جمعہ، 13 جولائی، 2018

وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے!

تاثرات بہ رحلت چچا جان مولانا محمد ابراہیم ندوی
محمد علم اللہ
چچا محترم مولانامحمد ابراہیم ندوی نہیں رہے، ایک سایہ دار درخت تھا جوچھن گیا، دنیا اندھیری ہو گئی ۔ مجھ پر چچا جان کے بے شمار احسانات تھے۔ بچپن سے لے کر اب تک جن شخصیتوں نے مجھے اپنی بے پناہ محبتوں سے نوازا ،انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، ان میں سے ایک چچا جان بھی تھے۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں رہے، توایسا لگا ،جیسے سچ مچ آج میں یتیم ہو گیا ، موت کا ایک دن معین ہے اور کسی کو بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے؛لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ،جو دیر تلک دل و دماغ میں محفوظ رہتے ہیں،ان کی محبت، سر زنش، ڈانٹ ڈپٹ ہماری زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ، وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو جائیں ،تو دماغ کام نہیں کرتا، زبان گنگ ہو جاتی ہے، ہم چاہ کر بھی کچھ بیان نہیں کرپاتے۔
میرے لیے چچا جان کا انتقال بھی ویسے ہی ہے ، دکھ، تکلیف تو صبر آزما ہوتے ہی ہیں ، مگر اس حادثے نے ذاتی طور پر میرا بڑا نقصان کیا ،اس جاں کاہ خبر کی اطلاع ملی ،تو یقین ہی نہیں آیا،آنکھیں خود ہی اشکبار ہوتی چلی گئیں، میں بشریٰ،طہ، حمیرہ، سلمان، فاطحہ اور دیگر بھائی بہنوں اور متعلقین کو کیا تسلی دیتا میری حالت تو خود ہی غیر تھی، یقین ہی نہیں آتا کہ چچا جان ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ایسا لگ رہا ہے، جیسے میں ابھی بھی فون پر ان سے بات کر رہا ہوں اور وہ مجھے کئی مشورے دے رہے ہیں، پڑھائی لکھائی اور کیرئیر کے بارے میں کچھ بتا رہے ہیں ، بہت سے مسائل ،جو میں کسی سے شیئر نہیں کرتا، چچا جان سے بلا جھجھک بیان کر دیتا تھا، کئی باتیں میں ابا سے نہیں کہہ پاتا ،تو پیغام رساں چچا جان ہی بنتے۔
ابھی رمضان سے قبل بھائی جان کی شادی میں گھر گیا تھا، تو چچا جان سے بھی ملاقات رہی ، کمزور ،ہو گئے تھے؛ لیکن طبیعت بشاش نظر آ رہی تھی ، کینسر نے حملہ کر دیا تھا، دوا جاری تھی، ہم سب خدا سے پر امید تھے کہ سب کچھ جلد ٹھیک ہو جائے گا؛ لیکن ہونی کو کون ٹال سکا ہے ،وہی ہوا ،جس کا اندیشہ تھا، چچا جان نے9 جو لائی 2018 کو ہمیشہ ہمیش کے لیے آنکھیں موند لیں اور اپنے پیچھے ہم سب کوروتا بلکتا چھوڑ گئے۔
میرے ساتھ چچا جان کابہت گہراکا رشتہ تھا،ایک چچا کا اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کے لیے خاندانی تعلق تو ہوتا ہی ہے؛ لیکن ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، جنھیں باضابطہ کسی کی سرپرستی ملتی ہے اور وہ اسے نبھاتے بھی ہیں،جوائنٹ فیملی کی اس خصوصیت سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں بچے کی پرورش و پرداخت میں بہتوں کا رول ہوتا ہے اور گھریلو ماحول پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کا ہو، تو اس کے اثرات بچے کی شخصیت پر بھی پڑتے ہیں، مجھے گھر میں جو مثبت ماحول ملا ،اس میں چچا جان کا بھی اہم حصہ تھا۔
چچا جان سے مجھے ہمیشہ شفقت و محبت اور خوب لاڈ پیار ملا، آج میں جس مقام پر بھی کھڑا ہوں اور لکھنے پڑھنے کی جو کچھ بھی تھوڑی بہت شد بد میرے اندر ہے، اس میں چچا جان کا کرداربہت اہم ہے،عربی کی ابتدائی کتابیں تمرین النحو، تمرین الصرف، قصص النبیین، القراء ۃ الراشدہ اور معلم الانشاء کی دو جلدیں میں نے چچا جان کی نگرانی میں ہی ختم کیں،وہ بھی کسی کلاس یا درجہ میں نہیں، گھر پر ہی انھوں نے ہنستے کھیلتے یہ سب پڑھا دیا،ان دنوں مجھے ان کا یہ انداز بہت برا لگتا تھا ، گھر میں جدھر سے بھی آتے کتاب لیکر بیٹھو ، میں اِس کمرے سے اُس کمرے بھاگا پھرتا ، کبھی دروازے کے پیچھے چھپ جاتا ؛لیکن کوئی نہ کوئی انھیں بتا ہی دیتا اور مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب لے کر ان کے ساتھ بیٹھنا ہی پڑتا ۔
چچا جان لکھنؤیونیورسٹی اور دارالعلوم ندوۃ العلما کے پر وردہ تھے، توان کی سوچ اور فکر بھی قدیم اور جدید کا سنگم تھی، میری بہت سی باتوں سے گھرمیں بہتوں کو اختلاف ہوتا،کچھ برگشتہ ہو جاتے اورکئی شکوہ کناں رہتے؛ لیکن چچا ہی تھے ،جو میری ہمیشہ حما یت کرتے اورسب کے سامنے ڈٹ جاتے،اپنے بڑے بھائی یعنی ابا جان سے انھوں نے کئی مرتبہ میرے لیے ڈانٹ بھی کھائی کہ تم ہی اسے شہ دے دے کر بگاڑ رہے ہو،چچا جان مسکراتے اور کہتے آپ ایسا سمجھتے ہیں،مگر ایسا ہے نہیں، آپ دیکھئے گا یہ سب سے اچھا کرے گا ۔
پتہ نہیں چچا جان کو کیا عجلت تھی اتنی جلد جانے کی،ان کے جانے کے بعد اس بات کاشدت سے احساس ہوا کہ یہ دنیا واقعی ایک مایا جال ہے، جس کے پیچھے ہم دوڑتے چلے جا رہے ہیں، دنیا جہان کی بے ایمانیاں کر رہے ہیں، کینہ کپٹ بغض و انا پال رہے ہیں، لڑائی، جھگڑا شکوہ شکایت جانے کیا کیا کر رہے ہیں ،اس بات سے بے خبر کہ ایک دن مرنا ہے اور بالکل خالی ہاتھ جانا ہے، چھوٹے ابو کو ان چیزوں سے کبھی کوئی مطلب ہی نہ تھا، وہ کبھی بھی ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے؛ اس لیے انھوں نے زندگی بھی درویشانہ گذاری۔
سادہ سپاٹ زندگی، نہ کوئی تام جھام، نہ ٹیپ ٹاپ، معمولی کھان پان، نہ کوئی آن بان،نہ گاڑی گھوڑا، وہی پرانی ٹوٹی سائیکل، جہاں جانا ہوا نکالی اور چرر مررکرتے چل دیے،زیادہ مسافت تو پیدل ہی طے کرتے،چچا جان کی یہی سب سے بڑی خصوصیت تھی ، کبھی ان سے کسی کی لڑائی بھڑائی ہوئی ہو نہیں سنا ، بہت بھولے بھالے انسان تھے ، ان کے بھولے پن پر کبھی کبھی ہم بچے ان کا مذاق بھی بناتے ؛لیکن چچا جان صرف مسکراتے اور کہتے ہاں بھئی! اب ہم لوگوں کا زمانہ گیا، اب تم لوگوں کا ہی زمانہ ہے ، ہنس لو! ایک دن روؤگے اورآج ہم سچ مچ رو رہے ہیں ۔
چچا جان نے اپنی عملی زندگی کا آغاز مدرسہ میں مدرس کی حیثیت سے کیا، کئی جگہوں پر تعلیمی خدمات انجام دیں اور علم و عرفان کے موتی بکھیرے۔ ہندوستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ان کے شاگرد علوم دین کی اشاعت اور تعلیم و تعلم میں مشغول ہیں ، چچا جان موڈی قسم کے انسان تھے،جو کچھ بھی کرتے ،اپنی مرضی سے کرتے اور کوئی کچھ بھی بولے ،اس کا ان کی شخصیت پر اثر نہیں پڑتا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا یا اپنے وطن کی یاد انھیں ستانے لگی ، اچانک ایک دن انھوں نے تدریس کا پیشہ بھی ترک کر دیااور سب چھوڑ چھاڑ تنگن گنڈی بھٹکل سے وطن واپس لوٹ آئے اور معمولی تجارت ،جس میں چھوٹے موٹے الیکڑانک سامان اور کھلونے وغیرہ ہوتے بیچنے لگے،ان سے جو آمدنی ہوتی ،روزی روٹی اور گذر اوقات کا ذریعہ بنتی ۔
