اتوار، 10 نومبر، 2013

مدیر ماہنامہ "تدبر"لاہور مولانا خالد مسعود کی یاد میں

یہ غالبا 1999 یا 2000 کا واقعہ ہے ۔مدرسۃ الاصلاح میں امین احسن اصلاحی سیمنار تھا ۔اُ س میں مولانا پاکستان سے انڈیا تشریف لائے تھے ۔حُلیہ تو پوری طرح یاد نہیں اُس وقت میں کافی چھوٹا تھا غالبا دس سال کا ۔ہلکا ہلکا ذہن میں عکس بھر ہے لمبے تڑنگے ۔تُرکی ٹوپی پہنے ہوئے انتہائی پر وقار شخصیت ۔اس وقت اصلاح میں کافی ہنگامہ تھا کہ امین احسن اصلاحی کے شاگرد آ رہے ہیں ۔بھیڑ بہت زیادہ تھی یوں کہہ سکتے ہیں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو مولانا کو دیکھنے کے لئے امنڈ پڑا تھا ۔

مولانا نے زبردست تقریر کی تھی ۔۔۔ ۔۔کیا کہا تھا ؟۔۔۔ یہ بھی مجھے یادنہیں ہے ،لیکن میں نے زبردست کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اساتذہ سے بعد کے ایام تک بھی جب تک میں اصلاح میں رہا اس خطاب کا تذکرہ کرتے سنا ۔مجھے یاد پڑتا ہے سرائے میر کے ریلوے اسٹیشن سینیر طلباء اور اساتذہ مولانا کو چھوڑنے گئے تھے تو سب کی آنکھیں نمدیدہ تھیں ۔

آج اچانک اپنی فائل میں سے کچھ ضروری کاغذات ڈھونڈ رہا تھا تو ضیاء الرحمان اعظمی صاحب کی یہ نظم ملی سوچا کیوں نا محفل میں شیر کر دوں ۔یہی بہانے محفوظ بھی ہو جائے گی اور لوگ واقف بھی ہو سکیں گے۔کہ یہ عظیم شخصیت کون تھی ؟۔

مولانا کے انتقال پرمولانا طالب الہاشمی صاحب جو غالبا جاوید احمد غامدی صاحب کے ادارہ سے وابستہ ہیں نے ماہنامہ"المورد " میں مولانا کے انتقال کے بعد اپنے جس غم اور درد کا اظہار کیا تھا۔نیچے دی گئی تحریر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اتفاق سے انٹرنیٹ سرچ میں مجھے یہ مل گیا ۔تو اسے بھی یہاں منسلک کر رہا ہوں ۔
(علم)
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
خالد مسعود کی رحلت
صاحب سیرت و کردار علما کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ ہمارا یہ زمانہ تو بطور خاص رجال خیر و صلاح کے قحط کا زمانہ ہے۔ خالد مسعود صاحب مرحوم ان چند افراد میں سے ایک تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے دین کا علم بھی دیا تھا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بھی بخشی تھی۔
وہ قرآن کے عالم تھے۔ وہ حدیث کے عالم تھے۔ ان کی اسلامی تاریخ پر اچھی نظر تھی۔ ان موضاعات پر ان کا وقیع علمی کام کتابوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اس جلالت علمی کے باوجود ان کی شخصیت انتہائی سادہ تھی۔ کوئی طنطنہ اور طمطراق یا علم کا زعم، اس طرح کی کسی چیز کی پر چھائیں بھی ان کی شخصیت پر نظر نہیں آتی تھیں۔ ہاں ان کے لیے فخر کی بات اور ان کا سرمایہ حیات ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد تھے۔
بلاشبہ، وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے لائق شاگرد تھے۔ انھوں نے ان سے علوم اسلامی کی تحصیل کی اور پھر ساری عمر ان کے افکار کی خدمت میں صرف کردی۔ روزی کمانے کے جھنجھٹ کے بعد ان کی ساری سرگرمیوں کا محور و مرکز مولانا امین احسن اصلاحی تھے۔ استاد کی شخصیت میں گم ایسے شاگرد دنیا نے کم ہی دیکھے ہوں گے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیت کی عظمت کا اندازہ اس کی شہرت اور ناموری سے کرتے ہیں۔ ایسے گوشہ گیر جو علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہوں، زمانے کی نگاہ میں نہیں آتے۔ سچی عظمت کیا ہے کہ آدمی خدا کا سچا بندہ ہو اور اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے متصف ہو۔ خالد مسعود ہر اعتبار سے ایسے ہی عظیم لوگوں میں شمار کیے جانے کے لائق تھے۔
مرحوم کا علمی کام اور ان کی دینی خدمات ان کے خیر کو جاری رکھیں گی۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ ان کے حسنات کو قبول فرمائے۔ ان کی کمزوریوں اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ انھیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے۔ جیسا ان کا چہرہ دنیا میں روشن و تاباں تھا، ایسا ہی آخرت میں روشن و تاباں رہے۔"
http://www.al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=883&cid=533



مدیر ماہنامہ "تدبر"لاہور
مولانا خالد مسعود کے انتقال پر

ضیاء الرحمان ضیاء اصلاحی

جاتی ہے اب تو وائے رے عظمت رہی سہی
ائے دل بتا یہ کیسی مصیبت سہی گئی

وا حسرتا !کہ گُم ہے متاع گراں بہا
وا ویلتا ! ہے دامن فردا تہی تہی

وہ سر گیا جو شان کُلاہ بلند تھا
ڈوبی وہ نبض جس میں حرارت بھری رہی

دانائے راز اُٹھ گیا محفل اداس ہے
مجموعہء صفات وہ ہستی نہ اب رہی

جاں کا ہ حادثہ ہےیہ ،غم بے بیان ہے
اب صبر کیجئے کہ عبادت ہے یہ بڑی

ملتے ہیں ایسے لوگ زمانے میں خال خال
اٹھتے ہیں سر فروش بھی ایسے کبھی کبھی

اللہ کی رضا پہ بھلا کس کا زور ہے
وہ لے گیا کہ یہ تو امانت اسی کی تھی

خالد تو جاوداں ہے دیار خلود میں
ہوئے نصیب اس کو شفاعت رسول کی

ائے صبر آ! کہ غم کا مداوا ضرور ہے
ہوگا نہ ختم ،کم سہی اتنا ضرور ہے
مولانا مرحوم کے بارے میں مزید معلومات انگریزی وکی پیڈیاسے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں ملاحظہ فرمائیں : 
http://en.wikipedia.org/wiki/Khalid_Masud

۔۔۔مزید

جمعہ، 1 نومبر، 2013

بی جے پی : دہلی میں کون بنے گا صدر ؟



 تعین کے باوجود گھمسان جاری
محمد علم اللہ اصلاحی 
بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی یونٹ میں نہ تھمنے والے گھمسان کو لے کر فی الحال پارٹی کے اعلی رہنما مشکل میں ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے ہاتھ پاؤں پھولتے نظر آ رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میںچند ماہ کا وقت بھی نہیں بچا ہے اور حالات یہ ہیں کہ وزیر اعلی شیلا دکشت اور کانگریس کے خلاف مورچہ لینے کی جگہ پارٹی کے ریاست کے بڑے لیڈران آپس میں ہی الجھ رہے ہیں۔ اورانتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو جانے کے باوجود بی جے پی کا ایک طبقہ ابھی بھی وزیر اعلی کے امیدوار کااعلان کروانے کے لئے سرگرم ہے ، جبکہ کوئی امیدوار نہ اعلان ہونے پر ریاستی صدر وجے گوئل کے حامی اور میڈیا کا ایک طبقہ انہیں ہی وزیر اعلی کا امیدوار پیش کر رہا ہے۔ وزیر اعلی شیلا دکشت نے یہ کہہ کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ وہ وزیر اعلی بنے یا نہ بنے کانگریس چوتھی بار اسمبلی انتخابات جیتے گی ۔کانگریس میں تو وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے کی روایت ہی نہیں ہے۔ا انتخابی نتائج کے بعد پارٹی اراکین تجویز پاس کرکے وزیر اعلی کے انتخاب کا اختیار کانگریس کی صدر کو دے دیتےہیں اور وہیں سے جو نام طے ہوتا ہے وہ وزیر اعلی بن جاتا ہے۔

