اتوار، 25 اگست، 2013

کبھی ائے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے



رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف

محمد علم اللہ اصلاحی
شب برات کو ہمارے مسلم نوجوانوں نے سیرو تفریح،مٹرگشتی، پٹاخہ بازی اورہلڑبازی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے جو انتہائی بری بات ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمارے مسلم نوجوانوں کی ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے بہت سارے غیر مسلم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جس رات مسلم نوجوان سڑکوں پر تیزی سے موٹر سائیکل دوڑائیں، ایک دوسرے پر بازی مارنے کے لیے گاڑی تیزی سے دوڑاتے ہوئے ماحولیات پر اثر انداز ہوں،گلی کوچوں میں ہلڑ بازی کرتے پھریں، پٹاخہ بازی کرکے لوگوں کی عبادت اور نیند میں خلل ڈالیں اور چوراہوں پر گپ شپ کرتے ہوئے نظر آئیں تو سمجھ لو کہ مسلمانوں کی بڑی رات (یعنی شب برات) آگئی۔اس طرح کی باتیں میرے کئی غیر مسلم دوستوں نے کہی۔میں نے انھیں گرچہ یہ بات بتائی کہ اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے لیکن ایک بڑے طبقہ کے درمیان جو چیز ایک مرتبہ ذہن میں نقش کر جائے اس کو مٹانا مشکل ہوتا ہے اور اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق (واضح رہے کہ میں یہاں پر اردو اخبارات کی بات نہیں کر رہا ہوں دہلی سے شائع ہونے والے درجن بھر سے زائداردو اخبارات میں سے کسی نے بھی اس خبر کو جگہ نہیں دی وجہ کیا رہی مجھے نہیں پتہ )لیکن ہندی اور انگریزی اخبارات کے بقول اس موقع پریعنی شب برات پیر کے روز 25جون کوآدھی رات کے بعد دو ہزار سے زیادہ بائکرس نے دارالحکومت دہلی کے انڈیا گیٹ سمیت کئی علاقوں میں طوفان بدتمیزی برپاکیا۔ گھر لوٹ رہے لوگ اس ہنگامے کی وجہ سے سڑکوں پر ہی قید ہو کر رہ گئے۔بائکرس جام میں پھنسی گاڑیوں کے بونٹ پر کودنے لگے۔ گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے۔ مخالفت کرنے پر لوگوں سے مارپیٹ کی گئی۔ کاروں اور بائک پر سوار لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ خوف اس قدر بڑھا کہ لڑکیاں رونے لگیں۔ ایسے حالات کے آگے دہلی پولیس بھی بے بس نظر آئی۔ فساد مچانے سے روکنے پر پتھراؤکیا گیا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ کئی عورتوں کی بھی پٹائی کی گئی۔ 11 لوگوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ تقریبا سو موٹر سائیکلیں ضبط کر لی گئیں،جبکہ ایک شخص کی موت کی بھی خبر ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق، سڑکوں پر خطرناک کرتب بازی اور بدتمیزی کرتے بائکرس نے گویا شہر کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ سڑکوں پر موجود لوگ خود کو خطرے میں محسوس کر رہے تھے۔پولیس شرارت پسند لڑکوں کے آگے کافی لاچار نظر آرہی تھی۔

اخبارات کی رپورٹوں پر میں بالکل بھی یقین نہیں کرتا اگر خود اپنی آنکھوں سے یہ حرکتیں نہ دیکھتا۔جامعہ نگر کو مسلمانوں کاسب سے بڑا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہیں سب سے زیادہ پورے ہندوستان کے پڑھے لکھے ،اہل علم ،دانشور اور قابل مسلمان رہتے ہیں۔لیکن شب برات کے موقع پر پوری رات پٹاخوں کی آواز یں آتی رہیں۔وہ بھی اتنی خطرناک کہ مت پوچھئے۔وہ مسلم نو جوان جو چھوٹے چھوٹے مسلم مسائل کو لے کر بے تاب ہو جاتے ہیں، حق اور انصاف کی بات کرتے ہیں ایسے موقع پر ان کا ذہن کام کیوں نہیں کرتا۔والدین اور سرپرست حضرات ان کو کیوں نہیں روکتے۔جامعہ نگر کے قلب میں چار بڑے ہاسپیٹل ہیں۔ ہولی فیملی ،مہندرا جان ،الشفا اوراسکورٹ۔ وہاں کتنے مریضوں کو ان کی اس آتش بازی سے پریشانی ہوئی ہوگی۔کتنے بیمار ،ضعیف اور معصوم بچوں کی نیندیں خراب ہوئی ہوں گی ؟کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ صرف آج کی بات نہیں ہے بلکہ اور بھی شادی بیاہ اور اسی طرح کی دوسری تقریبا ت میں اس قسم کا غیر اسلامی اور غیر مہذب کام جاری رہتا ہے اور کوئی بھی اس کا نوٹس نہیں لیتا۔ممبئی میں رہنے والے میرے ایک دوست جناب شوکت پرویزصاحب نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے یہاں بھی اس طرح کی حرکتیں شب برات اور دوسرے موقعوں پر خوب ہوتی ہیں۔

آخر کہاں جا رہے ہیں ہم؟ کونسا رویہ اختیار کر رہے ہیں ہمارے نوجوان؟یہ کون سا ثواب کا کام ہے ؟اور اسلام یا مسلمانوں کا اس سے کیا بھلا ہو رہا ہے ؟۔آخر وہ بچے ان حرکتوں کے ذریعہ کون سا اسلامی پیغام عام کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے ائمہ مساجد اور ذمہ داروں کو اس پر غور کرنا چاہئے اور اس کی اصلاح کا اقدام کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ا س عمل سے غیر مسلموں میں نہ صرف غلط فہمیاں پھیلتی ہیں اور اسلام کی شبیہ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے دور رس نتائج بھی مرتب ہوتے ہیں اور نیوٹن کے قانون کے مطابق کہ ’’ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ‘‘جس کے نتیجہ میں دوسروں کو’’ کھل کھیلنے‘‘ کا موقع مل جاتا ہے۔اور وہ ’’موقع ‘‘کو ’’غنیمت ‘‘جانتے ہوئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیتے۔اور اسی کا فائدہ اٹھا کر انگریزی اور بعض ہندی اخبارات نے جو رپورٹنگ اور تبصرے کئے ہیں وہ تکلیف دہ ہیں۔ظاہر ہے کہ انھوں نے اپنے اعتبار سے کوئی غلط بھی نہیں لکھا ہے بلکہ انگریزی اور بعض ہندی اخبارات نے اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر جو باتیں کہی ہیں بہر حال اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اس طرح کے کرتب کرتے ہوئے نوجوانوں کو دیکھا ہے۔

اسی کا فائدہ اٹھاکر دہلی کے لفٹنٹ گورنر جناب تجندر کھنا صاحب کو وشو ہندو پریشد نے اس پر لگام کسنے اور اسے جہاد و دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر اسی قسم کے قوانین لگا کر مسلم نوجوانوں کو سزا دینے کا مطالبہ ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بعض خود ساختہ مسلم قائدین نے اس پر احمقانہ اور بصیرت سے خالی تبصرے بھی کئے ہیں اور بیان بازی کاسلسلہ بھی شروع کر دیاگیاہے۔بجائے اس کے کہ وہ مسلم نوجوانوں کی تربیت کرتے اور آئندہ انھیں ایسی حرکتیں نہ کرنے کی ترغیب دیتے ،مسلم بچوں کی حمایت پر یہاں تک کہہ گئے کہ جب غیر مسلم کرتے ہیں تو کچھ نہیں اور مسلمان کرتے ہیں تو پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے۔ارے بھیا !جو کام غیر مسلم کریں گے چاہے وہ خراب ہی کیوں نہ ہو ہم بھی کریں گے، یہ کون سی منطق اور کون سا فلسفہ ہے ؟

ان تمام معاملات میں ایک اور بات بھی حیرت انگیز رہی کہ وہ اردو اخبارات جو مسلمانوں کے ایک ایک مسئلہ پر کڑی نگاہ رکھنے کے دعویدار ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس مسئلہ پر چند سطریں لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔کسی اخبار میں رپورٹ تک نہیں آئی۔اور تو اور مسلم سماج کے کسی بھی مذہبی، سماجی یا سیاسی رہنما نے اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔سب نے چپی سادھے رکھی۔ گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اور یہ بھی افسوسناک ہے کہ اپنے سماج کے حقوق کیلئے روز ٹی وی پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کرنے والی ملی تنظیموں نے بھی اس موضوع پر کچھ لب کشائی نہیں کی۔حد تو یہ کہ سیاسی لیڈروں سے لے کر جامع مسجد کے امام احمدبخاری اور فتح پوری مسجد کے امام مولانا مفتی مکرم احمد صاحبان بھی چپ رہے۔ہاں ایک بیان مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی طرف سے دیکھنے کو ملا لیکن اردو اخبارات نے مشاورت کے بیان کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں ا پنے معاشرے سے وابستہ نوجوانوں کے قانون کی دھجیاں اڑانے پر چپ رہنا چاہئے تھا؟ ظاہر ہے، انہیں اس سوال کا جواب دیریا سویر دینا ہوگا۔ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔یہاں والدین اور سرپرستوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہو گی انھیں اپنے بچوں کو بتانا ہو گا کہ پٹاخے پھوڑنا، آتش بازی کرنا ،موٹر سائکلوں کی ریس لگانا،سڑک جام کرنا ،دوسروں پررکیک تبصرہ کرنا، لڑکیوں کو چھیڑنا یہ بہت ہی سنگین اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ہزاروں کی تعداد میں غیرمسلمین کی نقل کرتے ہوئے سڑکوں پر موٹرسائیکلوں سے کرتب بازی، مقابلے اور ہڑبونگ مچانا،اپنے علاقوں میں رات بھر پٹاخے پھوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس سے دوسرے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ اور مسلمان تو وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسانوں کو اذیت وتکلیف نہ پہنچے۔

قرآن مجید میں بھی اس طرح کی خرافات سے بچنے کی سخت الفاظ میں تاکید کی گئی ہے اور منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’’اور بے جا خرچ نہ کرو،بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نا شکرا :بنی اسرائیل ‘‘(آیت نمبر 27 )اسی طرح سے پہلی قوموں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنایا تو اللہ تعالی کے عذاب میں مبتلا ہوئیں ان سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے وگرنہ ہم پر بھی اللہ کا عذاب دور نہیں ،اللہ تعالی نے فرمایا’’اور چھوڑ دو ( اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور ان کی دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے‘‘ ۔
(الانعام آیت نمبر70)

اس لئے میں اخیر میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ خدارا ایسی حرکتیں مت کیجیے جس سے اس دین متین کا تقدس پامال ہواوراسلام کے چہرے پرداغ آئے۔آپ مسلم نوجوان ہیں تو مسلم ہونے کا ثبوت دیجئے ،لوگوں کی مدد کیجئے ،اسلامی تعلیمات اور اس کے اصولوں پر عمل کر کے لوگوں کے ذہنوں میں ایک مثبت فکر پیدا کرنے کی کوشش کیجئے کہ اس سے اسلام کا بھی بھلا ہوگا اور خود آپ کا بھی۔

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف

محمد علم اللہ اصلاحی
شب برات کو ہمارے مسلم نوجوانوں نے سیرو تفریح،مٹرگشتی، پٹاخہ بازی اورہلڑبازی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے جو انتہائی بری بات ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمارے مسلم نوجوانوں کی ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے بہت سارے غیر مسلم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جس رات مسلم نوجوان سڑکوں پر تیزی سے موٹر سائیکل دوڑائیں، ایک دوسرے پر بازی مارنے کے لیے گاڑی تیزی سے دوڑاتے ہوئے ماحولیات پر اثر انداز ہوں،گلی کوچوں میں ہلڑ بازی کرتے پھریں، پٹاخہ بازی کرکے لوگوں کی عبادت اور نیند میں خلل ڈالیں اور چوراہوں پر گپ شپ کرتے ہوئے نظر آئیں تو سمجھ لو کہ مسلمانوں کی بڑی رات (یعنی شب برات) آگئی۔اس طرح کی باتیں میرے کئی غیر مسلم دوستوں نے کہی۔میں نے انھیں گرچہ یہ بات بتائی کہ اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے لیکن ایک بڑے طبقہ کے درمیان جو چیز ایک مرتبہ ذہن میں نقش کر جائے اس کو مٹانا مشکل ہوتا ہے اور اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق (واضح رہے کہ میں یہاں پر اردو اخبارات کی بات نہیں کر رہا ہوں دہلی سے شائع ہونے والے درجن بھر سے زائداردو اخبارات میں سے کسی نے بھی اس خبر کو جگہ نہیں دی وجہ کیا رہی مجھے نہیں پتہ )لیکن ہندی اور انگریزی اخبارات کے بقول اس موقع پریعنی شب برات پیر کے روز 25جون کوآدھی رات کے بعد دو ہزار سے زیادہ بائکرس نے دارالحکومت دہلی کے انڈیا گیٹ سمیت کئی علاقوں میں طوفان بدتمیزی برپاکیا۔ گھر لوٹ رہے لوگ اس ہنگامے کی وجہ سے سڑکوں پر ہی قید ہو کر رہ گئے۔بائکرس جام میں پھنسی گاڑیوں کے بونٹ پر کودنے لگے۔ گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے۔ مخالفت کرنے پر لوگوں سے مارپیٹ کی گئی۔ کاروں اور بائک پر سوار لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ خوف اس قدر بڑھا کہ لڑکیاں رونے لگیں۔ ایسے حالات کے آگے دہلی پولیس بھی بے بس نظر آئی۔ فساد مچانے سے روکنے پر پتھراؤکیا گیا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ کئی عورتوں کی بھی پٹائی کی گئی۔ 11 لوگوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ تقریبا سو موٹر سائیکلیں ضبط کر لی گئیں،جبکہ ایک شخص کی موت کی بھی خبر ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق، سڑکوں پر خطرناک کرتب بازی اور بدتمیزی کرتے بائکرس نے گویا شہر کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ سڑکوں پر موجود لوگ خود کو خطرے میں محسوس کر رہے تھے۔پولیس شرارت پسند لڑکوں کے آگے کافی لاچار نظر آرہی تھی۔

