ہفتہ، 1 اکتوبر، 2016

نظم ائے ! غزا کے شرارتی بچو شاعر: خالد جمعہ ۔ فلسطین ،غزہ اردو ترجمہ:محمد علم اللہ


نظم
ائے ! غزا کے شرارتی بچو
شاعر: خالد جمعہ ۔ فلسطین ،غزہ


اردو ترجمہ:محمد علم اللہ 
اے غزہ کے شرارتی بچو !
تم ! جو میری کھڑکی تلے اپنی تیز آوازوں سے مجھے پریشان رکھتے تھے
تم ! جن کے دم سے میری ہر صبح دھماچوکڑی اور شور شرابے سے آباد رہتی تھی
تم ! جو میرے گلدان کو بھی نہیں چھوڑتے ، توڑ دیتے تھے
اور میری بالکونی میں کھلے اکلوتے پھول کو بھی نوچ لیتے تھے
واپس آؤ ! پھر تم شور کرو ، جتنا چاہو ! چیخو اور چلاؤ !!
میرے سارے گلدان توڑ ڈالو
اچک لے جاو ! سارے پھول۔۔
مگر واپس آؤ !
آ بھی جاؤ !!!

۔۔۔مزید

میری ڈائری سے

میری ڈائری سے
محمد علم اللہ
آج کل بعض واعظ اور اہل مذہب اس امر پر بڑا زور دیتے ہیں کہ ہم بد ترین زمانے میں پیدا ہوئے ہیں ، انگریزی تعلیم اور مغربی اثرات نے ہماری خوبیوں کو نیست و نابود کر دیا ہے اور آج سے پہلے اسلامی حکومت کے دوران میں ہر طرف نیکیوں کا دور دورہ تھا ۔ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس خوشگوار نظریے میں صداقت کا عنصر کس قدر ہے ۔ لیکن یہ دلچسپ نفسیاتی حقیقت ہے کہ راہبانہ طبیعتیں ہمیشہ دنیا کو دار الشیا طین سمجھتی رہی ہیں۔ داتا گنج بخش اس زمانے کی نسبت جب دنیا کے سب سے بڑے "بُت شکن" نے ابھی ابھی اپنا کام پورا کیا تھا لکھتے ہیں : ( ترجمہ)
" خدا وند بزرگ و برتر نے ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا ہے جب لوگوں نے حرص و لالچ کا نام شریعت اور تکبر و جاہ و ریاست کی طلب کا نام عزت اور علم ، ریائے خلق کا نام خوف الٰہی اور دل میں کینہ پوشیدہ رکھنے کا نام حلم ، لڑائی جھگڑے کا نام بحث و مباحثہ ، ہذیان طبع کا نام معرفت ، نفسیاتی باتوں اور دل کی حرکتوں کا نام محبت۔ خدا کے رستے سے منحرف اور بے دین ہونے کا نام فقر حق تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے کا نام فنا فی اللہ ، اور ترکِ شریعت کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔
خیال رہے جس اقتباس کا ترجمہ میں نے یہاں نقل کیا ہے، وہ حضرت گنج بخش لاہوری رح کے عہد یعنی ۱۰۰۹اور ۱۰۷۲ کے درمیان کا ہے جو ہند میں محمود غزنوی کی آمد اور آس پاس کا زمانہ کہلاتا ہے ۔

۔۔۔مزید

بلا ترتیب خیال

ہر انسان کے اپنے کچھ حدود اور دائرے ہوتے ہیں اور وہ ان اکائیوں اور چکر کی پیروی کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ مبادا اس سے وہ باہر نکلا ، یا اسے پھلانگنے کی کوشش کی تو معاشرہ اسے اچھا نہ سمجھے گا ،لیکن انسان کا ایک فلسفہ یا نکتہ پر ہمیشہ قائم رہنا بھی درست نہیں ہوتا بلکہ کبھی غلط بھی ہوجاتا ہے ۔اور کبھی کبھی ایسی غلطیوں کو سمجھنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے ۔یا پھر اپنے بنائے گئے نکتہ پر اصرار خود انسان کو لے ڈوبتا ہے ۔ 
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

بے حس ہوتا معا شرہ


محمد علم اللہ

ہم میڈیا سے وابستہ افراد روزانہ ہی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے لاشوں کے انبار ، لوگوں کی دردناک موت ، کٹے پھٹے بدن اور دماغ تک باہر نکل آئے سر دیکھتے ہیں ۔ روزانہ ایسی چیزیں دیکھنے کی وجہ سے یہ معمول کی شئے نظر آنے لگتی ہے ۔ لیکن کبھی کبھی کچھ تصاویر ایسی آجاتی ہیں جو ذہن و دماغ کو ہلا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ کل کی ایسی ہی اس تصویر نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ جس میں ایک مجبور و بے بس شوہر اپنی بیوی کے لاش کو کاندھے پر رکھ کر دس کلومیٹر تک پیدل ہی ڈھونے پر مجبور ہوتا ہے اور بے حس و حرکت افراد تماشائی بنے اسے دیکھتے رہتے ہیں۔ میڈیا والے اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے تو اسٹوری اہم ہے۔ یعنی آپ گاڑی میں بیٹھ کر دم توڑتی انسانیت کی ویڈیو گرافی کر سکتے ہو ۔ اس کو اس چنگل سے نکالنے کی کوشش نہیں کر سکتے ۔ تف ہے ایسی میڈیا پر اور اور ایسے میڈیا کارکنوں پر ،ایسی اسٹوری پر اور ایسی سوچ پر۔
احساس و جذبہ سے عاری ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں ،جہاں انسانیت مر چکی ہے ۔ یہ تصویر سوالات کھڑے کرتی ہے ہمارے ضمیر پر ۔ پارہ پارہ ہوتی انسانیت پر۔ لوگوں کے مرتے احساس پر اور ان سب سے بھی بڑھ کر دم توڑ چکے اس نظام پر جس میں ایک غریب کو اپنی بیوی کی میت کو لے جانے کے لئے ایک عدد گاڑی بھی نہ مل پا تی۔ جب کہ اسی ملک میں دو ٹکے کے جاہل لیڈران کے قافلے کے لئے بھی انتظامیہ منٹوں میں سرکاری گاڑیوں کی قطار لگا دیتی ہے۔ ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں ؟ جہاں ایک غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ۔


۔۔۔مزید

بلا ترتیب خیال


علامہ شبلی علیہ الرحمہ نے کہیں لکھا تھا‍: ہمارے دانشوروں کو کم از کم دو مغربی زبانوں کا علم ہونا چاہئے تاکہ وہ اس زبان کے علم سے بھی واقف ہوں گے اور اپنی بات مضبوطی سے رکھ سکیں گے ۔
تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مادری زبان میں انسان جتنی آسانی سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائگی کر سکتا ہے دیگر زبان میں نہیں، ممکن ہے یہ بات غلط بھی ہو لیکن میرا احساس یہی ہے ۔ اس انگریزی کے چکر میں ہم نے اتنا وقت لگایا پھر بھی چار سطریں لکھتے دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے ۔ اور پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے خدا جانے درست ہے کہ نہیں ۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

دوست کے والد کے انتقال پر

بیٹوں کے سر سے باپ کا سایہ جو ہٹ گیا 
اتنا بڑا مکان تھا حصوں میں بٹ گیا 
کہتے ہیں نقش پا کہ رکا تھا وہ دیر تک 
دستک دئے بغیر جو در سے پلٹ گیا 
گذشتہ کل میرے انتہائی عزیز دوست رئیس احمد کے والد محترم کا انتقال ہو گیا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مجھے اس کا علم آج ہوا جب رئیس نے مجھے فون کیا ۔ آفس میں کچھ اس قدر مصروفیت تھی کہ دوست کو ڈھنگ سے تعزیت بھی نہ کر سکا ۔ ہم میڈیا والوں کے کبھی کبھی کام بھی ایسے ہوتے ہیں کہ کان کھجانے کی فرصت نہیں ملتی ۔ دوست نے جب فون کیا تو کچھ ایسی ہی مصروفیت تھی کہ انا للہ و انا الیہ راجعون کہنے کے باوجود اسے ڈھنگ سے تسلی بھی نہ دے سکا ، ہمدردی کے چند بول بھی نہ بول سکا، جس کا احساس مجھے بعد میں ہوا ۔ میں جانتا ہوں پاب ایک ایسی نعمت ہے جس کے کھو جانے کا احساس ان کی جدائی کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ میں تو خواب میں بھی ابو کو اذیت میں دیکھ لیتا ہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں ، تم نے تو ہمیشہ ہمیش کے لئے ابا جی کو کھو دیا ۔ میرے پیارے بھائی ! اس وقت تم جس غم اور مصیبت سے دوچار ہو ۔ شاید ہم اس کو زمان و مکان سے دور محسوس بھی نہیں کر سکتے ۔ میں جانتا ہوں میرے دوست! تم ایک حوصلہ مند انسان ہو ایسے موقع پر ہمت سے کام لوگے ۔ ٹوٹنا نہیں ! بس اسے مشیت ایزدی سمجھ کر قبول کر لو ۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تمہارے دل کو مضبوط کرے ، تمہیں صبر و تحمل کی طاقت دے ۔تمہارے گھر والوں کو عزم و ہمت کی توفیق دے اور اللہ تمہارے ابا محترم کو جنت میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے ۔ میرے دوست ! ہم سب احباب تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔
والسلام
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

