں سوال یہ ہے کہ ہم اس کو کیسے بدلیں؟ بدقسمتی سے ہماری صفوں میں موجود مسلمان ہی مسلمانوں کا سودا کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو بھی پہچاننا ہوگا ۔سیاست جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنتی جارہی ہے۔ اس کو بدلنے کے لئے سیکولر پسند طبقہ کے ساتھ مزید تعلقات استوار کرنے پڑیں گے۔

            اس موقع پر موسی رضا نے تعلیم پر گفتگو کی انھوں نے کہا کہ ہم کو مثبت طرز عمل اپنانا چاہئے۔ ادارہ سازی کا فريضہ  انجام دینا چاہئے۔ مسلمان ہر چیز میں پیچھے ہیں ۔جو قوم تعلیم  اور تکنالوجی پر دھیان نہیں دیتی پیچھے رہ جاتی ہے ،سولہویں صدی تک ہمارے اکابرین نے نمایاں کردار انجام دیا۔ انہیں کی تکنالوجی سے آج یورپ ترقی کی راہیں ہموار کررہا ہے۔اس زمانے میں تعلیم کی اہمیت بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ریسرچ وتحقیق میں مسلم بچوں کو آٓگے بڑھانے کی ہے۔ ہم صرف لڑنے میں مصروف ہیں۔ باہر نکل کر دوسری قوموں کی ترقی کو دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم قوم کے نوجوانوں کو خصوصاً انتہائی محنت اور دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
اس موقع سے افتخار گیلانی نے میڈیا پر گفتگو  جس میں انھوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار ایک نگراں کار کی ہے، جو تفریح کے ساتھ تعلیم و تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور قیادت وسیاست پر نظر رکھنے کی ذمہ داری بیک وقت انجام دیتی ہے۔ مگر مصلحت آمیز ، مجرمانہ ذہنیت اور کاروباری مسابقت رکھنے والوں نے میڈیا کو سیاسی بے راہ روی، سستی تفریح، عریانیت اور تشدد وجرائم کا ذریعہ بنادیا ہے۔معاشرہ کا بڑا حصہ آج میڈیا کی طالع آزمائی سے براہِ راست متاثر ہورہا ہے۔مسلمانوں کو میڈیا  پر توجہ مرکوز کرنے  کی ضرورت ہے ۔ مسلم تنظیمیں  دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اس جانب بھی توجہ دیں اور جو طلباءمیڈیا میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں ان کی کفالت کریں۔
اس اجلاس میں صدارت کا فريضہ مولانا جلال الدین عمری نے انجام دیا ۔انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ آزادی کے بعد سے مسلمان مستقل  وجود وبقاء کے لئے کوششیں کر رہے ہیں ۔جو تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود صرف منفی نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو مواقع نہیں ملتے ۔اگر ان کو مواقع ملیں تو وہ بہتر حصہ داری نبھا سکتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ  مسلمان جذبات میں  نہ بہیں ۔سوچ سمجھ کر سنجیدگی سے قدم اٹھائیں۔ مشاورت مسلمانوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا ایک اعتبار بھی ہے۔یہ  تنظیموں کا اشتراک ہے۔ ہم سب مل کر اس کو مزید فعال  بنائیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
تیسرا سیشن بھی ملک کو ملت کے مسائل پر مشتمل تھا ۔اس سیشن کی صدارت پروفیسر نجات اللہ صدیقی انجام دینے والے تھے لیکن ان کی طبیعت خراب ہونے کہ وجہ سے وہ امریکہ سے نہ آ سکے ۔ اس سیشن کی صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی جنرل سکریٹری مرکزی جمعیۃ اہل حدیث نے کی اور نظامت پروفیسر شکیل صمدانی نے کی۔ اس اجلاس میں رزرویشن کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے نوید حامد نے کہا کہ مسلمانوں کو ریرزویشن  دیا جانا انتہائی ضروری ہے ۔ حکومت ایک طرف تو تمام شہریوں کو حاشیہ سے اوپر لانے کی بات کرتی ہے لیکن وہ قوم جو دلتوں سے بھی زیادہ پچھڑی ہوئی ہے اور جس کے بارے میں متعدد کمیشنوں اور کمیٹیوں نے سفارشات بھی کی ہیں اس کو اوپر لانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کرتی ۔الٹے اس کے ورثہ پر ڈاکہ زنی کرتی ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنے بھی شامل ہو جاتے ہیں ۔یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے ۔
