جمعرات، 27 نومبر، 2014

ایک مرد درویش سے ملاقات کا قصہ


محمد علم اللہ اصلاحی

مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا ،جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا ۔اس رسالہ کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا ۔حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے ۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ہند ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی ۔مگر پھر جلد ہی یہ  مژدہ جاں فزا بھی ملا کہ وہ ہاسپٹل سے واپس آگئے ہیں اور مشاورت کے آفس میں باضابطہ آنے بھی لگے ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے ۔
ہاسپٹل سے واپسی کے بعد ان سے ملنے کا میں نے پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میری ایک ادنیٰ سی خواہش کے تکمیل کے لئے ان کے کام میں حرج ہو اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں ۔مگر پھر ایک بہانہ ہاتھ آیا ۔ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘ نے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کے لئے کہا تھا ،جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیا ہے ۔ اور سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کئے تھے ۔ مسلم مسائل سے متعلق لکھنا ،مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑنا اور انہیں انصاف دلانے کی خاطر تگ و دو کرنا ان کی خدمات کے سلسلہ میں ہے جس کا اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعہ سے ہوتا ہے ۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے ۔
ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’’عالمی سہارا ‘‘نے اس پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا تو براہ راست ان سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق ہوا اور ایک صبح میرے قدم مشاورت کے دفترکی جانب بڑھ گئے ۔ملی گزٹ سے مشاورت کا دفتر محض چند فرلانگ پر ہے،مشاورت کے دفتر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں ۔ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں ۔اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے ۔مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا ۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو ۔کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہے تھے ۔
ابھی میں سوچ رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی !تشریف رکھیے !‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی ۔میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا ۔حکم ہوا: ۔’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے ؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے،میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا ،مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلند ٓواز سے بولنا شروع کر دیا ،لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے ۔میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا،انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا ،’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘، میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا ،لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے ،اب کی میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا لکھ کر بڑھا دیا اور فورا ہی ایک دوسرے کاغذ میں اپنا سوال،انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے ،جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زور ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے،جواب کیا تھا علم ،تاریخ ،زبان ،سیاست،قیادت ،ثقافت کا مرقع تھا،میرااشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کیے چلے جا رہے تھے، گفتگو بھی انتہائی دلچسپ اور شاندار تھی اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں،جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں ،لیکن اس کا وقت نہیں تھا ۔
آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں ،یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے ، اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں گیا تھا وہی چیزیں پیش نظر تھیں یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمہ کا موضوع، لیکن چونکہ اس سے متعلق باتیں عالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آ گئی ہیں اور دلچسپی رکھنے والے اس سے رجوع کر سکتے ہیں، اس لئے اس کا تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں،اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کئے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کئے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں پر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا،جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ لکھ کر بڑھا دیا کہ ‘‘آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں ، کاش آپ میری بات سْن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ تو مسکرائے اور کہنے لگے : ارے نہیں بھائی ! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے ،میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی ، آپ کو کیا کیا بتاوں ،اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔
میں نے ان سے کہا ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں،ابھی کچھ مصروفیات ہیں ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، تو ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی ۔ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا ۔’’میں نے جلدی سے ایک کاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں ! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں ،آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے ‘‘،کہنے لگے :’’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں ۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں ’’۔پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’آہا!وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں ! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا،آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سر وسیز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا ،میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کاتو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا ؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا میں نے کہا کیا لکھا ہے ؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا ۔اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘ ۔
(ہنستے ہوئے !) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا ۔میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی ۔اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے ،اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے ۔پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا وہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘ ۔صوفے کے پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )’’انگریزی سمجھتے ہیں ناں ؟ ’’میں نے کہا: جی ! ۔اچھا تو پنڈت جی نے کہا :
I know I have met Shahabuddin. his participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.
یعنی’’ جوانی کے جوش میں کام کیا، انھوں نے اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘ ۔اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ ، میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے ، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے ان سے بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشان ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں ۔تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھے بھائی !دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘ ،پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘ ‘۔اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا ، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے ، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کاروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘،کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ !واپس جاؤ !تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے،کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے ، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیش کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں ۔ہاں تو میں یہ کہوں گا ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولس کی غلطی پائی گئی تو ان کو سزا دی جائے گی ۔۔۔‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں ۔(پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں ،بجائیے تالیاں ‘۔(ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :
پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھر کھانے پر بلایا گیا ۔کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے، میں بھی تھا ان میں سے ایک ، تو میرے کندھے پر ہاتھ ڈالا میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :\'\'You are that mischievous boy from Bihar\"
’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے ۔پیار سے کہا انھوں نے ۔عجیب و غریب انسان تھا وہ ۔۔۔‘‘
ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے ۔’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں ۔ بہت کام کر لیا ، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا ۔اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں اللہ اگر میری زندگی تو! رکھنا چاہتا ہے تو مجھ کو طاقت دے کہ میں جو میرا جو بکھرا ہوا کام ہے اس کو پورا کر سکوں ۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو اداریہ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا ۔اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے ۔اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتی ہے ۔‘‘
پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے ۔’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔میں ایک چھوٹی سی شکریہ کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دیتا ہوں وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیتے ہیں اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمر ی میں بھی کام کا احساس ہے ۔کس کے لئے کام ؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی ۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

ہفتہ، 22 نومبر، 2014

طلحہ کے نام






طلحہ کے نام
 ایک عزیزہ کے بچے کی پیدائش پر 
ایک عزیزہ کے بچے کی پیدائش پر

ایک عزیزہ کے بچے کی پیدائش پر
محمد علم اللہ اصلاحی

امیدِ مقدس کا تو اک نور ابھی ہے
گرچہ نہ ہوا دنیا میں مشہور ابھی ہے

فردوسِ بریں پر ہیں ترے چاہنے والے
مختار بھی ہوگا وہ جومجبور ابھی ہے

تو رافع و سمرہ کی طرح حوصلہ رکھنا
گو دل میں ترے جذبہ وہ مستور ابھی ہے

ہو سایہ فگن تجھ پہ سدا رحمتِ باری
ہر رنج و الم تجھ سے بہت دور ابھی ہے

اک پھول سا گلشن میں کھلا ہے تو اے طلحہ
معصوم صدا نغمہء عصفور ابھی ہے

حیدر ہے کہ دارا ہے، سکندر ہے کہ ٹیپو
جیسے کہ کوئی ہند میں تیمور ابھی ہے

ماں باپ کی آنکھوں میں محبت کی ہے تصویر
تجھ ہی سے ہوئی زندگی معمور ابھی ہے

ہم سب کی دعا ہے تو سدا خوش رہے طلحہ
قائم رہے چہرے پہ جو یہ نور ابھی ہے
ختم شدہ


ختم شدہ

۔۔۔مزید

فارغین مدارس کیلئے میڈیا میں امکانات​


رابطہ صحافت اسلامی ہند کے زیرانتظام ہونے والے صحافتی مسابقہ میں اس مضمون کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا میں ان تمام احباب کا شکر گذار ہوں جنھوں نے اپنے مفید مشوروں اور تجاویز سے نوازا۔
علم
فارغین مدارس کیلئے میڈیا میں امکانات​

