منگل, اکتوبر 8, 2013

ترکی وہندتعلقات اورپرنب کا دورہ

محمد علم اللہ اصلاحی
صدرجمہوریہ ہند اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گل کی دعوت پرحال ہی میں استنبول کے کامیاب دورے سے واپس آئے ہیں۔ خبروں کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں کسی ہندوستانی صدر کایہ پہلا ترکی کا سفرتھاجبکہ ترکی کے صدر 2010 میں آخری بار ہندوستان آئے تھے۔اس دورے پرصدرجمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ ، تاجروں، صحافیوں اوردانشوروں کاایک اعلیٰ سطحی وفدبھی شریکِ سفر تھا۔ پرنب مکھرجی نے ترکی کے صدر عبداللہ گل کے علاوہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوغان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے امکانات پر گفت وشنیدکی، جس میں بالخصوص سائنس ،ٹیکنالوجی اور معیشت و ثقافت جیسے موضوعات زیر غور آئے۔علاوہ ازیں ہندوستان اور ترکی کے درمیان تجارتی شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ لیکن ان تمام سرگرمیوں کے حوالے سے ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ہندوستانی میڈیا میں صدرجمہوریہ کے دورہ ترکی کوکوئی اہمیت نہیں دی گئی ،سوائے اس کے کہ چند ہی خبریں اس ضمن میں اخبارات کی زینت بنیں۔اس کی وجہ کیا ہے، ہم ٹھیک سے تو نہیں کہہ سکتے، لیکن میڈیا کی یہ بے رخی بہتو ں کو معنی خیزمحسوس ہورہی ہے۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر کے دورے کوہمارے میڈیا نے بھلے ہی بہت زیادہ اہمیت نہ دی ہو لیکن ترک سمیت عالمی میڈیا میں یہ خبر اس پورے ہفتہ بحث کا موضوع بنی رہی اور مختلف تجزیہ نگار اپنے اپنے نقطہ نظر سے پرنب کے دورہ ترکی کی خبرکو تجزیہ اور تبصرہ کاموضوع بناتے دیکھے گئے۔

ترک میڈیا میں اس دورے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعہ دونوں ملکوں کے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات میں استحکام پیدا ہوگااور سائنس و تکنالوجی کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھے گا۔ اس ضمن میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پرنب مکھر جی کو استنبول یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطاکی گئی ہے۔اس سلسلے میں اس دورے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ہندوستان کے کئی بڑے اداروں کے ذمہ داران یعنی جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی کے سربراہان کے علاوہ یوجی سی کے چیر مین وید پرکاش بھی وفد کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق اس موقع پرتعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔جن میں دونوں ملکوں کے درمیان طلباء کا تبادلہ اور اسکالر شپ جیسے پروگرام بھی شامل ہیں۔اس سے یقیناًعلمی تحقیق و جستجو کی راہیں ہموار ہوں گی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر کا ترکی سے رشتہ قدیم اور گہراہے۔دونوں ممالک کی تہذیب وثقافت میں بھی کافی مماثلت ہے۔ شاید اس لئے بھی بہت سارے ہندوستانیوں کو یہ جاننے کی خواہش رہی ہوگی کہ اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور کیا کیا موضوعات زیر بحث آئے لیکن انھیں ہندوستانی میڈیا سے مایوسی ہوئی جو بہر حال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ امریکہ یادوسرے یورپی ممالک کے سفر پر ہمارے ملک کا چھوٹے سے چھوٹا افسر یاوزیربھی جاتا ہے تو خبریں بھری پڑی رہتی ہیں لیکن اسے اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔ترکی کو قدر و منزلت اور عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے ہندی مسلمانوں سمیت بہت سے لوگ ہماریمیڈیا کے اس رویے سے حیرت زدہ ہیں۔اس سلسلے میں جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات عرض کرتا چلوں کہ صدر جمہوریہ نے اپنے وفد میں جامعہ ملیہ کے کسی ذمہ دار کو شامل سفرنہیں کیا،یاد رہے کہ ہندوستان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ وہ واحد یونیورسٹی ہے جہاں باضابطہ طور پر ترکی ڈپارٹمنٹ قائم ہے اور بڑی تعداد میں طلباء ذوق شوق سے ترکی زبان وادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ترکوں سے ہماری وابستگی کوئی نئی نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطحی آمدورفت بھی دیکھی گئی ہے۔ ابھی ماہ جولائی میں ہی ہمارے ملک کے وزیر خارجہ سلمان خورشید بھی ترکی کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے کافی خوشی کا اظہار کیا تھا، اس لئے اس بارے میں لوگوں کے توہمات بے جا بھی نہیں ہیں۔راقم الحروف کو ابھی حال ہی میں ترکی کی ایک این جی او انڈیا لاگ فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ترکی شعبہ کے منتظم ڈاکٹر محسن علی نے بڑی تفصیل سے ترک و ہند تعلقات پر روشنی ڈالی۔انہی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ ترکی حکومت کی جانب سے دہلی جیسے شہر میں چار معیاری اسکول چلائے جا رہے ہیں ،کئی ہاسٹل اور کوچنگ سینٹر بھی جس سے مسلم و غیر مسلم ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں لیکن ایسی سرگرمیوں پر بھی ہمارے میڈیا کی توجہ نہیں جاتی۔ڈاکٹرموصوف کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں سے کئی معیاری علمی و ادبی پرچوں کا بھی اجرا ہواہے، یہ یقیناًخوشی کی بات ہے۔یوں بھی ترکوں سے ہماری علمی و ادبی وابستگی گھر اور آنگن جیسی ہے،جس کے اثرات وہاں اور یہاں کے ثقافت اور کلچر میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔

آتے وقت انڈیا لاگ فاونڈیشن دہلی آفس کے ڈائریکٹر نورالدین کپارو نے ’’ٹرکش ریویو‘‘ کا ایک خاص شمارہ بھی دیا جو شہر استنبول سے متعلق ہے۔اس شمارے میں اس شہر سے متعلق کافی معیاری اور تاریخی مضامین و مقالہ جات شامل ہیں۔ابھی اسے مکمل پڑھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا ، لیکن اس کے چیدہ چیدہ حصوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک قوم کا معیار کافی بلند اور ذوق بالیدہ ہے۔شاید اسی وجہ سے ہمارے یہاں یعنی ہندوستان سے بھی کافی لوگ ترکی گئے، وہاں آباد ہوئے اور وہاں کے بارے میں کافی کچھ لکھا۔معروف ادیب سید سجاد حیدر بھی اسی وجہ سے ترکی سیکھنے پر مجبور ہوئے تھے اور انھیں ترکی اتنا بھایا تھا کہ انھوں نے اپنے نام میں ’’یلدرم‘‘ کا اضافہ کر لیا تھا۔انھوں نے بغداد اور قسطنطنیہ (آج کا استنبول) کے برطانوی قونصل خانے میں ترکی زبان کے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔انھوں نے بڑی تعداد میں وہاں کے لٹریچر کا تر جمہ بھی کیا۔ان کے قلم سے ہوئے 1906ء4 میں خلیل رشدی کے ’’نشے کی پہلی ترنگ‘‘ نامی افسانے کے ترجمہ کو اردو دان حلقے نے بطور خاص خوب سراہا۔انھوں نے اس کے بعد ترکی سے کئی ڈرامے اور افسانے ترجمہ کیے۔اسی طرح علامہ شبلی نے کافی کچھ ترکی کے بارے میں لکھا اور وہاں سے اپنے خصوصی لگاؤ کا ذکر کیا ،علامہ شبلی نے توترکی سے واپسی کے بعد باقاعدہ سفرنامہ لکھا جسکی تاریخی اور ادبی حیثیت سے شاید ہی کوئی انکار کر سکتا ہے۔اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کے والد مولوی خیر الدین کوبھی ترکی کی علمی فضا راس آنااوران کے ذریعہ ترکی کی لغت تیار کرنا ایک اہم کارنامہ تھا جسے ہم فراموش کر چکے ہیں۔

یہ ترکی سے اردو ادیبوں اور شاعروں کی محبت ہی تھی کہ 1922ء میں علامہ نیاز فتح پوری نے ایک علمی اور ادبی پرچہ کا آغاز کیا تو ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی نسبت سے اس کا نام ’’نگار‘‘ رکھا۔ علامہ اقبال کو بھی ترکی سے خاص نسبت تھی اور اپنی شاعری میں وہ اس کا جابجا ذکر بھی کرتے ہیں۔ترکی قلمکاروں نے بھی ہندوستان کو اتنی ہی اہمیت دی اور شاید یہ بھی وجہ رہی ہو کہ جب خالدہ ادیب خانم 20ء کی دہائی میں ہندوستان آئیں تو ان کا استقبال شہزادیوں کی طرح کیا گیا، اسی طرح دوسرے ترک ادیب بھی ہندوستان کے اردو خواں طبقے میں مقبول و محبوب رہے۔خالدہ ادیب خانم نے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کئی خطبات بھی دیے، جنھیں تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ہمارے ملک کے باسیوں میں ترکوں اور سلطنت عثمانیہ سے وابستگی اور اس کیلئے محبت و مودت کے احساس کا عالم یہ تھا کہ ہندوستان میں خلافت تحریک چلائی گئی تو اسے مسلم ہندو اتحاد کی علامت کادرجہ حاصل ہوگیا جس کے قائدین میں محمد علی جوہر کے علاوہ گاندھی جی بھی تھے۔پہلی عالمی جنگ نے جہاں دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا، وہیں سلطنت عثمانیہ کا سورج بھی ڈوب گیا۔ کمال اتا ترک نے خلافت کو خیر باد کہا اور 1923 میں جدید ترکی کی بنیاد رکھی۔اس نے ترکی میں جدید مغربی خیالات و نظریات اورطرز معاشرت کا دور شروع کیا۔ وہ ملک جو یورپ کا ’’مرد بیمار‘‘ کہلاتا تھا اور بہت پسماندہ اور بدحال تھا اس کی حالت اقتصادی طور پہ قدرے بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن 1929 میں دنیا شدید اقتصادی بحران کا شکار ہو گئی جس کوعظیم کساد بازاری کہتے ہیں،ظاہر ہے اس کا اثر ترکی پر بھی پڑا۔

کہا جاتا ہے کہ یہی بحران آگے چل کر دوسری عالمی جنگ کا ایک سبب بنا۔ اس درمیان ترکی میں ناخوشگوار حالات پیدا ہوتے چلے گئے اور اس مملکت کواقتصادی بحران نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کے سکے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی۔ قرض اور درآمد کی ادائیگی کے لئے خزانہ خالی ہوگیا۔ ایسے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ذریعہ حکومت کی مدد کی گئی اور یوں اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہ وہ وقت تھا جب مملکت ترکی کی اقتصادی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے جہاں ایک دوسرے کو بربادکیا وہیں جنگ کے بحران میں پھنسی ہوئی ترکی کی معیشت کو سہارا دیا۔ 1980۔88 ء کے درمیان عراق اور ایران نے ترکی کے ساتھ تجارت کی، خاص طور سے عراق نے ترکی کی بندرگاہوں کا استعمال کیا جس کے ذریعہ ترکی کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ملا۔ 90 ء کی دہائی میں ترکی میں مستقل اقتصادی ترقی کاایک عمل شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ترکی اس وقت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کے حساب سے وہ دنیا کی 17 ویں بڑی معیشت ہے۔ چند سال پہلے جب پوری دنیا مالی بحران کا شکار تھی،اس وقت ترکی کی معیشت 8 اور 9 فیصد سالانہ ترقی کی شرح پر تھی۔اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ترکی یورپ میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے وہ اعلی وسطی آمدنی والا ملک ہے۔

فوربس سروے کے مطابق استنبول میں ارب پتی افراد کی تعداد 28 ہے جبکہ نیو یارک میں 60 ، ماسکو میں 50 اور لندن میں 32 ارب پتی رہتے ہیں۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول ارب پتیوں کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام انتظامی اختیارات وزیر اعظم اور کابینہ کے پاس ہیں۔ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے، 1933 کے بعد سے ووٹنگ کا حق 18 سال کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ ہندوستان کی طرح اس ملک میں درجنوں سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہیں۔ آئین کے مطابق تر ک خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی میں ایک خاتون حکومت بھی ملک کی باگ ڈور سنبھال چکی ہیں جبکہ امریکہ جیسے ملک میں ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

ہم ترکوں سے اپنے دیرینہ تعلقات وروایات کا ذکر بار بار کرتے ہیں۔لیکن ان تمام حقائق کے باوجود ہم میں سے بہت کم ہیں جو ترکی کی صنعت ، زراعت اور معیشت کاقریب سے جائزہ لیتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کی اندرونی کل پیداوار 1358 ارب ہے۔ کاروبار کے لئے بہتر ممالک میں ترکی 71 ویں نمبر پر ہے۔اس کی سالانہ برآمدات163.40 ارب ڈالر ہے اور وہ برآمد کے بارے میں دنیا میں 29 واں سب سے بڑا ملک ہے 2012 ء تک ترکی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 152.90 ارب ڈالر تھا۔ اس سلسلے میں وہ دنیا کا 29 واں بڑا ملک تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی 209 ارب ڈالر جبکہ سالانہ خرچ 228.3 ارب ڈالر ہے۔ اس وقت جب کہ ہمارے یہاں تبادلہ کے ذخائر کم ہو چکے ہیں اس تناظر میں دیکھیں تو ترکی کے پاس کرنسی ذخائر اگست 2013 تک124.187 ارب ڈالر تھے۔ ترکی دنیا میں 10 واں سب سے بڑا سٹیل پروڈیوسر ہے اور یورپ میں ٹی وی تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

فن تعمیر کی صنعت میں بھی یہ چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی 33 تعمیراتی کمپنیوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس کے طول و عرض میں 9 بین الاقوامی سمیت 102 ہوائی اڈے ہیں۔ہوائی مسافروں کی سالانہ تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ ریلوے کا 22 واں سب سے بڑا نظام ترکی میں ہے۔ سڑکوں کا جال چار لاکھ 26 ہزار کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ جس میں 2 ہزار کلومیٹر ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔ ترکی کے پاس 12 سو جہاز ہیں اور دنیا میں جہاز رانی کی 7 ویں بڑی صنعت ہے۔لینڈ لائن ٹیلی فون اور موبائل کی طرف سے ترکی دنیا کا علی الترتیب 18 واں اور 15 واں بڑا ملک ہے۔ سیاحت میں ترکی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے 100 بہترین ہوٹلوں میں سے 10 ترکی میں ہے جہاں 3 کروڑ سیاح ہر سال آتے ہیں اورجن سے اسے 22 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

ان تمام خشک اعداد و شمار ز اور تفصیلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم علم اور ادب کی دنیا کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں وہاں دنیا کے مشہور مصنف اور شاعر ملتے ہیں۔ ناظم حکمت اور محمد عاکف ارصوئی کا ہمارے یہاں کافی نام ہے۔ اسی طرح جدید ترکی کے مصنفین میں اورخان پاموک ادب کا نوبل انعام لے چکا ہے۔ ہمارے ملک کو اس بات پر فخر ہے کہ اتنے بڑے عظیم قلم کار کی مہمان نوازی کر چکا ہے جے پور لٹریری فیسٹیول میں جس طرح سے لوگوں نے ان کی عزت افزائی کی، یہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔کل کا قسطنطنیہ جو آج استنبول کے نام سے مشہور ہے ، اس کے بارے میں اورہان پامک نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ہر عمر اور ہر نسل کے بچے ، نوجوان اور بڑے ، عورتیں اور مرد اپنی کھڑکیوں یا بالکونی میں کھڑے ہوکر ان بحری جہازوں کو تکتے اور گنتے رہتے ہیں جو آبنائے باسفورس سے گزرتے ہیں۔ترکی کے اس مصنف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کتابیں ترکی کے عوام اس طرح پڑھتے ہیں گویا اپنی نبض ٹٹول رہے ہوں۔ابھی حال ہی میں معروف ہندوستانی پبلشر پنگوئن نے ان کی کتاب ’’اسنو‘‘کا خوبصورت ہندی ترجمہ شائع کیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ ترکی علم و ادب اور ثقافت کے چاہنے والے ہندوستان میں بڑی تعداد میں ہیں۔میں نے یہ کتاب پڑھی ہے، واقعی کافی دلچسپ ہے۔اس کتاب کے ذریعہ ہم یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ترکی کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

الغرض ہم جتنی باریکی سے ہندوستان اور ترکی کا جائزہ لیتے ہیں، علم وادب اورثقافت کی پرتیں تہہ در تہہ کھلتی جاتی ہیں۔ہمیں اس ملک کی قدر کرنی چاہئے اور ایک ایسے دور میں جب کہ ہمارے ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ایک مخلص اور ترقی کی طرف گامزن ملک کے طور پر ترکی کے احساسات و جذبات کی قدر اور خلوص کا اسی انداز میں استقبال کرنا چاہئے۔ہمارے ملک کے صدر پرنب مکھر جی نے وہاں جن جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے اسے حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ایک دوست مملکت کے خلوص اور محبت کا تقاضہ بھی ہے اور خود ہمارے ملک کے امن ومفاد عامہ کے لئے مفید ترین بھی۔اگر انقرہ ا اور دہلی کی یہ کوشش بار آور ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہوگا۔بلکہ اس پورے خطہ کے لئے بھی مفید ،اور اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ اس خطہ کے مسائل کو حل کرنے کے حوالہ سے ترکی انتہائی مثبت کردار ادا کرنیکی پوزیشن میں ہے، کیونکہ ترک قیادت کو پاکستان میں بھی تمام حلقوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ہندوستان ،پاکستان اور افغانستان کے مسائل کو حل کرنے میں ترکی کا معاشی درجہ بھی ممد و معاون ہوسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کارپردازان سلطنت ان امکانات کو جانچ ٹٹول کر نیک نیتی سے آگے بڑھنے کا تہیہ کریں اور پھر اس ضمن میں جلد از جلد عملی اقدامات اٹھائیں۔