بلا ترتیب خیال

ہندو عقیدے کے مطابق صبح صبح مور کا ناچ دیکھنا نیک شگون ہے ۔ میں نے آج دیکھا اور ایک دو نہیں تین تین ۔ گاڑی میں تھا تو کوئی تصویر محفوظ نہیں کر سکا ۔ باوجود اس کے کہ اسلام نے شگون اور اسطرح کی چیزوں کو درست نہیں ٹھہرایا ہے اس کو جاننے اور ماننے کے باوجود طبیعت کو ایک سکون ملا، کہ کچھ بھلا ہوگا ۔ انسان بھی کبھی کبھی کیسی کیسی چیزوں میں اپنی خوشیاں تلاش کر لیتا ہے ۔ شاید غالب نے ایسے ہی وقتوں کے لئے کہا تھا دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔

۔۔۔مزید

آہ! پیغام آفاقی


حسرت رہی کہ’ تم ‘سے دوبارہ نہ مل سکا
محمد علم اللہ٭

اب کوئی شام نہیں آئے گی ان آنکھوں میں
تیری کرنوں نے جلا ڈالی ہیں پلکیں میری
پیغام آفاقی
پاکستان سے نوجوان ادیب باسط آزر کا میسیج آیا ’’ایک دوست سے علم ہوا کہ آپ سے پیغام آفاقی صاحب کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں ، سو برائے مہربانی، اگر ان کے بارے میں ریسنٹ اپڈیٹ ہو تو آگاہ کیجئے گا ‘‘آزر کی بات سے مجھے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہوا کہ ان کے ریسنٹ اپڈیٹ سے کیا مراد ہے ۔ میں نے بھی استفہامیہ انداز میں ریسنٹ اپڈیٹ کا مطلب ؟ لکھ کر انھیں جوابی پیغام بھیجا۔ گویا میں خود جاننا چاہتا ہوں کہ اس سے آپ کی کیا مراد ہے ؟۔آفاقی صاحب کی بہادری، ہمت اور حوصلہ نے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہونے دیا تھا کہ وہ بیمار تھے۔حالانکہ انھیں کینسر جیسا مہلک مرض لاحق تھا، لیکن ان کے بہت سے قریبی دوستوں کو بھی اس بات کا علم نہیں تها کہ ان کی ایک کیمیو تهراپی بھی ہو چکی ہے ۔
ابھی باسط آزر کا جواب آیا نہیں تھا کہ میں نے فیس بُک کھولا تو دیکھا آفاقی صاحب کے چاہنے والوں کی قطار لگی ہے، ان کے دوستوں اور عزیزوں کی صف کھڑی نظر آئی، جو ان کی صحت و عافیت کی دعائیں مانگ رہے تھے ۔ پیغام آفاقی صاحب کے کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی خبر سن کر ایسا لگا جیسے یہ بیماری مجھے لاحق ہو گئی ہے۔ میرے اندر خوف و ہراس کی ایک لہر سی دوڑ گئی ۔پھر بھی خدا وند قدوس کی ذات سے امید تھی کہ اللہ آفاقی صاحب کو ٹھیک کر دے گا اور وہ بہت جلد شفایاب ہوکر ہمارے درمیان موجود ہوں گے ۔مگر’’وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ‘‘۔
ع الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
انتقال کی خبر سن کر دل دکھ سے بھر گیا ۔ذہن اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا کہ اب آفاقی صاحب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ایک ہوک سی دل میں اٹھی اور جانے کیا کیا باتیں یاد آتی رہیں ، دیر تک ا ن کے بارے میں سوچتا رہا ، ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ ، آنکھوں کے سامنے یوں پھرنے لگا جیسے اب آفاقی صاحب کوئی نئی داستان چھیڑنے والے ہیں ، محفل جمی ہے اور سب ہمہ تن گوش بیٹھے ہیں ۔ سخن سنجوں کو کیا پتہ تھا کہ داستان گو اتنی جلدی آنا ًفانا ً سب کو مایوس و غمگسار چھوڑ کر، ہمیشہ کےلئے چلا جائے گا ، نگری کے اس پار جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا ۔ آفاقی صاحب نے ہمیں سوچنے کا بھی موقع نہیں دیا کہ ہم ان سے انھیں کے الفاظ میں کہتے ۔
رات تاریک تر ہو رہی ہے ، مٹ رہا ہے ستاروں کا جلوہ
ہو گئے غم کے بادل نمایاں ، ٹھہرو ٹھہرو کہاں جا رہے ہو
چھا گئی ہر شجر پہ اداسی ، سو گئے آج بلبل کے نغمے
کر کے تم سارے گلشن کو ویراں ، ٹھہرو ٹھہرو کہاں جا رہے ہو
آفاقی صاحب اس صدی کے ان قد آور لکھاریوں میں سے تھے ، جن پر بجا طور پر زمانے کو ناز ہو سکتا ہے ۔میری ان سے فیس بُک کے ذریعہ شناسائی ہوئی اور یہ شناسائی اس قدر بڑھی کہ میں ان سے ملنے کے لئے بے تاب ہو گیا ، کہ جس شخصیت کو میں نے محض کتابوں میں پڑھا ، رسالوں اور اہل علم کے ذریعے سنا اور جانا ہے وہ شخصیت کیسی ہوگی؟ ۔قریب سے جاننے کی جستجو بڑھ گئی اور آخرکار وہ دن بھی آگیا جب ان سے ملاقات ہوئی اور وہ ملاقات یادوں کا درپن بن گئی ۔جب کسی شخصیت سے بالمشافہ ملاقات نہ ہوئی ہو تو اس شخصیت کا ایک ہیولہ ہمارے ذہن میں بن ہو جاتا ہے ۔ میرے ذہن میں بھی ایسا ہی کچھ اختر علی فاروقی المعروف پیغام آفاقی مرحوم کے تعلق سے تھا کہ پولس ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والا یہ افسر بھی شاید ہمارے ملک کے عام پولس والوں سے ملتا جلتا ہوگا ، رویہ بھی ویسے ہی کرخت اور غصہ والا ہو گا وغیرہ ۔
مگر جب ان تک رسائی ہوئی اور میں نے ان کو قریب سے دیکھا تو وہ کوئی اور ہی مرنجان مرنج قسم کی سدا بہار شخصیت تھی ، علم و ادب کا ایک کوہ گراں ، شفقت و محبت کا پیکر ، باذوق ، آرٹ اور فن کا پارکھ ۔ ہمیں دیکھتے ہی گلے سے لگا لیا اور سیدھے اپنے ڈرائنگ روم میں لے گئے۔ چند منٹ بعد ہی انواع و اقسام کے ناشتے ، چائے اور گفتگو کا دور شروع ہوا ۔ صبح سے دو پہر ، دو پہر سے شام ، شام سے رات ہوگئی ، ہم باتوں میں اس قدر محو ہوئے کہ گذرے وقت کاپتہ ہی نہ چلا ۔ ادب کی جب بات نکلی تو آفاقی صاحب نے قدیم سے لے کر جدید اور اسلوب سے لے کر تکنیک تک پوری بساط بچھا دی ۔
ع وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا تذکرہ ہوا تو کئی صدیوں کو آئینہ کردیا، فلم اور اس کے تکنیک پر بات نکلی تو ایسی ایسی باریکیاں اور نکات پر گفتگو ہوتی رہی کہ مجھ جیسا طفل مکتب محض سننے پر ہی اکتفا کر سکتا تھا ۔ ہندوستانی مسلمانوں کی صورتحال اور ان کے مسائل کا حل ، آزادی کے بعد لٹریچر کا رول ، ہندوستان پاکستان کے ادیب و شاعر ۔ کہاں کیا تخلیق ہو رہا ؟ اس وقت کس قسم کے ادب کی ضرورت ہے؟ ، نوجوانوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ ، عمر رسیدہ افراد کو کیا کرنا چاہئے؟ ۔ ادیب اور شاعر کیا کر رہے ہیں اور ان کو کیا کرنا چاہئے؟ ایک وسیع جہان موضوعات تھا جس پر باتیں ہوتی رہیں ۔ برسوں سے میرے ذہن میں پلنے والے انتشار ، فلسفہ ، تاریخ اور نہ جانے کن کن موضوعات کےبارے میں میرے الم غلم سوالات بھی تھے ۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ انھوں نے میرے سارے سوالات کے جوابات انتہائی خندہ پیشانی کے ساتھ دیے ۔
آفاقی صاحب کو ان سے ملاقات سے قبل میں محض ادیب اور ایک سرکاری افسر کے طور پر جانتا تھا اور حیرت بھی کیا کرتا تھا کہ پولس ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والا بندہ ادب سے کیسے جڑ سکتا ہے کہ یہاں تو ’’ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو ‘‘والی بات ہے، لیکن شوق ، ہمت اور جستجو انسان سے کیا کچھ نہیں کر وا دیتی ۔ آفاقی صاحب ایک عمدہ نثر نگار کے ساتھ ساتھ خوش بیان شاعر بھی تھے ۔ملاقات کے دوران جب انھوں نے اپنا شعری مجموعہ درندہ میرے ہاتھوں میں تھمایا تو دبے لفظوں میں میں نے ان سے کہا ’’ آپ نے اس کا نام’درندہ‘کیوں رکھا یہ تو انتہائی غیر شاعرانہ نام ہے ؟‘‘
تو آفاقی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ اسی لئے تو یہ نام رکھا ہے، پھر وضاحت کی کہ دراصل یہ استعارہ ہے ’رقیب ‘ کا ۔
پیغام صاحب ادب میں پروپیگنڈا کے شدید مخالف تھے۔ اعزاز و انعام کو انھوں نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ ان کا ماننا تھا کہ ادیب کا اصل اعزاز اس کے قارئین ہیں۔ ان کے ناول کے سلسلے میں میں نے کہا کہ آپ اس کو پن گوئن یا آکسفورڈ جیسے کسی بڑے ادارے سے کیوں نہیں چھپواتے؟ تو انھوں نے کہا کہ اچھے پکوان کی خوشبو خود بخود دور تک پھیلتی جاتی ہے ، اس کے لئے بڑے ہوٹل اور خوشنما بورڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ انھوں نے کہا میں تو چاہتا ہوں میری کتاب گلی اور نکڑ میں چھپنے والے دو ٹکے کے کاغذ میں چھپے ، لیکن لوگ اس کو پڑھیں، اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں مجھے خوشی نہیں مل سکتی ۔
