سوموار، 17 مارچ، 2014

کیوں مانگا جاتا ہے بار بار ہم سے وطن پرستی کا ثبوت؟

محمد علم اللہ اصلاحی 
ابھی حال ہی میں ہندوستان پاکستان میچ کے بعد ملک میں جس قسم کے حالات پیدا ہوئے اس نے سنجیدہ طبقہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ملک کس راہ پر گامزن ہے ۔اولا اترپردیش کے شہر میرٹھ کی سوامی ویویکا نند سوبھارتی یونیورسٹی سے چھپن کشمیری طلبہ کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی پذیرائی کرنے اور پاکستانی بلے بازوں کی ستائش پر تالیاں بجانے کی پاداش میں ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔اور یونیورسٹی سے معطل بھی کر دیا یہ الگ بات ہے کہ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی طور پر جگ ہنسائی کے بعد مقدمہ واپس بھی لے لیا گیا ۔ابھی یہ معاملہ پوری طرح حل بھی نہیں ہوا تھا کہ اسی قسم کا ایک اور واقعہ پیش آیا اور میرٹھ یونیورسٹی کے رویہ پر ہی گامزن کچھ شر پسند طلبہ کے مطالبہ کے بعد شادرا یونیورسٹی گریٹر نویڈا سے چھہ طلبہ کو ہاسٹل سے بے دخل کیا گیا میڈیائی رپورٹوں کے مطابق جن چھ طالب علموں کو ہاسٹل سے نکالا گیا ہے ان میں چار کشمیر کے ہیں جبکہ دو کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہندوستان پاکستان میچ کے بعد خصوصاً اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔اس سے قبل بھی صرف اسی طرح کے میچ کو بہانا بناکر کئی ریاستوں میں فساد کراکر مسلمانوں کے سرمایہ کو تباہ برباد کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔تو کئی جگہ ہندو مسلم تشدد کے واقعات ہوئے ہیں ۔بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ بعض عناصر مستقل فیس بُک اور اسی طرح سوشل میڈیا کا سہارا لے کر تشدد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے عناصر بہت تھوڑے ہیں لیکن ان کی حرکتوں سے پورے ملک کی بد نامی ہوتی ہے ،اور ان کی شرارتوں کی وجہ سے پوری قوم کو دکھ ہوتا ہے شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان میچ نہ ہو وہ ہی بہتر ہے ۔ 

اس مرتبہ بھی اس میچ کو لیکر سوشل سائٹوں پرغیر سنجیدہ تبصرے اور غیر متوازن تحریریں پیش کی گئی ہیں ،ان میں مستقل مسلمانوں کے اوپر ان کی قومیت اور ملک سے محبت پر سوال اٹھائے گئے ہیں ۔بعض نوجوانوں کی جانب سے اس کا جواب بھی دینے کی کوشش کی گئی ، بعض جواب ایسے بھی دئے گئے جن کا موضوع سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا،مثال کے طور پر ایک نو مسلم ’’ٹھاکر ایم اسلام ونئے ‘‘ نے اپنے ہندی بلاگ’’ ٹھاکر اسلام ‘‘ نامی بلاگ میں ’’مسلمانوں ہندوستان چھوڑ دو اور پاکستان چلے جاؤ ؟‘‘کے عنوان سے اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے سوالوں کا جواب بھی دینے کی کوشش کی ہے وہ لکھتے ہیں’’ایک صاحب بس میں بیٹھے میری طرف اشارہ کرکے اپنے ساتھیوں سے میرے بارے میں برا بھلا کہہ رہے تھے،میں نے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہے ہو بھائی؟ وہ صاحب بولے تم لوگ کھاتے ہو ہندوستان کا اور گاتے ہو پاکستان کا میں نے کہا ایسا آپ سے کس نے کہا وہ بولے ہندوستان اور پاکستان کا میچ ہوتا ہے تو مسلمان پاکستان کی تعریف کرتے ہیں جب کہ رہتے ہندوستان میں ہیں۔ میں نے کہا یہ تو کھیل کا اصول ہے جو بہتر کھیلے گا اس کی تعریف ہونی ہی چاہئے کیا انگلینڈ یا ویسٹ انڈیزکے کھلاڑی جب اچھا کھیلتے ہیں تو آپ ان کی تعریف نہیں کرتے ؟ ‘‘