تدریسی خدمات انجام دینے سے قبل گھڑی ساز کے طور پر بھی چچا جان نے کام کیا، روزی روٹی اور رزق حلال کے لیے چھوٹے موٹے کام کو وہ معیوب نہیں سمجھتے تھے، کئی مرتبہ میں سوچتا !آخر اس قدر قابل انسان خود کو اتنے پست مقام پر کیسے لا سکتا ہے؛ لیکن چچا جان کی وہ مجبوری تھی، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا یا ضمیر کا سودا کرنا انھوں نے سیکھا ہی نہ تھا، اپنی بساط بھر بچوں کا اچھے اسکولوں میں داخلہ کرایا، دو بچوں طہ (بڑا بیٹا)اور بشریٰ (بڑی بٹیا) کو اپنی نگرانی میں حفظ قرآن مکمل کرایا، بشریٰ دسیوں سال سے گھر کی خواتین کو تراویح پڑھاتی ہے، اکثر کہا کرتے رزق کا مالک اللہ ہے ؛ اس لیے کوئی بھی غلط کام کبھی نہیں کرنا اور نہ کبھی مایوس ہونا،کئی مرتبہ میں جاب وغیرہ نہ لگنے کا دکھڑا سناتا ،تو یہی کہتے اور ہمت دلاتے ۔
جس چیز کو خوشحالی کہتے ہیں ،چچا جان کو کبھی نصیب نہ ہوئی، طالب علمی کی زندگی بھی عسرت میں گذری اور بعد کی زندگی بھی اسی طرح مشکلوں اور جد و جہد میں گذرگئی، بچپن ہی میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، بڑے بھائی ،یعنی ابا جی کی سرپرستی حاصل ہوئی، جن کی مالی حالت ابتدائی دنوں میں خود ہی پست تھی، وہ تو بعد میں ابو کی جب نوکری لگی ،تو گھر میں بہت خوشحالی آئی اور ہم بہن بھائیوں نے شاہزادوں کی سی زندگی گذاری؛ لیکن ابو اور چچاؤوں کا بچپن تو بہت دکھ میں گذرا،چچا کبھی اپنے بچپن کے قصے سناتے، تو جذباتی ہو جاتے، زیادہ تر وہ ایسی باتیں بتانے سے کتراتے ،ہم ایسی باتیں ان سے بڑے یعنی اسرائیل چھوٹے ابو سے سنتے، وہ بہت تفصیل سے سب کی کہانیاں بتاتے، ابھی وہ حیات اور بیمار ہیں، اللہ انھیں صحت و عافیت دے۔
کبھی کبھی ہم بچے کسی اچھی چیز کے لیے گھر میں ضد کرتے یا اودھم مچاتے، تو چچا جان بڑے پیار سے سمجھاتے اور کئی مرتبہ اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات کا ذکر کرکے بہلانے کی کوشش کرتے، تب ہمیں محسوس ہوتا کہ واقعی ہم لوگ شہزاد وں کی سی زندگی گذار رہے ہیں، پھر بھی نا شکری کرتے اورکچھ چیزوں کے پورا نا ہونے کا رونا روتے ہیں،کبھی ایسی چیزوں کے لیے ہم زیادہ شرارت کرتے ،توکہتے اگر ہم لوگوں کی طرح زندگی گذارنی ہوتی، تو پتہ نہیں کیا کرتے،یہ چچا جان کا کرب تھا، جو وہ غیر محسوس طریقے سے بیان کر رہے ہوتے ۔
تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد جب بال و پر نکلے اور شادی وغیرہ ہوگئی، تو چچا جان نے اپنی راہ الگ بنانے کی ٹھانی اور زندگی کے منجھدار میں ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا،ایک بھری پری زندگی کی گاڑی کو کھینچنا آسان نہیں ہوتا ،وہ بھی بغیر کسی جگاڑ اور سہارے کے ،مگر چچاجان جس چیز کو ٹھان لیتے کر گذرتے ،اپنی اس گاڑی کو کھینچنے کے لیے انھوں نے گھر سے دور افتاد ہ گاؤں ندوہ کی شاخ بنا پیڑھی میں واقع دارلعلوم اورپھر کرناٹک مدرسہ عربیہ تعلیم القران تنگنگنڈی بھٹکل تک کا سفر کیا،مجھے دونوں جگہ ان کے ساتھ کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا، مشکلوں میں جینے اور صبر و شکر کے ساتھ رہنے کا ہنر چچا جان نے بچپن ہی میں سیکھ لیا تھا، جوبیماری اور بعد کے ایام تک بھی جاری رہا، بچوں سمیت ہم سب کو بھی اسی کی ترغیب دیتے۔
وہ آس پاس کے دیہاتوں میں کھلونے وغیرہ بیچنے جاتے ،تو کسی رشتہ دار کے یہاں ٹھہرنا پسند نہیں کرتے تھے ، پوچھنے پر کہتے بلا وجہ میرے جانے کے بعد لوگ اہتمام کرنے لگتے ہیں ؛مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا ، ابھی گذشتہ سے پیوستہ سال کی بات ہے ، میں بقرعید کے موقع پر دہلی سے گھر جا رہا تھا ، ٹرین صبح پانچ بجے رانچی اسٹیشن پہنچی ،صبح کے چھ بجے گاؤں کے لیے مجھے ٹرین پکڑنی تھی ، میں اپنا سامان اٹھا ئے ٹرین کی اور جانے لگا ، دیکھا تو ایک بنچ پر چچا جان سو رہے ہیں، مجھے یقین ہی نہیں آیا ، ایسا لگا جیسے میں گاؤں کی یادوں میں بسا ہو ا ہوں؛اس لیے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے؛لیکن جب ذرا قریب گیا، تو معلوم ہوا کہ سچ مچ وہ چچا جان ہی تھے، میں نے ادب سے ان کے پاس جاکر سلام کیا ،تو وہ ہڑ بڑا گئے، کہنے لگے’ ارے ! علم اللہ ، تم! ‘میں نے کہا ’ہاں چھوٹے ابو ! مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟‘ تو انھوں نے بتایا کچھ کام سے رانچی آیا تھا ،دیر رات ہو جانے کی وجہ سے گاڑی نہیں ملی ،تو اسٹیشن پر ہی رک گیا ، میں نے کہا ،اسرائیل چھوٹے ابو کے یہاں چلے جاتے (رانچی میں ایک اور چچا کا گھر ہے) وہاں تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ،تو پھر انھوں نے وہی بات دہرائی’ مگر وہ لوگ پریشان ہو جاتے نا !‘ چچا جان کی یہی سادگی انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی ۔
بڑوں کا احترام ہم نے چچا جان سے ہی سیکھا ، اتنے بڑے اور بال بچے داروالے ہو جانے کے باوجود ہم نے چچا جان کو کبھی اپنے بڑے بھائیوں ،جن میں اسرائیل چھوٹے ابو اور میرے ابا جی شامل ہیں سے اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، ابا جی کا وہ بڑا احترام کرتے تھے ، کہیں دور سے بھی ابا جی کو آتے دیکھتے، تواحتراما کھڑے ہو جاتے ، ابو لاکھ کہتے بیٹھ جاؤ ! زیادہ تکلف نہ کیا کرو ؛ لیکن جب تک دوسری کرسی نا آجاتی یا ابا جی بیٹھ نہیں جاتے، مجال ہے چچا جان بیٹھ جائیں، یہ ان کانرالاانداز تھا اور عمر بھر اس کو نبھایا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ بڑے بھائی کا احترام کیسے کیا جاتا ہے ۔
گھر کے اجتماعی فیصلوں میں ان کے خلاف بھی فیصلہ ہو جاتا ،تو بلا چون چرا اس کو تسلیم کر لیتے ، ایک دن مجھ سے کہنے لگے پیسے کی سخت ضرورت ہے ، زمین بیچنا چاہتا ہوں ، تمہارے چچا اور تمہارے ابو منع کرتے ہیں ، ذریعۂ آمدنی کچھ ہے نہیں تو میں کیا کروں؟میں کیا کہتا ! میں نے جان بخشی کے لیے کہہ دیا، آپ جانیں اور آپ کے بھائی ،میں بھلا اس میں کیا کر سکتا ہوں ۔ کہنے لگے ؛تم ٹھیک ہی کہتے ہو، کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، میں بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔ اس وقت چچا کی بے چینی واقعی دیدنی تھی اور چچا جان ہمدردی کے مستحق تھے؛ لیکن میرے ہاتھ بھی تنگ اور بندھے ہوئے تھے ،میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکا ۔
آج میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، تو ان کی ایک ایک باتیں یاد آ رہی ہیں، چچا جان سے میں نے زندگی کے چھوٹے بڑے بہت سے اصول اور سبق سیکھے، ان سب کا یہاں احاطہ بھی کرنا نا ممکن ہے،بس دعا گو ہوں کہ اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام دے ، اور ہم سب کو صبر کی توفیق بخشے ۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وتغمدہ 
بواسع رحمتہ واسکنہ فی فسیح جناتہ، آمین۔