آفاقی صاحب محض ایک اچھے ادیب ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ تھے ، کتنوں کے مشفق اور مربی ، شاید ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے لوگ ان کے اسیر تھے ،جس کا اندازہ ہندو پاک سمیت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان کی محبین ، شاگردوں اور عزیزوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔
آفاقی صاحب کو فلم اور آرٹ سے بھی بے حد دلچسپی تھی اس سلسلہ میں جے این یو سمیت کئی اداروں میں ان کا لیکچر انتہائی دلچسپی کے ساتھ سنا جاتا تھا ، وہ جے این یو کے مہمان اساتذہ میں شامل تھے ۔ انھوں نے ٹیلیوژن سیریل کی ہدایت کاری بھی کی تھی، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ وہ ماس کمیونی کیشن کے طالب علم تھے اور نہ ہی کبھی کسی فلم کی کوئی تربیت لی تھی ، اس کے برعکس فلم کےطلبہ کو پڑھایا اورکئی ایسی ٹیمیں تیار کر دیں جو مختلف چینلوں اور میڈیا صنعت میں کام کر رہی ہیں۔آفاقی صاحب نے اس کا قصہ کچھ یوں سنایا تھا ۔
جب انھوں نے ناول لکھا تو اس کی بہت دھوم مچی، اسی درمیان ان کے ذہن میں فلم بنانے کا خیال آیا ، لیکن جب انھوں نے اس خیال کو پکانا شروع کیا تو اس نے مستقل ایک سیریل کا روپ دھار لیا ۔ انھیں دنوں دور درشن میں ڈائریکٹروں سے ٹینڈر طلب کیا گیا تھا کہ وہ اپنے پر پوزل ڈالیں ، اتفاق سے انھوں نے پر پوزل ڈالا اور وہ پاس ہو گیا ۔لیکن پاس ہونے کے بعد سرد خانہ کا شکار رہا ، کام جمع کرنے کی تاریخ قریب سے قریب تر آتی جا رہی تھی ، خیال آیا کسی ڈائریکٹر سے بات کر کے کام کرا لیا جائے ، یکے بعد دیگرے کئی ڈائریکٹروں سے بات کی گئی ، لیکن ان کے مزاج اور طبیعت پر کوئی ڈائریکٹر کھرا نہ اترا۔ آخرکار انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس کو ڈائریکٹ کریں گے ، اسکرپٹ لکھیں گے اور خود ہی ایڈٹ کرائیں گے ۔ کئی مہینوں کی انتھک محنت اور مطالعہ سے انھوں نے ساونڈ ، لائٹ ، اسکرپٹنگ ، ڈیزائننگ ، میک اپ ، سیٹ سازی پر معروف کتابیں منگائیں اور ساری کتابیں چاٹ ڈالیں ، اپنے گھر کے بالا خانہ کو اسٹوڈیو بنایا اور کام شروع ہو گیا ۔ ایکٹر ، آرٹسٹ کی تلاش شروع ہوئی تو فیس اور ان کے نخرے دیکھ کر ایک مرتبہ پھر انھوں نے نئی پیڑھی کو اس فن میں اتارنے کا فیصلہ کیا اور نوجوانوں کو اداکاری ،مکالمہ اور جملوں کے زیر و بم سے متعارف کرانے لگے ، یوں بہت جلد انھوں نے ایک ٹیم تیار کر لی اور سیریل بھی بن کر تیار ہو گیا ، ان کے بقول اس سیریل میں کوئی بھی بڑا یا چھوٹا اداکار نہیں تھا جو پہلے کہیں کام کر چکا ہو بلکہ سب کے سب ان کے ذریعہ ٹرینڈ کئے گئے نوجوان تھے ، لیکن اس کے باوجود سیریل انتہائی کامیاب رہا اور لوگوں نے کافی پذیرائی کی ۔سیریل کا’’ نام ٹوٹنے کے بعد ‘‘تھا۔( 2)۔
آفاقی صاحب کی یہ بہت بڑی خصوصیت تھی کہ وہ نوجوانوں اور نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ ہمت افزائی کیا کرتے ۔خود میرے کئی افسانوں پر انھوں نے کئی مفید مشورے دئے ۔میں نے ان سے ایک مرتبہ مطالعہ کے لئے کچھ کتابوں کی نشاندہی کی گذارش کی تو انھوں نے کہا ۔پڑھنے سے زیادہ سوچنے اور سوچ کو لکھ ڈالنے پر توجہ دیں ، آپ رائٹر ہیں پرو فیسر نہیں ، اور لکھنے کے لئے خیالات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سوچنے کی عادت ہی آپ کو بتاتی جائے گی کہ کیا پڑھنے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا میں اچھی کتابیں اتنی ہیں کہ کئی عمریں گذر جائیں ۔
ہمارے ہاں اردو ادیبوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے مصنفین کی کتابوں کو در خور اعتناء نہیں سمجھتے ، حالانکہ اس سے بہر حال قوت مشاہدہ اور فکر و فن میں اضافہ ہوتا ہے ۔آفاقی صاحب ایک اچھے قلم کار کے لئے دیگر زبانوں پر عبور کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے ، اس کے لئے انھوں نے اکیسویں صدی فکشن کے تحت ایک ٹرانسلیشن اکیڈمی بھی تشکیل دی تھی ، جس کا ایک صفحہ بھی فیس بُک پر بنایا تھا ، وہ مجھے مستقل اس کے ایڈمن بن جانے پر ضد کرتے رہے ، لیکن میں نے ان سے کہا وہاں تو خود ہی بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب موجود ہیں میں اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا نہیں کر سکوں گا ، تو انھوں نے مجھے سخت لفظوں میں سر زنش کرتے ہوئے کہا تھا ، اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے ۔اور انگریزی کی چند سطریں (1) میں تحریر کی تھیں ۔
خوف آپ کو کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دے گا ۔ پھر ہم خوف کیوں کھائیں ۔ نتیجے دو ہی نکل سکتے ہیں یا تو ہم کامیاب ہو کر سر خرو ہوں گے یا پھر ناکام ہو جائیں گے ۔ دونوں چیلنجوں کا زندگی کے ہر میدان میں مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہئے ۔ پھر آپ محسوس کریں گے کہ دنیا آپ کی مٹھی میں ہے ۔ انھوں نے مجھے آئی ایس کی تیاری کے لئے بھی کئی مرتبہ ابھارا ، وہ اس وقت بھی ایسی ہی عزم و ہمت دلانے والے کلمات سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ، ان کا کہنا تھا پہلے جاب سیکیور کیجئے پھر چاہے جتنا چاہیں لکھیں ۔
انگریزی اوردیگر زبانوں کے ادب سے انھیں اچھی واقفیت تھی ۔بات بات میں وہ اپنے سامعین یا قارئین کو موٹے موٹے نام لیکر مرعوب کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے ، لیکن ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ انہوں نے چیخوف ، ہیگو ، شیکسپیر ، جیسے نابغہ روزگاروں کو پڑھا ہی نہیں بلکہ گھول کر پیا ہے ۔
علی گڑھ اوران کی یادوں کا بڑے دلچسپ انداز میں دیر تک تذکرہ کرتے ۔ میری ان سے جب ملاقات ہوئی تو اور چیزوں کے علاوہ علی گڑھ سے متعلق بھی انھوں نے بہت ساری چیزیں بتائیں ۔ کہنے لگے :
جب وہ علی گڑھ گئے تو انگریزی آنرس میں داخلہ لے لیا ۔لٹریچر کی کلاس بڑی مشکل محسوس ہوتی تھی کہ اس کے استعارات اور تشبیہات سے واقفیت نہ تھی ، پھر انگریزی کے کچھ معروف ناولوں کو اٹھایا اور اسکے ترجمے ، چند ہفتہ میں سارے پڑھ ڈالے اس سے اصطلاحات اور مفہوم کو سمجھنے میں کافی مدد ملی اور پھر وہ اس کلاس کے ٹاپر ثابت ہوئے ۔
آفاقی صاحب دراصل ایک مہم جو شخص تھے جو کسی بھی چیز کو ایک مہم کے طور پر لیتے اور اس کو پورا کر کے چھوڑتے ۔ میرے خیال میں ہر کامیاب آدمی کا ایسا ہی رویہ رہتا ہوگا ۔ اس کے بغیر کامیابی شاذ ہی ملتی ہے ۔
ناول کے مصنف کو تخلیق کار اس لئے کہا جانا چاہئے کہ وہ انسانی کردار تخلیق کرتا ہے اور ان کرداروں کے لئے معاشرہ تخلیق کرتا ہے اور یہ تخلیقات اتنی توانا ہوتی ہیں اور ان کے اندر پنپنے کی ایسی طاقت پنہاں ہوتی ہے کہ اگلے موسموں میں وہی معاشرے کی شکل میں زمین پر چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں – بلاشبہ آفاقی صاحب جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے ہیں لیکن جب تک اردو ادب زندہ ہے ان کا پیغام آفاقی اور سنہری حروف میں نیر وتاباں رہے گا۔اور ان کی فکر اگلے موسموں میں بھی گُل کھلاتی رہے گی ۔بقول اقبال:
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
وہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
حاشیہ ۔۔۔
(1)انگریزی اقتباس جو آفاقی صاحب نے 7 جون 2015 رات آٹھ بجکر آٹھارہ منٹ پر فیس بُک انباکس میں مجھے ارسال کیا ۔
۔ Being scared will not help you. So why to be scared. There will be only two results. Yes. No. Keep. ready to face both - and you will feel in command and control of yourself.
(2) ۔ سیریل کے نام کی جانکاری معروف ناول نگار مشرف عالم ذوقی نے دی ۔
٭ رابطہ کا پتہ :
alamislahi@gmail.com
9911701772

