منگل، 18 جولائی، 2017

چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا : ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہ

https://www.youtube.com/watch?v=qWroMXSftHo

چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا :
ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔

مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں اپنی بیٹی کے نام رخصتی ، جسے سن کر آپ روئے بغیر نہیں رہ سکیں گے:

منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور

ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔

मौलाना इनामुल्लाह रहमत नदवी की आवाज में अपनी बेटी के नाम विदाई, जिसे सुनकर आप रोए बिना नहीं रह सकेंगे:

मुंह में लूवाठी खोर गए बेटी, मुंह में लूवाठी खौरू

रिकॉर्डिंग और ऐडटिंग: मुहम्मद अलमुल्लाह ।

۔۔۔مزید

سوموار، 15 مئی، 2017

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ
محمد علم اللہ

گذشتہ دنوں ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کے یہاں جانا ہوا تو ان کے ڈیسک پر ایک انتہائی پر کشش اور دیدہ زیب کتاب پر نگاہ پڑی اور میری نظریں وہاں ٹک کر رہ گئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری دلچسپی دیکھ کر وہ کتاب میرے حوالے کر دی۔ یہ کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریروں پر مبنی اظہاریہ تھی۔ جس کا نام ہے ”منزل ما دور نیست“۔ گھر آتے ہی ورق گردانی شروع کی۔ ایک کہانی، دو کہانی، تین کہانی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا ایک رات میں تین سو پانچ صفحات پر مشتمل کتاب چاٹ ڈالی۔ کتاب اس قدر دلچسپ تھی کہ درمیان میں حاجت کو بھی روک دینا پڑا۔ یہ کتاب در اصل دینی مدارس سے فارغ طلباء کی داستان حیات تھی جسے انھوں نے خود رقم کیا ہے۔

کتاب کو پڑھتے ہوئے احمد فراز کی معروف نظم ”خواب مرتے نہیں“گردش کرتی رہی، جس میں احمد فراز نے کہا تھا : ”خواب مرتے نہیں/خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو/ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے/جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے/خواب مرتے نہیں/خواب تو روشنی ہیں/نوا ہیں ہوا ہیں/جو کالے پہاڑوں سے رُکتے نہیں/ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں/ روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلم/مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں/خواب تو حرف ہیں/خواب تو نُور ہیں/خواب سُقراط ہیں/خواب منصور ہیں/خواب مرتے نہیں“۔

اس کتاب کو ہم احمد فراز کے اس نظم کی شرح سے تعبیر کر سکتے ہیں جس میں کل 39 خوابوں کی روداد اور خود نوشت کہانیاں ہیں اور ہر کہانی ایک مکمل داستان ہے۔ جس میں درد ہے، کسک ہے، تڑپ ہے، احساس ہے۔ پاکیزہ جذبوں، آنسووں اور نیک تمناوں سے مزین یہ کہانیاں اس وجہ سے بھی دلچسپ اور معلوماتی ہیں کہ اس میں مدارس دینیہ سے فارغ طلباء کی داستان ہے جن کے بہت سارے خوابوں کو بچپن میں ہی کچل دیا جاتا ہے اور ایک مخصوص ذہن اور کینوس میں ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ دنیا دیکھتے ہیں اور ان کو اپنی اہمیت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے تو کیسے ان کے خواب زندہ ہو جاتے ہیں! اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وہ کس قدر بے قرار ہو جاتے ہیں! یہ کہانیاں مدارس سے فارغ طلباء کو اندھیرے میں اجالے کی نوید سناتی ہیں ۔ ان کے سوچ اور ذہن کے پردے پر کس قسم کی تہیں جمی ہوئی تھیں اور اس کو کیسے ان طلباء نے کھرچ کر پھینک دیا! کیسے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے ماننے والے ایک بینر تلے جمع ہو گئے! کیسے ان کے اندر دین، اسلام، انسانیت اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ (اسکول اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ طلباء کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر )جاگزیں ہوا! کیسے وہ مسلک اور فرقہ بندی کے قیودسے آزاد ہو کر“ ان الدین عند اللہ الاسلام“ کی تعبیر بننے کے لئے کوشاں ہوگئے! یہ کتاب یہ سب ایک دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے۔

کہانی کاروں میں محمد تمیم، اظہر احسن، محمد اسمعیل، نعیم احمد، شرافت حسین، محمد ارشد، محمد عظیم، فاطمہ اسعد، عتیق الرحمان، فرخ لودی، محمد سلمان، ابرار عادل، فرحانہ ناز، اجمل حسین، محمد اسلم، نہال احمد، مشیر احمد، عمیر خان، رقیہ فاطمہ، روشنی امیر، محمد عادل خان، ساجد علی، اصلاح الدین، عبد الاحد، عمر شمس، فہیم اختر، محمد ثوبان، نعمان اختر، اشتیاق احمد ربانی، محمد نثار احمد، محمد فرمان، نہال احمد، عبد الرقیب انصاری، محمد عدنان، ابو اسامہ، محمد اسلم، توصیف احمد، محمد منفعت اورسلیم الٰہی کے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے مقتدر اداروں مثلا ند وۃ العلماء، دار العلوم دیوبند، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الصالحات رامپور، جامعہ حفصہ للبنات لکھنو وغیرہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

بیشتر طلباء کا تعلق یوپی اور بہار کے ان دور افتاد اور پسماندہ علاقوں سے ہے، جہاں کے لوگ شاید ہی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں یا اپنے سپوتوں کو کچھ بڑا بنانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اگر بھولے سے کبھی ان کے ذہن میں ایسا کوئی خیال پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ اس کو وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے کچل دیتے ہیں۔ بعض کہانیاں اس قدر دلدوز اور جذباتی ہیں کہ آپ کے آنکھوں میں آنسو آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان میں سے کسی نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا ہوا ہے تو کوئی آئی اے ایس افسر بننے کا متمنی ہے۔ کوئی محقق، کوئی لیڈر تو کوئی قانون داں اور سماجی کارکن بن کر قوم و ملت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔ مدارس سے پڑھنے کے بعد یہ طلباء اپنے خواب کو شر مندہ تعبیر نہیں کر سکتے تھے لیکن اب ان کے لئے راہیں ہموار ہو گئی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ طلباء تو ملک کی معتبر یونیورسٹیوں میں اچھے کورسوں میں داخلہ پانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔

کہانی کا انداز انتہائی سادہ اور دلچسپ ہے جو کہ نوجوانوں کےقلم، ان کی سوچ اور فکر کو ہی نہیں درشاتا بلکہ بتاتا ہے کہ یہ بہت اونچی اڑان کا خواب دیکھنے والے نوجوان ستاروں پر کمندیں نہ بھی ڈال سکیں تو کم از کم وہاں کی سیر تو کر ہی آئیں گے۔ نوجوانوں کا فطری انداز صرف قاری کو جذباتی ہی نہیں بناتا ہے بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے خواب اور یونیورسٹی آنے سے قبل اور بعد کی داستان آپ کو مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔ ایک جگہ ایک طالب علم محمد اسماعیل انگریزی نہ جاننے اور محفل میں اس سے انگریزی میں سوالکیے جانے پر کیسے اپنے راز کو افشاء نہیں ہونے دیتا، اس بارے میں وہ بتاتا ہے : ”باہر چند کر سیاں پڑی ہوئی تھیں، جن پر لوگ سلیقے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ دیکھنے ہی سے معلوم ہوتا تھا کہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ چونکہ میری بچپن سے عادت رہی ہے کہ جہاں پڑھائی لکھائی کی بات ہوتی وہاں میں ضرور بیٹھتا تھا۔ لہذا میں نے بھی اپنی کرسی کو جنبش دی اور ان کے قریب ہو لیا۔ وہ لوگ آپس میں کسی موضوع پر بات کر رہے تھے اور درمیان میں انگریزی کے الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے، اس وجہ سے مجھے پوری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ خیر میں اس وجہ سے ہاں میں ہاں ملاتا جا رہا تھا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ آخر ایک صاحب نے Where are you from؟ کہ کر میری پول کھولنے کی کوشش کر ہی ڈالی، لیکن میں بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، آخر مولوی طبقے سے تعلق رکھتا تھا! چچی کے بلانے کا بہانہ کیا اور وہاں سے کھسک لیا۔ اس دن تو میری عزت کسی طرح بچی لیکن جو صدمہ میرے دل پر لگا وہ بہت گہرا تھا اور میں نے اسی دن سے پکا ارادہ بنا لیا کہ میں عصری تعلیم ضرور حاصل کروں گا“۔

اس طرح کے سینکڑوں ، دلچسپ، علمی، معلوماتی اور جذباتی خوبصورت شہ پارے پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں، جس سے نئی نسل کی فکر، سوچ اوراس کے رویے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مدارس اور جدید دانش گاہوں کے درمیان دوری اور کھائی پر کرب کا اظہار کرتے ہوئے ایک طالب علم محمد تمیم سوال کھڑے کرتے ہیں اور علی گڑھ کے اپنے اساتذہ کے بارے میں بتاتے ہیں: ”یہ بہترین اور اعلیٰ قسم کے دماغ جو موجودہ دور کے تمام جدید علمی ہتھیاروں سے لیس اور اسلامی جذبات سے سر شار، اپنی صلاحیت، اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے قربان کرنے کو تیار کھڑے ہیں، مگر یہ سب کے سب ہمارے تقدس اور دینی و دنیوی علوم کی تفریق کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ دنیا کا باشندہ سمجھتے ہیں اور اپنے انداز، لب و لہجے، تہذیب و تمدن اور لائف اسٹائل ہر چیز میں اگر ہم سے الگ کھڑے نظر آتے ہیں تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ حضرات ہمیں اس قدر تقدس کا حامل سمجھتے ہیں، پر کیا ہم نے انھیں کبھی گلے لگانے اور مدرسے میں آنے کی دعوت دی؟ اب معاملہ روز بروز بد تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم لاکھ اسلام کی غلبے کی دعا کرتے ہیں، مگر اپنے عمل سے بالکل اس کا الٹا کرتے ہیں، کہیں بھی دور دور تک کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس سے اسلامی نظام کے برپا ہونے کی امید کی جا سکے اور طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اوپر سے اہل مدارس اسلام کے تحفظ کے نام پر اسلام کے گرد گھیرا اور تنگ کر رہے ہیں“۔