اس کے بعدوہ مزید جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’اسلام میں کہا گیا ہے کے وطن پرستی نصف ایمان ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو کیا مسلمان اپنے پیغمبر کی بات نہیں مانیں گے ؟کیا سرحدوں پر مسلمان فوجی جنگ کے دوران کسی سے پیچھے رہتے ہیں ؟ کیاہندوستان کو آزاد کرانے میں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ نہیں دیا؟ ‘‘ پھر وہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر کوئی آدمی کسی ملک میں پانچ سال مسلسل رہ لے تو اسے اس ملک کی وطنیت مل جاتی ہے جبکہ مسلمانوں کے ماں باپ دادا پردادا اسی ہندوستان میں پیدا ہوے وہ کسی اور ملک کیوں جائیں گے ؟ جب دنیا میں چار ہی تہذیبیں تھیں یعنی چار جزیرے 1 ۔ وادی دجلہ 2 ۔ وادی نیل3۔وادی فرات 4۔وادی سندھ یہیں پر دنیا آباد تھی نہ ہندوستان تھا نہ ہی کوئی اور ملک اس وقت آریہ آئے تھے دوسرے ممالک سے سندھ وادی پر جس نے بڑھتے بڑھتے بعد میں ہندوستان کی شکل لی کیا آریہ ہندوستان کو چھوڑ کر کسی اور ملک جا سکتے ہیں ؟ ‘‘پھر انھوں نے آگے لکھا ہے ’’ آر ایس ایس کے ایس کے سی سدرشن نے ریٹائر منٹ لینے کے بعد کچھ دن پہلے لکھنؤ میں مسلمانوں کے اجلاس میں کہا تھا کہ ثقافت کبھی نہیں لڑتی ہمیں لڑاتی ہے تو صرف سیاست۔وہ لوگ میرا منہ دیکھ رہے تھے‘‘۔

