بدھ, فروری 13, 2013

منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلہ


منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلہ
محمد علم اللہ اصلاحی
حج کواسلام کا پانچواں نبیادی ستون کہاگیا ہے اورصاحب ایمان کیلئے استطاعت رکھنے کی صورت میںکم از کم زندگی میں ایک بارادائیگی کو فر ض قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایک سے زائدحج کی مسلمہ فضیلتوںسے انکار کی بھی گنجائش نہیں۔شاید اسی سبب ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک بار ضرور حج کرنے کےلئے مکہ مدینہ جائے۔اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حکومت ہند نے مسلمانوں کو دی جانے والی حج سبسڈی کوایک عازم کے لئے پانچ سال میں ایک بار کے بجائے زندگی میں صرف ایک بار دینے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ عدالت میں پیش کئے گئے ایک بیان حلفی میں حکومت نے بتایا کہ انہوں نے حج کے حوالے سے نئی پالیسی ترتیب دی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان عازمین کو حج پر جانے کا موقع ملے جو پہلے کبھی حج پر نہیں گئے ہوں۔ مرکزی حکومت نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ”سبسڈی پر پانچ سال کے بجائے زندگی بھرمیں صرف ایک بار حج پر جانے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ ایک بڑا فیصلہ ہے، اس سے ایک حاجی کو زندگی میں صرف ایک بار سبسڈی کا فائدہ ملنے کے علاوہ ان لوگوں کو حج کرنے کا موقع ملے گا جو پہلی بار حج پر جانا چاہتے ہوں۔

واضح ہو کہ حکومت ہند کی جانب سے ہر سال حج کمیٹی کے ذریعہ فریضہ ¿ حج کی ادائیگی کے خواہشمندعازمین کو فضائی کرائے میں سبسڈی دی جاتی رہی ہے ۔حکومت خودسبسڈی پر آنے والا صرفہ حکومت ایئر انڈیا کو ادا کرتی ہے۔حال میںہی مرکزی حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس التمش کبیر اور جسٹس رجنا پرکاش دیسائی کی بنچ نے یہ حکم دیاتھا کہ حکومت کی طرف سے جو سبسڈی دی جا رہی ہے اس کا فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگ ایک بار سے زیادہ حج کے لیے چلے جاتے ہیں ، جس کا براہ راست اثر ان مسلمانوں پر پڑتا ہے جو ایک بھی باربھی حج کرنے نہیں جا سکے ہیں۔ اس لئے آئندہ دس برسوں کے اندر یہ سبسڈی ختم کی جانی چاہئے اور ایسے مسافروں کو ترجیح دی جانی چاہئے جو پہلی بار حج کرنے جا رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ کا یہ بھی حکم تھا کہ سرکاری خرچ پر حج کے لیے جانے والے کابینہ کے ارکان کی تعداد میں بھی کمی کی جائے۔

دیگر معاملات کی طرح اس معاملہ کو لیکر بھی ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے درمیان بحث و مباحثہ اور حمایت و مخالفت کا دور شروع ہو گیا ہے ۔اس سلسلہ میں دہلی میں ایک فیڈریشن کا بھی وجود عمل میں آگیا ہے جس نے حکومت کے اس فیصلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پلیٹ فارم بنا کر تحریک چلانے کی بات کہی ہے ۔اس فیڈریشن کا نام ”فیڈریشن آف این جی اوز آف دہلی فار حج “رکھا گیا ہے ۔اس فیڈریشن نے اپنے مطالبہ کو لیکر جہاں حکومتی اہلکاروں کو مکتوب ارسال کیا ہے وہیں حج کمیٹی آف انڈیا ،مسلم پرسنل لاءبورڈ،اقلیتی کمیشن اوردہلی حج کمیٹی کو بھی حکومت کے رویہ میں تبدیلی لانے کے لئے توجہ دلانے کی بات کہی ہے ۔فیڈریشن کو حمایت دینے والوںمیں بطور خاص دہلی حج کمیٹی کے ڈاکٹر پرویز میاں ہیں جنھوں نے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این جی اوز کے مطالبات درست اور جائز ہیں اور مجھے اس سے پوری طرح اتفاق ہے ،وہیں بعض تنظیموں کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔

جبکہ بعض تنظیموں کی جانب سے اس قسم کی بھی باتیں آئی ہیں کہ حکومت نے یہ فیصلہ پوری طرح غیر جانب دار رہ کر، مسلمانوں کے مفاد میں کیا ہے ۔ان کے بقول یہ ان لوگوں کے لئے زیادہ سود مند ثابت ہوگا جو کبھی حج کرنے کے لئے نہیں گئے۔کئی تنظیموں نے کہا ہے کہ دین اسلام میں ہر مسلمان کو ایک بار حج پر جانے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے ہونے والی لاپرواہی اور نظر انداز کی جانے والی پالیسی کی وجہ سے بہت سے لوگ پیسہ ہونے کے باوجود سرکاری سبسڈی کا فائدہ اٹھا کر کئی بار حج کرنے چلے جاتے ہیں جبکہ حقیقی مستحقین حکومت کی سبسڈی کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ان کے بقول یہ سیاسی سرگرمیوںکا حصہ ہے جس سے مسلمان اچھی طرح سے واقف ہیں اس لئے اس حکم پر بھی سیاسی چادر چڑھانے کی پوری پوری کوشش کی جانے کی امید ہے،مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے ۔