۔۔۔مزید

المیہ

ہمارے قومی لیڈروں کا چاہے وہ سیکولر پارٹیوں کے ہوں یا فرقہ پرست تنظیموں کے ، المیہ یہی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے درمیان آتے ہیں تو ان کی تعریف و توصیف میں رطب السان ہو جاتے ہیں ، مگر جب وہ ہندووں کے درمیان جاتے ہیں تو وہاں وہ مسلمانوں کو بالکل بھول جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں بڑے فرقوں کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں ، مگر وہ اپنے سیاسی مفادات اور ووٹ کے لئے دونوں فرقوں کا استحصال کرتے رہتے ہیں ۔ فرقہ پرستی ہو یا مختلف فرقوں کے درمیان جذباتی ہم آ ہنگی ، ضرورت کے مطابق وہ دونوں کے وصاف اور شارح بن کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں اور عوام کے حصے میں تالیاں بجانے کے سوا اور کچھ نہیں آتا ۔

محمد علم اللہ 

۔۔۔مزید

ایک ناتمام افسانہ

ایک ناتمام افسانہ
محمد علم اللہ
اگست کے آخری عشرے کی تاریخ ہوگی ، وہی کوئی چوبیس یا پچیس ۔ان کے عمروں کی ہی طرح جوان ۔دونوں یو نیورسٹی جا رہے تھے ۔ کیب نہ ملنے کی وجہ سے دونوں نے آٹو کیا ، اور منزل کے لئے سوار ہو گئے ۔ سورج غروب ہوچکا تھا ،مگر تاریکی ابھی پوری طرح چھائی نہیں تھی ۔رات جس تیزی کے ساتھ تاریکی کی جانب بڑھ رہی تھی اتنی ہی تیزی کے ساتھ آٹو بھی سڑک پر دوڑنا شروع کر دیا تھا ۔رات اور آٹو دونوں کو اپنی منزل تک جلد از جلد پہنچ جانے کی بے تابی تھی ۔ رات صبح کے انتظار میں اپنے وجود کو کھوتی جا رہی تھی ، تو آٹو ڈرائیور کسی اور مسافرکی چاہ میں اپنی گاڑی کو تیزی سے بھگاتا چلا جا رہا تھا ۔
تیلگو فلم کا کوئی اداس مگر پر کیف نغمہ ایف ایم میں بج رہا تھا ۔ اس کے بول سمجھ میں نہیں آ رہے تھے ۔لیکن آواز سحر میں گرفتار کر دینے والی تھی ۔ دونوں کچھ سمجھ میں نہ آنے کے باوجود اس پر تبصرہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ پھر شانزہ نے اپنا موبائل آن کیا اور یہ کہتے ہوئے کہ یہ گانا سنو! ،اس نے آئی فون کا ایک سرا اپنے کان میں ڈالا اور دوسرا انتہائی پیار سے طاہر کے کان میں ڈال دیا ۔جسم و جاں میں ترنگ پیدا کر دینے والا نغمہ انتہائی سریلی آواز میں رس گھولنا شروع کر دیا تھا۔
اتی سی خوشی
اتی سی خوشی
اتا سا ٹکڑا چاند کا
خوابوں کے ٹھکانوں سے
چل بنائیں آشیاں ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں دونوں ایک انمول دنیا میں داخل ہو چکے تھے ۔ ایک ایسی دنیا جو،ان کے لئے کسی جنت سے کم نہ تھی۔طاہر پہلی مرتبہ شانزہ کے وجود کواپنے سامنے محسوس کر رہا تھا ۔ بالکل سامنے ، اسے یقین نہیں آیاکہ اس کی باتیں شانزہ سے ہی ہو رہی ہے۔جسے وہ جی بھر کے دیکھنے کا متمنی تھا ۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ ساری چیزیں وہ خواب میں دیکھ رہا ہے ۔اور پھراس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، یقین کرنے کے لئے۔ غصہ کے ساتھ اس نے اس کے ہاتھ کو پرے دھکیل دیا ۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کوئی خواب نہیں دیکھ رہا ہے ۔اس نے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔ہلکے غصے کے آثار اسکے چہرے پراب بھی عیاں تھے۔اسے ایسا لگا جیسے اب وہ رو دے گی ، خوف کی لہر اس کے اندر تک سرایت کر گئی ۔ پھر اس نے اس سے انتہائی عاجزی کے ساتھ سوری کہا ! اور اس کے ہاتھوں کو فرط جذبات سے چوم لیا۔پھر چپکے سے اس نے اس کے کان میں کہا ’’تم میرے لئے بہت قیمتی ہو ‘‘۔
اس نے کہا ’’ کچھ قیمتی نہیں ہوتا ، یہ سب لڑکوں کے ڈھکوسلے ہوتے ہیں ‘‘ ۔
’’تم غلط سمجھ رہی ہو ، اعتبار کر کے دیکھو ‘‘۔
’’یہ آپ کو اچانک کیا ہو گیا ‘‘۔
’’کچھ بھی تو نہیں ‘‘
تھوڑی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی ۔وہ دبک کر ذرا کنارے سرک گئی ،طاہر سوچنے لگا اب کیا کرے اور پھر سکوت کو توڑتے ہوئے ہمت کر کے ایک مرتبہ پھر گویا ہوا۔
’’خاموش کیوں ہو، سفر کو بور نہ بناو، سوری تو بول دیا نا ! ‘‘
’’میں خاموش نہیں ہو ں ، کچھ سوچ رہی ہوں ۔ ‘‘
’’کیا ؟ ‘‘
’’ بس ایسے ہی کچھ سوچ رہی تھی ‘‘
مجھے بھی بتاو ؟ کیا سوچ رہی تھی ؟
نہیں جانے دو ۔۔!! کچھ بھی نہیں ۔
اب چھپاو نہیں ۔ بتا بھی دو ۔۔!
دھیمی آواز میں وہ کچھ بد بدائی ۔ جسے وہ سن نہیں سکا ۔ شاید تیز رفتار آٹو ،شور مچاتی ، چنگھاڑتی، گاڑیوں اورٹریفک میں اس کی آواز تحلیل ہو گئی تھی ۔ وہ اس کی آواز کو اپنی سماعت میں محفوظ کر لینا چاہتا تھا ۔ اس نے کان اس کے قریب کر دیا ۔وہ سمٹ کر تھوڑی آگے چلی گئی ۔اس نے کہا زور زور سے بولو ، تمہاری آواز سنائی نہیں دے رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔مزید

رینڈم تھاٹ


جہاں تک ہندوستانی ، پاکستانی ڈراموں کی بات ہے ، فلم کی یا آرٹ کی یہ در اصل پھیلاو سے پھلتا ، پھولتا اور پروان چڑھتا ہے ۔اس کے ذریعہ ہم بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں ، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کیسے تکنیک سے لیکر فلم بندی ، اسکرپٹنگ ، مکالمہ نگاری ، کلچر ، سماج کے رویہ جات ٹوٹتے ، بکھرتے ، بنتے ہیں ، سماج کو کیا ضرورت وغیرہ وغیرہ ۔ سر حد کے اِس پار یا اُس پار اس طرح کے چیزوں کی اگر کوئی بائکاٹ کی بات کرتا ہے تو یہ سراسر غلط ہے ، اور درست بات تو یہ ہے کہ یہ ممکن بھی نہیں ہے ۔ اب زمانہ محض ٹیلی ویژن یا کیبل نیٹ ورک تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اس نے کہاں تک اپنے پاوں پسار لئے ہیں اور کہاں تک اس کی رسائی ہو گئی ہے ، ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ایسے میں اگر کوئی اچھی چیز کہیں بھی بنتی ہے تو لوگ اس کو دیکھتے ہیں ۔ ہمارے حلقہ احباب میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ ہالی وُڈ کے علاوہ دنیا بھر میں بننے والی فلمیں دیکھتے ہیں کورین ، چائنیز ، نیپالی اب تو چھوٹے چھوٹے ممالک میں بھی لوگ اچھی فلمیں بنا رہے ہیں ، انتہائی معیاری جسے ہم جیسے لوگ بھی جن کا پیشہ ہی اس انڈسٹری سے وابستہ ہے دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ کیا ہندوستان میں پاکستانی فلم بول نے دھماکہ نہیں مچایا ، کیا فلم خدا کے لئے نے اپنی پہچان نہیں بنائی ۔یا پھر پاکستانی ڈراموں نے ہندوستان میں اپنی حیثیت نہیں منوائی ۔خود ہمارےایم اے ماس کام کے کلاس میں پاکستانی سیریل دکھائے جاتے ہیں ، سیکھنے کے لئے ۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ہمارے یہاں ہندوستان میں ترکی سیریل بھی انتہائی ذوق و شوق سے دیکھے جا رہے ہیں جو خالص اسلامی اقدار پر مبنی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ایرانی فلموں نے بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ہمارے یہاں ای ٹی وی میں تو عرصہ دراز تک ایرانی فلمیں بغیر ترجمہ کے بھی دکھائی جاتی رہیں اور ٹی آر پی بھی اچھارہا ۔