محمد علم اللہ اصلاحی​

میں کافی عرصہ سے میڈیا سے وابستہ ہوں۔ اس دوران میں نے میڈیا کے بہت سے اداروں کی کارکردگی کا گہرائی سے مطالعہ اور مشاہدہ کیاہے اور اپنے کیریئر کے دوران میں نے جو تجربات حاصل اور جو نتائج اخذ کیے ہیں انہی کی روشنی میں نیک نیتی کے جذبہ سے یہ مضمون آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں۔ اس مضمون میں بقدرِ ضرورت میں نے اپنی طالب علمانہ رائے کااظہار بھی کیا ہے جس سے اختلاف کی مکمل گنجائش موجود ہے۔ باوجود اس کے اس عنوان کی طرف آپ کی توجہ ایک مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے جو آئندہ کی پیڑھی کے لیے مشعل راہ ہوگی۔ اس سلسلہ میں میرے ذہن میں کچھ سوالات اٹھے ہیں جنہیں میں نے تین درجوں میں تقسیم کیا ہے: اول یہ کہ مدارس سے فارغ طلبہ کے بارے میں عام لوگوں کا نظریہ کیا ہے؟ دوم، وقت کی تبدیلی کے ساتھ فارغین مدارس نے معاشرہ کی تشکیل میں کس قدر حصہ لیا ہے؟ سوم، انہیں کس نہج پر لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے اور ان کا موجودہ طریق کار کیا ہے؟
اس سلسلہ میں مختلف مواقع پر مدارس اورعصری دانش گاہوں سے فارغ التحصیل لوگوں سے اکثر میری گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ مدارس چوں کہ بلاواسطہ ملتسے وابستہ ہوتے ہیں، اس لئے ملت کو ان سے بہت سی بجا اور بے جاامیدیں بھی وابستہ رہتی ہیں اور جب وہ ان امیدوں پر کھرے نہیں اترتے تو لوگوں کو ناگواری ہوتی ہے یاپھرمایوسی ہاتھ آجاتی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ مدارس کے فارغین نے مختلف میدانوں میں اپنی کوششوں اور ہمت سے بیش بہا کارنامے انجام دیے اور دے رہے ہیں بلکہ اگر برصغیر ہند و پاک کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان جگہوں پر اسلام کی جو رمق باقی ہے وہ مدارس اور اہل مدارس کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ مدارس سے فارغ طلبہ نے ہر جائز میدان کو اپنی توجہ کا مر کز بنایا ہے اور بنا رہے ہیں جو ایک مثبت اور خوش آئند بات ہے۔ میڈیا بھی انہی میدانوں میں سے ایک ہے جوموجودہ دورمیں ایک مکمل پیشہ اورصنعت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
اسلام گوشہ نشینوں اور تارک الدنیا افراد کا دین نہیں ہے، اس کے ماننے والے معاشرے کے فعال رکن بن کر جیتے ہیں، تو پھر کیوں کر دینی طبقہ کی جانب سے میڈیا کے میدان کوکسی حدتک محروم رکھا گیاہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ابلاغ کا شعبہ معاشرے کی تشکیل کے ضمن میں نہیں آتا؟ دین کی دعوت کا کام سرانجام دینے والے لوگ اور تنظیمیں کیوں کر اس کے بارے میں غور نہیں کرتیں؟ کیا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں ماس کمیونی کیشن پڑھنے والے طلبہ جو کہ ملکی نظام تعلیم کی خرابیوں کے باعث دین کا کچھ زیادہ نظریاتی علم نہیں رکھتے و ہی میڈیا کے میدان میں سب کی رہنمائی کریں گے؟ کیادینی طبقہ ان طلبہ سے اشاعتِ دین کے ضمن میں معجزوں کی امید لگائے بیٹھا ہے؟ کیا یہ انتظار ہے کہ یہ لوگ میڈیا کو دین کی دعوت کے لیے ہموار بنادیں گے اور پھر اس کے ذریعہ صالح معاشرہ کی تشکیل ہو سکے گی؟ اگر ایسا سوچا جارہا ہے تو حقیقتاً یہ انتہائی تشویش ناک امرہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نظریاتی علم اور ٹھوس علمی بنیادوں کے بغیر پیشہ ورانہ علم حصول مقصد کے لیے کافی نہیں ہوتا، اس لیے دینی علم رکھنے والوں کو میڈیا کی درست سمت کے تعین اور خیر کی اشاعت کے فریضہ کی انجام دہی کے لیے خود اس میدان میں پیش رفت کرنی پڑے گی۔
میڈیا کی روایتی پریکٹس اور تفریحی مواد کی زیادتی کے باعث اسے اسلام اور سماج مخالف سمجھ لیا گیا ہے اور بہت سے حلقے تو تمام تر برائیوں کی جڑ اسے ہی قرار دینے پر مصر ہیں۔ شاید دینی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جاچکی ہے کہ میڈیا ہمارے معاشرے میں الحاد، فحاشی، غیر اسلامی روایات اور ایسی ہی دیگر منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تیار کردہ ایک سازش کا حصہ ہے اور اس سے صرف اور صرف وہی کام لیا جاسکتا ہے جو کہ آج کل ملکی و غیر ملکی میڈیامیں نظر آرہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دینی حلقے اپنی مختصر ضرورتوں کے بقدر میڈیا کو استعمال میں لاتے تو ہیں، لیکن اس کے بامقصد استعمال کی طرف ان کی توجہ اب تک مبذول نہیں ہوسکی ہے۔ میڈیا کے خلاف تقریروں اور تحریروں کی بھرمار ہے یہاں تک کہ اس سلسلہ میں فتوے بھی سامنے آئے ہیں لیکن اس کے اثرات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
میڈیانے ٹکنالوجی کے سہارے اس وسیع و عریض کرۂ ارض کو گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا ہے۔ آج معلومات کی قلت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بے پناہ معلومات کی فراوانی نے انسانوں کو فکری پریشانیوں میں مبتلا کررکھا ہے۔ آج میڈیا کا سب سے بڑا استعمال ذہن سازی اور مخصو ص مقاصد کی تکمیل کیلئے کیا جانے والاپروپیگنڈا ہے۔ میڈیا کے شوروغل نے سچ اور جھوٹ کی پہچان مشکل بنادی ہے یامٹاہی دی ہے۔ مباحثوں ، خبروں اور دلکش پروگراموں کے ذریعے فکر، سوچ اور ذہن کو مسخرکیا جارہا ہے یاپھرنئی فکراور نیا خیال تھوپنے کی سعی ہورہی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی بھرپور یلغارکی بدولت آج فحاشی و عریانی، رقص و بے حیائی اور سب سے بڑھ کرمذہب بیزاری جیسی لعنتیں بڑھ رہی ہیں، مذہبی رجحان کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے مذہب اور مذہبی جماعتوں کی شبیہ بگاڑنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔انسانی قدریں پامال ہورہی ہیں اور اپنے اپنے فکر اور فلسفہ کی نشر و اشاعت کے لئے اس کا سہارا لیا جارہا ہے۔ تاہم کچھ مخلص حلقوں نے میڈیا کے میدان میں دینی حوالے سے سرگرمی دکھائی ہے اور شاید اسی لیے اب میڈیا کو سمجھنے اور اس کے درست استعمال کیلئے تھوڑی بہت پیش رفت بھی دیکھی جارہی ہے۔ حالات کی ٹھوکروں نے میڈیا کی اہمیت تو باور کرادی ہے لیکن دینی طبقہ ابھی تک میڈیا کے بنائے ہوئے ماحول کو سمجھنے اور اس کی موجودہ پریکٹس میں اپنے لیے راہیں تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
ایسے میں وہ جن کے کاندھوں پر انسانیت کی فلاح اور ان کی خیرخواہی کی ذمہ داریاں ہیں اور جن کے وجود کا بنیادی مقصد ہی عالم انسانیت سے جور و ظلم کو دورکرنا، عدل و انصاف کی فضا قائم کرنا، انسانی معاشرہ کو امن و توازن کا مظہر بنانا،خیر کی ترویج و اشاعت اور برائی کے خاتمہ اور انسداد کو ممکن بنانا ہے، جسے شریعت کی اصطلاح میں’امر بالمعروف‘ اور ’نہی عن المنکر‘ کہا جاتا ہے، یہ فریضہ یوں تواپنے عموم میں امت کے ہر فرد پر عائد ہوتاہے لیکن چوں کہ اس امت کا اہل علم طبقہ (یہاں صرف مدارس کے فارغین کو علماء کہنے میں مجھے تامل ہے) از روئے حدیث، انبیائے کرام علیہم السلام کی علمی میراث کا امین ہے، اس لیے اس کے فرائض منصبی میں زندگی کے ہر شعبہ میں انبیائے کرام علیہم السلام کے کردار کی تبلیغ اور ان کے اسوہ حسنہ کی اشاعت مقدم ہے۔ دین اسلام نے خود بھی میڈیا اور صحافت کے بہت سے اصول بتائے ہیں، جن سے ہم بہرہ مند ہو سکتے ہیں، مثلاً صحافت میں صرف سچ بولنے اور لکھنے کے حوالے سے یہ حدیث رہنما اصول ہے: حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کَفیٰ بِالمَرء کَذِبًا اَن یحَدِّثَ بِکلِّ مَاسَمِعَ (اسے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الصحیح لمسلم کے مقدمہ اور صحیح میں بھی نقل کیا ہے) ترجمہ: ’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے بیان کرتا پھرے‘ چوں کہ میرا موضوع سخن بھی یہی ہے اس لئے بات اسی تناظر میں کی جائے گی۔
آج کے دور میں دینی تعلیم کی طرف راغب ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ مرکزی اورریاستی حکومتوں کے سفاک رویے اور مخالفانہ پروپیگنڈے کی بھرمار کے باوجود آج بھی ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو دنیاوی عیش وعشرت کو ٹھکرا کر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کو اپنے لیے وجہ سعادت سمجھتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ یہ مخلص اور بے لوث طبقہ جدیدنظام ابلاغ کے اصول اور ضابطوں سے آگاہ ہو جس کی روشنی میں دعوت کے کام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ میڈیا کا علم دعوت کے علاوہ انسانیت کی خاطر حق وصداقت کے فروغ کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے اور دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ میڈیاکے بارے میں معلومات رکھنے کی وجہ سے معاشرے کی اصلاح اوراس کی نمائندگی کے سلسلہ میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ اگرمیڈیا کے میدان میں آتے ہیں تو یقیناًان کے لیے یہاں بالخصوص دینی موضوعات کے حوالے سے بہت زیادہ مواقع ہیں۔
یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر میڈیا ٹیکنالوجی کو دین کا علم رکھنے والے افراد پیشہ ورانہ اصول کے ساتھ استعمال کریں تویہ پیشہ ہونے کے ساتھ تبلیغ دین کا بھی مؤثر اور آسان وسیلہ ہو سکتا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے دینی طبقوں کو مخاطب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ جماعت ہے جوخیر کی اشاعت کا بھرپور جذبہ رکھنے کے ساتھ ہی دینی علم بھی رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے اپنا وقت اور توانائی دونوں صرف کرتی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں مذہبی رجحان کے بقا کی کوششوں میں مسلسل مصروف ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ان کو اس پہلو پر متوجہ کرنا ہے کہ میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کو آگے بڑھ کر خود حق کے پیغام کو عام کرنے کا وسیلہ بنالینے کی ضرورت ہے۔ دین کی دعوت نشر و اشاعت کے انہی وسائل اور آلات کے استعمال سے ان تک بہ آسانی پہنچائی جاسکتی ہے جن کے کان ابھی تک کلمۂ حق کی حلاوت سے آشنا نہیں ہوسکے۔ یقیناًمیڈیا سے دوستی اوراس سے قربت آپ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو گی اور یہ حق کے پیغام کو چہار جانب پھیلانے کا اہم ترین وسیلہ بن سکتا ہے۔ میڈیا کے درست استعمال کے لیے اس میں درپیش مسئلہ کو سمجھنے اور اس کو حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ میڈیا کا خود اپنا کوئی نظریہ نہیں ہوتا بلکہ اس کو چلانے والے اس کے ذریعہ سے اپنے خیالات کی ترسیل کرتے ہیں۔ اگر دین کا علم رکھنے والے افراد ذرائع ابلاغ کو مصرف میں لاسکیں تو یقیناًاسے ہدایت کا سرچشمہ بنایا جا سکتا ہے اور اگر دین کا ناقص علم رکھنے والے یا دین سے ناواقف لوگوں کے ہاتھوں میں میڈیا کی طاقت دے دی جائے گی تو پھر یقیناًیہی کچھ ہو گا کہ جو آج آپ دیکھ رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ کے پاس اچھی دینی معلومات تو ہو سکتی ہے لیکن نظریاتی حدود کا خیال اور معاشرتی تبدیلیوں کی دینی لحاظ سے درست سمت کا تعین وہی لوگ کر سکتے ہیں جو دین کاعلم اورشعور رکھنے کے ساتھ معاشرتی زندگی کی نزاکتوں پر بصیرت کی نظر رکھتے ہوں۔ مدارس کے باشعور فارغین سے معاشرہ اسی طرح کی امیدیں لگائے ہوئے ہے جو اصل دینی مصادر سے مستفید اور احادیث کے علوم سے واقف ہوتے ہیں جس کی روشنی میں وہ ذہنوں کی درست سمت میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ میڈیا کوگفتگو میں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ یہ واقعی المیہ ہے کہ اس وقت جو دینی پروگرام پیش کیے جارہے ہیں ان کوپیش کرنے میں ٹھوس دینی علم رکھنے والوں کی کمی جھلکتی ہے اور اس کے برعکس نیم خواندہ لوگوں کی جماعت کام کررہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مستند دینی حلقے اچھے اینکر اور ٹی وی پراچھی گفتگو کرنے والے معاملہ فہم افراد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے سبب سے یہ میدان لائق افراد سے خالی رہ گیا ہے اور ناموزوں افراد دینی پروگراموں کو اپنی لیاقت کے مطابق پیش کررہے ہیں ۔ٹیلی ویژن چینلوں کی طرح کی صورتحال ویب سائٹس، ایف ایم ریڈیوز وغیرہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
