بدھ، 11 مئی، 2016

آج کی ڈائری



محمد علم اللہ
کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا تھا ۔
قریب والے اے ٹی ایم میں پیسے نہیں تھے ۔
بھوک بہت شدت کی لگی تھی ۔
کل سوچا تھا آفس میں کسی سے قرض لے لوں گا ، مگر کسی سے مانگنے کی ہمت ہی نہ ہوئی ۔
حسب معمول صبح واپس لوٹا تو نیند اتنی تیز آ رہی تھی کہ بس آتے ہی سو گیا ۔شام چھہ بجے آنکھ کھلی تو قریبی اے ٹی ایم میں پیسے نکالنے کے لئے گیا ، مگر اتفاق سے آج بھی وہا ں پیسے نہیں تھے ، بڑا غصہ آیا ۔
کمرے میں واپس آ کر رات کا انتظار کرنے لگا کہ اب آفس کے کینٹین میں ہی کھا لیں گے ، کیٹین میں کوپن سسٹم ہےاور کوپن میں ابھی کافی پیسے پڑے ہیں ، مگر گیارہ بجے رات تک انتظار کرنا بہت مشکل تھا ، بھوک کی شدت اور بھی بڑھ رہی تھی ، خود کو کوسنے لگا کہ پانی نہ پیتا تو نفلی روزہ ہی رکھ لیتا ، بے چینی سے، جیب ، پرس ، بیگ سبھی ٹٹولا مگر نہ تو پیسے ملے اور نہ ہی کچھ کھانے کا سامان ، دل بہلانے کے لئے وشنو پر بھاکر کی آوارہ مسیحا لیکر بیٹھ گیا ، مگر جب پیٹ میں کچھ نہ ہوتو مطالعہ میں کہاں جی لگتا ہے ۔اچانک یاد آیا گھر میں جب چھوٹی بہن کپڑے دھلتی تو شام کو پیسے لوٹاتی ہوئی کہتی بھیا یہ لیجئے ! آپ کے پاکٹ میں پڑا تھا ، اور میں پیار سے کہتا تم رکھ لو تو وہ کتنی خوش ہوتی تھی ۔
اس خیال کے آتے ہی میں نے اپنے اتارے ہوئے کپڑے جسے کئی ہفتہ سے دھلنے کی سوچ رہا تھا ، ٹٹولنا شروع کیا ،تو ایک پرانی جینس میں سے سو روپئے کا نوٹ نکلا جسے میں نے پہننا بھی چھوڑ دیا تھا ، اس سور روپئے کے نوٹ کو پاکر اتنی خوشی ہوئی کہ پورے مہینے کی تنخواہ پا کر بھی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی ، فرط جذبات سے میں نے نوٹ کو پیشانی سے لگایا اور چوم لیا ۔پھر دو رکعت شکرانہ نماز پڑھی ۔باہر نکلا جوس پیا، سموسے کھائے ، چائے پی اور پھر روم واپس آ گیا۔
رہے نام باقی اللہ کا

۔۔۔مزید

आज की डायरी


मुहम्मद अलामुल्लाह
खाने-पीने का सामान खत्म हो गया था।
करीब वाले एटीएम में पैसे नहीं थे।
भूख बहुत तेज़ लगी थी।
कल ही सोचा था कार्यालय में किसी से ऋण ले लूँगा, लेकिन किसी से मांगने की हिम्मत ही नहीं हुई।
अनुकूलन दिनचर्या नाईट शिफ्ट कर के सुबह लौटा तो नींद इतनी तेज आ रही थी कि बस आते ही सो गया .शाम छह बजे आंख खुली तो पास के एटीएम में पैसे निकालने के लिए गया, लेकिन संयोग से आज भी वहां पैसे नहीं थे, बड़ा गुस्सा आया ।
कमरे में वापस आकर रात का इंतजार करने लगा कि अब कार्यालय के कैंटीन में ही खा लेंगे, कैंटीन में कार्ड प्रणाली है और कार्ड में काफी पैसे पड़े हैं, लेकिन ग्यारह बजे रात तक इंतजार करना बहुत मुश्किल था, भूख की तीव्रता और भी बढ़ रही थी, खुद को कोसने लगा कि पानी न पीता तो नफिल रोज़ा ही रख लेता, बेचैनी से, जेब, पर्स, बैग सभी टटोला मगर न तो पैसे मिले और न ही कुछ खाने का सामान, दिल बहलाने के लिए विष्णु प्रभाकर की किताब आवारा मसीहा लेकर बैठ गया, लेकिन जब पेट में कुछ न हो तो अध्ययन में कहाँ जी लगता है।
अचानक ख्याल आया घर में जब छोटी बहन कपड़े धुलती थी तो अक्सर शाम को पैसे लौटाने हुई कहती भैया ये लीजिए! आपके जेब में पड़ा था, और मैं प्यार से कहता तुम रख लो तो वह कितनी खुश होती थी। मैं सोचने लगा कुछ ऐसे ही चमत्कार हो जाता।
यह सोचते हुए मैं अपने उतारे हुए कपड़े जिसे कई सप्ताह से धुलने की सोच रहा था, टटोलना शुरू कर दया ,एक , दो , तीन सभी देख डाले। ना उम्मीदि के साथ एक पुरानी जींस में हाथ डाला काफी दिनों से उसे पहना भी नहीं था ! क्या देखता हूँ पिछली वाली जेब में सौ रुपए पडा है, उस सौ रुपये के नोट को पाकर मुझे इतनी ख़ुशी हुई के उसे बयान नहीं कर सकता सही बात तो यह है की पूरे महीने के वेतन पाकर भी इतनी खुशी कभी नहीं हुई, फरते जज़्बात से मैं ने उस नोट को माथे से लगाया और चूम लिया। फिर दो रकअत शुक्राना नमाज़ पढ़ी,बाहर निकला जूस पिया, समोसे खाए, चाय पी और फिर रूम वापस आ गया।
रहे नाम बाकी अल्लाह का !

۔۔۔مزید

منگل، 10 مئی، 2016

سو لفظوں کی کہانی

عکس بند 
محمد علم اللہ 
سینکڑوں ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
 دھماکے کے دوسرے روز بھی شہر کے باسی بے حد پریشان تھے۔
 لیڈران ، تفتیشی ایجنسیاں ، صحافی، چینلز اب بھی جائے حادثہ پر اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔
 ایک بچی ان سب سے بے خبر، اپنی پیاری گڑیا کوپکڑے ۔ آگے بڑھی چلی جا رہی تھی۔ میری نظر بچی پر پڑی۔
 لپکا ’’ منی !ادھر کہاں جا رہی ہو؟‘‘ 
’’اُدھل میلا کھلونا ہے ‘‘ 
’’ڈر نہیں لگتا؟‘‘ 
’’میلی گلیا ہے تو ساتھ میں۔‘‘
 بچی کی معصومیت مجھے ڈھیر کر گئی ، خیال ہی نہ رہا ، بچی کا عکس ہی محفوظ کرلیتا ۔

۔۔۔مزید

ملی تنظیموں کا رویہ

 محمد علم اللہ ۔ حیدرآباد ۔

میرا اپنا خیال یہی ہے کہ ملی تنظیموں کو زیادہ تر ملی مسائل سے ہی سروکار ہوتا ہے ، وہ ملکی ،عمومی یا جمہوری سطح پر مسائل سے چشم پوشی برتتی ہیں ۔کلیہ میں استثنا ہوتا ہے چند ایک تنظیمیں اگر کچھ کرتی ہونگی تو میں اس کا قسم نہیں کھا سکتا ۔ مگر دیکھا یہی گیا ہے کہ عمومی مسائل کے حل میں ہماری تنظیمیں کوری ثابت ہوتی ہیں ،جس کی چند ایک مثالیں حیدرآباد میں دلت طالب علم روہت ویمولا کی خود کشی کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور اس کے بعد کے حالات۔دہلی میں شری شری شنکر کا آرٹ پروگرام کے نام پر بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی اس کے بعد ہنگامہ آرائی اور عدالت کی دخل اندازی ۔یہ محض حال کے چند واقعات ہیں تھوڑاآگے بڑھیں تو بد عنوانی کے مسئلہ پر کچھ سال قبل ہنگامہ آرائی جس کے بعد کیجری وال کی حکومت بنی ، ہماری تنظیموں نے کیا رول ادا کیا ۔ تھوڑا اور آگے بڑھئے نویڈامیں نربھیا ریپ معاملہ پر بین الاقوامی سطح پر لوگوں نے چیخ پکار مچائی جس کے بعد قانون تک بنانے پر حکومت مجبور ہوئی یہ تنظیمیں سوتی رہیں ۔

۔۔۔مزید

ریشارد کاپوشینسکی

آج ہمارے ایک بزرگوار نے ریشارد کاپوشینسکی سے متعارف کرایا ، حیرت ہے کہ اس قدر عظیم لکھاری سے میں ان تک کیسے لا علم کیسے رہا ، انٹرنیٹ میں سرچ کیا تو کافی کچھ ملا ، ان کا پہلا کوٹیشن گوگل نے جو دکھایا وہ یہ تھا ۔
When man meets an obstacle he can't destroy, he destroys himself.
Our salvation is in striving to achieve what we know we'll never achieve.
Be careful: they have arms, and no alternatives
Kapuściński Ryszard
یہ لیجئے اس کا اردو ترجمہ :
جب آدمی کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں ، تو وہ رکاوٹیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ، بلکہ انسان اگر پیچھے ہٹتا ہے تو خود ہی وہ اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے ۔ ہماری نجات یا کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اس کو پانے کے لئے جد و جہد کریں ۔ ہوشیار رہیں کہ یہی ہمارا اسلحہ ہے اور محنت و تگ و دو کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
ریشارد کاپوشینسکی