ڈاکٹر عبد الحق نے اردو کے مسئلہ پر گفتگو کی ۔انھوں نے کہا کہ ایک بڑی تنظیم نے اپنے ایشو میں  اردو کو اس میں شامل کیا یہ خوشی کی بات ہے ۔ ذاتی طورپر میراخیال ہے کہ ہم آزادی کے بعد تجدید غلامی کے نئے دورمیں داخل ہوگئے۔ہر وہ چیز وہ مسلمانوں سے منسوب ہے وہ کچھ لوگوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ 1947ء کےبعد ہی کانگریس کی مشترکہ جماعت نے اردو کو نہ پنپنے کے حالات پیدا کئے۔ پنڈت نہرو کے زمانہ سے اردو پر ڈاکہ زنی شروع ہوئی اور آج حالات یہاں تک پہنچ گئے۔ تاہم  اردو مرے گی نہیں۔ حکومت کی ناپسندیدگی کے باوجود اغیار کی زبان میں اردوایک تہذیب بن کر کھڑی ہے۔اور اردو ہی  شاعروں ، فلمی دنیا، اور دیگر افراد کے لئے  شیرینی کا ذریعہ ہے۔اردو کے فروغ اور بقاء کی ذمہ داری ہماری ہے۔
دہشت گردی کی حقیقت پر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ دہشت گردی فرد کی ہو یا اسٹیٹ کی قابل مواخذہ ہے۔ ریاستی دہشت گردی  نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ اس سے صرف مسلمانوں کو ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ ہمارا ملک اس کی زد میں ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اب اس کی حقیقت سامنے آ رہی ہے اور صحیح معنوں میں جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان سے پر دہ اٹھ رہا ہے ۔ زعفرانی اور بھگوا ٹولے کی کارستانی سامنے آ رہی ہے ۔
اس موقع پر محمد ادیب سابق ایم پی نے فسادات پر اظہار خیال کیا جس میں آزادی کے بعد سے لیکر اب تک کی پوری تاریخ سامنے رکھ دی ۔ انھوں نے کہا کہ مغل حکمرانوں کے عہد میں فسادات کا تذکرہ نہیں ملتا سوائے گنتی کے ایک دو کے لیکن انگریزوں نے جب اس ملک میں قدم رکھا تو انھوں نے ہندو مسلم دونوں کو لڑانے کا کام کیا اور بہت سارے افراد ان کے آلہ کار بن کر رہ گئے ، اور بد قسمتی سے ابھی بھی ہمارا ملک اسی راہ پر گامزن ہے اس کو ختم کرنا ہوگا ۔ فسادات منظم طریقہ سے ہوتے ہیں۔ سنجیدہ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ ملک کدھر جارہا ہے۔ تشدد پسندوں کا جو حال پاکستان میں ہوا،وہاں فسادیوں کو سزا نہیں ملی اس لئے حالات خراب ہوئے۔ہمیں اس کو بدلنا ہوگا ۔
صدارتی کلمات میں مولانا اصغر علی مہدی سلفی نے کہا کہ مسلمان اپنے حالات کو لیکر بیدار ہیں  لیکن مزید بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔  جب تک ہم اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گے اور اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے اغیار کو موقع ملتا رہے گا کہ وہ ہماری ناکامی  کا مذاق اڑائیں ۔
آخری سیشن مشاورت لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ زکا تھا جن میں بانیان مشاورت کے علاوہ سماجی سطح پر کام کرنے والی نمائندہ شخصیات کو ان کے کاموں کے اعتراف میں ان کو میمنٹو اور سند پیش کی گئیں  ۔ اس موقع پر جن شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا ان میں  پس ازمرگ مشاورت کے بانی صدر سید محمود کے علاوہ مرحوم مولانا سید ابوالحسن علی ندوی،مفتی عتیق الرحمن قاسمی ، محمد مسلم ، ابراہیم سلیمان سیٹھ ، ڈاکٹر مقبول احمد ، سید حامد ،سلطان صلاح الدین اویسی ، مولانا شفیع مونس اور ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی شامل ہیں۔جبکہ زندوں میں جن شخصیات کو ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ دیا گیا ان میں پروفیسر نجات اللہ صدیقی ، سید شہاب الدین ، مولانا محمدسالم قاسمی ، ڈاکٹر کلب صادق ، موسٰی رضا ، ڈاکٹر ممتاز احمد خان ، کے ایم عارف الدین ، پی اے انعامدار ، محترمہ تیستا سیتلواڑ، جسٹس راجندرسچر ، جان دیال ، روی نایار اورہرش مندر کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔
            اس آخری سیشن میں   جن زندہ شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا انھوں نے اپنی زندگی اور حالات کے علاوہ ہندوستان کے بدلتے  منظرنامے پر روشنی بھی ڈالی ۔معروف سماجی کارکن ہرش مندر نے یعقوب میمن کے پھانسی دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت نے یعقوب کو پھانسی دینے میں جلدی کی۔ مسلمان اس ملک میں اقلیت میں نہیں ہیں۔ خود کو اقلیت نہ محسوس کریں۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں ۔انھوں نے اس موقع پر کئی واقعات سنا کر مسلمانوں کو ہمت اور حوصلہ رکھنے کی تلقین کی ۔
