جمعہ, جنوری 24, 2014

دہلی سے گورکھپور کا سفرنامہ


محمد علم اللہ اصلاحی
مختلف جگہوں کی سیر کا شوق یوں تو مجھے بہت ہے ،مگر مصروف زندگی میں اس کا موقع کم ہی مل پاتا ہے اور اگر مل جائے تو اسے غنیمت جانتے ہوئے سیرو ا فی الارض کے حکم کے تحت نکل کھڑا ہوتا ہوں۔۳۰ نومبر۲۰۱۳ء سے۲ دسمبر ۲۰۱ئتک گورکھپور کا یہ سفر بھی کچھ اسی نوعیت کا تھا اور یہ بہانہ تھا دوست کی شادی کا۔مجنوں گورکھپوری ،فراق گورکھپوری اور ایسے کئی نام ذہن میں پہلے سے ہی محفوظ تھے اس لئے اس شہر کو قریب سے دیکھنے کی اور بھی خواہش تھی۔  اور اس بار جو یہ موقع ملا تو میں نے اس کو ایک نعمت تصور کیا اورٹرین کے ذریعہ اس شہر کے لئے روانہ ہو گیا جس کا نام بچپن سے سنتا آیا تھا۔ٹرین میں بیٹھتے ہی اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ زیادہ تر مسافر عام سے دیہاتی ہیں۔ جن کی سادہ سی دیہات کی زندگی ہے جن کے پاس کسی قسم کی لگی لپٹی نہیں ہے۔سادگی ان کے چہرے اور رہن سہن سے صاف عیاں تھی۔بوگی میں کئی ایسے افراد ملے جنہوں نے انتہائی خوش دلی کا مظاہرہ کیا اور مسکرا کر استقبال کیا۔

میں جس بوگی میں بیٹھا تھا اس میں ایک پنڈت جی بھی تھے جو چہرے مہرے سے ہی قابل معلوم ہوتے تھے ، جب میں اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے گیا تو دیکھا کہ وہ صاحب کیکئی اور راجہ دسرتھ کی بابت کچھ بتا رہے تھے۔میں عموماً اس قسم کی باتوں کو فضول ہی تصور کرتا ہوں اورسننا پسند نہیں کرتا اور اسی وجہ سے سفر میں بھی کوئی نہ کوئی کتاب ساتھ ضرور رکھتا ہوں ،لیکن ان پنڈت جی کی باتیںاس قدر دلچسپ تیںت کہ ‘محمد زمان آزردہ ‘کی ترتیب دی گئی کتاب ’کشمیری افسانے‘ جسے میں ابھی تھوڑی دیر پہلے تک انتہائی دلچسپی سے پڑھ رہا تھا،  اب اس میںبھی وہ مزا نہیں آ رہا تھا اور ذہن بار بار پنڈت کی طرف ہی جا رہا تھا۔پنڈت بھی کچھ موڈ میں تھے کہنے لگے، ’’ بیٹا ! ای کتبیا اوتبیا بند کرا اور سن ہمری بتیاں اتنی گیان کی بتیاںکیہؤ نا ہی بتائی ‘‘۔ اور پھر پنڈت جی نہ جانے کیا کیا بتاتے رہے گوتم بدھ ،آتما ،پنیہ ،گنگا ہر موضوع پر ایک لمبی داستان تھی۔ ان کی باتیں سننے کے بعد مجھے بھی اپنی بات کہنے کا موقع ملا اور میں نے بھی یہ سوچتے ہوئے کہ ہمارا کام تو محض پہنچا دینا ہے اسلام اور اس کی حقانیت پر بھر پور انداز میں اپنی بات رکھنے کی کوشش کی ،قرآنی آیات ،احادیث ،تاریخی واقعات اور منطقی استدلال۔ ان سب کے نزول کی الہامی کیفیت تھی۔ واقعی یہ خدا کا کرم تھا کہ میں اپنی بات احسن طریقہ سے ان کے سامنے رکھ سکا۔

پنڈت جی کے علاوہ دہلی سے ٹریننگ حاصل کر کے واپس لوٹ رہے اترپردیش کے اساتذہ کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد تھی ،مسلمانوں کے تعلق سے انھوں نے اپنے بہت سے شبہات کا اظہار کیا اور بہت سے سوالات بھی کئے،  مجھے یہ نہیں پتہ کہ میں ان کو جواب دینے میں کس قدر کامیاب رہا۔ لیکن پنڈت جی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد صاحب دنیا کے سب سے بہترین پروش تھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت پر بھرپور انداز میں تقریر کی۔  پنڈت جی واقعی پڑھے لکھے اور قابل آدمی تھے اور میں سوچ رہا تھا کاش یہ بندہ اسلام قبول کر لے تو اس کو فلاح دارین مل جائے۔