۔۔۔مزید

اردو اخبارات اک نوحہ

اس سے قطع نظر کہ واقعی یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے ، لیکن اس سے کہیں زیادہ افسوس ناک اردو اخبارات کا ایسا رویہ ہے ، جو جانے انجانے میں فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔ یہ واقعی ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ اردو اخبارات معروضی انداز میں بات کرنے ے بجائے خبروں کو بھی زبردستی کلمہ پڑھانے پڑھانے پر مصر نظر آتے ہیں ، ہندی کے بعض اخبارات جس میں دینک جاگرن اور نوبھارت ٹائمز سہر فہرست ہیں کا رویہ بھی اسی قسم کا ہے ، جو بہر حال جمہوریت کے چوتھے ستون کے اصولوں کے منافی اور اس کو زک پہنچانے والا ہے ۔


۔۔۔مزید

سورج نکلا تو

دلت فکشن....11
سورج نکلا تو
کہانی : سدا بھارگو
ترجمہ : محمد علم اللہ
رانچی . جھارکھنڈ . انڈیا

-------
وہ دلت تھی، اس پر بھی بیچاری عورت ذات! پھر تو دوگنی دلت۔ آدمی گھر بیٹھ اس کے سینے پر مونگ دلتا اور باہر رات کے سناٹے میں اس کی چیخ ہوا می تحلیل ہو جاتی ۔ سننے والوں کو سکون ہی ملتا، دلت جو ٹھہری!
پر ماں بھی تو تھی وہ، بس رکھ دیا تن من گروی۔ ایک ہی آس، بیٹا پڑھ جائے تو شاید بڑھاپے کا سہارا ہو ۔ آٹھویں پاس بیٹا اس دن چہکتے ہوئے آیا۔ بولا! ماں، ماں! دیکھ تو اس اخبار میں۔ حکومت ہمارا کتنا خیال رکھ رہی ہے۔ اب سے ہماری زمین، ہمارے درخت کوئی نہیں چھينےگا۔ ہم جنگل کے بادشاہ تھے اور رہیں گے۔
چپ بھی رہ۔ یہ باتیں پڑھنے اور سننے میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ یہ گمراہ کرنے کی اچھی سازش ہے۔ ہوائی باتوں کو کاغذ پر اتارنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔
ٹھيك ہے، كڑوے گھونٹ پینے کی تو عادت ہے۔ اب صبر کے گھونٹ پی کر پیٹ بھر لیں گے۔
اتنے برس بیت گئے آزادی کو، کسی نے ہماری سدھ لی؟
لیکن ماں پینسٹھ سال کے بعد ہمارا سورج تو نکلا۔ اسکی روشنی پھیلنے میں وقت تو لگے گا۔
اپنے بیٹے کے چہرے پر کھلی امیدوں کی پنکھڑیوں کو وہ مرجھاتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی، اس وجہ سے ایک ماں زبردستی اپنے ہونٹوں پر برکھا لانے کی کوشش کرنے لگی۔
 

۔۔۔مزید

مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ بہرحال میرے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ تبصرہ نگار کا نام نہیں دیا ہے ، لیکن تبصرہ کے نیچے ع ص لکھا ہے ، یعنی محترم جناب عمیر الصدیق ندوی صاحب نے یہ تبصرہ کیا ہے ۔ میری کبھی ان سے نہ بات ہوئی اور نہ ملاقات ،مگر عمر کے تعلق سے ان کے اندازہ سے مجھے حیرانی ہوئی ۔بہرحال میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انھوں نے کتاب پڑھی اور تبصرہ بھی کیا ۔ جزاکم اللہ احسن ۔

\

۔۔۔مزید

فن کو سنوارنے کا فن

آج میں آپ کو دو مزید باتیں بتاتا ہوں ۔ ستم طریفی ۔ آپ اس کے اثر میں نہ آئیں ۔ خصوصا اس وقت تخلیقی لمحات میں نہ ہوں ۔ ہاں جب آپ اپنے تخلیقی لمحات میں ہوں تو اسے زندگی پر گرفت حاصل کرنے کے ایک ذریعہ طور پرلیں ، اگر اسے صدق دلی سے استعمال کیا جائے تو یہ ایک  مثبت رویہ ہے اور اس کے استعمال پر کسی قسم کے خلجان میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن اگر آپ  کو لگے کہ کچھ زیادہ ہی اس میں الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو پھر سنجیدہ چیزوں کی جانب  متوجہ ہوں جس کے سامنے یہ انتہائی حقیر اور بے بس  شئے ہے ۔ چیزوں کی گہرائی تک پہنچیں ، اور جب اس طرح آپ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا یہ ستم ظریفانہ رویہ آپ کی کوئی فطری ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ سنجیدہ باتوں کے زیر اثر یا تو یہ اگر محض اتفاقی ہے آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور یا اگر واقعی آپ کا فطری رویہ ہے تو یہ ایک مضبوط آلہ کار بن جائے گی اور ان اجزا میں شامل ہو جائے گی جن سے آپ اپنے فن کو سنوار سکتے ہیں ۔

Today I would like to tell you just two more things:
Irony: Don't let yourself be controlled by it, especially during uncreative moments. When you are fully creative, try to use it, as one more way to take hold of fife. Used purely, it too is pure, and one needn't be ashamed of it; but if you feel yourself becoming too familiar with it, if you are afraid of this growing familiarity, then turn to great and serious objects, in front of which it becomes small and helpless. Search into the depths of Things: there, irony never descends and when you arrive at the edge of greatness, find out whether this way of perceiving the world arises from a necessity of your being. For under the influence of serious Things it will either fall away from you (if it is something accidental), or else (if it is really innate and belongs to you) it will grow strong, and become a serious tool and take its place among the instruments which you can form your art with.
http://www.carrothers.com/rilke2.htm

۔۔۔مزید

ایک استاد کا اپنے شاگرد کو نصیحت

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط کا مطالعہ جاری ہے ۔رلکے  کی پیدائش 4 ستمبر 1875 میں پراگ میں ہوئی  تھی ۔  رلكے کو جرمن زبان کے معروف  شاعراور ادیب  کے طور پرجاناجاتا ہے۔ جرمن اور فرانسیسی زبانوں کےماہر رلكے نے جدید زندگی کی پیچیدگیوں کی عکاسی  اپنے مخصوص انداز میں خوبصورتی سے پیش کی ہے ۔ چند اقتباسات کا ترجمہ ملاحظہ فر مائیں  ۔
علم

ادبی  تنقید  کا جہاں تک  ممکن ہو کم  مطالعہ کریں  ۔ ایسی چیزیں تو یک رخی  ہوتی ہیں یا زندگی سے عاری اور پتھر کی طرح بے جان  یا پھر  محض لفظوں کی پوٹلی  جن میں آج ایک نظریہ حاوی ہوتا ہے کل  کوئی  اور نظریہ جگہ لے لے گا  ۔ فن پارے انتہائی انفرادیت کے حامل ہوتے ہیں اور تنقید ان کو سمجھنے کا محض ایک ادنی ذریعہ ہے ۔ صرف محبت انھیں سمجھ سکتی ہے،  ان کی گرفت کر سکتی ہے اور ان کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے ۔ ہر دلیل ، ہرحجت اور ہر  بحث کے متعلق آپ صرف خود اپنے آپ کو اور اپنے احساس اور ضمر  کو درست  تصور کریں ۔  اگر آپ پر غلطی واضح ہو جائے تو یہ آپ کی باطنی زندگی کو فروغ دینے کے علاوہ آپ کو نئی بصیرتیں عطا کرے گا ۔ اپنے نظریات کو اطمینان اور سکون کے ساتھ فروغ پانےدیجئے جو ہر ارتقائی عمل کی طرح دل کی گہرائیوں سے وا ہوتے ہیں ۔ اور جنھیں نہ زبردستی بڑھاوا دیا جا سکتا ہے  اور نہ ہی نہ کسی اور ذریعہ سے اس میں افزودگی پیدا کی جا سکتی ہے ۔  ہر عمل ایک تخلیقی عمل ہے، ولادت ہے ۔
احساس کے ہر  نقش اور  عنصر  کی تشکیل کرنا اسے  پایہ تکمیل کو پہنچاتا ہے ۔ وہ جو پوشیدہ ہے ، جو ناقابل بیان  ہے شعور سے پرے ہے ، جس کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی تخلیق کا صبر سے عاجزی کے ساتھ انتظار کرنا ، واضح کرنا ، یہی ایک فنکار کی زندگی ہے کہ تخلیقی عمل کے ذریعہ وہ حقیقت کا ادراک کرتا ہے ۔
یہ گھڑیوں  کو ناپنے  کا معاملہ نہیں ہے ۔  یہاں وقت کوئی معنی نہیں رکھتا  ۔ایک فنکار کے لئے  دس برس کوئی چیز نہیں ۔ ایک فنکار بننے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس کو حساب کتاب  میں مقید کر دیا جائے ۔ مگر ہاں  ایک درخت کی طرحاسے پھلنے پھولنے کا موقع  دیناچاہئے اس کو  زبردستی بڑھانے کی کوشش  نہیں کرنی چاہئے ۔بلکہ ایسا بننا  بہار کے طوفانوں کو بھی وہ اعتماد  کے ساتھ جھیل سکے ، اسے اس بات کا  خوف نہ ستائے  کہ  اس کے بعد موسم گرما آ جائے  گا ۔اسے تو آنا ہی ہے ، مگر صرف اس کے لئے جس  کے اندر  صبر اور  تحمل کا مادہ  ہو ۔ جوایسے بے نیازی سے ، اطمینان اور  وسعت کے ساتھ ہو جیسے کہ ہمیشگی  اس کے سامنے ہو ۔ میں روزانہ اپنی زندگی میں  اس کو سیکھتا ہوں ۔ درد اور کسک کے ساتھ اس کو  سیکھتا ہوں  اور مجھے خوشی ہے  کہ صبرایک بہت بڑی نعمت  ہے ۔
 Read as little as possible of literary criticism. Such things are either partisan opinions, which have become petrified and meaningless, hardened and empty of life, or else they are clever word-games, in which one view wins , and tomorrow the opposite view. Works of art are of an infinite solitude, and no means of approach is so useless as criticism. Only love can touch and hold them and be fair to them. Always trust yourself and your own feeling, as opposed to argumentation, discussions, or introductions of that sort; if it turns out that you are wrong, then the natural growth of your inner life will eventually guide you to other insights. Allow your judgments their own silent, undisturbed development, which, like all progress, must come from deep within and cannot be forced or hastened. Everything is gestation and then birthing. To let each impression and each embryo of a feeling come to completion, entirely in itself, in the dark, in the unsayable, the unconscious, beyond the reach of one's own understanding, and with deep humility and patience to wait for the hour when a new clarity is born: this alone is what it means to live as an artist: in understanding as in creating.