ایک طالبہ فاطمہ اسعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی اور داخلہ وغیرہ کی کارروائی کے بعد ہاسٹل چھوڑ کر اس کے والد جانے لگے تو اس نے کیسا محسوس کیا، اس کا منظروہ کچھ اس طرح جذباتی انداز میں بیان کرتی ہے : ”یہ کیا؟ والد کی آنکھوں میں آنسو؟ یہ میرے لئے نہات حیران کن بات تھی۔ آج تک اتنی بڑی ہو گئی مگر کبھی والد کو اتنا کمزور نہیں پایا تھا۔ نہ جانے کیوں آنسو خود بخود آ گئے تھے اور اس بات کی دلیل دے رہے تھے اور مجھے احساس کرا رہے تھے کہ یہ آنسو ایک بیٹی کے لئے ہے جو ان کے لئے ایک بیٹا ہے اور ان کا فخر، ان کا غرور۔ جب میری طرف سے انھوں نے اپنی آنکھیں پھیر دیں تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا، کہیں میرے آنسو ان کے پیروں کی بیڑیاں نہ بن جائے۔ وہ آخری وقت جب والد نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا جاؤ اندر!بس اتنا ہی کہا، نصیحت بھی نہیں کی۔ یہ کیا کہوں میں؟ شاید ان کی آواز بھرا سی گئی یا ان کو مجھ پر خود سے سکھانے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ “۔

غازی پور کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی فرحانہ ناز کی کہانی کافی دلپذیر ہے۔ وہ کہتی ہے : ”بچپن کے اس لمحے کو یاد کرکے آنکھو ں میں آنسو بھر لاتی ہو ں جب میں ڈاکٹر کی ڈریس پہن کر کھیلتی تھی۔ میرے آس پڑوس کے لوگ مذاق مذاق میں کہتے کہ یہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی۔ لیکن میں جانتی تھی کہ یہ نا ممکن ہے۔ اپنے ماحول کو دیکھتی پھر کالج کی پڑھائی۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اللہ پاک کا ہم پر کرم تھا کہ ہم فضیلت ایک ہاسٹل میں رہ کر کر رہے تھے۔ اور میں نے وہاں پر بی یو ایم ایس کی کتابیں خرید کر چوری چوری پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ جب ہاسٹل میں کسی لڑکی کو سر درد ہوتا یا بخار ہوتا تو ہم اسے دوائی دے دیتے تھے۔ جب مدرسہ کی چھٹی ہوتی تو میں مطالعہ کے درمیان، جب دوسری لڑکیاں کھیل رہی ہوتیں یا بات کر رہی ہوتیں، تو میں یہ سب سیکھتی اور میں نے ڈھیر ساری کتابیں اپنی جیب خرچ سے خریدی تھیں۔ میرے استاد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی اور کہا : تم ضرور کامیاب ہوگی انشاء اللہ۔ اور میں نے پاپا کو اگلے دن سب بتا دیا۔ میرے پاپا مجھے پڑھانا تو چاہتے تھے لیکن پیسے کی کمی تھی کہ اتنا خرچہ ہوتا تھا گھر کا اور میرے بھائی لوگوں کی پڑھائی پر اور میرے چچا زاد بھائی بہن بھی پڑھ رہے تھے، اس لئے اتنا پیسہ نہ تھا کہ ہم کالج میں پڑھائی کر سکیں۔ اس کے بعد گاؤں میں آہستہ آہستہ پڑھانے اور پڑھنے کا رواج عام ہو گیا۔ جو لوگ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے تھے وہ اب انھیں پڑھانے لگے۔ اور میں نے اپنے ایک استاد کی مدد سےایک اسکیم چلائی۔ گھر گھر میں دوائی سپلائی کرائی۔ اور ہر گھر میں مجبوری کے تحت جن دواوں کی ضرورت ہوتی ان کو رکھوایا۔ میرا محلہ مجھے ڈاکٹر بٹیا کہنے لگا۔ اس کے بعد میرے انھیں استاد نے اخبارات میں میرے لئے کھوج شروع کر دی۔ لیکن میری مارک شیٹ کوئی کالج نہیں مانتا تھا۔ پھر بھی ہم نے ہمت نہ ہاری اور برابر اپنی کوشش جاری رکھی۔ اب میرے ساتھ پورا گاؤں تھا“۔

ایک اور طالبہ رقیہ فاطمہ، جس کا تعلق اتر پردیش کے ایک قصبہ لونی سے ہے، اپنی داستان سناتے ہوئے کافی پر عزم ہے۔ وہ کہتی ہے: ”انسانیت جس کرب سے کراہ رہی ہے اسے نجات دلانے کی فکر عمر کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اسلام نے جو حقوق دیے تھے مسلم خواتین کے اعتبار سے اس کو معاشرہ نے چھین لیا۔ مسلم خواتین کو پبلک اسپیس سے بے دخل کر دیا اور گھر کو محدود دائرہ کار بتا کر گھروں میں بند کر دیا۔ حالانکہ عورتوں کا دائرہ کار اگر صرف گھر ہوتا تو ہماری تاریخ میں عورتوں کے جو نام ملتے ہیں وہ نہ ملتے۔ اب برج کورس اس پر کام کر رہا ہے کہ مسلم خوتین کی بھی ایک نئی نسل سامنے آئے جو اسی رول کو زندہ کرے جو کہ صد ر اول کی مسلم خواتین نے کیا۔ لہذا سماجی و فلاحی کاموں کا حصہ بن کر سماج کی انسانیت کی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں ”۔

میں نے یہاں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر محض چند اقتباسات پر ہی اکتفا کیا ہے، ورنہ پوری کتاب میں ایسے بے شمار واقعات، حالات اور رویوں کا ذکر ہے جس سے جوجھتے لڑتےیہ طلباء اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے علی گڑھ پہنچے جہاں انھیں اپنی منزل کی مراد ملتی نظر آئی۔ طلباء کے اس لازوال خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنا برج کورس جو معروف مفکر، عالم دین، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر راشد شاز کی تمناوں کا مرکز ہے، جسے انھوں نے سوچا اوراپنے خون جگر سے سینچا ہے۔

کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہی پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ معروف عالم دین اور جدید مسلم مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی نے پیش لفظ لکھا ہے جس میں انھوں نے کتاب کے منصہ شہود پر لانے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”برج کورس اب طلباء کے مضامین کے اس مجموعہ کو شائع کر رہا ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے خود ان طلباء کی زبانی برج کورس کی افادیت، اس کی یافت اور اس کے امکانات کی ایک جھلک حقیقی پس منظر کے ساتھ آ جائے اور برج کورس کے بارے میں جو معاندانہ پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے باعث کچھ حلقے اس کے بارے میں تشویش بے جا کا شکار ہو گئے ہیں اور مدارس اور علماء کے حلقوں میں جو بے جا تحفظات پائے جاتے ہیں ان کا ازالہ ہو سکے اور ان کی غلط فہمیاں اور خدشات دور ہو جائیں“۔ کتاب کی اشاعت کا اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےمرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ِ ہند نے کیا ہے۔ کتاب عمدہ موٹے کاغذپر مجلد شائع کی گئی ہے۔

http://www.humsub.com.pk/63728/طلبائے-برج-کورس-کی-خود-نوشت-تحریریں-ایک/

۔۔۔مزید

سوموار، 6 مارچ، 2017

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت
محمد علم اللہ ٭

اور عدالت کے ایک کونے میں پڑے سید شہاب الدین نے اپنی کھانسی سے دستک دی۔ جو انڈین مسلم نہیں ’’مسلم انڈیا‘‘پرچہ نکالتے تھے اور اپنی ’’انصاف پارٹی‘‘کی لاش سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ عدالت نے شہاب الدین سے پوچھا: ’’ تم یہاں کیسے؟ ‘‘۔ ان دنوں میری حالت مردوں سے بدتر ہے، مجھے کچھ کہنا ہے! اتنا کہہ کر سید شہاب الدین پھر کھانسنے لگے۔ عدالت کھانسی کا جواب نہیں دیتی۔ لیکن اس کھانسی میں بیماری کے جراثیم تھے۔ اس لئے یہ کھانسی بھی دستک بن گئی تھی۔ لیکن دستک کی آواز کون سنتا؟ ۔ دستکیں تو در کھلنے کی آس پر دی جاتی ہیں۔ روشن دلوں پر دی جاتی ہیں۔ جہاں سبھی بہرے ہوں۔ وہاں دستک کون سنتا ہے؟ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ؟ لیکن جب اپنے بھی نہ سنتے ہوں تو۔ اس نے وہیں دم توڑ دیا!