رات ہو چکی تھی اور لوگوں کو نیند بھی آنے لگی تھی۔ اس لئے محفل برخاست ہوئی اور سب اپنی اپنی برتھ پر سونے چلے گئے۔نیند بہت اچھی آئی۔ یوں بھی مجھے سفر میں تین چیزیں بہت پسند ہیں سونا ،کتاب کا مطالعہ کرنا یا پھر کائنات کا مشاہدہ ، رات میں کیا مشاہدہ کرتا یا کیا پڑھتا ،سو نہ چاہتے ہوئے بھی لائٹ آف کرنی پڑی۔صبح اٹھے تو دوبارہ محفل بپا ہوئی اور پنڈت جی نے پھر اپنی تقریر شروع کی۔ اب کے یہ تقریر ہندوستانی تہذیب اور اقدار پر تھی ،کبھی وہ نوجوانوں کو مخاطب کر کے ڈانٹنا شروع کر دیتے تو کبھی روئے سخن والدین اور بڑوں کی کمیوں اور کوتاہیوں کی طرف ہو جاتا ، پوری تقریر سچائی اور حقیقت پر مبنی تھی اس لئے مجھے بے حد پسند آئی۔ٹرین تین گھنٹہ لیٹ تھی لیکن اس درمیان اس تاخیر کا احساس ہی نہ ہوا۔

صبح تقریباً دس بجے ہم گورکھپور اسٹیشن پہنچے۔ہمیں ریسیو کرنے کے لئے حافظ فیض کے بھائی سیف اور ان کے ایک دوست کار لے کر پہنچ چکے تھے۔فوراً کار میں بیٹھے اور ہوٹل پہنچ گئے جہاں ہمارے رہنے کا انتظام کیا گیا تھا۔پہنچتے ہی فوراً کھانے پینے کا انتظام ہوا ، نماز جمعہ تویوں ہی چھوٹ چکی تھی سو ظہر کی نماز پڑھی ، حافظ فیض کے بھائی سیف نے بتایا کہ عصر کی نماز کے بعد بھائی کا نکاح مسجد میں ہونا ہے ، سو ہمیں عصر کی نماز وہیں پڑھنی ہے۔عصر کی نماز سے ذرا پہلے ہم تمام احباب مسجد پہنچ گئے۔نماز کے بعد امام صاحب نے نکاح اور اس کی فضیلت پر مختصراً تقریر کی اور بالکل سادہ طریقہ سے نکاح پڑھا یا۔،نہ کوئی بارات نہ ڈھول نہ تاشا۔ مجھے یہ انداز بہت عمدہ لگا۔لوگوں نے دعائیں دیں اور پھر واپس اپنی اپنی منزل کو لوٹ آئے۔عشاء کی نماز کے بعد دوچار لوگوں کے ساتھ حافظ فیض میاں جو دولہا تھے، گئے اور کھانے کے بعد وداعی ہو گئی ، لوگوں نے نوجوان طبقہ میں سنت کے طریقہ سے دلچسپی اور جہیز جیسی لعنت سے انکار کی بڑی ستایش کی۔ہم لوگ ہوٹل آئے تو دیر تک گپ شپ رہا۔ اس گپ شپ میں مختلف موضوعات زیر بحث آئے جن میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت ،امریکہ ،عرب حکمرانوں کی بے حسی کا غلبہ رہا۔ تقریباً تین بجے سب اپنے اپنے بستروں پر سونے کے لئے گئے۔

یہاں جامعہ کے کئی ایسے احباب سے بھی ملاقات ہوئی جن سے اس سے قبل کبھی شناسائی نہیں تھی۔ان سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور آج کل کے نوجوانوں میں تعلیم ،اپنے کیریر سمیت قوم کے تئیں فکر ، ملک و ملت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ یہ سب ان کی زبان سے سن کر بے انتہا خوشی ہوئی،صبح ناشتہ کے بعد ایک مرتبہ پھر پر از رونق محفل سجی ، احباب نے ہم عمر ہونے کے ناطے مجھ سے بے تکلفی سے بے شمار سوالات کیے (جن میں جنسی موضوع کچھ زیادہ ہی تھا) اور اس سے متعلق مجھ سے اسلام کا نظریہ جاننا چاہا جن کا میں نے اپنی حد تک تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی۔اگر کہیں غلطی ہوئی ہوگی تو خدا تعالی سے معافی کا خواستگار ہوں۔اس دوران مجھے اس بات کا شدت سے احساس بھی ہوا کہ اگر ہمارے علما کو اسلام کی سر بلندی کی خاطر کام کرنا ہے تو ان کو اپنے دعوت کے روایتی طریقہ سے ہٹ کر مقتضیات زمانہ کو نگاہ میں رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔آج کی نسل ہر بات کو آنکھ موند کر مان لے ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ وہ ہر چیز کو دلائل کی روشنی میں پرکھنے اور سمجھنے کے خواہش مند ہیں۔ ایسے میں ان کی تشفی کے لئے ہمیں ان کیفکری منہج اور ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو پرکھ کر ہی جواب دینا ہوگا۔ان نوجوانوں کے ذریعہ اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ مولانا الیاس جمیلی ،جاوید احمد غامدی ،ڈاکٹر اسرار احمد اور ذاکر نایک جیسے شخصیات کے لیکچروں کو وہ نہ صرف سنتے ہیں بلکہ ان کے لیے ان کی باتیں سمجھ میں آنے والی بھی ہوتی ہیں۔کچھ نوجوانوں سے بات چیت میں یہ چیز بھی سامنے آئی کہ تبلیغی جماعت نے ایک بڑے حلقہ کو متاثر کیا ہے لیکن علم سے خالی حکایتیں ان کے ذہن نشین ہو گئی ہیں ، اس پرمستزاد یہ کہ وہ ان کی صداقت کا یقین بھی رکھتے ہیں اور یہ کیفیت کسی حقیقت اور علمی استدلال کے قبولیت میں مانع ہے۔