     In this there is no measuring with time, a year doesn’t matter, and ten years are nothing. Being an artist means: not numbering and counting, but ripening like a tree, which doesn’t force its sap, and stands confidently in the storms of spring, not afraid that afterward summer may not come. It does come. But it comes only to those who are patient, who are there as if eternity lay before them, so unconcernedly silent and vast. I learn it every day of my life, learn it with pain I am grateful for: patience is everything!
http://www.carrothers.com/rilke3.htm

۔۔۔مزید

ایک واقعہ


ایک واقعہ
محمد علم اللہ ۔ حیدر آباد
 آج مولانا احتشام الدین اصلاحی کا ان کے آبائی گاوں منڈیا ر میں انتقال ہوگیا ۔ مولا نا مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڈھ میں استاد جیسے جلیل القدر عہدے پر فائز تھے ۔ انھوں نے کم و بیش تیس سال مدر سۃ الاصلاح میں صدارت کے فرائض انجام دئے ، اس درمیان انھوں نے کیا خدمات انجام دیں ؟ مدرسہ کو کہاں سے کہاں پہنچایا ؟ کیا تبدیلیاں کیں ؟ کس حد تک بانیان مدرسہ کے خواب کو شر مندہ تعبیر کیا یہ بہر حال ایک تحقیق کا موضوع ہے ۔ آج مولانا کے انتقال کے بعد ان کے اوپر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک واقعہ ذہن میں گھوم گیا ، اور اس کا پورا پس منظر کسی فلم کی طرح ذہن کے اسکرین پر چلنے لگا ۔ ہم غالبا عربی چہارم میں تھے مولانا ایوب اصلاحی صاحب قران پڑھا رہے تھے ، بغل والے کلا س میں مولانا احتشام صاحب عربی نحو و ادب پڑھا رہے تھے ۔ ایک اور سیکشن میں مولانا فیض احمد اصلاحی عربی انشاء پڑھا رہے تھے ۔ اچانک طلباء کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ۔روئی کے گالوں کی دھنائی کے وقت جو آواز آتی ہے ، ہم سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں ، شٹاک شٹاک کی آواز تیز ہوتی جاتی ہے ،ہم سب طلباء سہم جاتے ہیں ۔ مولانا ایوب صاحب پوچھتے ہیں یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ۔ دیکھو کیا ہو رہا ہے؟ ۔ایک طالب علم خوف زدہ انداز میں بتاتا ہے ، مولانا فیض صاحب طلباء کی پٹائی کر رہے ہیں ۔مولانا ایوب صاحب قران پڑھانا چھوڑ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، اور تیزی سے تقریبا دوڑتے ہوئے دوسری کلاس کی طرف بڑھتے ہیں ، مولانا کے ساتھ ہم سب یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ مولانا فیض اصلاحی صاحب کی چھڑی فضا میں معلق ہے ، ان کا چہرہ شر مندگی ، غصہ اور پسینے سے شرابور ہے ۔ ایک طالب علم کے ہاتھ کے اوپر مولانا احتشام الدین اصلاحی ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں، مارنا ہی ہے تو مجھے مار لو! مگر اللہ کے واسطے ان بچوں کو چھوڑ دو ۔اس واقعہ کے بعد مولانا فیض احمد اصلاحی نے طلباء کو پٹائی کرنا چھوڑ دیا ۔چھڑیوں کی اس اندھا دھُند فائرنگ میں خود استاد محترم فیض احمد اصلاحی کے صاحبزا دے بھی شدید زخمی ہوئے تھے ۔یہاں پر یہ بتاتا چلوں کے مولانا کو اس قدر شدید غصہ کیوں آ گیا تھا اعراب میں طلباء نے غلطی کر دی تھی ۔

۔۔۔مزید

فرقہ بندی کی تباہ کاریاں

 فرقہ بندی کی تباہ کاریاں
عادل اعظمی
  نئی دہلی
اسلام میں فرقوں کی ابتدا تو خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہی شروع ہو چکی تھی اور وہ فرقہ تھا خوارج کا جنہوں نے گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر ہونے کا سرٹیفیکٹ دینا شروع کر دیا تھا اور جہنم کے دربان بن کر دھڑادھڑ اسمیں لوگوں کو گرانے لگے ۔ اس کی بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں شیعوں کا ظہور ہوا جو فلسفہ اور عقیدہ سے الگ ہٹ کر ایک اور ہی مسئلے پر اٹک گئے اور افضلیتِ علی کو لیکر فضیلتِ اسلام کو ہی مسخ کر دیا ۔ پھر عہد اموي میں کرامیہ، جہمیہ،قدریہ، روافض وغیرہ نامی فرقے رومی و ایرانی فلسفہ سے متاثر ہوکر اپنی غیر متوازن افکار لیکر نمودار ہوئے ۔ ان میں کوئی کہتا کہ ایمان ہی سب کچھ ہے اعمال تو محض دکھایا ہیں لہٰذا نماز روزہ وغیرہ غیر ضروری ہیں تو کوئی ایک قدم اور آگے بڑھ کر گناہ وغیرہ کو غیر مضر قرار دیتا ہے پھر کسی نے تقدیر کو سب کچھ بتا کر خدا کی صفات پر سوال کھڑا کر دیا اور کہا کی تقدیر میں جب سب متعین ہے تو گناہ کا کوئی نقصان نہیں اور کسی نے زور بیانی میں خدا کے علم غیب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ حوادث کی جانکاری تو خدا کو ہے مگر وہ اسمیں دخیل نہیں ہے ۔ پھر آیا عھد عباسی کا دور جسمیں مسلمانوں کی رسائی یونانی فلسفے سے ہوئی تو نیا فرقہ معتزلہ وجود میں آیا جس نے فلسفہ کو بنیاد بنا کر اسلامی عقائد پر شکوک و شبہات ظاہر کیے اور خلق قرآن کی بیکار بحثوں میں امت کو الجھا کر بے پناہ صلاحیتوں کا ضیاع کیا ۔ وقت گرنے کے ساتھ ساتھ سارے فرقے دم توڑ گئے مگر مصر میں فاطمی حکومت کے قیام اور شیعیت کے پولیٹائیزیشن نے شیعوں کو باقی رکھا ۔ برصغیر ہند میں جب حکومت کا ڈنڈا سر سے ہٹا تو خالص ہندو معاشرتی مزاج کے حامل مسلمانوں نے ایک الگ ہی اسلام کی ترجمانی شروع کردی اور اس قبیل کے لوگ دنیا میں جہاں بھی گئے وہاں بریلوی ،اہلحدیث،دیوبندی، شیعہ سنی فرقوں کی داغ بیل ڈالی اور اسے خوب چارہ پانی دیا ۔ طبیعت کا تکدر پھر بھی کم نہیں ہوا تو أئمہ اربع کو فرقے کی شکل دیدی اور حنفی شافعی مالکی حنبلی نامی فرقے وجود پکڑنے لگے بھلے ہی یہ توفیق عہد عباسی کے لوگوں کو نہ ہوئی جنکے دور میں یہ امام پیدا ہوئے اور انکی فقہ مدون ہوئی مگر ہم برصغیر کے جاہلوں نے فقہ کی بنیاد پر فرقہ بنا کر ہی دم لیا ۔ اب تو عالم یہ ہے کہ کافر قرار دینے کا سرٹیفیکٹ ساتھ لیکر گھومتے ہیں جب طبیعت مین زرا اضمحلال طاری ہوا جھٹ سے کسی کو کافر ہونے کی سند عطا کردی بھلے ہی اسنے کفر میں نہ تو ڈپلوما کیا ہو اور نہ ہی گریجویشن ۔ اگر کوئی دیوانہ اپنے مؤمن ہونے ہونے کی سند مانگ بیٹھے تو اللہ کو دلوں کا حال جاننے والا بتا کر دامن جھاڑ لیتے ہیں مگر انکی بابصیرت آنکھیں دلوں کے کفر پتہ نہیں کیسے دیکھ لیتی ہیں ۔