اخبارات کی رپورٹوں پر میں بالکل بھی یقین نہیں کرتا اگر خود اپنی آنکھوں سے یہ حرکتیں نہ دیکھتا۔جامعہ نگر کو مسلمانوں کاسب سے بڑا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہیں سب سے زیادہ پورے ہندوستان کے پڑھے لکھے ،اہل علم ،دانشور اور قابل مسلمان رہتے ہیں۔لیکن شب برات کے موقع پر پوری رات پٹاخوں کی آواز یں آتی رہیں۔وہ بھی اتنی خطرناک کہ مت پوچھئے۔وہ مسلم نو جوان جو چھوٹے چھوٹے مسلم مسائل کو لے کر بے تاب ہو جاتے ہیں، حق اور انصاف کی بات کرتے ہیں ایسے موقع پر ان کا ذہن کام کیوں نہیں کرتا۔والدین اور سرپرست حضرات ان کو کیوں نہیں روکتے۔جامعہ نگر کے قلب میں چار بڑے ہاسپیٹل ہیں۔ ہولی فیملی ،مہندرا جان ،الشفا اوراسکورٹ۔ وہاں کتنے مریضوں کو ان کی اس آتش بازی سے پریشانی ہوئی ہوگی۔کتنے بیمار ،ضعیف اور معصوم بچوں کی نیندیں خراب ہوئی ہوں گی ؟کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ صرف آج کی بات نہیں ہے بلکہ اور بھی شادی بیاہ اور اسی طرح کی دوسری تقریبا ت میں اس قسم کا غیر اسلامی اور غیر مہذب کام جاری رہتا ہے اور کوئی بھی اس کا نوٹس نہیں لیتا۔ممبئی میں رہنے والے میرے ایک دوست جناب شوکت پرویزصاحب نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے یہاں بھی اس طرح کی حرکتیں شب برات اور دوسرے موقعوں پر خوب ہوتی ہیں۔

آخر کہاں جا رہے ہیں ہم؟ کونسا رویہ اختیار کر رہے ہیں ہمارے نوجوان؟یہ کون سا ثواب کا کام ہے ؟اور اسلام یا مسلمانوں کا اس سے کیا بھلا ہو رہا ہے ؟۔آخر وہ بچے ان حرکتوں کے ذریعہ کون سا اسلامی پیغام عام کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے ائمہ مساجد اور ذمہ داروں کو اس پر غور کرنا چاہئے اور اس کی اصلاح کا اقدام کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ا س عمل سے غیر مسلموں میں نہ صرف غلط فہمیاں پھیلتی ہیں اور اسلام کی شبیہ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے دور رس نتائج بھی مرتب ہوتے ہیں اور نیوٹن کے قانون کے مطابق کہ ’’ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ‘‘جس کے نتیجہ میں دوسروں کو’’ کھل کھیلنے‘‘ کا موقع مل جاتا ہے۔اور وہ ’’موقع ‘‘کو ’’غنیمت ‘‘جانتے ہوئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیتے۔اور اسی کا فائدہ اٹھا کر انگریزی اور بعض ہندی اخبارات نے جو رپورٹنگ اور تبصرے کئے ہیں وہ تکلیف دہ ہیں۔ظاہر ہے کہ انھوں نے اپنے اعتبار سے کوئی غلط بھی نہیں لکھا ہے بلکہ انگریزی اور بعض ہندی اخبارات نے اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر جو باتیں کہی ہیں بہر حال اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اس طرح کے کرتب کرتے ہوئے نوجوانوں کو دیکھا ہے۔

اسی کا فائدہ اٹھاکر دہلی کے لفٹنٹ گورنر جناب تجندر کھنا صاحب کو وشو ہندو پریشد نے اس پر لگام کسنے اور اسے جہاد و دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر اسی قسم کے قوانین لگا کر مسلم نوجوانوں کو سزا دینے کا مطالبہ ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بعض خود ساختہ مسلم قائدین نے اس پر احمقانہ اور بصیرت سے خالی تبصرے بھی کئے ہیں اور بیان بازی کاسلسلہ بھی شروع کر دیاگیاہے۔بجائے اس کے کہ وہ مسلم نوجوانوں کی تربیت کرتے اور آئندہ انھیں ایسی حرکتیں نہ کرنے کی ترغیب دیتے ،مسلم بچوں کی حمایت پر یہاں تک کہہ گئے کہ جب غیر مسلم کرتے ہیں تو کچھ نہیں اور مسلمان کرتے ہیں تو پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے۔ارے بھیا !جو کام غیر مسلم کریں گے چاہے وہ خراب ہی کیوں نہ ہو ہم بھی کریں گے، یہ کون سی منطق اور کون سا فلسفہ ہے ؟

ان تمام معاملات میں ایک اور بات بھی حیرت انگیز رہی کہ وہ اردو اخبارات جو مسلمانوں کے ایک ایک مسئلہ پر کڑی نگاہ رکھنے کے دعویدار ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس مسئلہ پر چند سطریں لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔کسی اخبار میں رپورٹ تک نہیں آئی۔اور تو اور مسلم سماج کے کسی بھی مذہبی، سماجی یا سیاسی رہنما نے اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔سب نے چپی سادھے رکھی۔ گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اور یہ بھی افسوسناک ہے کہ اپنے سماج کے حقوق کیلئے روز ٹی وی پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کرنے والی ملی تنظیموں نے بھی اس موضوع پر کچھ لب کشائی نہیں کی۔حد تو یہ کہ سیاسی لیڈروں سے لے کر جامع مسجد کے امام احمدبخاری اور فتح پوری مسجد کے امام مولانا مفتی مکرم احمد صاحبان بھی چپ رہے۔ہاں ایک بیان مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی طرف سے دیکھنے کو ملا لیکن اردو اخبارات نے مشاورت کے بیان کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں ا پنے معاشرے سے وابستہ نوجوانوں کے قانون کی دھجیاں اڑانے پر چپ رہنا چاہئے تھا؟ ظاہر ہے، انہیں اس سوال کا جواب دیریا سویر دینا ہوگا۔ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔یہاں والدین اور سرپرستوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہو گی انھیں اپنے بچوں کو بتانا ہو گا کہ پٹاخے پھوڑنا، آتش بازی کرنا ،موٹر سائکلوں کی ریس لگانا،سڑک جام کرنا ،دوسروں پررکیک تبصرہ کرنا، لڑکیوں کو چھیڑنا یہ بہت ہی سنگین اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ہزاروں کی تعداد میں غیرمسلمین کی نقل کرتے ہوئے سڑکوں پر موٹرسائیکلوں سے کرتب بازی، مقابلے اور ہڑبونگ مچانا،اپنے علاقوں میں رات بھر پٹاخے پھوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس سے دوسرے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ اور مسلمان تو وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسانوں کو اذیت وتکلیف نہ پہنچے۔

قرآن مجید میں بھی اس طرح کی خرافات سے بچنے کی سخت الفاظ میں تاکید کی گئی ہے اور منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’’اور بے جا خرچ نہ کرو،بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نا شکرا :بنی اسرائیل ‘‘(آیت نمبر 27 )اسی طرح سے پہلی قوموں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنایا تو اللہ تعالی کے عذاب میں مبتلا ہوئیں ان سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے وگرنہ ہم پر بھی اللہ کا عذاب دور نہیں ،اللہ تعالی نے فرمایا’’اور چھوڑ دو ( اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور ان کی دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے‘‘ ۔
(الانعام آیت نمبر70)

اس لئے میں اخیر میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ خدارا ایسی حرکتیں مت کیجیے جس سے اس دین متین کا تقدس پامال ہواوراسلام کے چہرے پرداغ آئے۔آپ مسلم نوجوان ہیں تو مسلم ہونے کا ثبوت دیجئے ،لوگوں کی مدد کیجئے ،اسلامی تعلیمات اور اس کے اصولوں پر عمل کر کے لوگوں کے ذہنوں میں ایک مثبت فکر پیدا کرنے کی کوشش کیجئے کہ اس سے اسلام کا بھی بھلا ہوگا اور خود آپ کا بھی۔

۔۔۔مزید

منگل، 13 اگست، 2013

دانش گاہوں میں محبت نہیں حیوانیت جاگ رہی ہے۔

محمد علم اللہ اصلاحی 
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک طالب علم کی طرف سے کلاس روم میں اپنے ساتھی پر کیا گیا حملہ ہمارے سامنے کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ کیا اکیسویں صدی میں محبت کا جذبہ اس قدر خطرناک ہو گیا ہے؟ کیا یہ سماج میں بڑھتے ہوئے تشدد کی طرف اشارہ ہے؟ یا پھر صدیوں سے ہندوستانی سماج کی سوچ میں شامل آمرانہ عقائد اب بھی اتنے مضبوط ہیں کہ مطالعے اور لبرل خیالات کا گڑھ سمجھی جانے والی دانش گاہ کے طلباء بھی اس سے آزاد نہیں ہو پائے ہیں؟ ہندوستان کی تاریخ میں محبت اور محبت کی تاریخ میں ہندوستان ایک دوسرے سے گھلے ملے ہیں ، مگر کیا اب یہاں محبت کی تعریف اور اس کے عملی تصورمیں کوئی تبدیلی آ گئی ہے؟ ہمارے معاشرے کی آمرانہ ذہنیت کہیں محبت کرنے والوں کو ان کے محبت کی وجہ سے متشدد تو نہیں بنا رہی ہے؟ آج ایسا کیا ہو جاتا ہے کہ کوئی جس سے محبت کرنے کا دعوی کرتا ہے اسے کلہاڑی، پستول اور چاقو جیسے ہتھیاروں سے بے دردی سے مار ڈالنا چاہتا ہے۔؟ سوال ہے کہ محبت جینے کا سہارا بنتی ہے یا زندگی کے اختتام کا سبب؟ جو محبت جینا نہ سکھا سکے کیا وہ محبت کی تعریف میں کہیں سما سکتی ہے؟ یہ اور اس طرح کے بہتیرے سوالات جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں ہوئے واقعہ کے بعدمسلسل گردش میں ہیں، جس میں ایک نوجوان نے دن دہاڑے نہ صرف اپنی زندگی کے دیئے کو گل کر دیا بلکہ اس لڑکی کو بھی زندگی اور موت کے درمیان جھولنے پر مجبور کر دیا، جس سے وہ محبت کرتا تھا۔