میڈیا کی باریکیاں یا اس میں امکانات کی تلاش سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہ پیشہ عزت و شہرت اور ضرورت کے علاوہ انتہائی محنت، تگ و دو،عزم اور سب سے بڑھ کربے انتہا صبر چاہتا ہے۔ اس پیشہ میں قدم قدم پر پھول بھی ہیں اور کانٹے بھی۔ اس میں ذرا سی لغزش ہماری جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے یا بے اعتمادی کی خلیج پیدا کرسکتی ہے اور کوشش و عزم سے سرخ روئی اور قبول عام بھی مل سکتاہے جس کا مشاہدہ ہم روزانہ ہی اسی میڈیا کے ذریعہ کرتے رہتے ہیں۔ اس میں وہی ٹک سکتا ہے جو ان چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کی اہلیت رکھتا ہو۔ یہاں کوئی تھیوری کام نہیں کرتی، کوئی پریکٹیکل نہیں چلتا، بس آپ اس میں دیرپا کارکردگی کا مظاہرہ اسی وقت کرسکتے ہیں جب آپ ان چیلنجوں سے لڑنے کا مادہ رکھتے ہوں۔ پل پل ایک نئے چیلنج سے سابقہ پڑتا ہے، آپ کی ایک غلطی آپ کے ادارے پر سوالیہ نشان لگا سکتی ہے۔ بڑی ہی احتیاط اور جلدی میں ہر کام نمٹانا ہوتا ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ خبریں بدلتی رہتی ہیں اور آپ کے سامنے ہوتا ہے ایک نیا موضوع۔ دلچسپ اور معلومات سے پْر، پل پل ہونے والے واقعات سے دنیا بھر کے لوگوں کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے آپ پر، اس لئے اس وادی میں قدم رکھنے سے پہلے سوچ ،سمجھ اور ایک وژن (نظریہ) کا ہونا ضروری ہے کہ اس کے بغیر نہ تو کامیابی مل سکتی ہے اور نہ ہی کوئی مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا اہل مدارس نے ہر جائز فن کو اپنی توجہ بخشی اور اس میں لازوال کارنامے انجام دیے اور دے رہے ہیں تو وہ اس فن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا شان دار مظاہرہ کر سکتے ہیں بس ذرا توجہ اور جد وجہد کی ضرورت ہے۔ جب ہم نے اس میدان میں قدم رکھنے کاتہیہ کر لیا توہمیں اپنے لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق شعبہ کا انتخاب کرنا ہوگا، اس لئے کہ میڈیا کا میدان کافی وسیع ہے جس کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
(1)پرنٹ میڈیا
(2) الیکٹرانک میڈیا
(3)سائبر میڈیا یا جدید میڈیا
پرنٹ میڈیا میں اخبارو رسائل اورجرائدوغیرہ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ٹی وی پر مشتمل ہے جبکہ سائبر میڈیا میں انٹرنیٹ، ویب سائٹس اور بلاگز وغیرہ شامل ہیں۔ آئے دن نت نئے ایجادات اور اختراعات سے اس میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور اس کے علاوہ بھی نئے نئے ذرائع پیدا ہو رہے ہیں اور ان سب میں تھوڑی محنت اور تگ و دو سے مدارس کے طلبہ اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم یہاں پرنٹ میڈیا پر گفتگو کرتے ہیں۔ اسے دوسرے لفظوں میں صحافت یا جرنلزم بھی کہا جا تا ہے۔ اس میدان میں جو بھی آتا ہے وہ اپنی تعلیم تجربہ اور معلومات کے مطابق میدان منتخب کرتا ہے، مثلاً کسی کو اسلامیات سے متعلق دلچسپی ہے تو وہ اس سے متعلق موضوعات پرمستند مواد اور دل کش طرز تحریر پیش کرسکتاہے،کسی کو ادب سے لچسپی ہے تو وہ ادب کے شعبہ کو توجہ کا مرکز بنا سکتا ہے اور اس میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ صحافی بین الاقوامی سیاست پر لکھتے ہیں، کچھ ملکی سیاست پر جو کہ ظاہر ہے ان کی تعلیم، رجحان اور تجربہ کے مطابق ہی ہوتا ہے، اس لیے دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبا بھی اپنے رجحان ،تجربہ اور تعلیم کے مطابق ہی میدان منتخب کریں۔ مثلاً:
۱۔ مذہبی رجحان کے حامل روزنامے، ماہنامے وغیرہ
۲۔ روایتی اخبارات میں مذہبی کالم اور دینی مسائل
۳۔ بچوں کے ادب میں مواقع بالخصوص مذہبی اور تاریخی واقعات کو آسان پیرائے میں بیان کرنا
۴۔ خواتین کے جرائد میں اسوہ حسنہ کی روشنی میں مضامین
۵۔ تاجر حضرات کی تجارت کے اسلامی اصول کی جانب رہنمائی اور کاروبار کی جائز صورتوں کی نشان دہی
۶۔ حلال و حرام کی تحقیق اور اس سے متعلق تحقیقی جرائد
۷۔ عربی صحافت کا ترجمہ
۸۔ اسلامی معاشرے کی رپورٹنگ اور مقامات کا صحیح تلفظ
دوسرے نمبر میں الیکٹرانک میڈیا کو لیتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کی جب ایجاد ہوئی تو یہ تصورکیا جانے لگا کہ اب پرنٹ میڈیا کی حیثیت باقی نہیں رہے گی لیکن آج بھی دنیا پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے منکر اور اس کی ضرورت سے دست بردار نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک الیکٹرانک میڈیا میں مدارس کے طلبہ کے کام کرنے کی بات ہے تو وہ اس میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے سکتے ہیں، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا میڈیا کے ہر اقسام میں مدارس کے طلبہ اپنی حیثیت منوا سکتے ہیں، خصوصی طور پر آج کل ریڈیو کے علاوہ بہت سے مذہبی ٹی وی چینل بھی شروع ہو چکے ہیں، جن میں مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اچھی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔مثلاً:
۱۔اسکرپٹنگ
۲۔ خوابوں کی تعبیر
۳۔ فقہی مسائل کی افہام وتفہیم
۴۔تفسیر قرآن
۵۔تفہیم و تشریح حدیث
۶۔ عام کمرشیل چینل بھی ناظرین کے لیے سوال وجواب کے پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں۔
۷۔مکالمہ نویسی /ڈرامہ نگاری وغیرہ
میڈیا کی ایک نئی شکل ویب میڈیا بھی ہے جس کی کئی شاخیں ہیں، اسے سائبر میڈیا یا نیو میڈیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور آج کی دنیا میں اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح نیو میڈیا سے ہی وابستہ دو اہم تصورات اور بھی ہیں، پہلا سٹیزن جرنلزم اور دوسرا بلاگنگ۔ یہ انٹرنیٹ کا ایک ایسا معاشرتی و سماجی روپ ہے جہاں سوشل نیٹ ورکنگ، انٹرنیٹ وڈیو، ویب سائٹس اور بلاگز جیسے دیگر مواصلاتی ذرائع کے وسیلے سے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان معلومات، خیالات، تجربات اور دیگر موضوعات پر تبادلہ اور معلوماتی اشتراک کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی سوشل ویب کی ایک شکل سٹیزن جرنلزم یعنی عوامی صحافت اور ویب ویڈیو سائٹس ہیں۔ سٹیزن جرنلزم کا عام مفہوم کسی پیشہ ور صحافی کے بجائے عوام کا خبریں اور معلومات اکٹھا کرنا اور ان کی تشہیر کر کے صحافیانہ خدمات انجام دینا سمجھا جاتا ہے۔ یوں تو صحافت کے روایتی نمونوں میں بھی قارئین کی شمولیت خطوط، تجاویز اور آراء کے ذریعہ رہی ہے، تاہم انٹرنیٹ پر بلاگز اور ویب وڈیو کی ترسیل کرنے والی ویب سائٹس نے نہ صرف عوامی صحافت کو نئے خطوط پر استوار کیا ہے بلکہ اسے ویب ٹو کے نام سے پہچانے جانے والے انٹرنیٹ کے اوتار کا اہم جز بنا دیا ہے۔
اسی کی ایک شکل کراؤڈ میڈیا بھی ہے جو تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ رپورٹرز اپنے آرٹیکلز کے لیے اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے تصاویر اور وڈیوز بناتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں سوشل میڈیا کے طفیل وجود میں آنے اور فروغ پانے والی اس فوٹو گرافی نے ’’کراؤڈ میڈیا‘‘ کا نام پایا ہے، جس نے اب تجارت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یہ تجربہ میڈیا کے اداروں کا اس قدر مددگار ثابت ہوا ہے کہ وہ اپنے فوٹوگرافرز پر انحصار کرنے کے بہ جائے سوشل میڈیا فوٹو جرنلسٹس کی بروقت کھینچی گئی اور بہتر سے بہتر تصاویر کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ’’کراؤڈ میڈیا‘‘ کی ویب سائیٹ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کی معاون ثابت ہورہی ہے۔ یہ ویب سائٹ اپنے خودکار سرچنگ سسٹم کے ذریعے روزانہ کھینچی جانے والی 150ملین تصاویر میں سے سرچ کرکے مطلوبہ تصاویر فراہم کرسکتی ہے، اس طرح درکار وقت میں تصاویر کے خزانے سے کسی نیوز اسٹوری سے متعلق تصاویر بہ آسانی دست یاب ہوجاتی ہیں۔
کراؤڈ میڈیا یہ تصاویر عام صارفین سے حاصل کرتی ہے، جو عموماً فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ جیسی سوشل ویب سائٹس پر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ کراؤڈ میڈیا کو آن لائن ہوئے ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ اس ویب سائٹ نے ٹوئٹر پر آنے والی امریکی صدر باراک اوباما کی ایک فنڈریزنگ تقریب میں شرکت کی اولین تصاویر حاصل کرلیں اور ان کی اشاعت کے لیے گاہک بھی تلاش کرلیا۔ اس میدان میں کیریئر بنانے کے لئے خبروں کو سمجھ کر انہیں پیش کرنے کا فن، تکنیکی علم، زبان پر اچھی پکڑ ہونا ضروری ہے۔ نیوز پورٹل کے طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے والی سائٹس کی تعداد ہندوستان میں کم ہے، لیکن بیرون ملک اس کے مواقع کافی زیادہ ہیں۔ ایسی سائٹس کی تعداد زیادہ ہے جو اپنے ویب کے مواد اپنے چینلز یا اخبارات سے لیتی ہیں۔ آپ آزاد نیوز پورٹل میں ویب صحافی بن کربھی آپ اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں، یہاں کھیل، ادب، آرٹ جیسی سائٹس پر کریئر کے روشن امکانات ہیں۔
اس تمام گفتگو کامقصد یہ ہے کہ ان تمام شعبہ جات میں مدرسہ سے فارغ التحصیل طلبہ اگر کسی ایک خاص شعبہ کا شوق رکھتے ہیں تو ان کی لیاقت کے مطابق انہیں ملازمت مل سکتی ہے۔ مثلاً کرکٹ یادیگر کھیلوں کے شوقین طلبہ ان کھیلوں پر بہتر انداز میں خبریں پیش کر سکیں گے۔ اسی طرح فیشن کا زمرہ بھی ہے، مذہبی شعبہ جات بھی موجود ہیں اور سیاست توہے ہی ہمیشہ سے گرما گرم موضوع۔ اچھی اور متاثر کن آواز والوں کے لیے ریڈیو کا شعبہ ہے، لکھنے والوں کی مہارت اخبارات میں کام آسکتی ہے جبکہ اچھی شکل و صورت آپ کو ٹیلی ویژن پر لاسکتی ہے۔ ہر امتحان کی تیاری سے ہی اس میں کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ کسی بھی مشینری یا ٹیکنالوجی کا استعمال جانے بغیر اسے مصرف میں لانا ہمیشہ خطرناک نتائج کا باعث بنتا ہے، میڈیا بھی ایک ٹیکنالوجی ہے جسے استعمال کرنے سے پہلے اس کی بنیادی باتوں کا علم ہونا ضروری ہے۔
یہاں ایک اورپہلو کی وضاحت کرتا چلوں جو ایک بہت بڑی غلط فہمی بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں ٹی وی فلم اور دیگر ویڈیوز کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا ذرائع ابلاغ کا ایک طاقتور حصہ ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس کے بغیر پیغام رسانی اور نظریات کا فروغ ہی ممکن نہیں۔ ویسے تو بہت سے دینی حلقے کچھ حدود و قیود کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے قائل ہو چکے ہیں لیکن اگر کوئی جماعت اس کے بغیر ہی چلنا چاہے تو بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں آنے کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے کیوں کہ دین کی تبلیغ کے لیے موجودہ رائج الوقت طریقے کار آمد نہیں ہوں گے۔ دینی جماعتوں کو چاہیے کہ الیکٹرانک میڈیاکے دائرۂ کار میں قدم رکھنے سے پہلے دیگر شعبہ جات یعنی پرنٹ میڈیا (اخبارات و رسائل)، سائبر میڈیا یعنی انٹرنیٹ وغیرہ میں زیادہ کام کریں۔ کچھ عرصہ کی مکمل پیشہ ورانہ تربیت کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی طرف توجہ کی جاسکتی ہے، کیوں کہ یہ ایک مہنگا کام ہے اس کے لیے بغیر پیشہ ورانہ تربیت کے فنڈز ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ انٹرنیٹ ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ بھی کچھ کم اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ اگر ان کو مکمل پیشہ ورانہ اصولوں کے ساتھ اختیار کیا جائے تو ان سے انتہائی مفید نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس شعبہ کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پروپیگنڈا مکمل سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ ’’پروپیگنڈا‘‘ کے لفظ سے بھی میڈیا کی طرح صرف منفی معانی ہی اخذ کیے جاتے ہیں، حالاں کہ اس سے مراد پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلا دینا ہے، یعنی دعوت کو عام کرنایہ منفی اور مثبت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اگر آپ اپنی دعوتی سرگرمیوں کو اچھے طریقے سے سرانجام دیں گے اور مضبوط نیٹ ورک بنائیں گے تو معاشرے کا بڑا طبقہ بشمول میڈیا آپ کے ساتھ چلے گا اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو یقیناً مخالفین حاوی نظر آئیں گے اور محض مساجد میں دئیے گئے مواعظ اور خطبات کام نہ آ سکیں گے۔ دینی تعلیمات سے ہٹ کر زندگی گذارنے والوں کو بھی دین کے فریضہ کی ادائیگی کے باب میں کسی صورت بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بحث کا مقصد صرف یہ ہے کہ نظریاتی تصادم کی اس گہما گہمی میں اسلام کی دعوت کے امین اور صاحب علم دینی حلقوں کوبہت محنت کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر میڈیا کے میدان میں۔