۔۔۔مزید

عقلی جمود

قاہرہ کے سب سے پرانے شاپنگ سینٹر ماوسکی اسٹریٹ کی بھیڑ باڑ سے نکل کر ہم اپنے چھوٹے سے احاطہ میں پہنچے۔ اس کی ایک طرف الازہر مسجد کا چوڑا سیدھا ماتھا تھا ۔ ایک دوہرے گیٹ اور سایہ زدہ پیش دالان سے گذر کر ہم مسجد کے صحن میں آئے ۔ قدیم محرابی راہداریوں میں گھرا ہوا چو کور احاطہ ۔لمبے گہرے رنگ کے جبوں اور سفید پگڑیوں میں ملبوس طلبا تنکوں سے بٹی چٹائیوں پر بیٹھے دھیمی آواز میں کتب اور مسودات پڑھ رہے تھے ۔ لیکچر پرے واقع مسجد کے مسجد کے کھلے اور وسیع و عریض ڈھکے ہوئے ہال میں دئے جاتے تھے ۔ متعدد اساتذہ بھی ستونوں کی ایک قطاروں کے درمیان بچھی چٹائیوں پر بیٹھتے اور ہر استاد کے سامنے طلبا کی ٹولیاں نیم دائرے بنا کر بیٹھی ہوتیں ۔ لیکچر دینے والا کبھی اپنی آواز بلند نہ کرتا ، لہذا اس کا ہر لفظ سننے کے لئے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت تھی ۔ آپ سوچتے کہ اس قسم کا انہماک حقیقی تبحر علمی کی طرف لیجاتا ہوگا لیکن شیخ المراغی نے جلد ہی میرے تمام وہم منتشر کر دئے ۔
اس نے مجھ سے پوچھا ۔: آپ ان طلبا کو دیکھ رہے ہیں ؟یہ ہندوستان کی مقدس گایوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گلیوں میں ملنے والا ہر طباعت شدہ کاغذ کھا جاتی ہیں ۔ جی ہاں وہ صدیوں قبل لکھے ہوئے کتب کے تمام چھپے ہوئے صفحات ہڑپ کر جاتے ہیں ، مگر انھیں ہضم نہیں کر پاتے ۔ یہ خود غور و فکر نہیں کرتے ، وہ پڑھتے اور دہرائی کرتے ہیں ، نسل در نسل ۔
میں نے بات کاٹی : لیکن شیخ مصطفی ، الازہر تو اسلامی علوم کا مرکز ہے اور دنیا کی قدیم ترین یو نیورسٹی ہے ۔ آپ اس کا نام مسلم ثقافتی تاریخ کے تقریبا ہر صفحہ پر دیکھتے ہیں ۔ گزشتہ دس صدیوں کے دوران یہاں پیدا ہونے والے عظیم مفکروں ، ماہرین الٰہیات ، مورخین ، فلسفیوں اور ریاضی دانوں کا کیا ہوا ؟۔
انھوں نے تاسف بھرے انداز میں جواب دیا ۔: اس نے کئی سو سال قبل انھیں پیدا کرنا بند کر دیا ۔ مانا کہ حالیہ ادوار میں کبھی کبھی الازہر سے کوئی آزاد مفکر ابھر کر سامنے آ گیا ۔ لیکن بحیثیت مجموعی الازہر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے ۔ جس کا نقصان ساری مسلم دنیا کو ہو رہا ہے اور اس کی تحریک انگیز قوت بجھ چکی ہے ۔ان قدیم مسلم مفکرین ، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کئی سو سال بعد ان کے خیالات کو سمجھنے اور ترقی دئے جانے کے بجائے محض رٹا لگایا جائے گا ۔ کہ جیسے وہ مطلق اور ناقابل تر دید سچائیاں ہوں ۔ اگر کوئی بہتری لانی ہے تو موجودہ نقالی کے بجائے غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنا لازمی ہے۔۔۔ ۔
الازہر کے کر دار کے بارے میں شیخ المراغی کی صاف گوئی نے مجھے مسلم دنیا کو درپیش ثقافتی انحطاط کی عمیق ترین وجوہ میں سے ایک کو جاننے میں مدد دی ، کیا اس قدیم یو نیورسٹی کی متکلمانہ سڑاند مسلم حال کے سماجی بانجھ پن میں منعکس نہیں ہو تی تھی ، کیا اس عقلی جمود کا ہم مقام بہت سے مسلمانوں کی جانب سے غیر ضروری غربت کی مجہول تقریبا لاپر وا قبولیت ، متعدد ماجی خرابیوں کو چُپ چاپ سہنے میں نہیں ملے گا ۔
میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا مسلم زوال کے انھیں  محسوس شواہد کی وجہ سے سارے مغرب میں خود اسلام کے متعلق تصور سرایت کر گئے تھے ۔۔۔۔
The Road to Makka ..189-190
written By : Muhammad Asad

۔۔۔مزید

ادیب کی ذمہ داری

میں جانتا ہوں کہ جسم کے خاص حصے لوگوں کو کھول کر نہیں دکھائے جاتے ، لیکن یہ نہیں جانتا کہ زخمی حصے بھی نہیں دکھائے جاتے ۔ سماج میں اگر کوئی ایسا ڈاکٹر ہے جس کا کام زخموں کا علاج کرنا ہے تو کیا ہو کسی کی سنتا ہے ؟ جو پک گیا ہے اسے باندھے رکھنا دوسروں کی نظروں کو اچھا لگ سکتا ہے ، لیکن جس آدمی کے جسم میں گھاو ہے اسے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ فن کی تخلیق کے علاوہ ناول نگار کے ذمہ ایک اور اہم کام بھی ہے وہ کام اگر زخم دیکھنا ہے تو وہ اسے انجام دینا ہی ہوگا ۔

آوارہ مسیحا ۔وشنو پر بھاکر ۔ص 201


۔۔۔مزید

گاوں کے بارے میں


گاوں کے بارے میں گاوں کے لوگوں کو ہی لکھنا چاہئے ۔ شہر کے باشندے محض اپنے تخیل کی مدد سے گاوں کے بارے میں جو کچھ لکھیں گے ، یہ اس سے کہیں زیادہ حقیقت آمیز ہوگا ۔ دیہات میں پھیلی جہالت کا مقابلہ تعلیم کے پھیلاو سے ہی ہو سکتا ہے ۔جو لوگ یہ کام کرنا چاہتے ہیں انھیں دیہات سے دور دیگر ملکوں میں جا کر انسان بننا ہوگا ، لیکن کام کرنا ہوگا دیہات میں بیٹھ کر ہی ۔ اور دیہات کے اچھے برے لوگوں سے اچھی طرح رسم و راہ پیدا کر کے ۔ 