جس ملک میں محبت کا مطلب قربانی، عبادت اور عقیدہ رہا ہو وہاں کے نوجوانوں کو ایسی پر تشدد محبت کرتے دیکھ کر تشویش ہوتی ہے۔ محبت سے انکار کر دینے پر کوئی کسی کا قتل کرنے پر کیوں آمادہ ہو جاتا ہے؟ جسے وہ جان سے زیادہ چاہنے کا دم بھرتا ہو اس کا دم کیوں گھونٹ دینا چاہتا ہے؟ کیا معاشرے میں محبت کا جذبہ دلوں سے ہوکر گزرنے کی بجائے اب کسی کو صرف جسمانی طور پر حاصل کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے ؟ محبت صرف جسمانی ہوس کی بھینٹ تو نہیں چڑھ رہی ہے؟ کیا محبت کرنے والا اتنا مطلب پرست ہو سکتا ہے؟ اتنا خود غرض کہ جس سے محبت کرتا ہو اسے ہی مار دے یا اسے زمانے کی ٹھوکریں کھانے کو چھوڑ دے۔ اگر تشدد کسی رشتے کے بگڑنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے تو اس رشتے میں سچائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ عزت کی بھی سخت کمی ہوتی ہے۔ محبت درد نہیں، خوشی دیتا ہے۔ اگر محبت ذرا سا بھی آپ کی زندگی کو چھو گئی ہو تو یہ آپ کو خوشی سے لبریز کر دیتی ہے۔ محبت، خلوت ہو یا جلوت، کبھی بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتی، محبت کا جذبہ و احساس ہمیشہ ایک اندرونی طاقت بن کر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔
جے این یو میں ہوا واقعہ اس طرح کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ یک طرفہ محبت میں لڑکیوں کے قتل اور ان پر تیزاب پھینکنے کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہے۔ جے این یو کے لڑکے کے بارے میں بھی جو خبریں آ رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ لڑکا اپنی ساتھی سے محبت کا دعویدار ہے۔ لیکن یہ ایسی محبت تو نہیں لگتی ہوتی جو قربانی سکھاتے ہوئے روح کو تقویت دیتی ہے۔ جو اونچائی پر لے جاتی ہے کبھی نیچے نہیں گراتی، محبت تو نرم خو بناتی ہے تشدد کرنا کبھی نہیں سکھاتی۔ اگر واقعی طالب علم کو اس طالبہ سے محبت ہوتی تو یہ خون خرابہ کبھی نہیں ہوتا۔ یہ یک طرفہ محبت کا معاملہ تھا، اور جسم حاصل کرنے کا جنون۔محبت تو ہمیشہ دو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔ اس میں دو لوگوں کے جذبات کا ایک دوسرے سے تبادلہ ہوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ آج کی نسل محبت کی اس اصل روح کو نہیں سمجھ پا رہی۔ محب و محبوب تو ایسے ساتھی ہوتے ہیں۔ جو ہم سفر اور ہم نوا بن کر ایک دوسرے کے جذبات کا احساس کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو جینا سکھاتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں کئی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ لڑکے محبت کو اور گرل فرینڈ کو ایک مصنوعاتی شئے سمجھنے لگے ہیں۔ وہ اپنی گرل فرینڈ پر شوہر کی طرح حق جتانے لگتے ہیں۔جہاں محبت دوطرفہ ہوتی ہے، وہاں بھی اور جہاں یک طرفہ ہوتی ہے وہاں بھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل محبت میں تشدد کی وجہ مردوں کا غرور ہے اور یہ تربیت اور پرورش پر منحصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت اب روح سے ہٹ کر جسم سے وابستہ ہو چکی ہے۔ جب جسم اپنے حیوانی جذبوں میں الجھ جائیں تو محبت اپنا روپ بدل کر ہوس میں ڈھل جاتی ہے۔ اور ہوس کبھی بھی سچی محبت نہیں ہو سکتی۔
وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بدلتاہے۔ جدیدیت کوئی بری بات نہیں ہے۔ یہ ایک خیال ہے، جو آزاد فضا میں سانس لینے کا تصور پیش کرتا ہے۔ لیکن جدیدیت صرف اوڑھ لینے کی چیز نہیں ہے۔ جاگیردارانہ سوچ برقرار رکھتے ہوئے سماج جدید نہیں ہو سکتا ، کیونکہ جاگیردارانہ سوچ کی کھڑکیاں بند ہوتی ہیں، یہاں مرد کی طاقت کے سامنے عورت محض اک کھلونا ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑی ستم ظریفی ہے کہ آج بہت سے لڑکے ساتھی اور دوست نہیں بلکہ جاگیردار کی طرح پیش آتے ہیں۔ وہ محبت کی شروعات تو اچھے طریقے سے کرتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ ایک دوسرے پر اپنی پسند مسلط کرنے لگتے ہیں۔ محبت کے تعلقات میں لڑکا اتنا حاوی ہو جاتا ہے کہ اس کی کوئی بات ان سنی ہونے پر وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔
اسی سوچ کی وجہ سے تشدد بڑھ رہا ہے۔ " ہوس پر مبنی اظہار کو " مردانگی " کا نام دیا جانے لگا ہے۔عورت کے خلاف محبت کے نام پر بڑھتی ہوئی تشدد کی دوسری بڑی وجہ ہے ٹیکنالوجی کا استعمال۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے لڑکیوں کے ایم ایم ایس بنا لیے جاتے ہیں، پھر ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے بھی معاشرے میں تشددکے رجحان کو جنم دیا ہے۔ آج کیمرے والے موبائل فون بچوں کے پاس بھی ہوتے ہیں۔انٹرنیٹ، موبائل فون پر لوگ گندی سائٹس دیکھتے ہیں۔اس سے جذبہ محبت پر منفی اثر پڑتا ہے اور شخصیت تشدد پسند ہوتی جاتی ہے۔ یہی تشدد معاشرے میں مختلف شکلوں میں دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر عورتوں کے خلاف۔یہ درست ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ہم زیادہ آزاد ہوئے ہیں۔ خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ عورت و مرد کا فرق مٹ رہا ہے۔ لیکن اس آزادی کو ہم سنبھال نہیں پا رہے ہیں۔ آزادی اک ناسور بن گئی ہے۔رشتہ ایک شیشے کی طرح ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی ضرب سے یہ کرچی ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہمیں جو آزادی ملی ہے، بات چیت کرنے کی، گھومنے پھرنے کی، اسے اچھی طرح محفوظ رکھنا ہوگا۔ ہمیں اس کو تجارت نہیں بنانا چاہیئے۔ محبت کا مطلب صرف جسمانی تعلقات نہیں ہوتا ہے۔ لیکن آج یہی جسمانی تعلق محبت کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔ یہ معاشرے کے لئے خطرناک ہے۔آج کی محبت جسم کی کشش بن گئی ہے۔ پہلے بھی لوگ محبت کرتے تھے، لیکن اگر کسی وجہ سے دو لوگوں کی شادی نہیں ہو پائی تو وہ اچھی سی یاد لے کر چلے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھی بات چیت ہوتی تھی، تشدد کے جذبات پیدا نہیں ہوتے تھے۔
محبت میں عاشق اور محبوب کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ وہ اس کے قابل ہے یا نہیں۔ لیکن آج محبت کو فاسٹ فوڈ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں ان تعلقات کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ جب یک طرفہ محبت کے بدلے میں محبت نہیں ملتی۔اپنے روح، خواہش اور انا کے مطابق سب کچھ نہیں ہوتا تو بدلے کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ یہ خطرناک نفسیاتی مرض کی طرح ہے۔ محبت کو فاسٹ ٹریک پر چلانے کا نتیجہ ہے یہ تشدد۔یہ فاسٹ ٹریک پر چلنا آج کے سماج نے سکھایا ہے۔ یہاں سب کچھ جلدی چاہئے۔ کامیابی، دولت، شہرت اور محبت بھی۔ محبت میں تعلیم یافتہ طبقہ بھی. ہر چیز کی طرح اس کو بھی صرف ایک کامیابی سمجھنے لگ گیا ہے۔یعنی محبت بھی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ ہو گیا ہے۔ ہمارا سماج کامیابیوں سے اتنا پیار کرتا ہے، کامیابی کو اتنی تعریف ملتی ہے اور ناکامی کو اتنی حقارت سے دیکھا جاتا ہے، کہ محبت میں ناکامی کو بھی کچھ لوگ آسانی سے ہضم نہیں کر پاتے۔ یہی تصور ہمارے اندر محبت کے غلط پیغام کے طور پر داخل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس نفرت کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا ہوگا۔ تبھی اس محبت کی جیت یقینی کر پائیں گے جو ہمارے تنگ مفاد سے کہیں زیادہ بلند اور امر ہے۔
اگر محبت کو صرف محبت ہی رہنے دیں تو کوئی تشدد پسند نہیں ہوگا۔لیکن ایسا ہوتا کہاں ہے اس انقلابی صدی میں تو یہ اور بھی نا ممکن سا ہو کر رہ گیا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اسی انقلابی صدی کے بعد سماج میں خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھنے لگے اور محبت کاتصور مسخ ہوتا گیا ہے اسی کے بعد خاندان بھی آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگے۔ مشترکہ خاندان کی جگہ الگ الگ خاندان کا چلن بڑھنے لگا۔ہمیں لڑکوں میں خواتین کے تئیں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کو روکنے کے لئے بچوں کی پرورش اور اسکول کی تعلیم میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ جو بچوں کو اخلاقی خصوصیات نہیں بتاتی اور ان کو صرف پیسہ کمانے والا بنا رہی ہے۔ہر ماں کو بچوں کو پہلے انسان بنانا چاہئے۔ خاندان، سماج اور اساتذہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کو پہلے اچھا انسان بنائیں۔
عورتوں کیساتھ تشدد کے واقعات کی ایک اور وجہ ہے فلم اور ٹیلی ویڑن کا گھر گھر میں پہنچنا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورتوں کو سامان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اشتہارات میں فحاشی بڑھ رہی ہے۔ اس سے بچوں کے نرم دل پر منفی اثر پڑتا ہے۔ وہ بھی خواتین کو اسی نظریہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔اس پر کنٹرول کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت کو اس پر لگام لگانا چاہئے۔فحش سائٹس پر روک لگانی چاہئے۔ لیکن کنٹرول ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ سماج اور حکومت دونوں کو مل کر اس سمت میں قدم اٹھانا ہوگا، نہیں تو حالات اس سے بھی سخت ترین ہو جائیں گے اور محبت کا عظیم تصور ہی گہن آلود نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہی تباہی کی دہلیز تک پہنچ جائے گا۔دہلی کایہ واقعہ مختلف نہیں ہے، لیکن ایسے محبت میں ناکام ہونے کے بعد لڑکی کو منانے کی بات ہمارے بالی وڈ کے ہیرو بھی کرتے آئے ہیں۔ آخر میں لڑکی کو ہیرو کی محبت کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ شاید ہم نے اپنے ارد گرد محبت کی تعریف جیت اور ہار سے کچھ زیادہ ہی کر لی ہے، اسی لئے اگر آپ کسی وقت اپنی محبت کو نہیں پاتے تو اسے اب ترک یا تپسیا نہیں بلکہ بے وقوفی اور شکست کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔
آج مکتب سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں تک میں طلباءکو سب سے آگے رہنے کا متن پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن ترقی حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم نے اپنی اگلی نسل کو اخلاقیات، اقدار اور درد مندی سے بہت دور کر دیا ہے۔ اگر اس سماجی نظام کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو ہم پائیں گے کہ ہم ایک مایوسی بھرے معاشرے میں جینے پر مجبور ہیں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہمارے اندر سب کچھ چھن جانے کا ڈر بیٹھ گیا ہے۔ ہم تعلیم کو انصرام اور جوڑ توڑ کے ریاضیاتی تصور سے ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم بچوں کے والدین کی جگہ خزانہ مینیجر بنتے جا رہے ہیں۔ بھاگ دوڑ میں ہمارا اپنے بچوں سے بات چیت کا رشتہ ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جس عمر میں بچے میں تبدیلی آتی ہے اور اسے ماں باپ کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت ماں باپ اس کے پاس نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ ایک اندھی اور مشکل غار سے گزرنے لگتے ہیں۔ ان کی زندگی کی کامیابیاں سکڑنے لگتی ہیں اور وہ ہر تنکے کو سہارا سمجھ کر اس کی جانب لپکنے لگتے ہیں۔ ناکام ہو جانے کا خوف انہیں اپنوں سے دور کرتا جاتا ہے۔ جب ان سے وہ تنکا بھی چھوٹنے لگتا ہے تب گھبراہٹ میں وہ کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں۔
خلیل جبران نے کہا تھا"جب محبت تمہیں آواز دے تو اس کی طرف دوڑ پڑو "لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیسے پتہ چلے کہ یہ محبت ہی ہے؟ مارکیٹ کے دلکش اشتہا آمیز اشتہارات کو دیکھتے اور برتتے ہوئے بڑی ہوئی نئی نسل کیا محبت کا صحیح مطلب سمجھ پائے گی؟ ایک چینل پر محبت میں دھوکہ کو ظاہر کرتا پروگرام” اموشنل اتیا چار“ آتا ہے۔ اس میں نوجوانوں اور لڑکیوں کی محبت کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف موج مستی، گھومنے پھرنے اور عیش پرستی کی خاطر ہی محبت کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو انہیں عشق کا ضم کبھی چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا سیکس اور دھوکا جیسی فلموں اور گانے، نغمے آج کی محبت کی اس سچائی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں محبت کے نام پر ایک دوسرے کا جسم حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ اورشوشہ بازی ہی پروان چڑھتی ہے۔کہیں نہ کہیں دولت بھی ایسی سوچ کو فروغ دے رہی ہے۔مارکیٹ کو یہ سب راس آتا ہے اس لیے اس کے خلاف آپ جب بھی کچھ بھی بولیں گے تو بازاری طاقتیں متحد ہو کر آپ کے خلاف ہلہ بول دیں گی۔ جہاں نوجوانوں کی ذہنی ترقی ایسی سوچ کے ساتھ ہو رہی ہو، وہاں اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کو قربت کی تجویز ٹھکرا دے تو یہ اسے ایک عذاب لگنے لگتی ہے۔
جب کوئی لڑکی اپنی مرضی سے رشتہ بناتی یا توڑتی ہے تو اسے طعنہ اور موت کیوں ملتے ہیں،؟جبکہ لڑکا اگر اپنی مرضی سے رشتے بناتا اور توڑتا ہے تو اسے مردانگی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔قصور لڑکا یا لڑکی ہونے میں نہیں، ان کے عمل اور سماجی تربیت میں ہے۔ لڑکوں کو بچپن سے اپنی بات منوانے کا حق دیا جاتا ہے۔ انہیں نہ سننے کی عادت نہیں ہوتی۔ عورت کو اپنی جاگیر سمجھنے والی ذہنیت بھی اس کی اپنی رائے رکھنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اگر لڑکیاں اپنی رائے رکھتی ہیں تو ان کو آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذہنیت عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کے فیصلہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔لڑکیوں کا یک طرفہ محبت کے معاملے میں تشدد کا شکار ہونا عام بات ہے۔ اگر پولس کی مانیں تو دہلی میں پندرہ فیصد قتل وہ لوگ کرتے ہیں جو جذباتی طور پر نڈر اور بے قابو ہوتے ہیں۔آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ محبت کے ساتھ ساتھ ایثار اور قربانی کے جذبے کو بھی پروان چڑھائیں۔

۔۔۔مزید

جمعرات، 8 اگست، 2013

رمضان میاں

رمضان میاں
محمد علم اللہ اصلاحی
جیسے جیسے عید کا دن قریب آ رہا تھا رمضان میاں کی الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔ سال کے بارہ مہینوں میں ایک رمضان ہی کے مہینےمیں تو اسےکچھ سکون میسر آتا تھا ۔اب وہ بھی ختم ہونے کو تھا ۔کچھ سال پہلے تک حالات اتنے دگرگوں نہ تھے ۔وہ محنت مزدوری کرکے دن میں ستر اسی روپے کما لیتا تھا اور کسی نہ کسی طرح گھر کا خرچ پورا ہو جاتا تھا، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے کمر توڑ مہنگائی اور اقتصادی بحران نے تو جینا ہی مشکل کر دیا تھا۔اب اس قلیل آمدنی میں پورے گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ روزگار کے مواقع بھی کچھ بہتر نہ تھے۔ اور اوپر سے حکومت کی نت نئی پالیسیوں نے تو سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔

ان حالات میں ایک مزدور کی گزر اوقات بہت مشکل ہو گئی تھی۔ گھر میں ایک بوڑھی ماں، بیوی اور تین بچے تھے، چھ افراد کے اخراجات کسی پہاڑ سے کم نہ تھے۔ بڑوں کو تو سمجھایا جا سکتا تھا لیکن بچے ماننے میں کہاں آتے تھے ۔ ان کو تو بس ایک ہی دھن تھی کی عید آ رہی ہے اب نئے کپڑے بنیں گے گھر میں سویّاں تیار ہو گی۔اوروں کی طرح ہمیں بھی عیدی ملے گی ۔

رمضان شروع ہوا تو تھوڑا سکون ملاتھا۔ چلو اب ایک وقت ہی کےکھانے کا بندو بست کرنا پڑے گا۔ بیمار ماں نے بھی روزے رکھنے شروع کر دیئے کہ اس بہانے بیٹے کو کچھ سکون ملے گا۔ بیوی نے ان بچوں کو جن پر ابھی روزے فرض بھی نہ ہوئےتھے ثواب کا لالچ دے کر روزے رکھنے کے لیے راضی کر لیا تھا۔ اب صرف ایک وقت کے کھانے کا امکان باقی تھا۔ اس کے علاوہ بستی کے کھاتے پیتے لوگ بھی کبھی کبھی افطاری کے نام پر کچھ پکوان اور پھل وغیرہ بھیج دیتے ، جس سے کچھ گزر اوقات ہو جاتی تھی۔