ایک اور چیز جس کا یہاں ذکر کرنا شاید غیر مناسب نہ ہو کہ مدارس کے طلبہ اور جدید دانش گاہوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے درمیان تال میل نہیں ہو پاتا۔ چوں کہ مدارس کے طلبہ میرے مخاطب ہیں، اس لیے میں ان سے کہوں گا کہ اس سلسلہ میں ان کی جانب سے بھی کچھ کمی رہ جاتی ہے کہ وہ ان سے مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کرتے بالخصوص میڈیا سے وابستہ افراد سے تو بالکل تعلق نہیں، حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی تو یہی نوجوان نسل جسے مذہب بیزار سمجھ لیا گیا تھا ہراول دستہ ثابت ہوئی۔ فلسطین کی تحریک آزادی میں یونیورسٹیوں کے طلبہ کا بڑا کردار ہے۔ مصر میں محمد مرسی کے خلاف فوج کی ظالمانہ مداخلت، روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز، مظفر نگر فسادات سمیت ایسے متعدد نسلی و قومی عصبیتوں کے خلاف اس طبقہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر تبلیغ میں بھی بڑا حصہ ایسے افراد کا ہے جو شاید کبھی کسی مدرسے میں نہ گئے ہوں۔ یہ علمائے کرام کی کتابوں کی تشہیر کرتے ہیں اور مطالعہ کرکے دلائل ڈھونڈتے اور پیش کرتے ہیں۔ دینی طبقے کو میڈیا سے منسلک افراد سے رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قابل افراد کو بھی پیشہ ورانہ مہارت فراہم کر کے میڈیا کے اداروں میں پہنچایا کیا جا سکتا ہے۔
اس قدر طویل گفتگو کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کے لئے مدارس کے طلبہ کیا کریں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح سے وہ دیگر میدانوں کا انتخاب کرتے ہیں،اس کا بھی انتخاب کریں اور پورے عزم و ہمت کے ساتھ میڈیا میں قدم رکھیں۔ اس کے لئے بہت سی یونیورسیٹیوں میں میڈیا کے شعبہ سے متعلق باضابطہ کورسز موجود ہیں جسے پوراکرنے کے بعد مدارس کے طلبہ مکمل پروفیشنل انداز میں اس میں پاؤں جما سکتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو، اگنو اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مدارس سے فارغ طلبہ کے لیے مواقع زیادہ ہیں جن میں سے بعض کا میڈیم اردو ہے اور ان کے ہاں داخلہ کی اہلیت کے لئے بھی امیدوار کا صرف بارہویں پاس ہونا ہے۔ اسی طرح انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن، نئی دہلی، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ میڈیا، پونے، سمباسس انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن، پونے، مدرا انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشنز، احمد آباد، جیسے ادارے ان کورسوں کے لئے سب سے معروف اور بہتر تصور کئے جاتے ہیں۔
اس میں زیادہ تر انسٹی ٹیوشن انٹرنس اگزام منعقد کرتے ہیں۔ اس میں تحریری ٹیسٹ، انٹرویو اور گروپ ڈسکشن بھی ہوتا ہے۔ تحریری امتحان میں اسٹوڈنٹس کی تحریری صلاحیت، جنرل اور عام معلومات، تجزیہ کی صلاحیت اور فطری صلاحیتوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اکثر طلبہ مجھ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کی تیاری کیسے کریں۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ انٹرنس اگزام کے لئے کوئی خاص تیاری نہیں کرنی ہوتی ہے، ٹیسٹ کے ذریعے امیدوارکے سوشل، کلچرل اور سیاسی ایشوزکے متعلق معلومات کو پرکھا جاتا ہے۔ حالات حاضرہ کی تیاری جرنلزم کیلئے ضروری عنصر ہے۔ نیوز پر آپ کی پکڑ ہونی چاہیے۔ ایسے امیدوار ہی اچھے صحافی بنتے ہیں، جنہیں نیوز کی اچھی سمجھ ہوتی ہے اور جن کی رائٹنگ اسکل اچھی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، ان کا اپنے پیشے سے نباہنے کاعزم ہونا بھی ضروری ہے۔ دراصل کسی بھی خبر کا تجزیہ کرکے اسے سادہ طور پر پیش کرنا ہی ماس کمیونی کیشن کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اگر آپ اس پیشے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نیوز پیپر، میگزین اور حالات حاضرہ سے متعلق کتابیں ضرور پڑھیں۔ میں جامعہ ملیہ سے گریجویشن کے بعد ماس کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا تو ہر روز انٹرنس اگزام کی تیاری کے لئے اردو ،ہندی انگریزی کے کئی لیڈنگ نیوز پیپر اور میگزین پابندی سے پڑھا کرتا تھا۔ اس سے ہر ایک کے نظریہ کا بھی علم ہوتا ہے اس کے لئے ٹی وی چینلوں کا دیکھنا اور ریڈیو وغیرہ کا سننا مفید سے خالی نہیں ہوگا۔
انٹرنس اگزام میں رائٹنگ اسکل اور حالات واقعات محض آپ کی بیداری کی جانچ کے لئے کئے جاتے ہیں۔ اس میں کامیاب ہونا آسان ہے۔ اصل امتحان انٹرویوز کے دوران ہوتا ہے۔ اس دوران آپ کے نیوز سینس اور کمیونی کیشن اسکل کی جانچ پرکھ ہوتی ہے۔ اگر آپ دبو قسم کے انسان ہیں یا جلدی اپنا صبر کھو دیتے ہیں تو آپ کو اس علاقے میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ اس لئے آپ کو اپنے مقصد کے تئیں واضح نظریہ بنانا ہوگا کہ آپ کا مزاج اس پیشے کے موافق ہے یا نہیں۔ ہاں جو طلبہ میڈیاکے تدریس کے میدان میں اپنا کیرئیر بنانے کے خواہش مند ہیں، ان کے لئے اس میدان میں بھی راہیں کشادہ ہیں۔ اب تو اسکولوں میں باضابطہ ماس کمیونیکیشن کا بھی ایک سبجیکٹ ہوگا جس کے لئے سینٹرل گورنمنٹ نے باضابطہ منظوری بھی دے دی ہے۔ ظاہر ہے اس میں پڑھانے کے لئے اس کورس سے وابستہ افرادہی اس میں حصہ لے سکیں گے تو اس کیلئے تیاری بھی ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں نیٹ اور جے آر ایف کرنے کے بعد مزید تعلیم کیلئے ریسرچ اور ایم فل و پی ایچ ڈی کی بھی گنجائش ہے اور ملک کی تقریباً تمام ہی بڑی یونیوسٹیوں میں اس کے کورسز ہیں۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم صحافیوں کیلئے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن تحقیق بھی صحافت میں کیریئر کے انتخاب کا ایک میدان ہے۔
بعض غیر سرکاری ادارے مثلاً ’ آج تک‘، ’این ڈی ٹی وی‘، ’دی ہندو‘ اور ’ٹائمس آف انڈیا ‘ وغیرہ کے اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز ہیں اور یہاں سے بھی ٹریننگ لی جا سکتی ہے جس کی تفصیلات ان کی ویب سائٹ میں بھی موجود ہے۔ ابھی حال ہی میں آئی آئی ایم سی نے اردو جرنلزم میں ایک سال کا ڈپلوما کورس شروع کیا ہے۔ اس میں بھی تربیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان سب کے علاوہ تقریباً تمام ہی بڑے اداروں میں اچھے مترجم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مدارس سے فارغ طلبہ انٹر پریٹر اور مترجم کی حیثیت سے بھی اپنے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے لئے بھی مختلف اداروں میں باضابطہ کورس کرایا جاتا ہے۔ یو این آئی ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی نیوز ایجنسی ہے جس میں تقریباً ساری خبریں ترجمہ پر مبنی ہوتی ہیں۔ مدارس سے فارغ طلبہ ان جگہوں پر بھی اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
اس کے لئے کسی صحافی کی صحبت میں رہ کربھی تجربہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج کل خبروں کا حاصل کرنا کچھ مشکل کام نہیں ہے۔ واقعات تو عام سے ہوتے ہیں، انہیں بس خبر کا انداز دے کر خاص کر لیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ علم تو مدارس سے فارغ طلبہ کے پاس ہوتا ہی ہے اگر وہ تھوڑا عملی تجربہ حاصل کرلیں تو وہ مضامین، کالم، ڈرامہ، اسکرپٹ اور فیچرسبھی لکھ سکتے ہیں۔ آج کل انٹر نیٹ کا دور ہے اور نیٹ پر ہر موضوع کے متعلق وافر مقدار میں مواد میسر ہے، اس لیے کسی بھی موضوع پر لکھنا کچھ مشکل نہیں۔ اگر کسی کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے تو اسے میڈیا میں ضرو رآنا چاہیے۔ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا کراور اپنے ہم خیال افراد کی ٹیم بنا کر اچھے مقاصد کے لیے کام کیا جا سکتاہے،لیکن یہاں پر یہ یاد رکھیں کہ یہ ایسا پیشہ ہے جس میں محض اردو زبان کے سہارے پائیداری نہیں مل سکتی بلکہ اس میدان میں اگر واقعی جگہ بنانی ہے تو ہندی اور بطورخاص انگریزی زبان پر بھی مکمل دسترس ہونی ضروری ہے ورنہ استحصال، ناقدری اور سبکی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
اس میں اپنی فنی تعلیم کو بھی اہمیت دیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ تعلیم اور تجربہ آپ کے کیریئر کے لیے گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ صرف تجربہ کی بنیاد پر بہت طویل اور صبر آزما محنت کے بعدتو کوئی مقام مل جاتا ہے لیکنتجربہ کے بغیر صرف ڈگری کاحصول کبھی کبھی خفت اور ناکامی کا سبب بھی بن جاتاہے۔ اس لیے دونوں چیزوں کو اہمیت دیں اور اپنے لیے اصول مقرر کر کے عمل کے میدان میں آگے آئیں۔ ہوش مندی سے آپ جو تجربہ حاصل کریں گے، وہ آپ کو اس شعبے میں داخل ہونے میں مدد دے گا اور فنی تعلیم آپ کے لیے اس میدان میں تخلیقات میں تنوع لانے میں معاون ثابت ہوگی اور اپنے سے جونئیر لوگوں کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو پرکھ کر کس طرح کام میں لانا ہے، کس کام کے لیے خود کو کس طرح پیش کرنا ہے، ان باتوں کا شعور آپ کو تعلیم سے حاصل ہو سکے گا۔ کیوں کہ جو لوگ محض تجربے کی بنیاد پر میڈیا میں ایکٹر یا ڈائریکٹر یا پروڈیوسر بن جاتے ہیں، وہ صرف اپنے لیے کام کرتے ہیں اور محدود پیمانے پر کرتے ہیں، ان کی سوچ بھی محدود ہوتی ہے، بے شک کام اچھا ہوتا ہے، لیکن ان کے کام کا فائدہ ہر ایک کو نہیں ملتا اور وہ کسی نئی بھرتی کو مہارت بہم پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوپاتے، نتیجتاً بہت گراں قدر صلاحیتوں کے مالک افراد کارآمد نہیں بن پاتے۔ اس کے برعکس آپ تعلیم یافتہ ہو کر اس فن کی دنیا میں آئیں گے تو آپ کو تخلیقی ذہن کی اہمیت کا احساس ہوگا، آپ اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو ان کا مقام دیں گے، آپ کو مل جل کر کام کرنے (ٹیم ورک ) کاتجربہ ہوگا ، اکیلے آپ بہت کم اور بدقت کام کر پائیں گے جب کہ ٹیم ورک میں آپ نہ صرف کام زیادہ کر یں گے بلکہ شہرتیں بھی نصیب ہوں گی، یہاں تک کہ جب کسی وجہ سے اس شعبے سے کٹ ہو جائیں گے، تب بھی لوگ آپ کو یاد رکھیں گے اور آپ کے معذور ہونے کے باوجود آپ کے جونئیر اور آپ کے شاگرد آپ کی قدردانی کریں گے اور آپ کو کام کا موقع فراہم کریں گے۔
اخیر میں ایک اور اہم بات عرض کرتا چلوں جس سے ہمیں بہت کچھ سوچنے کاموقع اور کام کرنے کا حوصلہ ملے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی موبائل ایس ایم ایس سروس سے کئی ہزار لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔ فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان میں حزب اللہ نے اپنے مقاصد کے لیے میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے، انہوں نے متعدد مواقع پر یہودی اور مغربی میڈیا کو شکست دی ہے۔ یہ لوگ انتہائی مہارت سے میڈیا کو اپنے حق کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ترکی و ایران میں بھی میڈیا کی روایتی پریکٹس سے ہٹ کر متبادل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اگر یہ سب منظم طریقے سے ہونے لگے تو اس سے بہت نفع بخش اور دور رس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں،تاہم یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ وقتی طور پر میڈیا پر کسی خاص گروہ کا غلبہ دیکھ کر پریشان نہ ہوا جائے۔ ایسا تو انبیاء علیہم السلام کے دور میں بھی ممکن نہیں ہوا کہ تمام لوگ ہدایت یافتہ ہوگئے ہوں۔ یہ مقابلے کی دنیا ہے، ہر گروہ کو اپنا اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ میڈیا معاشرہ میں تبدیلی لانے کا طاقتور ترین ہتھیار ہے اور دعوت کے میدان میں اس کی ضرورت بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے داعی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا سے دور رہنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں۔ورنہ یاد رکھیں آنے والی نسلیں ہمیں اس وجہ سے معاف نہیں کریں گی،کیونکہ اکیسویں صدی میں دعوت دین کی ترسیل و اشاعت کی بڑی ذمہ داریوں کا انحصار بھی میڈیا پر ہی ہوگا اورمیڈیا سے پرہیزو گریزکی حکمت عملی ہم سبھوں کیلئے خسارۂ عظیم بن جائے گی۔