بی جے پی نے پانچ ماہ بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے تو وزیر اعظم کا امیدوارکون ہوگا یہ عام کر دیا لیکن دہلی اسمبلی کے لئے کسی کو وزیر اعلی کے امیدوارکی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ اور اس کے پہلے اچانک 15 فروری کو وجیندر گپتا کے مقام پر وجے گوئل کو صوبائی صدر بنا دیا گیا۔ پھر دو ماہ بعد اچانک سابق ریاستی صدر ڈاکٹر هرش وردھن کو وزیر اعلی کے امیدوارکے طور پر اعلان کرنے کی تیاری کر لی گئی اور جب یہ معلومات میڈیا میں آ گئی تو اعلان ٹال دیا گیا۔ تب سے پارٹی کے دہلی انتخابات کے انچارج نتن گڈکری اور دوسرے لیڈر اسی ناپ تول میں لگے ہوئے ہیں کہ وزیر اعلی کا امیدوار اعلان کرنے سے پارٹی کو فائدہ ہوگا یا نقصان ۔پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے جس امید کے ساتھ اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے تمام مخالفتوں کو نظرانداز کرکے وجے گوئل کو دہلی کی کمان سونپی تھی اب اس پر ہی سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔ کسی بھی ریاستی  انتخابات کے دوڑ میں اتنی جلدی اس  مسئلہ کا تنازعات میں آ جانا پارٹی کے لئے ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔ بی جے پی کے مرکزی سطح کے لیڈر بھی مسٹر گوئل کے طریقہ کار کو لےناخوشی ظاہر کرنے لگے ہیں۔ یہ بات راج ناتھ سنگھ کے دربار تک بھی جا پہنچی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسٹر گوئل کو باگ ڈور دہلی میں گروپ بندی ختم کر پارٹی کو متحد کرنے کے لئے دی گئی تھی لیکن یہاں تو الٹا ہو رہا ہے۔ انہیں دیا گیا ضرورت سے زیادہ فری ہینڈ کہیں بی جے پی سے جیتی ہوئی بازی نہ چھین لے۔

بتایا جاتا ہے کہ جس وقت وجے گوئل کو باگ ڈور سونپی گئی تھی تو آر ایس ایس کو بھی یہ کہہ کر اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ بی جے پی میں سب کو متحد کر کے پارٹی میں نئی روح پھونکنے کا کام کریں گے ، جس سے کہ دہلی اسمبلی کا انتخاب بی جے پی آسانی سے فتح کر سکے گی۔ لیکن یہ اندازہ صرف اندازہ ہی رہ گیا۔ مسٹر گوئل نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہی وہاں موجود تمام رہنماؤں کو اشاروں اشاروں میں سمجھا دیا تھا کہ وہ اپنی ہی چلائیں گے۔ ان کی یہ بات اس وقت پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بری  بھی لگی تھی لیکن امید تھی کہ ایسا انہوں نے جوش، جذبہ میں کیا ہے اور منجھے ہوئے لیڈر ہونے کی وجہ سے وہ بی جے پی کی ڈگمگاتی کشتی کو سنبھال لیں گے لیکن کہانی کچھ اور ہی ہوئی۔ مسٹر گوئل نے پہلے ہی دن سے اپنے نشانے پر ان سابق لیڈران کو لے لیا جو مستقبل میں وزیر اعلی کے دعویدار ہو سکتے تھے۔ مسٹر گوئل نے دہلی بی جے پی کے ضلعی صدر کے اعلان کے ساتھ ہی اپنے ارادوں کی جھلک بھی دے دی اور ریاست کے سابق لیڈران  کے حامیوں کو جگہ دینا تو دور کی بات ان کا قہر مخالفین کو ان کے ہی علاقے میں اتنی ہوا دے دی جو سیاسی طور پر انہیں جھٹکا دینے والا تھا۔ اسی طرح  شہر کے تینوں کارپوریشنوں میں تبدیلی کے وقت سابق صدر وجیندر گپتا کی نزدیکیوں کے ساتھ ساتھ بڑے لیڈروں کے قہر نے حامیوں کو کارپوریشن میں اہم عہدوں سے بھی باہر کر دیا۔ 

حالانکہ اس معاملے میں اس وقت مجروح کاؤنسلروں اور لیڈروں میں سے زیادہ تر نے مسٹر گوئل کے یہاں حاضری لگانے کے بجائے چپ رہنا مناسب سمجھا۔یوگیندر چندوليا ضرور خاموش رہے جو کارپوریشن میں اسٹینڈنگ کمیٹی کے صدر کے عہدے پر برقرار نہ رہ پانے کے بعد پالا بدل کر گوئل کی پناہ میں چلے گئے اور ان کی ٹیم میں نائب صدر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے پیچھے قرول باغ وارڈ میں منسلک ان کی کچھ مجبوریاں بھی بتائی جا رہی ہیں۔ صدارتی عہدے کے اعلان کے بعد رہی سہی یہ کسر بھی واضح ہو گئی کہ اضلاع میں مخالفین کی نظر اندازی  محض اتفاق نہیں تھی بلکہ حکمت عملی کے تحت تھی کیونکہ بنیادی ٹیم میں بھی وہی سب کچھ دہرایا گیا۔

 ریاست کی طرف سے کارپوریشن کا ؤنسلروں کو اپنےاپنے علاقوں میں عوامی عدالتیں لگانے کی ہدایات سے کونسلر تونا خوش ہیں ہی اسمبلی بھی خفا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عوامی عدالتوں میں مسئلہ تو حل ہونا نہیں ہے الٹا عوام کی ناراضگی بڑھے گی کیونکہ وہاں بجلی، پانی، ڈی ڈی اے سمیت ایسے مسائل اٹھائےجائیں گے جن کا تعلق زیادہ تر دہلی حکومت کے محکموں سے ہے اور ان سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہو گا۔وہاں بیٹھ کر جب ہم ان کے حل کی بات کریں گے تو "آ بیل مجھے مار "والی کہاوت براہ راست نافذ ہوگی اور اس کا خمیازہ کاؤنسلرز کا ؤنسلروں کو نہیں ہمیں اسمبلی انتخابات میں اٹھانا پڑے گا۔ المیہ یہ ہے کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی جو وجیندر گپتا کی اسمبلی میں دلبرداشتہ تھے اور وجے گوئل کے بننے سےپارٹی اور بی جے پی ممبر اسمبلی پارٹی میں تال میل بڑھنے کی امید کر رہے تھے، انھوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس سے ٹھیک تو پہلا صدر تھا۔

