سوموار، 12 نومبر، 2012

دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی



دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں 
نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی
محمد علم اللہ اصلاحی 
ہمارے یہاں ہندوستان میں بہت ساری کمیوں اور خامیوں کے باوجود اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا روج ختم نہیں ہو رہا ہے ۔شاید اسی وجہ سے جب ہمیں کوئی شیشہ میں ہمارا چہرہ دکھا بھی دیتا ہے تو ہم اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ آئینہ دکھانے والے کو ہی برا بھلا کہ دیتے ہیں حالانکہ کہیں نہ کہیں اس میں صداقت بہر حال ہوتی ہے اور اس کو مان لینے سے اصلاح کے امکانات بھی باقی رہتے ہیں نیزیہ کہ حقیقت کاسامناکرنے سے ترقی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن ہم میںحقیقت سے آنکھیںملانے کی ہمت ہی نہیں ہے!اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اور ہمارا ملک ترقی کے نام نہاد نعروں کے درمیان مزید تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔اس کا انکشاف ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے جس میں اس عالمی ادارہ نے نئی دہلی اور ممبئی کو خوشحالی کی طرف جا رہے دنیا کے 95 شہروں کی فہرست میں ناکام اور سست رو بتایا ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہاں ماحولیات کی بدحالی، عدم مساوات، خراب انفراسٹکچر،پراڈکٹی وٹی ،لائف اسٹنڈرڈانتہائی پست ہے ۔اس رپورٹ کو پڑھتے ہی مجھے آج سے دو دہائی قبل میر تقی میر کا کہا ہوا کلام یاد آنے لگا جب انھوں نے دہلی سے عاجز آکر لکھنو ¿ جاتے وقت کہا تھا 
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویرانہ کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
اقوام متحدہ نے اسی اجڑے دیار کی کہانی اور اس کی حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے جو تمام تر ناکامیوں کے باجود ان شہروں کو پیرس اور لندن سے بھی زیادہ خوبصورت بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔حالانکہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے خوشحالی کی طرف بڑھتے دنیا کے 95 شہروں میں دہلی اور ممبئی کا نام ہر ہندوستانی کےلئے خوشی کی بات ہے۔لیکن ساری خوشیاں اس وقت کافور ہو جاتی ہیںجب بات ماحول کی اٹھتی ہے تو دہلی سب سے نچلی سطح پر کھڑا نظر آتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم بھلے ہی ہریالی کے کتنے ہی دعوے کر لیں، سچائی یہی ہے کہ ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی امیروں کے شہروں کی فہرست میں دہلی اور ممبئی کو جگہ ملنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ اس فہرست میں دہلی کا مقام 58 واں اور ممبئی کا نمبر 52 واں ہے۔جبکہ پانچ سب سے اچھے شہروں میں ویانا، نیویارک، ٹورنٹو، لندن اور اسٹاک شامل ہے۔ حیدرآباد کو جہاں میڈیسن دارالحکومت کے طور پر تعریف کی گئی ہے وہیں آئی ٹی کی وجہ سے بنگلور کو کافی بہتر پایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انفراسٹکچر بڑھانے کےلئے ہندوستانی شہروں پر کافی پیسہ خرچ ہوا ہے، لیکن ان کی ترقی زیادہ گاؤں کی قیمت پر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دہلی کا مقام ممبئی سے کافی پیچھے ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں میٹروپولیٹن شہر خراب بنیادی ڈھانچے اور ابترماحولیاتی حالات کی وجہ سے چین کے بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں سے بھی کافی پیچھے ہیں۔