اس سلسلہ میں ایک اور بلاگر نور محمد نے اپنے بلاگ میں ایک واقعہ رقم کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں ’’ میرے ماموں بھارت پیٹرولیم میں ملازمت کرتے تھے،کرکٹ سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ تھا کبھی بھی میچ نہ دیکھتے تھے،ایک بارہند وپاک کا میچ چل رہا تھا، ان کے آفس ( ڈپارٹمنٹ) میں یہ واحد مسلم شخص تھے۔ تولوگوں نے ان سے کہا کہ سر آج کون جیتنا چاہیئے ماموں جان سمجھ گئے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر ان سے پوچھ رہے ہیں۔ اب انہوں نے جو جواب دیا ۔ وہ بہت ہی مزے دار تھا۔ماموں جان ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر آج ہندوستان بمقابلہ پاکستان ہے تو ہندوستان کو جیتنا چاہئے اور اگر یہ مقابلہ ہندو اور مسلمان کے بیچ ہے تو مسلمان کو۔اب کہو تم کس مقابلے کی بات کر رہے ہو۔بے چارے سب اپنا سا منہ لے کر چلے گئے۔آگے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’۔ہم ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں ہم اگر ہمت سے کام لیں تو ہمیشہ مدمقابل کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔پھر انھوں نے آگے لکھا ہے ’’میرا گمان ہے کہ شاید ہی کوئی ہندی مسلم اس طرح کے سوالات سے بچ پاتا ہوگا۔اسی لئے میں نے اسے شیئر کرنا مناسب سمجھا کہ ہمیں اس طرح کے جذباتی سوالات کا اطمینان بخش جواب دینا آسان ہوجائے۔یعنی سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اگر ہم ان کے باتوں میں آ کر جذباتی ہو گئے تو پھر ہمیں ہی نقصان ہوتا ہے‘‘۔
نور محمد کا کہنا اپنی جگہ بالکل درست ہے اوراس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہیں جن کا اگر میں تذکرہ کرنے لگوں تو صرف اسی پر کئی صفحات لکھے چلے جائیں گے ۔خود میرے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آچکے اورمیں نے کچھ ایسے مشاہدات کیے جنہوں نے مجھے یہ تمام چیزیں لکھنے پر مجبور کیا ۔میرے ایک دوست نے مجھ سے بتایا ’’میں ندوہ میں طالب علم تھا شہر کسی کام سے آیا ۔میں ایک دوکان کے پاس سے گذر رہا تھا جہاں پر کافی بھیڑ لگی ہوئی تھی ۔کچھ لوگوں نے میرے اوپر کمنٹ کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو (ایک انتہائی غلیظ لفظ جسے میں یہاں نہیں لکھ سکتا)آگیاپاکستانی ۔ مجھے کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی میں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا ؟تو وہ لوگ آپس میں یہ کہتے ہوئے ٹھہاکہ مار کر ہنسنے لگے کہ دیکھا کیسا بے وقوف بنا رہا ہے یہ ہم لوگوں کو اور پھر گالیاں ۔۔‘‘چند احباب کی جانب سے اسی قسم کی باتیں سننے اور پڑھنے کے بعد میں نے اپنے بلاگ اور فیس بک میں اسٹیٹس اپڈیٹ کیا تو کئی لوگوں نے میرے اوپر ہی کمنٹ کرنا شروع کر دیا ۔
نو مسلم ونئے کی تحریر کے کے جواب میں برادران وطن کے جانب سے جس قسم کے غلیظ کمنٹ کئے گئے ہیں ۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا ۔تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ وطن پرستی نصف ایمان ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو۔یہ حدیث نہیں ہے۔محدثین نے اسے موضوع قرار دیا جس کی دسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔حدیث حب الوطن من الایمان لا اصل لہ عند الحفاظ (المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ص: 91)اسلام میں وطن پرستی مقدم ہوتی تو نبی کریم کبھی ہجرت نہ فرماتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ انسان کو فطری طور پر اپنے پیدائشی وطن سے محبت ہوتی ہے اور یہ نبی کریم کو بھی مکہ مکرمہ سے تھی ۔
وطن اور وطنیت کے حوالہ سے پچھلے ایک سو سال سے برصغیر پاک و ہند میں دونظریے ہیں جن میں سے ایک نظریہ کے علم برداراقبال تھے اور دوسرے کے مولانا حسین احمد مدنی ،میں اس موضوع پر نہیں جانا چاہتا تھا تاہم اپنے ایک ہندو دوست کی جانب سے کہ ہندوستانی مسلمان کھیل میں پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں کیا یہ ملک کے خلاف نہیں ہے اس سوال کے جواب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معروف پروفیسرکیسونت نے جو جواب دیا وہ نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں انھوں نے کہا’’ قومیت کے تئیں کسی ملک کے عوام کو مطمئن کرنا اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔اگر مسلمان کھیل میں پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو یہ اسٹیٹ کی ناکامی ہے، ان کے ساتھ ظلم اور تشدد کا رویہ اپنایا جاتا ہے اس لئے وہ اس طرح کرتے ہیں۔لیکن اس سے قومیت مجروح ہوتی ہو ،ایسا بالکل بھی نہیں ہے ‘‘۔ پروفیسر کیسونت کی بات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم وتشدد کا رویہ نہیں اپنایا جا رہا؟کیا انھیں انصاف مل رہا ہے؟ان کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا رہا ہے ؟