اس موقع پر روی نایر نے کہا کہ اگرجمہوریت کو محفوظ رکھنا ہے  تو سچ کہنا سیکھیں ۔اگر سچ بولنا بغاوت ہے تو سچ بولیں ۔ قدم قدم پر لڑنا سیکھیں ۔جینا ہے تو مرنا سیکھیں۔انھوں نے کہا یہ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ملک میں ایک خفیہ نظام بنانے کا عمل جاری ہے۔ ہم آزاد روایت پر مبنی خوبصورت روایت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجودخوف کھاتے ہیں ، خوف سے باہر نکلنا ہوگا ۔ جمہوریت کی خاطر ڈٹ کرلڑنا ہوگا۔ ہندی، ہندو ،ہندوستان کا اس وقت جو نعرہ دیا جا رہا ہے ،اگر ہم ڈٹ کے نہ لڑے تو شاید یہ بھی ہوجائے گا ۔
اس موقع پرڈاکٹر جان دیال نے کہا کہ ہم سب کو  اکھٹامل کر ہندوستان کی تعمیر کرنی ہوگی ۔یہ لڑائی  اسٹیٹ کے خلاف ہوگی جو قانون کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں ۔شدت پسندوں کے خلاف ایک  لمبی لڑائی ہے۔جب ہم اس سے لڑیں گے تب ہی ملک کا بھلا ہوگا ۔
کے ایم عارف الدین نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے  کھوئے ہوئے وقارکو واپس لانے کے لئے جد و جہد کرنی ہوگی۔ قوم کا مستقبل مفید تعلیم کے تابناک نہیں ہوسکتا۔ خواتین کی تعلیم پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔
پی اے انعامدارنے کہا کہ  1947ء سے پہلے اور بعد کے 65 سالوں میں کافی فرق ہے ۔احساس کمتری کی بات کم اور حوصلہ افزائی کی بات زیادہ کریں تو کامیابی ملے گی۔ درس گاہوں کے عرس بہت ہو گئے،تعلیمی اداروں کے عرس کریں۔ ہمیں  تکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ناکامی ہمارا مقدر ہوگی۔ مسلمانوں کو جاگنا پڑے گا۔ تکنالوجی کو اپنا نا پڑے گا۔ کم خرچہ میں زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہی ہمارا پلان ہے۔ اس ملک میں قانون کو نافذ کرنے کی کوشش بدلے ہوئے حالات میں ہماری جتنی ناکامی ہیں پاٹ سکتے ہیں۔ تکنالوجی کی وجہ سے ہم اس لڑائی میں کامیاب ہوں گے۔
معروف سماجی کارکن تیستاسیتلواڑنے کہا کہ ہمارا سسٹم  اس وقت امیروں کی طرف جھکا ہوا ہے۔اور ہماری میڈیا اس کی  طرف داری کر رہی ہے۔ یہ انتہائی شرم کی بات ہے ۔انھوں نے کہا  کہ مسلمان صحافت اور وکالت پر خاص توجہ دیں ۔
اس موقع پر ریٹائرڈ لفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ شیخ الجامعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے صدارتی خطبہ میں کہا  کہ دہشت گردکوئی بھی ہوسکتا ہے۔سچائی اور علم کی طاقت کی وجہ سے تعصب سے ہم چھٹکاراپا سکتے ہیں ۔ اگر تعصب سے بچنا چاہتے ہیں تو علم حاصل کیجئے۔ دینی مدارس دین کا قلعہ رہے ہیں۔ آج ان کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے ۔ مسلمان ملت قیادت میں آگے ہوں  تو اس کے لئے شروعات کرنی پڑے گی ۔ ہماری قوم غربت کی وجہ سے اچھے اسکولوں میں اپنے بچے نہیں بھیج سکتی۔ہر صوبے میں ایک سرسید پبلک اسکول کھولیں۔چند مہینہ میں مظفر نگر میں ایک ایسا اسکول کھولا جائے گا۔ علماء کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑوں کو روکیں۔
اخیر میں اس موقع پر 9نکاتی منشور بھی جاری کیا گیا جس میں بین الاقوامی اور آئینی پس منظر ، جمہوریت کی اصلاح، تشدد کی روک تھام ،مذہبی آزادی کا فروغ، تعلیم کا فروغ، سب کے لئے ریزریشن ،قومی مفاہمت کی صورت گری، عالمی منظرنامہ اور اللہ سے نصرت کے لئے دعا کی گئی۔پروگرام کے اخیر میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم مجلس مشاورت اور ملت اسلامیہ ٔہند کے اگلے پچاس سال ہمارے پچھلے پچاس سال سے بہتر ہوں گے۔ زندہ قومیں مسائل سے گھبراتی نہیں ہیں بلکہ ہر چیلنج ان کے لئے ترقی کا باعث بنتا ہے۔ اتحاد اور باہمی تعاون سے ہر مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ ہم اس عزم کے ساتھ یہاں سے اٹھیں کہ ہمارا کل ہمارے آج سے بہتر ہوگا اور ہم اپنے کل میں مزید اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرکے ’’خیر امت‘‘ہونے کا ثبوت فراہم کریں گے۔
رابطہ کا پتہ :
Mohammad Alamullah
alamislahi@gmail.com
Mobile No: 9911701772
E-26 , Abul Fazl , Jamia Nagar
Okhla New Delhi .110025






۔۔۔مزید