ہمارے اس حلقہ احباب میں سماجی کارکن ،وکیل ،ریسرچ اسکالراور علم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تھے۔جن کی علمی و ادبی اور طنز و مزاح کی باتیں سن کر کافی محظوظ ہوئے۔بات چیت اور بحث و مباحثہ کے بعد رات کو ہم لوگ گھومنے نکل جاتے اسٹیشن کے قریب کھوکھے میں چائے پیتے ،سگریٹ والے سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے اڑاتے ،کچھ دیر خوش گپیاں کرتے اور پھر بائک اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا مزہ لیتے ہوئے واپس آ جاتے۔اس کیف وسرور سے بھر پور فضا میں بھی میں نے ایک چیز شدت سے محسوس کی، وہ نوجوانوں کے اندر خوف کی کیفیت تھی۔گذشتہ دنوں لگاتار پورے ملک سے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے تعلق سے یہ نوجوان بھی کافی مضطرب تھے اور حکومت و ایجنسیوں کے ناروا و بے انصافی پر مبنی رویہ سے نالاں بھی۔شاید اسی سبب کہیں بھی جاتے ہوئے اکثر ایک دوسرے کو شناختی کارڈ ساتھ رکھنے اور جہاں بھی ہوں فون کرتے رہنے کی تاکید کی جاتی۔گاڑی چلانے کے دوران بھی احباب یہ کہتے کہ زیادہ تیز گاڑی نہ چلائی جائے۔سیر و تفریح کے دوران پورے علاقہ میں آوارہ گایوں کی بہتات نظر آئی ، مسلم علاقوں میں بھی کثرت سے یہ گائیں عام سڑکوں پر بھی ایسے ہی گھومتی نظر آئیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اگر انجانے سے بھی کسی گائے کو ذرہ برابر خراش آ گئی تو نوبت فساد تک پہنچ جاتی ہے۔مسلم نوجوانوں کی اس قدر حساس طبیعت مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اپنے ہی ملک میں کس قدر خوف زدہ ہیں وہ مسلم نوجوان جو کل کو ملک کا مستقبل ہوں گے؟مگر افسوس کہ اس قدر حساس ذہنیت اور خوف و دہشت میں زندگی گذارنے کے باوجود بھی انھیں ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے اور وہ جب پڑھ لکھ کر کچھ کرنے کے لایق ہوتے ہیں تو جھوٹے مقدمات میں انھیں پھنسا کر ان کی زندگیاں تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہم جس دن گورکھپور پہنچے اس دن یوگی ناتھ آدتیہ ( گورکھناتھ مندر کے مہنت اور ممبر پارلیمنٹ ) پورے علاقہ میں بحث کا موضوع بنے ہوئے تھے۔اخبارات میں خاص کر ہندی اخباروں میں اشتعال انگیز سرخیاں لگائی گئی تھیں۔شاید اسی وجہ سے مسلم علاقوں میں خوف و ہراس کی کیفیت تھی۔بات یہ تھی کہ گورکھپور کے پنڈرا کشی نگر میں یوگی ناتھ کا پروگرام چل رہا تھا اور مبینہ خبروں کے مطابق جس کی ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکی ہے ایک مسلم نوجوان نے اسلام زندہ باد کا نعرہ لگا دیا تھا۔یہ نہیں پتہ کہ نعرہ واقعی کسی مسلمان نے لگایا تھا یا خود مسلمانوں کو مارنے یا ان کے خلاف سازش رچنے کے لئے یہ ہتھکنڈہ اپنایا گیا تھا۔ تفصیل کے لئے ۲۸ نومبر کے ہندی روزنامہ دینک جاگرن کی خبر ملاحظہ فرمائیں :"لکھنو۔گورکھپور کے پڈرونا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے گورکھپور کے ممبر پارلیمنٹ اور گورکھ ناتھ پاٹھ کے جانشین یوگی ادتیہ ناتھ کے جلسے میں ایک نوجوان نے اسٹیج پر چڑھ کر لگایا اسلام زندہ باد کا نعرہ۔ بھیڑ نے ہنگامہ کیا۔ فورم پر موجود لوگوں نے نوجوان کو پکڑ کر پیٹا۔پولیس نے بڑی مشکل سے نوجوان کو بھیڑ کے چنگل سے نکال کر حراست میں لیا۔ واقعہ کے بعد ہندو نوجوانوں نے پولیس پر یوگی آدتیہ ناتھ کی حفاظت میں لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا "۔