۔۔۔مزید

بدھ، 15 اکتوبر، 2014

وہ عیش پرست ملا.....

بقرعید کے دوسرے دن ڈائری میں لکھی گئی تحریر سے چند سطریں۔۔۔۔۔

اور آج تو حد ہی ہو گئی،آفس کے لئے جب میں نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کئی بچے جن کی عمریں مشکل سے دس اور بارہ کے درمیان رہی ہوگی کرتا، پاجامہ ،ٹوپی اور شلواربتا رہے تھے کہ یہ سب مدرسہ کے طلباء ہیں دروازے دروازے جاکر چرم قربانی تحصیل کر رہے تھے ۔ذرا اور آگے بڑھا تو دیکھا لب سڑک چمڑوں کا انبار ویسے ہی لگا ہے اور ایسے ہی دوچار بچے بیٹھے ناشتہ کر رہے ہیں ۔مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں ایک ہاتھ سے وہ مکھیوں کو اڑاتے جاتے ہیں اور ایک ہاتھ سے منہ میں لقمہ ۔۔۔کیا بتاوں مجھے کتنا غصہ آ رہا تھا اور افسوس بھی ہو رہا تھا کہ وہ جنھیں کل کا قائد اور مسلم قوم کا سربراہ کہا جائے گا ان کے احساسات اور جذبات کو کس قدر کچلا جا رہا تھا ،کیسے روندا جا رہا ہے ان کے خو کو ، کل کو وہ اسی معاشرے میں جہاں وہ جھولے لے لے کر مانگنے جا رہے ہیں سر اٹھا کر چل سکیں گے ۔اللہ اللہ جنھیں مہمانان رسول کہا جاتا ہے ان کا معیار کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اگر اتنی ہی قوم سے ہمدردی ہے تو مدارس کے وہ عیش پرست ملا خود کیوں نہیں نکلتے اپنے حجروں سے۔ کیوں بچوں کے مستقبل کو تباہ کرتے ہیں نہ جانے کتنے خیالات ذہن میں ٹکراتے رہے ۔

۔۔۔مزید

پیر، 8 ستمبر، 2014

اگر سچ مچ "ملی گزٹ " ڈوب گیا تو !