۔۔۔مزید

مذہبی جنونیت اور فنون لطیفہ سے بیزاری

مذہبی جنونیت اور فنون لطیفہ سے بیزاری
ہمارے ایک مخلص اور عزیز دوست نے میرے ایک کمنٹ پر جس میں ہند پاک کشیدہ حالات کے تناظر میں کچھ پاکستانی احباب کی جانب سے ہندوستانی فلموں پر پابندی اور بائکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا پر گفتگو کی گئی تھی تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے کوئی اور موضوع نہیں ملا اور یہ کہ کیا ادب میں اب محض فلموں اور موسیقی کی باتیں ہی رہ گئی ہیں ؟ ۔ ان کی خدمت میں عرض ہے بے شک ادب یا آرٹ میں محض فلمیں نہیں رہ گئی ہیں اور یہ اس کا ایک جز تو ہے جس سے انکار نا ممکن ہے مگر اسی جز سے بے نیازی نے جس مذہب پسندی کے تناظر میں انھوں نے یہ بات کہی ہے ان کا حال کیا حال ہے؟ شاید وہ یا اس طرح کی باتوں کی ترجمانی کرنے والے واقف نہیں ہیں۔ ہم نے کہیں یہ لکھا تھا جس چیز کو ہم ابلیسی نظام کے قیام کا آلہ تصور کرتے ہیں وہ بذات خود ابلیسی نظام کا حامل نہیں ہے بلکہ ہم نے اس کو ایسا مان لیا ہے ، اور اسی مان لینے نے ہمیں یعنی مسلمانوں کونقصان پہنچایا ہے ۔در اصل نام نہاد عبادت گاہوں سے وابستہ اسکالر یا مذہبی ٹھیکداروں نے آرٹ کو کوئی جگہ دی ہی نہیں ، خاص کر مبینہ اسلام کے نام لیواوں نے ۔ان کے نزدیک یہ چیزیں عین خلاف مذہب ہیں ۔حالانکہ یہ فن فنون لطیفہ کی سب سے زیادہ دور رس اثرات کی حامل صنف میں سے ایک ہے۔ شاعری، موسیقی، مصوری اور آرٹ کی دیگر اصناف کی پسنداور پذیرائی کو ایک خاص طبقے تک محدود قرار دے دیا گیا ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ویڈیو گرافی یا فلم کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی اسکرین پر ابھرتے مناظر اور مکالمے ان پڑھ مزدور، کسان اور دنیا کے ہر معاملے سے بے خبر گھریلو خواتین تک کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔مگر ہماری یہ بدقسمتی رہی کہ اس قدر وسعت اور اہمیت رکھنے والا یہ میڈیم ہمارے یہاں شدید زبوں حالی کی زد میں رہا ۔ برصغیر میں فلمی صنعت کی داغ بیل جن لوگوں نے ڈالی ان میں مسلمان نمایاں اور اس عمل میں پیش پیش تھے۔ اداکاری ہو، موسیقی ہو یا ہدایت کاری، شاعری اور کہانی سمیت ہندوستان میں ابھرنے والی فلم نگری کے ہر شعبے میں مسلمانوں نے اپنی صلاحیت منوائی۔لیکن افسوس ہمارے مبینہ مذہبی طبقہ نے انھیں ارذل تصور کیا اور اس فن کو شراب اور سور کی طرح نجس جانا ۔اس کا جو نتیجہ نکلا اس سے ہم واقف ہی ہیں ۔ایسے میں اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ ہم آج شدت پسندی کی جس فضا میں رہ رہے ہیں اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مزہب میں فنون لطیفہ کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ آرٹ ذہنوں کی تطہیر کرتا اور شعور اجاگر کرتا ہے۔ یہ لوگوں میں برداشت پیدا کرتا ہے، لیکن ہمارے مذہبی ٹھیکیداروں اور کچھ دیگر طبقات نے آرٹ کے ہر شعبے کو کچل ڈالنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر جو کہ عوام کے قریب ترین فن لطیفہ ہے،کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا گیا۔ان کے خلاف فتوے جاری کئے گئے ، اس بربادی کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں بے چینی، انتہاپسندی اور جہالت نے خوب فروغ پایا، جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ میں ماجد مجیدی ، مصطفی عقّاد ، فرزاد ڈبلیو ، سید بدریہ اور نبیل ابو حرب جیسے افراد کو سلام کرتا ہوں جنھوں نے تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسلامی اقدار پر مبنی فلمیں بنا کر چراغ سحری کا ہی سہی کرا دار نبھانے کی کوشش کی ہے ۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

چیلنج

تمام تر اختلاف کے باوجود کل وزیر اعظم جناب نریندر مودی صاحب نے خصوصاً پاکستان اور ہند کے تعلق سے جو بات کہی کہ دونوں ملکوں کو غریبی، جہالت تشدد و نفرت کے خلاف لڑائی لڑنی چاہیے وہ انتہائی معقول، دل کو لگتی اور سمجھ بوجھ والی بات ہے؛ بیک قلم جنبش رد نہیں کیا جا سکتا.کاش دونوں ممالک اس کو واقعی چیلنج کے طور پر قبول کرتے اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے....

۔۔۔مزید

تم کتنی بھولی بھالی ہو



تمہارے ذریعے بتائی گئی باتوں پر آج میں نے جب غور کیا تو تم مجھے انتہائی معصوم اور پاکیزہ نظر آئی ، اتنی پیاری اور معصوم کہ مجھے تم پر بے حد ترس آیا اور تمہاری معصومیت پر بے انتہا پیار ۔تم نے تو مجھے یہاں تک بتا دیا کہ کسی نے تمہیں لو لیٹر لکھا تھا ، اس کے لئے تم نے مار بھی کھائی ، کئی دنوں تک خوف اور غم کے حصار میں رہی اور وہ خط بھی نہ پڑھ سکی ، بھلا اس سے بھی زیادہ کوئی معصوم ہو سکتا ہے ، جب بھی تمہاری یہ باتیں مجھے یاد آتی ہیں ،میں مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا ، تم کتنی بھولی بھالی ہو ۔
محمد علم اللہ

۔۔۔مزید

جرس انذار

جرس انذار
محمد علم اللہ
اب کی گھر گیا تو ہمارے چچا محترم جو دیہات میں رہتے ہیں نے ایک بات کہی ، سوچا تھا اس کو بنیاد بنا کر ایک افسانہ لکھوں گا ، یا کوئی کالم ، مگر پتہ نہیں کب اس کی نوبت آتی ہے اس لئے من و عن ویسے ہی شیر کئے دیتا ہوں،پہلے چاچو کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں چھوٹا ناگپوری زبان میں :
"سے دِنوا پھلنوا گھر سوئت رہیئی ، رائت کے تین بجے نیند کُھل لئی ، تو کا دیکھلئی لا اوکر سب چھوین چھوٹ سے بڑ، ہپکُنیا سوئت کے موبائل میں ماتل ہتھِن ، بِہان ہم نماج پیڑھ کے آلیئی سے برا لے سب سوتل رہتِھن ، ایج کائل ہر گھر کر ایہے حال ہو ، کا ہوتئی جمانہ کر ۔۔۔۔۔۔"
ترجمہ :
" اُس دن اتفاقا فلاں کے گھر رکنا ہوا ، رات کو اچانک نیند کھلی ، تقریبا تین بج رہے ہونگے ۔کیا دیکھتا ہوں ، فلاں کے بچے ،چھوٹے سے لیکر بڑے، سبھی پیٹ کے بل سوئے ہوئے ہیں اور ان کی نظریں موبائل کے اسکرین پر مرکوز ہیں ، صبح میں بیدار ہوا اور نماز پڑھ کے واپس آیا ، تب تک اُس کے سارے بچے سو ہی رہے تھے ، میں سوچنے لگا یہ صرف اس گھر کا حال ہے ، یہ تو اجتماعی المیہ ہے ،کیا ہوگا ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔"
کئی مرتبہ میں دیر گئے رات ضرورت کے تحت بھی جاگتا ہوں تو چاچا کی یہ بات جرس انذار کی طرح کان میں ٹن ٹن سنائی دیتی ہے ۔

۔۔۔مزید

کانوں کو بھلی لگنے والی تقریر

کانوں کو بھلی لگنے والی تقریر 
محمد علم اللہ 
ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے سر براہان اپنے اپنے عوام کو کس طرح بے وقوف بناتے ہیں؟ اور عالمی برادری کے درمیان اپنی شبیہ کس طرح بہتر سے بہتر دکھانےکی کوشش کرتے ہیں ؟ اس کا اندازہ گذشتہ دنوں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بعد ازاں ہندوستان کے وزیر خارجہ ششما سوراج کا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں کل کے خطاب سے لگایا جا سکتا ہے۔ 
میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے تعلق سے خطاب یا بیان پر کچھ عرض نہیں کرنا چاہتا ، تاہم ہندوستان کے وزیر خارجہ ششما سوراج نے اندرونِ ملک کے تعلق سے جو باتیں کہی ہیں اسے محض لفاظی سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔ محترمہ نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ٹکاو ترقی کا جو ہدف دو ہزار تیس تک کے لئے بنایا تھا اس ہدف کو ان کی حکومت نے تقریبا دو سال میں ہی مکمل کر لیا ۔مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا صفائی مہم کے تحت پورے ملک کے چار لاکھ سے زائد اسکولوں میں بیت الخلا بنایا گیا ،ملک میں میک ان انڈیا کا اعلان ہو رہا ہے۔ جن دھن یوجنا جو دنیا کی سب سے بڑی غریبوں کو فائدہ پہنچانے والی مالی اسکیم ہے کے تحت پچیس کروڑ غریب لوگوں کے بینک اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں ۔ آج عالمی منڈی میں اقتصادی کساد بازاری کے باوجود بھی ہندوستان ایک بڑی اور مضبوط معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
محترمہ کی تقریر سُن کر سوچ رہا ہوں یہ سب کہاں ہو رہا ہے محض کاغذ میں یا سرکاری فائلوں میں۔محترمہ نے دہشت گردی کو بڑھا دینے والے ممالک اور انسانیت کے خلاف اقدام کرنے والی قوموں کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کر دینے کی بھی بات کی ، یہ تو یقینا اچھی بات ہے لیکن اس بارے میں کیا کہا جائے کہ خود ہمارا ملک فلسطین میں ظلم و بر بریت کا ننگا ناچ ناچنے والے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے، اس سے دفاعی معاہدے کرتا ہے ، اسلحہ خرید کر اس کو مضبوط بناتا ہے، اور تو اور اس ظلم کے خلاف جو اسرائیل نے فلسطین میں نصف صدی سے برپا کیا ہوا ہے، آواز اٹھانے کی زحمت بھی نہیں کرتا ۔
بلاشبہ ایسی تقریریں کانوں کو سننے میں بھلی لگتی ہیں، اور ایسی تقریر لکھنے اور کرنے والے کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی، لیکن اسے بھی زیادتی سے ہی ہو تعبیر کیا جائے گا کہ ہم ایسی باتوں کو من و عن قبول کر لیں ۔