آوارہ مسیحا ۔ وشنو پر بھاکر ۔ ص 226

۔۔۔مزید

اتوار، 3 اپریل، 2016

ڈائری کے چند اوراق


محمد علم اللہ
18/ فروری /2016
کافی دنوں سے قلم سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے ، یا دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لکھنے کا سلسلہ کچھ کم سا ہو گیا ہے ۔ کئی احباب نے اس پر خفگی کا اظہار کیا ۔ متعدد بزرگوں نے سرزنش کی ۔میرے استاذ محترم ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب (اللہ انھیں صحت و عافیت سے نوازے )باضابطہ مجھے ڈانٹ پلائی اور کئی مرتبہ فون کر کے میری اس تساہلی سے بیدار ہونے کی ترغیب دی ، اسی طرح بزرگوار محترم منصور آغا صاحب نے بھی کئی مرتبہ مجھے قلم نہ چھوڑنے کی تلقین کی بلکہ اس درمیان جو کچھ بھی میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی پھوٹی تحریریں فیس بُک پر ڈالی اسے خوبصورتی انداز میں سجا کر اپنے بلاگ میں جگہ دیا ، ڈائری لکھنے کی جانب توجہ دلائی۔ ان کے علاوہ فون ، میل اور واٹس اپ کے ذریعہ مجھ سے رابطہ کرنے ، خیریت دریافت کرنے اورنہ لکھنے کی کی وجوہات جاننے والوں کی تعدا د اتنی رہی کہ سب کے تذکرے کے لئے ایک مکمل فہرست درکار ہوگی ۔میں سبھی کا شکر گذار ہوں ۔ کئی لوگوں نے مجھے ان خوابوں کے بارے میں یاد دلایا جو میں اکثر دیکھا کرتا تھا ۔ میں ان محبتوں کا قرض ادا نہیں کر سکتا ۔بس خداوند سے سب کے لئے دعا گو ہوں ۔ اللہ سب کو صحت و عافیت سے رکھے۔
7/ مارچ /2016
حیدر آباد آئے ہوئے آج چھہ ماہ گذر گئے ۔ اس درمیان آفس کے کام کے علاوہ کوئی علمی و ادبی کام نہیں ہو سکا جس کا مجھے قلق ہے۔ ہاں !کچھ کتابیں مطالعہ میں ضرور رہیں لیکن اس کی رفتار وہ نہیں رہی جو اعظم گڈھ یا دہلی میں رہا کرتی تھی ۔ ایک زمانہ تھا جب احباب مجھے کتابی کیڑا کہا کرتے تھے ۔ اور اب ادھر کچھ ماہ سے کتاب بیزاری کا عالم یہ ہے کہ کتا ب ہاتھ میں اٹھاتا ہوں تو غنودگی طاری ہو نے لگتی ہے ۔ اب اخبارات سے بھی دل اچاٹ ہو گیا ہے ، ابھی چند ماہ قبل تک اخبار کے سارے در و بست چاٹ جایا کرتا تھا اب کئی کئی دنوں تک بنڈل بھی نہیں کھلتا ۔ آج اکٹھے کئی دنوں کے اخبار ایک ساتھ کھولا ، کچھ مضامین چھانٹ کر الگ کئے اور کچھ سرہانے رکھ لیا ہے جب موقع ملے گا پڑھوں گا ۔ حیدر آباد آنے کے بعد کئی محبین نے کتابیں بھجوائی ہیں ، اور کئی عمدہ کتابیں ہیں ۔ میں نے خود بھی اپنے ذوق کی تسکین کے لئے امیزون اور فلپ کارڈ سے کئی کتابیں خریدیں لیکن اسے پڑھنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی ہے ۔دیکھتا ہوں کب تک بکرے کی ماں خیر منائے گی ، ایک دن تو اونٹ کو پہاڑ کے نیچے آنا ہوگا ، پھر ہم ہونگے اور ہماری یہ کتابیں ۔
28/ مارچ /2016
کچھ دن قبل فیس بُک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کیا تھا جس میں نئے لیپ ٹاپ خریدنے کی احباب کو اطلاع دی تھی ۔ سوچا تھا لیپ ٹاپ آتے ہی کچھ عملی کام کروں گا ۔ مگر کہنا مشکل ہے کہ وہ عملی کام کب شروع ہوگا ۔ روزانہ پلان بناتا ہوں مگر ائے بسا آرزو کہ خاک شدہ والی بات ہے ۔ آج کل نیند ہی اتنی آتی ہے کہ مت پوچھئے ، دفتر کا وقت بھی کچھ ایسا ہے کہ وقت کو ترتیب دینا یا ڈھب پر لانا ممکن نہیں ہو پا رہا ۔ جب آپ دو پہر دو بجے آفس کے لئے نکلیں اور دیر گئے رات کبھی ساڑھے بارہ تو کبھی ایک بجے رات کمرہ پہنچیں تو خاک کچھ مزید کام کرنے کو جی چاہے گا ۔کبھی کبھی سوچتا ہوں یہ زندگی بھی عجیب ہے جسے چاہو وہ ملتی نہیں اور جو ملتی ہے وہ چاہت جیسی ہوتی نہیں ۔آفس کے کام سے دماغ اس قدر تھک چکا ہوتا ہے کہ کچھ اور کام کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ، یہاں روزانہ مرتا ہوں اور روزانہ جیتا ہوں ، یہ بات اعجاز عبید چاچو کو لکھ دیا تو انھوں نے کافی تفصیلی خط لکھا ہے جو میرے لئے ہمت افزا ہے ۔ موقع ملا تو کبھی آپ سے شیر کروں گا ۔
1 / اپریل /2016
یہ تیسرے جمعے کی نماز تھی جو مجھ سے چھوٹ گئی ۔ بہت شرمندگی ہوئی بس اللہ! معاف کرے ،اپنی دانستہ زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ آج دن بھر سورہ جمعہ کی آیتیں ذہن میں گر دش کرتی رہیں ۔}ائے ایمان والو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے آذان دی جائے تو خدا کی یاد (نماز ) کے لئے دوڑ پڑو ، اور خرید و فروخت بند کر دو ، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ پھر جب نماز ہو چکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو ۔اور خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو تاکہ نجات پاو {اپنی ہٹ دھرمی پر خود ہی چہرے پر دو تین تھپڑیں رسید کیں ۔ قرار نہ ملا ۔ تو روم آکر نماز پڑھا اور اب یہ سطریں لکھ رہا ہوں ۔ شاید یہی بہانے اپنا احساس جاگے ۔ حیدر آباد میں جہاں ہ قیام ہے وہاں سے مسلم آبادی کافی دور ہے اسی وجہ سے نماز اکثر کمرے میں پڑھنی پڑتی ہے ۔ امی سے کئی دن جھوٹ بولا کہ نماز پڑھتا ہوں ، جماعت سے ، امی ! فون پر اکثر تاکید کرتی رہتی ہیں کہ نماز پڑھ کے آفس جایا کرو ۔ اگر انھیں پتہ چل گیا کہ میں تو وہ کافر ہوں جو جمعہ بھی چھوڑ دیتا ہوں تو کتنی دکھی ہوں گی ۔
5/اپریل 2016
روم میں اکیلے اب میں بور نہیں ہوتا ، کچھ دنوں سے پڑوسی کے دو بچے مجھ سے مانوس ہو گئے ہیں ۔ ایک دن میں نے بچوں کی امی سے کہہ دیا ، بچوں کو تھوڑی دیر کے لئے میرے پاس پڑھنے کے لئے بھیج دیا کیجئے ، میں پڑھا دیا کروں گا ۔ کارتک اور سائی پرکاش یہ دو خوبصورت بچے بھی بہت ہوشیار ہیں ۔ کارتک پانچویں جبکہ سائی پرکاش نویں میں پڑھتا ہے ۔ صبح تڑکے پڑھنے کے لئے آجاتے ہیں ، کبھی کبھی مجھے ان کے اوپر غصہ بھی آتا ہے کہ ان دونوں کی وجہ سے میری نیند چوپٹ ہو جاتی ہے لیکن مکھی مار کر اس لئے اٹھ جاتا ہوں کہ بڑے بوڑھے کہتے ہیں صبح جلد اٹھنا چاہئے ۔اس سے صحت بحال رہتی ہے ۔ ان بچوں کے بہانے میں کچھ اپنی بھی پڑھا ئی کر لیتا ہوں ۔سائی پرکاش سے میں خود بھی تیلگو سیکھ رہا ہوں ۔ علامہ شبلی نے کہیں کہا تھا مسلم علما کو ایک یورپی زبان ضرور سیکھنی چاہئے ، یہ نہ سہی ہندوستانی ہی ٹرائی کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

۔۔۔مزید

بدھ، 2 مارچ، 2016

مسلم مجلس مشاورت -ایک مختصر تاریخ

     
مصنف     :محمد علم اللہ

ناشر          :فاروس میڈیا اینڈ پبلیشنگ،ڈی ۸۴-ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،نیو دہلی،۱۱۰۰۲۵،

 اشاعت: ۲۰۱۵ء، صفحات:۱۹۶، قیمت:۲۰۰

 مبصر : اسامہ شعیب علیگ
ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلم مفکرین اور رہ نماؤں نے مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہود اور ملک میں ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے مختلف سطحوں پر جد و جہد کی اور تعلیمی ،اصلاحی اوررفاہی میدانوں میں اہم خدمات انجام دیں۔مسلم تنظیموں کی اجتماعی جدوجہد اور مشترکہ نمائندگی سے امتِ مسلمہ اور مسلمانانِ ہند کے بہت سے مسائل حل ہوئے۔اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاور ت نے اہم کردار ادا کیا۔ مجلس مشاورت پرعروج وزوال کے ا دوار آئے،اس کی تقسیم ہوئی،پھر دونوں دھڑوں کا انضمام ہوا۔ضرورت تھی کہ مجلس مشاورت کی تاریخ مرتب کی جائے ،تاکہ نئی  نسل اس کی تاریخ سے واقف ہو،اس کے مقاصد،فوائد اور اثرات کا اسے بہ خوبی علم ہواوراپنے اسلاف کے کارناموں کی روشنی میں وہ اپنے لیے مستقبل کے منصوبے بنا سکے۔زیر نظر کتاب کی صورت میںیہ کام نوجوان مصنف محمدعلم اللہ نے بخوبی انجام دیا ہے۔انھوں نے مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے ان ماس کمیونیکیشن اور ڈپلوما ان جرنلزم کیا ہے اور اس وقت  صحا فت سے جڑے ہوئے ہیں۔اب تک ان کے دو سو(۲۰۰) سے زائد مضامین مختلف اخباروں میں شائع ہو چکے ہیں۔

یہ کتاب نو (۹)ابوب پر مشتمل ہے ، جو یہ ہیں:مسلمانانِ ہند:آزادی کے بعد،مسلم مجلس مشاو ر ت کا قیام،آزمائشوں کا آغاز،مشاورت کا دورِ اضطراب،مشاورت کا صبر آزما دور،مشاورت میں بدمزگی اور تقسیم،سابقہ وقار کو واپس لانے کا جتن اور توقعات کی عدمِ تکمیل ۔ آخر میں کتابیات بھی ہے، جس کی مدد سے مجلس مشاورت کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔کتاب کا سرورق خوب صورت اور کاغذ عمدہ ہے۔اس کے باوجود قیمت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

امید ہے کہ یہ کتاب آزادی کے بعد مسلمانوں کی تاریخی وسیاسی صورتِ حال سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔                                             
 بشکریہ : زندگی نو 
لنک : http://www.zindgienau.com/Issues/2016/january2016/unicode_article9.asp  

۔۔۔مزید

اتوار، 29 نومبر، 2015

مودی جی کو جامعہ ضرور دکھانا چاہئے!

محمد علم اللہ، حیدرآباد
میرا ایک ہندو دوست ہے، انتہائی عزیز، جب وہ 2010 میں جامعہ آیا تو ہم سارے ہی احباب اسکی جن سنگھی اور بھگوا سوچ سے کافی پریشان ہوئے ۔ ہماری اس سے بشمول بھگوا بریگیڈافکار و نظریات کے کافی بحثیں ہوتیں، بسااوقات یہ بحثیں۔۔ تو تو۔ میں میں ۔۔اور تکرار تک پہنچ جاتیں ، وقت گذرتا رہا پھر 23/فروری 2011 کو جامعہ کا اقلیتی کردار بحال ہوا، تواس وقت ہماری بحث کچھ زیادہ ہی بھیانک صورتحال اختیار کر گئی ۔ایک دن ہماری زبردست بحث اس بات پر ہوئی کہ جامعہ کو اقلیتی کردار ملنا چاہئے یا نہیں ؟ میرے دوست کی رائے تھی کہ بالکل نہیں ملنی چاہئے ، ہماری رائے الگ تھی اور ہمارے پاس اپنے دلائل تھے ، اس دن اس موضوع پر گفتگو کچھ ایسی ہوئی کہ ہم دونوں پھٹ پڑے اور اس دن ہمارے راستے الگ الگ ہو گئے ۔
ابھی زیادہ دن نہیں گذرے تھے کہ میرا وہ فاضل دوست میرے پاس آیا اور کہنے لگا بھائی تم درست کہتے تھے ، میں غلط تھا، مجھے معاف کرنا اور پھر ہم دونوں کی دوستی ہو گئی اور یہ دوستی ایسی ہوئی کہ آج بھی جب تک ہم دونوں ایک مرتبہ دوری کے باوجود فون پر ہی سہی گفتگو نہیں کر لیتے ہمارا دن نہیں کٹتا ۔
ایک دن میرے دوست نے مجھے بتایا "جامعہ آنے سے قبل میں نے جامعہ کے علاوہ جے این یو ، بی ایچ یو ، ڈی یو کے بھی فارم پُر کئے تھے اور اتفاق سے جامعہ کے ساتھ ڈی یو اور بی ایچ یو میں بھی میرا نام آ گیا تھا ، میرے دادا اور گھر والوں کا شدید اصرار تھا کہ میں بی ایچ یو میں داخلہ لوں ، لیکن میری خواہش تھی کہ میں جامعہ میں ایڈمیشن لوں ،اس لئے کہ ماڈرن ہسٹری میں جامعہ کا ایک مقام ہے ،لیکن گھر والے مان نہیں رہے تھے ، دادا کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو رہے تھے ، آخر میں نے دادا سے وجہ دریافت کی کہ کیوں جامعہ میں داخلہ نہ لوں؟ تو انھوں نے کہا کہ جامعہ مسلمانوں کا ادارہ ہے اوروہاں سا رے کٹر پنتھی پڑھتے ہیں ، انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جامعہ میں دہشت گرد پڑھتے ہیں ، میرے پورے گھر میں لوگوں کی یہی رائے تھی ، سب ڈرے ہوئے تھے اور سبھی کا کہنا تھا کہ جامعہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے ، لیکن میں بضد ہو کر جامعہ میں داخلہ لیا جس کے لئے مجھے لڑائی بھی لڑنی پڑی ۔آج میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پورے ہندوستان میں سہی معنوں میں اگر کہیں سیکولرزم کا نمونہ دیکھنا ہے تو جامعہ میں دیکھنا چاہئے ۔ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں جامعہ کا طالب علم ہوں ، میں جامعہ کا احسان مند ہوں کہ اس نے مجھے علم و ادب کا وہ پاٹھ پڑھایا جو شاید میں دوسری جگہ نہیں پا سکتا تھا "۔
اس نے مجھ سے جامعہ آنے سے قبل کی اپنے ، اور اپنے گھر والوں کی اور بھی بہت ساری غلط فہمیوں کے بارے میں بتایا، جس پر اکثر وہ نادم بھی ہوتا رہتا ہے ۔ وہ ساری چیزیں میں یہاں نہیں لکھنا چاہتا۔ بس اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر پرو فیسر طلعت نے نریندر مودی جی کو جامعہ آنے کی دعوت دے ہی دی ہے، تو اسے آنے دینا چاہئے تاکہ وہ بھی دیکھے کہ جامعہ میں کیا کچھ ہے ، اور قوم و وطن کے لئے جامعہ کیا قربانی پیش کر چکا ہے اور کر رہا ہے ۔ مودی جی نے جامعہ کے تعلق سے 2014 الیکشن کمپین کے دوران خطاب میں جامعہ کی بابت جو کچھ کہا تھا ، میں ان کی باتیں یہاں نقل کرکے اپنے قارئین کا وقت کا ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ وہ خطاب یو ٹیوب میں موجود ہے احباب اسے دیکھ سکتے ہیں، وہ خطاب کوئی معمولی خطاب نہیں بلکہ جامعہ اور جامعہ برادری کے خلاف خطرناک زہر ہے ، جسے سُن کر سینہ چھلنی اور دل اداس ہو اٹھتا ہے کہ ہماری مادر علمی کی بابت کوئی ایسی رائے رکھتا ہے ۔ اس سوچ کی عکاسی بی جے پی اور ایسی سوچ رکھنے والے لوگ اقلیتوں اور خصوصا مسلمانوں کے خلاف اکثر کرتے رہتے ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں اس میں غلطی ہماری بھی ہے کہ ہم حقیقت حال سے انھیں واقف کرانے کے لئے کوشش نہیں کرتے ۔ میں اپنے دوست کی ایک اور بات نقل کرتے ہوئے اپنی بات سمیٹنے کی کوشش کروں گا ۔ اس نے مجھ سے کہا تھا "ہندووں کی ایک بری تعداد مسلمانوں کے رہن سہن ، مذہب اور فکر سے لاعلم ہے ، اس لئے نادانی اور کچھ لوگوں کی زہر افشانی کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو غلط سمجھتے ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، بلکہ یہ صرف اور صرف مس انڈر اسٹندنگ اور دونوں قوموں کے درمیان بُعد کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا ایک دوسرے کا ساتھ لیکر آگے بڑھنا ہوگا ، جب ہم ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھیں گے تو تفرقہ میں بھی یقینا کمی آ ئے گی "۔
مجھے لگتا ہے اگر مودی جی جامعہ کو قریب سے دیکھیں گے تو ان کی سوچ میں بھی میرے دوست کی طرح ہی تبدیلی ضرور آئے گی اور وہ یقینا اس بات پر قوم سے معافی مانگیں گے ، جو انھوں جامعہ کے تعلق سے کہی ۔ اس لئے مودی جی کو جامعہ ضرور دکھانا چاہئے کہ۔
یہ اہل شوق کی بستی یہ سر پھروں کا دیار
یہاں کی صبح نرالی، یہاں کی شام نئی
یہاں کی رسم و رہ مے کشی جدا سب سے
یہاں کے جام نئے، طرح رقص جام نئی
یہاں پہ تشنہ لبی مے کشی کا حاصل ہے
یہ بزم دل ہے یہاں کی صلائے عام نئی
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

اتوار، 25 اکتوبر، 2015

رخصت ائے دلی تری محفل سے اب جاتا ہوں میں‎...

محمد علم اللہ
انسانی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا مرحلہ ضرور آجاتا ہے،جب دوراہے پہ کھڑا انسان خود اپنے ہی تعلق سے کوئی فیصلہ کرتے ہوئے کشمکش میں گرفتا ر ہوجاتا ہے کہ کس راستہ کاانتخاب کرے اور کس کو چھوڑ دے ؟کتابوں، کہانیوں اور فلموں میں متعدد مرتبہ لوگوں کونقل مکانی یا ہجرت کے کرب سے گزرتے اور دوستوں و رشتہ داروں سے دوری کی کسک جھیلتے، اس غم میں گھلتے، ٹوٹتے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ خود مجھے ذاتی طور پر اِس کرب کاپہلی باراحساس تب ہوا جب ہاسٹل میں ڈالاگیا۔ترک وطن یا مہاجرت کا یہ سفر جو محض نو سال کی عمرمیں شروع ہوا وہ سمت سفرکی عوامل اور منزل کی تلاش کے مراحل سے وقتا فوقتا گذرتا رہا اور مہاجرت کا یہ تسلسل اور بنجارہ پن مجھے آبائی وطن سےدور کرہی گیااوریوں نگر نگرکی خاک چھاننے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو شہر رانچی کے ایک چھوٹے سے گاوں اٹکی سے بھٹکل اور اعظم گڑھ ہوتا ہوا مہانگرکی سمت مڑگیا۔جس میں نظاموں کے شہرحیدرآباد،اس کے بعد ’’بے وطن‘‘ لوگوں کے مسکن دہلی کو اپنا مستقر بنانے کے بعدایک بارپھر حیدرآبادکی جانب عازم سفر ہونا در حقیقت اُسی ’’خانہ بدوشی‘‘کے سلسلوں کی ایک کڑی ہے،جسے عرف عام میں ہجرت یا شہر بدری سے بھی موسوم کیاجاسکتاہے،اب اس کا آخری پڑاؤ کب اور کہاں ہوگا تقدیر کا مالک ہی بہتر جانتا ہے ۔
یہ بھی محض اتفاق ہے کہ بچپن سے ہی امیر خسرو ، بہادر شاہ ظفر ، میر امن دہلوی ، مومن خاں مومن اورمیر و غالب کے قصے،کہانیاں،ان کی نظمیں ، غزلیں اور ان سے متعلق کتابوں میں دہلی کی تہذیب ، علم و فن اور تاریخی واقعات کو پڑھنے کی دھن سوار رہی اور جب کبھی’دلی دربار‘کی باتیں نظروں کے سامنے آتیں تو جی چاہتا کہ ’’ہنوز دِلّی دور است‘‘ محاورہ کو پھلانگ کراس شہر میں پہنچ کر دیکھیں کہ یہ ہزار رنگ داستانوں کا شہر کیسا ہے؟ مرکز ہند کہی جانے والی اس سر زمین کے باسی کیسے ہیں ؟ ، عالم میں انتخاب اس شہر میں کیسی جلوہ سامانیاں ہیں ؟ اور پھر جب اِس آنگن میں بسیرا ہی ہو گیا تو گویا عشق کو اپنے اظہار کی راہ مِل گئی۔ شب و روز علم و فن کی تلاش میں سرگرداں دہلی کے سحر میں گم ہوتا چلا گیا۔تاریخ اور علم و ادب کے اس شہر میں پڑھی ہوئی چیزوں کو تلاش کرتے کرتے، نئی دلی سے پرانی دلی ،کبھی قطب مینار، ہمایوں اور نظام الدین اولیاء کا مقبرہ اور پرانے قلعہ کے کسی منظر میں کھو جاتا تو کبھی کافی ہاؤس ،انڈیا گیٹ ، ماڈرن آرٹ گیلری اور ریگل کے قصوں کے کرداروہاں کے چلتے پھرتے لوگوں میں ڈھونڈتا۔
اب جب کہ دہلی کو چھوڑ چلااورحیدرآبادکو مستقربنا نے کا سوچا تو دہلی کے شب و روزکی یادوں کا ایک ہجوم پریشان کئے ہوئے ہے۔اور باوجود اسکے کہ دکن میں بڑی قدر سخن ہے دہلی میں بیتا ہواایک ایک پل یاد آ رہا ہے۔ حیدرآباد سے بھاگ کر جب پہلی مرتبہ دہلی میں قدم رکھا ، پرانی دلی ریلوے اسٹیشن سے اترکر اوکھلا کیلئے بلیو لائن بس پکڑی اورجب یہ بس جامعہ نگر کیلئے چلنی شروع ہوئی تو لال قلعہ، جامع مسجد ،کناٹ پلیس مارکیٹ کی اونچی اونچی عمارتوں کے سامنے سے ہوتی ہوئی گزرنے لگی اور مبہوت کردینے والی رنگا رنگی جو اخبارات و رسائل میں دیکھی یاپڑھی تھی ،اپنے سامنے جوں کا توں دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت سے دوچار ہوئے بغیر نہ رہ سکا تھا ۔
دہلی عجیب شہر ہے۔جہاں آپ کسی نہ کسی روپ میں حیرت سے ملے بنا نہیں رہ سکتے۔ کبھی حکمرانوں کی حکمرانی کا اندازحیران کْن تو کبھی پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کی زبوں حالی دیکھ کر حیرانی۔لاچار ، مجبور ، بے بس اور بے سہارا لوگوں کی مجبوری دیکھ کر حیرانی۔ دہلی کی یہی خصوصیت ہے جو ہر طرح اور ہررنگ کے حامل لوگوں کو اپنے یہاں جگہ دے دیتی اور اس کے لئے اپنی بانہیں اس قدر پھیلا دیتی ہے کہ انسان ہر تلخ و شیریں سہہ کر بھی اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔
دیہاتی زندگی کی بے ریا سادگی سے مزین اور مذہبی ماحول میں پرورش پانے والے ایک بھولے پنچھی کے لیے دہلی کی دھنک رنگ فضا بڑے اچنبھے کی بات تھی۔ ایک خوف دامن گیر تھا کہ نوواردیہاں کی وسعتوں میں کہیں کھو تو نہیں جائے گا؟ یہ آزادی ہے یا انسانوں کے سمندر میں اپنے قطرۂ ہستی کا بے نشاں ہونا ؟ کبھی سوچتا کہ سماج اور معاشرے کو بدلنے کا جو خواب دیکھتا رہا اْس کی تعبیر آسان ہے ؟ یا حالات کے مْنہ زور تھپیڑوں میں اپنی ذات کا خس وخاشاک کی طرح بہہ جانا حقیقت کے زیادہ قریب؟ مجھے اعتراف ہے کہ دِلّی کی فضاؤں میں اپنے بقا کی اُڑانیں بھرتے ہوئے پر کتر لئے جانے کا خوف ہمیشہ دامن گیر رہا لیکن دِلّی کی محبت اِس کی گلیوں اور بازاروں میں رچے بے نام سے تحیر آمیز خوف پر غالب ہی رہی۔
دہلی آنے کے بعد حقیقت اور فریب سے بے نیاز نوجوان کو ایسے ہی لگا تھا کہ اب وہ آزادہے اور اپنی منزل کی تلاش کا اپنا مالک اور مسافر لیکن منزل کبھی کسی کو ملتی ہی کہاں ہے ؟ انسان کی خواہشات لامحدود اور اس کو حاصل کر پانا اس سے زیادہ محدود اور مشکل۔انسان مسرت، خواہش اورچاہ کی تلاش میں سرگرداں پھرتے پھرتے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اورخواہشیں اپنی جگہ برقرار ہی رہتی ہیں،یہ خواہشیں اور ضرورتیں قصر کائنات کی راہداریوں میں خوشنما محل کی طرح ہیں جن کے پاس سے لوگ جب بھی گذرتے ہیں ان کی تمنا کرتے ہیں، گذرنے والے حسرت ومسرت کے احساس لے کر گذر جاتے ہیں اور یہ خواہشوں کے ستون وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔ شاید زندگی اسی کا نام ہے ،چلتے رہنے کا۔ جہد مسلسل کا ،کہیں نہ رکنے اورقدم لگاتار آگے بڑھاتے رہنے کا ، مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔انسان خواہشات کی تکمیل کی خاطر بھاگتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ خود ختم ہو جاتا ہے مگرخواہشیں تشنۂ تکمیل ہی رہتی ہیں۔
اس میں بھی جب انسان کسی خاص مقصد کے حصول کی خاطر کسی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو زندگی اس کے سامنے اپنے نت نئے رنگ روپ سے آتی ہے۔بے شمار موہوم خیالات اس کا پیچھا کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے اندر خوف بھی ہوتا ہے اور کامیابی کے حصول میں خدشات بھی اور یہ کیفیت اس وقت تک اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے جب تک وہ اپنے مقصود کو حاصل نہ کر لے یا کم از کم اس کے حصول کے قریب نہ پہونچ جائے ،نفس کو نہ تو سکون ملتا ہے اور نہ قرار اور یہ تلاطم بلاخیز سایہ کی طرح اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے ۔خوف اس کو ڈستا رہتا ہے ۔
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بچوں کے ذہن میں کچھ اور خیال پنپ رہا ہوتا ہے اور والدین یاسرپرست اس کو کچھ اور بنانا چاہتے ہیں اور وہ بے چارہ بننے اور بنائے جانے کی کشاکش میں معلق رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود تباہ ہو جاتا ہے یا باغی بن جاتاہے۔میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا مگرمیرے لئے یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ میں بغاوت کر کے بھاگا تھا لیکن کیفیت کچھ اس کے سوا بھی نہ تھی، آس لگائے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دے کر بھاگنا اور وہ بھی ایسی چیز کو دیکھ کر جو آپ کے ہاتھ میں نہ آئی ہو اورامید و بیم کے درمیان آپ جھول رہے ہوں تو ڈرنا فطری بات ہے۔اس ڈر اور خوف نے نہ جانے میری کتنی نیندیں حرام کیں ۔
میں آج بھی اپریل دو ہزار چھ کی اس بوندا باندی والی شام کو نہیں بھول سکتا جب حیدر آباد دکن سے بھاگ کر پہلی مرتبہ میں میرو غالب اور داغ کے شہر میں داخل ہو رہا تھا۔استعجاب اور حیرت سے آنکھیں کھلی تھیں اور آفتاب دن بھر کی تھکن سے چور اپنی بساط لپیٹ رہا تھا ۔بارش میں نہائے ہوئے پیڑ پودے اور در و دیوار دلفریبی کے ساتھ مسکرا رہے تھے ۔ جسم وجاں کو ہلا دینے والی بلیو لائن بس کے ذریعہ اپنے بچپن کے دوست عارف کے ساتھ ہولی فیملی اسپتال سے ہی شروع ہوجانے والے محمد علی جوہر کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکل میں لگائے گئے باغ کی سرحد میں داخل ہوااور اس کی عالی شان عمارتوں کو دیکھا تو دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے نہ جانے کتنی دعائیں کر ڈالی کہ یااللہ! لاج رکھ لیجیو!کہ اگر میرا یہاں داخلہ نہ ہوا تو میں کسی کو منھ دکھانے کے لائق نہ رہوں گا۔اللہ نے میری دعا قبول کی اورمیں نے مولانامحمد علی جوہراورمولانامحمود حسن کے قائم کیے ہوئے اس ادارہ سے بے شمار ثمرات سمیٹے یہاں سے میں نے صرف ڈگریاں ہی نہیں لیں بلکہ ایسے ایسے جید، لائق اور مہربان استاذ اور جان نچھاور کرنے والے احباب پائے کہ ماضی کو پلٹ کردیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔
جامعہ ملیہ کا روح پر رور ماحول ،جامع مسجد ، مینا بازار، لال قلعہ، صفدر جنگ کا مقبرہ، جنتر منتر، پرانا قلعہ،قطب مینار ،پریس کلب ، آل انڈیا ریڈیو ، ابوالفضل کے ہوٹل ،بٹلہ ہاؤس اور عظیم ڈیری کے چائے خانے اور جامعہ کے کینٹین میں بحث ومباحثہ ، توتو میں میں اور تکراریں… کہانیوں ، فلموں اور کتابوں پرتبصرے آرٹ ، فن اور ان تمام کے تیکنک و باریکیوں پر گفتگو اور گھنٹوں بات چیت ۔سیمنار ، میٹنگ پریس کانفرنس اور اس میں پری پلان مقرر کا گھیراو، بے باک صحافت کی تمنا میں اپنوں اور غیروں کی ناراضگیاں ، سینیرز اور عزیزوں کی جھڑکیاں ان کی محبت اور نصیحت۔ایک ایسی دنیا اور ایسا ماحول جس کے سحر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ ایک دن ان سب کو چھوڑ کر منزل کی تلاش میں کہیں اور کے لئے بھی کمر کسنا ہوگا۔آج ان تمام یادگار بھرے لمحات کو چھوڑتے ہوئے آنکھوں میں آنسو اورقلم پر لرزہ طاری ہے۔
کچھ یقیں کچھ گمان کی دلی
ان گنت امتحان کی دلی
خواب، قصہ، خیال، افسانہ
ہائے، اردو زبان کی دلی
شاید اسی وجہ سے خدائے سخن میر تقی میر ، استاذ غلام ہمدانی مصحفی ، ذوق اور حبیب جالب جیسے جدید اور قدیم اہل سخن نے دہلی کو اپنا مرکز بنایا اور اس شہر سے بچھڑنے کے بعد جدائی کے آنسو بہائے۔ خصوصاًمیر نے تو فراق دلی کا مرثیہ اتنا زیادہ لکھا کہ اس کو پڑھتے ہوئے کوئی بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکے گا کہ میر نے دلی کی شان میں مبالغہ کیا ہے۔ لیکن آج جب خود اس شہر کو وداع کہنے کا وقت آیا تو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ میرکو دلی سے اس قدر لگاؤ کیوں تھا اور دلی کے لٹنے کا غم انہیں اس قدر کیوں ستا رہا تھا۔واقعی میرکا ایک ایک شعر دل کو چھلنی کر دینے والا ہے۔
دلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
یا پھر
خاک دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسمان کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
جب سے احباب کو پتہ چلا ہے میں دلی چھوڑنے والاہوں ، فون کا تانتا بندھ گیا ہے ، بار بار فو ن ریسیو کرتے کرتے تھک سا گیا ہوں۔ اب غصہ بھی آنے لگاہے اور کسی سے بات کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگتا۔ آج میں نے رات کا کھانا نہیں کھایا ،یہ بھی یاد نہیں رہا۔ دل اداس ہے۔ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔ یہ دوست بھی عجیب ہوتے ہیں لڑائی جھگڑا بھی کریں گے اور پھر فوراً ہی منانے آجائیں گے۔ ویسے مجھے یاد نہیں پڑتا کہ دہلی میں میری کبھی کسی سے لڑائی بھی ہوئی ہو۔ ہاں ہاٹ ٹاک بہتوں سے ہوئی لیکن یا تو اس نے منا لیا یا ہم خود ہی من گئے۔ شاید اسی وجہ سے دوستوں کے ساتھ گذارے لمحے اور دہلی کی علمی و ادبی رونقیں کچھ زیادہ ہی جذباتی بنا رہی ہیں۔
ابھی ابھی تھوڑی دیر قبل جے این یو سے ایک دوست نے فون کیا ہے اور گذارش کی ہے کہ میں دہلی میں گذارے ہوئے لمحات کو قلم بند کروں ۔ اُس نے کئی خوبصورت مشورے بھی دئے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ میں اس میں اپنے چھوٹے چھوٹے تجربات کو شامل کروں ۔ میں سوچ رہا ہوں تجربات تو ان کے ہوتے ہیں جنہوں نے ایک عمر یں گذاری اور دنیا دیکھی ہو ، تجربات کی بھٹی میں تپے ہوں اور زندگی میں کچھ کر گذرے ہوں۔میں تو ابھی مشاہدۂ حق اور موجودات کی حقیقت کے ادراک ہی کی کوشش کر رہا ہوں۔
۔