اس معاملہ کو لے کر مسلم پرسنل لاءبورڈ،جماعت اسلامی اور جمعیة العلماءسمیت دیگرمقتدر ملی تنظیموں کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان تنظیموں نے برابر کہا ہے کہ حج کے سفر کے لئے کوئی سبسڈی ہونی ہی نہیں چاہئے۔ان کے بقول حج ایک مذہبی سفر ہے اور اسے ملک بھر کے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ملی سبسڈی کی بنیاد پر مکمل نہیں مانا جا سکتا۔ سفرحج پر ویسے ہی لوگ جا سکتے ہیں، جو اقتصادی اور جسمانی طور پر فعال ہوں۔ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک حج سفر کرنا بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کئی اور باتیں بھی استعمال ہوئی ہیں، جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے یوںتو عدالت کی تنبیہ کے بعد اب نوٹس لیا ہے، لیکن اس ملک کے بہت سے دانشور بہت پہلے سے ہی کوشش کر رہے تھے کہ اس کو سرے سے ہی ختم کر دیا جائے۔کیونکہ یہ حج سفر پر سبسڈی مٹھی بھر لوگوں کو خوش کر کے، کروڑوں کے ووٹ بینک کو اپنا بنانے کا ہتھکنڈہ بھر ہے ۔آج بہت سی چیزوں پر ہماری حکومت سبسڈی دیتی ہے ۔مثال کے لئے رسوئی گیس کو لے لیجیے۔ بغیر سبسڈی کے یہ تقریبا 1000 کا سلنڈر پڑتا ہے۔ سبسڈی کے ساتھ آج یہ تقریبا 425 کا ہے۔ یہ شرح 3600 ماہانہ والے ایک عام مزدور کےلئے ہی نہیں ہے، بلکہ50ہزار سے زائد ماہانہ پانے والے کسی بھی اعلی درجے کے افسر یا ملازم یا دیگر پیشہ ورافراد کےلئے بھی ہے۔ یہی حال پٹرول اور ڈیزل کے معاملے میں بھی ہے ایک مڈل کلاس دو پہیہ گاڑی ہولڈر کو بھی پٹرول تقریبا 70 روپے لیٹر ملتا ہے اور وہی شرح لکھپتی اورکروڑپتی دو پہیہ، چار پہیہ گاڑی ہولڈرز کے لئے بھی ہے۔ اسی طرح کی سبسڈی دیکر حکومت مسلمانوں کو برابر احسان جتاتی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات تک کے لئے بے درغ پیسے خرچ کر رہی ہے ۔حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ماصل معاملہ کیا ہے ۔

مسلمانوںکاایک بڑا طبقہ بہت پہلے سے یہ بات کہتارہاہے کہ حج سبسڈی سے حاجیوں کو نہیں بلکہ جہاز کمپنیوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور جہاز کمپنیاں کی آڑ میں نہ جانے کتنامنافع حاصل کررہی ہےں، اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔کسی جہاز کمپنی کو ایک ساتھ سوا لاکھ کسٹمر ملنا بہت بڑی بات ہے۔ حکومت سبسڈی نہیں دے گی تو جس کمپنی کو مسافر کی ضرورت ہے، وہ خود ہی کرایہ کم کرے گی۔حج سبسڈی کوسیاسی کھیل بتانے والوںکاخیال ہے کہ ایک طرف اگر ووٹ بینک کی لالچ ہے تو دوسری طرف خود غرضیاں ہیں۔انجام کارحجاج کرام عرصہ  دراز سے سبسڈی کے نام پر بے وقوف بنائے جاتے رہے ہیں۔حج کی ادائیگی کے دوران نہ صرف یہ کہ سبسڈی کے نام پر ہی عازمین کوٹھگاجاتا رہاہے بلکہ جانکاروںکا خیال ہے کہ عازمین 
کے قیام سے لے کر جملہ امور میں بھی عجیب و غریب قسم کی بے ضابطگی کا عمل دخل ہے۔


یہ تذکرہ بے محل نہیں کہ ماضی میں حرم شریف کے نزدیک حاجیوں کے قیام کی سہولت مہیاکرانے کی بجائے حرم پاک سے خاصا دورٹھہرنے کا بندوبست کیاگیا جبکہ عازمین کو اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ انہیں خصوصی مراعات فراہم کرائی جائے گی۔جانکاروںکاعام خیال یہ بھی ہے کہ سفرحج کے دوران عازمین کی پریشانیوںمیں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ایماندار قسم کے سرکاری اہلکار اگر ایک طرف ذاتی منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلے لیاکرتے ہیں وہیں دوسری جانب سرکاری سطح پر بھی پالیسیوںک انفاذووٹ بینک کو ذہن میں رکھ کر ہی کیاجاتارہا ہے۔ حال میں آرٹی آئی کے ذریعہ حاصل معلومات سے یہ نتیجہ بھی اخذکیاجاچکاہے کہ حج خیر سگالی وفد کو بھی مخصوص طبقہ کو خوش کرنےکیلئے آلئہ کار کی حیثیت سے استعمال کرنے کی کوشش ہو چکی ہے۔ایسے میں عدالت عظمیٰ کی خصوصی دلچسپی بے سبب بھی نہیں۔امید کی جارہی ہے کہ حج کی ادائیگی کے عوامل میں پائی جانے والی والی بے ضابطگیاں جلددور ہوںگی بشرطیکہ حج کو ڈیل بنانے والوں کے خلاف لوگ عدلیہ سے رجوع کریں اوروہاں اپنے موقف کو درست طریقے سے رکھیں۔