سید شہاب الدین کے انتقال کے فوراً بعد فیس بک پر تحریر کردہ میری یہ تحریر کیا محض ایک شخص کی کہانی ہے یا صدیوں کی کہانی؟ حقیقت تو ایک بے لاگ تجزیہ نگار یا مورخ ہی بتائے گا، لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہی ہے کہ سید شہاب الدین کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سید شہاب الدین تعریف وتنقید کے درمیان، مسلم سیاسی شعور کی بیداری، شرکت اور تقویت کے لئے سرگرم رہے۔ ان کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن ان کے اخلاص، بے باکی اور ملک و ملت سے بے پناہ محبت کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کام کرنے والوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن آخری دنوں میں قوم نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا، وہ بھی انتہائی افسوس اور ماتم کے لائق تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہم شخصیتوں کی خدمات کا اعتراف ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کرتے ہیں، سید شہاب الدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ بھی ہماری مردم خور قوم کے ساتھ آخر وقت تک انھیں کے لئے لڑتے لڑتے ہمیشہ ہمیش کی نیند سو گئے۔

جمعرات، 27 نومبر، 2014 کی وہ شام آج بھی مجھے یاد ہے جب میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گلابی سردیوں کی ایک معمول سی شام۔ انتقال کے بعد ان سے متعلق کچھ لکھنے کا سوچا تو بے شمار چیزیں یاد آئیں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ میری ان سے بہت زیادہ آشنائی نہیں تھی لیکن مشاورت کے بارے میں تحقیق کے دوران جب ان کی چیزوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اس صدی کے جناح، اقبال اور ابوالکلام آزاد سے کم نہیں ہیں۔ ان کی تحریروں میں سب سے پہلے مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا۔ اس رسالے کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی۔ مگر پھر جلد ہی یہ مژدۂ جاں فزا بھی ملا کہ وہ اسپتال سے گھرواپس آگئے ہیں اور پھرموصوف مشاورت کے آفس بھی باضابطہ آنے بھی لگے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔

اسپتال سے واپسی کے بعد میں نے ان سے ملنے کا پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میں ان کے کام میں حارج ہوجاؤں اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں۔ اور پھر ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘کی جانب سے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کوکہا گیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیاتھا۔ سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کیے تھے۔ اس کا درست اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا، اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے۔

ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’عالمی سہارا‘ کی جانب سے اس موضوع پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا گیا تو براہ راست سید شہاب الدین سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ایک صبح مشاورت کے دفترپہنچ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے۔ مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔

ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی! تشریف رکھیے! ‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی۔ میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ حکم ہوا:۔ ’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے، میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا، مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلندآواز سے بولنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘۔ میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا، لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا اوراپنا سوال لکھ کر بڑھا دیا۔ انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زورسے ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے۔ جواب کیا تھے بس علم، تاریخ، زبان، سیاست، قیادت، ثقافت کا مرقع تھے، میرا اشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کرتے جا رہے تھے۔ اندازِتخاطب انتہائی دلچسپ اور شاندار تھا اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں، جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں، لیکن اس کا وقت نہیں تھا۔

آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں، یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں اُن کے پاس گیا تھا وہی نکتہ پیش نظر تھا۔ یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمے کا موضوع۔ اس سے متعلق تحریرعالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آچکی ہے جس کا مکرر تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں۔

اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کیے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کیے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا ’’آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں، کاش آپ میری بات سن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ اس پر وہ مسکرائے اور کہنے لگے :’’ ارے نہیں بھائی! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے۔ میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی، آپ کو کیا کیا بتاؤں، اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔

میں نے سید صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں۔ ابھی کچھ مصروفیات ہیں۔ ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا۔ ’’میں نے جلدی سے ایک اورکاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں۔ آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی کہنے لگے :’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں‘‘۔ پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’آہا! وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا، آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سروسز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا۔ میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کا تو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا۔ وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘۔

(ہنستے ہوئے! ) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی۔ اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے۔ اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھاوہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )‘‘انگریزی سمجھتے ہیں ناں؟ ’’میں نے کہا: جی! ۔ اچھا تو پنڈت جی نے لکھا :

I know I have met Shahabuddin. His participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.

یعنی’’ انہوں نے یہ کام جوانی کے جوش میں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘۔ اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے انہیں بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشانات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں۔ تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھئے بھائی! دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘، پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘‘۔ اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کارروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘، کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ! واپس جاؤ! تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے، کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیس کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولیس کی غلطی پائی گئی تو اس کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں۔ (پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں، بجائیے تالیاں ‘۔ (ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :

سید شہاب الدین نے پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔ ’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھرپراُن کے ساتھ کھانا کھانے کا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے۔ اور مدعو لوگوں کے ساتھ میں بھی تھا پنڈت جی کے ساتھ، تو میرے کندھے پر انہوں نے ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :

‘‘You are that mischievous boy from Bihar’’

’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے۔ پیار سے کہا انھوں نے۔ عجیب و غریب انسان تھا وہ۔ ‘‘

ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے۔ ’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔ پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں۔ بہت کام کر لیا، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا۔ اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! اگر تومیری زندگی اوررکھنا چاہتا ہے تو مجھے طاقت دے کہ میرا جو بکھرا ہوا کام ہے، اس کو پورا کر سکوں۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو’ اداریہ ‘ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا۔ اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘

پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔ میں نے ایک چھوٹی سی شکریے کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دی۔ وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیے اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمری میں بھی کام کا انہیں بے حد احساس ہے۔ کس کے لئے کام؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ افسوس آج وہ مرد درویش نہ رہا جس کی سوانح لکھنے کی میری تمنا پوری نہ ہوسکی اور خود ان کی خواہش بھی ان کے سینے میں ہی دفن ہوگئی۔

٭ محمد علم اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں ۔

۔۔۔مزید

ہفتہ، 1 اکتوبر، 2016

تنقید کی میعاد زیادہ نہیں ہوتی


محمد علم اللہ 
مشاورت کی تاریخ پر لکھی جا رہی کتاب میں ایک جگہ استادمحترم ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے بحث جاری تھی ، میرا کہنا تھا ۔ 
" میں تاریخ لکھ رہا ہوں اور اگر ہمارے بزرگوں نے ایسی کوئی غلطی کی ہے تو لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے ، تاکہ آنے والی نسلیں اس کا اعادہ نہ کریں "۔ 
استاد محترم نے کہا " ٹھیک ہے آپ لکھئے پھر دیکھتے ہیں" ۔
میں نے اپنے مخصوص انداز میں مع حوالہ و دلیل تحریر مکمل کیا ،اور درست بات تو یہ ہے کہ سب کو اکھاڑ پکھاڑ کر رکھ دیا ۔
استاد محتر م نے باریکی سے تحریر کا مطالعہ کیا ، دوسرے روز مجھے بلا کر کافی دیر تک سمجھاتے رہے ، اور کہا "آپ ا س کو دوسرے انداز میں بھی لکھ سکتے تھے " ۔
اور پھر آگے انتہائی ناصحانہ انداز میں کہا جو مجھے آج اچانک پھر یاد آ گیا ۔
" تنقید کی مدت زیادہ دنوں باقی نہیں رہتی ، زیادہ سے زیادہ آپ جس پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ان کے دشمنان خوش ہوتے ہیں یا ایک مخصوص حلقہ اس سے دلچسپی لیتا ہے ، پھر لوگ بھول جاتے ہیں کہ آپ نے کچھ لکھا بھی تھا ، مثال کے طور پر آپ عامر عثمانی کی تجلی کو دیکھئے ، ان کا لہجہ کیسا کانٹے دار تھا ، متعدد لوگ اس کو دلچسپی سے پڑھتے ، لیکن اس کا حلقہ محدود تھا ، آج عامر عثمانی کو کتنے لوگ جانتے ہیں ؟۔ جبکہ اسی عہد میں لکھنے والے سینکڑوں نام ایسے ہیں جنھیں آفاقی حثیت حاصل ہے "۔
ظاہر ہے مزید بحث کی میرے پاس گنجائش نہیں تھی ، کتاب چھپی ، اشاعت سے قبل جن بزرگوں کے پاس نظر ثانی کے لئے کتاب گئی ، سب نے اس کو سراہا ،آج ایک اور بزرگ نے فون پر گفتگو کی ، مبارکباد دیا اور کافی دیر تک میری اور کتاب کی تعریف کرتے رہے ۔میں سمجھتا ہوں اس میں میرا کچھ بھی کمال نہیں تھا ، بس اللہ کو ایک کام لینا تھا سو مجھ حقیر کے ذریعہ لیا ،تاہم کتاب میں کچھ بھی اچھائی ہے تو اس کا سارا کریڈٹ استاد محترم کو ہی جاتا ہے جنھوں نے اس قدر دلچسپی سے میری رہنمائی فرمائی ، اللہ ان کا سایہ تادیر قائم رکھے ۔

۔۔۔مزید

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ بہرحال میرے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ تبصرہ نگار کا نام نہیں دیا ہے ، لیکن تبصرہ کے نیچے ع ص لکھا ہے ، یعنی محترم جناب عمیر الصدیق ندوی صاحب نے یہ تبصرہ کیا ہے ۔ میری کبھی ان سے نہ بات ہوئی اور نہ ملاقات ،مگر عمر کے تعلق سے ان کے اندازہ سے مجھے حیرانی ہوئی ۔بہرحال میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انھوں نے کتاب پڑھی اور تبصرہ بھی کیا ۔ جزاکم اللہ احسن ۔