حالاں کہ اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے اسی گھرانے کی اردو میڈیا انقلاب کی خبر دیکھتے ہیں تو کچھ اور ہی بات نظر آتی ہے ملاحظہ فرمائیں ۲۹ نومبر روزنامہ انقلاب کی یہ خبر "کشی نگر ضلع ہنڈ کوارٹر پر ڈی ایم دفتر کے احاطہ میں انسلائٹس کے بہانے پورے کشی نگر کے ہر کونہ سے ہندو شدت پسند کے اکٹھا ہونے والے اراکین کے اسٹیج پر اسلام زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک بیس سالہ نوجوان نے ضلع انتظامیہ کو حیرت میں ڈال دیا۔پولس نے نوجوان کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔پولس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔پولس بیان دینے سے کترا رہی ہے۔نوجوان کا نام نصیر الدین بتایا جا رہا ہے جو پڈرونہ کے چھاونی علاقہ کا رہنے والا ہے۔ ،تفصیلات کے مطابق ۲روز قبل سے پورے ضلع کے اندر چار پہیہ گاڑی سے یوگی ناتھ کے آنے کی خبر پھیلائی جا رہی تھی۔جمعرات کو طے شدہ پروگرام کے مطابق ہندو یوا واہنی اور وشو ہندو مہا سنگھ کے اراکین قصبہ پڈرونہ کے سبھاش چوک چوراہا پر اکٹھا ہوئے۔یہاں سے نکلنے والا جلوس تقریبا ۲ بجے ضلع ہیڈ کوارٹر ڈی ایم رگزیان سیمفل کے دفتر کے سامنے پہنچ کر مجمع میں تبدیل ہو گیا۔

مقررین نے مظفر نگر فساد کو دہرانے کی دھمکی دینے کے ساتھ ہی موجودہ سماجوادی حکومت کے خلاف منہ بھر زہر اگلا۔اشتعال انگیزی کی ساری حدیں اس وقت پار ہو گئیں جب ایک مقرر نے کہا کہ ان بابر کی ناجائز اولادوں کوسبق سکھانا ہے۔تیھ  ایک ۲۰ سالہ نوجوان اسٹیج پر چڑھ کر اسلام زندہ بادکے نعرے لگانے لگا۔اس کے نعرہ بلند کرتے ہی وشو ہندو مہاسنگھ کے ضلع جنرل سکریٹری نے لپک کر اس کا کالر پکڑ کر اس کی پٹائی شروع کر دی۔تقریباً دس منٹ تک اسٹیج پر آدیہ ناتھ کے غنڈے اس نوجوان کو مارتے رہے اور پولس خاموش تماشائی بنی رہی۔ضلع کے ایک تیز طرار سی او سے نہیں دیکھا گیا تو اس نے اپنے ماتحت کو اسٹیج سے نیچے بھیج لڑکے کو نیچے اتروایا۔نیچے اتارتے ہی نوجوان کو بھیڑ نے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔تقریباً دس منٹ کے بعد پولس نے ہلکا لاٹھی چارج کر کے نوجوان کو اپنے قبضہ میں کر کے احاطہ سے باہر لے جا کر اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ضلع کی خفیہ پولس اس وقت پوری طرح ناکام ثابت ہوئی جب جلوس سبھاش چوک سے تین حصوں میں تقسیم ہو کر چلا۔سارے افسران پہلے جلوس کی حفاظت میں لگے ہوئے۔دوسرا اور تیسرا شتر بے مہار کی طرح تھا۔پہلا جلوس نعرہ لگا رہا تھا یوگی نے ٹھانا ہے انسلائٹس کو مٹانا ہے۔دوسرا اور تیسرا جلوس نعرے لگا رہا تھایوپی اب گجرات بنے گا ،کشی نگر سے شروعات ہوگی۔اس سلسلہ میں ایس پی کشی نگر للت کمار سے جب دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ نیچے کے افسران سے بات کرو۔ایڈیشنل ایس پی نے کہا کہ بہت مصروف ہوں ،تھوڑی دیر بعد کال کریں۔سی اوپڈ رونہ جے پی سنگھ کا کہنا تھا کہ آپ خاموشی بنائے رکھیں۔"