ظاہر ہے ایسی صورت حالات میں مستقل طور پر زندگی گذارنے والا انسان جھلاہٹ اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اس صورت حال میں ماہرین نفسیات کے مطابق وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے لیکن یہاں پراس بات کی داد دینی چاہیے کہ اب تک مسلمانوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن نا انصافی اور حق تلفی کے احساس کا لاوا ان کے اندرمستقل پک رہا ہے۔اور یہ احساس اور چبھن کا نتیجہ ہے۔جسے آپ احتجاج کی ایک شکل بھی کہہ سکتے ہیں۔اس کے اور بھی وجوہات ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگ مسلمانوں میں ناخواندگی کو بھی اس کی وجہ مانتے ہیں۔ تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاذ ہیں جوپاکستان کو کرکٹ میں سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی تو اپنی جگہ درست ہے کہ تمام مسلمان پاکستان کو سپورٹ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ہندوستان کو ہی سپورٹ کرتی ہے۔اس بارے معترضین کچھ کیوں نہیں کہتے۔ پھر ایسے بہت سے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟
اس کا جواب معروف ہندی صحافی پر بھاش جوشی اپنی کتاب ’’کھیل صرف کھیل نہیں ہے ‘‘ میں دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’پاکستانیوں میں بھارت کولے کر انتہائی جارحیت دکھائی دیتی ہے وہ طاقت یا اپنی طاقت کے عدم اعتمادکا نہیں ہے وہ در اصل طاقت کی کمی اور اپنے کمزور ہونے کا ڈر ہے ۔کیا ہندوستان کو بھی پاکستان کو لے کر ایسا ڈر ہے؟سب لوگوں میں ہو یا نہ ہو ان لوگوں میں تو ہے ہی جو ہواہوا جیسا شور مچاکر کہتے ہیں کہ ہندو نہیں جاگے تو پاکستان ہندوستان کو نگل جائے گا ۔ایک دوسرے مقام پر یہ ڈر مسلمانوں کی تعداد کو لے کر بھڑکایا جاتا ہے کہ ان میں چار شادیاں نہ روکی گئیں تو دس بیس سال میں اتنے مسلمان ہو جائیں گے کہ ہندو اپنے ہی ملک میں اقلیت ہو جائیں گے چار الگ عورتیں چار الگ آدمیوں سے شادی کریں گی تو زیادہ بچے ہونگے یا ایک آدمی چار بیویاں رکھے گا تو زیادہ بچے ہونگے ۔لیکن جس ملک میں بیاسی فیصد ہندو ہوں اور بارہ چودہ فیصد مسلمان وہاں کیا ہندو کبھی اقلیت ہو سکتے ہیں ؟ لیکن آپ پائیں گے کہ ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں اور کچھ لوگ ہیں جو ان پر یقین کر لیتے ہیں ۔)مزیدتفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں کتاب کا صفحہ (204‘۔
اس سوال کا جواب ’’رام پنیانی ‘‘نے بھی اپنی کتاب’’ سمپردائک راجنیتی: تتھئے ایوم متھک ‘‘میں لکھا ہے ۔وہ کہتے ہیں ’’کرکٹ راشٹرواد بڑامشکل اور لاینحل عنصر ہے ۔جنوبی افریقہ،امریکہ ،انگلینڈ اور دوسرے دیشوں میں جاکر آباد ہوئے اور وہاں کی شہریت لینے والے ہندوستانی وہاں ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن مناتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے 50سالوں میں مشکل سے ہی کوئی مسلمان پاکستان کے لئے جاسوسی کرتا ہوا پکڑا گیا ہو ۔ابھی حال ہی میں مالوانی بمبئی میں شیو سینکوں نے کچھ مسلمانوں کو پیٹا ۔یہ لوگ کرکٹ میں پاکستان پر بھارت کی جیت کا جشن منا نا چاہ رہے تھے ۔انگلینڈ،افریقہ اور جنوبی افریقہ میں ایسے ہندوستانی ہیں جو وہاں کے باشندے ہیں لیکن اپنے دیشوں میں بھارت کی جیت کا جشن مناتے ہیں ۔کسی ایک کھیل ٹیم سے تعلق اور دل چسپی اپنی پہچان ،دیش بھکتی یاوطن سے غداری کی علامت نہیں قرار دی جاسکتی ۔ہمیں پوری کمیونٹی کے وسیع رویہ اور سماجی ،معاشی زندگی میں اسکی حصہ داری کو دیکھنا چاہئے اور معاشرے کے تشدد پسند افراد کی طاقت کی بنیاد پر ان کے خلاف فیصلہ سنانے کے بجائے محروم اقلیتوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ‘(تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں صفحہ 94۔
ٹیلی ویژن پر کھیل کے دوران اور کھیل کے بعد جب ماہرین تفصیل سے کھیل کے فنی رموز اور اس کے محاسن ونقائص پر اپنی رائیں پیش کرتے ہیں اور کبھی ہندوستان اورکبھی پاکستان کی ٹیم اور ان کے کھلاڑیوں کی تعریف تو کبھی ان پر تنقید کرتے ہیں ، اس وقت بھی ایسے سوالات پیدا کرنے والوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ یہ لوگ کب محب وطن ہوتے ہیں اور دوسرے ہی لمحہ کب وہ ملک سے غداری کے مرتکب ٹھہر جاتے ہیں، اس طرح کے سطحی رجحانات اگر چہ دیر پا تاثیر نہیں رکھتے لیکن وقتی طورپر ان کے ذریعہ جو فتنہ برپا ہوتا ہے اس کے نتائج بہت دور رس اور بھیانک ہوتے ہیں، اس لیے دانش مندوں کو ان سے پرہیز اور گریز کرنا چاہیے۔