۔۔۔مزید

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط سے ایک اقتباس

آج میں آپ کو دو مزید باتیں بتاتا ہوں ۔ ستم طریفی ۔ آپ اس کے اثر میں نہ آئیں ۔ خصوصا اس وقت تخلیقی لمحات میں نہ ہوں ۔ ہاں جب آپ اپنے تخلیقی لمحات میں ہوں تو اسے زندگی پر گرفت حاصل کرنے کے ایک ذریعہ طور پرلیں ، اگر اسے صدق دلی سے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مثبت رویہ ہے اور اس کے استعمال پر کسی قسم کے خلجان میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن اگر آپ کو لگے کہ کچھ زیادہ ہی اس میں الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو پھر سنجیدہ چیزوں کی جانب متوجہ ہوں جس کے سامنے یہ انتہائی حقیر اور بے بس شئے ہے ۔ چیزوں کی گہرائی تک پہنچیں ، اور جب اس طرح آپ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا یہ ستم ظریفانہ رویہ آپ کی کوئی فطری ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ سنجیدہ باتوں کے زیر اثر یا تو یہ اگر محض اتفاقی ہے آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور یا اگر واقعی آپ کا فطری رویہ ہے تو یہ ایک مضبوط آلہ کار بن جائے گی اور ان اجزا میں شامل ہو جائے گی جن سے آپ اپنے فن کو سنوار سکتے ہیں ۔
Today I would like to tell you just two more things:
Irony: Don't let yourself be controlled by it, especially during uncreative moments. When you are fully creative, try to use it, as one more way to take hold of fife. Used purely, it too is pure, and one needn't be ashamed of it; but if you feel yourself becoming too familiar with it, if you are afraid of this growing familiarity, then turn to great and serious objects, in front of which it becomes small and helpless. Search into the depths of Things: there, irony never descends and when you arrive at the edge of greatness, find out whether this way of perceiving the world arises from a necessity of your being. For under the influence of serious Things it will either fall away from you (if it is something accidental), or else (if it is really innate and belongs to you) it will grow strong, and become a serious tool and take its place among the instruments which you can form your art with.
You must pardon me, dear Sir, for waiting until today to gratefully remember your letter of February 24. I have been unwell all this time, not really sick, but oppressed by an influenza-like debility, which has made me incapable of doing anything. And finally, since it just didn't want to improve I…
CARROTHERS.COM


۔۔۔مزید

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط سے ایک اقتباس

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط کا مطالعہ جاری ہے ۔رلکے کی پیدائش 4 ستمبر 1875 میں پراگ میں ہوئی تھی ۔ رلكے کو جرمن زبان کے معروف شاعراور ادیب کے طور پرجاناجاتا ہے۔ جرمن اور فرانسیسی زبانوں کےماہر رلكے نے جدید زندگی کی پیچیدگیوں کی عکاسی اپنے مخصوص انداز میں خوبصورتی سے پیش کی ہے ۔ چند اقتباسات کا ترجمہ ملاحظہ فر مائیں ۔
علم
ادبی تنقید کا جہاں تک ممکن ہو کم مطالعہ کریں ۔ ایسی چیزیں تو یک رخی ہوتی ہیں یا زندگی سے عاری اور پتھر کی طرح بے جان یا پھر محض لفظوں کی پوٹلی جن میں آج ایک نظریہ حاوی ہوتا ہے کل کوئی اور نظریہ جگہ لے لے گا ۔ فن پارے انتہائی انفرادیت کے حامل ہوتے ہیں اور تنقید ان کو سمجھنے کا محض ایک ادنی ذریعہ ہے ۔ صرف محبت انھیں سمجھ سکتی ہے، ان کی گرفت کر سکتی ہے اور ان کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے ۔ ہر دلیل ، ہرحجت اور ہر بحث کے متعلق آپ صرف خود اپنے آپ کو اور اپنے احساس اور ضمر کو درست تصور کریں ۔ اگر آپ پر غلطی واضح ہو جائے تو یہ آپ کی باطنی زندگی کو فروغ دینے کے علاوہ آپ کو نئی بصیرتیں عطا کرے گا ۔ اپنے نظریات کو اطمینان اور سکون کے ساتھ فروغ پانےدیجئے جو ہر ارتقائی عمل کی طرح دل کی گہرائیوں سے وا ہوتے ہیں ۔ اور جنھیں نہ زبردستی بڑھاوا دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نہ کسی اور ذریعہ سے اس میں افزودگی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ ہر عمل ایک تخلیقی عمل ہے، ولادت ہے ۔
احساس کے ہر نقش اور عنصر کی تشکیل کرنا اسے پایہ تکمیل کو پہنچاتا ہے ۔ وہ جو پوشیدہ ہے ، جو ناقابل بیان ہے شعور سے پرے ہے ، جس کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی تخلیق کا صبر سے عاجزی کے ساتھ انتظار کرنا ، واضح کرنا ، یہی ایک فنکار کی زندگی ہے کہ تخلیقی عمل کے ذریعہ وہ حقیقت کا ادراک کرتا ہے ۔
یہ گھڑیوں کو ناپنے کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہاں وقت کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ایک فنکار کے لئے دس برس کوئی چیز نہیں ۔ ایک فنکار بننے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس کو حساب کتاب میں مقید کر دیا جائے ۔ مگر ہاں ایک درخت کی طرحاسے پھلنے پھولنے کا موقع دیناچاہئے اس کو زبردستی بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔بلکہ ایسا بننا بہار کے طوفانوں کو بھی وہ اعتماد کے ساتھ جھیل سکے ، اسے اس بات کا خوف نہ ستائے کہ اس کے بعد موسم گرما آ جائے گا ۔اسے تو آنا ہی ہے ، مگر صرف اس کے لئے جس کے اندر صبر اور تحمل کا مادہ ہو ۔ جوایسے بے نیازی سے ، اطمینان اور وسعت کے ساتھ ہو جیسے کہ ہمیشگی اس کے سامنے ہو ۔ میں روزانہ اپنی زندگی میں اس کو سیکھتا ہوں ۔ درد اور کسک کے ساتھ اس کو سیکھتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ صبرایک بہت بڑی نعمت ہے ۔
Read as little as possible of literary criticism. Such things are either partisan opinions, which have become petrified and meaningless, hardened and empty of life, or else they are clever word-games, in which one view wins , and tomorrow the opposite view. Works of art are of an infinite solitude, and no means of approach is so useless as criticism. Only love can touch and hold them and be fair to them. Always trust yourself and your own feeling, as opposed to argumentation, discussions, or introductions of that sort; if it turns out that you are wrong, then the natural growth of your inner life will eventually guide you to other insights. Allow your judgments their own silent, undisturbed development, which, like all progress, must come from deep within and cannot be forced or hastened. Everything is gestation and then birthing. To let each impression and each embryo of a feeling come to completion, entirely in itself, in the dark, in the unsayable, the unconscious, beyond the reach of one's own understanding, and with deep humility and patience to wait for the hour when a new clarity is born: this alone is what it means to live as an artist: in understanding as in creating.
In this there is no measuring with time, a year doesn’t matter, and ten years are nothing. Being an artist means: not numbering and counting, but ripening like a tree, which doesn’t force its sap, and stands confidently in the storms of spring, not afraid that afterward summer may not come. It does come. But it comes only to those who are patient, who are there as if eternity lay before them, so unconcernedly silent and vast. I learn it every day of my life, learn it with pain I am grateful for: patience is everything!
You gave me much pleasure, dear Sir, with your Easter letter; for it brought much good news of you, and the way you spoke about Jacobsen's great and beloved art showed me that I was not wrong to guide your fife and its many questions to this abundance.
CARROTHERS.COM


۔۔۔مزید

مولانا احتشام اصلاحی


محمد علم اللہ 
کے بعد ان کے اوپر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک واقعہ ذہن میں گھوم گیا ، اور اس کا پورا پس منظر کسی فلم کی طرح ذہن کے اسکرین پر چلنے لگا ۔ ہم غالبا عربی چہارم میں تھے مولانا ایوب اصلاحی صاحب قران پڑھا رہے تھے ، بغل والے کلا س میں مولانا احتشام صاحب عربی نحو و ادب پڑھا رہے تھے ۔ ایک اور سیکشن میں مولانا فیض احمد اصلاحی عربی انشاء پڑھا رہے تھے ۔ اچانک طلباء کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ۔روئی کے گالوں کی دھنائی کے وقت جو آواز آتی ہے ، ہم سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں ، شٹاک شٹاک کی آواز تیز ہوتی جاتی ہے ،ہم سب طلباء سہم جاتے ہیں ۔ مولانا ایوب صاحب پوچھتے ہیں یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ۔ دیکھو کیا ہو رہا ہے؟ ۔ایک طالب علم خوف زدہ انداز میں بتاتا ہے ، مولانا فیض صاحب طلباء کی پٹائی کر رہے ہیں ۔مولانا ایوب صاحب قران پڑھانا چھوڑ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، اور تیزی سے تقریبا دوڑتے ہوئے دوسری کلاس کی طرف بڑھتے ہیں ، مولانا کے ساتھ ہم سب یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ مولانا فیض اصلاحی صاحب کی چھڑی فضا میں معلق ہے ، ان کا چہرہ شر مندگی ، غصہ اور پسینے سے شرابور ہے ۔ ایک طالب علم کے ہاتھ کے اوپر مولانا احتشام الدین اصلاحی ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں، مارنا ہی ہے تو مجھے مار لو! مگر اللہ کے واسطے ان بچوں کو چھوڑ دو ۔اس واقعہ کے بعد مولانا فیض احمد اصلاحی نے طلباء کو پٹائی کرنا چھوڑ دیا ۔چھڑیوں کی اس اندھا دھُند فائرنگ میں خود استاد محترم فیض احمد اصلاحی کے صاحبزا دے بھی شدید زخمی ہوئے تھے ۔یہاں پر یہ بتاتا چلوں کے مولانا کو اس قدر شدید غصہ کیوں آ گیا تھا اعراب میں طلباء نے غلطی کر دی تھی ۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