اقوام متحدہ نے جن پانچ بنیادوں پر دنیا کے مختلف شہروں کا تجزیہ کیا و ہیں پیداوار، معیار زندگی، بنیادی ڈھانچے، ماحولیات اور مساوات جیسے مسائل شامل ہیں یہاں پر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ان پانچوں معیار میںصرف بنگلہ دیش اور نیپال ہی دلی ممبئی کے پیچھے آئے ہیں اور باقی سب ہمارے دونوں شہروں سے اوپر ہیں۔دل والوں کی دہلی اورعروس البلاد ممبئی ایشیا کے کئی شہروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔دہلی کو ماحول کے نام پر ہی 95 شہروں میں سب سے کم 0 448.نمبر ملے ہیں۔ آلودگی کے معاملے میں دہلی کی صورتحال صاف نہیں ہے لیکن ممبئی کو ماحولیات کے معاملے میں کافی بہتر کیا گیا ہے ۔ممبئی کو اس کےلئے درجہ بندی میں 645.0 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے معاملے، بجلی پانی جیسی ضروری چیزوں کے لئے بھی ممبئی کی جگہ دہلی سے کہیں آگے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ شہرت اور عمارت کی ترقی میں دہلی کی رفتار سست ہے۔ ماہرین کے مطابق خراب ماحول کی وجہ سے دہلی کو کافی نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے نامور 95 شہروں کے مقابلے میں دلی کی ساکھ اور اثر و رسوخ دونوں ہی کم ہوئی ہیں۔ہمارے لیڈر دہلی کو نیویارک اور ممبئی کو شنگھائی بنانے کی بات کرتے ہیں پر اس سمت میں کتنے موثر قدم اٹھائیں ہیں اس کی پول اقوام متحدہ کی رپورٹ نے کھول کر رکھ دی ہے۔مطلب یہ کہ نیویارک اور شنگھائی تک پہنچنے کے لئے ابھی لمبا سفر طے کرنا ہوگا۔ اس رپورٹ سے ایک حقیقت یہ بھی ابھر کر آتی ہے کہ ہمارے یہاں باتیں تو بہت کی جاتی ہیں پر ٹھوس اقدامات کرنے میں کہیں کوتاہی نظر اتی ہے۔رپورٹ میں ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کولکتہ، دہلی، ممبئی اور چنئی کو شامل کرنے والی بہتر اور خوبصورت منصوبے کی تعریف کی گئی ہے جو ہمارے لئے خوش آئند بات ہے۔تاہم یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے ملک میں انفراسٹکچرکی اپنی کوئی معاشی حیثیت ہی نہیں بن پائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بظاہر خوب ترقی کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ سڑکیں ذرا سی بارش میں بدحال ہو جاتی ہیں۔ عوامی سہولیات کے نام پر خواتین کے لئے ٹولےٹ کی بات تک نہیں کی جاتی۔آمدورفت کے ذرائع میں دہلی کا عالم یہ ہے کہ جن راستوں پر میٹرو کا لنک نہیں ہے وہاں ٹریفک کانظام خستہ ہے۔ وہیں اچھے پارک اور میدان کی بھی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بچے کھیلنے کی جگہ تلاشتے رہ جاتے ہیں۔ روز مرہ کی ضروریات کی چیزیں ہر جگہ ایک ہی قیمت پر اور مساوی سطح کی نہیں مل پاتیں۔ہندوستان کے پروڈکشن سینٹر جیسی دہلی اور ممبئی کی شناخت ابھی ماضی کی باتیںہوکر رہ گئی ہیں۔ زیادہ تر سامان باہر سے لا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ دہلی کی ہریالی کو لے کر کافی دعوے کئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس محاذ پر بھی یہ شہر اب کہیں نہیں ٹھہرتا۔ یہاں جس رفتار سے جنگل کاٹ کر عمارت کھڑے کئے جارہے ہیں، اس رفتار سے درخت نہیں لگائے جا رہے۔کسی اسکیم کے لاگو ہوتے وقت کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس سے جتنے درختوں کا نقصان ہوگا اتنے پھر لگائے جائیں گے، لیکن ایسا کبھی ہو نہیں پاتا۔