تصویر کیپشن : 
بائیں سے دائیں :پہلے نمبر پر کرتا اور لنگی میں (چچا جان )مولانا محمد ابراہیم ندوی ، (چھوٹے ابو )محمد اویس ، منجھلے ابومحمد اسرائیل قاسمی ، اخیر میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے (راقم ) محمد علم اللہ اور زمین پر بیٹھے ابا جان مولانا محمد اسماعیل رحمانی ۔


۔۔۔مزید

پیر، 30 اپریل، 2018

ہمیں بچاؤ!(افسانہ)

ہمیں بچاؤ!
محمد علم اللہ
مٹھ میں آج بھی مقدس بزرگوں کا مجمع لگاتھا،کوئی سفید براق جبہ سنبھالے آیا تو کوئی تسبیح کے دانے سہلاتا ہوا میٹنگ والے حجرے میں وارد ہوا۔ کسی کے ساتھ اس کا مرید پیچھے پیچھے نظریں جھکائے یوں چلا آتا تھا گویا اس کی گردن پر کوئی ہریل بیٹھا ہوا ہو۔ جب بھی کوئی نورانی صورت حجرے میں ظہور فرماتی تو پہلے سے وہاں موجود لوگوں میں ہلچل مچ جاتی، کوئی اٹھ کر آنے والے کے ہاتھوں پر ٹوٹ پڑتا، تو کوئی کرتے کا اگلا یا پچھلا دامن پکڑ کر چوماچاٹی میں لگ جاتا۔ البتہ حجرے میں پہلے سے موجود نورانی صورتیں نئے نورانی چہرے کی آمد پر اپنی جگہ جمی رہتیں اور کئی ایک کی آمد پر تو منہ بناتیں۔ آنے والا بڑی مشکل سے کسی کا زانو، کسی کا کھوادھکیل کر اپنے لئے جگہ بنا لیتا۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک نورانی چہروں کا نزول ہوتا رہا پھر جب صدر کو لگا کہ اب کوئی اور بزرگ نہیں آئے گا، تو اس نے کھنکھار کر میٹنگ کی کارروائی شروع کی۔ 
''عزیزو!، آپ کو پتہ ہے کہ ہم پر بہت کڑا وقت پڑا ہے۔۔۔''
ابھی یہ جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ دو ایک بزرگوں نے پہلو بدلا،ایک صاحب پکارے:
''ہاں!ہاں!ہمیں پتہ ہے، لیکن پہلے یہ بتاؤ کہ یہ کیا حرامی پن ہے؟''۔
صدر محفل اس جملے کی توقع نہیں کر رہا تھا اس لئے غصے سے بلبلا اٹھا۔
''کیا مطلب ہے، آپ کا،اپنی عمر کا خیال کیجئے یہ کیسی زبان ہے''۔
''میری زبان سے تکلیف ہو رہی ہے اور تم مل کر ہمارے مسلک کے خلاف سازشیں کرتے رہو وہ کچھ نہیں،ہمارا اتنا بڑا مسلک ہے تم نے عمدۃ العلماء اور سرتاج العلماء کو کیوں نہیں بلایا؟۔ ''
صدر محفل جواب دیتا، اس سے پہلے ہی ایک نورانی شخصیت پکاراٹھی:
''آپ کو بلا لیانا،بس شکر کیجئے۔۔۔!''
یہ ہتک آمیز جملہ سناتو اعتراض کرنے والے بزرگ کے جارحانہ تیور ہرن ہو گئے، دبی آواز میں بولے:
''اوہ۔۔۔یہ بھی صحیح فرمایا، یوں بھی میں اکیلا ہی نمائندگی کو کیا کم ہوں، آپ کارروائی آگے بڑھائیے''۔
صدر محفل نے ایک بار پھر گلاصاف کرتے ہوئے بولنا شروع کیا:
''بھائیو!، بہت برا وقت ہے، ہمیں مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے، سب ہمارے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں، ہمیں مل کر لڑنا ہوگا''۔
ایک بزرگ نے قریب رکھے اپنے ڈنڈے کو قریب سرکایا اور بڑی مشکل سے کھڑے ہوتے ہوئے بولے:
''چلو''۔
سب نے حیرت سے دیدے پھاڑے اور کئی حیرانی سے ایک زبان ہوکر پکارے:
''کہاں؟''
بزرگ نے لرزتی آواز میں کہا:
''لڑنے۔''
صدر محفل جو حیرانی سے آنکھیں پھاڑے بیٹھا تھا جلدی سے بزرگ کے قریب آیا اور شانہ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے بولا:
''آپ بس قیادت فرمائیے زحمت کرنے کی ضرورت نہیں''۔
صدر محفل اپنی جگہ واپس آیا اور گویا ہوا:
''ہمیں ان حالات میں لڑنا ہے لیکن یہ لڑائی تیر اور تلوار سے نہیں عوام کی طاقت سے لڑی جائے گی، آپ سب کا اپنا اپنا عقیدت مندوں کا حلقہ ہے، اگر آپ ساتھ دیں تو کچھ بڑا ہو سکتا ہے''۔
کیا مطلب؟
''ہم ایک بڑی ریلی کریں گے''۔
’’ریلی؟!‘‘
''ہاں ریلی!!،عنوان ہوگا،ہمیں بچاؤ ریلی!''
صدر محفل کی تجویز سنتے ہی کئی لوگوں کی بانچھیں کھل گئیں۔
''ٹھیک ہے، کرو ریلی، ہم اپنے اپنے عقیدت مندوں کو لے کر آ جائیں گے ''۔
''لیکن ایک شرط ہے''۔
''جی! کیسی شرط؟''
''صدارت میں کروں گا!''
ایسا لگا کہ میٹنگ میں اس بات کا انتظار ہی ہو رہا تھا، بس پھر تو ہر جانب سے یہی پکار ہوئی۔
''صدارت میں کروں گا۔ میری جلالت قدر کے آگے تم تو دھنیا بیچتے ہو؟''۔
صدر محفل پہلے تو چپ رہا پھر ذرا تیز آواز میں پکارا۔
''جب سب کے گلے دکھ جائیں تو مجھے بتا دینا، میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ صدارت کون کرے گا؟''۔
