ہفتہ, اکتوبر 1, 2016

ایک دوست کے اسٹیٹس پر کیا گیا تبصرہ ۔۔۔۔۔۔

ایک دوست کے اسٹیٹس پر کیا گیا تبصرہ ۔۔۔۔۔۔
محمد علم اللہ
اب ادھر سے بھی ایک واقعہ سماعت فرمائیے ، میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور بعد ازاں ماس کمیونی کیشن سے ایم اے کیا ۔ ماس کمیونی کیشن میں زیادہ تر غیر مسلم طلبا داخلہ لیتے ہیں ، اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو فیس بہت زیادہ ہے دوسرے ٹیسٹ کچھ زیادہ سخت مانا جاتا ہے ، بہر حال کہنا یہ ہے کہ جامعہ کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دئے جانے کے باوجود پروفیشنل کورسیز میں مسلمانوں کی تعداد کم ہی رہتی ہے جس میں سے جامعہ کا ماس کام بھی ہے ، یہاں عموما بڑے گھرانوں اور الیٹ کلاس کے طلباء داخلہ لیتے ہیں جن کا پڑھائی کے علاوہ خاص مشغلہ شباب ، شراب ، سیکس بھی ہوتا ہے ان کے نزدیک کھلے عام بوس و کنار ، شراب نوشی ، ناجائز تعلقات فضول خرچی وغیرہ کو معیوب نہیں بلکہ الیٹ اور بڑے ہونے کی نشانی تصورکیا جاتا ہہے ۔ ہم نماز پڑھنے جاتے تو کبھی کبھی ہمارے کچھ ہندو احباب بھی ہچکچاتے ڈرتے مسجد آجاتے ۔ ایک دن میرے ساتھ ایک مسلم دوست بھی آ گیا میں نے اس سے کہا اب مسجد آئے ہو تو نماز پڑھ لو وہ پہلے تو لیت و لعل سے کام لیتا رہا انکار کرتا رہا ، پھر میں نے وجہ جاننی چاہی تو بولا میں ناپاک ہوں ، میں نے اس سے کہا یار ! تم میرے کمرے سے غسل کر کے چلے ہو صاف کپڑا بھی پہنا ہوا ہے پھر کیسے ناپاک ہوئے ۔ تو وہ ہنسنے لگا اور ہندو احباب بھی ہنسنے لگے اور اسکی بہانہ بازی پر اس کا مذاق اڑانے لگے تو وہ شرماتے شرماتے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ میں نے محسوس کیا ابھی میں نے ایک رکعت بھی مکمل نہیں کی اور وہ نماز پڑھ کے بیٹھ چکا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا میں ایک سانس میں ثنا ، الحمد شریف ، انا اعطین پڑھ سکتا ہوں پھر بھی اتنی تیز نماز نہیں پڑھ سکتا ، آخر تم نے کس اسپیڈ سے نماز پڑھی ذرا مجھے بھی سنا و تو دیکھوں کتنا اسپیڈ پڑھ لیتے ہو ، تو اس نے کہا یہ ثنا ، الحمد اور ان کیا ہوتا ہے ، مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں ہے ،میں نے پوچھا پھر نماز میں کیا پڑھتے ہو تو کہنے لگا بس لا الہ الہ کہہ لیتا ہوں ، باخدا مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک بیس پچیس سال کے مسلم نوجوان کو جسے ساری دنیا کی معلومات ہے لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف ہے ۔ میں اس کی شرمندگی کو دیکھتے ہوئے بس اتنا کہہ سکا اگر تم چاہو تو میں یاد کرا سکتا ہوں ، لیکن میرے مسلم بھائی نے نہیں چاہا جبکہ میرے کئی ہندو دوست اردو سیکھ کر جامعہ میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے ۔