۔۔۔مزید

پاکستانی ڈرامے



ایک مرتبہ پھر پاکستانی ڈرامے نے اپنے حصار میں لے لیا ہے ، ان دنوں عشق نچایا دیکھ رہا ہوں ، جس کے تمثیل نگار ظفر عمران صاحب ہیں۔ عشق نچایا بظاہرتوایک سہ رخی محبت کی کہانی نظر آتی ہے مگر آنے والی قسطوں میں اندازہ ہوگا کہ اس میں انسانی نفسیات کو کس طریقے سے ظاہر کیا گیا ہے اور کس طرح ٹی وی ڈرامے کی اس اعلی اور شاندار روایت کے ساتھ خود کو جوڑا گیا ہے۔ میں ظفر عمران صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اتنے خوبصورت ڈرامہ سے متعارف کرایا، اس سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی مل رہا ہے ۔ ان سے گذارش ہے کہ باقی قسطیں بھی جلد اپلوڈ کر وائیں، ہم غریب پاکستانی چینل تو نہیں دیکھ سکتے نا یو ٹیوب کا ہی سہارا لینا ہوگا ۔ 

۔۔۔مزید

عالمی یوم ِ ترجمہ ، سینٹ جیروم اور اردو

عالمی یوم ِ ترجمہ ، سینٹ جیروم اور اردو
محمد علم اللہ
بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ 30 ستمبر کو عالمی ترجمہ کا دن ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی زبان میں تخلیق اور اصل متن کی اپنی اہمیت ہے اسی طرح ترجمہ کی بھی انسانی ثقافت اور زبان و ادب کی ترقی میں کردار اور اثر سے انکار نا ممکن ہے۔ذرا تصور کیجئے اگر دنیا کے عظیم ادب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ نہ ہوا ہوتا ، تومختلف معاشرے ہمارے لئے معمہ نہیں بنے رہتے؟ دنیا کے مختلف زبانوں سے وابستہ افراد دوسرے معاشروں میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں کیسے جان پاتے ۔شاید اسی لئے ترجمہ کو ایک فن نہیں بلکہ محض دو زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان پل کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ترجمہ کی اہمیت ہر زمانہ میں رہی ہے ، یہ بات اور ہے کہ اس کی مقبولیت میں گزشتہ دو تین صدیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے اور آج عالم یہ ہے کہ کسی بھی معروف مصنف کی کتاب ایک ساتھ کئی زبانوں میں شائع ہو تی ہیں اور اسی کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان پہنچ جاتی ہے، اور آج کے عالمگیر عہد میں ترجمہ کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ اب یہ محض علم و ادب تک محدود نہیں رہ گیا بلکہ اس نے اپنا دائرہ پھیلا کر معیشت اور ضرورت کے ہر حصہ میں داخل ہو کر اپنی اہمیت منوا لی ہے ۔
ترجمہ کا یہ عالمی دن سینٹ جیروم کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ سینٹ جیروم کی اصل تاریخ پیدائش کی بابت تاریخ میں مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں ، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش سن 340-42 کے آس پاس كروشيا کے ایک چھوٹے سے شہر ستردو میں ہوئی تھی جبکہ موت 30 ستمبر 420 کو فلسطين بیت ا لحم نامی شہر میں ہوئی۔ بائبل کے اولین ترجمہ کا سہرا سینٹ جیروم کو ہی جاتا ہے جنھوں نے ترجمہ کے فن پر کئی اہم مضامین بھی لکھ کر تاریخ میں اس فن کو عروج دینے والوں میں اپنا نام درج کرایا ۔ سینٹ جیروم نے 390 اور 405 کے درمیان عہد نامہ قدیم کا ہبرو زبان میں ترجمہ کیا۔ اس درمیان انہوں نے ’بُک آف سیموئیل اینڈ آف کنگز‘، اور’ عہد نامہ جدید ‘ جیسی اہم کتابوں کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور تصوف کے مختلف نصوص کا بھی ترجمہ کیا اور معاصر مقدس کتابوں پر مختلف زبانوں میں شرحیں لکھیں۔ سینٹ جیروم کے بارے میں کہا جاتا ہے کی انہوں نے انتہائی تیزی سے ترجمہ اور کمپوزیشن کام کیا ، کیونکہ وہ چاہتے تھے کی اپنی حیات میں ہی وہ دستیاب تمام مقدس کتابوں کا ترجمہ کر لیں، یا مختلف زبانوں میں اپنے تبصرے درج کر دیں ۔ اسی لئے تاریخ دانوں کے مطابق ان کی تحریروں اور ترجموں میں کہیں کہیں عدم مساوات بھی نظر آتا ہے۔مگر سینٹ جیروم نے خود ااس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ کئی چیزوں کی مزید بہتر وضاحت کر سکتے تھے، جو وقت کی قلت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں کر سکے ۔لیکن اس سے ان کے کام کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی، کیونکہ اپنی وراثت میں سینٹ جیروم نے دنیا کو وہ قیمتی تحفہ دیا جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکے گی ۔
اور اسی لئے اس دن بہت سے ممالک میں ترجمہ سے متعلق متعدد پروگرام، ورکشاپ، اجلاس ، سمینار وغیرہ منعقد کراتے ہیں۔ سینٹ جیروم کی خدمات کے اعتراف کے بطور سال 1991 میں دنیا کے معروف مترجمین نے اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ہندوپاک میں بھی مترجمین کی جانب سے اس طرح کے کئی کام کئے جاتے ہیں ۔لیکن اسے بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جائے گا کہ اردو زبان میں اس حوالہ سے کوئی خاص سر گرمی دکھائی نہیں دیتی ۔ حالانکہ اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ اہل اردو بھی ترجمہ کی صنف کو فروغ دینے میں سنجیدہ حصہ لیں ،محض حکومت پرتکیہ کرنے کے بجائے خود بیڑا اٹھانے کا اہتمام کریں ،اردو میں معیاری مترجم کی کمی کی وجہ سے عالمی کے علاوہ دیگر علاقائی زبانوں کے ادب کا انگریزی یا دیگر غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کی کوشش کریں ۔ تمام عالمی زبانوں میں ترجمہ کے متعدد مراکز قائم کیے جائیں ،تاکہ اس عالمگیر عہد میں ہم بھی ترقی یافتہ قوموں کے ساتھ کھڑے ہو سکیں اور اپنے علمی،ثقافتی،اور تہذیبی ورثے کو ترجمے کی صورت میں عالمی زبانوں میں منتقل کر کے دینا بھر میں پہنچائیں،ایسے اقدامات اور کوششوں سے ہی ہم دنیا کے سامنے اردو کی شبیہ کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
نوٹ : اس مضمون کو ادب کے شیدائی اور عالمی افسانوی ادب کے ایڈمن صفی سرحدی صاحب کی فرمائش پر لکھا گیا ہے ۔

۔۔۔مزید

پیر، 27 جون، 2016

پس ماندہ طبقہ اور میڈیا


( افسانہ فورم پر دلت فکشن ایونٹ کے حوالہ سے )

محمد علم اللہ 
 
ابھی حال ہی میں فیس بُک پر چند احباب کے ذریعہ چلائے جا رہے دلت ایونٹ میں شرکت کا موقع ملا جس میں پوری دنیا سے لوگوں نے اپنے مضامین، افسانے اور نظمیں ارسال کیں ان سبھوں کو پڑھنے کا موقع ملا تو مجھے بھی ایک صحافی کی حیثیت سے میڈیا کے حوالہ سے اس پر غور کرنے کاخیال آیا۔ اگر ہندوستان کے دس اہم اخبارات کا مطالعہ کے لحاظ سے نام لیا جائے تو ان میں سب سے اوپر ہندی اخبارات کے نام آتے ہیں۔ دس کی فہرست میں پانچ ہندی اخبارات کے نام ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا کو دیکھیں تو وہاں بھی ناظرین کی تعداد کے لحاظ سے ہندی چینل ہی چھائے ہوئے ہیں۔ ہندی اخبارات کی اشاعت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ حالاں کہ اردو والے بھی اس کا دعوی کرتے نہیں تھکتے۔اردو اخبارات کے اس دعوے کی قلعی ابھی حال ہی میں آنے والی ایک کتاب دہلی میں اردو صحافت کا منظر نامہ جو کہ ایک دیدہ دلیر ریسرچ اسکالر شاہد الاسلام کے ذریعہ لکھی گئی ہے سے بھی ہوتی ہے۔

