اتوار, نومبر 10, 2013

مدیر ماہنامہ "تدبر"لاہور مولانا خالد مسعود کی یاد میں

یہ غالبا 1999 یا 2000 کا واقعہ ہے ۔مدرسۃ الاصلاح میں امین احسن اصلاحی سیمنار تھا ۔اُ س میں مولانا پاکستان سے انڈیا تشریف لائے تھے ۔حُلیہ تو پوری طرح یاد نہیں اُس وقت میں کافی چھوٹا تھا غالبا دس سال کا ۔ہلکا ہلکا ذہن میں عکس بھر ہے لمبے تڑنگے ۔تُرکی ٹوپی پہنے ہوئے انتہائی پر وقار شخصیت ۔اس وقت اصلاح میں کافی ہنگامہ تھا کہ امین احسن اصلاحی کے شاگرد آ رہے ہیں ۔بھیڑ بہت زیادہ تھی یوں کہہ سکتے ہیں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو مولانا کو دیکھنے کے لئے امنڈ پڑا تھا ۔

مولانا نے زبردست تقریر کی تھی ۔۔۔ ۔۔کیا کہا تھا ؟۔۔۔ یہ بھی مجھے یادنہیں ہے ،لیکن میں نے زبردست کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اساتذہ سے بعد کے ایام تک بھی جب تک میں اصلاح میں رہا اس خطاب کا تذکرہ کرتے سنا ۔مجھے یاد پڑتا ہے سرائے میر کے ریلوے اسٹیشن سینیر طلباء اور اساتذہ مولانا کو چھوڑنے گئے تھے تو سب کی آنکھیں نمدیدہ تھیں ۔

آج اچانک اپنی فائل میں سے کچھ ضروری کاغذات ڈھونڈ رہا تھا تو ضیاء الرحمان اعظمی صاحب کی یہ نظم ملی سوچا کیوں نا محفل میں شیر کر دوں ۔یہی بہانے محفوظ بھی ہو جائے گی اور لوگ واقف بھی ہو سکیں گے۔کہ یہ عظیم شخصیت کون تھی ؟۔

مولانا کے انتقال پرمولانا طالب الہاشمی صاحب جو غالبا جاوید احمد غامدی صاحب کے ادارہ سے وابستہ ہیں نے ماہنامہ"المورد " میں مولانا کے انتقال کے بعد اپنے جس غم اور درد کا اظہار کیا تھا۔نیچے دی گئی تحریر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اتفاق سے انٹرنیٹ سرچ میں مجھے یہ مل گیا ۔تو اسے بھی یہاں منسلک کر رہا ہوں ۔
(علم)
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
خالد مسعود کی رحلت
صاحب سیرت و کردار علما کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ ہمارا یہ زمانہ تو بطور خاص رجال خیر و صلاح کے قحط کا زمانہ ہے۔ خالد مسعود صاحب مرحوم ان چند افراد میں سے ایک تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے دین کا علم بھی دیا تھا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بھی بخشی تھی۔
وہ قرآن کے عالم تھے۔ وہ حدیث کے عالم تھے۔ ان کی اسلامی تاریخ پر اچھی نظر تھی۔ ان موضاعات پر ان کا وقیع علمی کام کتابوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اس جلالت علمی کے باوجود ان کی شخصیت انتہائی سادہ تھی۔ کوئی طنطنہ اور طمطراق یا علم کا زعم، اس طرح کی کسی چیز کی پر چھائیں بھی ان کی شخصیت پر نظر نہیں آتی تھیں۔ ہاں ان کے لیے فخر کی بات اور ان کا سرمایہ حیات ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد تھے۔
بلاشبہ، وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے لائق شاگرد تھے۔ انھوں نے ان سے علوم اسلامی کی تحصیل کی اور پھر ساری عمر ان کے افکار کی خدمت میں صرف کردی۔ روزی کمانے کے جھنجھٹ کے بعد ان کی ساری سرگرمیوں کا محور و مرکز مولانا امین احسن اصلاحی تھے۔ استاد کی شخصیت میں گم ایسے شاگرد دنیا نے کم ہی دیکھے ہوں گے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیت کی عظمت کا اندازہ اس کی شہرت اور ناموری سے کرتے ہیں۔ ایسے گوشہ گیر جو علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہوں، زمانے کی نگاہ میں نہیں آتے۔ سچی عظمت کیا ہے کہ آدمی خدا کا سچا بندہ ہو اور اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے متصف ہو۔ خالد مسعود ہر اعتبار سے ایسے ہی عظیم لوگوں میں شمار کیے جانے کے لائق تھے۔
مرحوم کا علمی کام اور ان کی دینی خدمات ان کے خیر کو جاری رکھیں گی۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ ان کے حسنات کو قبول فرمائے۔ ان کی کمزوریوں اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ انھیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے۔ جیسا ان کا چہرہ دنیا میں روشن و تاباں تھا، ایسا ہی آخرت میں روشن و تاباں رہے۔"
http://www.al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=883&cid=533



مدیر ماہنامہ "تدبر"لاہور
مولانا خالد مسعود کے انتقال پر

ضیاء الرحمان ضیاء اصلاحی

جاتی ہے اب تو وائے رے عظمت رہی سہی
ائے دل بتا یہ کیسی مصیبت سہی گئی

وا حسرتا !کہ گُم ہے متاع گراں بہا
وا ویلتا ! ہے دامن فردا تہی تہی

وہ سر گیا جو شان کُلاہ بلند تھا
ڈوبی وہ نبض جس میں حرارت بھری رہی

دانائے راز اُٹھ گیا محفل اداس ہے
مجموعہء صفات وہ ہستی نہ اب رہی

جاں کا ہ حادثہ ہےیہ ،غم بے بیان ہے
اب صبر کیجئے کہ عبادت ہے یہ بڑی

ملتے ہیں ایسے لوگ زمانے میں خال خال
اٹھتے ہیں سر فروش بھی ایسے کبھی کبھی

اللہ کی رضا پہ بھلا کس کا زور ہے
وہ لے گیا کہ یہ تو امانت اسی کی تھی

خالد تو جاوداں ہے دیار خلود میں
ہوئے نصیب اس کو شفاعت رسول کی

ائے صبر آ! کہ غم کا مداوا ضرور ہے
ہوگا نہ ختم ،کم سہی اتنا ضرور ہے
مولانا مرحوم کے بارے میں مزید معلومات انگریزی وکی پیڈیاسے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں ملاحظہ فرمائیں : 
http://en.wikipedia.org/wiki/Khalid_Masud