سب یکدم خموش ہو گئے۔ دو ایک نے سب کی طرف سے پوچھ لیا۔
''کون کرے گا صدارت؟''۔
صدر محفل نے سوال سن کر سب پر طائرانہ نظر ڈالی، اس کی نظر جس چہرے پر جاتی اس کے دل میں آس پیدا ہو جاتی، سب کو دیکھ چکنے کے بعد وہ بڑے اطمینان سے بولا:
''میں کروں گا صدارت، جسے اعتراض ہو، دروازہ ادھر ہے، نکل لو!''
جن بزرگوں کے تیور ابھی تک ابابیل کی طرح پرواز کر رہے تھے یکدم جھاگ بن کر بیٹھ گئے، صدر محفل نے موقع دیکھ کر ایک اور وار کیا:
''اگر صدارت کے خواب دیکھے، تو ریلی میں تقریر کرنے سے بھی جاؤ گے۔ اپنے عقیدت مندوں کو لاؤ، اسٹیج پر بیٹھنے کا موقع ملے گا اور پانچ پانچ منٹ تقریر کا بھی۔ ''
اس کے بعد میٹنگ میں کچھ اور معاملات طے ہوئے، جو مٹھ کی مقدس فضا سے میل نہیں کھاتے ؛اس لئے ان پر راوی خاموش ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ فی عقیدت مند اجرت، گاڑی کا تیل اور کھانے کے مینو پر بات چیت ہوئی۔
پچھلی صفوں میں موجود ایک بزرگ ذرا اچک کر بولے:
''ریلی کا ایجنڈہ تو طے کیجئے؟''
صدر محفل جھٹ سے بولا:
''سب طے ہے، ہم سب کو بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ہم سب خطرے میں ہیں! ہمیں بچاؤ!!''
پچھلی صف والے بزرگ کی سمجھ میں بات نہیں آئی اس لئے پوچھ بیٹھے:
''ہمیں کس سے خطرہ ہے؟''
سوال سن کر صدر محفل سمیت سب نے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا،اسی غیر یقینی سوالیہ نگاہی کے ساتھ ہی میٹنگ برخاست ہوگئی۔
خدا خدا کرکے’ہمیں بچاؤ‘ ریلی کا دن آ پہنچا۔ میدان میں لوگوں کا جمگھٹا لگنے لگا، صدر محفل کا لباس آج کچھ زیادہ ہی اجلا تھا، باقی نورانی شکلیں بھی ایک کے بعد ایک اسٹیج پر نمودار ہونے لگیں، اسٹیج پر نرم گدے بچھے تھے، اس پر اس سے بھی زیادہ گدے دار صوفے ڈالے گئے تھے، پنکھے ہوا پھینک رہے تھے اور چائے چبینہ کا وافر مقدار میں انتظام تھا، نیچے دھوپ میں مجمع پسینے میں نہا رہا تھا، کسی کو پیاس سے چکر آ رہے تھے ،تو کوئی بھوک سے دل ہی دل میں بلبلارہاتھا، لیکن اسٹیج پر موجود اپنے عظیم روحانی قائدین کی محبت میں اتنی تکلیف تو برداشت کی ہی جا سکتی ہے۔
صدر محفل کو ڈر تھا کہ کہیں اسٹیج سے کسی اور کی شخصیت نہ چمک جائے اس لئے اس نے اپنے قریبی کو پاس بلایا اور اس کے کان میں پھسپھسایا:
''نظامت تم سنبھالو، دیکھو کوئی زیادہ نہ بولنے پائے، سب کو بول دینا کہ بس دو ہی جملے دہرانے ہیں۔ ہم خطرے میں ہیں ہمیں بچاؤ۔''
ناظم نے ایک ایک کو تقریر کے لئے بلانا شروع کیا، مقررین کھنکھار کر گلا صاف کرتے، عربی میں کئی تمہیدی جملے پڑھتے پھر وہی دو جملے دہرا دیتے۔'' ہم خطرے میں ہیں ہمیں بچاؤ۔''
ایک کے بعد ایک سب آئے،سید العلماء، عظیم الملت، امیر الامت، حجۃ الاسلام، فضیلت مآب سب نے یہی کہا۔
دھوپ میں نڈھال مجمع بیچ بیچ میں نعرے لگاتا رہا۔
نورانی چہرے نمٹ گئے تو ناظم نے تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتے ہوئے صدر محفل کو خطاب کی دعوت دی، مجمع میں جوش بڑھ گیا۔ نعرے لگے اورصدرکی تقریر شروع ہوئی۔
صدر محفل نے لوگوں کا ریلی میں آنے پر شکریہ ادا کیا،اپنے نزدیکی لوگوں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا، اللہ کا، حکومت کا شکریہ ادا کیا اور وہی دو جملے دہرا دیئے۔’’ ہم خطرے میں ہیں ہمیں بچاؤ‘‘۔
ریلی نمٹ گئی اور دن بھر دھوپ میں نڈھال ہونے والے لوگوں نے لڑکھڑاتے قدموں سے گھر کی راہ لی، سب کے دلوں میں اطمینان تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرے سے نکال لیا ہے اور اب وہ بچ جائیں گے۔
رات کو صدر محفل نے اسی حجرے میں پھر انہیں نورانی بزرگوں کی میٹنگ بلائی، سب کو حق المحنت دیا گیا، محفل میں شامل کچھ بزرگوں کو محسوس ہوا کہ ناظم کہیں نظر نہیں آ رہا۔
ایک نے ہمت کرکے صدر محفل سے پوچھ لیا:
''ناظم صاحب کہاں ہیں؟''
صدر محفل، پہلے تو سوال سن کر سٹپٹایا، پھرسنبھلتے ہوئے بولا:
''وہ اگلی ریلی کی تیاری کرنے گئے ہیں۔''
سوال کرنے والوں کو جواب بھی مل گیا اور حق المحنت بھی، مزید سوال تھے نہیں اس لئے ایک بزرگ پکارے:
''اماں، چھوڑیئے یہ سب، یہ بتائیے کھانے میں کتنی دیر ہے؟! ''۔
(ختم شد)