 اراکین اسمبلی کے قریبی کہتے ہیں کہ 4-4 بار کے جیتے ممبران اسمبلی کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ٹکٹ پکی مان کر نہ چلیں ، اس سے بڑی بےعزتی ان کی اور کیا ہو سکتی ہے۔مسٹر گوئل نے بھلے ہی اسمبلی انتخابات لڑنے نہ لڑنے کو لے کر کوئی تبصرہ نہ کیاہو لیکن مانا جا رہا ہے کہ وہ اپنے لئے محفوظ ( مضبوط ) نشست تلاش کر رہے ہیں ، جہاں سے انہیں مزید محنت نہ کرنی پڑے۔ان کے والد چرت لال گوئل نے سال 1993 میں جس ماڈل ٹاؤن سیٹ سے جیتا تھا ، وہاں تین بار سے کانگریس کا قبضہ ہے ، وہیں آس پاس کی مضبوط سیٹیں جو بی جے پی کے پاس ہیں انہیں کسی بھی رکن اسمبلی سے خالی کرانے پر بغاوت ہو سکتی ہے۔پارٹی کی مرکزی سیکریٹری آرتی مہرا کی ڈنر پارٹی کو وجے گوئل کے خلاف بغاوت کی شروعات سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ اس پارٹی میں شامل کچھ رہنماؤں نے مسٹر گوئل کو صفائی دی ہے کہ وہ تو عام پارٹی مان کر گئے تھے انہیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اس کا مقصد دوسرا ہے دکھاوے کے لئے وجے گوئل اگرچہ اس واقعہ کو عام کہہ کر کوئی اہمیت نہیں دے رہے لیکن اس حوالے سے وہ چوکنا ہو گئے ہیں اور مخالفین پر جوابی حملہ کا راستہ بھی ڈھونڈرہے ہیں۔ پارٹی میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے اعلی لیڈروں کو فی الحال ایک ہی حل نظر آ رہا ہے کہ جلد سے جلد ایک ایسےموثر لیڈر کو دہلی کا انچارج بنا دیا جائے جو مسٹر گوئل پر بھی بھاری ہو اور تمام غیر مطمئن رہنماؤں کو متحد کر سکے۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات میں تو شروع سے پارٹی کی باگ ڈور اس وقت کے ریاستی صدر ڈاکٹر ہرش وردھن کے ہاتھ میں تھا۔اچانک 26 ستمبر 2008 کو پارٹی قیادت نے سینئر رہنما وجے کمار ملہوترا کو وزیر اعلی کے امیدوار کی حیثیت سے نامزد  کر دیا تھا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے ان کا تعاون کیا لیکن اس کے سال بھر پہلے ہوئے کارپوریشن انتخابات کی جیت کا سارا جوش کارکنوں میں ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ کل 62،42،917 ووٹ ڈالے گئے اور اس میں کانگریس کو 24،89،817 اور بی جے پی کو 22،75،711 ووٹ ملے یعنی بی جے پی 2،14،106 ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہار گئی۔ بی ایس پی کو 9،01،670 ووٹ ملے تھے. کانگریس کو 70 میں 43 اور بی جے پی کو 23 سیٹیں ملیں۔لوک سبھا انتخابات اور لین بدلی کے بعد اب کانگریس کے تو 43 رکن ہی ہیں بی جے پی کے رکن 24 ہو گئے ہیں۔ 1993 کے اسمبلی انتخابات کے وقت مدن لال كھرانا صوبائی  بی جے پی کے صدر تھے۔ کافی کوششوں کے بعد پارٹی نے انہیں وزیر اعلی کےعہدیدار کے طور پر اعلان کیا ۔ پارٹی نے انہیں فری ہینڈ دیا تو نتائج بی جے پی کے حق میں آئے۔ اس کی ایک وجہ جنتا دل کو ملے 18 فیصد ووٹ بھی مانے جا رہے ہیں۔

1998کے اسمبلی انتخابات کے پہلے تو بی جے پی میں گروپ بندی بھاری چلی۔كھرانا کے دباؤ میں صاحب سنگھ ورما کو ہٹایا گیا لیکن ان دونوں کے نہ چاہتے ہوئے سشما سوراج کو وزیر اعلی بنا کر ان پر اگلے انتخابات میں بی جے پی کو جتانے کی ذمہ داری دے دی گئی۔ وہ طریقہ کار  کامیاب نہیں ہوااور بی جے پی انتخابات ہارگئی ۔ اسی طرح 2002کے کارپوریشن انتخابات ہارنے کے بعد مانگےرام گرگ کو ریاستی صدر سے ہٹا کر پھر سے كھرانا کو ریاستی صدر بنایا گیا۔ تب تک حالات کافی بدل چکے تھے، اس بار كھرانا نہیں چلے اور شیلا دکشت کاایجنڈاچل گیا۔ كھرانا اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی کوششیں کر چکے تھے۔ یہ انتخابات كھرانا دور کے اختتام کا اعلان کرنے والا تھا۔ كھرانا کے ساتھی ملہوترا کو كھرانا کے رہتے مزید اہمیت نہیں ملی تو انہوں نے اس کے بعد اپنی چلوا لی۔ نتائج جگ ظاہر ہونے کے بعد ہی اس بار پارٹی قیادت ابھی تک فیصلہ نہیں لے پا رہی ہے۔

دراصل سروے کی روایت نے وزیر اعلی ، وزیر اعظم کے امیدوار کا اعلان کرنے کی روایت کو اور بڑھا دیا ہے۔ اسی کے ساتھ  ساتھ میڈیا میں بھی سروے کو کور کروانے یا خود سروے کرنے کی دوڑ سی لگ گئی۔اس کے بعد تو پارٹیاں اپنے آپ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے لگیں۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی ڈھنگ کے امیدوارکا اعلان نہیں کرے گی تب ایسا ہی ہوگا کہ شیلا دکشت کا موازنہ اروند کیجری وال جیسے لیڈر سے کیا جائے گا۔ کانگریس میں تو شیلا دکشت کی قیادت میں الیکشن لڑنے کا اعلان ہوا ہےتو انہیں وزیر اعلی کے امیدوار اپنے آپ مان لیا گیا ہے۔ 1998 میں مشرقی دہلی لوک سبھا الیکشن ہارنے کے بعد انہیں چو پریم سنگھ کو ہٹا کر ریاستی کانگریس صدر بنایا گیا۔ انہیں صدر بنوانے والے رہنماؤں میں اےایچ کے ایل بھگت ، سجن کمار ، جگدیش ٹايٹلر وغیرہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ملزم ہونے کے سبب خود ریاستی صدر نہیں بن سکتے تھے تو انہوں نے دہلی کی سیاست کی کم علم اور کم پکڑ والی شیلا دیکشت کو ریاستی صدر بنوایا ۔ سال بھر میں دکشت نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے حساب سے چلیں گی تو تمام ان کے خلاف ہو گئے۔بڑا مہم چلا، شیلا دکشت نہ صرف بچ گئیں بلکہ اپنی زمین کو سب سے زیادہ مضبوط بنا لیا۔

ن2003اسمبلی انتخابات آتے آتے تو دلی میں ان کا سکہ چلنے لگا۔بی ایس پی کے بڑھتے اثر کو کم کرنے کے لئے 2002، میں پھر چو پریم سنگھ کو اسمبلی کے صدر کے بجائے ریاستی کانگریس صدر بنایا گیا۔چو پریم سنگھ کے حامیوں نے یہی کہ کیا کہ اگر کانگریس جیتی توپریم سنگھ وزیر اعلی ہوں گے۔ لیکن انتخابات کے نتائج آنے کے بعدپریم سنگھ کے ممبران اسمبلی کی رائے لینے کی ضد کے باوجود شیلا دکشت وزیر اعلی بنیں۔ انہوں نے انتخابات میں چالاکی سے موجودہ اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینے کی وکالت کی تھی جبکہ پریم سنگھ ایک دو ٹکٹ پر ہی اٹک گئے تھے۔ دوسرے ان کے دہلی میں نئے تجربات کا بھی یہ انتخاب تھا۔ تیسرے انتخابات میں تو وہ اپنے آپ وزیر اعلی کی امیدوار بن گئیں، جیسے اس بار بنی ہوئی ہیں۔ تمام لیڈر بھی انہی کا نام لیتے ہیں، ویسے پارٹی کی قیادت وزیر اعلی شیلا دکشت اور پردیش کانگریس صدر جے پرکاش اگروال کی قیادت میں الیکشن لڑنے کی بات کرتا ہے لیکن بی جے پی میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد بھی کسی کو وزیر اعلی کا امیدوار طے نہیں کیا جا  سکا ہے لیکن ایسے اعلان کی ضرورت پارٹی کے زیادہ تر لوگ محسوس کر رہے ہیں۔