ہواؤں سے الجھتی روشنی کو اعتبار کامرانی کون دے گا 
محمد علم اللہ اصلاحی 
ابھی حا ل ہی میں معروف انگریزی جریدہ ملی گزٹ کے تازہ شمارے میں یہ خبرآئی ہے کہ تقریبا 14 برسوں سے شائع ہو نے والایہ اخبار بند ہونے والاہے۔
اخبار کے مدیر ڈاکٹرظفرالاسلام نے صفحہ اول پرقارئین کو بڑی خبرسناتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا ذکر نہایت مفصل انداز میں کیاہے،جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ" ملی گزٹ"اور"مدیر ملی گزٹ"نے مرحلہ وار سطح پرپریشانیوں اور دشواریوں کا طویل سفر طے کیاجس کے بعدہی یہ فیصلہ سامنے آیا۔اس ضمن میں مدیر ملی گزٹ لکھتے ہیں: 
" موقر قارئین کو یہ بتاتے ہوئے مجھے انتہائی افسوس اور مشکل مرحلہ درپیش ہے کہ ہم نے ملی گزٹ کے پرنٹ ایڈیشن کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک طویل عرصہ کے بعد کلی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آنے والے 15اکتوبر کا رسالہ آخری ہوگا۔۔۔جب 2000میں اس اخبار کے اشاعت کی ابتداکی توسوچا تھا کہ دو تین سال میں یہ خودکفیل بن جائے گا اور اس کو ہفتہ وارکر دیا جائے گا اور اسے ملت سے دلچسپی رکھنے والی قابل اعتمادٹیم کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اخبارمیں میری حیثیت محض ایک نگراںکی ہوگی۔میں ابتدائی دو تین سال میں اخبار کے اخراجات برداشت کرنے اور اپنی خدمات دینے کیلئے بھی پوری طرح آزاد تھا۔مگر ان تمام تر قربانیوں اور اخبار کو ملنے والی کامیابیوں نیز ملی گزٹ کو ملنے والے وقار و اعتبار کے باوجود اخبارملکی و عالمی پیمانے پروہ مرتبہ صحیح معنوں میں حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ اہل تھا۔ہمارا خیال تھا کہ قوم سے وابستہ افراد اس کی زیادہ سے زیادہ کاپیاں خریدیں گے اور اشتہارات کے ذریعہ اس کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور نتیجہ کے طور پر ہم اعلی درجہ کے صحافی اور وقائع نگار نہیں رکھ سکے، جب کہ ایڈیٹنگ کے علاوہ بس مجھے اسٹوری لکھنا ،صفحہ سازی ، یہاں تک کہ بسا اوقات اخبارکی تزئین اور ترتیب کی ذمہ داری بھی میرے سر پر آن پڑی۔اور میرا سارا وقت اسی میں لگنے لگا۔ حالانکہ ایک محقق اور ریسرچ اسکالرکے طور پر میرے وہ تحقیقی اور علمی کام پڑے کے پڑے ہی رہ گئے جو میرے منصوبے میں شامل تھے۔اس ذمہ داری میں میرے علاوہ میرے خاندان کے کم از کم دوافرادبھی بغیر معاوضہ کے کام کرتے رہے۔ میرا گھربھی آہستہ آہستہ ملی گزٹ ہاؤس میں تبدیل ہو گیا اور اس کی پرانی کاپیاں اور کاغذات جمع ہونے کی وجہ سے الماریاں بھر گئیں۔۔۔"
 میں نے یہاں اخبارِمذکور کے مدیر کی تحریر کی محض چندسطروں کا ترجمہ پیش کیا ہے ، ورنہ پورا مضمون دل و دماغ کو جھنجھوڑ کررکھ دینے والا ہے۔اس مضمون کو پڑھنے کے بعد خود مجھ پرکیا گذری ،میں اپنے جذبات کویہاں بیان نہیں کرنا چاہتا۔مجھے زیادہ افسوس اس وقت ہوا جب میرے چند احباب نے مجھ سے کہا کہ یہ محض چندہ بٹورنے کا ایک حیلہ ہے۔ میں ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب کی تربیت میں رہا ہوں۔ کئی مرتبہ مجھے ان کی معیت میں سفر کرنے اور ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں سے برابر فیضیاب ہونے کا موقع ملتا رہا ہے۔ان دنوں بھی ان کی نگرانی میں ایک تاریخی دستاویز پر کام جاری ہے اور ہر دن کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو مل رہا ہے۔ میں خود اس ادارے سے دو سال تک وابستہ رہا ہوں اس لئے اس ادارہ کے اچھے برے حالات سے بھی واقف ہوں۔ اپنے احباب کی اس طرح کی باتوں سے مجھے جب اتنی تکلیف ہوئی تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان تمام مراحل میں خود مدیر محترم نے کتنی اذیتیں براشت کی ہوں گی۔
 میرے چند احباب نے اس مضمون کو اپنے فیس بک کی ٹائم لائن پر بھی لگایا ہے اور اس پر مثبت و منفی دونوں قسم کے تبصرے آ رہے ہیں۔ بحیثیت ایک مسلم ریسرچ اسکالر وصحافی مجھے اس خبر سے جو صدمہ پہنچا اسے میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس طرح کے صدمہ سے اور بھی بہت سارے لوگ دو چار ہوئے ہیں۔
ملی گزٹ کے سرکولیشن مینیجر کوثر عثمانی نے مجھے  بتایا کہ کولکاتہ سے اخبار کی خریداری کیلئے ایک خاتون نے فون کیا اور جب ہم نے انھیں یہ اطلاع دی کہ اب سبسکرپشن ہم نے بند کر رکھی ہے تو ان کی حیرانی کی انتہا نہ تھی۔ خاتون کا بیان تھا کہ اس خبر سے مجھے ایسا لگا جیسے سچ مچ میرے کسی انتہائی عزیز کا انتقال ہو گیا ہے ، جذبات پر وہ قابو نہ رکھ سکیں اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ اس سلسلہ میں میں نے خود مدیر محترم سے بات کی تو گرچہ وہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دے رہے تھے جو ان کاعام شیوہ ہے لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انھیں بہر حال اس کا غم ہے۔ اور غم کیوں نہ ہو جس کو انہوں نے چودہ سال تک اپنے خون جگر سے صرف قوم کی محبت اور خدمت کے جذبہ سے انتہائی مختصر ٹیم کے ساتھ بے سرو سامانی کے عالم میں شروع کیا تھا، اپنوں کی بے رخی اور غیروں کے ستم نے ایک قدم بھی آگے بڑھنے نہ دیا۔ اپنوں کے طعنے توبرابر ملتے ہی رہے وہیں آئے دن دھمکی بھرے ای میل اور فون کا ایک اضافی سلسلہ بھی جاری رہا لیکن اسے بہر حال ہمت اور حوصلہ سے ہی تعبیر کرنا پڑے گا کہ انھوں نے نامساعدحالات کے باوجود اتنا لمبا عرصہ طے کیااور سچ تو یہ بھی ہے کہ 'ملی گزٹ' کی اشاعت کا یہ طویل سلسلہ مدیر'ملی گزٹ 'کی عالی ہمتی ،حوصلہ مندی اور نیک نیتی کے نمونہ کی صورت میں جاری بھی رہا۔ اللہ تعالی یقینا انہیں اس کے اجر سے نوازے گا۔
ایک ایسے اخبار کا بند ہو جانا مسلمانان ہند کے لئے شرم اور عار کی بات ہے۔وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ ہندوستانی مسلمان لاکھوں بلکہ کروڑوں روپئے رشوت ، شادی ، دکھاوا، شہرت اور غیر ضروری و غیر اسلامی چیزوں میں ضائع کر دیتے ہیں انہیں کبھی یہ خیال نہیں گذرتا کہ وہ ایسے سنجیدہ اور علمی کام میں بھی کچھ خرچ کر لیا کریں۔ انگریزوں کے ذریعہ جاری کردہ اخبارات 'ٹائمس آف انڈیا' ، 'ہندوستان ٹائمس'، 'دی پاینیر '، 'ٹیلی گراف' اور دوسرے کئی اہم جریدے آج بھی شان سے نکل رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ انہیں کارپوریٹ گھرانوں نے خرید لیا  ہے۔مگر ان کی حیثیت اور اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ اس کے بر عکس جب ہم مسلمانوں کے ذریعہ جاری کردہ اخبارات پرنظرڈالتے ہیں تو مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔
 آخر کیا وجہ ہے کہ ملت اسلامیہ ہندکے افراد یا انجمن کے ذریعہ نکالے گئے اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ جاری نہیں رہ پاتا۔ کوئی بھی اخبار دو چارسال سے زیادہ عرصہ تک شاید ہی نکل پایا ہو۔ رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے انتہائی دکھ کے ساتھ کہا تھا کہ:
"مسلمانوں کی مفت خوری نے مجھے کامریڈ بند کرنے پر مجبور کیا "۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ آزادی سے قبل صحافت کی دنیا میں' کامریڈ' یا 'زمیندار'کا کیا مقام تھا بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انگریزحکومت کسی اخبار یا رسالہ سے خوف کھاتی تھی تو وہ ایسے ہی اخبارات تھے  اور اسی وجہ سے انھیں بار بار ضبط کیا جاتا اور انھیں ہراساں کیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان بزرگوں نے وہی لکھا اور شائع کیا جو صحافت کا بنیادی تقاضا تھا۔ اس حق گوئی کے سبب ان اخباروں کے ذمہ داران کو جیل بھی جاناپڑا ،ان کی جائیدادیں قرق بھی کی گئیں ،یہ لوگ دیوالیہ بھی ہوئے مگر اس کے باوجود حق سے منہ نہیں موڑا۔ لیکن ان کی بس ایک ہی مجبوری تھی جس کا انھوں نے کئی مرتبہ اظہار بھی کیا تھا۔ وہ تھی اخبار کیباب میں مسلمانوں کیبے گانگی آمیز بے نیازی جس کے باعث ایسے مضبوط اور توانا اخبار کو بھی بند کرنا پڑا۔
 ایک ایسے عہد میں جبکہ میڈیاکوضروریات زندگی کا لازمی حصہ تصور کیاجارہاہے،یہ تحقیق اور ریسرچ کا موضوع ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ "مسلم میڈیا"کا دائرہ سمٹتا جا رہاہے؟ اس سے قطع نظراس بات کا ذکر کیے بغیر بھی ہم نہیں رہ سکتے کہ بہت سے لوگوں نے اخبارات خصوصا انگریزی اخبار نکالنے کے نام پر قوم کو گمراہ کرنے اور لوگوں کوٹھگنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔اردو میں مسلم صحافت چھوڑ کر، کمیونٹی سے وابستہ افراد نے گزشتہ سو سال سے ایک مضبوط اور معیاری انگریزی اخبار نکالنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں ما رے ہیں۔
مولانا محمد علی جوہر (1876-1931) کامریڈ اور محمد علی جناح (1876-1948)کی سرپرستی میں 1941 میں دہلی سے ڈان شائع ہوا تھا۔جس میں کامریڈ بمشکل 3 سال، 1911-14تک جاری رہ سکا۔ جبکہ ڈان آزادی کے بعد محمد علی جناح اپنے ساتھ پاکستان لے گئے۔اور کئی تاریخی شواہد کے مطابق اگست 1947 اور ابتدائی 1950 کے درمیان، مسلم مسائل پر آواز اٹھانے کے لئے ان کا کوئی انگریزی  پریس نہیں تھا۔ 1950سے 1960کے درمیان صرف دواخبارات ایسے تھے جو مسلم مسائل سے دلچسپی رکھنے والے مسائل کا احاطہ کرتے تھے ایک کلکتہ کا 'وکٹر کرٹیز'جو ایک بیلجئیم کیتھولک کا تھایہ اخبار1955سے 1960تک جاری رہا۔دوسرا ا نڈین یونین مسلم لیگ کا 'سیرت 'جو 1960مدراس سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔ خود قومیت کا دعویٰ کرنے والی ملک کی معروف تنظیم جمعیۃ علمائے ہندنے ایک انگریزی اخبار شروع کرنے کے لئے 1960 میں 6 لاکھ روپے جمع کئے لیکن مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔اور اخبار آج تک نہیں نکل سکا۔ قوم کے ذریعہ دی گئی رقم کس کے جیب میں گئی؟ کس نے اس سے فائدہ اٹھایایا قوم کو اس سے کیا فائدہ پہنچا، آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔ 
جماعت اسلامی ہند کے تحت 1963 سے نکلنے والے ہفت روزہ انگریزی جریدہ "ریڈینس" کی کیا حالت ہے،اس اخبارکوپڑھنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ 60کی دہائی تک اس اخبار نے قوم کی اچھی رہنمائی کی ہے اور اس کے ذریعہ قوم کو معیاری مضامین اور تبصرے و خبریں پڑھنے کو ملے لیکن فی زمانہ وہ محض جماعت اسلامی کا ایک ترجمان بن کر رہ گیا۔اس احساس کے زیراثر سید شہاب الدین نے جو ایک ریٹائرڈ آئی ایف ایس افسر اور سیاستدان ہیں ، 1983 میں "مسلم انڈیا" نکالالیکن یہ بھی بہت جلد قوم کی بے حسی کے حصار میں چھپ گیا۔ 1989کے آ س پاس سید حامد نے بھی اخبار نکالنے کیلئے لاکھوں روپئے جمع کئے۔جس کے ممبران میں سید حامد کے علاوہ حکیم عبد الحمید اور ڈاکٹر اشتیاق قریشی جیسی شخصیات شامل تھیں۔اور جسے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی سفارش پر عرب ممالک سے ایک خطیر رقم عطا کی گئی تھی تا کہ اس رقم کے ذریعہ اخبار نکالا جائے۔اور جو رقم بعد میں بنگلور کے سعادت اللہ خان کے پاس ودیعت رکھی گئی کہ اس سے انٹرنس کی شکل میں حاصل ہونے والی رقم سے اخبار کو جاری رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ایسا نہیں ہے کہ وہ اخبار نہیں نکل رہا ہے لیکن اس نے کس حد تک اس خلا کو پورا کیا ہم واقف ہیں۔ آج بھی نویڈا سے یہ اخبار ناتجربہ کار افراد کے ہاتھوں نکل رہا ہے ،معیار اور میڈیا کی دنیا میں اس کی حیثیت کی بات ہم نہیںکہیں گے۔
بنگلور کے "اسلامک وائس" میں زیادہ تر مضامین اسلامیات اور حج و زکوۃ ونماز سے ہی متعلق شائع کئے جاتے ہیں۔ یعنی اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کی نوعیت محض ایک ثقافتی جریدہ کی ہے۔ 
اسی طرح کلکتہ سے نکلنے والا 'ایسٹر ن کریسینٹ 'یا اس جیسے اخبارات کا معیار کیا ہے، اس سے بھی سبھی واقف ہیں۔ ویسے بھی آزادی کے بعدانگریزی زبان میں مسلمانوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دینے والا کوئی ایک اخباربھی ایسا منظرعام پر نہ آسکاجو مسلمانوں کے جذبات و احساسات کی ترویج و تشہیر کو یقینی بنائے۔ایسے میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کے ذریعہ کس طرح مستقل طور پرمسلمانوں کے تعلق سے منفی اندازمیں خبریں شائع کی جاتی رہی ہیں،یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ چناںچہ اس ماحول میں ایسے اخبار ات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے جو میڈیا میں مسلمانوں کے مثبت رجحانات کو فروغ دے سکیں۔ لیکن ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی مسلم امت میڈیا کے اس دائرۂ کار کو توسیع نہ دے سکی۔ایسے ستم ظریف ماحول میں ملی گزٹ کی اشاعت کی موقوفی کی خبرمسلمانوں پر بجلی گرجانے کے مترادف ہی کہلائے گی۔
 اس کے باوجود ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ قوم کی ترجمانی کرنے والا زندہ اور سطرسطر بولنے والا ایک معیاری اور پرانا اخبار بندہو جانے کا اعلان کرتا ہے اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ ہمارے ایک انتہائی عزیز دوست اور صحافت و ادب سے دلچسپی رکھنے والے نوجوان، جو خود بھی 'تعمیرنیوز' کے نام سے ایک نیوز پورٹل چلاتے ہیں، نے بجا طور پر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی فیس بک وال پر لکھا ہے :
'ہماری قوم چٹ-پٹی خبروں ،مسالا فوٹوز والے انگریزی اخبار دس روپئے دے کر بھی ضرور خریدے گی مگر اپنی قوم کی درست خبریں دینے والا اخبار مذہبی رشتہ داری کے ناطے مفت وصول کرنا چاہتی ہے'۔
 ایک اور عزیز شیخ احمد علی کے بقول :
' اب وہ مزید نقصان نہیں اٹھائیں گے۔ ہماری قوم کے زیادہ تر لوگ اور تنظیمیں ساری ہی چیزیں مفت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ میڈیا گھرانے اخبار کے لئے سرمایہ لگاتے ہیں معلومات اکٹھا اور حاصل کرنے کیلئے، لیکن سبھی اس سے فائدہ محض مفت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اگر آپ ان سے پیسوں کا تقاضا کر دیجئے تو لڑنے بھڑنے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔'
ان عزیزوں کی بات میں سچائی ہے یا نہیں یہ قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔آج ہندوستان کے تمام اقلیتی فرقے اپنی نمائندگی کیلئے اخبارا ت و رسائل شائع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ذریعہ شروع کئے گئے اخبارات یا تو کلیتاً دم توڑ چکے ہیں یا کارپوریٹ گھرانوں کی خیرہ کر دینے والی چمک نے انہیں شکار بنا لیا گیا ہے ،کچھ ہیں بھی تو ان کی حیثیت پانی میں بلبلے کی سی ہے۔ زیادہ تر کی حیثیت جذباتیت یا احتجاجات تک محدود ہے تو کچھ دوسرے اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں کاکھلونا بنے ہوئے ہیں جو انہی سے اپنی قوم کے خلاف زہر اگلواتے ہیں اور وہ آنکھ موند کر اپنے آقا کی ہم نوائی میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔
 جہاں تک اردو اخبارات کی بات ہے تویہ کہاجاسکتا ہے کہ بہ ظاہر ملک کے ان تمام علاقوں سے جہاں اردو پڑھی اور لکھی جاتی ہے، یہ اخبارات شائع ہوتے ہیں لیکن ان میں ملت کی ترجمانی والی خصلتیں کم ہوگئی ہیں اور جذبات نگاری کا غلبہ ہے۔
خاص بات یہ بھی ہے کہ ملت کا دردرکھنے والے لوگ اب اردو کا بڑا اخبار نہیں چلارہے ہیں بلکہ کارپوریٹ گھرانہ کہلانے والے کم از کم دو اداروں نے نہایت تیزی کے ساتھ اردو ذرائع ابلاغ کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اْن کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا۔ کارپوریٹ اداروں کے اِن اردو اخبارات سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسلامیان ہند کے مفادات کے تحفظ کا فریضہ انجام دیں گے۔ ملک کے طول وعرض سے نکلنے والے دوسرے بڑے اردو اخبارات کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اْن کے مالکان کسی مخصوص جماعت یا لیڈرکے ہاتھوں کا کھلونا ہیں جن کو مسلمانوں اور ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ ان کیلئے ان کا اپنا مادی مفاد اور حکو مت اور ان کے آقاؤں کے مفادات کاتحفظ زیادہ عزیز ہوتاہے۔ حالاںکہ یہ اخبارات ہمیشہ اور ہر آن امت کی بے بسی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔ 
بہرحال ایسے اخبارات جو صحیح معنوں میں قوم کی ترجمانی کرتے رہے ہوں، ان کے بند ہونے کے وجوہ پر غورکرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ صحافت کو بھی اسلامی رنگ دینا چاہیں گے ، جھوٹی، پروپیگنڈہ پر مبنی خبروں کی اشاعت سے گریز کا راستہ اختیارکریں گے، زرد صحافت سے سروکار نہیں رکھیں گے تو ایسے میں کسی بھی اخبار کا چلانا بہر حال محال ہو جائے گا۔ آخرت پر یقین رکھنے والا اور خدا تعالی سے ڈر نے والاکوئی بھی شخص منفی طرز فکراختیار نہیں کرے گا ، گمراہ کن خبروں کو اہمیت نہیں دے گا ،چاپلوسی اور کاسہ لیسی کاشعاراختیار نہیں کرے گا،فحش اور شہوت انگیز اشتہارات کی اشاعت سے دامن بچائے گا۔ظاہر سی بات ہے کہ ایسا کیا جانا اخبارات کیلئے مصیبتوں اور پریشانیوں کاپیش خیمہ اْسی طرح ثابت ہوگا،جس طرح آج 'ملی گزٹ 'اور اْس کے ' مدیر 'کی پریشانی ہماری گفتگو کا موضوع ہے۔
ایک کامیاب اخبار کی اشاعت اور اس کی ترویج و ترقی اْسی وقت ممکن ہوسکتی جبکہ اْس کی پشت پر 'درد مند دل 'رکھنے والے' ملت دوست' افراد عملاًکھڑے ہوں اور قوم مسلم کی آوازکو طاقت بخشنے اسے سجانے ، سنوارنے اور اس کی شبیہ بنانے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پراْٹھائیں۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر آپ اس پر دھیان نہیں دیں گے تو آپ کاآشیانہ بکھرجائے گا ، گر جائے گا ،ختم ہو جائے گا۔ اس کو باقی رکھنے کے لئے آپ کو ہی تگ و دو کرنی ہوگی۔
 مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کہیں پڑھا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر کے "ہمدرد" کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا اور جب مولانا کی ہمت جواب دے گئی تو انھوں نے قوم کے نام ایک خط لکھ کر اسے بند کر دینے کی بات کہی تھی۔ لیکن قوم نے اس اخبار کو بند نہیں ہونے دیا اور ہمدرد کے نام اس قدر منی آرڈر قوم کی جانب سے بھیجے گئے کہ کئی کئی ہفتے ان کے منشی منی آڈر وصول کرتے کرتے تھک گئے لیکن اس کے باوجود اخبار محض دو سال یا اس سے بھی کم عرصہ چل سکا۔
کیا موجودہ ہندوستان کی مسلم قوم بھی ایسا کرے گی؟ ان کے رویہ کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا نہیں لگتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔حالانکہ 'ملی گزٹ' کے مدیر نے لکھا بھی ہے کہ اگر اخبارہذا کاسرکولیشن ایک لاکھ ہو جائے تو اخبار کے احیا کی اْمیدکی جا سکتی ہے۔جس ملک میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 177 ملین ہو،وہاں اس ٹارگیٹ کو پار کرنا کوئی مشکل معاملہ نہیں ہے۔ سانحہ سے قبل اسے بچانے کی کوشش کی جانی چاہئے کہ یہ نہ صرف ہماری آوازہے بلکہ دنیابھر میں ملت اسلامیہ ہند کی ترجمانی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
اور حقیقت یہ بھی ہے کہ "ملی گزٹ"ایک تاریخی دستاویز کی فراہمی کا سامان بھی ہے جس سے کل کا مورخ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ لکھ سکے گا۔
معروف ماہر لسانیات اورمفکر 'نوم چومسکی 'نے ملک 'میکسیکو 'کے ایک دورے سے واپس لوٹنے کے بعد 2009میں تحریر کئے گئے اپنے ایک سفرنامہ میں وہاں کی ایک چھوٹی سی کمیونٹی کے ذریعہ جاری کردہ ایک انگریزی اخبار 'لاجورناڈا'کا ذکر کرتے ہوئے مذکورہ اخبار اور اس اخبار کے ذمہ داران اور اس کمیونٹی کی تعریف کرتے ہوئے اسے دنیا کے لئے ایک آئیڈیل قرار دیا تھا۔ نوم چومسکی کی تحریر کا وہ حصہ یہاں دہرائے جانے کے قابل ہے۔
نوم چومسکی نے لکھا تھا کہ 1984میں جاری ہونے والے اس اخبار نے انتہائی کم مدت میں وہاں سے نکلنے والے اخبارات میں اول مقام حاصل کر لیا ،یہی نہیں بلکہ اس اخبار نے اپنی خبروں ، تبصروں اور تجزیوں سے وہاں کی حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور بسا اوقات تو ایسا ہوا کہ حکومت کو بھی اس اخبار اور اس کے ذمہ داران کی پالیسی کے موافق فیصلہ طے کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
 نوم چومسکی نے لکھا ہے کہ جب یہ اخبار اپنی 25 ویں سالگرہ تقریب منا رہا تھا تب تقریب کے دوران اس کے بانی سربراہ کارلوس پیان نے بتایا کہ اخبار کی شروعات کے وقت تقریباً 800 متوقع سرمایہ کار وارد ہوئے تھے  اور انہوں نے ہزار پیسا (76  امریکی ڈالر) فی حصص کے طور پر شراکت کی۔ ان شراکت داروں میں اسی کمیونٹی کا  'کارلوس سلم' بھی موجود تھا  جو آج دنیا کا تیسرا امیر ترین شخص ہے مگر اس وقت وہ  ایک معمولی سا سرمایہ کار تھا۔  علاوہ ازیں میکسیکو کے دو مشہور مصور 'رفینو تمایو' اور 'فرانسسکو ٹولیڈو' نے اپنی بیش قیمت تصاویر کے ذریعے 'لاجورناڈا 'کے اصل سرمائے میں انمول اضافہ کیا۔اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اس اخبار کو خرید کر پڑھتا ہے۔بڑی تعداد میں کمیونٹی کے لوگ اشتہارات دیتے ہیں۔اس کا نتیجہ ہے کہ یہ اخبار اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور وقتا فوقتا کئی رفاہی کام بھی انجام دیتا رہتا ہے۔چنانچہ 1989میں 'میکسیکو' میں جب وہاں زلزلہ آیا تو اس اخبار نے تقریبا 30ہزار زندگیوں کی بازآبادکاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نوم چومسکی نے لکھا ہے اس اخبار کو دیکھنے کے بعد مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنا یہ خیال بدلنا پڑا کہ اخبارات محض کارپوریٹ گھرانوں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔
 اس اخبار کی بابت نوم چوسکی کی کن کن باتوں کا تذکرہ کیا جائے کہ انھوں نے تو اس پر پورا ایک مضمون تحریر کیا  ہے جو پڑھنے کی چیز ہے اور ایک زندہ اور متحرک قوم یعنی اہل اسلام کو جھنجھوڑتا ہے کہ ان کی تو اولین ذمہ داریوں میں سے ایک یہی تھی کہ وہ حق اور سچ کو صحیح ڈھنگ سے لوگوں تک پہنچانے کے لئے زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کر تے لیکن ان کا رویہ قابل افسوس ہے۔
 کیا مسلم قوم بھی 'میکسیکو ' کی اس کمیونٹی کی طرح بیدار ہوگی ؟ اپنی آواز کو تقویت بخشنے کے لئے کچھ کرے گی ؟ اس پر یقینی طور سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔لیکن بہر حال یہ امید ضرور رکھی جا سکتی ہے کہ مسلمانان ہند ایک زندہ اور متحرک قوم ہونے کا ثبوت حقیقی معنوں میں پیش کریں گے اور عملی قدم اٹھاتے ہوئے ایک ایسی تحریک کا بھرپور ساتھ دیں گے جو ہندوستان میں عملی طور پر ان کے وجود کو منوا سکتی ہے،حکومتوں کے ذریعہ ان کے فیصلے تبدیل کروا سکتی ہے اور ان کے مسائل کو دنیا کے سامنے مضبوطی کے ساتھ پیش کر سکتی ہے۔