          





          

۔۔۔مزید

سوموار، 10 مارچ، 2014

رہائشی ادارہ یا بچپن کا مقبرہ​

نوٹ : اصل مضمون انگریزی زبان میں کسی اشکا نامی خاتون نے تحریر کیا ہے ناچیز کی فرمائش پر اردو کا جامہ پہنایا ہے میرے دوست اور عزیز عبد الحسیب نے یہ تحریر بچپن اور ہاسٹل کی زندگی سے متعلق بہت سے گوشوں کو وا کرتی ہے ۔ معمولی حذف و اضافہ اور ترمیم کے بعد اسے آپ کی نزر  کیا جارہا ہے ۔محترمہ اشکا اور جناب عبد الحسیب صاحب کے شکریے کے ساتھ ۔
رہائشی اسکول ،دارالاقامہ یا ہاسٹل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ میں بھی ایسے اقامت گاہوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں رہائشی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلانا امراء و روساء ہی کی شان تھی۔ والدین اپنے بچوں کو وسیع ترمفادات جس ،میں صحت و تندرستی کے علاوہ معیاری تعلیم اور تربیت بھی شامل ہوتی کے حصول کے لیے رہائشی اقامت گاہ یا ہاسٹل بھیجا کرتے تھے۔ کس رہائشی ادارہ میں کس خاندان کے کتنے افراد نے تعلیم حاصل کی ، اسی بنا پر رہائشی اداروں کا معیار بھی طے پاتا اور والدین اپنے بچوں کے لیے بھی اسی طرز پرادارے کا انتخاب کیا کرتے۔ ایک بہترین جدیدتعلیمی و تربیتی ادارہ کا انتخاب اس لیے بھی والدین کے لیے اہم ہوتا کہ اس قسم کے مدارس میں ان کے بچے امراء و روساء کے بچوں کے ساتھ پرورش پاتے جو انکے لیے وقاراور افتخار کی بات ہوتی۔
مگر فی زمانہ رہائشی ادارے یا ہاسٹل صرف ایک روایت اور فیشن بن کر رہ گئے ہیں۔ ماں اور باپ دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی مصروفیات کے سبب بچوں کی تربیت پر زیادہ دھیان نہیں دے پاتے ہیں ۔اورایسی صورت میں انھیں ایک ہی آسان راستہ نظر آتا ہے ،وہ ہے ہاسٹل کا ،یعنی بچے کو ہاسٹل بھیج دیا اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو گئے ۔لیکن اس بابت اصل مسئلہ کو دیکھا جائے جو والدین نہِیں سمجھ پاتے ، وہ ہے بچوں کے ذہنی، جسمانی و جذباتی نشونما اور ارتقا کا۔ایک بچے کے لئے بہر حال والدین کی محبت و شفقت اور رہنمائی انتہائی اہم ہوتی ہے جس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں ۔آج کے رہائشی اسکول یا ادارے والدین اور اولاد کے اس محبت کے رشتہ کو ختم کر رہے ہیں۔وہ والدین جو اپنے بچوں کو رہائشی اداروں میں حصول علم کے لیے بھیجنا پسند کرتے ہیں، ان دلائل سے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۱-رہائشی اداروں کی زندگی بچوں میں خود مختاری کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ وہ پہلے ہی دن سے وہاں (ہاسٹل میں ) دوسروں پر منحصر نہ رہنا اور اپنی مدد آپ کرنا سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور روزمرہ کی پریشانیوں کو بہتر طریقے سے حل کرنے کے اہل بنتے ہیں۔
۲-بچوں کی وہاں(ہاسٹل میں ) مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ اچھی شخصیات سے تعارف ہوتا ہے جس سے انکا پیمانہ علم اور وسیع ہوتا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں بالیدگی آتی ہے۔ان کے اندر صبر و شکر کا مادہ پیدا ہوتا ،نیز خود مختار ہونے اور خود کی خدا داد صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے مواقع میسر آتے ہیں ۔
۳۔رہائشی اداروں میں بچے مختلف قسم کے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں جیسے: تیراکی، گھوڑسواری، مجسمہ سازی، شاعری، دوڑ، اسکاش، ٹینس، سکائی ڈائیونگ،ببیڈمنٹن وغیرہ اور بحث ومباحث، و خود اعتمادی کے مقابلوں میں شرکت انھیں چست اور تندرست بنا دیتی ہے۔
۴۔بچوں کی ذہانت کو سراہنے اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ رہائشی اداروں کی زندگی انھیں جزباتی طور پر مستحکم و مضبوط بناتی ہے۔
۵۔رہائشی اداروں کی زندگی انسان کا نظریہ بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کچھ والدین اپنا ذاتی تجربہ بھی پیش کرتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے مال و دولت اوراثر و رسوخ کی نہیں، اس کے ذریعہ انسان کی قدر کرنا سیکھی۔
۶۔خود اعتمادی بھی ایک بہترین نعمت ہے جو رہائشی اداروں میں حاصل ہوتی ہے۔
۷-رہائشی زندگی انسان کے برتاو میں بھی بہت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ جو بچے پہلے ضدّی اور تنک مزاج ہوا کرتے تھے،ہاسٹل سے نکلنے کے بعد روادار اور نرم مزاج ہوجاتے ہیں ۔