ریاستی انچارج کے طور پر جو نام گردش میں ہیں ان پر فی الحال اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے ، لیکن اس بارے میں جلد فیصلہ لیا جائے گا۔صدر کون بنے گا یہ تو پارٹی کے بڑے لیڈر ہی طے کریں گے لیکن اسمبلی انتخابات سے پہلے جو حالات دہلی بی جے پی میں بنے ہیں وہ مستقبل کے لئے اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ دہلی بی جے پی میں جو" ' ایکلا چلو رے" کی جوروایت شروع ہوئی ہے وہ بھی پارٹی کے گراف کو نیچے کی طرف لے جا رہی ہے۔ہائی کمان کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

جمعہ، 25 اکتوبر، 2013

لو کر لو گل

محمد علم اللہ اصلاحی
ابھی ابھی مرے ایک دوست نے بتایا کہ دہلی پولس نے تین ناجيرين کو دو کلو پیاز کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ اسے دہلی پولیس کی ایک بڑی کامیابی مانی جا رہی ہے۔میں نے اس پر تبصرہ وہ یہاں بھی پوسٹ کئے دیتا ہوں۔۔۔۔۔دیہات میں ایک محاورہ کہا جاتا ہے"  لو کر لو گل " اس سے زیادہ بلیغ تبصرہ اس پر شاید نہیں کیا جا سکتا. سمجھ میں نہیں آتا ہنسے یا روئیں مرزا غالب ہوتے تو کہتے ۔۔۔۔
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی


۔۔۔مزید

منگل، 8 اکتوبر، 2013

ترکی وہندتعلقات اورپرنب کا دورہ

محمد علم اللہ اصلاحی
صدرجمہوریہ ہند اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گل کی دعوت پرحال ہی میں استنبول کے کامیاب دورے سے واپس آئے ہیں۔ خبروں کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں کسی ہندوستانی صدر کایہ پہلا ترکی کا سفرتھاجبکہ ترکی کے صدر 2010 میں آخری بار ہندوستان آئے تھے۔اس دورے پرصدرجمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ ، تاجروں، صحافیوں اوردانشوروں کاایک اعلیٰ سطحی وفدبھی شریکِ سفر تھا۔ پرنب مکھرجی نے ترکی کے صدر عبداللہ گل کے علاوہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوغان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے امکانات پر گفت وشنیدکی، جس میں بالخصوص سائنس ،ٹیکنالوجی اور معیشت و ثقافت جیسے موضوعات زیر غور آئے۔علاوہ ازیں ہندوستان اور ترکی کے درمیان تجارتی شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ لیکن ان تمام سرگرمیوں کے حوالے سے ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ہندوستانی میڈیا میں صدرجمہوریہ کے دورہ ترکی کوکوئی اہمیت نہیں دی گئی ،سوائے اس کے کہ چند ہی خبریں اس ضمن میں اخبارات کی زینت بنیں۔اس کی وجہ کیا ہے، ہم ٹھیک سے تو نہیں کہہ سکتے، لیکن میڈیا کی یہ بے رخی بہتو ں کو معنی خیزمحسوس ہورہی ہے۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر کے دورے کوہمارے میڈیا نے بھلے ہی بہت زیادہ اہمیت نہ دی ہو لیکن ترک سمیت عالمی میڈیا میں یہ خبر اس پورے ہفتہ بحث کا موضوع بنی رہی اور مختلف تجزیہ نگار اپنے اپنے نقطہ نظر سے پرنب کے دورہ ترکی کی خبرکو تجزیہ اور تبصرہ کاموضوع بناتے دیکھے گئے۔

ترک میڈیا میں اس دورے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعہ دونوں ملکوں کے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات میں استحکام پیدا ہوگااور سائنس و تکنالوجی کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھے گا۔ اس ضمن میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پرنب مکھر جی کو استنبول یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطاکی گئی ہے۔اس سلسلے میں اس دورے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ہندوستان کے کئی بڑے اداروں کے ذمہ داران یعنی جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی کے سربراہان کے علاوہ یوجی سی کے چیر مین وید پرکاش بھی وفد کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق اس موقع پرتعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔جن میں دونوں ملکوں کے درمیان طلباء کا تبادلہ اور اسکالر شپ جیسے پروگرام بھی شامل ہیں۔اس سے یقیناًعلمی تحقیق و جستجو کی راہیں ہموار ہوں گی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر کا ترکی سے رشتہ قدیم اور گہراہے۔دونوں ممالک کی تہذیب وثقافت میں بھی کافی مماثلت ہے۔ شاید اس لئے بھی بہت سارے ہندوستانیوں کو یہ جاننے کی خواہش رہی ہوگی کہ اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور کیا کیا موضوعات زیر بحث آئے لیکن انھیں ہندوستانی میڈیا سے مایوسی ہوئی جو بہر حال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ امریکہ یادوسرے یورپی ممالک کے سفر پر ہمارے ملک کا چھوٹے سے چھوٹا افسر یاوزیربھی جاتا ہے تو خبریں بھری پڑی رہتی ہیں لیکن اسے اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔ترکی کو قدر و منزلت اور عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے ہندی مسلمانوں سمیت بہت سے لوگ ہماریمیڈیا کے اس رویے سے حیرت زدہ ہیں۔اس سلسلے میں جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات عرض کرتا چلوں کہ صدر جمہوریہ نے اپنے وفد میں جامعہ ملیہ کے کسی ذمہ دار کو شامل سفرنہیں کیا،یاد رہے کہ ہندوستان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ وہ واحد یونیورسٹی ہے جہاں باضابطہ طور پر ترکی ڈپارٹمنٹ قائم ہے اور بڑی تعداد میں طلباء ذوق شوق سے ترکی زبان وادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ترکوں سے ہماری وابستگی کوئی نئی نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطحی آمدورفت بھی دیکھی گئی ہے۔ ابھی ماہ جولائی میں ہی ہمارے ملک کے وزیر خارجہ سلمان خورشید بھی ترکی کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے کافی خوشی کا اظہار کیا تھا، اس لئے اس بارے میں لوگوں کے توہمات بے جا بھی نہیں ہیں۔راقم الحروف کو ابھی حال ہی میں ترکی کی ایک این جی او انڈیا لاگ فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ترکی شعبہ کے منتظم ڈاکٹر محسن علی نے بڑی تفصیل سے ترک و ہند تعلقات پر روشنی ڈالی۔انہی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ ترکی حکومت کی جانب سے دہلی جیسے شہر میں چار معیاری اسکول چلائے جا رہے ہیں ،کئی ہاسٹل اور کوچنگ سینٹر بھی جس سے مسلم و غیر مسلم ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں لیکن ایسی سرگرمیوں پر بھی ہمارے میڈیا کی توجہ نہیں جاتی۔ڈاکٹرموصوف کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں سے کئی معیاری علمی و ادبی پرچوں کا بھی اجرا ہواہے، یہ یقیناًخوشی کی بات ہے۔یوں بھی ترکوں سے ہماری علمی و ادبی وابستگی گھر اور آنگن جیسی ہے،جس کے اثرات وہاں اور یہاں کے ثقافت اور کلچر میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔

آتے وقت انڈیا لاگ فاونڈیشن دہلی آفس کے ڈائریکٹر نورالدین کپارو نے ’’ٹرکش ریویو‘‘ کا ایک خاص شمارہ بھی دیا جو شہر استنبول سے متعلق ہے۔اس شمارے میں اس شہر سے متعلق کافی معیاری اور تاریخی مضامین و مقالہ جات شامل ہیں۔ابھی اسے مکمل پڑھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا ، لیکن اس کے چیدہ چیدہ حصوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک قوم کا معیار کافی بلند اور ذوق بالیدہ ہے۔شاید اسی وجہ سے ہمارے یہاں یعنی ہندوستان سے بھی کافی لوگ ترکی گئے، وہاں آباد ہوئے اور وہاں کے بارے میں کافی کچھ لکھا۔معروف ادیب سید سجاد حیدر بھی اسی وجہ سے ترکی سیکھنے پر مجبور ہوئے تھے اور انھیں ترکی اتنا بھایا تھا کہ انھوں نے اپنے نام میں ’’یلدرم‘‘ کا اضافہ کر لیا تھا۔انھوں نے بغداد اور قسطنطنیہ (آج کا استنبول) کے برطانوی قونصل خانے میں ترکی زبان کے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔انھوں نے بڑی تعداد میں وہاں کے لٹریچر کا تر جمہ بھی کیا۔ان کے قلم سے ہوئے 1906ء4 میں خلیل رشدی کے ’’نشے کی پہلی ترنگ‘‘ نامی افسانے کے ترجمہ کو اردو دان حلقے نے بطور خاص خوب سراہا۔انھوں نے اس کے بعد ترکی سے کئی ڈرامے اور افسانے ترجمہ کیے۔اسی طرح علامہ شبلی نے کافی کچھ ترکی کے بارے میں لکھا اور وہاں سے اپنے خصوصی لگاؤ کا ذکر کیا ،علامہ شبلی نے توترکی سے واپسی کے بعد باقاعدہ سفرنامہ لکھا جسکی تاریخی اور ادبی حیثیت سے شاید ہی کوئی انکار کر سکتا ہے۔اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کے والد مولوی خیر الدین کوبھی ترکی کی علمی فضا راس آنااوران کے ذریعہ ترکی کی لغت تیار کرنا ایک اہم کارنامہ تھا جسے ہم فراموش کر چکے ہیں۔

یہ ترکی سے اردو ادیبوں اور شاعروں کی محبت ہی تھی کہ 1922ء میں علامہ نیاز فتح پوری نے ایک علمی اور ادبی پرچہ کا آغاز کیا تو ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی نسبت سے اس کا نام ’’نگار‘‘ رکھا۔ علامہ اقبال کو بھی ترکی سے خاص نسبت تھی اور اپنی شاعری میں وہ اس کا جابجا ذکر بھی کرتے ہیں۔ترکی قلمکاروں نے بھی ہندوستان کو اتنی ہی اہمیت دی اور شاید یہ بھی وجہ رہی ہو کہ جب خالدہ ادیب خانم 20ء کی دہائی میں ہندوستان آئیں تو ان کا استقبال شہزادیوں کی طرح کیا گیا، اسی طرح دوسرے ترک ادیب بھی ہندوستان کے اردو خواں طبقے میں مقبول و محبوب رہے۔خالدہ ادیب خانم نے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کئی خطبات بھی دیے، جنھیں تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ہمارے ملک کے باسیوں میں ترکوں اور سلطنت عثمانیہ سے وابستگی اور اس کیلئے محبت و مودت کے احساس کا عالم یہ تھا کہ ہندوستان میں خلافت تحریک چلائی گئی تو اسے مسلم ہندو اتحاد کی علامت کادرجہ حاصل ہوگیا جس کے قائدین میں محمد علی جوہر کے علاوہ گاندھی جی بھی تھے۔پہلی عالمی جنگ نے جہاں دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا، وہیں سلطنت عثمانیہ کا سورج بھی ڈوب گیا۔ کمال اتا ترک نے خلافت کو خیر باد کہا اور 1923 میں جدید ترکی کی بنیاد رکھی۔اس نے ترکی میں جدید مغربی خیالات و نظریات اورطرز معاشرت کا دور شروع کیا۔ وہ ملک جو یورپ کا ’’مرد بیمار‘‘ کہلاتا تھا اور بہت پسماندہ اور بدحال تھا اس کی حالت اقتصادی طور پہ قدرے بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن 1929 میں دنیا شدید اقتصادی بحران کا شکار ہو گئی جس کوعظیم کساد بازاری کہتے ہیں،ظاہر ہے اس کا اثر ترکی پر بھی پڑا۔

کہا جاتا ہے کہ یہی بحران آگے چل کر دوسری عالمی جنگ کا ایک سبب بنا۔ اس درمیان ترکی میں ناخوشگوار حالات پیدا ہوتے چلے گئے اور اس مملکت کواقتصادی بحران نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کے سکے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی۔ قرض اور درآمد کی ادائیگی کے لئے خزانہ خالی ہوگیا۔ ایسے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ذریعہ حکومت کی مدد کی گئی اور یوں اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہ وہ وقت تھا جب مملکت ترکی کی اقتصادی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے جہاں ایک دوسرے کو بربادکیا وہیں جنگ کے بحران میں پھنسی ہوئی ترکی کی معیشت کو سہارا دیا۔ 1980۔88 ء کے درمیان عراق اور ایران نے ترکی کے ساتھ تجارت کی، خاص طور سے عراق نے ترکی کی بندرگاہوں کا استعمال کیا جس کے ذریعہ ترکی کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ملا۔ 90 ء کی دہائی میں ترکی میں مستقل اقتصادی ترقی کاایک عمل شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ترکی اس وقت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کے حساب سے وہ دنیا کی 17 ویں بڑی معیشت ہے۔ چند سال پہلے جب پوری دنیا مالی بحران کا شکار تھی،اس وقت ترکی کی معیشت 8 اور 9 فیصد سالانہ ترقی کی شرح پر تھی۔اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ترکی یورپ میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے وہ اعلی وسطی آمدنی والا ملک ہے۔

فوربس سروے کے مطابق استنبول میں ارب پتی افراد کی تعداد 28 ہے جبکہ نیو یارک میں 60 ، ماسکو میں 50 اور لندن میں 32 ارب پتی رہتے ہیں۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول ارب پتیوں کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام انتظامی اختیارات وزیر اعظم اور کابینہ کے پاس ہیں۔ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے، 1933 کے بعد سے ووٹنگ کا حق 18 سال کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ ہندوستان کی طرح اس ملک میں درجنوں سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہیں۔ آئین کے مطابق تر ک خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی میں ایک خاتون حکومت بھی ملک کی باگ ڈور سنبھال چکی ہیں جبکہ امریکہ جیسے ملک میں ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

ہم ترکوں سے اپنے دیرینہ تعلقات وروایات کا ذکر بار بار کرتے ہیں۔لیکن ان تمام حقائق کے باوجود ہم میں سے بہت کم ہیں جو ترکی کی صنعت ، زراعت اور معیشت کاقریب سے جائزہ لیتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کی اندرونی کل پیداوار 1358 ارب ہے۔ کاروبار کے لئے بہتر ممالک میں ترکی 71 ویں نمبر پر ہے۔اس کی سالانہ برآمدات163.40 ارب ڈالر ہے اور وہ برآمد کے بارے میں دنیا میں 29 واں سب سے بڑا ملک ہے 2012 ء تک ترکی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 152.90 ارب ڈالر تھا۔ اس سلسلے میں وہ دنیا کا 29 واں بڑا ملک تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی 209 ارب ڈالر جبکہ سالانہ خرچ 228.3 ارب ڈالر ہے۔ اس وقت جب کہ ہمارے یہاں تبادلہ کے ذخائر کم ہو چکے ہیں اس تناظر میں دیکھیں تو ترکی کے پاس کرنسی ذخائر اگست 2013 تک124.187 ارب ڈالر تھے۔ ترکی دنیا میں 10 واں سب سے بڑا سٹیل پروڈیوسر ہے اور یورپ میں ٹی وی تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