اردو یا ہندی میڈیا نے اپنے پھیلاؤ اور تشہیر کے میدان میں جتنا کام کیا ہے، اتنا باشعور قاری پیدا کرنے کے لئے نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ میڈیا کے اپنے رویے میں ہے۔ معاشرے کے اثر و رسوخ والے طبقے کے ساتھ مل کر چلنا اور اس کو برقرار رکھنا میڈیا کی بنیادی ضرورت ہے۔ معاشرے کواگر پسماندہ طبقہ کی فکر نہیں ہے تو میڈیا میں بھی اس کے لئے جگہ نہیں ہوگی۔ میڈیا بالآخر سماجی ڈھانچے کا ہی اظہار یہ یا اعلامیہ ہے۔ وہ سماجی طاقت کے مراکز کے ساتھ مل کر چلتا ہے۔ انہیں چھیڑنا میڈیا کی فطرت میں نہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ میڈیا میں سائنسی شعور کے لئے جگہ کم ہے، بیکار مسائل کے لئے جگہ، وقت اور سرمایہ سبھی کچھ ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری میڈیا کے پاس جذباتی یا غیر ضروری کام کے لئے مجمع جمع کرنا آسان ہے، لیکن کسی سنگین مسئلے پر بات چیت کرنا انتہائی مشکل ۔

اس کے لئے صرف میڈیا ذمہ دار ہے، یہ کہنا غلط ہو گا۔ سائنسی شعور اور دانشورانہ سوچ کے لئے معاشرے کے دیگر ساختیاتی ڈھانچے میں ہم نے کتنی جگہ لی ہے، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ سائنسی شعور کی تعمیر میں تعلیم ایک ضروری شئے ہے۔ اگر تعلیم کی ترقی اس بنیاد پر کر پائیں تو میڈیا میں بھی ان کی تصویر دکھائی دے گی۔ کیونکہ میڈیا میں جو لوگ آ رہے ہیں وہ اسی نظام سے آ رہے ہیں۔اب صورت حال یہ ہے کہ سماجی ضرورتوں کا ادراک کئے بغیر کالم سے اخبارات کے پیٹ بھرے اور بے جا لفاظی اور مقصدسے عاری اداریے لکھے جاتے ہیں۔ جب تک ان سب کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا، پسماندہ طبقہ کی بات کیسے ہوگی۔ غیر سائنسی شعور اور اندھی تقلید کی مار کو سب سے زیادہ یہی طبقہ جھیلتا ہے۔ پسماندہ لوگوں میں سے جن حصوں کو سیاسی اقتدار میں حصہ داری ملی ہوئی ہے، وہ بھی ان سے اچھوتے نہیں۔

میڈیا کی تاریخ اندھی تقلید یا دقیانوسی تصورات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور سائنسی خیالات کے حق میں بیداری پیدا کرنا رہا ہے۔ ایسے رسائل کو نکالنے والوں کی وفاداری اور اپنے ملک اور عوام کے تئیں خدمت اور محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ وہ معاشرے کی بیماری کو پہچانتے تھے۔مگرڈیجیٹل جرنلزم کے بعد ہندوستان میں آج جتنے اخبارات اور چینلز آئے ان میں فضول چیزوں کو شائع کرنے یا دکھانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ انٹر نیٹ کا کوئی بھی صفحہ کھو لئے تو وہاں سب سے پہلے جنس سے متعلق ہیجان انگیز اشتہار، راشی پھل، واستو یا اسی قبیل کی غیر ضروری چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔یعنی سماجی عادات میں اندھی تقلید، جہالت منفی رویہ جات سے ہی میڈیا مطمئن ہے۔ اسے ختم کرنے میں میڈیا یا میڈیا میں کام کرنے والے لوگوں کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔

ہمارے یہاں میڈیا کی اکثریت کسی خاص نظریے کے ساتھ منسلک دکھائی دیتی ہے۔ نظریاتی اور سماجی بحران کے وقت یہ وابستگی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ ہندی میڈیا کا فرقہ وارانہ خیالات کے ساتھ دوستی کا رشتہ کسی سے مخفی نہیں ہے جس کی تفصیلات کئی بار منظر عام پر بھی آ چکی ہے۔ حیرت ہے کہ آج بھی شعور کے رویہ کا فقدان ہے اور بغیر شعور کے نقطہ نظر کو بیدار کئے ہوئے ہم پسماندہ سماج کی بات نہیں کر تے۔پسماندہ طبقہ میں وہ سبھی طبقے شامل ہیں جو سماج میں ذات، جنس، مذہب، جسمانی معذوری کی وجہ سے نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ ان میں دلت، پسماندہ، عورتیں، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، یہودی وغیرہ، جسمانی اور ذہنی طور پر مختلف صلاحیت والے لوگ، سب شامل ہیں۔ پسماندہ لوگوں پر بات کرتے ہوئے خصوصی طور پر دلت پسماندہ طبقات، آدی واسی اور خواتین کی بات کی جاتی ہے، کیونکہ پسماندہ لوگوں میں یہ بڑے دائرے بناتے ہیں۔

جہاں تک میڈیا میں پسماندہ طبقے کی موجودگی کا سوال ہے تو یہ متعدد تحقیقات اور سرویز سے ظاہر ہو چکا ہے کہ ان کی آبادی کے حساب سے میڈیا میں ان کی موجودگی نہ کے برابر ہے۔ رابن جیفری نے کیرالہ ماڈل کو بنیاد بنا کر لکھی گئی اپنی کتاب ’میڈیا اینڈ ماڈرنیٹی‘ میں اس بات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے کہ میڈیا میں دلت طبقے کے نمائندے نہیں ہیں۔کچھ لوگ کچھ کام کر رہے ہیں تو وہ اپنی ذاتی شناخت چھپا ئے ہوئے ہیں۔ مختلف وقتوں میں کئے گئے سرویز بتاتے ہیں کہ پسماندہ طبقہ، میڈیا اداروں میں اونچے عہدوں پرتعداد میں کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کے اتنے سال بعد جبکہ دلت، اقلیتوں، پسماندہ اوردیگر طبقات میں اچھا خاصا متوسط طبقہ پیدا ہو چکا ہے، میڈیا کی خبروں سے وہ کیوں غائب ہے؟ یہ جو نیا متوسط طبقہ آیا ہے اہم ہے، پڑھا لکھا ہے، مگر اس کے لئے روزگار نہیں ہیں۔ ہمارے یہاں تعلیم آدمی کو روزگار سے نہیں جوڑ پاتی بلکہ تعلیم کا ڈھانچہ اس طرح کا ہے کہ اس میں شخص اپنی مہارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ پڑھا لکھا آدمی پیشہ ور نہیں بنتا، وہ صرف روزگار تلاش کرتا ہے۔

اس کی وجہ ہے پیشہ ورانہ نقطہ نظر، اہلیت اور قابلیت کی مہمیزی کو روک لگانا، ان کی ہمت افزائی نہ کرنا۔ دلتوں، عورتوں اقلیتوں کی خبریں اگر ہم آہنگ ہوکر میڈیا میں نہیں آ رہی ہیں، تو ان کے اپنے متوسط طبقہ کی پہل کتنی ہے؟ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ آج یہ نہیں کہہ سکتے کہ اخبار یا چینل ہماری خبریں نہیں دے رہے اور ہماری خبریں لوگوں تک پہنچتی نہیں۔ آج سوشل میڈیا ایک بڑا پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے اور ایک بار خبر جب وہاں ٹرینڈ کرنے لگتی ہے تو دیگر میڈیا ہاوسزدباؤ میں آ جاتے ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں ایسی خبروں کو جگہ دینی ہی پڑتی ہے ، لیکن دیکھنا ہوگا کہ معاشرے کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں میں موضوع کی معلومات، اس سے متعلق اظہار کے لئے کتنی ہمت ہے۔ بڑی تعداد میں عورتیں اور پسماندہ طبقہ سوشل میڈیا میں سرگرم ہیں، مگر وہ اپنے طبقے کی ضرورتوں کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں رکھتے۔یہ بات ہم مسلمانوں کے حوالہ سے بھی کہہ سکتے ہیں خصوصا ہندوستانی مسلمانوں کے حوالہ سے انھیں تو سیلفی ، آپسی چپقلش اور فرقہ وارانہ ریوں پر پوسٹ اور کمنٹ کرنے سے فرصت نہیں ملتی ، مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مسلم مسائل سے متعلق علم ہی نہیں تو وہ اس پر کیا بات کریں گے یا ان مسائل پر غور و فکر کی کیا تدابیر سوچیں گے ۔

جہاں تک میڈیا اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کی بات ہے تو وہ کسی کے کردار کو نہیں بناتے، ان میں لگا پیسہ ان کے کردار کو بناتا ہے۔ اگر ایک میڈیا ہاؤس میں تمام پسماندہ لوگ کام کرنے لگیں تب بھی اس کی ضمانت نہیں لی جا سکتی کہ میڈیا کا کردار انقلابی ہو جائے گا۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ میڈیا کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مفاد ات کیا ہیں۔ امریکہ میں امریکی سوسائٹی آف اخبار ایڈٹرس (اے ایس این آئی) نے 1970 میں ہدف طے کیا کہ سن 2000 تک امریکی میڈیا میں آبادی کے تناسب سے پسماندہ لوگوں کو جگہ دی جائے گی۔ لیکن اس سے کیا خبر وں کے معیار پر کوئی فرق پڑا؟ میڈیا کے رویہ میں کوئی تبدیلی آئی ؟ جب تک نقطہ نظر اور شعور میں تبدیلی نہیں لا ئی جاتی کوئی بڑی تبدیلی ناممکن ہے۔