تبصرہ :میں لوگوں کے سوچ اور نظریات کی قدر کرتا ہوں لیکن پھر بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوں کہ بچوں کومحض اس لیے رہائشی اداروں میں بھیج دیا جائے کیوں کہ آپکے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہر دوسرے دن اخبار کی سرخیوں میں یہی خبریں نظر آتی ہیں کہ سینئرس کی ریگنگ کے ڈر سے بچے ہوسٹل سے فرار، ہوسٹل واپس نہیں جانے کے لیے گھر والوں سے بحث کے بعد طالب علم کی خود کشی کی کوشش، ہوسٹل کے ماحول میں تعلیم پر برابر توجہ نہ دے پانے پر بچے احساس کمتری کا شکار۔(ہاسٹل میں لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکت کرنے والا پرنسپل گرفتار،نابالغ طالبہ نے ہاسٹل میں دیا بچے کو جنم،ہاسٹل وارڈن نےمعصوم کے ساتھ کیا جنسی استحصال)پھر بھی کئی لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ہر سکّہ کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اور سکّہ کا دوسرا رخ جو لوگ محسوس کرتے ہیں:
۱-بچہ خاندان ، تہوار وغیرہ سے دور ہوجاتا ہے۔
۲-رہائشی اداروں کی زندگی بچوں کو خاندانی نظام اور ریت رواج نہیں سکھاپاتی۔
۳-بچہ کو رہائشی مدرسے میں بھیجنے سے بچہ اور والدین کے بیچ ایک کھائی سی بن جاتی ہے جس کا پاٹنا بہت مشکل ہوتا ہےکیونکہ ہاسٹل میں رہنے کے سبب والدین کے درمیان زندگی کا جو بہترین وقت گزرنا ہوتا ہے وہ ضائع ہوجاتا ہے۔
۴-رہائشی ادارے میں رہنے سے بچوں کے پاس ماضی میں پلٹ کر دیکھنے کے لیے کچھ بھی خوبصورت یادیں نہیں رہتیں۔ کیونکہ سارا بچپن تو ہوسٹل میں گذر چکا ہوتا ہے۔
۵۔کچھ بچّے جنھیں رہائشی اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تعطیل میں گھر ہی نہیں جانا چاہتے۔ انہیں گھر میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق والدین صرف تعطیل کے شروع اور آخر کے دن میں انکا خیال رکھتے ہیں باقی دنوں میں بچے اکیلا پن اور خود کو تنہا تنہا محسوس کرتے ہیں کیونکہ والدین اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
۶۔گھر کے محفوظ ماحول سے دور ہوجانے پر ناکامی، غصہ اور دھوکہ کی وارداتیں بچوں کے ذہن ہر گہرے نشانات چھوڑتے ہیں۔ جس کا اثر تا عمر ان کے ذہنوں پر قاائم رہتا ہے۔
۷۔بہت سے والدین کو بلا واسطہ ہونے والے اس عمل کا ذرا بھی گمان نہیں ہوتا کہ وہ بچہ کو رہائشی ادارہ یا ہاسٹل بھیج کر بوڑھے دادا ،دادی کا پیار، شفقت اور محبت سب کچھ ان سے چھین لے رہے ہیں۔
۸۔وہ بچے جو اپنے گھر پر رہ کر اسکول کی تعلیم پاتے ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ ایک مضبوط جزباتی رشتہ قائم کرتے ہیں وہ رہائشی اداروں میں رہنے والے بچوں میں کبھی بھی مضبوط نہیں ہو پاتا۔ کیونکہ رہائشی اداروں سے بچے سال میں دو ہی بار گھر آتے ہیں اور وہ بھی محض ۶ تا ۸ ہفتوں کے سے زیادہ کے لیے نہیں۔ اس وقت والدین اپنے بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور سارا وقت صرف انکی خاطر تواضع میں ہی لگا دیتے ہیں۔ بچہ کے ساتھ خاندان کے ایک فرد کی طرح نہیں بلکہ مہمان کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔
حاصلِ گفتگو : یہی ہے کہ ہمیں اپنے کم سن بچوں کو رہائشی اداروں میں بھیجنے سے گریز کرنا چاہئے، کیونکہ بالغ ہونے کے بعد ویسے بھی انہیں اعلیٰ تعلیم یا ملازمت کے لیے تو باہر جانا ہی ہوتا ہے۔ بچے کی زندگی کے ابتدائی سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ انہی سالوں میں جزباتی ربط مضبوط ہوتا ہے اور مستقبل بھی بہت حد تک طے ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات دیہی علاقوں میں رہنے والے والدین اور ایسے والدین جن کا تبادلہ بہت جلد ہوجاتا ہے ان کے لیے اپنے بچوں کو رہائشی اداروں میں بھیجنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا، پھر بھی یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا جانا چاہئے۔ اور اس میں بھی اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ فیصلہ ہمیشہ بچہ کے فلاح و بہبود اور حق میں ہو۔کیونکہ اس کا اثربہر حال مثبت یا منفی بچہ کی تمام تر زندگی پرپڑتاہے۔ایک اور بہت اہم عنصر ہے جو اس چیز کا فیصلہ کر سکتا ہے وہ یہ کہ بچہ کو اس وقت ہی گھر سے باہر بھیجنا چاہئے جب بچہ خود اپنا خیال رکھنے کے قابل ہو جائے اور اسے اتنی سمجھ آجائے کہ گھر سے دور رہنے سے اسکا کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور کیا نقصان۔