فن تعمیر کی صنعت میں بھی یہ چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی 33 تعمیراتی کمپنیوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس کے طول و عرض میں 9 بین الاقوامی سمیت 102 ہوائی اڈے ہیں۔ہوائی مسافروں کی سالانہ تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ ریلوے کا 22 واں سب سے بڑا نظام ترکی میں ہے۔ سڑکوں کا جال چار لاکھ 26 ہزار کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ جس میں 2 ہزار کلومیٹر ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔ ترکی کے پاس 12 سو جہاز ہیں اور دنیا میں جہاز رانی کی 7 ویں بڑی صنعت ہے۔لینڈ لائن ٹیلی فون اور موبائل کی طرف سے ترکی دنیا کا علی الترتیب 18 واں اور 15 واں بڑا ملک ہے۔ سیاحت میں ترکی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے 100 بہترین ہوٹلوں میں سے 10 ترکی میں ہے جہاں 3 کروڑ سیاح ہر سال آتے ہیں اورجن سے اسے 22 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

ان تمام خشک اعداد و شمار ز اور تفصیلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم علم اور ادب کی دنیا کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں وہاں دنیا کے مشہور مصنف اور شاعر ملتے ہیں۔ ناظم حکمت اور محمد عاکف ارصوئی کا ہمارے یہاں کافی نام ہے۔ اسی طرح جدید ترکی کے مصنفین میں اورخان پاموک ادب کا نوبل انعام لے چکا ہے۔ ہمارے ملک کو اس بات پر فخر ہے کہ اتنے بڑے عظیم قلم کار کی مہمان نوازی کر چکا ہے جے پور لٹریری فیسٹیول میں جس طرح سے لوگوں نے ان کی عزت افزائی کی، یہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔کل کا قسطنطنیہ جو آج استنبول کے نام سے مشہور ہے ، اس کے بارے میں اورہان پامک نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ہر عمر اور ہر نسل کے بچے ، نوجوان اور بڑے ، عورتیں اور مرد اپنی کھڑکیوں یا بالکونی میں کھڑے ہوکر ان بحری جہازوں کو تکتے اور گنتے رہتے ہیں جو آبنائے باسفورس سے گزرتے ہیں۔ترکی کے اس مصنف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کتابیں ترکی کے عوام اس طرح پڑھتے ہیں گویا اپنی نبض ٹٹول رہے ہوں۔ابھی حال ہی میں معروف ہندوستانی پبلشر پنگوئن نے ان کی کتاب ’’اسنو‘‘کا خوبصورت ہندی ترجمہ شائع کیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ ترکی علم و ادب اور ثقافت کے چاہنے والے ہندوستان میں بڑی تعداد میں ہیں۔میں نے یہ کتاب پڑھی ہے، واقعی کافی دلچسپ ہے۔اس کتاب کے ذریعہ ہم یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ترکی کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

الغرض ہم جتنی باریکی سے ہندوستان اور ترکی کا جائزہ لیتے ہیں، علم وادب اورثقافت کی پرتیں تہہ در تہہ کھلتی جاتی ہیں۔ہمیں اس ملک کی قدر کرنی چاہئے اور ایک ایسے دور میں جب کہ ہمارے ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ایک مخلص اور ترقی کی طرف گامزن ملک کے طور پر ترکی کے احساسات و جذبات کی قدر اور خلوص کا اسی انداز میں استقبال کرنا چاہئے۔ہمارے ملک کے صدر پرنب مکھر جی نے وہاں جن جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے اسے حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ایک دوست مملکت کے خلوص اور محبت کا تقاضہ بھی ہے اور خود ہمارے ملک کے امن ومفاد عامہ کے لئے مفید ترین بھی۔اگر انقرہ ا اور دہلی کی یہ کوشش بار آور ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہوگا۔بلکہ اس پورے خطہ کے لئے بھی مفید ،اور اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ اس خطہ کے مسائل کو حل کرنے کے حوالہ سے ترکی انتہائی مثبت کردار ادا کرنیکی پوزیشن میں ہے، کیونکہ ترک قیادت کو پاکستان میں بھی تمام حلقوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ہندوستان ،پاکستان اور افغانستان کے مسائل کو حل کرنے میں ترکی کا معاشی درجہ بھی ممد و معاون ہوسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کارپردازان سلطنت ان امکانات کو جانچ ٹٹول کر نیک نیتی سے آگے بڑھنے کا تہیہ کریں اور پھر اس ضمن میں جلد از جلد عملی اقدامات اٹھائیں۔