۔۔۔مزید

جمعہ، 22 اگست، 2014

کتاب : وہ دن (افسانوی مجموعہ) ، مصنف : غیاث الرحمان ، ناشر : عرشیہ پبلی کیشنز ،دہلی 95 ، قیمت : 130، مبصر : محمد علم اللہ اصلاحی

                
               
کتاب : وہ دن (افسانوی مجموعہ)
مصنف : غیاث الرحمان
ناشر : عرشیہ پبلی کیشنز ،دہلی 95
قیمت : 130
مبصر : محمد علم اللہ اصلاحی
                ارد و دنیا کے فکشن میں ڈاکٹر غیاث الرحمان کا نام نیا نہیں ہے ۔ناول نگار ،افسانہ نگار ،اسکرپٹ رائٹر اور ایک اچھے استاذ کی حیثیت سے ادب اور میڈیا کے میدان میں انھوں نے ج شناخت بنائی ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔ ان کی کئی کتابوں کو مختلف اکادمیوں اور اداروں کی جانب سے ایوارڈ اور انعامات سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ براڈ کاسٹنگ ،ریڈیو اور درس و تدریس سے وابستہ رہتے ہوئے انھوں نے نہ صرف ادب کی خدمت کی ہے بلکہ اس سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی ایک کھیپ بھی تیار کی ہے ،اور خاموشی سے ان کی تربیت میں جٹے رہے ہیں ۔جومیڈیا سمیت علم و ادب کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے انھیں اپنی کتابوں کو ترتیب دینے یا شائع کرانے کا خیال نہیں آیا ۔لیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ احباب اور اپنے شاگردوں کے اصرار پر انھوں نے حال ہی میں اپنی کئی کتابوں کو شائع کرایا ہے جسے اہل علم کافی سراہ رہے ہیں ۔زیر نظر افسانوی مجموعہ ”وہ دن“انھیں میں سے ایک ہے ۔جسے عرشیہ پبلیکیشن نے انتہائی اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے ۔
                ”وہ دن “میں کل گیارہ افسانے ہیں ۔کتاب کا نام مجموعہ میں ہی شامل ایک افسانہ کے نام پر رکھا گیا ہے ۔جسے کتاب کی روح بھی کہا جا سکتا ہے ۔ یہ کہانی بھی مجموعہ میں شامل دیگر کہانیوں کی طرح اپنے اندر معصومیت اور حقیقت کا مرقع ہے ۔ یہ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جس کے والد کا انتقال ہو گیاہے ۔اور غربت نے اس کی تعلیم بھی منقطع کر دی ہے ۔اس کہانی میں اسکول ماسٹر ،غربت اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اسکول سے نام کاٹ دئے جانے اور ماں کے ساتھ گھاس بیچ کر روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں بچے کی مظلومیت کو آشکارا کیا گیا ہے ۔جو انتہائی حساس طبیعت کا مالک ہے اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں اور ناہمواریوں کو شدت سے محسوس کرتا ہے ۔ایک عورت سے جو جھاڑی میں کراہ رہے خارش زدہ کتے کو پانی پلانے کی خاطر کنویں سے پانی نکالنے میں مدد کرتی ہے سےبات چیت کے دوران اس کے پیٹھ پر ماں کی طرح کا باپ کے مارنے کی وجہ سے نشان دیکھ کر سوال اور عورت کے جواب کے بعد ”کہ کیاسب ہی آدمی اپنی عورت کو مارتے ہیں “(صفحہ48 )بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے ۔ کہ ہمارا معاشرہ عوت جسے اللہ نے مظلومیت اور محبت کی دیوی بنایا ہے کو اس کو اس کا حق دینے کے بجائے مارا اور پیٹا جاتا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے عصمت چغتائی نے مصنف کے بارے میں کہا ہے ”اس کے افسانوں میں بچہ اپنی پوری معصومیت کے ساتھ نظر آتا ہے اور ”عورت“ماں اور بہن کے حقیقی جذبات کے ساتھ دکھائی دیتی ہے “(صفحہ119 )۔
                اس کتاب میں بزرگوں کی ہمت افزائی کے عنوان سے کئی ممتاز اور بڑے افسانہ نگاروں کے تاثرات بھی شامل کئے گئے ہیں جس میں عصمت چغتائی اور قراة العین حیدر کے علاوہ اقبال متین ،حیات اللہ انصاری ،غیاث احمد گدی اور سلام بن رزاق جیسے مایہ ناز ادیبوں اور افسانہ نگاروں کے نام شامل ہیں ۔کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا افسانوی مجموعہ ہے لیکن اس کی ہر کہانی اپنے آپ میں ایک مکمل داستان ہے جس میں ماضی ،حال اور مستقبل کا پورا منظر نامہ بکھرا ہوا اور کھلے ہوئے آئینہ کی طرح صاف نظر آتا ہے ۔خوا ہ وہ ”آنچل “ہو ،”پیاسی کونپیل “،”اس پار“،”وہ دن “،”کبریٹ “،”کنارہ “،”ماریا “،”شبنم “،”منا“،پناہ گاہ “یا پھر” سوداگر“ہر ایک میں مظلومیت ،شفقت ،محبت ،مسرت ،معصومیت ،انیسیت،غربت ، فرقت ،محبت ،چاہت اور حقیت پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے ،اور جس میں معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے اس کی ناہمواری ، تبدیلی ، ناچاقی ، بے حسی ،آوارگی ،استحصال اور ٹوٹتے بکھرتے رشتوں جیسے مسائل کو خوبصورتی سے دکھاتے ہوئے قاری کو سوچنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔اور ہر کہانی قاری کو جھنجھوڑتی اور کچوکے لگا کر نہ صرف بیدار کرتی ہے بلکہ اسے سوچ و فکر کی گہرائیوں میں داخل کر کے اس کا حل بھی ڈھونڈنے کے لئے مجبور کر دیتی ہے ۔
                مثلا کہانی ”آنچل “ میںایک معصوم بچپن کی یاد اور شفقت پدری اور مادری سے محروم بچے کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے ۔اس میں ایک معصوم بچے کے کردار کو ہی واضح نہیں کیا گیا ہے بلکہ ایک متوسطہ مسلم خاندان کے مسائل اور قصباتی زندگی کی خوبصورت عکاسی بھی ہے ۔تو ”پیاسی کونپل “ میں بچہ ،گڑیا ،اسکول ،ممی اور ڈیڈی کے نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے معاشر ے کی بے حسی اور بے فکرے والدین کے رویہ پر چوٹ کی گئی ہے ۔”اُس پار “ میں نوجوانی کی محبت ،اس کے لئے بے جا اکسائٹیڈ اور بوڑھے کاکا اور نوجوان گنگا کے درمیان جس نے ابھی تجربات اور معاشرے کے اتار چڑھاو اور ان کی فریبیوں کو نہیں دیکھا ہے کہ درمیان ہونے والی گفتگو کو ایک خوبصورت کہانی کا روپ دیا ہے ۔تو” کبریت“ میں فرقت اور مصیبت کی ماری دو ایسے پرندوں کی داستان حیات بیان کی گئی ہے جن کی کافی مشقتوں کے بعد دو بچے ہوتے ہیں ۔بھوک سے تڑپتے بچو ں کے لئے ماں دانہ لانے جاتی ہے واپسی پر اسے پتہ چلتا ہے کہ ان کے دونوں بچوں کو سانپ کھا گیا ہے ۔ پریشان حال اپنی دکھڑا سنانے کے لئے وہ چڑا کو ڈھونڈنے نکلتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ بھی ایک پنجرے میں بند ہے اور ایک بچہ اس کا گلا دبا کر مار رہا ہے ۔مردہ پرندہ کھڑکی سے باہر پھیک دیا جاتا ہے وہ اس کا ماتم منانے اور رونے کے لئے جاتی ہے اس کے پاس تو ظالم انسان اسے بھی غلیل کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔اس میں بھی انسانی دکھ اور پرندے کے دکھ کو جیل اور پنجرے کے ذریعہ خوبصورت موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔افسانہ ”کنارہ“میں ٹوٹ کر چاہنے والی ایسی بیوی کی داستان بیان کی گئی ہے جو اپنے پتی کی خاطر ،دو بچوں کو قربان کر دینے کے بعد اپنی جان بھی تابتی ماتا کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ وہیں ”ماریا “پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ہم کوئی الہامی کتاب یا کہانی پڑھ رہے ہیں اور اس کا ایک ایک لفظ ہمارے سینے کے اندر چبھتا چلا جا رہا ہے ۔تو پناہ گاہ چاہت اور محبت کی ایک ایسی داستان ہے جسے انسان حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے ،ہر طرح کی تگ و دو اور کوشش کرتا ہے ،لیکن اس کی ساری کوششیں اور تمنائیں بے کار جاتی ہیں تو وہ تب وہ خود کو تسلی دینے کے لئے کہتا ہے ”یہ ضروری تو نہیں کہ آدمی جو چیز چاہے وہ اس کو مل بھی جائے “۔کہانی” شبنم ایک ایسے چُل بلی اور چنچل دو شیزہ کی کہانی جو بوڑھی نہیں ہونا چاہتی لیکن بوڑھی ہو کر اس دنیا سے سدھارتی ہے ،عمر کے ایک بڑے حصے کو پار کرنے والی بوڑھی عورت نہیں بلکہ زیادہ بچہ پیدا کرنے اور حالات کی ماری مریض ہو کر بوڑھی ہونے والی مریضہ کی کہانی “توافسانہ”پناہ گاہ“ میں بے لباس انسان کی حقیقت بیان کرتے ہوئے آخرت کے تصور کو خوبصورتی سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس کہانی کو پڑھتے ہوئے قران کی کئی آیتیں آنکھوں کے ارد گرد گھومنے لگتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے ۔کہانی ”سوداگر “ میں کئی باتیں سمٹ آتی ہیں یہ ایک بہترین تمثیلی کہانی چالاک ،عیار اور مفاد پرست انسان کی ہی کہانی نہیں کہتی بلکہ معاشرہ ،قوم اور ملک کے حالات کو بھی بیان کرتی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو کیسے اپنے دام میں لاتی ہے یا اسے زیر کرنے کے لئے کیسے کیسے حربہ اپناتی ہے وغیرہ
                الغرض ہر کہانی جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ایک داستان ہے ،جس کے ذریعہ سے معاشرے کے سماجی اور نفسیاتی حالات کا اندازہ ہونے کے علا وہ ،تخلیق کار کی کامیابی ،کوشش اور محنت کو بھی درشاتا ہے ۔ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے قاری کی طبیعت بور اور بوجھل نہیں ہوتی بلکہ اخیر تک اپنے سحر میں گرفتار رکھتی ہے ۔ اور ظاہر ہے یہ کیفیت قاری ک اندر پیدا ہو جائے تو ہی ایک تخلیق کار کو کامیاب تخلیق کار کہا جا سکتا ہے جو اپنے قاری کو الفاظ کی بھل بھلیوں میں نہیں بھٹکاتا ،اور قاری اس سے صرف لطف اندوز ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر تبدیلی کی تحریک بھی پیدا ہوتی ہے اور وہ دیر تلک یہ سوچتا رہتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں ایسا بھی ہوتا ہے ۔ یعنی ان کہانیوں کو پڑھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان اچھے اور بہتر کہانی کی جو خصوصیات بھی ہو سکتی ہیں وہ ان کی کہانیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔چاہے وہ زبان و بیان کا معاملہ ہو ، تیکنک ،منظر،پلاٹ اور کردار نگاری کا یا پھر سلاست ،روانی یا الفاظ کے انتخاب کا ہر ایک میں چابک دستی اور ایک ماہر استاذ کا ہنر جلوہ گر نطر آتا ہے ۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی جسے آپ جزیات نگاری بھی کہہ سکتے ہیں بہترین انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر عام لوگوں کی نگاہ نہیں پڑتی یا پڑتی بھی ہے تو وہ نظر انداز کر جاتے ہیں ۔افسانہ پڑھتے ہوئے یہ چیزیں قاری کو چونکاتی اور اس کے اندر تجسس بھی پیدا کرتی ہیں ۔
                محاورے ، استعارہ ،کنایہ ،تراکیب اور تماثیل کا استعمال بھی افسانوں میں خوب ہوا ہے ۔مثلا پہلے افسانہ آنچل میں آنسو کی تشبیہ نالے سے کس خوبصورتی سے دیا ہے ملاحظہ فرمائیں :”گالوں پر دو باریک باریک دھاریں اب بھی بہہ رہی تھیں ،جسے بارش بند ہو جانے کے بعد بھی پرنالے سے پانی بہت دیر تک بہتا رہتا ہے “(صفحہ1)۔منظر نگاری اور پیکر تراشی کی ایک مثال دیکھیںافسانہ ”اس پار“ سے: ” پھر اسکی (بھینس کا نوزائدہ بچہ )پر ہاتھ پھیر کر بیٹھتی ہوئی اس کا سر بالٹی میں جھکاتی ہے اور دوسرا ہاتھ بالٹی میں ڈبو کر انگلیاں بچے کے منہ میں دے دیتی ہے اور بچہ ماں کی تھن سمجھ کر کھٹی کھٹی چاچھ پینے لگتا ہے ۔اور لڑکی کی رگوں میں لذت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے (صفحہ27س)۔افسانہ وہ دن میں ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں اُگے ہوئے کالے موٹے بال کی مثال کس چیز سے دیتے ہیں دیکھئے :”بالکل ریچھ کے جیسے ہتھیلی کی پشت پر گلتا ہوا پھوڑا(صفحہ37)۔یا کہانی منا میں پستانوں کے لئے مستعمل مثال :”سامنے کی دو اٹھی ہوئی پہاڑیاں جیسے دو شیزہ کے سینے کا ابھار“(صفحہ90 )۔اس طرح کی سیکڑوں نادر اور زبان و ادب کی چاشنی لئے ہوئے خوبصورت اسلوب ،اختصار ،ایجاز اور دلوں میں نقش کر جانے والے جملے پوری کتاب میں بکھرے پڑے ہیں ۔
مصنف کی تعلیم و تربیت علی گڈھ کے فضا میں ہوئی ہے تو اس کا بھی عکس کئی جگہ کہانیوں میں نظر آتا ہے ۔ بحیثیت مجموعی اس کتاب کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور میں جب کہ اچھے اور پائدار لکھنے والے قلم کا روں کا بحران ہے علم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے ۔ کاغذ عمدہ ، قیمت مناسب اور ٹائٹل خوبصورتت ہے ۔ لیکن اتنی اچھی کتاب ہونے کے باوجود پروف ریڈنگ کی کمی کئی جگہ محسوس ہوتی ہے ۔ لیکن یہ اتنی زیادہ بھی نہیں ہے کہ یہ زبان یا اسلوب کی سلاست اور روانی کو مجروح کرتی ہو تاہم  کتاب ایک معتبر شخصیت کے قلم سے لکھی گئی ہے توہم اس کی بھی توقع کرتے ہیں کہ پروف کی اغلاط بھی نہ ہوں ۔ تاکہ طلباء اور خصوصا نئے لکھاریوں  جس کے لئے اس میں بہت کچھ ہے جانے انجانے میں ایسی غلطیوں کو بھی درست تصور نہ کر بیٹھیں ۔
               
               
                               