۔۔۔مزید

سوال جس کے جواب کی تلاش ہے ۔

مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو کیوں ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ میں نے اس کے اوپر غور کیا تو یہی بات سمجھ میں آئی کہ قومیت کے تئیں کسی ملک کے عوام کو مطمئن کرنا (یہاں پر میں نے عوام کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے) اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے ۔

اگر مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ مجھے اس بات پر بھی اعتراض ہے اس لئے کہ اسلام میں سرحد کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اس پر علماء نے کافی بحث بھی کی ہے۔اسلام سرے سے ہر قسم کی عصبیت پر قدغن لگا تا ہے ۔لیکن پھر بھی اگر وہ پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو اس کی وجہ (بہ ظاہر) مجھے یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ اسٹیٹ کی ناکامی ہے ۔مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھ ظلم و تشدد کا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔انھیں انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جسے شاید ہی کوئی انصاف پسند جھٹلا سکتا ہے ۔

ایسی صورت میں فطری طور پر انسان جھلاہٹ اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور اس صورتحال میں میں ماہرین نفسیات کے مطابق وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے لیکن یہاں پراس بات کی داد دینی چاہیے کہ اب تک مسلمانوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن نا انصافی اور حق تلفی کے احساس کا لاوا ان کے اندرمستقل پک رہا ہے ۔اور یہ احساس اور چبھن کا نتیجہ ہے ۔جسے آپ احتجاج کی ایک شکل بھی کہہ سکتے ہیں ۔