۔۔۔مزید

اتوار، 15 ستمبر، 2013

مظفر نگر فساد:آنکھوں دیکھا حال

قیامت کے دن ہیں مصائب کی راتیں

محمد علم اللہ اصلاحی
کبھی کسی کی زبانی سنا تھا ’’فساد تو دراصل فروٹ ہوتا ہے اس سے پہلے کھاد ،پانی اور بیج بویا جاتا ہے نفرت ،تعصب ،ظلم اور بربریت کا ‘‘۔اس قول کی سچی تعبیر اس وقت دیکھنے کو ملی جب ہم مغربی یوپی کے علاقہ مظفر نگر اور اس کے مضافات میں ہوئے فسادات کے بعد حالات کا جائزہ لینے کے لئے وہاں پہونچے۔پولس اور فورس کی بھاری نفری نے نقض امن کی دہائی دیکر ہمیں ان علاقوں میں جانے تو نہیں دیا جہاں یہ واردات انجام دی گئی تھیں۔مگر ہم نے متاثرین پر ہوئے ظلم و تشدد کی کہانی سننے اور حقیقی واقعہ کی تلاش کے لئے عارضی طور پر بنے کیمپوں کا رخ کیا اور وہیں بے یار و مددگار اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاررہے متاثرین سے ملاقات کی۔
ریاست اترپردیش کے ضلع کاندھلہ ،شاملی اور باغپت جیسے ضلعوں کے مختلف مدرسوں ،اسکولوں، عید گاہوں و گھروں میں مقیم ایک لاکھ سے بھی زائد مہاجرین کی الگ الگ داستان اور الگ الگ واقعات تھے ،جنھیں سنتے ہوئے ہمارے دل لرز رہے تھے تو لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے۔یہیں معلوم ہوا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ان کی کربناک داستان الگ ہے جن میں ہزاروں لوگ قرب و جوار میں اپنے رشتے داروں کے یہاں چلے گئے ہیں۔یہاں پچاسوں ہزارسے بھی زائد کی تعداد میں اپنے جائداد ،لٹے پٹے گھر ،جانور اور اثاثہ کو کھو دینے والے مہاجرین کے چہرے سے خوف اور دہشت صاف عیاں تھی۔
کھلے آسمان تلے ان بے خانماں لوگوں میں کوئی اپنے بیٹے کو کھوچکا ہے تو کسی کی بیٹی غائب ہے ،کوئی عورت اپنے شوہر کے قتل کی روداد سناتے سناتے آنسووں کو ضبط نہیں کر پارہی تو کوئی بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کو کاندھا دینے کی دلخراش کہانی بیان کرتے کرتے رو پڑتا ہے۔کسی کا پورا اثاثہ لٹ گیا ہے ،کسی کے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے تو کسی کے شیر خوار بچے کو چھین کر اس کے سامنے ہی قتل کر دیا گیاہے۔کسی کی ماں زخمی ہے تو کسی کا بھائی ہمیشہ کے لئے پاوں سے معذور ہو چکا ہے۔کتنے ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنی جوان بیٹیوں کو کھو دیا ہے یا انھیں بلوائی اغوا کر لے گئے ہیں۔
دہلی سولہ دسمبر 2012کے غیر انسانی واقعہ میں دامنی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس پر شنوائی کرتے ہوئے عدالت نے چار لوگوں کو پھانسی کی سزا دی ہے ، اس سے کہیں زیادہ شرمناک اور جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے واقعات اس علاقے میں ہماری بہت سی بہنوں کے ساتھ پیش آئے ہیں، یہ دونوں واقعات موازنہ کے قابل نہیں ہیں لیکن واقعاتی نوعیت پر حکومت کے اقدام کا موازنہ ضرور کیا جانا چاہیے، ایک موقع پر عالمی پیمانے پر حکومت کی ساکھ مجروح ہونے کا ڈر تھااس لیے تمام قانونی کارروائیاں عمل میں آگئیں،حکومت نے اخلاقی تقاضے بھی دھڑادھڑ پورے کرڈالے، دوسری طرف صرف اندرون ملک کا سماجی خلفشار ہے ، جو ہمیشہ سے حکومت کی غفلت شعاری کا شکار رہا ہے، اس واقعہ میں بھی سیاسی جماعتیں باہم جھگڑ رہی ہیں اور فساد کے مارے ہوئے لوگ عوام کے ذریعہ پہنچائی گئی مدد کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ سلیمانیہ کاندھلہ کیمپ
سب سے پہلے ہم سلیمانیہ کاندھلہ مدرسہ اسلامیہ میں واقع کیمپ میں پہنچے۔جس کے ذمہ دارپوری دل جمعی سے پناہ گزینوں کی خدمت کر رہے ہیں۔یہاں تقریبا ساڑھے سات ہزار مہاجرین قیام پذیر ہیں ،اس کیمپ میں زیادہ تر لساڑ گاوں ،نثار گنج ،پھگانہ ،دھوبیان جیسے دیہی علاقوں کے افراد تھے۔اس کیمپ کی دیکھ ریکھ اور دیگر ذمہ داریاں انجام دینے والے مولانا نور الحسن راشد کا کہنا تھا: ’’پورے علاقے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 60ہزار سے بھی زائد مہاجرین اس طرح کے کیمپوں میں ہیں ،مرنے والوں کی تعداد حکومت کے مطابق 48ہے تاہم ہمارا کہنا ہے کہ یہ تعداد بھی دو سو سے کم نہیں ہے۔بعض خاندانوں کے تو پانچ اور بعضوں کے دس دس افراد کو بلوائیوں نے یا تو قتل کر دیا یا زندہ جلا دیاہے۔20سے زائد لڑکیاں غائب ہیں۔لوگوں کے اندر خوف و ہراس اس قدر ہے کہ وہ پولس اور فورس کی موجودگی میں بھی اپنے گھروں کو واپس جانا نہیں چاہ رہے ہیں۔بہت سارے مسلم نوجوانوں کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے ،گھراور مسجدیں مسمار کر دی گئی ہیں اور لاش و دیگر شواہد کو مٹانے کے لئے اس کے راکھ تک کو ندی میں بہا دیا گیا ہے۔مکانات جس طرح سے گرائے گئے ہیں وہ ایسا نہیں ہے کہ اچانک ہو گیا بلکہ وہ منظم سازش کا مظہر ہے ،جس میں دھماکہ خیز اشیاء کے علاوہ کچھ خاص قسم کے کیمیکل بھی استعمال کئے گئے ہیں۔سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہاں کبھی بھی اس قسم کے حادثات وقوع پذیر نہیں ہوئے،حتی کہ تقسیم ہند کے بعد بھی جب پورا ملک خاک و خون میں لتھڑ گیا تھا ‘‘۔
یہاں گوکہ ملی تنظیموں کی جانب سے ہیلتھ سینٹر ، اشیائے خوردونوش اور دیگر عام ضروریات زندگی کا نظم کیا گیا ہے لیکن حالات بہر حال نا گفتہ بہ ہیں۔ایک ایک خیمہ میں ہزاروں خواتین ایک ساتھ اور اسی طرح مردوں کے خیمہ میں ہزاروں مرد ایک ساتھ سونے پر مجبور ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمر کھیلنے اور اسکول جانے کی ہے ہجرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔یہاں پر ہم نے مختلف متاثرین سے ملاقات بھی کی جنھوں نے ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔نثار گنج کے محمد طیب (30)کہتے ہیں ’’سات ستمبر کو کوال میں پنچایت ہوئی اسی کے بعد حالات خراب ہوئے ،سب سے پہلے گاوں کے ہی انصاری لڑکے کو جاٹ لڑکوں نے مارا۔کئی جگہ اس طرح کی واردات سننے میں آ رہی تھیں اور لوگ گھروں کو چھوڑ کر جانے لگے تھے۔ہم نے بھی لڑکیوں اور خواتین کو محفوظ مقام میں پہنچانا شروع کر دیا لیکن راستہ میں جاٹوں کے کھیت میں چار سو سے بھی زائد ہندو اکٹھا ہو گئے اور انھوں نے ہمیں جانے نہیں دیا۔کسی طرح ہم لوگ فورس کی مدد سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے لیکن ہماری بہت ساری خواتین اور لڑکے چھوٹ گئے اوروہ غائب ہیں جن کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔‘‘
اسی گاؤں کے ایک اور متاثر محمد خالد 25سال کا کہنا تھا: ’’ہم سب سے بعد میں آئے۔مختلف شر پسند عناصر کی جانب سے سی ڈی( CD)کی تقسیم کے بعد جس میں کچھ لوگوں کو مبینہ طور پر دکھایا گیا تھا کہ مسلمان ہندؤوں کو مار رہے ہیں۔ان کا مطلب یہی تھا کہ ہمارے لوگ جو مر گئے ہیں ان کا بدلہ لیا جائے۔سب سے پہلے ہمارے مکان سے آگ لگائی گئی۔آگ لگانے والوں کے ہاتھ میں پٹرول اور خطرناک ہتھیار تھے۔وہ ڈھول اور باجے کے ساتھ آتے تھے اور آگ لگاتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔آگے آگے پولس تھی لیکن وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ہم لوگوں نے گنے کے کھیت میں چھپ کر کسی طرح اپنی جان بچائی۔‘‘