دی روڈ ٹو مکہ سے ایک اقتباس

قاہرہ کے سب سے پرانے شاپنگ سینٹر ماوسکی اسٹریٹ کی بھیڑ باڑ سے نکل کر ہم اپنے چھوٹے سے احاطہ میں پہنچے۔ اس کی ایک طرف الازہر مسجد کا چوڑا سیدھا ماتھا تھا ۔ ایک دوہرے گیٹ اور سایہ زدہ پیش دالان سے گذر کر ہم مسجد کے صحن میں آئے ۔ قدیم محرابی راہداریوں میں گھرا ہوا چو کور احاطہ ۔لمبے گہرے رنگ کے جبوں اور سفید پگڑیوں میں ملبوس طلبا تنکوں سے بٹی چٹائیوں پر بیٹھے دھیمی آواز میں کتب اور مسودات پڑھ رہے تھے ۔ لیکچر پرے واقع مسجد کے مسجد کے کھلے اور وسیع و عریض ڈھکے ہوئے ہال میں دئے جاتے تھے ۔ متعدد اساتذہ بھی ستونوں کی ایک قطاروں کے درمیان بچھی چٹائیوں پر بیٹھتے اور ہر استاد کے سامنے طلبا کی ٹولیاں نیم دائرے بنا کر بیٹھی ہوتیں ۔ لیکچر دینے والا کبھی اپنی آواز بلند نہ کرتا ، لہذا اس کا ہر لفظ سننے کے لئے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت تھی ۔ آپ سوچتے کہ اس قسم کا انہماک حقیقی تبحر علمی کی طرف لیجاتا ہوگا لیکن شیخ المراغی نے جلد ہی میرے تمام وہم منتشر کر دئے ۔
اس نے مجھ سے پوچھا ۔: آپ ان طلبا کو دیکھ رہے ہیں ؟یہ ہندوستان کی مقدس گایوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گلیوں میں ملنے والا ہر طباعت شدہ کاغذ کھا جاتی ہیں ۔ جی ہاں وہ صدیوں قبل لکھے ہوئے کتب کے تمام چھپے ہوئے صفحات ہڑپ کر جاتے ہیں ، مگر انھیں ہضم نہیں کر پاتے ۔ یہ خود غور و فکر نہیں کرتے ، وہ پڑھتے اور دہرائی کرتے ہیں ، نسل در نسل ۔
میں نے بات کاٹی : لیکن شیخ مصطفی ، الازہر تو اسلامی علوم کا مرکز ہے اور دنیا کی قدیم ترین یو نیورسٹی ہے ۔ آپ اس کا نام مسلم ثقافتی تاریخ کے تقریبا ہر صفحہ پر دیکھتے ہیں ۔ گزشتہ دس صدیوں کے دوران یہاں پیدا ہونے والے عظیم مفکروں ، ماہرین الٰہیات ، مورخین ، فلسفیوں اور ریاضی دانوں کا کیا ہوا ؟۔
انھوں نے تاسف بھرے انداز میں جواب دیا ۔: اس نے کئی سو سال قبل انھیں پیدا کرنا بند کر دیا ۔ مانا کہ حالیہ ادوار میں کبھی کبھی الازہر سے کوئی آزاد مفکر ابھر کر سامنے آ گیا ۔ لیکن بحیثیت مجموعی الازہر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے ۔ جس کا نقصان ساری مسلم دنیا کو ہو رہا ہے اور اس کی تحریک انگیز قوت بجھ چکی ہے ۔ان قدیم مسلم مفکرین ، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کئی سو سال بعد ان کے خیالات کو سمجھنے اور ترقی دئے جانے کے بجائے محض رٹا لگایا جائے گا ۔ کہ جیسے وہ مطلق اور ناقابل تر دید سچائیاں ہوں ۔ اگر کوئی بہتری لانی ہے تو موجودہ نقالی کے بجائے غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنا لازمی ہے۔۔۔ ۔
الازہر کے کر دار کے بارے میں شیخ المراغی کی صاف گوئی نے مجھے مسلم دنیا کو درپیش ثقافتی انحطاط کی عمیق ترین وجوہ میں سے ایک کو جاننے میں مدد دی ، کیا اس قدیم یو نیورسٹی کی متکلمانہ سڑاند مسلم حال کے سماجی بانجھ پن میں منعکس نہیں ہو تی تھی ، کیا اس عقلی جمود کا ہم مقام بہت سے مسلمانوں کی جانب سے غیر ضروری غربت کی مجہول تقریبا لاپر وا قبولیت ، متعدد ماجی خرابیوں کو چُپ چاپ سہنے میں نہیں ملے گا ۔
میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا مسلم زوال کے انھیں قاب محسوس شواہد کی وجہ سے سارے مغرب میں خود اسلام کے متعلق تصور سرایت کر گئے تھے ۔۔۔۔
The Road to Makka ..189-190
written By : Muhammad Asad

۔۔۔مزید

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ

نام کتاب :ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ
مصنفہ : نسترن احسن فتیحی
مبصر : محمد علم اللہ ۔ رانچی ۔جھارکھنڈ

مطبع : عفیف پبلی کیشنز دہلی.( ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس )
سن اشاعت : 2016
قیمت : 360
اردو میں عموماً نئے موضوعات پرکتابیں کم لکھی جاتی ہیں۔خاص طور سے بدلتے حالات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل کاکسی بھی زاویۂ نظرسے احاطہ کرنے والی کتابیں کم ہی شائع ہوتی ہیں۔ موضوعاتی لحاظ سے تنوع کااحساس دلانے والی کتابیں اگر ملتی بھی ہیں تو ان میں زیادہ ترترجمہ شدہ ہوتی ہیں یاپھر کسی غیر ملکی زبان میں لکھی گئی کتابوں کے چربہ کی شکل میں سامنے آجاتی ہیں جس کااردو متن یا ترجمہ اس قدر گنجلک اور ناقص ہوتا ہے کہ قاری اس سے استفادہ کرنے یا معلومات کشیدکرنے کے بجائے متن کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً قاری ایسی کتابیں کم از کم اردو میں پڑھنے سے یا تو توبہ کر لیتا ہے یا اس کی طبیعت اس قدر مکدر ہو جاتی ہے کہ وہ آئندہ ایسی کتابوں سےدور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ اپنی جگہ،البتہ اچھوتے اور نئے موضوع پربعض اہل قلم کے ذریعہ لکھی گئی کچھ کتابیں ایسی ضرور منظرعام پر آرہی ہیں جن کا مطالعہ قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔
ابھی حال ہی میں عفیف پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ایکو فیمینیزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ بھی ایسی ہی ایک دل آویز اور قابل مطالعہ کتاب ہے،جو معروف افسانہ نگار اور ادیبہ نسترن احسن فتیحی کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔تقریبا تین سو چار صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہمارے عہد کی ماحولیاتی مادریت اور تانیثیت جیسے سنگین مسئلہ کو عصری تانیثی اردو افسانہ کے حوالہ سے پرکھنے اور تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ اس موضوع پر ان کی یہ پہلی کتاب ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو میں اب تک اس مسئلہ پر ادب کے حوالہ سے کسی نے جھانکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس وجہ سے مصنفہ ہم سب کی جانب سے مبارکباد کی مستحق ہیں کہ ایک حساس اوروقت کے سلگتے موضوع پر خامہ فرسائی کر کے انہوں نے اردو کے قارئین کو ایک خوبصورت تحفہ عطا کیا ہے۔
کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں ایکو فیمینزم یعنی ماحولیاتی تانیثیت کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے اور تاریخی جھروکوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر زمانے میں سماج کی ترقی اور بہتری میں اپنی حصہ داری نبھائی ہے۔اس باب میں انقلاب انگلستان اور خواتین .انقلاب فرانس اور خواتین . برطانیہ میں مزدور تحریک اور خواتین .انقلاب روس اور خواتین .تیسری دنیا کا پدر سری معاشرہ .ایکو فیمینزم یا ماحولیاتی مادریت ، ماحولیاتی تنقید.ایکو فیمینزم بحیثیت ادبی تنقید فیمینزم پہلی تانیثی لہر .دوسری تانیثی لہر .تانیثی تحریک کی تیسری لہر.ماحولیات ، فضائی آلودگی پانی کی آلودگی .صوتی آلودگی .ماحولیات سے خواتین کی وابستگی .ماحولیاتی آلودگی اور عوامی تحریکیں .چپکو تحریک.گرین بیلٹ تحریک .کینگ شی آن گرین پروجیکٹ تحریک .نودانیہ تحریک .گری گین ازم.لوک ادب اور ماحولیات .اردو ادب میں ماحولیات جیسے موضوعات پر فاضلانہ انداز میں بحث کی کی گئی ہے۔
کتاب کا دوسرا باب عصری تانیثی اردو افسانہ اور ایکوفیمنزم کا تصور ہے .جس میں مصنفہ نے اپنے تجربات .احساسات .اور مشاہدات کو ذاتی بلکہ نجی حوالے کے ساتھ پرکھنے کے بعد اس کے جزئیات کو احاطہ ٔتحریر میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ آج جو خواتین افسانے لکھ رہی ہیں، ان کے افسانوں میں گوناگوں موضوعات کی رنگا رنگی اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے شعورکو مصنفہ نے اس باب میں کامیابی سے منعکس کرنے کی کوشش کی ہے۔اس حوالہ سے انھوں نے متعدد خواتین قلم کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے فکشن .ڈکشن .ڈسکورس .اسلوب اور رویہ پر خوبصورتی سے گفتگو کی ہے۔