رمضان میاں سوچ رہے تھے، عیدآنے کو ہےلیکن یہ مہینہ تو جیسے پر لگا کر اڑتا جا رہا تھا بس اب آخری چار دن باقی رہ گئےتھے ۔عیدآنے کو ہے۔ اب کیا ہوگا؟ بچوں کے کپڑے کہاں سے بنیں گے؟ گھر میں سوئیاں وغیرہ کا تو کوئی انتظام ہی نہیں ہے، اور آگے پھر سے دو وقت کی روٹی کا اہتمام کرنا پڑے گا ۔کاش کہ ساری عمر رمضان کا ہی مہینہ ہوتا۔

۔۔۔مزید

اتوار، 4 اگست، 2013

آہ بے چاروں لے اعصاب پہ۔۔۔

محمد علم اللہ اصلاحی
’’علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں قوم کے دانشوروں کے ذہنی حصار پر افسوس کرتے ہوئے ایک بہت لطیف اِشارہ کیا تھا ”آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار“ اِقبال نے جس سوز اور درد کے ساتھ یہ شعر کہا ہوگا اس کا اندازہ کلامِ اِقبال سے مناسبت رکھنے والے اصحاب بخوبی لگا سکتے ہیں۔ اقبال نے جس ذہنی حصار اور اخلاقی پستی کا ذکر کیا ہے وہ تقریباً ہر زمانے میں موجود رہی ہے۔ اور انسانی نفسیات اس بات کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ انسان جنس مخالف کی طرف مائل ہو۔ دور حاضر کی ذہنی پستی اور اخلاقی زوال کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو خود کو اہل ایمان کہتے ہیں وہ بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔جب سے بزم اردو (یہ انٹر نیٹ پربزم اردو ڈاٹ نیٹ کے نام سےفیس بک کی طرح ایک اردو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے) کی شروعات ہوئی ہے میں نے گوگل اینالیٹکس دیکھنا شروع کیا ہے گوگل اینالیٹکس کی مدد سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کی ویب سائٹ پر ٹریفک کہاں سے آ رہی ہے اور کون سا لفظ لوگوں کو آپ کی ویب سائٹ پر لانے میں معاون بن رہا ہے۔

وہ وقت میرے لیے انتہائی حیرت و تعجب کا تھا جب میں نے یہ محسوس کیا کہ نئے وزیٹرس میں تقریباً 40 فیصد وہ وزیٹرس ہوتے ہیں جو صرف اورصرف وقتی تلذز کی تلاش میں ویب سائٹ کی خاک چھانتے ہیں۔ فحش سائٹ بنانے والوں نے جنس کے بھوکے نیٹیزن(شہر کا باسی سٹی زن، بعینہ اسی طرح انٹر نیٹ کا باسی نیٹی زن) کی ان سائٹس تک رسائی اس قدر آسان بنا دی ہے کہ انگریزی آلفابیٹ کا محض ایک حرف سرچ انجن میں داخل کرتے ہی سیکڑوں سائٹس کے پتے آن کی آن میں نظر کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ کسی شخص کے ذہن و مزاج ، وجدان و فکر اور قلبی میلانات پر لسانی و تہذیبی اثرات کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔بزم اردو کی تشکیل کے پیچھے یہ ہی مقاصد کار فرما تھے کہ جدید نسل کا ناطہ زبان و صلح ادب سے جوڑا جائے اور مشرقی اقدا رکے تحفظ کا دفاع اس انداز میں کیا جائے کہ جدید ذہن بھی اسے قبول کریں۔

لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ سیکس کے یہ متلاشی انگریزی الفاظ کو ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اردو کلیدی الفاظ( کی ورڈس) تلاش کرتے ہوئے بزم تک پہنچتے ہیں۔مجھے سوءادب معلوم ہوتا ہے کہ میں سرچ کیے جانے والے ان حروف /الفاظ/ فقروں کو یہاں تحریر کروں۔ تلا ش کیے جانے والے فقروں اور الفاظ میں بنیادی جنسی سوالات کے علاوہ اس قدر غلاظت بھری باتیں ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک سلیم الفطرت شخص کو اس ذہنی پستی پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ انسان اور خاص طور پرمشرق کا رہنے والا ، خدا اور یومِ جزاءپر ایمان رکھنے والا انسان بھی قعر مذلت میں اس قدر گر سکتا ہے ؟چونکہ بزم کے ” کی ورڈز “ میں تصاویر ، ویڈیوز موجود ہیں اور فورم ا ور بلاگ بزم اردو میں کچھ قلم کاروں کی ایسی تحریریں بھی جن میں وہ کی ورڈس یا کلیدی الفاظ شامل ہیں۔ اس لیے گوگل ان ہوس کے بھوکے لوگوں کا رخ بزم کی طرف موڑ دیتا ہے۔جب ہماری ادبی و یب سائٹ کا یہ حال ہے تو جو ویب سائٹس خالص فحش مواد فراہم کرتی ہیں ان پر ان جنس کے بھوکے افراد کی آمد ورفت کتنی ہوتی ہوگی؟‘‘

یہ میرے ایک عزیز دوست اور بزم اردو کے منتظم ڈاکٹر سیف قاضی کا تجزیہ ہے جسے انہوں نے انتہائی کرب کا اظہار کرتے ہوئےمجھے انٹرنیٹ رابطہ میں بتایا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر سیف قاضی پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک ہومیو پیتھی ڈاکٹر ہیں لیکن ان میں اردو کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور اسی محبت نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اردو حلقہ کے لئے فیس بک کا متبادل کوئی سوشل نیٹ ورک بشکل سائٹ یا فورم بنائیں ،” بزم اردو “ ان کی اسی محنت اور محبت کا ثمرہ ہے جہاں آج اندرونِ ملک و بیرون ملک ہزاروں کی تعداد میں محبان اردو خوشہ چینی میں مصروف ہیں۔

میں واقعی یہ بیان نہیں کر سکتا کہ ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے او پر کیا گذری۔میں سوچ رہا تھا کہ ہم کتنے گر گئے ہیں اورہمارا معاشرہ کتنا زوال پذیر ہو گیا ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں علم و ادب کے خزانے دفن ہیں ہم اُنہیں چھوڑ کر گندگی اور آلودگی کو تلاش کرنے اور اپنے ذہن و اخلاق کو آلودہ کرنے پر جان بوجھ کر آمادہ ہیں۔مجھے یہ معلوم کر کے اور بھی حیرت ہوئی کہ اب اس قسم کی گھٹیا چیزیں اہلِ اردو بھی، جو خود کو سب سے زیادہ تہذیب یافتہ اور بہترین زبان والا قرار دیتے ہیں، تلاش کر رہے ہیں۔ظاہر ہے میٹر اور مواد یقینا موجود ہوگا تبھی تو لوگ اس طرح کی چیزیں تلاش کر رہے ہیں۔اور اگر نہیں بھی ہو گا تو اس مغربی تہذیب نے اس قدر یلغار کی ہے کہ اب اس سے اہل ایمان اور خود کو مسلمان کہنے والے لوگ بھی محفوظ نہیں ہیں۔حالانکہ دینِ اِسلام ” ستر“ و” بصر “کے معیار ات کی مفصل اور بخوبی وضاحت کرچکا ہے۔ مغرب تو مادر پدر آزاد ہے جس کی ساری تگ و دَو اور کوشش دُنیا تک ہی محدود ہے انھوں نے اصل زندگی دنیا کو ہی تصور کر لیا ہے ۔جب کے ہمارے یہاں معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے ، اس کے باوجود بھی ہم اپنی آنکھیں چرائے ہوئے ہیں اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بعض نوجوان اسے درست قرار دے کر دلائل فراہم کرنے لگ گئے ہیں جو ایک غلط بات ہے۔ بے حیائی ہر درجے میں قابل مذمت ہے صرف آخری درجے کی باتوں کو برا بھلا کہہ کر ہم اسی مغربی قافلے میں شامل ہو رہے ہیں جن کے نزدیک باقی سب کچھ جائز ہے۔

اسلام نے صرف زناکو ہی حرام قرار نہیں دیا ہے بلکہ اس جیسے خیالات اور اس کی جانب لے جانے والے اقدامات بھی اس زمرے میں شامل ہیں اللہ تعالی نے فرمایا”اور تم زنا کے قریب بھی مت جاؤ۔ بلاشبہ وہ ایک بے حیائی کا کام ہے اور برا راستہ ہے۔“ (بنی اسرائیل 32)۔یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ زنا کے قریب جانے سے مراد وہ تمام راستے اور ذرائع ہیں جو زنا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں لہٰذا ان ذرائع کا استعمال بھی حرام ہے جو زنا سے قریب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”پس آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے۔اور ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑناہے۔ اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چلنا ہے۔ اور ہونٹ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا بوسہ لینا ہے۔ اور دل گناہ کی طرف مائل ہوتاہے اور اس کی خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“(مسند احمد :جلد2، ص 343'موسسۃ قرطبہ القاھرہ)

اس تحریر کو پڑھنے کے بعد مجھے امام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کی ایک بات ذہن میں آئی جس میں انھوں نے شرک کی تعریف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شرک محض خدا کے انکار کا نام نہیں ہے بلکہ شرک یہ بھی ہے کہ ہم وہ کام کریں جس سے اللہ نے ہمیں منع کیا ہے اور ہم جانتے بوجھتے وہ کام کرتے ہیں گویا خدا سے نہیں ڈرتے اور خدا سے نہ ڈرنا بھی شرک ہے۔اب جو لوگ بھی اس طرح کی برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں انھیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کہیں شرک تو نہیں کر رہے ہیں۔جو لوگ بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر اپنے ذہنوں کو آلودہ کرتے ہیں وہ اسی زمرے میں شامل ہوں گے اس لئے بہرحال اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے اور حتی الامکان اس بات کی کوشش ہونی چاہئے کہ ذہن ادھر نہ بھٹکے۔

اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم چاہیں گے،اور برائی کو برائی تصور کریں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام صحیح معنوں میں حکومتوں کے کرنے کا ہے کہ وہ اس طرح کی چیزوں پر لگام لگائے اور ایسا سسٹم بنائے کہ ایسی سائٹس کھل ہی نہ سکیں ۔لیکن ہماری حکومت بار بار یاد دلانے کے باوجود اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی انٹرنیٹ پر پیش کی جا نے والی فحش سائٹس پر پابندی لگانےکے حوالے سے مرکزی حکومت کو چار ہفتے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ خبروں کے مطابق کیرالا کے کملیش واسوان نامی ایک شخص کی درخواست کے پیش نظرسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی حل نہیں نکلا۔حیرت ہے کہ ہماری ملیّ تنظیمیں بھی اس جانب دھیان نہیں دیتیں انھیں تو صرف مذہبی بیان جاری کرنا آتا ہے۔انھیں دہشت گردی ،کرپشن اور اسی طرح کی چیزوں پر بیان بازی سے فرصت نہیں ملتی۔

حالانکہ یہ اتنا خطرناک ہے کہ ہم اس کا اندازہ تک نہیں کر سکتے ۔ معاشرے میںشیطانیت کی حد تک پھیلتی ہوئی گمراہی،ہم جنس پرستی ،زنا، عصمت دری ،لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے یہ سب اسی کے نتائج ہیں۔جس طرح دہشت گردی، بد عنوانی اور بے ایمانی جیسی معاشرے کے لئے خطرناک ہیں۔ٹھیک اسی طرح فحش سائٹس بھی سماج کے لئے انتہائی خطرناک اور ناسور کی مانند ہیں جو میٹھے زہر کی طرح انسان کو تباہ کر دیتی ہیں چاہے وہ کسی بھی زبان یا لنگویج میں ہوں۔بلکہ یہ تو جنگ کا ایک حصہ ہے جسے سائبر وار کے نام سے جانا جاتا ہے اور کہیں نہ کہیں ہمارے بچے یہ دیکھ کر اخلاقی باختگی کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ عملی طور پر اس کی انسدادی تدابیر کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔

مسلم والدین ، ملیّ تنظیمیں اور این جی اوز کو اس جانب دھیان دینا چاہیےاور اس طرح کی چیزوں کو بلاک کیےجانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اس بات کی تربیت دینی چاہیے کہ وہ کس طرح کی چیزیں دیکھیں اور کن سائٹس سے پرہیز کریں۔ کچھ سال قبل ملیشیا نے اس طرح کی برائیوں سے بچنے اور مسلمانوں کو انٹرنٹ پر بڑھتے ہوئے فحش مواد سے روکنے کے لیے دُنیا کا اولین ’حلال‘ سرچ انجن شروع کیا تھا اس طرح کی سائٹوں کوبھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔بعض جگہوں پر فیس بک اور یو ٹیوب پر بھی پابندی ہے۔خود ہندوستان کی معروف دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں صرف اکیڈمک سائٹس ہی کھلتی ہیں بعض پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں بھی ایسا ہو رہا ہے لیکن اس سے کام نہیں بنے گا کلی طور پر اس کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے پڑیں گے۔تبھی بچوں کو اس بات سے روکا جا سکتا ہے کہ ایسے سائٹس تک ان کی رسائی نہ ہو۔

کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساری انسانیت اس کی زد میں آ رہی ہے اور اس کے اثرات سب پر یکساں طور پر پڑ رہے ہیں۔اس لئے بھی نہ صرف بطور مسلمان، بلکہ بحیثیت ایک انسان ، اسکی روک تھام کیلئے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اور ایک جمہوری ملک میں آواز اٹھانے کی چونکہ آزادی ہو تی ہے تو ہم اس کے خلاف آواز اٹھا کر حکومت کو اس بات پر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اس پر پابندی لگائے۔ جہاں تک اردو میں اس طرح کے مواد ہونے کی بات ہے تو حکومت کو اس بارے میں پتہ ہی نہیں ہے ارباب حل و عقد اور اس طرح کی چیزوں کا ادراک رکھنے والے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے منتظمین کو روشناس کرائیں اورمطالبہ کریں کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔ خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے556 سائٹس کو بند کر نے کا فیصلہ لے لیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اہلِ اردو کو چاہئے کہ وہ بھی اس طرح کی گندگی سے حکومت کو واقف کرائیں تاکہ اس پر بھی نکیل ڈالی جا سکے۔انسان آئند ہ نسلوں کا مقروض ہوتا ہے اسکی ذمہ داری ہے کہ آئندہ نسلوں کے قرض کو چکانے کے لئے مستقبل کی اچھی طرح نشاندہی اور منصوبہ بندی کرکے ان کے لئے بہتر راہیں ہموا ر کر کے جائے۔

