ہفتہ، 1 اکتوبر، 2016

دوست کے والد کے انتقال پر

بیٹوں کے سر سے باپ کا سایہ جو ہٹ گیا 
اتنا بڑا مکان تھا حصوں میں بٹ گیا 
کہتے ہیں نقش پا کہ رکا تھا وہ دیر تک 
دستک دئے بغیر جو در سے پلٹ گیا 
گذشتہ کل میرے انتہائی عزیز دوست رئیس احمد کے والد محترم کا انتقال ہو گیا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مجھے اس کا علم آج ہوا جب رئیس نے مجھے فون کیا ۔ آفس میں کچھ اس قدر مصروفیت تھی کہ دوست کو ڈھنگ سے تعزیت بھی نہ کر سکا ۔ ہم میڈیا والوں کے کبھی کبھی کام بھی ایسے ہوتے ہیں کہ کان کھجانے کی فرصت نہیں ملتی ۔ دوست نے جب فون کیا تو کچھ ایسی ہی مصروفیت تھی کہ انا للہ و انا الیہ راجعون کہنے کے باوجود اسے ڈھنگ سے تسلی بھی نہ دے سکا ، ہمدردی کے چند بول بھی نہ بول سکا، جس کا احساس مجھے بعد میں ہوا ۔ میں جانتا ہوں پاب ایک ایسی نعمت ہے جس کے کھو جانے کا احساس ان کی جدائی کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ میں تو خواب میں بھی ابو کو اذیت میں دیکھ لیتا ہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں ، تم نے تو ہمیشہ ہمیش کے لئے ابا جی کو کھو دیا ۔ میرے پیارے بھائی ! اس وقت تم جس غم اور مصیبت سے دوچار ہو ۔ شاید ہم اس کو زمان و مکان سے دور محسوس بھی نہیں کر سکتے ۔ میں جانتا ہوں میرے دوست! تم ایک حوصلہ مند انسان ہو ایسے موقع پر ہمت سے کام لوگے ۔ ٹوٹنا نہیں ! بس اسے مشیت ایزدی سمجھ کر قبول کر لو ۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تمہارے دل کو مضبوط کرے ، تمہیں صبر و تحمل کی طاقت دے ۔تمہارے گھر والوں کو عزم و ہمت کی توفیق دے اور اللہ تمہارے ابا محترم کو جنت میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے ۔ میرے دوست ! ہم سب احباب تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔
والسلام
محمد علم اللہ