تیسرا باب اسی حوالہ سے افسانوں کے انتخاب پر مبنی ہے.جس میں سلمیٰ جیلانی .سبین علی .ترنم ریاض .عینی علی .غزال ضیغم ، ڈاکٹر کوثر جمال .نسیم سید . عذرا نقوی.نگار عظیم .انجم قدوائی .ڈاکٹر نکہت نسیم .شاہین کاظمی .سیمیں درانی .نسترین فتیحی.ڈاکٹر ناہید اختر .نور العین ساحرہ .شہناز یوسف .روما رضوی .صادقہ نواب سحروغیرہم کے کل سترہ افسانے شامل ہیں۔ ہر افسانہ اپنی جگہ ایک کائنات ہے۔یہ افسانے گویا دنیا بھر میں بسنے والی خواتین افسانہ نگاروں کی شاہکارکہانیاں ہیں۔ان افسانوں کا انتخاب ایک خاص پس منظر سے کیا گیاہے۔ اس حوالہ سے افسانوں کا مطالعہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے ۔یہ افسانے عالم کاری کے دباو اور ٹوٹ پھوٹ کو کچھ اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ یہ ماحولیات کے تئیں گہری درد مندی اور سماجی رویوں کے خلاف پر زور احتجاج کی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں ،جن میں دکھ ، درد ، کرب، خواب ، امید ، حوصلہ،عزم سبھی کچھ شامل ہے۔ اس ذیل میں مصنفہ کے نگاہ انتخاب کا بھی کمال ہے کہ جانے کہاں کہاں سے انھوں نے ان جواہر پاروں کو اکٹھا کیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس دور کو اردو کا بانجھ دور کہا جاتا ہے ،اس دور میں ایسی بھی خوبصورت خاتون قلم کار وں کی صف موجود ہے ،جو دنیا کے گوشے گوشے میں اردو کی جوت جگانے میں مصروف ہیں۔
چوتھا اور آخری باب ..ماحولیاتی تانیثیت اور عصری تانیثی افسانے ایک تجزیاتی مطالع کے نام سے ہے -جس میں مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے افسانوں سے بحث کی گئی ہے اور موضوعاتی احساس کو کریدنے کی کوشش کی گئی ہے جوان کہانیوں میں پنہاں ہے ۔اس میں ان مصنفین کے علا وہ دیگر اردو کی معتبر خاتون قلم کاروں کی تخلیق کے نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں اور ان میں چھپے عکس اور خیال کو ابھارنے کی سعی کی گئی ہے ۔ گو کہ سارے افسانے اپنی کہانی خود آپ بیان کرنے میں پوری طرح کامیاب ہیں لیکن ان کہانیوں کا تجزیہ اور مصنفہ کی تفہیم و تشریح کتاب کی وقعت میں اضافہ کا باعث بن رہاہے ۔آخری باب کے تجزیے میں افشاں ملک نکہت فاروق، ڈاکٹر عشرت ناہید اور مہر افروز جیسے خواتین افسانہ نگاروں کے تراشے شامل کئے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ادبی پیکر تراشی ومنظر نگاری اور اسلوب نگارش کی خوبصورت مثا لیں ہیں ۔
زیرتبصرہ کتاب میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔مذکورہ کتاب میں مصنفہ نے جگہ جگہ اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے دانشوروں ادیبوں اور بڑے بڑے قلم کاروں کے اقتباسات پیش کئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس میں چند ایک کوچھوڑ کر باقی مقامات پرانھوں نے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ اگر مصنفہ اپنی اس کتاب میں ان حوالوں کا اہتمام کرتیں تو کتاب کی معتبریت دوچندہوجاتی۔
کتاب کا پیش لفظ معروف دانشور اور انٹر نیشنل اسلامک یونیوورسٹی اسلام آباد پاکستان سے وابستہ فرخ ندیم کا تحریرکردہ ہے-جس میں انھوں نے انتہائی باریکی بینی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ایکو فیمنزم بیسویں صدی کے پہلے پچاس سال اور بعد کے انسانی مسائل کو دیکھنے کے رویہ پر گفتگو کی ہے .. جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مجموعی لحاظ سے یہ کتاب اردو ادب کے جمود کو توڑنے کی ضامن کہلاسکتی ہے۔
مبصر کا پتہ :
alamislahi@gmail.com
Mob No :09911701772

۔۔۔مزید

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا ، دہلی میں عصری اردو صحافت