۔۔۔مزید

جمعرات، 26 اپریل، 2018

دارالعلوم دیوبند کو کچھ مشورے

محمد علم اللہ
اخبارات میں خبر آئی ہے کہ دارالعلوم دیوبند اپنے فتاوی کو کاپی رائٹ کرائے گا اور ذرائع ابلاغ کے لئے ان فتاوی کی ترسیل یا اس پر تبصرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں چند گذارشات ہیں۔
پہلی: فتوی قرآن و حدیث سے مستنبط حکم ہے اور ظاہر ہے یہ دونوں ہی کسی کی ملکیت نہیں اس لئے فتوے کا کاپی رائٹ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری: اگر دارالعلوم دیوبند چاہتا ہے کہ میڈیا اس کے فتوے پر بات نہ کرے تو پھر وہ فتوی براہ راست سائل کو ای میل یا ڈاک سے بھیجے اور ویب سائٹ پر تشہیر سے گریز کرے۔
تیسری: دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کو صرف شرعی اور فقہی معاملات پر ہی فتوے دینے چاہئیں۔ مودودی، غامدی، وحید الدین خان، ذاکر نائک یا کسی دیگر کو غلط اور طارق جمیل یا مدنی فیملی کو برحق قرار دینے سے بچنا چاہئے۔
چوتھی: بقائے باہم اور پرامن ہمہ زیستی کو فروغ دینے والے، مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے امکانات پیدا کرنے والے اور مکالمہ کو فروغ دینے والے فتاوی کی خاص طور پر تشہیر کی جانی چاہئے۔
پانچویں: اکثر غیر ضروری اور شوقیہ فتوے طلب کئے جانے کی بات کہی جاتی ہے اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ سائل کا معاملہ سے تعلق بھی پوچھ لیا جائے اور اسی کی روشنی میں فتوی جاری کیا جائے.
چھٹی: فتوے کی مناسب بلکہ ایک موٹی رقم فیس کی شکل میں طئے کی جائے تاکہ جسے واقعی ضروری ہو وہی فتوے کے لئے رجوع کرے؛ ہر کس و ناکس شریعت کا مذاق اڑانے کے سوال داغتے نہ پھرے. اس سے فتوی دینے والے علماء کے مشاہرہ کا بھی انتظام ہو سکتا ہے۔
ساتویں: قول راجح یا صرف حنفی مسلک پر اصرار نہ کرکے دیگر ائمہ کی رائے بھی بتا دے. بزرگوں کی رائے انتہائی مجبوری کی صورت میں نقل کی جائے، کوشش ہو کہ زیادہ سے زیادہ مسائل کا استنباط قرآن و حدیث کی روشنی میں ہو.
آٹھویں : ہر فتوے کی کاپی میں یہ وضاحت بھی کر دے کہ فتوے کے جملہ حقوق دارالعلوم کی تحویل ہے، بلا اجازت کسی بھی شکل میں خواہ وہ طریقہ نقل سمعی ہو یا بصری یا کسی اور سائنسی طریقہ عمل سے کسی بھی شکل میں کسی اور مقصد کے لئے استعمال درست نہیں. ایسا کرنے والے کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے. 
نویں : کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن فیس رجسڑار آف کاپی رائٹ کو ادا کرکے دارالافتاء کا رجسٹریشن کرالے، اور اس کے حقوق حاصل کر لے کہ یہ دارالعلوم کی ملکیت ہو گی.
دسویں : ہر ایک کو فتوے کا اختیار نہ دے کر با ضابطہ کچھ ادارے بنائے جائیں اور ان سب کو بھی دارالعلوم کے قوانین پر عمل کرنے کا مجاز بنایا جائے، کم از کم اس کا مجاز دارالعلوم سے فارغ علماء کو تو بنایا ہی جا سکتا ہے.

۔۔۔مزید

تو کیا ملی قائدین ڈر گئے ہیں؟

محمد علم اللہ
ذرا دیر کو تصور کیجئے کہ اس وقت مرکز میں کوئی اور حکومت ہوتی اور اس طرح اسرائیلی وزیراعظم گاجے باجے کے ساتھ تقریبا ایک ہفتے کے دورے پر آتا تو ہمارے نام نہاد ملی قائدین کیا کر رہے ہوتے؟۔..... یقین مانیے یہ قائدین اتنا احتجاج اور اودھم مچاتے کہ حکومت کی اسرائیلی وزیراعظم کو بلانے کی ہمت ہی نہ ہوتی اور اگر دورہ ہوتا بھی تو چپ چاپ ہوتا؛
لیکن آج؟
آج انہیں ملی قائدین کی خاموشی دیکھئے کہ گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔
کسی قائد کی مجال نہیں کہ مختصر سا احتجاجی مظاہرہ ہی کر لے۔ حتی کہ وہ حضرات جو ہر مسلمان نوجوان کی رہائی کا کریڈٹ لینے کے لئے اپنے زرخرید اردو رپورٹروں سے پیڈ نیوز چھپواتے ہیں وہ تک منہہ میں ریوڑیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔
اس بات کا ایک اور ثبوت تین طلاق مخالف بل بھی ہے۔ اگر یہ بل کسی اور حکومت کے دور میں آتا تو یہ حضرات اپنے اپنے جھنڈے بینر اٹھا کر ریلیاں کر رہے ہوتے لیکن یاد کرکے بتائیے کہ لوک سبھا میں بل منظور تک ہو گیا لیکن کون سا ملی قائد تھا جس نے پرامن احتجاج کا حق استعمال کیا؟؟؟
اسرار الحق قاسمی اور بدرالدین اجمل قاسمی جیسے لوگ ایوان کے رکن ہونے کے باوجود تقیہ کرکے نکل گئے۔
اس ساری کیفیت سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں یا تو ہماری ملی قیادت اس قدر ڈری ہوئی ہے کہ اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی کہ جائز اور جمہوری حق کے لئے سامنے آئے۔ ان ملی قائدین کو شائد ایسا لگ رہا ہے کہ زیادہ اچھل کود کی تو یہ حکومت بہت مار مارے گی اس لئے اپنی پگڑیاں بچائے پھر رہے ہیں،
لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ہمارے ملی قائدین ابھی بھی خود کو غیرت مند اور نڈر مانتے ہیں اس کے باوجود سامنے نہیں آ رہے تو اس کا مطلب یہی نکالا جائے گا کہ پردے کے پیچھے سیٹنگ ہو گئی ہے۔
ہم نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حق کے لئے آواز بلند کی ہے اور آج ظالم و جابر اسرائیل کا سربراہ ہمارے گھر آیا ہوا ہے لیکن ہم نے اس کے خلاف احتجاج تک درج کرانا مناسب نہیں سمجھا ہے، جب ان سے پوچھو تو کہا جاتا ہے کہ ابھی وقت نہیں آیا تو میں پوچھنا چاہتا ہوں وہ وقت کب آئے گا؟
Mohammad Alamullah


۔۔۔مزید

کیا ناچ گانا ہی محض سنیما

کیا  ناچ گانا ہی محض سنیما ہے ؟ 
محمد علم اللہ 
عقل پر تعصب کا پردہ پڑ جائے تو حقیقت نظر آنی بند ہو جاتی ہے اور اگر اس پر کم علمی کا بھی ایک پردہ چڑھا دیا جائے تو کچھ بھی دکھائی دینا نا ممکن ہے۔ خیر سنیما کو بطور میڈیم استعمال کرنے کی ضرورت پر میری فیس بک پوسٹ سے دوست خوب نالاں ہوئے۔ اس سلسلہ میں جو تبصرے آئے ہیں ان میں کچھ مناسب سوالات کی وضاحت کر دینا مناسب ہے باقی تبصرے چونکہ صرف مخالفت برائے مخالفت کی خاطر ہیں اس لئے ان پر کان دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ 
مبصرین کی اکثریت نے پوچھا ہے کہ ایسی کوئی ایک فلم بتائیے جس نے مسلمانوں کے بارے میں مثبت نظریہ قائم کیا ہو۔ فاضل معترضین نے میری پوسٹ کو غور سے پڑھا ہوتا تو یہ سوال اٹھاتے ہی نہیں۔ میرا سارا رونا ہی یہ ہے کہ فلموں کو مسلمانوں نے بطور میڈیم استعمال نہیں کیا۔ اگر سنیما کو اپنایا ہوتا تو رونا اور شکایت ہی کس بات کی تھی؟۔
مبصرین فرماتے ہیں کہ گانے بجانے اور ناچ گانے کا نام ہی فلم ہوتا ہے۔ ان اصحاب سے میری پھر گذارش ہے کہ صرف ممبئی کی نیلی پیلی فلموں میں ہی گم نہ رہیں اور جان لیں کہ دنیا بھر میں سنیما سنجیدہ اور حساس موضوعات پر فنی باریکیوں کے ساتھ پیغام رسانی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ کبھی وقت ملے تو پولینڈ، جرمن اور اطالوی فلموں کے بارے میں گوگل کر لیں۔ 
جن بھائیوں نے پوچھا ہے کہ دنیا میں کون کون سے سنجیدہ موضوعات پر فلمیں بنی ہیں۔ ان کو پوری فہرست گناؤں تو ان صفحات پر ممکن نہیں بس اتنا سن لیجئے کہ ہولوکاسٹ پر اب تک تقریبا 160 بڑی فلمیں بن چکی ہیں۔ ایسے ہی دوسری جنگ عظیم پر 300 سے زیادہ بڑی فلمیں بنی ہیں۔ ان فلموں نے یہودیوں کے ساتھ مبینہ ظلم و زیادتی کا نظریہ ذہنوں میں نقش کرکے رکھ دیا۔ خود اپنے ملک میں تقسیم کے درد اور حالات پر ایم ایس ستھیو کی فلم گرم ہوا دیکھ لیجئے،تقسیم بنگال کے بعد کے انسانی المیے پر رتوک گھٹک کی میگھے ڈھاکا تارا پر نظر ڈال لیجئے، 1984 کے سکھ مخالف فسادات پر 31 اکتوبر نام کی فلم کے بارے میں پڑھ لیجئے، یہودیوں کی مبینہ مظلومیت پر فڈلر آن دی روف اور لائف از بیوٹی فُل کو دیکھ کر فیصلہ کر لیجئے۔ سنیما نے انسانی زندگی کے آلام کو جتنا دنیا تک پہچایا ہے اتنا تو کسی دوسرے میڈیم نے پہچایا ہی نہیں۔ کیا آپ کو حیرت نہیں کہ جنگ ویتنام پر 80 بڑی فلمیں بنیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مبینہ ظالم حکومت پر اوسامہ جیسی عالمی شہرت یافتہ فلم بنی۔ یہ تو دوچار نام ہیں جو ابھی ذہن میں آگئے۔ اس موضوع پر کتابیں کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ 
میں سارے اعتراضات کے جواب میں بس اتنی سی گذارش کروں گا کہ پہلے سنیما کی سہی تعریف جان لیجئے اور دنیا بھر میں بننے والی فلموں کے بارے میں تھوڑی جانکاری جٹا لیجئے اس کے بعد مجھے گالیاں دیجئے۔ بھائیو! میں پھر دہرا رہا ہوں بالی ووڈ کے لٹکے جھٹکے اور ناچ گانا ہی محض سنیما نہیں ہے۔ 
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

سینیما اور اسلام


سنیما کے سلسلہ میں برصغیر کےنوے فیصد دین اسلام کے ٹھیکیداروں کی یہی رائے ہے کہ یہ حرام اور لہو لعب ہے اس لئے شراب اور سور ہی کی طرح سنیما اور فلموں کو اچھوت قرار دے دیا گیا ہے۔ اس میں ان کا دوش نہیں ہے، دراصل انہوں نے سنیما کے نام پر مغل اعظم اور پاکیزہ کو ہی جانا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ یہ کمرشیئل سنیما فلم سازی کے فن کا ایک بہت معمولی اور گھٹیا حصہ ہے۔ سنیما دراصل اظہار کا ایک موثر اور خوبصورت ذریعہ ہے۔ اپنی بات دنیا تک پہچانے کے معاملہ میں سنیما جتنا کامیاب رہا ہے،اتنا نہ تو تحریریں رہیں اور نہ تقریریں۔ دنیا بھر میں یہودوں کو مظلوم ترین قوم کے طور پر اسی سنیما نے شناخت دلائی۔ دنیا میں جو معیاری سنیما ہے اس میں بڑے بڑے مسائل اور سوالات کو دنیا تک پہنچایا جا رہا ہے، لوگوں کے خیالات تبدیل کرائے جا رہے ہیں اور نظریات کو قائم کیا جا رہا ہے ایسے میں ہم لکیر کے فقیر اب تک یہ ہی نہیں جان پائے کہ فلمیں صرف ممبئی میں بننے والے ناچ گانے کو ہی نہیں کہتے۔ کاش ہم نے سنیما کو اپنی بات کہنے کا ذریعہ بنایا ہوتا تو شائد آج ایک متبادل بیانیہ بھی دنیا کے سامنے ہوتا۔ ہم تو وہ عظیم قوم ہیں جس میں خود ساختہ دین کے ٹھیکیدار کی برکت سے پرنٹنگ پریس صدیوں تک حرام قرار دے کر نہیں آنے دی گئی۔ ایسے میں سنیما جیسے ترسیل کے عظیم ذریعہ کی افادیت کہاں کس کی سمجھ دانی میں آئے گی؟۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

سعودیہ نہیں، اودھ کی تہذیب کا ذکر


اس تہذیب نے اپنا دربار مغلیہ دربار کے طرز پر سجایا ضرور تھا لیکن طرز اس دور سے لیا تھا جب خود مغلیہ تہذیب کا چراغ بجھا چاہتا تھا اور اس میں روشنی پھیلانے کی قوت باقی نہیں رہی تھی. متوازن و صحت مند تہذیبیں شمشیر و سناں اور طاوس و رباب میں ایک توازن قائم رکھتی ہیں اور جب یہ توازن باقی نہیں رہتا تو طاوس و رباب ساری زندگی پر حاوی ہو جاتے ہیں. اودھ کی نئی تہذیب کے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی. انگریزی سامراج نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور حفاظت کی ذمہ داری کا احساس دلا کر تھکی ہوئی تہذیبوں کی طرح، اسے صرف راگ رنگ سے لطف اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا. دیکھتے ہی دیکھتے راگ رنگ، لطف و مزہ، عیش پسندی اور اصراف بے جا کے رجحانات خواص و عوام تک پھیل گئے.

ماخوذ از؛ تاریخ ادب اردو جلد سوم، ڈاکٹر جمیل احمد جالبی، ص 74

۔۔۔مزید

سرسید اور اقبال

اقبال نے اپنے خطبات "اسلام میں مذہبی فکر کی تشکیل نو" میں سر سید کا کہیں ذکر نہیں کیا حال آں کہ فکر اقبال سر سید ہی کی فکر کا تسلسل ہے جس کے اثرات ان کی فکر و نظر پر بھی گہرے ہیں، اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ سر سید کی فکر جدید کی وجہ سے کفر کے جتنے فتوے سر سید پر علمائے دین نے لگائے اور جس شد و مد کے ساتھ ان کی مخالفت کی، اقبال نہیں چاہتے تھے کہ سر سید کا نام لیکر وہ علماء کو بیدار و متوجہ کریں اور لوگ ان کے جدید خیالات سے بر گشتہ ہو جائیں. انھوں نے خاموشی سے فکر سر سید کے تسلسل کو باقی رکھا اور اسے اپنی فکر اور علوم جدیدہ سے آگے بڑھایا. اپنے خطبات کی تمہید میں اقبال نے جس نقطہ نظر کو اجاگر کیا ہے، اس کے لئے زمین سر سید نے ہموار کی تھی. دونوں کا ماخذ مغرب کی فکر جدید ہے. اقبال کے بعد یہ تسلسل رک گیا اور اس کی وجہ یہ تھی مجاوران اقبال نے مدح سرائی کے علاوہ اقبال کے کسی نئے پہلو کو آگے بڑھنے نہیں دیا اور یہ فکر دو بارہ اجتہاد اور تشکیل نو سے ہٹ کر روایت اور تقلید کے دائرے میں پناہ یاب ہو گئی.