۔۔۔مزید

دہلی بجلی کی شرح میں اضافہ

عوام کا خون چوس رہی ہے حکومت

محمد علم اللہ اصلاحی
دہلی کے عوام پر بجلی باربار گر رہی ہے۔گزشتہ نو سالوں سے بجلی سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ بجلی کمپنیاں تو اس معاملہ میں آگے ہیں ہی، دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) اور حکومت کا رویہ بھی بیزار کن ہے۔ پراویٹائزیشن کے بعد دارالحکومت میں بجلی کی کوالٹی میں تو ضرور بہتر ی آئی ہے لیکن عام لوگوں کو اس کے لئے جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، اس کی کوئی حد ہی نظر نہیں آ رہی۔ حال ہی میں جس طرح فیول چارجیزکے نام پر عوام کے اوپر 4 سے 7 فیصد تک مزیدبوجھ ڈالا گیا ہے، اس سے یہ سوچا جانا لازمی ہے کہ آخر دہلی نے کیا کھویا، کیا پایا۔ جتنی امیدوں کے ساتھ دارالحکومت میں بجلی کی نجکاری ہوئی تھی، وہ ساری امیدیں اب شبہات کا روپ لے چکی ہیں۔شک کے گھیرے بڑھتے ہی جا رہے ہیں،یہ حالت تو تب ہے جب ہم مانتے ہیں کہ یہ ٹرانسپیرنسی کا دور ہے لیکن بجلی کی نجکاری کے ساتھ ہی شک کے جو بادل چھانے شروع ہوئے، وہ اب بہت گھنے ہو چکے ہیں۔ پرائیویٹ بجلی کمپنیاں اب تک آرٹی آئی کی زد سے بھی باہر ہیں وہ اپنی من مانی کر رہی ہیں اور حکومت بھی اس کو روکنے میں ناکام ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے یہاں بنیادی مسئلہ شاید ہی کبھی اخباروں کی سرخیان بن پاتے ہوں۔ لیکن گزشتہ کئی دنوں سے قومی دارالحکومت اور این سی آر کے اخبار بجلی و پانی کے بحران کو اپنا موضوع بنا رہے ہیں۔ارباب اقتدار کوغریب عوام کی پریشانی اور صبر کی کہانی بتا رہے ہیں،اس سے لوگوں کی نہ صرف بے بسی کا پتہ چل رہا ہے بلکہ یہ بھی کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ حکومت کتنے پانی میں ہے اور اس کے دعوے کس حد تک درست ہیں ۔اس سلسلہ میں یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ عوام کے غصہ اور بے چارگی کا ہی نتیجہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ وپاور کٹ سے پریشان لوگ بجلی دفاتر پر دھاوا تک بول رہے ہیں۔ایسا انتہائی صورتوں میں ہوتا ہے ۔دہلی میں واقعی حالات ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔خوردہ بازار میں ناریل اور بانس کے پنکھوں کی کھپت اچانک بڑھ گئی ہے۔ اپنے اپنے کمروں سے باہر بے بس گھوم کر معزز خاندانوں کی راتیں کٹ رہی ہیں۔ اپارٹمیٹس کے دربان اور فلیٹ کے مالکان کی حیثیت ایک سی ہو گئی ہے۔ وہ اندھیرے میں ہی چور آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی نظریں جھکا لیتے ہیں۔گرمی اور پسینے میں جاگتے ہوئے مریضوں کی کراہ اور بچوں کی چیخوں کی آواز حکومت یا بجلی کمپنیوں کو سنائی نہیں دیتی ۔
دہلی کو ہر سطح پر عالمی لیبل کا شہر بنانے کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ محض دعوے تک ہی محدود ہوتے ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔عوام کی اس بے بسی کو دیکھتے ہوئے مجھے یاد پڑتا ہے 15 اگست 2003 کا وہ واقعہ جو کبھی ایسے ہی اخباروں میں پڑھی تھی ۔ مشرقی امریکہ اور اس کی حد سے لگے کینیڈا کے شہروں میں اچانک بجلی گل ہو گئی تو لگا کہ وقت جیسے رک گیا ہے۔ نیو یارک میں سڑکیں جام ہو گئیں۔تینوں ہوائی اڈوں پر اندھیراچھا گیا۔ کچھ لوگ مین روڈ سے پیدل چل کر اور کچھ لوگوں نے کشتیوں میں بیٹھ کر اپنی منزل کو تک پہونچنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ زیر زمین ریلوں میں پھنس گئے۔ بڑی بڑی عمارتوں میں لوگ لفٹ میں محبوس ہو گئے گئے۔ سب کچھ اتنا خوفناک ہو گیا کہ اس وقت کے صدر جارج بش کو ٹیلی ویژن کے سامنے صفائی دینی پڑی کہ اس پاور کٹ کے پیچھے کسی دہشت گرد کی کارروائی نہیں ہے۔اور پھر اس کے بعد سے انھوں نے اس کے لئے وہ اقدامات کئے کہ آج تک بجلی کو لیکر کوئی خبر سننے میں نہیں آئی ۔یہ ان کی پیشگی دور اندیشی اور عوام کے درد کو سمجھنے کا نتیجہ تھا ۔مگر دہلی میں ایسا ہونا تو روزانہ کا معمول ہو گیا ہے اور اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
دہلی میں بجلی کی شرح میں مسلسل اضافہ اور لوڈ شیڈنگ و کٹنگ پاور پرہمیشہ سوال اٹھتے رہے ہیں۔لیکن کبھی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔ اب ایک بار پھرڈی ای آر سی یعنی دہلی بجلی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک اضافہ کا اعلان کیا ہے تو عوام کے غصہ اور رد عمل کو بھی نادرست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔یہ الگ بات ہے کہ تازہ اضافہ سے بجلی کی شرح میں کوئی بڑا فرق نہیں آئے گا۔ڈی ای آر سی کی طرف سے قیمتیں بڑھائے جانے کے اعلان کے بعد حکومت نے ایندھن چارج کے طور پر لی جانے والی رقم نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔نتجتابیس تیس یا پچاس پیسے کے اضافہ کے علاوہ دو سو ایک سے چار سو یونٹ تک بجلی خرچ کرنے کی صورت میں یہ شرح تھوڑی سستی بھی ہو جائے گی یہ ٹھیک ہے۔ ابھی تک صرف دو سو یونٹ تک فی ماہ کی کھپت پر ایک روپے فی یونٹ کی سبسڈی دی جاتی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ شرح میں تازہ اضافہ کی دلیل کیا ہے؟ حکومت کو اپنی طرف سے سبسڈی دینے کا اعلان کیوں کرنا پڑا؟یہ سوالات بہر حال حکومت سے پوچھے جانے کے لائق ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے لوگ دو سے تین گنا مہنگی شرح پر بجلی خرید رہے ہیں اور کمپنیاں مسلسل کافی منافع بٹور رہی ہیں۔ اگر خسارے کی دلیل صحیح ہے تو حکومت کو بجلی کی ترسیلی کمپنیوں سے صحیح تفصیلات پیش کرنے کو کہنا چاہئے تھا۔ ساتھ ہی کیگ سے ان کے حساب کتاب کی جانچ کرائی جانی تھی۔ لیکن بار بار مطالبہ اٹھنے کے باوجود شیلا دکشت حکومت اس کے لئے کبھی راضی نہیں ہوئی۔ الٹے وہ انہیں سینکڑوں کروڑ روپے کے مددسے پیکیج مہیا کرانا ضروری سمجھتی رہیں۔اب اس کے پیچھے کیا مفاد وابستہ ہے یہ وہی واضح کر سکتی ہیں تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات کو ذہن میں رکھ کر جو سبسڈی دی جائے گی، اس کی بھرپائی آخر کار دوسرے اشیاء میں لوگوں سے وصول کئے گئے ٹیکس سے ہی ہوگی یہ راحت ہے یا سرکاری خزانے سے کمپنیوں پر مہربانی کی ترکیب؟
پرائیویٹ کمپنیوں نے اس سال بھی 6600 کروڑ کا خسارہ بتا کرریٹس بڑھانے کی دلیل دیا تھا۔ جب 2002 میں نجکاری ہوئی تھی، اس وقت 1200 کروڑ کا سالانہ خسارہ تھا۔ دس سال میں خسارہ پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ نجکاری سے پہلے نقصان کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ 60 فیصد بجلی چوری ہو جاتی ہے۔ اب ٹی اینڈ ڈی لسیج 20 فیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک فیصد چوری رکے تو 100 کروڑ روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ 40 فیصد چوری رکی تو ہر ماہ 4000 کروڑ کی اضافی آمدنی ہو گئی۔ گزشتہ دس سال میں اگر ان کمپنیوں کو دس گنا مہنگی بجلی بھی خریدنی پڑ رہی ہو تو اس خسارے کی تلافی تو صرف بجلی چوری رکنے کی آمدنی سے ہی ہو جاتی ہے۔ عوام جانتی ہے کہ پچھلے دس سال میں بجلی کا بل بھی 8 سے 10 گنا بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے خسارے کی تلافی کرنے کے لئے بھی ان کمپنیوں کو 5000 کروڑ سے زیادہ کی مدد کی ہے۔دہلی برقی بورڈ کی ساری جائیداد کوڑیوں کے دام دینے کا معاملہ تو الگ ہے ہی۔ ان سب کے باوجود اگر پرائیویٹ کمپنیاں 6600 کروڑ سالانہ کا نقصان کرتی ہیں تو ہر آدمی کا شک بڑھے گا ہی۔ 
یہ شک اس لئے اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے اکاؤنٹس کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتیں۔سی آئی سی نے ان کمپنیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کا حکم دیا تو عدالت سے اسے رکوا دیا گیاآج تک رریگولیٹری بیلنس شیٹ باہر نہیں آئی۔حکومت اور ڈی ای آر سی کے کردار ان شبہات کو اور بڑھاتی رہی ہے۔بجلی کے ریٹ بڑھنے سے پہلے ہی حکومت کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا تھا کہ ریٹ بڑھ سکتے ہیں،بڑھ بھی گئے۔ ریٹ بڑھنے کے بعد حکومت پلو جھاڑ لیتی ہے کہ ڈی ای آر سی تو خود مختار تنظیم ہے۔ مگر جب ڈی ای آر سی کبھی ریٹ کم کرنے کا حکم تیار کرتا ہے تو حکومت اسے یہ حکم جاری کرنے سے روک دیتی ہے۔ظاہر ہے، یہ پہلے کی کئی اضافہ سے پیدا ہو رہے عوامی ناراضگی کو تھوڑا کم کرنے، متوسطہ طبقہ کو لبھانے اور اگلے اسمبلی انتخابات میں حزب اختلاف کے اسے ایشو بنانے کے پیش نظر حکومت نے یہ طریقہ کاایجاد کیا ہے۔ 
عدالت میں حکومت کی یہ دھاندلی غیر قانونی تو ثابت ہوتی ہے لیکن ریٹ کم نہیں ہوتے۔ بجلی ریٹس کے معاملے میں حکومت کی حالت ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی پیٹرول کی قیمتوں پر مرکزی حکومت کی ہے ۔چلمن کے پیچھے بیٹھ کر اشارے جاری ہیں اور یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ کوئی دیکھتا نہ ہو۔ڈی ای آر سی کے صرف ایک صدر ہی یہ ثابت کر پائے کہ یہ ادارہ عوام کے مفادات کے لئے بنائی گئی ہے۔ برجیدر سنگھ نے بجلی کمپنیوں کے خسارے کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ منافع میں چل رہی ہیں لیکن ان کی ایک نہیں چلی شک کے بادل اس بار اس لئے بھی زیادہ ہے کہ ڈی ای آر سی نے ریٹس بڑھانے کا مکمل حکم ہی جاری نہیں کیا، جس کی وجہ بھی بتائے جائیں۔بس، نئے ریٹس کا فرمان جاری ہو گیا حکومت نے گزشتہ سال سی اے جی تحقیقات کا وعدہ تو کیا تھا لیکن پورا نہیں۔ عوام نجکاری کے فوائد حاصل کرنے کی بجائے پرائیویٹ اجارہ داری کی شکار ہو رہی ہے۔ بجلی جیسی ضروری خدمات کے ریٹ ایسے بڑھ رہے ہیں جیسے وہ عیش و آرام کی چیز ہو۔اس پر کوئی جوابدہی بھی طے نہیں ہے اس شہر میں ہر شخص سے پوچھ رہا ہے کہ آخر ریٹکیوں و بڑھ رہے ہیں۔یہ کمپنیاں منافع کمانے کے لئے آئی ہیں، یہ تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن عوام کو بھی یہ جاننے کا حق ملنا چاہیے کہ آخر اس فائدہ کی کتنی حد ہوگی۔
2003 میں جب بجلی کا پراویٹائزیشن ہوا تھا، اس وقت عوام سے لبھاونے وعدے کئے گئے تھے۔کہا گیا تھا کہ اگر بجلی کی چوری رک گئی تو بجلی کے ریٹ بڑھنے کی بجائے کم ہونے لگیں گے۔ بجلی چوری 60 فیصد سے 15۔20 فیصد تک آ چکی ہے جبکہ بجلی کے ریٹ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ کہا گیا تھا کہ اس سیاجارہ داری ختم ہوگی اور 2009 سے دہلی میں کئی بجلی کمپنیاں دستیاب ہونگی۔ فون کی طرح جو کمپنی معقول خدمت دے، اسی سے بجلی کا کنکشن لے لو۔ ایسا کچھ نہیں ہوا، عوام تیز میٹروں کے ساتھ ساتھ ان کمپنیوں کے نیٹ ورک میں الجھتے چلے جا رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کمپنیوں کے کام کاج کی مسلسل جائزہ لیا جائے گا لیکن آج تک جائزہ کے نام پر وزیر اعلی کی گھڑکیوں کے علاوہ کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا کمپنیوں پر پنالٹی لگائی جا سکتی ہے لیکن آج تک ایسا سوچا بھی نہیں گیا۔ ابھی گذشتہ سال ستمبر سے 22 فیصد ریٹ بڑھائے گئے تھے اور اب فیول چارجز کے نام پر پھر سے عوام سے وصولی کی جائے گی۔ہو سکتا ہے کہ ایم سی ڈی انتخابات میں شکست کے جھٹکے اور اگلے سال اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے دو سال تک بجلی کے ریٹ نہ بھی بڑھیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی یہاں یہ سوال فطری ہے کہ آخر کمپنیاں خسارے کا سودا کیوں کریں۔ کمپنیاں سرکاری محکمہ نہیں بن سکتیں کہ سالوں سال نقصان بھی اٹھاتی رہیں اور سروس بھی دیتی رہیں۔ 
بات سچ ہے لیکن یہاں سب سے بڑا شک تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ کمپنیاں خسارے میں ہیں؟ کمپنیوں کی جانچ بلکہ انکوائری ہونی چاہئے۔دہلی کابینہ نے تجویز پاس کی ہے کہ کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی 2003 سے ہی سی اے جی جانچ ہونی چاہئے لیکن تحقیقات نہیں ہوئی۔بجلی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی بنیاد پر ریٹ بڑھانے کی ذمہ داری جس کے ہاتھوں میں دی گئی ہے، اس نے ہی سارے معاملے کو تعطل میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ڈی ای آر سی کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ یہ کمپنیاں منافع کما رہی ہیں اور بجلی کے ریٹ بڑھانے کی بجائے گھٹانے چاہئے لیکن جیسے ہی وہ صدر اپنی مدت مکمل کرکے جاتے ہیں، نئے صدر کو گھاٹا ہی گھاٹا دکھائی دیتا ہے۔ریٹ بڑھنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور اکاؤنٹس کی جانچ سی اے جی بھی بائلنس میں ہے۔ 
گزشتہ دنوں کئی انکشافات ہو چکے ہیں کہ بجلی کی قیمتیں کس طرح من مانے طریقے سے طے کی جاتی رہی ہیں۔ خاص طور پر عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے اس بارے میں بہت سے حقائق پیش کرتے ہوئے حکومت پر بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کے الزامات لگائے ہیں۔ لیکن اس طرح کے الزامات کے بعد حکومت نے ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کرلی ہے اور لوگوں پر ایک اور اضافہ مسلط کئے جانے پر چپی سادھے ہوئے ہے۔ یہ سمجھنے کے لئے ماہر اقتصادیات ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی بھی خاندان کی آمدنی کے مطابق ہی دوسرے اخراجات کے ساتھ ساتھ بجلی کی کھپت بھی کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن تقریبا پانچ ماہ پہلے وزیر اعلی شیلا دیکشت نے دہلی کو مہنگی بجلی سے بچنے کے لئے بجلی کی کھپت میں کمی کرنے کی صلاح دے ڈالی تھی۔ لیکن کمپنیوں کو کوئی ہدایت دینے کی ضرورت انہوں نے کبھی نہیں سمجھی۔ جہاں جائز شکایات پر حکومت کا یہ رویہ ہو، وہاں امید بھی کیا کی جا سکتی ہے۔
خسارے کی تلافی کے لئے حکومت نے پہلے 3500 کروڑ روپے دیے، بجلی چوری بھی رک گئی، ریونیو بھی بڑھ گیا، حکومت نے حال ہی میں 500 کروڑ کا بیلاٹ پیکج بھی دے دیا۔ پھر بھی کمپنیاں خسارے میں ہیں۔ حکومت اور ڈی ای آر سی دونوں ہی عوام کے حق میں کھڑے ہونے کی بجائے پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ کہنے کو ڈی ای آر سی خود مختار ادارہ ہے لیکن اس کے صدر اور رکن حکومت منتخب کرتی ہے تو وہ بھی حکومت کے سامنے جوابدہ نظر آتے ہیں، عوام کے نہیں۔ تو کیا ایسیپراٹائزیشن سے توبہ ہونا ضروری ہے؟ حکومت نے اپنے کام پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپے ہیں اور پرائیویٹ کمپنیاں فائدہ کمائیں گی ہی لیکن ایسی خیال بن گئی ہے کہ بجلی کے معاملے میں عوام کا حق نہیں سنا جا رہا۔پرائیوٹائزیشن سے مواصلات انقلاب تو ہوئی ہے لیکن دہلی کے عوام بجلی انقلاب نہیں دیکھ پا رہی ہے۔