ابھی حال ہی میں میرے ایک ’’صحافی دوست‘‘ شاہد الاسلام کی کتاب آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔’’ دہلی میں عصری اردو صحافت۔۔۔تصویر کا دوسرا رُخ‘‘۔۔۔ اب تک کئی بڑے صاحبان قلم نے ان کی متذکرہ کتاب پر تبصرے لکھے ہیں۔ سب کا اپنااپنا انداز ہے۔ ایک تبصرہ یہ بھی ہے جسے جناب کے کے کھلر نے رقم کیا ہے جو اردو کے گنے چنے ہندو قلم کار ہیں اور جنہیں ہم اردو کے باقیات الصالحات کے درجہ میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ اردو زبان و ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے احباب کے لئے یہ تبصرہ پوسٹ کر رہا ہوں ۔۔ضرور پڑھئے ۔۔۔ مزا آئے گا۔۔۔۔
...........
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا ، دہلی میں عصری اردو صحافت
(شاہد الاسلام کی زبانی)
از کے کے کھلر
اگر آپ اردو صحافت کی بلندی دیکھنا چاہتے ہیں تو مولانا آزاد، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی کو پڑھیئے اور اگر اسی صحافت کی پستی درکار ہے تو دہلی کے 85 اخبارات میں کسی کو بھی اٹھالیجئے۔ لیکن صحافتی تقاضہ یہ ہے کہ ان 85روزناموں میں 6درجن سے زیادہ روزنامے ایسے ہیں جن کی بقول شاہد الاسلام زیارت کا انہیں کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ ہر روزنامے کا دعویٰ ہے کہ وہ ہزاروں میں چھپتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پردہ داری ،چور بازاری اور سرقہ داری اور ناشائستہ الفاظ کا استعمال ان روزناموں کا دستور بن چکا ہے۔ اردو صحافت جو کسی زمانے میں ایک مشن تھی آج ایک بزنس اور تجارت کی شکل میں ابھر رہی ہے اور اردو صحافی کی گورنمنٹ کی گرانٹوں اور ڈی اے وی پی کے اشتہاروں کے باوجود بھوک نہیں مٹتی۔
کہتے ہیں کہ جب سکندر ایک اپلی کے بھیس میں پورس کا جاہ و جلال دیکھنے کے لئے پورس کے دربار میں پہنچا تو پورس نے اپنے درباری باورچی کو حکم دیا کہ یونان کے بادشاہ کے لئے ایک ہیرے جواہرات سے جڑی ہوئی سونے کی روٹی تیار کی جائے کیونکہ ہندستانیوں کی بھو ک تو گیہوں کی روٹی سے مٹتی ہے لیکن یونان کے بادشاہ کی بھوک سونے کی وٹی سے۔ سکندر یہ سن کر طیش میں آگیا اور اس کا ہاتھ اپنی تلوار کی میان تک پہنچ گیا۔ لیکن وہ سنبھلا اور بولا ” آپ میرے بادشاہ کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ کو جو کہنا ہے میرے بادشاہ کے سامنے کہئے۔“
”ہم جو کہہ رہے ہیں آپ کے بادشاہ کے سامنے کہہ رہے ہیں“ یہ سنتے ہی درباریوں کی تلواریں میان سے باہر نکل آئیں۔ دربار میں سنسی پھیل گئی۔ یہ دیکھ کر سکندر نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہا۔ ”یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک نہتے انسان پر اتنے لوگ ٹوٹ پڑیں۔ یہ کیسا سلوک ہے۔“ پورس نے سکندر کو یہ کہتے ہوئے رخصت کیا کہ اب ملاقات میدان جنگ میں ہوگی۔ جہاں آپ نہ اس بھیس میں ہونگے اور نہ نہتے۔ عین اسی طرح دلی کے اردو صحافیوں کی بھوک گندم کی روٹی سے نہیں مٹتی انہیں سونے کی روٹی چاہئے۔ لیکن جب حکومت انہیں روٹی کے بجائے کیک کھانے کو کہتی ہے تو بات بگڑجاتی ہے۔
ان بگڑے ہوئے حالات میں دلی کا اردو صحافی خوف زدہ ہے۔ تنگ دل ہے۔ وقت شناس ہے۔کیوں؟ اس کیوں کا جواب شاہد الاسلام کی 316صفحات پر مبنی بعنوان ’دہلی میں عصری اردو صحافت‘ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ اسی تصویر کے دوسرے رخ کی قیمت350روپے ہے اور اسے ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاﺅس دہلی نے شائع کیا ہے۔ مقدمہ شاہین نظر کا ہے جو فی الوقت شاردا یونیورسٹی سے وابستہ ہےں اور ٹائمس آف انڈیا پٹنہ(انگریزی) روزنامے سے منسلک ہیں۔
بے چہرہ صحافت :۔ منظر نامہ بعنوان ”بے چہرہ صحافت“حقانی القاسمی کا ہے جس میں انہوں نے اردو صحافت کی نہ صرف ماضی کی تصویر جو معتبر اور معیاری تھی اور دوسری طرف موجودہ صحافت کے زوال کے اسباب کی تصویر، اس کی پستی اور بلندی کو نہایت شائستہ زبان میں قلم بند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہد الاسلام نے صحافت کو تحریک اور تجارت دونوں مشکلوں میں دیکھا ہے اور ان نام نہاد صحافیوں کو بے نقاب کیا ہے جو ڈی اے وی پی اور دیگر سرکاری اداروں سے ہونے والی آمدنی سے مالا مال ہوئے ہیں۔ بہرحال اردو صحافت کا سب سے برا حال دہلی کے روزناموں میں ہے جو نہایت بے حیائی کے ساتھ پاکستانی اخبارات کی خبریں اور ادارتی مضامین میں سرقہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔حتیٰ کہ ہندستان ایکسپریس جس سے وہ خود وابستہ ہیں پر بھی انہوں نے چوٹ کی ہے ۔ لکھتے ہیں کہ
سرقہ دار ادارتی صفحہ:۔” ادارتی صفحہ پر شائع کئے جانے والے مضامین برسوں پاکستانی اخبارات سے سرقہ کی صورت میں حاصل کئے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی مضامین پر مبنی نہایت بے شرمی کے ساتھ پاکستانی ویب سائٹ سے چوری کئے جاتے ہیں۔ اور انہیں ادارتی صفحہ میں اشاعت کردیا جاتا ہے۔“
سرقہ داران دہلی:۔ دلی کے یہ سرقہ دار بھول گئے ہیں کہ مانگے کے اجالے سے گھر روشن نہیں ہوتے اور گورنمنٹ کی گرانٹوں پر پلے ہوئے اردو کے صحافی اردو کی جڑیں دن بدن کمزور کررہے ہیں۔ اردو کے بڑے سے بڑے صحافی نے گرانٹ لینے سے انکار نہیں کیا لیکن قاری کو ہمیشہ ہدایت کی ہے کہ گورنمنٹ کی گرانٹ مت لو یہ رشوت ہے۔ اردو کے سب سے بڑے وقت شناس گوپی چند نارنگ نے بھی اردو والوں کو یہی صلاح دےکر گمراہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ خود گورنمنٹ کے ٹکروں پر پلے ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی گورنمنٹ سروس کرتے ہوئے بھی گورنمنٹ کی اردو پالیسی کا مرثیہ پڑھنے سے نہیں چوکتے۔ لیکن اردو سے ان کی والہانہ محبت ہے اسی والہانہ محبت کی ایک مثال حاضر ہے۔فاروقی صاحب محکمہ ڈاک خانہ جات کے ملازم تھے۔بیورو آف پروموشن فار اردو کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن جب ان کے اپنے ڈاک تار محکمہ میں ان کی ترقی قریب آئی اور انکی تنخواہ میں تھوڑا اضافہ ہواتو ان کی اردو نوازی اور والہانہ محبت یک لخت ختم ہوگئی اور 24گھنٹے کا نوٹس دیکر اپنے محکمہ میں واپس چلے گئے۔ کلدیپ نیر جن کی معاشی زندگی کا آغاز پرانی دہلی کے کسی اخبار سے شروع ہوا کچھ ہی عرصے بعد اردو اخبار کی نوکری چھوڑ کر انگریزی اخبار اسٹیٹس مین(Statesman) میںچلے گئے۔ فرماتے ہیں کہ یہ قدم انہوں نے حسرت موہانی جو ان کے اردو دفتر کے پاس ہی رہتے تھے کے کہنے پر اٹھایا۔ موہن چراغی کو بھی افسوس ہوا کہ انہوں نے اردو صحافت کے بجائے انگریزی صحافت کی اتنی خدمت کی ہوتی تو وہ اپنی آخری عمر میں اتنے بے کس اور بے سہارا نہ ہوتے۔ یاد رہے کہ اردو کے یہ کاغذی شیر پاکستان کے امتیازی تغمے بھی لے چکے ہیں اور ہمارے اخباری نمائندہ اور مدیر ان کی سرقہ دارانہ تحریریں چھاپنے کے لئے پیش پیش ہیں۔ فاروقی صاحب تو خود بھی شب خون نام کا رسالہ نکالتے تھے۔
شاہد صاحب نے ایک اور نقطے پر زور دیا ہے کہ بے شک انٹرنیٹ اور سائبر کلچر نے دنیا کو ایک عالمی گاﺅں میں تبدیل کردیا ہے اور اطلاعات پر اجارہ داری بھی قصہ پارینہ بن چکی ہے لیکن دلی کی صحافت شاہجہاں آباد کی چہار دیواری کی تنگ اور تاریک گلیوں سے باہر نہیں نکلی ۔ پھاٹک حبش خان، گلی قاسم جان، بلی ماران، دریبہ، کناری بازار کا نام سنتے ہی دلی کے اردو صحافیوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ وہ عالمی گاﺅں کے بجائے عالم میں انتخاب کی باتیں کرتے ہیں۔ جولیّس سیزر(Julius Caesar) کے زمانے میں اخبار دیواری تھے۔ دہلی کے اندر اخبار آج بھی بیشتر چہار دیواری ہیں۔
سرکولیشن:۔ شاہد صاحب نے سرکولیشن سے متعلق کچھ حیران کن حقائق کا انکشاف کیا ہے ۔ اوکھلا اور فتح پوری کو چھوڑ کر اردو کا پسندیدہ اخبار مشکل سے ہی ملتا ہے۔ میں وسنت کنج میں رہتا ہوں۔ جہاں تقریبا چار لاکھ لوگ رہتے ہیں لیکن اردو جاننے والے ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہیں۔ مجھے اردو کا اخبار یا رسالہ خریدنے کے لئے کناٹ پیلس کے سنٹرل نیوز ایجنسی میں جانا پڑتا ہے۔ اگر مجھے اپنا مضمون فوٹو کروانا ہو تو بھی مشکل کیونکہ فوٹو کرنے والے کو اردو کے مضمون کو staple کرنا نہیں آتا۔ وہ غلط جگہ stapleکرتا ہے۔ کیونکہ اردو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور دیگر زبانیں بائیں سے دائیں۔
ناقص ترجمے:۔ اور یہاں بات ترجمے کی آتی ہے تو حالات اور بھی بدتر ہیں۔ اردو کے شاید ہی کسی اخبار میں کوئی معتبر مترجم ہوگا۔ بیشتر اخبارات میں وہائٹ پیپر(White Paper) کا ترجمہ سفید کاغذ ہے۔ Copy rightصحیح کاپی۔Red light zoneسرخ بستیوں کا علاقہ۔ بلی ماران گیٹ کا ترجمہCat killer's gate ہی چلتا ہے حالانکہ بلی ماران میں کوئی گیٹ نہیں ہے۔ یہ ایک گلی ہے جہاں مرزا غالب رہتے تھے۔ کسی زمانے میں یہ ایک لکڑی کا ٹال تھا اور حال ہی میں یہ برات گھر کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو طوفان آجاتا۔ لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہر چیز ممکن ہے۔ بہت جد و جہد کے بعد حکومت نے اس گھر کو Heritage gharکا (Status) درجہ دیا ہے اور پھر بہت اردو کا دم بھرنے والے اردو کے اخبار خرید کر نہیں پڑھتے۔ جو میری طرح پڑھتے ہیں ۔یاتو سن رسیدہ ہیں۔ یا پھر جنہیں مسلم حالات و مسائل سے واقفیت میں کسی بنا پر دل چسپی ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ سچائی ہے جس سے انکار یا فرار کی قطعا گنجائش نہیں نکلتی۔