ہماری حکومتیں اگر اس رپورٹ کو درکنار کرنے یا اس سے پریشان ہونے کی بجائے، اس کے مثبت پہلو کو سمجھنے کی کوشش کریں گی تو ہو سکتا ہے مستقبل میں ہمارے شہروں کی تصویر بدل جائے۔ملک کا دل کہی جانے والی دہلی اورعروس البلاد ممبئی بھلے ہی ہمارے ملک میں ترقی یافتہ شہر کہے جاتے ہوں پر دونوں ہی دنیا کے کئی دوسرے شہروں سے پیچھے ہیں۔ کسی شہر کی شکل بنانے میں سب سے بڑا حصہ وہاں کی اصل سوچ اور فکر کا ہوتا ہے۔یہاں پریشانی یہ بھی ہے کہ جو وسائل دستیاب ہیں، ان کا استعمال سمجھداری سے نہیں کیا جا رہا ہے۔حالانکہ اس میں ایسا نہیں ہے کہ بڑے شہروں پر پیسہ خرچ نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ پیسہ امیر علاقوں میں ہی لگ رہا ہے، غریب علاقوں کو بہتر بنانے میں یہ پیسہ نہیں لگ رہا ہے۔ پھر جس طرح سے ہمارے شہروں کی ترقی ہو رہی ہے، اس میں غریب لوگ حاشیے پر جا رہے ہیں، جہاں نہ وہ خود محفوظ ہیں اورنہ ہی مستقل روزگار کے مواقع ہی دستیاب ہیںنا بجلی، پانی، سیور، ٹرانسپورٹ جیسی ضروری خدمات۔ ممبئی کی تو آدھی سے زیادہ آبادی گندی بستیوں میں رہتی ہے۔ دہلی کی حالت اس سے کچھ ہی بہتر ہے۔ لیکن شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار اور ضروری سہولیات دلوانے کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ ہمارے شہری منصوبہ بندی میں کہیں نظر نہیں آتی۔کافی سارے مسائل تو مبینہ منصوبہ بندی سے ہی پیدا ہوئی ہیں۔ اگر شہروں میں جھگی بستیاں یا غیر قانونی کالونیاں بڑھی ہیں اور اچھے اور سستے مکانوں کا بحران ہے، تو اس کا بہت کچھ کریڈٹ حکومت یا ایسے ہی ترقی اتھارٹیوں کو جاتا ہے، جنہوں نے شہری زمین پرنا حق قبضہ کر لیا اور ضرورت کے مطابق ترقی کی کوشش نہیں کی۔ اس سے غیر قانونی تعمیرات اور روزگار علاقوں سے کئی گنا مزید بڑھ گئے۔یہاں مسائل اس لئے بھی پیدا ہوئے کہ شہروں کی ترقی کے ذرائع کے مقامی اداروں کے نہیں، ریاست یا مرکزی سطح کی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں رہے۔نتیجہ کے طور پر لیڈران کے ووٹ بینک تو دیہی علاقوں میں تھے اس لئے انہوں نے شہری ترقی کی بے اعتنائی کی اور شہروں کو صرف پیسہ اور جائیداد حاصل کرنے کا ذریعہ مانا، شہروں میں صرف خوشحالی کے کچھ جزائر بنا لئے گئے، جن میں با اثر لوگ رہتے ہیں اور بڑی آبادی کو بغیر شہری سہولیات کی گندی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ممبئی کے علاوہ دہلی اس بات کی مثال ہے کہ یہاں قدرتی وسائل کی بربادی کس طرح کی جاتی ہے۔جمنا ندی میں صرف سیور کا پانی بہتا ہے اور باقی سینکڑوںٹن پانی برباد جاتے ہیں۔ دہلی کو ریگستانی ہواؤں سے بچانے والے اراولی کے جنگل ہی نہیں پہاڑ تک کاٹ دیے گئے ۔کسی بھی شہر یا چھوٹے شہرکی ترقی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا خیال نہیں رکھا گیا، گڑگاوں یا گریٹر نوئیڈا میں آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ تقریبا نہیں ہے۔ حکومت کی اس آبادی بنام بربادی سے کچھ لوگ امیر ہو سکتے ہیں، لیکن سب کی خوشحالی صرف سمجھداری سے وسائل کے استعمال اور تقسیم سے ہو سکتی ہے، اوپر جن اچھے شہروں کے نام گنائے گئے ہیں ان کے مقامی ادارے ہمارے ملک کی طرح حکومت کی طرف سے کئے گئے پیسے پر انحصار نہیں کرتے ہیں ۔ ان کا اپنا آزاد اقتصادی بنیاد ہوتا ہے ۔آج ضرورت ہے کہ معیار زندگی اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بہتر بنایا جائے،یہی اس رپورٹ کا ہندوستان کے لئے پیغام ہے۔
     (Md Alamullah, Delhi)