اسکی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ کچھ لوگ مسلمانوں میں نا خواندگی کو بھی اس کی وجہ مانتے ہیں ۔ تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاذ ہیں جوپاکستان کو کرکٹ میں سپورٹ کرتے ہیں ۔ کچھ تو بات ہوگی ؟ کچھ تو وجہ ہے ۔ مجھے بھی جواب کی تلاش ہے ؟۔

یہ بات بھی تو اپنی جگہ درست ہے کہ سارے مسلمان پاکستان کو سپورٹ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ہندوستان کو ہی سپورٹ کرتی ہے۔اس بارے معترضین کچھ کیوں نہیںکہتے۔ پھر ایسے بہت سے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟

مجھے کھیلوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ہے ۔لیکن بار بار میسیج ،فیس بُک میں بھڑکانے والے بعض برادران وطن کے اسٹیٹس اور کچھ احباب کا بے تکا بحث و مباحثہ مجبور کرتا ہے کہ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کی تلاش کی جانی چاہئے ۔

۔۔۔مزید

اتوار، 2 مارچ، 2014

افسانہ نگار عبید قمر کا انتقال

محمد علم اللہ اصلاحی 
معروف افسانہ نگار عبید قمر کا آج صبح پٹنہ میں انتقال ہو گیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون نمازِ جنازہ آج بعد نماز عصر محمد پور مسجد (شاہ گنج، پٹنہ) میں ادا کی جائے گی۔قمر مرحوم کا اصل نام  عبدالکریم تھا ،آپ کی پیدائش ۴؍ستمبر ۱۹۴۸ء کو بہار ہوئی تھی ۔  بی ایس سیاور ادیب کامل کے بعد میڈیکل ریپر زنٹیٹو کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے والے عبید قمر صاحب ۱۹۶۸ء سے افسانے لکھ رہے تھے ۔اب تک ان کے متعدد افسانے ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہو کر ادبی حلقہ میں اپنی پہچان تسلیم کروا چکے تھے۔ ان کے دو افسانوی مجموعے آخری کش ۱۹۸۲ ءاور ۱۹۸۲ء اور ننگی آوازیں،۱۹۸۸ء میں شائع ہو چکے ہیں جسے کافی پذیرائی ملی ۔عبید قمر افسانوں کے علاوہ بچوں کیلئے کچھ کہانیاں اور چند انشایئے وغیر ہ بھی لکھ چکے ہیں۔ 

عبیدقمر کا شمار جدید افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا لیکن ان کی جدیدیت ایسی نہیں ہوتی  جو قارئین کو ابہام میں مبتلا کر دے، انہوں نے تمثیل اور علامت نگاری کو فنکاری کے ساتھ اپنا یا ہے سعادت حسن منٹو اور بیدی وغیرہ نے جو روایات چھوڑیں انہیں بر قرار رکھنے والے بہت سے اچھے افسانے نگاروں میں ایک نام عبید قمر کا بھی ہے انہوں نے کہا نی سے کہانی پن کو نہیں نکالا ہے، بھلے ہی پیرایہ بیان علامتی ہی کیوں نہ رہا ہو۔

مختصر یہ کہ انہوں نے نہ تو پروپگنڈہ زدہ ترقی پسندی کواور نہ ہی انتہا پسند یدیت کے شکار رہے ،وہ ہمیشہ ماحول سے پیدا شدہ نفسیاتی گرہ کھولنے کی کوشش کرتے رہے ہیں انہوں نے خود ہی لکھا ہے۔"میں نے ساری کہانیاں جھیل کر لکھی ہیں، ماحول میں ڈوب کر لکھی ہیں،میں پروپگنڈہ زدہ ترقی پسندی اور انتہا پسند جدیدیت سے ہمیشہ دور رہا، اپنے ماحول سے بے پرواہو کر لکھنا تو خلاء میں بھٹکنے کےسواکچھ بھی نہیں ہے ابہام واہمال زدہ تخلیقات کی ڈھیر پر کھڑے ہو کر چند نے اپنا قداونچا کرنا چاہا نتیجہوہی ہوا کہ جدیدیت کے سیلاب میں اپلانے والے خس وخاشاک آج لا پتہ ہیں"۔

نوٹ : اس تحریر کے لئے  کامران غنی اور اردو یوتھ فورم کے ہم شکر گذار ہیں کہ بیشتر معلومات وہیں سے اخذ کی گئی ہیں ۔

۔۔۔مزید