سوموار، 10 مارچ، 2014

سوال جس کے جواب کی تلاش ہے ۔

مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو کیوں ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ میں نے اس کے اوپر غور کیا تو یہی بات سمجھ میں آئی کہ قومیت کے تئیں کسی ملک کے عوام کو مطمئن کرنا (یہاں پر میں نے عوام کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے) اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے ۔

اگر مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ مجھے اس بات پر بھی اعتراض ہے اس لئے کہ اسلام میں سرحد کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اس پر علماء نے کافی بحث بھی کی ہے۔اسلام سرے سے ہر قسم کی عصبیت پر قدغن لگا تا ہے ۔لیکن پھر بھی اگر وہ پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو اس کی وجہ (بہ ظاہر) مجھے یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ اسٹیٹ کی ناکامی ہے ۔مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھ ظلم و تشدد کا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔انھیں انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جسے شاید ہی کوئی انصاف پسند جھٹلا سکتا ہے ۔

ایسی صورت میں فطری طور پر انسان جھلاہٹ اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور اس صورتحال میں میں ماہرین نفسیات کے مطابق وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے لیکن یہاں پراس بات کی داد دینی چاہیے کہ اب تک مسلمانوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن نا انصافی اور حق تلفی کے احساس کا لاوا ان کے اندرمستقل پک رہا ہے ۔اور یہ احساس اور چبھن کا نتیجہ ہے ۔جسے آپ احتجاج کی ایک شکل بھی کہہ سکتے ہیں ۔

اسکی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ کچھ لوگ مسلمانوں میں نا خواندگی کو بھی اس کی وجہ مانتے ہیں ۔ تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاذ ہیں جوپاکستان کو کرکٹ میں سپورٹ کرتے ہیں ۔ کچھ تو بات ہوگی ؟ کچھ تو وجہ ہے ۔ مجھے بھی جواب کی تلاش ہے ؟۔

یہ بات بھی تو اپنی جگہ درست ہے کہ سارے مسلمان پاکستان کو سپورٹ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ہندوستان کو ہی سپورٹ کرتی ہے۔اس بارے معترضین کچھ کیوں نہیںکہتے۔ پھر ایسے بہت سے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟

مجھے کھیلوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ہے ۔لیکن بار بار میسیج ،فیس بُک میں بھڑکانے والے بعض برادران وطن کے اسٹیٹس اور کچھ احباب کا بے تکا بحث و مباحثہ مجبور کرتا ہے کہ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کی تلاش کی جانی چاہئے ۔

8 تبصرہ جات:

گمنام نے لکھا ہے کہ

اس تحریر کو محفل پر بھی لائیے
نکتہ ور

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

بہت ذبردست ہے یہ جملہ :

۔پھر ایسے بہت سارے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سارے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟

ذرا . . ایک نظر ادھر بھی ۔ ۔ ۔

http://noonmeem.blogspot.in/2013/02/blog-post_22.html

Alam Islahi نے لکھا ہے کہ

جناب نور محمد اور گمنام آپ کی محبتوں کا شکریہ ۔۔۔۔۔
گمنام صاحب اولا اسے محفل میں ہی لکھا گیا تھا پھر وہیں سے اخذ کر کے بلاگ میں شامل کیا ۔
والسلام
علم

فلک شیر نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم!
علم اللہ صاحب! بڑی جراءت مندی سے آپ نے یہ سوال اٹھایا ہے، اس کے جواب کی تلاش میں ہیں آپ ۔۔۔۔
آپ نے اس کی اچھی توجیہ کی ہے، کہ ناانصافی اس کی ایک وجہ ہے۔ بات خیر اس سے بھی آگے کی ہے، پچھلے ایک سو سال سے برصغیر پاک و ہند میں دو نکتہ ہائے نظر ہیں قومیت کے حوالہ سے ۔۔۔۔۔ ایک کے نمائندہ اقبال تھے اور دوسے کے حسین احمد مدنی۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی قبروں کو منور فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب تاریخ کا دھارا دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی حد تو خیر دے چکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی ماندہ بھی جلد ہی ۔۔۔۔۔۔۔

Alam Islahi نے لکھا ہے کہ

واعلیکم ا؛سلام و رحمۃ اللہ
بہت مشکور ہوں بھیا !
آپ نے میری ٹوٹی پھوٹی تحریر پڑھی ۔ کہنے کے لئے بہت کچھ ہے ۔ لیکن کیا کروں کبھی کبھی قلم کو روکنا بھی پڑتا ہے ۔ کل ہی لائبریری سے "قومیت کا مسئلہ " از مولانا ابولاعلی مودودی نکال کر لایا ہوں ۔ ابھی چند صفحات کا ہی مطالعہ کر سکا ہوں ۔ اس موضوع پر کچھ اور کتابیں بھی پڑھنے کا ارادہ ہے ۔ موڈ بنا تو اس موضوع پر ایک مضمون بھی ترتیب دوں گا ۔
علم

کوثر بیگ نے لکھا ہے کہ

انڈیا اور پاکستان کی عوام ایک زمانے تک ایک ساتھ رہے ہر گھر سے کوئی نہ کوئی رشتہ دار پاکستان شیفٹ ہوا ہے ۔اپنوں کی سالوں کی جدائی نے دلوں کو موم کردیا ہوتا ہے اور انکی الفت میں پاکستان کے طرفدار ہوجاتے ہیں ۔ مگر پھر ھی ہمارا دل انڈیا کےلئے دعا گو رہتا ہے۔

Mohammed Hassaan نے لکھا ہے کہ

بہت خوب جناب

Mohammed Hassaan نے لکھا ہے کہ

بہت خوب جناب