۔۔۔مزید

منگل، 8 جولائی، 2014

کھڑکی پر کامران

کھڑکی پر کامران
رویش کمار (انکر این ڈی ٹی وی ہندی)
دس منزلہ کمرے کی کھڑکی سے اپنی بیٹی کو باہر کی دنیا دکھا رہا تھا۔ اچانک ایک نوجوان رسی سے لٹکا ہوا کھڑکی پر آ گیا۔ پانی چاہئے۔ اتنی اونچائی پر بے خوف وہ ان دیواروں کو رنگ رہا تھا جس کے رنگین ہونے کا سکھ شاید ہی اسے ملے۔ میری بیٹی تو انتہائی خوش ہو گئی کہ کوئی دیوار کی طرف سے کھڑکی پر لٹک کر بات کر رہا ہے۔ ڈر نہیں لگتا ہے، یہ میرا پہلا سوال تھا۔ دیوار پر رنگ کا ایک کوٹ چڑھا کر کہتا ہے - نہیں۔ ڈر کیوں۔ کیا نام ہے۔ کامران۔
پھر کامران سے بات ہونے لگتی ہے۔ بہار کے ارریہ ضلع کا رہنے والا ہے۔ چھ ماہ پہلے دہلی کمانے آیا ہے۔ دو دنوں تک بیٹھ کر دیکھتا رہا کہ کوئی کس طرح خود کو رسی سے باندھ کر لکڑی کی پٹری پر بیٹھ کر اتنی اونچائی پر اکیلا رنگ رہا ہوتا ہے۔ تیسرے دن سے کامران خود یہ کام کرنے لگتا ہے۔
میں نے پوچھا ’’ کوئی تربیت ہوئی ہے تمہاری‘‘۔
’’نہیں! بس دیکھ کر سیکھ لیا‘‘۔
تو کسی نے کچھ بتایا نہیں کہ کیا کیا احتیاط برتني چاہئے۔
’’نہیں‘‘۔!
’’تو تمہیں ڈر نہیں لگتا ہے نیچے دیکھنے میں۔‘‘
نہیں لگتا۔
اس سے پہلے کتنی منزل کی عمارت کا رنگ و روغن کیا ہے تم نے
۔ سینتیس منزل۔
میں سوچنے لگا کہ جہاں کامران کا بچپن گزرا ہوگا وہاں اس نےاتنی اونچائی کی عمارت کبھی دیکھی نہ ہوگی لیکن دہلی آتے ہی تیسرے دن سے وہ اونچائی سے کھیلنے لگتا ہے۔’’ تو کیوں کرتے ہو یہ کام‘‘۔
’’ اس میں مزدوری زیادہ ملتی ہے۔ رسک ہے نہ‘‘۔
’’کتنی ملتی ہے‘‘۔
’’ پانچ چھ سو روپے ایک دن کے‘‘۔۔۔۔۔پھر اچانک ’’ پانی دیجئے نہ‘‘۔
میری دلچسپی کامران سے بات کرنے میں تھی۔ تیسری بار اس نے پانی مانگا۔ ’’اوہ، بھول گیا‘‘۔
’’ابھی لاتا ہوں‘‘۔
گلاس لے کر آیا تو کامران نے اپنے ساتھ رنگ رہے ایک اورشخص کی طرف گلاس بڑھا دیا۔ جب گلاس لوٹايا تو میں نے کہا’’ مجھے لگا کہ تمہیں پیاس لگی ہے، مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ کھڑکی کے باہر کوئی اور بھی لٹکا ہوا ہے‘‘۔
’’نہیں سر! ، وہ ہندو ہے۔ اسے پیاس لگی ہے۔ میرا روزہ چل رہا ہے‘‘۔

۔۔۔مزید

بدھ، 14 مئی، 2014

اس کی آنکھیں

محمد علم اللہ اصلاحی
ترگڑی گاوں میں دماغی بخار سے بچوں کے مرنے کی افواہیں گشت کر رہی تھیں۔ لیکن میڈیا اب تک خاموش تھا، ممکن ہے حکومت کے دباو یا منتظمین کے سخت رویہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہو ۔ لیکن ہلاک ہونے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی تھی۔ ایک ماہ میں اسی بچوں کی موت ہو چکی تھی اور سو سے زیادہ ہسپتالوں میں تھے۔عوام اور سماجی کارکنان کی آواز تیز ہونے لگی تھی ،سوشل میڈیا میں بھی یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیلی ۔ سماجی حلقوں سے آوازیں اٹھنے لگیں ، سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر لیڈران کی بھی آمد ہونے لگی۔اور پھر چور مچائے شور کے مصداق میڈیا نے بھی اپنی ذمہ داری طوعا و کرہا نبھائی۔آخر حقیقت حال کو میڈیا بھی کب تک چھپاتی ۔
ایک صحافی کی حیثیت سے میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچا ۔گاوں شہر سے زیادہ دوری پر نہیں تھا ۔اس لئے ہم نے شام کو ہی ٹھنڈے وقت نکلنا مناسب سمجھا ۔ارادہ یہی تھا کہ رات تک واپس لوٹ آئیں گے ۔اور جب ہم گاوں پہنچے تو وہاں عجیب و غریب منظر تھا ۔شہر کی طرح زیادہ بھیڑ بھاڑ بھی نہیں تھی ۔کئی لوگوں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ گاوں والوں نے اس موت کا سبب آسیب اور بلا کو سمجھا تھا ۔اس لئے کئی لوگ گھر بھی چھوڑ چکے تھے۔ کھڑکیوں سے اکا دکا جھانکتی عورتیں یا حقہ کی غڑغڑاہٹ اور بیڑی کے مرغولوں کے بیچ تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے بیٹھے ہوئے بزرگ دکھائی دے رہے تھے جو جانے کیا آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ اکا دکا گھروں سے چراغوں کی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔
ایک بزرگ سے ہم نے اس بیماری کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے دوسری گلی میں داخل ہو جانے کے لئے کہا ۔ہمارے قدم دھیرے دھیرے کہانی کی تلاش میں بڑھتے جا رہے تھے۔بزرگ کی ہدایت کے مطابق سب سے پہلے ہم گاؤں میں ان خاندانوں سے ملنے پہنچے جن کے بچے اس بیماری کی وجہ سے حال سے ماضی میں سما چکے تھے۔ ان کے دکھ کی کہانی بھی بڑی عجیب تھی۔ ہم جن جن خاندانوں کے پاس گئے ان میں سے زیادہ تر کے گھروں پر تالے جھولتے ہوئے ملے۔ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کے ماں اور باپ دھان کاٹنے گئے ہیں۔"وہ آپ کو کھیت میں ملیں گے یا پھر اوپری ٹولہ میں جہاں پینے کا پانی آتا ہے لانے گئے ہوں گے۔" لوگوں نے بتایا۔ یہ سن کر تعجب ہوا اور کافی حیرانی بھی۔
"کل ہی تو ان کے بچے کی موت ہوئی ہے اور یہ آج ہی کام پر چلے گئے !‘
ہم نے اطلاع دینے والے سے پوچھا
‘‘ صاحب ، جانے والا تو گیا۔ اب جو زندہ ہے وہ کمائے گا نہیں تو کھائے گا کیا ؟ اور کھائے گا نہیں تو کیا بھوکا مرے گا ؟ ‘‘اس جواب میں بھوک ، غربت اور زندگی کا پورا فلسفہ سمایا ہوا تھا۔میرا قلم تیزی سے نوٹ بُک پر چل رہا تھا۔
کئی خاندانوں سے ہم نے ان کے کھیتوں میں ہی جا کر ملاقات کی۔رات کافی بھیگ چکی تھی۔ ہمیں خبروں اور تصاویر کے لئے شہر میں واقع ہاسپیٹل بھی جانا تھا۔ بیمار بچوں کا علاج وہیں ہو رہا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو عجب ہی ماحول تھا۔ کئی عورتوں کے رونے اور بچوں کی سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔ہسپتال کے باہر کچھ لوگ سو رہے تھے، کچھ جاگ رہے تھے ۔ ہسپتال کے حالات کا اگر تفصیل سے تذکرہ کروں کئی صفحے بھر جائیں گے لیکن اس کی حالت زار کی تصویر مکمل طور پر نہیں بن پائے گی۔ یہ ہسپتال کیا تھا ، اس کے نام پر مکمل مذاق تھا۔ کوئی سہولت نہیں ، مشینیں خراب ، دوائیں ندارد لیکن علاج چل رہا تھا اور بچے مر رہے تھے۔
ہم سیدھے سی ایم او کے کیبن میں داخل ہو گئے ،ڈاکٹر اونگھ رہا تھا جو شاید دروازے کی کھٹ کھٹ سے بیدار ہوا ۔ہم نے اسے اپنا مدعا بتایا۔ سی ایم او نےایک ڈاکٹر کو بلا کر کہا کہ وہ ہمیں اس بیماری سے متاثر بچوں کے وارڈ میں لے جائے۔ وہ ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس کے باہر دروازے کے ٹھیک اوپر سبز رنگ کا ایک بورڈ لگا تھا ، جس پر لکھا تھاانسفلائٹس وارڈ۔ ہم کمرے میں داخل ہو گئے تھے ۔کراہتے بچوں اور بلکتےی ماوں کی آواز کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔
بستروں پر جو بچے لیٹے ہوئے تھے، ان کی ناکوں ، ہونٹوں اور ہاتھوں میں طرح طرح کے پائپ لگے تھے جو کمرے کے خوفناک ماحول کو اور بھی پر اسرار بنا رہے تھے۔ مجھے تصویریں لینی تھیں ، لیکن میں اس خاموش فضا میں اپاہجوں کی طرح ساکت کھڑا تھا، جیسے میرے ہاتھوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا، دس پندرہ منٹ تک تو میں نے کوئی تصویر کھینچی ہی نہیں۔راہ چلتے ہوئے، عام چیزوں کی تصویریں کھینچنے اور ان میں مختلف جذبات کی رویں تلاش کرنے والے کی آنکھیں آج جیسے ٹھٹک گئی تھیں۔فوٹو گرافی کی ساری تیکنک ، سارا علم جیسے غائب ہو گیا تھا۔میرے اوپر جیسے جھر جھری سی طاری ہو گئی ۔
کچھ دیر بعد میں اپنی حالت پر قابو پا چکا تھا اور تصویریں کھینچنے کی تیاری کرنے لگا تھا، میرا ساتھی ڈاکٹر سے کچھ باتیں کر رہا تھا، لیکن میں سامنے پڑی لڑکی کی طرف جیسے کھنچا کھنچا چلا گیا۔ چھ یا سات سال کی عمر ہوگی اس کی۔ اس کا جسم جیسے سوکھ چکا تھا،محض آنکھیں چمک رہی تھیں ،ہاتھ میں گلوکوز ڈرپ کی سوئی والی اسٹرپ لگی تھی۔ جس میں خون کے نشان بھی صاف نظر آ رہے تھے ۔چہرے پر مچھر بھن بھن کر رہے تھے جنہیں میں اچھی طرح دیکھ سکتا تھا ۔ اس نیم تاریک ماحول میں آنکھوں کی سفیدی کچھ زیادہ ہی ابھر آئی تھی۔ جس میں سرخی کی لکیریں نظر آ رہی تھیں۔ مجھے کلیم نجارو آتش فشاں کی تصویریں یاد آئیں، وہ برف پوش آتش فشاں پہاڑ جو وقتاً فوقتاً پھٹ پڑتا ہے۔میرے اندر ایک خوف کی لہر دوڑ گئی۔ خود کو جٹاتے ہوئے میں اس کے قریب گیا۔ وہ ٹکٹکی باندھے اوپر کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میں ٹاپ اینگل سے اس کی تصویر اتارنے کی کوشش کر نے لگا، اس کی بڑی بڑی آنکھیں لینس کے اندر سے اور بھیانک نظر آنے لگیں ۔ گویا وہ مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیوں لے رہے ہو میری تصویر۔ تمہیں نظر نہیں آ رہا میں بیمار ہوں !کیا تم میری بے بسی کا مذاق اڑانا چاہتے ہو ۔
میری انگلیاں بٹن پر جیسے جم گئیں اور تمام کوششوں کے باوجود میں اس کی تصویر نہیں لے سکا۔وہ آنکھیں کیمرے کے لینس میں ویسی ہی جمی رہیں۔ اور تبھی مجھے بچپن میں ہمارے چچا کے گھر پلے لیبرے ڈور کتے کی یاد آ گئی۔ جب وہ کھانے کے برتن میں منہ ڈال کر چپر چپر کھاتا تھا ، تب اس کے پاس جا کر کھڑا ہونا کافی مشکل تھا۔ وہ کھانا چھوڑ کر اپنی آنکھوں کو کھول کر گھورتا۔ اس کے اوپری جبڑے سے دو نوک دار دانت باہر نکل آتے ، اس کے دونوں کھڑے کانوں کے درمیان کی کھال پر گہری نالیاں سی بن جاتیں اور اسکےغرانے کی ہلکی مگر خوفناک آواز آتی۔ مجھے اس لڑکی کی آنکھیں دیکھ کر ڈر لگنے لگا۔ وہ اب لڑکی کی آنکھیں نہیں تھیں ۔مجھے لگا جیسے کتے کی طرح لپک کر وہ میری گردن میں اپنے نوکیلے دانت گھسا دے گی۔ میں ڈر کے مارے اوپر سے نیچے تک لرز اٹھا ۔وہ آنکھیں میرے پورے وجود پر چھانے لگی تھیں۔ میں وہاں سے ہٹ ہی رہا تھا کہ ساتھ آئے ڈاکٹر کی باتیں سن کر اور زیادہ خوف زدہ ہو گیا ۔ اس نے بے فکری سے کہا ،” یہ لڑکی دماغی طور پر مر چکی ہے۔ آپ چاہیں تو تصویر لے سکتے ہیں اسے کچھ نہیں نظر آ رہا۔ ایک دو دن میں یہ جسمانی طور پر بھی مر جائے گی۔
ڈاکٹر نے مجھ سے جو کچھ کہا ، شاید وہ اس کی کوشش تھی مجھے معمول پر لانے کی ، لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام ہی رہا۔پیشہ ور ہونے کے ناطے میں نے کچھ تصویریں ضرور لیں ۔لیکن یہ تصویر اور وہ لڑکی میرے اعصاب پر برابر چھائی رہی۔
اس واقعہ کے ہوئے کئی سال گذر گئے ۔ میں نے جاننا بھی نہیں چاہا کہ اس بچی کا کیا ہوا ، زندہ رہی یا مر گئی۔وہ تصویر اب بھی میرے پاس ہے۔ خالی وقت میں میں اپنے کیمرے میں تمام تصاویر دیکھتا ہوا ماضی کو جیتا ہوں لیکن اس تصویر پر میں ایک پل بھی نہیں ٹھہرتا۔ کیوں ؟ شاید اس لئے کہ اس کی آنکھوں میں جو سوال تھا اس کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید