عَلَم گویَد

کتنے ہی خیالات جگنووں کی طرح دماغ کی تاریکیوں میں آتے ہیں ،جگمگاتے ہیں،مگر پھر فوراً بجھ جاتے ہیں۔ میں انھیں پکڑنے کے کئی کوشش کرتا ہوں۔ان میں سے کبھی کوئی جگنو ہاتھ آیا تو آیا۔نہیں تو یہ عمل رات بھر جاری رہتا ہے۔صبح کے اجالے میں جب یہی جگنو تتلی بن جاتے ہیں تو اور زیادہ دلفریب لگتے ہیں۔ میں بے اختیار اپنی ہتھیلیاں ان کے آگے پسار دیتا ہوں، لیکن تب بھی کوئی تتلی کہاں میری ہتھیلی پر آکر بیٹھتی ہے۔ کاش!تاریک شب اور دراز ہو جائے،تاکہ میں کسی جگنو جیسے جگمگاتے خیال کو گرفت میں لاسکوں ۔

جمعہ، 8 نومبر، 2013


ختم شدہ:
اسے ای میل کریں!BlogThis‏‫X پر اشتراک کریں‏Facebook پر اشتراک کریں‏Pinterest پر اشتراک کریں

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں

نئی تحاریر پرانی تحاریر سرِورق

ایک پیغام.........عزیزی علم اللہ کے نام

ایک پیغام.........عزیزی علم اللہ کے نام
جناب سخنور رفیقی صاحب کامنظوم پیغام جسے انھوں نے میری ڈائری میں بر جستہ 10اکتوبر 2006کو اپنے دستخط کے ساتھ رقم کیا تھا۔

اب تک کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریریں۔

  • لو کر لو گل
    محمد علم اللہ اصلاحی ابھی ابھی مرے ایک دوست نے بتایا کہ دہلی پولس نے تین ناجيرين کو دو کلو پیاز کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ اسے دہلی پولیس کی ...
  • سرحد پار سے ایک طالب علم اس دیس میں آیا ہے
    محمد علم اللہ کبھی ڈائری لکھی جاتی تھی، گزرے ایام کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی، سائبر ورلڈ نے روزنامچے محفوظ کرنا شروع کیے تو گاہے بگاہے گ...
  • ایک نا مکمل کہانی
    محمد علم اللہ اصلاحی "یار! میری ماں کتنا غصہ کرتی رہتی ہے، میں اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں، پر وہ کبھی ہنستی ہی نہیں ہے۔" ...
  • بارے ترکی کے
    محمد علم اللہ  جناب ایم ودود ساجد صاحب آپ کی باتوں سے اتفاق کرنا  انتہائی  مشکل ہے ، اس لئے کہ آپ کی باتوں میں نہ تو کوئی دم ہے اور نا د...

آمد و رفت

Blogger WidgetsBlogspot Tutorial

سبسکرائب کریں

اشاعتیں
Atom
اشاعتیں
تبصرے
Atom
تبصرے

تلاش

میرے بارے میں

  • Mohammad
  • Mukarram Niyaz

عکس خیال

بچپن کی یاد، رودود قفس(برسا منڈا سنٹرل جیل ہٹوار کی کہانی)، ائے کاش، دیر رات کی ڈائری، سفرنامہ گوا کا ، بٹلہ انکاونٹر:برسی کے چار سال ، میری سال گرہ، ایک نایاب مگر نادر خط، گاوں,چھوٹا سدھیر,تیرا عکس(نانی مرحومہ کی یاد میں،) ایک خواب ،رمضان میاں،سچی خوشی(افسانہ) الوداع(افسانہ)ایک ادھوری کہانی،بس اسٹاپ پر (کہانی)، ڈسکاونٹ(افسانچہ)، ڈرٹی بوائے (افسانچہ)،مٹی کا خالق(افسانہ)

محفوظات

  • 2018 (28)
    • دسمبر 2018 (1)
    • جولائی 2018 (1)
    • اپریل 2018 (20)
    • جنوری 2018 (6)
  • 2017 (18)
    • دسمبر 2017 (1)
    • اکتوبر 2017 (1)
    • ستمبر 2017 (4)
    • اگست 2017 (8)
    • جولائی 2017 (2)
    • مئی 2017 (1)
    • مارچ 2017 (1)
  • 2016 (51)
    • اکتوبر 2016 (32)
    • جون 2016 (2)
    • مئی 2016 (15)
    • اپریل 2016 (1)
    • مارچ 2016 (1)
  • 2015 (13)
    • نومبر 2015 (1)
    • اکتوبر 2015 (3)
    • ستمبر 2015 (1)
    • اگست 2015 (1)
    • جولائی 2015 (3)
    • اپریل 2015 (1)
    • فروری 2015 (2)
    • جنوری 2015 (1)
  • 2014 (33)
    • نومبر 2014 (3)
    • اکتوبر 2014 (1)
    • ستمبر 2014 (1)
    • اگست 2014 (1)
    • جولائی 2014 (1)
    • مئی 2014 (2)
    • اپریل 2014 (2)
    • مارچ 2014 (4)
    • فروری 2014 (15)
    • جنوری 2014 (3)
  • 2013 (48)
    • دسمبر 2013 (1)
    • نومبر 2013 (5)
      • کیا حل ہو گئی آروشی مر ڈر مسٹری ؟
      • دہلی :تاج کس کے سر پر؟
      • مدیر ماہنامہ "تدبر"لاہور مولانا خالد مسعود کی یاد میں
      • بی جے پی : دہلی میں کون بنے گا صدر ؟
    • اکتوبر 2013 (2)
    • ستمبر 2013 (3)
    • اگست 2013 (6)
    • جون 2013 (3)
    • مئی 2013 (3)
    • اپریل 2013 (7)
    • مارچ 2013 (7)
    • فروری 2013 (6)
    • جنوری 2013 (5)
  • 2012 (32)
    • دسمبر 2012 (2)
    • نومبر 2012 (2)
    • اکتوبر 2012 (2)
    • ستمبر 2012 (7)
    • اگست 2012 (17)
    • جولائی 2012 (1)
    • اپریل 2012 (1)
  • 2011 (3)
    • دسمبر 2011 (3)

ممبران

دیدارگر

Flag Counter
dino4 کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

صفحات

  • سر ورق