۔۔۔مزید

بدھ، 19 جون، 2013

دہلی میں وقف جائدادوں کا مسئلہ

آخر کب ہوگی حوالگی ؟

محمد علم اللہ اصلاحی
                ہندوستان میں وقف املاک مسلمانوں کا سب سے بڑا سر مایہ ہے۔اگر اس کی صحیح ڈھنگ سے دیکھ ریکھ اور انتظام و انصرام ہو تو مسلمانوں کے بہت سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔پھر مسلمان بچوں کو نہ تو اسکالر شپ کی کمی ہوگی اور نا ہی غریبوں کے لئے سرمایہ کاری اور نہ ہیوہ سرکار کے کسی عطیہ کے محتاج رہیں گے۔لیکن اس معاملہ میں نہ تو حکومت چاہتی ہے کہ کوئی عملی اقدام ہو اور نہ ہی اس پر قابض افراد اور اس کے ذمہ داران۔مسلمانوں کی جانب سے چیخ پکار اور مسلم قائدین کے بار بار توجہ دہانی کے بعد حکومت اس کی اصلاح اور بہتری کی بات تو کرتی ہے ، مگر اس مسئلہ کو بھی مسلمانوں کے دیگر مسائل کی طرح سرد خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور معاملہ جوں کا توں رہ جاتا ہے ،اس سلسلہ میں بات خواہ سچر کمیٹی رپورٹ کی ہو مشرا کمیشن کی یا پھر ریاستی حکومتوں کے ذریعہ کئے گئے وعدے سب کا یہی حال ہے۔

                ابھی حال ہی میں اسی سلسلہ یعنی ریاست دہلی میں وقف املاک کی حوالگی اور تحفظات کو لیکر دہلی حکومت کا اپنے وعدوں سے پلہ جھاڑنے اور وقف بورڈ کی مقبوضہ اراضی کی حصولیابی کے لئے ایک اعلی کمیٹی کی تشکیل دئے جانے کی بات سے پیچھے ہٹنے کی خبریں آ رہی ہیں۔یہ معاملہ حکومت کی جن وزارتوں سے وابستہ ہے وہ ایک دوسرے کو دستاویز روانہ کر کے اپنا پلہ جھاڑ رہی ہیں۔خبروں کے مطابق نیشنل ہیری ٹیج پروٹیکشن کونسل نے اب تک نصف درجن وزارتوں اور محکموں کو مکتوب روانہ کئے ہیں ،جن کے جواب میں صرف دو سطر ہی میں جواب دیا گیا کہ ہم نے آپ کا مکتوب معلقہ وزارت کوارسال کر دیا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس وزارت کا یہ معاملہ ہے اس نے بھی یہی جواب دیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حالانکہ عدالت اور اٹارٹی جنرل کی رائے کے بعد یہ معاملہ راست طور پر حکومت کے پاس ہی تھا جسے مر کزی کابینہ سے منظوری ملنی تھی۔لیکن خبروں کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ اب تک اس معاملہ میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔

                یہاں پر یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ ان جائدادوں یعنی جن 123کی بات کی جا رہی ہے کچھ جائدادیں ایسی ہیں جن پر حکومت کا بھی قبضہ ہے۔ان 123جائیدادوں کے علاوہ اوبرائے ہوٹل، خسروپارک، دہلی پبلک اسکول، سی جی او کمپلیکس، اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسی پچاسوں عمارات گنوائی جاسکتی ہیں جن پر یا تو غاصبانہ سرکاری قبضے ہیں یا پھر سرکاری اداروں کی سرپرستی میں بلڈرز اور کارپوریٹ گروپ کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ان سب کے علاوہ بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق 300مزید جائدادوں کا سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے قبضہ میں ہونا بتایا جاتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر یہ جائدادیں وقف کو دے دی گئیں توحکومت کو جگہ خالی کرنی پڑے گی۔جبکہ تصرف اور کاغذات کے مطابق یہ جائدادیں وقف کی ہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ نے بھی ان جائدادوں کی حالت کو جوں کا توں رکھنے کا حکم دیا تھا۔اب اگر اس پر کسی قسم کا قبضہ یا تعمیری کام ہوتا ہے تو یہ عدالت کی توہین ہوگی۔خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے انھیں رویوں کے سبب حکومت سے خط و کتابت کرنے والے افراد ناامید نظر آ رہے ہیں۔خبروں کے مطابق کونسل کے جنرل سکریٹری محمد سلیم کے ذریعہ بھیجے گئے مکتوب کے جواب میں محکمہ آثار قدیمہ نے جواب میں کہا ہے کہ ”ہم نے آپ کا مکتوب وزارت ثقافت کو بھیج دیا ہے اور ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ وقف املاک نوٹیفیکیشن ،برنی کمیٹی رپورٹ اور عدالت کے حکم کی کاپی مہیا کرائیں تاکہ ہم اس پر کوئی کاروائی کر سکیں “۔

                بتایا جاتا ہے کہ اسی قسم کی باتیں وزارت اقلیتی امور نے بھی کہی ہیں یعنی یہ کہ وقف کی 123جائدادوں کی حوالگی کے لئے وزارت برائے شہری ترقیات سے گفت و شنید کی جائے گی۔خبروں کے مطابق تاہم پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں وقف ترمیمی بل 2010کو پاس کرانے پر غور و خوض کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ محمد سلیم نے وزیر اعظم آفس کو بھی مکتوب ارسال کیا تھا اور وہاں سے بھی دو خطوط موصول ہوئے حکومت دہلی کی جانب سے بھی اسی قسم کا مکتوب ملا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تمام ہی مکتوبات کی زبان تقریبا ایک جیسی ہے کہ متعلقہ محکمہ کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ان تمام خطوط کو پڑھنے کے بعد بہر حال یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ساری وزارتیں اسی طرح ایک دوسرے کو محض خطوط ارسال کرتی رہیں گی تو معاملہ کا حل کب ہوگا اور کون سا محکمہ اس پر عمل کرے گا۔بقول محمد سلیم ”ہم نے ان وزارتوں کو جو خطوط بھیجے ان کا جواب غیر تسلی بخش اور نا امید کر دینے والا ہے ،ان سب کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ حکومت معاملہ کو حل کرنا ہی نہیں چاہتی اور اسی وجہ سے وہ ایک ڈپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ محض خطوط کو ارسال کرکے وقت کو ضائع کر رہی ہے۔

                حالانکہ یہ اعلان دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت نے بڑے جوش و خروش سے کیا تھا کہ ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔لیکن ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد ابھی تک کسی بھی قسم کیکوئی کمیٹی کا پتہ نہیں ہے ۔چہ جائے کہ کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی کارروائی کی جاتی اور اس کی میٹنگیں ہوتیں لیکن صحیح معنوں میں دہلی حکومت کا یہ اعلان محض انتخابی شوشہ ثابت ہوا۔اس طرح کے فیصلے یوں تو اور بھی بہت پہلے لئے جاتے رہے ہیں تاہم10مئی 2013کو دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت اور پرنسپل سکریٹری ڈی ایم سپولیا سمیت بورڈ چیر مین وی سی اونیز بورڈ کے کئی عہدے داران کی مشترکہ میٹنگ میں یہ بات کہی گئی تھی۔لیکن ان سب کے باوجود سر د مہری بہر حال سمجھ سے بالا تر ہے۔خبروں کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے چیر مین چودھری متین احمد نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ غیر قانونی قبضہ سے بورڈ لینڈ چھڑانے پر فوری فیصلہ لینے اور بورڈ کی آمدنی میں فوری اضافہ کر نے کی طرف اعلی سطحی کمیٹی ایک بڑی پیش قدمی ثابت ہوگی۔خبروں کے مطابق مایوس کن بات یہ بھی ہے کہ ماضی اور حال تک اعداد و شمار کے مطابق قابضین کے خلاف زمین کی وا گذاری کے لئے تقریبا 1050نوٹس وقف ایکٹ کی دفعہ54 
کے تحت مختلف ڈی ایم کے پاس بھیجے جا چکے ہیں لیکن کارروائی ندارد ہے۔

                یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اس معاملہ کو برسوں قبل آنجہانی اندرا گاندھی نے مظفر حسین برنی کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دے کروقف املاک کے تحفظ کی بات کی تھی۔اور اسی وقت کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے 247جائدادوں کی نشاندہی کی تھی اور بتایا تھا کہ ان میں تقریبا 123جائدادیں وقف کی ہیں ،جنھیں ایک روپئے لیز پر واپس کر دینا چاہئے۔مگر تیس سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باجود بھی حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔بلکہ پورٹ کے بعد بحث کا سلسلہ چلا، تو ایک دوسری کمیٹی جناب میر نصراللہ صاحب کی چیرمین شپ میں بنائی گئی، محترم میر صاحب نے 321 جائدادوں کی نشاندہی کی، جسے شہری ترقیات کی وزارت کودہلی وقف بورڈ کے حوالہ کردینا چاہئے تھا۔گزشتہ سال ہائی کورٹ نے بھی اس معاملہ کے حل کے لئے حکومت کو ہدایات دی تھیں اور اسی بنیاد پر حکومت نے اٹارٹی جنرل کی لیگل رائے طلب کی تھی مگر معاملہ ہنوز سرد خانہ میں پڑا ہوا ہے۔

                آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا ؟کیا ایسے شوشے محض مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے چھوڑے جاتے ہیں یا پھر اپنے سیاسی مفادات ووٹ بٹورنے کے لئے ؟حکومتوں سے یہ ایک اہم سوال ہے۔حکومتیں اگر واقعی مسلمانوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ ہیں تو ان کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہئے۔صرف خالی خولی بیان سے کب تک اپنا مفاد پورا کرتی رہیں گی؟۔یہاں پر مسلمانوں سے بھی یہ بات عرض کر دینے کی ہے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں خاص کر مسلم رہنما بے لوث ہوکر آگے آئیں اوروقف بورڈکو خود مختار بنانے کے لئے طویل جدوجہدکریں۔اوریہ کوشش اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ مسلمانوں سے متعلق بورڈوں اور کمیشنوں کو آئینی درجہ حاصل نہ ہوجائے۔ورنہ یہ لٹیرے سادہ لوح مسلمانوں کو ایسے ہی لوٹتے رہیں گے اور مفاد پرست لیڈران ووٹوں کی خاطر اپنا بیان دیتے رہیں گے اور معاملہ وہیں کا وہیں رہے گا جہاں اب ہے۔