۔۔۔مزید

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

سالنامہ نقش دہلی پر ایک تبصرہ

سالنامہ نقش (انجمن طلبائے قدیم مدرسۃ الاصلاح)
مدیر ۔ محمد علم اللہ 
مبصر:محمد اسد فلاحی
مدرسۃا لاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ کے فارغین ملک کے مختلف شہروں میں اپنی انجمنوں کے ذریعہ تعلیمی اور سماجی میدان میں سرگرم عمل ہیں ۔ انجمن طلبۂ قدیم دہلی اس میدان میں گدشتہ کئی برسوں سے بہت فعال ہے۔اِس کی جانب سے ’نقش‘ کے نام سے ایک سالانہ میگزین شائع ہوتا ہے، جس کے بیش تر قلم کار مدرسۃالاصلاح کے فارغین ہوتے ہیں جو مختلف عصری اداروں میں زیر تعلیم ہیں ۔ َ ََ مدرسۃالاصلاح ہندوستان کے ان گنے چنے اداروں میں ایک ہے،جہاں قرآن و احادیث کی محققانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے عصری تعلیم لازم قرار دی گئی ہے۔چناں چہ یہاں کے نصاب میں قرآن ،حدیث،فقہ اور عربی ادب کے ساتھ انگریزی ،ہندی جغرافیہ،تاریخ ،سیاسیات،معا شیات اور ریاضی وغیرہ کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔

زیر نظر ’نقش ‘ شمارہ ۲۰۱۵ زبان و ادب اور مضامین کے اعتبار سے ایک حسین گلدستہ کی مانند ہے،جو کہ اصلاحی برادران کے رنگ برنگے مضامین اور ان کی علمی کاوشوں سے مزین ہے۔اردو،عربی ،فارسی اور انگریزی زبانوں کے مضامین کی شمولیت نے اسے مزید پر کشش بنا دیا ہے۔

اس مجلہ میں تقریبا پینتیس(۳۵) مضامین کو یکجا کیا گیا ہے،جو ادب،تعارف مخطوطات،نظم نگاری،غزلیات،اسکرپٹ نگاری،مراسلات،افسانوی،اور سیرو سوانح جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں ۔لیکن ’نقش ‘ اپنی تمام خوبیوں کے باوجود، مدرسۃ الاصلاح کی بنیادی فکر کی ترجمانی کرنے سے قاصر ہے ۔اس لیے کے مدرسۃ الاصلاح کا نمایاں وصف قرآن کریم سے گہرا تعلق قرار دیا جاتا ہے اوراس کے منہج تدریس میں بھی اسے نمایاں مقام حاصل ہے،جبکہ اس مجلہ میں شامل تین درجن تحریروں میں سے صرف دو مضامین قرآنیات سے متعلق ہیں ۔ایک اردو میں اور دوسرا عربی میں۔

بہر حال اس مجلہ سے یہ تعارف ضرور ہو جاتا ہے کہ دہلی کے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم فارغین مدرسۃ الاصلاح کے ذوق اور دلچسپی کے موضوعات کیا ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کی تحریری صلاحیتیں پروان چڑھیں اور انہیں خدمت دین کی توفیق ہو۔


۔۔۔مزید