ڈاکٹر جمیل احمد جالبی، تاریخ ادب اردو، جلد چہارم، فصل سوم سر سید احمد خان، ص 822


۔۔۔مزید

ہم بیدار ہونے کا نہیں لیتے نام

ائے ہندی لوگو! جو ایمان لائے ہو ، جان لو کہ دو ہزار انیس کا الیکشن آنے والا ہے ۔ عنقریب تم دیکھوگے کہ بہت سے نکلیں گے اخبار اردو کے ، ہندی کے اور انگریزی کے ، ویب سائٹ بھی کئی رنگ کے نکلیں گے نئے ۔ خریدے اور بیچے جائیں گے بہتیرے لوگ ۔ تم ایسے لوگوں کو بھی عنقریب دیکھ لوگے جو چہرے رکھتے ہیں دو ، ایک دکھانے کے لئے تم کو اور دوسرا پردے کے اندر جس کے بارے میں تم نہیں جانتے ۔ اس وسیع آسمان کے نیچے محض اختر شماری میں تم ہو مصروف اور بہت سے خطرناک اجگر اور خونخوارکتے تمہیں محمود انداز لئے بھبھوڑنے کو بڑھ رہے ہیں آگے ، مگر تم بیدار ہونے کا نہیں لیتے نام ۔
محمد علم اللہ 



۔۔۔مزید

ملت ٹائمز اور ان کے با ہمت کارکنا ن کو سلام

ملت ٹائمز اور ان کے با ہمت کارکنا ن کو سلام
محمد علم اللہ

ادھر گذشتہ کئی دنوں سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ لوگ معروف نیوز پورٹل "ملت ٹائمز "کے خلاف اپنی ہرزہ سرائی اور زہر افشانیوں کا سلسلہ دراز کئے ہوئے ہیں ۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو جمہوریت ،اظہار رائے ، بولنے اور سوال کرنے کی آزادی پر پابندی لگا کر صحافت اور قلم کا گلا گھوٹنا چاہتے ہیں۔
برسوں سے انھوں نے یہی کام کیا ہے حق کی آواز کو مارنے اور سچ کی آواز کو دبانے کا ۔ انھیں لوگوں نے قوم کو تھپکی دے دے کر سلانے ، اپنے جھوٹے ، فرضی ،جذباتی اور خود ساختہ دین کے ذریعہ لوگوں کو حقیقت سے منحرف اورگمراہ کرنے کا کام کیا ہے تاکہ ان کی اپنی روزی روٹی اور دوکان چلتی رہے ۔
چونکہ اب ان کی دال گل نہیں رہی ہے ۔اور چند با حوصلہ اور باضمیر نوجوانوں نے ان کی چودھراہٹ اور خود ساختگی کو چیلنج کر دیا ہے تو ان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں اور ملت کے نام پر ضمیر فروشی اور سودا بازی کرنے والے افراد اس کو برداشت نہیں کر پارہے ہیں ۔
اس لئے وہ اپنے حوارئین اور لاو لشکر کے ساتھ ان باضمیر اور باحوصلہ حق و سچ گو صحافیوں اور قلم کاروں کے خلاف پل پڑے ہیں ۔ ایسے افراد جان لیں کہ ان کی ایسی گھٹیا حرکتیں اب چلنے والی نہیں ، اب عوام بھی بیدار ہو رہی ہے اور لوگوں کو حق اور سچ کا پتہ چلنے لگا ہے اور اسی لئے یہ بہروپیے تلملا رہے ہیں ، بقولِ حبیب جالب :
میرے ہاتھوں میں قلم ہے ، میرے ذہن میں اُجالا
مجھُے کیا دبا سکے گا ، کوئی نفرتوں کا پالا
مجھُے فکرِ امنِ عالم ، تجھُے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں ، توُ غروب ہونے والا
میں "ملت ٹائمز"اور ان کے با حوصلہ کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود قلم کی حرمت کو زندہ کرنے کا کام کیا ہے ۔

۔۔۔مزید

تنقید کیا ہے ۔۔۔

سچ بات کوئی نہیں سننا چاہتا ۔۔۔
محمد علم اللہ

کیا کسی جذبے کا اظہار،اختلاف یا تنقید محض گلستان میں کانٹوں کی تلاش ہے ۔۔۔؟

آپ کسی بھی اہل دانش سے دریافت کریں گے تو وہ یہی جواب دے گا کہ- ہر گز نہیں !

بلکہ وہ کہے گا کہ اسی کے ذریعے صحت کا معیار قائم ہوتا ، علم و تجربے کی قدر و حیثیت متعین ہوتی اور توانا معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔

لیکن ہمارے معاشرے کے کچھ عناصر کا حال یہ ہے کہ آپ ذرا ان کے مزاج کے غیر موافق بات کہیے خواہ وہ حقیقت ہی کیوں نہ ہو ،وہ آپ کے اوپر چڑھ دوڑیں گے ۔لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے، کچھ کر نہ سکیں گے تو چوراہے پر کھڑے ہو کر لعن طعن ، طنز و تشنیع اور سب و ستم کے تیر برسانے شروع کر دیں گے۔