مشن سے کمیشن:۔ کوئی زمانہ تھا جب اردو صحافت کو ایک مشن کا درجہ حاصل تھا آج یہ کمیشن پر چل رہا ہے۔ اور پورے کا پورا ایک پروفیشنل کی شکل اختیار کرچکا ہے اور بزنس کی تمام شرائط پوری کرتا ہے۔ یعنی اگر منافع ہے تو اخبار چلاﺅ ورنہ بند کردو۔بہار میں تو کہاوت ہے۔ مرغ لڑائے جائیںگے بوٹی کے واسطے اخبار نکالے جائیںگے روٹی کے واسطے اردو اخبارات میں فلم اور کھیل کی خبریں تو چھپتی ہیں لیکن تعلیم ، سائنس ، تجارت، صنعت وحرفت، تکنیکی اور طبی امور کے مضامین نہیں چھپتے کیونکہ بیشتر مدیروں کو ان مضامین کا نہ کوئی علم ہے نہ شوق، کسی زمانے میں اخبار کا منصب تھا ۔ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔
اردو یوجنا انگریزی یوجنا کی نقل:۔ اب گورنمنٹ کا ایک ماہانہ رسالہ ”یوجنا“ ہے جو اوپر لکھے مضامین کی اردو صحافت میں کمی کو پورا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ اردو کا رسالہ لکھنے والے اردو نہیں جانتے اور جو اردو جانتے لیکن وہ ان انسانی وسائل کے فروغ والے مضامین سے بے خبر ہیں۔ نتیجتا یہ رسالہ ایک ترجمے کا دفتر بن کر رہ گیا ہے اور ترجمے کا معیار اس کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بے کار ہے۔ گورنمنٹ کا ایک اور ماہانہ رسالہ ہے۔ ”آجکل“ وہ اپنے اصلی مقصد سے کب کا دور جاچکا ہے اور اردو ادب کا ضمیمہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اردو اکیڈمیوں کے رسالے چونکہ گورنمنٹ کے ہیں۔ وہاں مضامین صرف گورنمنٹ کے نقطہ نظر سے چھپتے ہیں۔ اردو کونسل کے رسالہ کا معیار نہ گفتہ بہ ہے۔ وہ بکتا ہی نہیں اور بیشتر ردی کے بھاﺅ جاتا ہے۔رہی ریڈیو اور دوردرشن کی بات وہ بھی نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔
”روزگار سماچار“ اردو کا نام نہاد ایڈیشن:۔ ایک اور گورنمنٹ کا ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام ہے”روزگار سماچار“ اس میں دو یا تین اقتصادی، سماجی اور انسانی وسائل کے فروغ کے لئے مضامین چھپتے ہیں۔ رسالہ در اصل انگریزی زبان میں چھپتا ہے اور اردو ایڈیشن انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔ صرف انگریزی مضامین کو معاوضہ ملتا ہے۔ اردو اور ہندی والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ جہاں تک اردو ورزن(Version) کا سوال ہے۔ پہلے تو اس کا ترجمہ ناقص ہے دوسرے جس انگریزی کے ادیب نے یہ مضمون لکھا ہے اس کو علم ہی نہیں کہ وہ اردو میں بھی چھپ رہا ہے۔ اگر علم ہے تو المیہ یہ ہے کہ اسے اردو نہیں آتی۔ پھر ایک اور بات ہے کہ انگریزی والا(Employment news) لاکھوں میں چھپتا ہے اردو کی زیادہ سے زیادہ دوسو کاپیاں چھپتی ہیں۔ جوکسی بھی اخبار کے اڈے پر نہیں آتیں۔ یہی حال ریلوے کا ٹائم ٹیبل اردو میں بھی چھپتا ہے لیکن آج تک کسی نے یہ کاپی دیکھی۔ یاد رہے کہ اردو میں ریلوے کے ٹائم ٹیبل کی اشاعت گجرال کمیٹی کی ایک اہم سفارش تھی۔ ڈاک گھروں میں اردو کا نام کی کوئی چیز نہیں۔ اردو جاننے والے محلوں کے ڈاکیوں کو اردو نہیں آتی۔ حتیٰ کہ اردو اخبارات میں کیشیر(Cashier) اور اکاﺅنٹنٹ(Accountant) کو اردو نہیں آتی۔ ان کے سارے اکاﺅنٹ انگریزی میں ہیں۔( Students) طلبہ اور طالبہ کی رہنمائی کےلئے کسی اخبار میں کچھ نہیں ملتا۔ IASاور Banking کی کوچنگ کے سہولتیں کہاں دستیاب ہیں کسی اردو اخبار میں نہیں چھپتی۔
شاہد الاسلام لکھتے ہیںکہ” دہلی کے اخبارات میں صحافتی سنجیدگی غائب ہوتی جارہی ہے اور مذہبی وابستگی اردو صحافت پر اس حد تک غالب آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے اردو صحافت اپنے طرز عمل سے صحافیانہ کردار ادا کررہی ہے یا قائدانہ رول نبھا رہی ہے۔ لہٰذا دہلی سے شائع ہونے والے تمام اردو اخبارات کوئی تعمیری کردار نہیں نبھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔“ آگے چل کر شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ اردو پر ظلم اور زیادتی کی خبریں تو شائع ہوتی ہیں لیکن اردو کی حقیقی صورت حال کیا ہے؟ قارئین کو یہ بتانے سے اردو اخبارات قاصر ہیں۔ آپ کو ایک سال کے اردو اخبارات کا جائزہ لینے کے بعد بھی یہ پتہ نہیں لگ سکے گا کہ بحیثیت مجموعی پرائمری اسکولوں کی کتنی تعداد ایسی ہے جہاں اردو کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ موجود ہیں۔ مگر اساتذہ کا تقرر عمل میں نہیں آیا۔ کتنے اسکول اردو میڈیم کے ہیں جہاں ہندی میڈیم میں تعلیم دی جارہی ہے۔ لسانی اور مذہبی اقلیتوں کی دہلی میں کیا صورت حال ہے۔ اس کا بھی کوئی اندازہ اردو اخبارات کو نہیں ہے۔“ اور کتنے طالب علم ایسے ہیں جو اردو کی تعلیم ناقص ہونے کی وجہ سے ہندی میڈیم میں چلے گئے ہیں۔ پڑھائی کے بیچ اسکول چھوڑنے والوں کی کتنی تعداد ہے۔ یہ تو گورنمنٹ کو بھی پوری طرح سے نہیں پتہ۔ ریلوے کے قلیوں کے بچے، رکشہ چلانے والوں کے بچے، کوڑا اٹھانے والوں کے بچے اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے بارے میں تو کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ غیر رسمی تعلیم بڑے بینڈ باجے سے شروع ہوئی تھی۔ آج اس کا نام لیوا کوئی نہیںہے۔ بچہ مزدوری جو قانونا جر م ہے۔ زوروں پر ہے۔
اخلاقیات :۔ شاہد الاسلام صاحب کے نظریئے میں صحافت میں اخلاق کا درجہ بہت اونچا ہے مگر آج کی اردو صحافت میں اخلاقی قدروں کو نظر انداز کرنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ شاہد صاحب رقم سرا ہیں۔
”اردو صحافت میں اخلاقی قدروں کا گلا گھونٹنے کی روایت بہت قدیم ہے۔ اس سلسلے کی عہد بہ عہد تجدید ہوتی ہے۔ اردو صحافتی سرگرمیوں کی انجام دہی کے درمیان بالکل متوازی انداز سے اردو صحافت کو دریدہ ذہن بنانے اور چرب زبانی کے ذریعے مفاد خصوصی حاصل کرنے کی کوششیں جارہی ہیں۔ دہلی میں عصری صحافت کا منظر نامہ بھی اس سے خاصا متاثر دکھائی دیتا ہے۔ بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ایسے کھوٹے سکوں کو سکہ رائج الوقت کا درجہ حاصل ہوچکا ہے“۔
بہر حال اردو اخبارات کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی فہرست لمبی ہے اور تصویر کا دوسرا رخ بہت مایوس کن ہے۔ سہیل انجم جو ایک طویل مدت سے قومی آواز سے منسلک رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اردو صحافت کا رکنان کے لئے تو مشن بنی ہوئی ہے لیکن مدیروں اور مالکان کیلئے یہ بہترین تجارت اور بزنس ہے۔ دن بھر کی سخت محنت اور مشقت کرنے کے بعد شام کے وقت صحافیوں کو جزاک اللہ کہہ کر رخصت کردیا جائے اور اگر کارکن اپنی محنت کا کچھ معاوضہ مانگیں تو یہ کہہ کر ان کی زبان بند کردی جائے کہ آپ اردو کی خدمت کررہے ہیں اب اردو صحافت کو خدمت کی نہیں راست تجارت بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان مالکوں اور مدیروں کی زینت جو خود تو آم کھاتے ہیںمگر کارکنوں کو چھلکے اور گھٹلیاں دینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔
دوسرے الفاظ میں اچھا مالک اور مدیر وہ ہے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے یعنی دودھ خود پی جائے اور پانی اپنے کارکنوں کو دے۔حال ہی میں انہوں نے اخبار مشرق میں لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد سیلاب کے پانی کی مانند بڑھی ہے۔ لیکن جس طرح سیلاب اپنے ساتھ وبائی امراض کا تحفہ بھی لے کر آتا ہے اسی طرح کثرت اخبار بھی بہت سی صحافتی خرابیاں وبائی شکل میں اپنے ساتھ لے کر آتی ہے اور اس وبائی شکل کو ’تصویر کا دوسرا رخ‘ کے عنوان سے شاہد الاسلام نے بڑی دیانت داری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بقول ظفر انور وہ ایک بے خوف اور بے لاگ صحافت کے علمبردار کہے جاسکتے ہیں جن کی عبارت کی روانی ، زور بیان، بلاغت اور تاثیر کلام کی اپنی ایک الگ کیفیت ہے۔ وہ ان صحافیوں کے جانشین ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے لہو سے وادی ¿ صحافت کی آبیاری کی ہے۔ 1995 میں صرف22سال کی عمر میں انہوں نے قلم سنبھالا۔ وہ دن اور آج کا دن ان کا قلم اخبار و رسائل میں رواں دواں ہے۔ ان کا قلم آج تک نہ جھکا ہے۔ وہ اردو ادب کے ڈاکٹر جانسن ہیں جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں بھی کسی صحافتی تقاضے سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ جو سچ ہے وہ سچ جو جھوٹ ہے وہ جھوٹ، جو حق ہے وہ حق جو ظلم ہے وہ ظلم۔ پنچابی کے شاعر بلے شاہ نے اپنی چالیسویں سالگرہ پر ایک شعر کہا تھا۔ ”کر بسم اللہ کھول دی میں نے چالیس گانٹھیں“ شاہد الاسلام نے 39 گانٹھیں تو کھول دی ہیں جو چراغ راہ میں منزل نہیں ہیں۔ چالیسویں گانٹھ کے کھلنے کا میں بڑی بےتابی سے انتظار کررہا ہوں۔
کتاب کے اختتام پر شاہد الاسلام صاحب لکھتے ہیں۔ ”دہلی میں اردو صحافت کا کردار کبھی قابل رشک ہوا کرتا تھا لیکن آج یہی اردو صحافت بے وزن ، بے اختیار، بے وقار اور بے وقعت ہوکر رہ گئی ہے۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہو کبھی اردو صحافی جام شہادت نوش کیا کرتا تھا لیکن آج۔۔۔۔۔۔ صحافت کی آبرو نیلام ہورہی ہے ۔ مسائل و مشکلات سے گھری اردو صحافت معیاری نقطہ نظر سے وجود کی آخری لڑائی لڑ رہی ہے“۔
”وہ صرف معتبر تھا جو نکلا تھا برملا یہ اور بات ہے کہ لہو تھوکنا پڑا“
لیکن اس کے باوجود شاہد صاحب پر امید ہیں اور اردو صحافت ایسے مسیحا کی منتظر ہے جس کی شرمندہ احسان ہوکر یہ صنف ادب اپنی حرمت، عزت، وقار اور اعتبار کو دوبارہ بحال کرسکے گی۔ بظاہر مستقبل قریب میں اس کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں لیکن اردو صحافت کے دن ضرور پھریںگے۔
کہتے ہیں سکندر ہر فتح کے بعد تاوان جنگ سے ملی ہوئی رقم اپنی فوج میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ ایک شام سیلوکس نے اپنے بادشاہ سے پوچھا، حضور والا، آپ نے اپنے لئے کیا رکھا ہے۔ سکندر نے بادلوں سے گھرے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا”امید“ جس پر دنیا قائم ہے۔ جوہر دھڑکتے سینے میں موجود ہے۔ جو ہر خزاں رسیدہ چمن کو گلشن بہار بنادیتی ہے“ مبارک ہو شاہد بھائی۔

۔۔۔مزید