یہ تفصیلات کسی اخبار نے نہیں دی البتہ ہاں دینک جاگرن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سبھوں نے بالکل ایک طرفہ ہی خبر بنائی۔واقعہ کے تین دن بعد فالو اپ کرتے ہوئے روزنامہ امر اجالا نے کیسے اس کو ایشو بنایا دیکھیں : سرخی :یوگی کو زیڈ پلس سیکورٹی دینے کا مطالبہ تفصیلات کچھ اس طرح تھیں" پڑرونا میں یوگی آدتیہ ناتھ کے پلیٹ فارم سے اسلام زندہ باد کا نعرہ لگائے جانے کے معاملے کو لے کر جمعہ کو بی جے پی کا وفد آئی جی زون سے ملا۔ پارٹی کے علاقائی نائب صدر اوپیندر دت شکل ، شہر صدر ڈاکٹر دھرمیندر سنگھ اور ضلع صدر جناردن تیواری کی قیادت میں پہنچے وفد نے اسے گہری سازش کا حصہ اور انتظامی غلطی کا نتیجہ بتایا۔ساتھ ہی یوگی کو زیڈ پلس سیکورٹی کے لئے حکومت کو اقدام جلد اٹھائے جانے کی مانگ کی۔گورکھناتھ پوروانچل وکاس منچ کے ریاستی صدر آر پی نارائن یادو اور دیگر بھی ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ( انتظامیہ ) گورو ورما سے ملے اور گورنر کو پانچ نکاتی مطالبات کا میمورنڈم سونپا۔ میمو کے ذریعے انہوں نے نعرہ لگانے والے نوجوان پر سخت کارروائی ، سیکورٹی میں کوتاہی کے ملزم انتظامی افسروں کے خلاف کارروائی ، زیڈ پلس سیکورٹی دیے جانے اور پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی۔ بی جے پی کھیل کود سیل کے ریاستی شریک کنوینر دیویندر پال اور آر پی نارائن ترپاٹھی نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

میں سوچ رہا تھا یہی اخبارات مسلمانوں کے ساتھ کچھ ظلم ہو جائے تو ایسے منہ چھپا کے غائب ہو جاتے ہیں جیسے یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔اس سلسلہ میں آگے کیا ہوا نوجوان کون تھا ؟ کس نے اسے بھیجا تھا ؟ اس کا کیا مقصد تھا ؟ کسی بھی قسم کی مزید تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔اور مبصرین یہی قیاس کر رہے ہیں کہ یہ زعفرانی چولے کی اپنی ہی سازش تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔قارئین کو بتا دیں کہ اس سے قبل اعظم گڈھ سمیت بنارس اور خود گورکھپور میں اس شخص (یوگی ناتھ آدتیہ)پر فسادات کرانے کا الزام لگ چکا ہے۔بقول فراق گورکھپوری
دیے ہی جاتی ہے ترغیب جرمِ آدم کو
غضب ہے سوز دلِ اہرمن کی آنچ نہ پوچھ

یہ شہر اس سے قبل ایسا کبھی نہیں تھا۔ حتیٰ کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی یہاں ایسی کوئی خبر سننے میں نہیں آئی تھی۔ لیکن ادھر گذشتہ کئی سالوں سے یہاں کے حالات انتہائی حساس بنا دیے گئے ہیں اور دونوں فرقوں کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں کا معروف مندر، جس کے فی الحال یوگی ناتھ ذمہ دار ہیں، کا قیام ہی بھائی چارہ اور امن و امان کے لئے ہوا تھا۔یہاں گاندھی جی کا آشرم بھی ہے جسے امن کے نقیب کے نام سے جانا جاتا ہے۔۲۰۰۷ئمیں یہاں دھماکہ کے بعد حالات اور بھی سنگین ہو گئے ہیں ،میرے ذہن میں یہ ساری چیزیں گردش کر رہی تھیںاور ساتھ ہی اسی شہر کے شاعر رگھوپتی سہائے  (فراق) کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔
فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں یہ آنکھ بھر آئی
(فراق)

سچ مچ میری آنکھیں بھر آئی تھیں ان حالات کو دیکھ اور سن کر ،ہندوستان میں ہندو و مسلمان کمیونٹی کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد اور ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ، اور ہر تہوار اور ہر جلسے میں شامل رہے ہیں۔ جہاں عید ملن کے موقع پر ہندو سب سے پہلے اپنے بھائی مسلمان کی چوکھٹ پر عید ملنے پہنچ جاتے،  وہیں دیوالی کی مٹھائی کھانے میں مسلمان بھی ہندو بھائی سے پیچھے نہیں رہتے۔جہاں ہندو بہن رانی پدماوتی کے دفاع کے لئے مغل بادشاہ ہمایوں بھائی بن کر پہنچ جاتا تھا۔جہاں ہندو خاندانوں کے کتنے ہی بچے مسلمان دائیوں کے تحفظ میں پلتے تھے۔ جہاں ہندو بیوہ بوڑھی خاتون کا کوئی کرنے والا نہ ہونے پر مسلمان بیٹا بن کر اپنے خاندان کیساتھ خدمت کرتا تھا۔ جہاں مسلم بھائی کے بیمار ہونے پر اس کے ساتھ ہسپتال میں ہندو شریک ہو کر اس کے خاندان کو صبر اور دلاسا دیتے تھے۔مگر اب ایک دوسرے کے تئیں قربانی کے انداز تک محبت میں ڈوباہندو مسلم معاشرہ والا یہ ملک چند جنونویں کی وجہ سے خوف کی آماجگاہ بن رہا ہے۔یہی وہ شہر تھا جہاں ہندو مسلم دونوں  ایک ساتھ انگریزوں کے خلاف بر سر پیکار تھے۔مگراب کبیر داس کے اس شہر میں لوگوں میںعدم تحفظ کا احساس پیدا ہورہا اور عدم اعتماد کی فضا بن رہی ہے ۔
ادھر تو شہرِ گریہ ہے، فصیل کے اْدھر مگر
وہ ہونٹ مسکرانے والے کس طرف چلے گئے
ہر اک طرف پکار دیکھا کوئی بھی نہیں یہاں
وہ بستیاں بسانے والے کس طرف چلے گئے
(اعجاز عبید)

گورکھپور کے بارے میں میں نے جیسا سنا تھا ویسا بالکل بھی نظر نہیں آیا ،اس وجہ سے کافی مایوسی ہوئی۔تاہم اس شہر کی جو خصوصیات ہیں وہ دیکھنے میں آئیں مثلاً یہاں کے لوگوں میں اپنے کلچر کے تحفظ کا بیدار احساس۔اس کے نمونے ٹرین سے لیکر یہاں تک ہر جگہ دکھائی دیے جو بہرحال ستایش کے قابل ہے۔روایت اور کلچر کا سنگم ہر دن اس شہر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کا گذر گورکھپور شہرسے ہو تو زندگی اور رفتار کا امتزاج یہاں آپ اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ خوبصورت اور متاثر کن روایات پر عمل کرنے میں یہاں کے ساکنوں کو یقیناً امتیاز حاصل ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہاں آنے کے بعد یہاں کی کامیاب ثقافت کے ساتھدل کش مناظر کے مشاہدہ سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ گورکھپور ی خواتین کی بنائی ، کڑھائی ، لکڑیوں پر نقاشی ، دروازوں پر ان کے کرافٹ اور دیواروں میں پتائی ، عمارتوں کے باہر چھجوں پر چھینی ہتھوڑے کا باریک کام دلوں کو کھینچتا ہے۔ گورکھپور میں ثقافت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عام زندگی بڑی پرسکون اور محنت کش ہے۔ دیوی دیوتاؤں کی تصاویر ، پتھر پر بنے باریک کام دیکھتے ہی بنتے ہیں۔ بلاکس کے ذریعہ بنائے گئے ہر گھر کو سجانا یہاں کی ایک مذہبی ثقافت ہے۔جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔شاید اسی وجہ سے ریاض خیر آبادی نے کہا ہوگا۔
وہ گلیاں یاد آتی ہیں جوانی جن میں کھوئی ہے
بڑی حسرت سے لب پر ذکر گورکھپور آتا ہے

آبادی کے امتزاج میں ہندو ، کائستھ ، برہمن ، راجپوت ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، مارواڑیشہ جیسے طبقے شامل ہیں۔یہاں پر مجھے بہار کے تمدنی اثرات بھی دکھائی دیے بلکہ بہت حد تک لہجہ بھی ویسا ہی لگا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بہار کی سرحد سے متصل ہونے کے سبب خاصی تعداد میں بہاری یہاں آ رہے ہیں اور کچھ وقت سے بہار کے لوگ بھی آ کر گورکھپور میں بسنے لگے ہیں۔اور ظاہر ہے ایک تہذیب کا حامل کسی دوسری تہذیب میں ضم ہو گا تو اس کے اثرات ظاہر ہی ہوں گے۔یہاں بنگالیوں کی بھیخاصی  تعداد ہے اور اس کے آثار جا بہ جا یہاں دکھائی دیتے ہیں۔شہر میں واقع درگاباڑی بنگالی کمیونٹی کے سینکڑوں لوگوں کی جائے قیام بھی ہے جو کہ یہاں کے لوگوں کے بقول مشرقی اتر پردیش میں ایک عام بات ہے۔یہاں کی زبان میں ہندی اور بھوجپوری شامل ہے اور یہ دونوں زبانیں ہندوستان کے وسیع علاقہ میں مروج ہیں،ہندی زبان تو ہندوستان کی دفتری زبان ہے  (یہ بات گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ میں درج ہے) لیکن جو ہندی گورکھپور میں بولی جاتی ہے اس میں کچھ مقامی اثر بھی ہے۔لیکن زیادہ یہی مستعمل ہے۔میرے ایک رفیق نے بتایا کہ اس شہر کی دوسری زبان بھوجپوری ہے اس میں اتر پردیش کے علاقہ میں بولی جانے والی خاص طور پر بھوجپوری کی کئی بولیاں شامل ہیں۔ بھوجپوری سنسکرت ، ہندی ، اردو ، اور دیگر زبانوں کی ہند آریائی زبان سے متاثرہے۔