ہمارے یہاں میڈیا کم سے کم وسائل سے کام چلاتا ہے۔ مالکان اپنی کمائی کا انتہائی قلیل حصہ صحافیوں کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ پسماندہ لوگوں کی خبروں کے لئے الگ سے نامہ نگار نہیں رکھتے، ادارے جائے وقوعہ تک جانے دینے کے اسباب مہیا نہیں کراتے۔ خبروں کا کردار سکڑ کر شہروں تک مرکوز ہو گیا ہے۔ کچھ اطلاعات مطلوبہ مراکز سے فون کے ذریعہ حاصل کر کے رپورٹ بنا دی جاتی ہے۔ ایسی خبریں اعتماد پیدا نہیں کرتیں۔ آج ہی وہ دور ہے جب میڈیا کو سب سے زیادہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ حقیقت اور سچائی پیش کر رہی ہے۔ مختلف بیٹ کے اچھے صحافی نہیں، رپورٹر نہیں؛ اب ماہرین کو بلا کر اینکرنگ کے ذریعہ پروگرام تیار ہو رہے ہیں۔ میڈیا روایتی پیشہ نہیں ہے، یہ پیشہ ورانہ رویہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ رویہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھی طے کرتا ہے۔
Md.Alamullah
alamislahi@gmail.com

نوٹ: یہ مضمون ہفت روزہ مشن نئی دہلی میں شائع ہو چکا ہے ۔

۔۔۔مزید

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ



نام کتاب :ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ
مصنفہ : نسترن احسن فتیحی
مبصر : محمد علم اللہ ۔ رانچی ۔جھارکھنڈ
مطبع : عفیف پبلی کیشنز دہلی.( ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس )
سن اشاعت : 2016
قیمت : 360

اردو میں عموماً نئے موضوعات پرکتابیں کم لکھی جاتی ہیں۔خاص طور سے بدلتے حالات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل کاکسی بھی زاویۂ نظرسے احاطہ کرنے والی کتابیں کم ہی شائع ہوتی ہیں۔ موضوعاتی لحاظ سے تنوع کااحساس دلانے والی کتابیں اگر ملتی بھی ہیں تو ان میں زیادہ ترترجمہ شدہ ہوتی ہیں یاپھر کسی غیر ملکی زبان میں لکھی گئی کتابوں کے چربہ کی شکل میں سامنے آجاتی ہیں جس کااردو متن یا ترجمہ اس قدر گنجلک اور ناقص ہوتا ہے کہ قاری اس سے استفادہ کرنے یا معلومات کشیدکرنے کے بجائے متن کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً قاری ایسی کتابیں کم از کم اردو میں پڑھنے سے یا تو توبہ کر لیتا ہے یا اس کی طبیعت اس قدر مکدر ہو جاتی ہے کہ وہ آئندہ ایسی کتابوں سےدور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ اپنی جگہ،البتہ اچھوتے اور نئے موضوع پربعض اہل قلم کے ذریعہ لکھی گئی کچھ کتابیں ایسی ضرور منظرعام پر آرہی ہیں جن کا مطالعہ قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔

ابھی حال ہی میں عفیف پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ایکو فیمینیزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ بھی ایسی ہی ایک دل آویز اور قابل مطالعہ کتاب ہے،جو معروف افسانہ نگار اور ادیبہ نسترن احسن فتیحی کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔تقریبا تین سو چار صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہمارے عہد کی ماحولیاتی مادریت اور تانیثیت جیسے سنگین مسئلہ کو عصری تانیثی اردو افسانہ کے حوالہ سے پرکھنے اور تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ اس موضوع پر ان کی یہ پہلی کتاب ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو میں اب تک اس مسئلہ پر ادب کے حوالہ سے کسی نے جھانکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس وجہ سے مصنفہ ہم سب کی جانب سے مبارکباد کی مستحق ہیں کہ ایک حساس اوروقت کے سلگتے موضوع پر خامہ فرسائی کر کے انہوں نے اردو کے قارئین کو ایک خوبصورت تحفہ عطا کیا ہے۔

کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں ایکو فیمینزم یعنی ماحولیاتی تانیثیت کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے اور تاریخی جھروکوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر زمانے میں سماج کی ترقی اور بہتری میں اپنی حصہ داری نبھائی ہے۔اس باب میں انقلاب انگلستان اور خواتین .انقلاب فرانس اور خواتین . برطانیہ میں مزدور تحریک اور خواتین .انقلاب روس اور خواتین .تیسری دنیا کا پدر سری معاشرہ .ایکو فیمینزم یا ماحولیاتی مادریت ، ماحولیاتی تنقید.ایکو فیمینزم بحیثیت ادبی تنقید فیمینزم پہلی تانیثی لہر .دوسری تانیثی لہر .تانیثی تحریک کی تیسری لہر.ماحولیات ، فضائی آلودگی پانی کی آلودگی .صوتی آلودگی .ماحولیات سے خواتین کی وابستگی .ماحولیاتی آلودگی اور عوامی تحریکیں .چپکو تحریک.گرین بیلٹ تحریک .کینگ شی آن گرین پروجیکٹ تحریک .نودانیہ تحریک .گری گین ازم.لوک ادب اور ماحولیات .اردو ادب میں ماحولیات جیسے موضوعات پر فاضلانہ انداز میں بحث کی کی گئی ہے۔

کتاب کا دوسرا باب عصری تانیثی اردو افسانہ اور ایکوفیمنزم کا تصور ہے .جس میں مصنفہ نے اپنے تجربات .احساسات .اور مشاہدات کو ذاتی بلکہ نجی حوالے کے ساتھ پرکھنے کے بعد اس کے جزئیات کو احاطہ ٔتحریر میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ آج جو خواتین افسانے لکھ رہی ہیں، ان کے افسانوں میں گوناگوں موضوعات کی رنگا رنگی اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے شعورکو مصنفہ نے اس باب میں کامیابی سے منعکس کرنے کی کوشش کی ہے۔اس حوالہ سے انھوں نے متعدد خواتین قلم کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے فکشن .ڈکشن .ڈسکورس .اسلوب اور رویہ پر خوبصورتی سے گفتگو کی ہے۔

تیسرا باب اسی حوالہ سے افسانوں کے انتخاب پر مبنی ہے.جس میں سلمیٰ جیلانی .سبین علی .ترنم ریاض .عینی علی .غزال ضیغم ، ڈاکٹر کوثر جمال .نسیم سید . عذرا نقوی.نگار عظیم .انجم قدوائی .ڈاکٹر نکہت نسیم .شاہین کاظمی .سیمیں درانی .نسترین فتیحی.ڈاکٹر ناہید اختر .نور العین ساحرہ .شہناز یوسف .روما رضوی .صادقہ نواب سحروغیرہم کے کل سترہ افسانے شامل ہیں۔ ہر افسانہ اپنی جگہ ایک کائنات ہے۔یہ افسانے گویا دنیا بھر میں بسنے والی خواتین افسانہ نگاروں کی شاہکارکہانیاں ہیں۔ان افسانوں کا انتخاب ایک خاص پس منظر سے کیا گیاہے۔ اس حوالہ سے افسانوں کا مطالعہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے ۔یہ افسانے عالم کاری کے دباو اور ٹوٹ پھوٹ کو کچھ اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ یہ ماحولیات کے تئیں گہری درد مندی اور سماجی رویوں کے خلاف پر زور احتجاج کی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں ،جن میں دکھ ، درد ، کرب، خواب ، امید ، حوصلہ،عزم سبھی کچھ شامل ہے۔ اس ذیل میں مصنفہ کے نگاہ انتخاب کا بھی کمال ہے کہ جانے کہاں کہاں سے انھوں نے ان جواہر پاروں کو اکٹھا کیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس دور کو اردو کا بانجھ دور کہا جاتا ہے ،اس دور میں ایسی بھی خوبصورت خاتون قلم کار وں کی صف موجود ہے ،جو دنیا کے گوشے گوشے میں اردو کی جوت جگانے میں مصروف ہیں۔
چوتھا اور آخری باب ..ماحولیاتی تانیثیت اور عصری تانیثی افسانے ایک تجزیاتی مطالع کے نام سے ہے -جس میں مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے افسانوں سے بحث کی گئی ہے اور موضوعاتی احساس کو کریدنے کی کوشش کی گئی ہے جوان کہانیوں میں پنہاں ہے ۔اس میں ان مصنفین کے علا وہ دیگر اردو کی معتبر خاتون قلم کاروں کی تخلیق کے نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں اور ان میں چھپے عکس اور خیال کو ابھارنے کی سعی کی گئی ہے ۔ گو کہ سارے افسانے اپنی کہانی خود آپ بیان کرنے میں پوری طرح کامیاب ہیں لیکن ان کہانیوں کا تجزیہ اور مصنفہ کی تفہیم و تشریح کتاب کی وقعت میں اضافہ کا باعث بن رہاہے ۔آخری باب کے تجزیے میں افشاں ملک نکہت فاروق، ڈاکٹر عشرت ناہید اور مہر افروز جیسے خواتین افسانہ نگاروں کے تراشے شامل کئے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ادبی پیکر تراشی ومنظر نگاری اور اسلوب نگارش کی خوبصورت مثا لیں ہیں ۔

زیرتبصرہ کتاب میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔مذکورہ کتاب میں مصنفہ نے جگہ جگہ اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے دانشوروں ادیبوں اور بڑے بڑے قلم کاروں کے اقتباسات پیش کئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس میں چند ایک کوچھوڑ کر باقی مقامات پرانھوں نے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ اگر مصنفہ اپنی اس کتاب میں ان حوالوں کا اہتمام کرتیں تو کتاب کی معتبریت دوچندہوجاتی۔
کتاب کا پیش لفظ معروف دانشور اور انٹر نیشنل اسلامک یونیوورسٹی اسلام آباد پاکستان سے وابستہ فرخ ندیم کا تحریرکردہ ہے-جس میں انھوں نے انتہائی باریکی بینی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ایکو فیمنزم بیسویں صدی کے پہلے پچاس سال اور بعد کے انسانی مسائل کو دیکھنے کے رویہ پر گفتگو کی ہے .. جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مجموعی لحاظ سے یہ کتاب اردو ادب کے جمود کو توڑنے کی ضامن کہلاسکتی ہے۔
مبصر کا پتہ :
alamislahi@gmail.com
Mob No :09911701772

۔۔۔مزید