۔۔۔مزید

جمعرات، 13 جون، 2013

کاروائی ضروری مگر احتیاط سے


محمد علم اللہ اصلاحی
آخر کار طویل انتظار کے بعد وزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں تمام ہی نے ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے اور سارے مفادات کو کنارے رکھنے کی بات کہی ہے۔واضح رہے کہ یہ میٹنگ گزشتہ دنوں چھتیس گڑھ میں کانگریسی کارکنوں پر ہوئے نکسلی حملے کے بعد اس لئے بلائی گئی تھی کہ اب اس معاملہ پر کون سا رخ اختیار کیا جائے۔اور شاید ایسا پہلی مرتبہ ہوا جیسا کہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے تقریبا تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ نکسلیوں کی لعنت سے ملک کو پاک کرنے کے لئے سخت سے سخت قدم اٹھائے جانے چاہئیں اور جمہوریت کو بچانے کی خاطر کوئی بھی انتہائی قدم اٹھایا جا سکتا ہے اس میں کسی بھی قسم کے لیت و لعل سے کام نہیں لیا جانا چاہئے۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں نے دہلی میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں مسلح عسکریت پسندی کو دبانے کے لئے تمام جائز طریقوں کے استعمال کی نہ صرف وکالت کی بلکہ اس بات پربھی زور دیا کہ وہ مہلک ماونواز نظریات کو قبول نہیں کر سکتے۔اس معاملے پر کسی طرح کے معاہدے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور قرارداد میں ماونواز باغیوں کے خلاف مسلسل مہم اور نکسل متاثرہ علاقوں کی تیز ترقی کی مرکزی حکومت کی دو سطحی حکمت عملی کی حمایت کی۔


بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر ایک قرارد اد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ پا رلیمانی جمہوریت اورہندوستانی آئین کو تشددآمیز طریقوں سے نقصان پہنچانے کے لئے ماونواوازوں کا گمراہ کن مقصد کے ساتھ اس کی انتہا پسندی پر مبنی رجحان سے خطرناک شئے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔اجلاس میں فیصلہ لیا گیا کہ ریاست ماونوازوں کے خلاف جدوجہد کی کمان سنبھالے گی اور مرکزی حکومت اس سلسلے میں ہر طرح کا تعاون ومدد فراہم کرائے گی۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ ہم ان سے (مرکز اور ریاستوں سے) درخواست کرتے ہیں کہ ملک اور اس کے اداروں کی حفاظت کے لئے اور مسلح انتہا پسندی اور تشدد کو روکنے کے لئے تمام جائز طریقوں کا استعمال کیا جائے۔ اس اجلاس میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے، کانگریس صدر سونیا گاندھی، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر سشما سوراج اور ارون جیٹلی، بی ایس پی صدر مایاوتی، سپا صدر ملائم سنگھ یادو، شیوسینا کے اننت گیتے اور جے ڈی یو کے صدر شرد یادو وغیرہ لیڈروں نے حصہ لیا۔اس اجلاس میں سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ 25 مئی کے واقعہ نے اس علاقے میں تمام سیاسی کارکنوں کو دہشت زدہ کرنے کے ارادے سے اور لوگوں کی سیاسی سرگرمی کو روکنے کے لئے سیاسی کارکنوں پریہ حملہ کیا تھا۔ تجویزمیں کہا گیا ہے کہ یہ جمہوریت، اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ تھا۔اس لئے ہم تمام لوگ عہد کرتے ہیں کہ ہم متحد رہیں گے ،ہم ایک آواز میں بات کریں گے اور ایک متحدہ مقصد اور عزم کے احساس کے ساتھ قدم اٹھائیں گے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں ہر معاملہ کی طرح اس معاملہ پر بھی یوں تو بہت پہلے سے باتیں ہوتی رہی تھیں تاہم اس خبر کے آنے کے بعد حسب معمول ایک مرتبہ پھر بحث و مباحثہ اورتنقید و تنقیح کا دور جاری ہو گیا ہے کچھ اس کو دیر آید درست آید کے مصداق بہتر فیصلہ سے تعبیر کرتے ہوئے عملی اقدامات جلد سے جلد کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کچھ انتہائی عجلت میں ایسا کوئی بھی فیصلہ سے گریز کرنے کی بات کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی قسم کا تشدد آمیز رویہ نہ اپنایا جائے کیونکہ ’تشدد کا جواب تشدد‘ کبھی بھی دنیا کے لئے مفید ثابت نہیں ہوا ہے۔اس معاملہ میں لوگ ماضی قریب میں افغانستان ،عراق اور اسی طرح پاکستان وغیرہ میں ہونے والی واردات اور کاروائی کی مثال دے رہے ہیں۔پاکستان کا اپنے ملک میں لال مسجد میں کیا جانے والا آپریشن ،یا پھر اسی طرح خالصتان والے مسئلہ میں اندرا گاندھی کے ذریعہ کرایا گیا بلیو اسٹار آپریشن جیسے واقعات کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔حالانکہ اس سلسلہ میں یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیانکسلیوں کایہ معاملہ بھی ویسا ہی ہے ؟یا یہ کوئی الگ قسم کا تشدد ہے؟ اوریہ کہ اس کو کس زمرے میں رکھا جائے گا ؟اس سلسلہ میں حالانکہ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ظلم تو ظلم ہے خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا ہو چاہے چھوٹا ہویابڑا، کم یا زیادہ۔لیکن اس کا خاتمہ کیسے ہوگا اس کو بہت باریکی سے دیکھنا ہوگا۔


حالانکہ اس اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ریاستی حکومتوں اور خاص طور پر چھتیس گڑھ حکومت کو اس بات کا یقین کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کے لئے مزید مثبت ماحول بنے۔ان کے بقول مرکزی حکومت اس کام میں ریاستوں کو مکمل تعاون دینے کے لئے مصروف عمل ہے۔اس مسئلے کو مستقل طور پر جڑ سمیت اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہمیں تمام اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاہم ان کے مطابق فوری طور پر یہ بھی یقینی بناناہے کہ نکسلی تشدد پر لگام کس طرح کسی جائے اور چھتیس گڑھ جیسے حملوں کی تکرارپھر مستقبل میں نہ ہو۔وزیر اعظم نے کہاہے کہ حکومت گمراہ کن نوجوانوں کی فکر و جذبات کے بارے میں حساس رہے گی اور اگر ماضی میں ان کے ساتھ کوئی نا انصافی ہوئی ہے تو اسے دور کیا جائے گا ،اور ان کے یہاں بے گانگی کے احساس کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔جبکہ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے مشوروں کے مطابق نکسلیوں کے خلاف بہت سخت کارروائی پر غور کر رہے ہیں، انہوں نے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ قانون کی حکمرانی کے لئے اپنے وسائل کے ساتھ ساتھ مرکز کی طرف سے فراہم کئے گئے وسائل کا استعمال کریں اور متاثرہ ریاستوں میں ترقی کی سرگرمیوں کو تیز کریں۔خبروں کے مطابق جب وزیر داخلہ سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت نکسلیوں کے خلاف فوج کا استعمال کرے گی تو انہوں نے کہا کہ گرچہ میں فوجی مدد لینے کے معاملے پر کچھ نہیں کہوں گا لیکن ہم بہت سخت کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔


یہاں پر اس بات سے قطع نظر کہ اس معاملہ میں واقعی کوئی کاروائی ہوگی بھی یا نہیں اور کاروئی ہونے کے بعد بھی کسی قسم کے مثبت اثرات مرتب ہونگے یانہیں ؟کچھ کہنا مشکل ہوگا تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور اس سے بہر حال انکار ممکن نہیں کہ ہمارے یہاں منصوبے تو خوب بنتے ہیں اور ان کو جلد سے جلد عملی جامہ پہنانے کی بات بھی ہوتی ہے۔لیکن حقیقی معنوں میں ایسا کچھ ہوتا نہیں۔شاید اسی وجہ سے بہت سے معاملوں میں شہ زوروں ،معاشرے میں انارکی پھیلانے والوں اور اسی طرح لوگوں کے ساتھ حق تلفی و نا انصافی اور ظلم و تشدد برپا کرنے والوں،کو اور موقع مل جاتا ہے اور مظلوم پستے رہتے ہیں۔یہاں پر صرف اس معاملہ کی بات نہیں ہے بلکہ ہزاروں ایسے واقعات ہیں جس پر نہ جانے کتنی قرار داد پاس ہوئیں،کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور کتنے ہی قوانین بنے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں اور نتیجہ وہی نکلا صفر کا صفر۔ اب اس معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوگا یا کچھ اور ، یہ کہنا بے جاہے۔مگریہ بھی حقیقت ہی ہے کہ کاروائی نا ہونے کی وجہ سے کرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ ختم ہو اس میں مزیدافزودگی ہوتی رہتی ہے اور اس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔یہ کوئی ہوا ہوائی یا یونہی کہہ دینے والی بات نہیں ہے۔


اس معاملہ میں چونکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ جیسی اہم شخصیات کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ملک کے تقریبا تمام ہی پارٹیوں نے اسے ہری جھنڈی دکھانے کی بات کہی ہے تو ہو سکتا ہے کہ واقعی اس مرتبہ کچھ ہو لیکن اس کا مطلب ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہئے کہ ظلم کا جواب ظلم سے دئے جانے میں حیوانیت کا ننگا ناچ ناچا جائے ،ماضی میں ایسا ہوا ہے اور کئی جگہ تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قصور کسی اور کا تھا اور زد میں کوئی اور آ گیا۔کشمیر اور اسی طرح دیگر کئی جگہوں پر فوج کو چھوٹ دئے جانے کا جو نتیجہ بر آمد ہوا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ ان جگہوں پر فوج نے جمہوریت اور ملک کی بقاء کے لئے بہت کچھ کیا ہے اور اس کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ تک پیش کرنے سے گریز نہیں کیا لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اسی فوج نے وہ وحشت اور درندگی کے گل کھلائے کہ شیطان بھی ایسی حرکتوں سے شرمسار ہو جائے ،اسی فوج نے بے جا معصوموں اور بے قصوروں کو تشدد و حبس کا نشانہ بنایا ہے اور خواتین اور نابالغ لڑکیوں کی عزتوں کو تار تار کیا ہے جس کی خبریں برابر میڈیا میں آتی رہی ہیں۔لہذا اس معاملہ میں بھی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔ایسا نہ ہو کہ تشدد کے خاتمہ کے نام پرکسی بھی طرح سے بے قصوروں اور معصوموں کا ناحق خون بہے۔اور کاروائی کے نام پر فوجیوں یا پولس کو ننگا ناچ ناچنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے ،اس سے معاملہ بجائے سلجھنے کے مزید الجھ سکتا ہے۔

۔۔۔مزید

اتوار، 9 جون، 2013

بارہویں کا رزلٹ : حکومت ،سرپرست اور بچوں سے کچھ باتیں


محمد علم  اللہ اصلاحی
ہندوستان میں میٹرک کے بعد بارہویں کے امتحان کو زندگی کا سب سے اہم موڑ تصور کیا جاتا ہے ،والدین اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ یہیں سے تمہاری زندگی کا سفرطے ہونا ہے،اس میں کامیابی سے ہمکنار ہو گئے تو گویا آگے کی منزل انتہائی آسان اور سہل ہے۔بات تقریباً دُرُست بھی ہے کیونکہ اسی کے بعدہمارے بچے کیا کریں گے اس کا فیصلہ ہوتا ہے ،طرح طرح کے کورسز اور پروگراموں میں داخلہ کا ہدف بھی اسی کے بعد متعین کیا جاتا ہے ،شاید اسی سبب سے پورے ملک میں اس رزلٹ کاانتہائی شدت سے انتظار رہتا ہے ،کیا بچے ،کیا والدین کیا حکومت سبھی اس کو لے کر فکر مند اور تشویش میں مبتلا رہتے ہیں بعض ریاستوں میں اس کے پیش نظر بجلی اور ٹرانسپورٹیشن کی باضابطہ سروسیز مہیا کرائی جاتی ہیں تاکہ بچوں کو پریشانی نہ ہواور وہ اچھے ڈھنگ سے اپنے امتحانات دے سکیں ،اس معاملہ کولے کر بچوں کے اوپر اس قدر دبا ہوتا ہے کہ ناکامی یا کم نمبر آنے کی صورت میں وہ خودکشی جیسے انتہائی قدم بھی اٹھالیتے ہیں۔دہلی میں اس قسم کی وارداتیں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں ،اس کے باوجود بھی کہ حسب معمول یہاں کی وزیر اعلی شیلا دکشت نے پہلے ہی ہر قسم کی حوصلہ افزائی کے علاوہ کم سے کم بچوں کو فیل کئے جانے کا الٹی میٹم دیا ہوا تھا، اب کی بھی ایسا ہی ہوا اور دہلی جیسے شہر میں رزلٹ ان کے یاسرپرستوں کے منشا کے مطابق نا آنے سے دو بچوں نے خود کشی کر لی۔دہلی اور اتر پردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں سے بھی اس قسم کی خبریں سننے کو ملی ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے یا ایسا کیوں ہوا ؟‘اس پربات کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امتحانات کے رزلٹ پرایک نظر ڈال لی جائے۔ چونکہ ہمارے ملک میں اس کے لئے کوئی ایک بورڈ متعین نہیں ہے بلکہ مختلف ریاستوں کے اپنے الگ الگ بورڈ اور الگ الگ نصابات ہیں۔اس لئے ہر ریاست کا تناسب اور رزلٹ بھی الگ الگ ہے۔ہم یہاں ہر ریاست کے ہر بورڈ کی بات نہیں کریں گے۔کیونکہ تمام ہی ریاستوں کے تمام ہی بورڈوں کا نہ تو ہمارے پاس کوئی ڈاٹا ہے اور نا ہی بیورا۔پھر یہاں پر ہر ایک کی تفصیلات فراہم کرنا بھی ہمارا مقصد نہیں ہے۔اس لئے ہم یہاں سینٹرل بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن ( سی بی ایس ای) بورڈکی بات کرتے ہوئے دیگر ریاستوں میں بھی اس کی صورتحال اور بارہویں کے بعد ہونے والے واقعات و حالات کا تجزیہ کریں گے۔