مسلم کلچر ،ثقافت یا تاریخ کے نام پر میرے مشاہدہ میں کچھ خاص نہیں آیا،حالانکہ ہندوستان میں مسلم عہد حکومت کی تاریخ میں اس شہر کا ذکر بھی ملتا ہے، تاریخی شواہد کے مطابق ۱۲ ویں صدی میں ، گورکھپور علاقہکو شمالی بھارت کے مسلم حکمران محمد غوری نے فتح کیا تھا، بعد میں یہ علاقہ کچھ صدیوں کے لئے قطب الدین ایبک اور بہادر شاہ جیسے مسلم حکمرانوں کے زیر حکومت رہا تھا،دریافت کرنے پر حافظ فیض کے والد ایڈوکیٹ نجم الہدیٰ نے بتایا کہ مسلمانوں کی حالت بہت قابل رشک نہیں ہے،البتہ انھوں نے بخشی پور میں واقع میاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کی خدمات عظیم ہیں۔ان کے بقول یہ یہاں کا قدیم تعلیمی ادارہ ہے جسے واجد حسین خان صاحب نے ۱۹۰۸ء میں قائم کیا تھا۔ یہ کالج نہ صرف گورکھپور شہر بلکہ اس خطہ کاواحد تعلیمی مرکز تھا جس کے خدمات عظیم الشان تھے،مگر امتداد زمانہ سے یہ ادارہ بھی اب انتشار کا شکار ہے۔ یہ جان کر بڑی تکلیف ہوئی کہ مسلمانوں کی اس قدیم درس گاہ کی فعالیت جامعہ عثمانیہ حیدر آباداور مسلمانوں کے دیگر کئی اداروں اور تنظیموں ہی کی طرح ختم ہوتی جارہی ہے۔یہ جان کر اور بھی تکلیف ہوئی کہ محض اس سے چند میل کی دوری پر اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۹۵۷ء میں گورکھپور یو نیورسٹی کا قیام عمل میں آیا، لیکن اس قدیم تعلیمی ادارے کے حصے میں کوئی ترقی نہیں آئی۔ یعنی یہ ادارہ بھی اپنوں اور غیروں کی ستم ظریفی کا شکار ہوگیا۔شہر کی معیشت پر اکثریتی طبقہ کا دبدبہ ہے سماجی زندگی اور رہن سہن پر بھی اکثریتی طبقہ کے روایات کا اثر پایا جاتا ہے، جس طرح لکھنؤ کی سماجی زندگی پر مسلم تہذیب کا رنگ نمایاں ہے ٹھیک اسی طرح یہاں عام طور پر ہندو کلچر کاغلبہ ہے۔

دیکھنے کے لئے بھی اس شہر میں کافی کچھ ہے مثلاً  بوددھوں کے گھر ، امام باڑہ ، شاہی جامع مسجد (اردو مارکیٹ میں پرانے شہر کی ایک مشہور مسجد) ۱۸ویں صدی کی درگاہ اور ہندو مذہبی گرنتھوں کا اہم اشاعتی ادارہ گیتا پریس وغیرہ مگر وقت کی قلت کے سبب کہیں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ،ہاں باہر سے ’’گیتا پریس‘‘کو ایک جھلک دیکھاجس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہہندو مذہب کی مذہبی کتابیں یہیں سے شائع ہوتی ہیں۔ایک اور خصوصیت کی وجہ سے بھی یہ ادارہ کافی معروف ہے یعنی اس میں سفید سنگ مرمر کی دیواروں پر بھگوت گیتا کے مکمل ۱۸ابواب کے شلوک کندہ ہیں۔یہ شہر اس وجہ سے بھی ایک کشش رکھتا ہے کہ معروف صوفی اور کوی کبیرداس ،اردو کے شاعر فراق گورکھپوری ، محمد عمر خان عرف عمر گورکھپوری(داغ دہلوی کے ایک شاگرد) ،ہاکی کھلاڑی ،پریم مایا اور دیواکر رام ، رام آسرے پہلوان اور کامیڈین است سین ،منشی پریم چند ،جاوید احمد (فلم رائٹر اور آزاد صحافی) ،انوراگ کشیپ (فلم ڈائریکٹر کہانی کار)جیسے قد آور شخصیات اسی شہر سے وابستہ رہے ہیں۔