ایسے ہی لوگوں کو افلاطون نے نرے جاہل اور سماج کا ناسور قرار دیا تھا ۔

۔۔۔مزید

کہانی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی

بڑوں کا بچپن
کہانی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی
ایک عزیز کے عزیز آنے والے تھے ،فون پر بات ہو گئی تھی، انھیں دو دن رکنا تھا، ان کی وجہ سے کل آفس سے چھٹی کے بعد میں کوچنگ پڑھانے نہیں گیا ،سیدھے کمرے آیا ،مجھے کچھ تاخیر ہو گئی تھی تو روم پارٹنر کو ریسیو کرنے کے لئے بھیج دیا،شام ناشتہ وغیرہ لیکر واپس لوٹا تو دوست نے بتایا کہ وہ ہوٹل چلے گئے ، میں نے وجہ دریافت کی تواس نے بتایا مجھے نہیں پتہ؟ بس ان لوگوں نے کہا ہم ہوٹل جا رہے ۔ میں نے انھیں فون کیا تو ادھر سے جواب ملا ہاں ہم ہوٹل چلے آئے انھوں نے کوئی وجہ نہ بتائی،شاید ان کو ہمارا غریب خانہ پسند نہیں آیا یا انھوں نے کمفرٹ محسوس نہیں کیا، ان کے اس رویہ پر مجھے غصہ تو آیا لیکن خوشی بھی ہوئی کہ چلو اچھا ہوا !جان چھوٹی ، دہلی جیسے شہر میں اپنا ہی وجود سنبھالنا مشکل ہوتا ہے، اب دوسروں کے نخرے کون برداشت کرے۔ 
میں دوبارہ خود کو معمول پر لاتے ہوئے چند فرلانگ پر واقع مرکزی مکتبہ کی لائبریری کی اور نکل آیا، مگر پڑھائی میں بالکل بھی جی نہیں لگ رہا تھا، ایسے ہی سر سری طور پر نظریں دوڑانے لگا تو میگزین کے شیلف میں ایک رسالہ پر نظر پڑی " جنت کے پھول"ایڈیٹر عنایت اللہ خان۔ واقعی پھولوں کی سی کشش لئے رسالہ کو اٹھا کر دیکھا تو "بڑوں کا بچپن " کے عنوان سے ایک خاص نمبر تھا،جس میں کئی اچھے لوگوں نے اپنے بچپن کی کہانی خوبصورت انداز میں بیان کی تھی ۔ مجھے آپ بیتیوں سے شروع سے دلچسپی رہی ہے سو اس کی ورق گردانی شروع کر دی ۔
اسی میں ایک کہانی معروف عالم دین ،متعدد کتابوں کے مصنف ، مترجم اور حکیم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کی بھی تھی، جو مزیدار ، دلچسپ اور معلوماتی کے ساتھ ساتھ عبرت آموز بھی تھی اور جس میں سیکھنے کے لئے یقینا بہت کچھ تھا ۔ کہانی پڑھتے ہوئے طبیعت کا سارا تکدر دور گیا۔ تو سوچا اسے احباب کی نذر بھی کرتا چلوں ۔
ڈاکٹر صاحب سے میری کئی ملاقاتیں رہی ہیں ، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ روزانہ ہی ایک دو مرتبہ آمنا سامنا ہو ہی جاتا ہے ۔اس کہانی کو پڑھنے کے بعدان کی شخصیت کے اور بھی کئی در وا ہوئے ، ڈاکٹر صاحب انتہائی مرنجان مرنج شخصیت ہیں،مجھے ان سے اس لئے بھی محبت ہے کہ ان سے ملاقات سے قبل ان کی شخصیت کا جو ہیولہ ذہن میں تھا، ملاقات کے بعد میں نے انھیں اس سے بالکل الگ پایا ۔
جب ہم مدرسے میں تھے تو ایک استاد نے درس کے دوران کہا تھا اصلاح اور فکر فراہی کے ہند میں تین دشمن ہیں ایک تابش مہدی دوسرے رضی الاسلام ندوی اور تیسرے برہان الدین سنبھلی، استاذ محترم نے تقریر کے دوران ان شخصیتوں کے کارناموں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ہم بھی انھیں قابل نفریں شخصیت سمجھتے رہے، مگر جب ان سے براہ راست ملاقات ہوئی تو یہ تاثر زائل ہو گیا اور ہم نے معاملہ بالکل اس کے بر عکس پایا۔ آخر الذکر سے تو اب تک ملاقات کی نوبت نہیں آئی ہے ، لیکن اول الذکر دونوں شخصیتوں کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے ، بلکہ رضی الاسلام ندوی صاحب سے جتنی مرتبہ بھی ملا علم و ادب کے نئے در وا ہوئے ،اور انھیں علم و عمل کا پیکر پایا ۔
بہرحال ان کی کہانی انھیں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں ۔ بقیہ باتیں پھر کبھی ۔۔۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

کہانی ڈاکٹر محی الدین غازی کی ۔۔۔

بڑوں کا بچپن
سیریز (2)
کہانی ڈاکٹر محی الدین غازی کی ۔۔۔
کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو پہلی ہی ملاقات میں اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں ، برادر بزگوار جناب ڈاکٹر محی الدین غازی بھی میرے لئے انھیں میں سےایک ہیں ،مجھے وہ ڈانٹتے بھی ہیں اور سرزنش بھی کرتے ہیں اور یقین جانئے۔۔۔ مجھے ان کا یہ انداز بڑا پیارا لگتا ہے ۔۔۔ ایک الگ قسم کی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے ۔
مدرسے میں غالبا عربی چہارم یا پنجم کا میں طالب علم تھا تب میری ملاقات غازی بھائی سے ہوئی ، میری کیا بلکہ انھوں نے ہی مجھ سے ملاقات کی ۔
قصہ کچھ یوں ہے ۔۔۔
مدرسۃ الاصلاح میں مرحوم اساتذہ سیمنار ہو رہا تھا۔ یہ طلباء سیمنار تھا ، جس کا سارا انتظام و انصرم ، دیکھ بھال ،مقالے اور پیپر طلباء کے ذمے تھے ۔اساتذہ کا کام نگرانی اور تربیت کا تھا۔ ڈاکٹر محی الدیں غازی ایک سیشن کی صدارت فرما رہے تھے ۔ ہم تو ازل کے شرارتی واقع ہوئے ہیں ۔ ایک طالب علم" مولانا امین احسن اصلاحی بحیثیت محدث " اپنا مقالہ پیش کر رہا تھا ، مقالہ ختم کرنے کے بعد جب سوالا ت کی باری آئی تو ہم نے مقالہ نگار کی وہ کھینچائی کی اور سوالات کے اتنے بوچھار کئے کہ وہ بوکھلا گیا ، اور پسینے سے شرابور اپنی جگہ جاکر بیٹھ گیا ۔بات آئی گئی ختم ہو گئی ہم اپنے شرارت میں کامیاب ہو گئے تھے ۔
پروگرام ختم ہونے کے بعد ، دوسرے دن بعد نمازِ فجر ڈھونڈھتے ،ڈھانڈھتے محی الدین غازی صاحب، ان کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی تھے جو اب مجھے یاد نہیں رہے، ہاسٹل کی اور آئے اور آخر کار مجھے پالیا ۔
علیک سلیک کے بعد غازی بھائی نے مجھ سے پوچھا !" کل جو تم نے سوالات کئے تھے ، کسی استاد نے بتایا یا تمہارے ہی تھے ؟ اور کیا تمہیں جواب مل گئے ؟" ۔
میں نے انھیں بتایا" نا کسی استاد نے مجھے سوالات بتائے تھے اور نا ہی مجھے اس کا جواب چاہئے ! مجھے تو جواب پتہ ہے ۔
پھر انھوں نے کہا !" اچھا ! ٹھیک ہے ۔۔۔ کیا پتہ ہے ذرا میں بھی تو جانوں ؟
میری جو سمجھ میں آیا میں نے بک دیا ، وہ مسکرائے اور کہا !" تمہاری بات بھی اپنی جگہ درست ہے لیکن اس کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے "اور ایک ایک نکتہ پر ایسی عالمانہ اور فاضلانہ گفتگو کی کہ ان کی شخصیت کی دھاک میرے ذہن میں بیٹھ گئی ۔ پھر ان سے کئی مرتبہ بلیریا گنج ، رانچی ، جھارکھنڈ اور پھر دہلی میں متعدد ملاقاتیں رہیں اور میں نے ہر مرتبہ ان کی شفقت و محبت سے شرابور ہوتا رہا ۔ وہ جب بھی ملتے اچھی اچھی کتابوں کے نام بتاتے اور مطالعہ وغیر ہ کے بارے دریافت کرتے ۔ مجھے ان کا یہ انداز بڑا بھاتا ۔ اب ان سے ملاقات کم کم ہی ہوتی ہے ۔ان دنوں غازی بھائی کلیۃ القرا ن ، الجامعہ الاسلامیہ کے صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہیں قیام پذیر ہیں ۔ 
کل ان کی ایک کہانی ایک جگہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ، اور یہ سب باتیں یاد آئیں تو سوچا لکھ دیا جائے ۔
اللہ ایسے مشفق و مہربان لوگوں کا سایہ تادیر قائم رکھے ۔
لیجئے آپ بھی ان کی کہانی پڑھئے انھیں کی زبانی ۔۔۔
محمد علم اللہ
فیس بک سے ۔۔۔
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=10209405293969617&set=pcb.10209405307649959&type=3&theater

۔۔۔مزید