امسال سی بی ایس ای کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس سال مجموعی طور 9،44،721 طلباءنے بارہویں کا امتحان دیا تھا جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریبا 16فیصد زیادہ ہے۔اب کی کامیاب ہونے والے طلباءمیں لڑکیوں کا فیصد 87.89رہی جبکہ 77.78فیصد لڑکوں نے بھی کامیابی حاصل کی۔سی بی ایس ای کے نتائج ہر سال بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔کامیاب ہونے والے طلبائکی تعداد کے حساب سے بھی اور ان کے نمبرات کے لحاظ سے بھی یہ بتایا جا رہا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلہ 67فیصد زیادہ طلبا نے 95فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ 90فیصد یا 85فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد بھی بڑھی ہوگی۔ظاہر ہے 90یا 95فیصد نمبرات حاصل کرنے والے طلباءذہین بھی ہونگے اور محنتی بھی اور ایسے شاندارنتائج سے ان کے والدین خوش بھی ہونگے۔لیکن کم از کم دہلی میں 95فیصد نمبر بھی اپنی پسند کے کالجوں میں اپنے پسند کے کورسز میں داخلہ کی گارنٹی نہیں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امسال کٹ آف بھی اوپر جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ نامی کالجوں میں پہلا کٹ آف 95فیصد سے کافی اوپر ہو۔یہاں تک کہ اتنے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلباءبھی اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ کئی اداروں کو لاٹری کا متبادل سوچنا پڑ رہا ہے۔اگر کسی کو 95فیصد نمبر لیکر بھی من چاہی تعلیم مہیا نا ہو یا پھر لاٹری کے بھروسے رہنا پڑے تو یقینا یہ بھی تشویش ناک امر ہے۔ملک میں ضروری تعلیم کا حصول اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کمی ہے۔یہ تفاوت اچانک نہیں ہوا ہے بلکہ تعلیم کی لگاتار گرتے معیار سے رفتہ رفتہ ہوا ہے۔اس کا خمیازہ وہ پیڑھی بھگت رہی ہے جو زیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی ہوڑ اور دوڑ میں سب کچھ بھول کر شامل ہو رہی ہے۔والدین ،سرپرست ،کوچنگ سینٹر ،اساتذہ ،اسکول سب دوڑ میں کامیابی کے نسخے تلاش کر رہے ہیں حالانکہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ زیادہ نمبرات من چاہے تعلیم کا حقدار بھی دیں گے۔

ماہرین کے مطابق امسال کا یہ بیچ پچھلے سال کے بیچ سے اس معاملہ میں الگ ہے کہ اس کے سامنے دسویں کے بورڈ امتحانات دینے کے مصیبت نہیں تھی۔اس نے پہلی بار سیدھے بارہویں کے بورڈ امتحانات دِیے ہیں۔ظاہر ہے اس کا ایک خاص تناؤ بچوں پر رہا ہوگا۔ممکن ہے اپنے نمبر سے نا مطمئن طبقہ اس کو بھی ایک فیکٹر کے طور پر اپنے تشویش یا احتجاج میں شامل کر لے۔اس مرتبہ ایک اور بھی نئی بات یہ ہے کہ ملک کے معروف انجینئرنگ اداروں میں داخلہ کے لئے کامن ٹیسٹ (جے ای ای )میں اس امتحان کا نمبر بھی کچھ حد تک فیصلہ کن ہوگا۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کے لئے آگے کا راستہ مشکل ہو گیا ہے۔سچائی یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں نمبر کے ہوڑ کے کے خلاف ایک ماحول بنا ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بارہویں کا نتیجہ ہی کسی کی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے۔وہ زمانہ لد گیا جب فرسٹ پوزیشن یعنی60 فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کرنا ہی دسب سے بڑا ماحصل ہوا کرتا تھا ،اور 75فیصد تو انتہائی اہم تصور کیا جاتا تھا۔ایسے لوگوں کو آگے داخلہ جات میں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی تھی تاہم اب ایسی باتیں نہیں ہیں نمبروں کو لے کر مائنڈ سیٹ یوں ہی نہیں بدلا ہے۔پچھلے کئی سالوں میں ہندوستان میں واقعی قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔اب ہر طرح کے بچوں کے سامنے پہلے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ اختیارات موجود ہیں۔کئی نئے پروفیشنل کورسیز سامنے آئے ہیں اور نئےادارے بھی کھلے ہیں۔اب روزی روزگار کو لے کر سماج میں چلی آ رہی بوڑھی سوچ ختم ہو رہی ہے۔جس کا فائدہ یقینا اس بیچ کے بچوں کو ملے گا۔

یہاں پر یہ بات عرض کر دینے کی ہے کہ2012 میں یہی تناسب لڑکوں کا 75.80اور لڑکیوں کا پاس فیصد 86.21رہا تھا پچھلے سال کے مقابلہ اب کی لڑکیوں کا 01.77فیصد کامیابی کا گراف بڑھا جبکہ لڑکوں کا 01.98فیصدیعنی تعلیمی اعتبار سے دونوں کا گراف ایک ایک فیصد بڑھا مگر اس کے باوجود لڑکیوں نے بازی ماری۔ایک ایسے وقت میں جب لڑکیوں کی حفاظت اور عزت کا سوال معاشرے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہو لڑکیوں کی یہ کامیابی یقیناً خوش کن اور قابل تحسین ہے ،اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی کامیابی کو معیار نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اگر لڑکیاں تعلیم میں اتنی ہی تیزہوتی ہیں تو اعلی تعلیم میں ان کا گراف کم کیوں ہو جاتا ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں اور اس کا جواب دیا بھی جا سکتا ہے۔لیکن بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لڑکیوں میں لڑکوں کے مقابلے سنجیدگی اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت کافی ہوتی ہے ان میں محنت اور لگن کا جذبہ بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔اس لئے مثبت ماحول ملنے پر وہ بہتر اور اچھا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔مگر ہمارے معاشرے اور سماج کی یہ بد قسمتی ہے کہ انھیں خاطر خواہ مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اور تمام طرح کی ہدایات اور قانون کے باوجود بھی ان کے حقوق مار لئے جاتے ہیں ،شایدلڑکیوں کا یہ’ احساس‘بھی انھیں خود کو کامیاب بنانے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ہر طرح سے مساوات اور انصاف کی بات کئے جانے کے باوجود لڑکیوں کو وہ حق نہیں ملتا جو واقعی انھیں ملنا چاہئے اور لڑکیوں کا یہی احساس انھیں آگے بڑھنے اورمحنت کرنے پراکساتا ہے کہ اس کے ذریعہ انھیں عزت و احترام بھی ملے گا اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑی بھی ہو سکیں گی۔

ہمارا مقصد یہاں پر لڑکے لڑکیوں کا موازنہ کرانا نہیں ہے ،مگر یہ بات بہر حال کہنے کی ہے کہ حکومتوں اور اداروں کو اس جانب توجہ دینی چاہئے۔کہ اسی سے ملک بھی ترقی کرے گا اور ہمارا سماج اور معاشرہ بھی اعتدال کی جاب گامزن ہو سکے گا ،اسی سے توازن بھی قائم ہوگا اور سوچ و فکر میں بھی تبدیلی بھی آئے گی۔ملک کے مختلف حصوں میں کئی طلباءکا ناکامی یا کم نمبر آنے کے بعد خود کشی کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ،اس سلسلہ میں اصل ضرورت ہے خود اعتمادی پیدا کرنے اور احساس کمتری سے باہر نکالنے کی ہے۔بچہ کے اوپر بلا وجہ دبا نہ ڈالیں ،اسے ڈرانے ،دھمکانے کی کوشش نہ کریں اس کی عزت نفس کا خیال کریں ،کیریر کے دیگر بہتر امکانات کی تلاش کریں ،نفسیات کو ٹٹولیں یہ کام والدین اور ذمہ داران کے کرنے کا ہے۔وہ انھیں بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی نکھارنے کا موقع دیں ،ان کی خواہش اور جذبہ کو بھی جانیں کہ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں اور کس میں بہتر کر سکتے ہیں۔
وہیں حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے انتظامات کرے کہ کم نمبر لانے والے طلباء بھی اچھے کورسز میں ایڈمیشن لے سکیں۔پچھلے کچھ سالوں سے ملک کے معروف کا لجوں کا کٹ آف بڑھتا گیا ہے۔اس جانب بھی غور کیا جاناہے کہ سال در سال کامیاب ہونے والے طلب کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔اور ضرورت کے حساب سے ابھی اچھے کالج اور انسٹی ٹیوشن نہیں ہیں،اور جو ہیں بھی تو وہ کچھ ہی علاقوں میں سمٹے ہوئے ہیں۔پیشہ ور تعلیم دینے والے نجی ادارے بھی راجدھانی اور بڑے شہروں میں ہی کھل رہے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے 80فیصدی میڈیکل کالج ساتھ انڈیا میں ہیں۔حکومت کو توازن برقرار رکھنے کے لئے ہر ریاست پر یکساں توجہ دینی ہو گی ،اس بابت تعلیمی اداروں کی مرکزی حیثیت سر کاری ہی نہیں پرائیوٹ اداروں کے لئے بھی ہونا چاہئے اس پر بھی مرکزی حکومت کو غور کرنا چاہئے ،ساتھ میں تعلیم سب کے لئے ارزاں ہو اس کوکیسے ممکن بنائیں اس جانب بھی توجہ دیں۔تبھی شائننگ انڈیا ،طاقت ور انڈیا اور ترقی یافتہ انڈیا کا خواب پورا ہو سکے گا۔

ہمارے ملک کے بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں ابھی بھی بہت ساری بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ،انفراسٹکچر کی کمی ہے ،بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں بیت الخلاءتک کاالگ الگ انتظام نہیں ہے ،اس قسم کی خبریں برابر اخباروں میں آتی رہتی ہیں ،اساتذہ کی بھی کمی کی شکایت ہوتی ہے۔خاص کر اردو اساتذہ کے کمی اورسرکاری اردو میڈیم اسکولوں کونظر انداز کئے جانے کی بھی باتیں ہوتی رہی ہیں،اردو میڈیم کے طلباءکو اردو میں کتابیں دستیاب نہ ہونے کی بھی اطلاعات ملتی رہی ہیں ان سب کے باوجودبھی خبر ہے کہ اردو میڈیم کے بچوں نے بھی اطمینان بخش کامیابی حاصل کی ہے ،اس جانب حقیقت کیا ہے حکومتوں کو اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر اس قسم کی خبریں واقعی درست اور صحیح ہیں تو اسکی انکوائری کروانی چاہئے۔اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوری ملک میں کسی خاص فرقہ کے ساتھ اس قسم کا سوتیلا رویہ نہ تو زیب دیتا ہے اور نا ہی انسانیت اور ملک کے حق میں مفید ہے۔

ایک بات اور جو بطور خاص مسلم بچوں اور والدین سے کرنی ہے وہ یہ کہ امسال مسلم طلبا و طالبات کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں جس کے لئے دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ان نتائج میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ ہم شان سے سر اٹھا کر اور سینہ تان کر چل سکیں۔ان بچوں کے نمبر اتنے اچھے نہیں ہیں کہ سب کو کالجوں و دیگر یونیورسٹیوں میں اچھے مضامین یا کورسوں میں داخلہ مل سکے اور وہ اس مقابلہ جاتی دور میں اچھا کیر یر بنا سکیں۔بورڈ کے امتحانات میں بہت کم طلبا و طالبات کی تعداد ایسی ہے جنھوں نے 90فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں۔موجودہ زمانہ کے مد نظر مسلم طلباءو طالبات کو 90فیصد نمبرات حاصل کر نے کے لئے کئی سطح پر سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے۔

بورڈ کے موجودہ نتائج صرف اس معنوں میں ذرااطمینان بخش ہیں کہ امتحانات دینے والے زیادہ تر طلبا کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔یعنی وہ اپنی کلاسوں میں پاس ہو گئے ہیں اور مسلم بچوں کا پاس فیصد بڑھ گیا ہے۔تاہم یہ دیکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ مسلم بچوں نے کس سطح کی کامیابی حاصل کی ہے۔کیا وہ اپنی پسند کے کورسیز اسکولوں یا کالجوں میں داخلہ لے سکیں گے یا اس کے لئے انھیں اب بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ پاس ہونے کے باوجود ’خاکم بدہن‘اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کے اہل ہی نہ ہوں۔

نتائج پر اگر نظر ڈالی جائے کہ کتنے مسلم بچوں نے 90فیصد تک نمبر حاصل کئے ہیں تو اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں لیکن حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔90 فیصد تو دور کی بات معدودے چند بچے ہی 75 فیصد کے امتیازی نشان تک پہنچ پائے ہیں۔اور اگر اردو میڈیم اسکولوں پر نظر ڈالیں یہ یہ نتائج اور بھی ناگفتہ بہ نظر آتے ہیں۔اور چند طلبا و طالبات ہی پہلے ڈویژن یعنی 60 فیصد کے ہندسے کو پار کر پاتے ہیں۔کئی اردو میڈیم اسکولوں کے پرنسپل نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے جس میں انھوں نے بر ملا یہ کہا کہ اس سال دیگر سالوں کے مقابلہ مقدار( کوانٹٹی) تو بہتر ہے لیکن معیار(کوالٹی) نہیں۔اس لئے اس جانب توجہ دینی ہوگی اور جائزہ لینا ہوگا کہ کمی کہاں رہ گئی ہے۔امتحان میں صرف پاس ہو جانے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ جب یہ مسلم بچے کالج یا یونیورسٹی جائیں گے تو وہاں داخلہ کے لئے محض مسلمان بچوں کی میرٹ ہی جاری نہیں کی جائے گی بلکہ سبھی طلبا کا مقابلہ ایک ساتھ ہوگیا۔حق تعلیم قانون کے نفاذ نے بچوں کو پاس ہونے کی فکر سے آزاد کر دیا ہے اور اب ہمیں اپنے نتائج کو بلند کرنے کی فکر کرنی ہی ہوگی ۔



۔۔۔مزید