اس قدر گوں نا گوں خصوصیات  والے شہر میں جی تو چاہتاتھا کہ کچھ دن اور قیام کروں اور ذرا اورقریب سے اس شہر کا مشاہدہ کروں،موسم بھی خوب تھا ،سردی کی آمد ،سرمئی صبح اور گلابی شاموں کا نظارہ ، وقت گذاری کے لئے فلم بینی ،گپ شپ اور ہوٹل کی مستی نہ کسی چیز کی فکر اور نہ کسی شے کا غم۔فیض بھی بضد تھے کہ کلاسیں تو نہیں چل رہی ہیں، کچھ دن اور رک جاؤ،مگر دل تو دلی سے لگا ہوا تھا۔حبیب جالب کے بہ قول:
دیارِ داغ و بیخود شہر دہلی چھوڑ کر تجھ کو
نہ تھا معلوم یوں روئے گا دل شام و سحر تجھ کو
میں جالب دہلوی کہلا نہیں سکتا زمانے میں
مگر سمجھا ہے میں نے آج تک اپنا ہی گھر تجھ کو
درست ہی کہا ہے حضرت جالب نے، ایک مرتبہ جس کو دلی راس آ گئی ، اس سیپھرمشکل ہی سے چھوٹتی ہے،دلی کے علاوہ اسے کہیں اورلطف ہی نہیں آتا،یہی وجہ ہے کہ یہاں کی آبادی روز بہ روز بڑھتی ہی جارہی ہے اورآبادی کے اس  تناسب میںزیادہ تعداد بیرون دلی سے آکر یہاں آباد ہوئے لوگوں کی ہے۔حکومت کے لیے بھی اتنی بڑی آبادی کاانتظام وانصرام دقت طلب ہوتا ہے ،ایک مرتبہ جو آ جاتا ہے واپس جانے کا نام ہی نہیں لیتا۔ادھر بار بار آپا کا بھی فون آ رہا تھا کہ دلی کب واپس لوٹ رہے ہو ،بھیا نے الگ پریشان کیا ہوا تھا کہ پڑھائی چھوڑ کر مستیاں کاٹ رہے ہو۔چونکہ امی اور ابو کو اس سفر کی اطلاع نہیں دی تھی اس وجہ سے اور بھی جلد واپس لوٹ جانا ضروری تھا۔چناںچہ ہم بہت سی یادگار خوشیوں کو سمیٹتے ہوئے واپسی کی خاطر اپنے پسندیدہ شہر دلی کے لئے رخت سفر باندھنے پر مجبور ہوئے۔حدیث شریف میں بھی کسی کے یہاں تین دن سے زیادہ قیام کو نا درست ٹھہرایا گیا ہے یہ سوچ کر بھی ہم نے دوست کو زیادہ تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھا اور واپس ہولیے۔

لیکن یہ ایک الگ مصیبت تھی کہ ٹرین میں ٹکٹ ملا ہی نہیں۔مجبوری کی صورت میں لکھنؤسے دہلی تک کا ٹکٹ لیا گیا اور گورکھپور سے لکھنو ٔتک کا سفر بس سے طے کرنے کا پروگرام بنا۔گورکھپور سے لکھنؤ کا فاصلہ تقریباً ۲۷۰ کیلو میٹر ہے، میرے لئے یہ خوشی کی بات تھی کہ اسی بہانے لکھنو ٔبھی دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ چار گھنٹے کا راستہ ہے، بس سے لمبا سفر مشکل تو ہوتا ہے لیکن لطف کی خاطر ہم نے ہامی بھر لی اور یہ سوچتے ہوئے کہ ۶؍ بجے شام کو ٹرین بھی ہے، ذرا جلدی نکلیں گے اور بقیہ وقت لکھنؤ کی سیر و تفریح میں گذاریں گے۔مگر بھلا ہو ہماری ہندوستانی بسوں کی حالت زار اور سڑکوں کی خستہ حالی کا، مجال ہے اپنے ڈھرے سے کبھی اتر جائیں! ڈرائیور بے چارہ کرے بھی تو کیا کرے۔پطرس بخاری کی زبان میں لچر پچر کے شورسے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی ہو اور سڑک بھی اس میں اپنا ہاتھ بٹا رہی ہواور مرزا صاحب کی سائیکل کی طرح اسٹارٹ ہوتے ہی ٹر ٹر ،کھٹ کھٹ ،چوں چوں ،دھڑ دھڑ کی چیخ و پکار مچائی ہوئی ہو تو احتیاط کا تقاضہ بھی یہی ہوتا ہے کہ گاڑی آہستہ چلائی جائے ،سو ڈرائیور صاحب اس کا خاص اہتمام کر رہے تھے اور اسی اہتمام کا نتیجہ تھا کہ ہم چارگھنٹے کا سفر سات گھنٹوں میں طے کر سکے۔

گاڑی میں بیٹھے بیٹھے بدن کی کیا حالت ہوئی اس کا تو پوچھناہی نہیں ،جوڑ جوڑ میں درد، اوپر سے زوروں کی بھوک، کسی نے درست ہی کہا ہے بس" وہ سواری ہے جس میں بیٹھ کر انسان" بے بس" ہو جاتا ہے۔بس کا سفر ایک امتحان جیسا ہی تھا۔اور شاید ہم اس امتحان میں کسی طرح پا س ہو گئے تھے یعنی لکھنؤ پہنچ گئے تھے ،مگر اتنی تاخیر سے لکھنؤ پہنچ کر کیا خاک گھومتے وہاں!!  وقت بھی نہیں بچا تھا اور ہمت بھی جواب دے چکی تھی،اس لئے رکشہ لیا اور سیدھے اسٹیشن پہنچے۔ دیکھا ٹرین لگی ہوئی تھی ،جلدی جلدی سامان رکھا اور برتھ پردراز ہو گئے،نیند تو اس وقت کھلی جب رفیق سفر انعام الرحمان نے رات کے کھانے کے لئے جگایا ،موصوف انتہائی نیک دل اور شریف انسان ہیں، ان کی وجہ سے سفر میں بڑی آسانی ہوئی،کھانا کھا کر پھر سو گئے اورجب آنکھ کھلی تو ہم تھے اور ہماری دلی۔