اسی کیمپ میں مقیم 40سالہ لساڑ گاوں کے ستارہ مسجد کے امام جمیل احمد کا کہنا تھا: ’’ ہمارے گاوں میں تین سو کے قریب مسلمان گھرانے ہیں ،کوئی بھی نوکری والا نہیں ہے۔جس وقت واردات ہوئی میں جان بچا کر بھاگ رہا تھا۔ میرے سامنے میرے چچا کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔اتوار کا دن تھا آٹھ ستمبر ہمارے چچا، جن کا نام سکھن تھا کو انھوں نے گنڈاسے اور تبلہ سے مار دیا۔حملہ آوروں کے پاس تلوار ،گڑاسا ،بندوق اور رائفلیں تھیں۔انھوں نے مسجد کو بھی آگ لگا دی ،جس میں خاصی تعداد میں قرآن مجید اوردوسری بہت سی چیزیں جل کر راکھ ہو گئیں۔میں نے کھیتوں میں گھس کر جان بچائی اور ندی پار کرکے کاندھلہ پہنچا ‘‘۔
محمد سلیم 44 سال پھگانہ محلہ چھوٹی مسجد دھوبیان کا کہنا تھا ’’آٹھ ستمبر کی صبح کو جاٹ آئے ،جو بھاگ سکے وہ بھاگے۔عورتوں کو انھوں نے زخمی کیا ،کئی کو مار ڈالا۔عمر علی حاجی کی ماں اور ان کے لڑکے اور بھائی کو بری طرح چاقو سے مار کر زخمی کر دیا۔آس محمد نام کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔اس کی وہ ریکارڈنگ بھی ہمارے پاس ہے جب وہ ڈاکٹر اور دیگر افراد کو رو رو کر بتا رہا ہے کہ کس طرح اس کے ہاتھ اور پاوں کو کاٹ دیا گیا۔ان تمام واقعات کی اطلاع کے لئے جب ہم نے ایس او کو فون کیا تو انھوں نے فون کاٹ دیا ،میرے سامنے دو لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکا ،اس لئے کہ وہ پوری طرح ہتھیار سے لیس تھے ‘‘۔
مدرسہ اسلامیہ رفیقیہ ریاض العلوم جوگیا کھیڑا
اس کیمپ میں بھی پانچ ہزار کے قریب افراد قیام پذیر ہیں ،یہاں زیادہ تر پھگانہ ،ہڑد ،کھیڑا ،ستان ،شد ناولی ،ٹکری ،ڈونگر ،وغیرہ جیسے گاؤں کے افراد تھے۔لوگوں کے بقول حکومت کے ذمہ داران نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے کھانے پینے ،رہنے سہنے اور ہر قسم کی ضرورتوں کا انتظام کرایا جائے گا ،لیکن فی الحال حکومت کی جانب سے کوئی خاص اقدام نہیں ہوا ہے۔زیادہ تر لوگ نا خواندہ اور کم پڑھے لکھے ہیں۔اس لئے ابھی تک انھوں نے اپنے اوپر ہوئے ظلم و تشدد کی رپورٹ بھی درج نہیں کرائی ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو گئی اور ہر ایک اپنی داستان سنانے کے لئے بے تاب ہو گیا۔اس کیمپ میں اسی سالہ بزرگ سے لیکر 15دن کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی موجود تھے۔
اس کیمپ میں مقیم پھگانہ کی ایک خاتون فاطمہ 35سال کا کہنا تھا :’’بلوائیوں نے انھیں ننگا کر کے آبروریزی کی کوشش کی ،وہ برہنگی کی حالت میں بھاگ کر پولس اسٹیشن آئی جہاں انھیں کپڑا دیا دیا گیا اور اس کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔جلدی میں اور جان بچانے کے چکر میں ان کی تین سالہ بھتیجی بھی چھوٹ گئی جس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔فسادی جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے اور ڈھول بجاتے ہوئے حملہ کے لئے آئے تھے۔،ان لوگوں نے ہمارے کتنے لوگوں کو مارا پتہ نہیں ‘‘۔
پھگانہ کے حاجی مان علی ولد فتح دین( 55سال) کا کہنا تھا :’’ کئی دن پہلے سے مودی کے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔گاوں کے پردھان نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔پردھان ہمیں یہ کہہ کر گیا تھا کہ آج کے دن نوجوانوں میں ذرا آکروش ہے تو اگر وہ کچھ کہہ بھی دیں تو اس کا جواب نہ دیں۔ہم لوگوں نے بھی یہی سوچا تھا کہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد انھوں نے حملہ کر دیا۔وہ بلم اور تلوار لئے ہوئے تھے۔انھوں نے میرے لڑکے کو گنڈاسا سے مار کر زخمی کر دیا۔اسلام نامی ایک ستر سالہ بزرگ کو میرے سامنے قتل کر ڈالا۔ہم اپنی جان بچانے کے لئے گھر وں کے چھتوں میں چڑھ گئے اور وہاں اینٹیں بھی جمع کر لیں۔ ہم نے سوچ لیا تھا کہ ہم انھیں اینٹوں سے حملہ کریں گے اگر وہ ہماری جانب آنے کی کوشش کریں گے۔بچوں کو ہم نے حوصلہ دلایا کہ ڈرو نہیں ہم بھی مقابلہ کر سکتے ہیں اور سچ مچ جب انھیں اندازہ ہو گیا کہ ہم بھی کچھ کر سکتے ہیں تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔اس کے بعد ہم نے تھانہ فون کیا لیکن فون ریسیو نہیں کیا گیا۔شام کو سات گھنٹہ بعد فورس آئی اور پھر چھت میں سے جہاں 300افراد جمع تھے ہمیں یہاں منتقل کیا۔اب ہمارے گھروں کو جلا دیا گیا ہے۔بھینس اور جانور کھول کر لے گئے۔ کچھ نہیں بچا ہم لٹ گئے ‘‘۔
اسی گاوں کے گلفام (30سال) کا کہنا تھا ’’ہم ہمت کر کے چار دن بعد اپنی بھینیسوں کو لانے گئے اور 6بھینسوں کو لانے میں کامیاب ہوئے ان لوگوں نے بہت سارے جانور ہمارے چرا لئے۔گاوں میں ایک بڑا مدرسہ تھا۔اس کو بھی پوری طرح لوٹ لیا۔اس میں تعمیراتی کام بھی جاری تھا۔عطیہ کی رقم بھی کافی مقدار میں اکٹھا تھی وہ سب لوٹ کر لے گئے۔مسجدوں میں بھگوا جھنڈا گاڑ دیا گیا ہے۔پتہ چلا کہ ہمارے بہت سے جانور وہ لوگ کاٹ کر کھا گئے اور بھی لوگوں کے جانور وہاں بندھے ہوئے تھے ،کئی دنوں سے انھیں کھانا پانی اور چارہ نہیں دیا گیا ہے وہ ویسے ہی وہاں پر بندھے پڑے ہیں اگر ان کی دیکھ ریکھ نہیں کی گئی تو سب مر جائیں گے ،کئی بچھڑے اور گائیں تو مرچکی ہیں۔‘‘
جولا گاؤں کا کیمپ
یہاں باضابطہ خیمہ گاڑ کر کیمپ نہیں بنایا گیا ہے ،لیکن بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کے گھروں میں مقیم ہیں۔یہاں بھی پانچ ہزار لوگ مقیم ہیں۔کسی کے یہاں دو سو لوگوں کے رہنے کا عارضی انتظام کیا گیا ہے تو کسی کے یہاں ڈیڑھ سو۔بہت سارے خاندان ٹکڑیوں کی صورت میں مختلف لوگوں نے مہمان بنا لئے ہیں ،یہاں بھی زخمی اور بے یار و مددگار اور عزیزوں اور پیاروں کو کھو دینے والے افراد کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لوگوں نے اپنے اپنے طور پر ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کیا ہے۔یہاں کے مقامی مدرسہ میں ریلیف کا سامان رکھا ہواہے جہاں سے ضرورت مندوں کو سپلائی کیا جا رہا ہے ،ایک اور مدرسہ میں طعام کا انتظام کیا گیا ہے۔یہاں لاکھ گاؤں، باوڑی ،لساڑ اور ڈونگر جیسے علاقوں کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔
یہاں حاجی مہدی کے یہاں مقیم 120لوگوں میں سے لاکھ کی رہنے والی ایک 60سالہ رئیسہ خاتون کا کہنا تھا: ’’ 8ستمبر کو صبح کا وقت تھا۔وہ لوگ بڑے بڑے لاٹھی، ڈنڈا اور بلم و چاقو لے کر گاؤں میں گھس گئے ،وہ زور زور سے چلا رہے تھے۔ ساتھ میں نعرے بھی لگا رہے تھے اور ڈھول و باجا بھی پیٹ رہے تھے۔جب ہم نے انھیں دیکھا تو ہم بیت الخلاء میں چھپ گئے۔انھوں نے ہمارے گھر میں گھس کر ہمارے دیور اور شوہر کو مار ڈالا۔میرے دیور کا نام پونی (40)تھا اور شوہر کا نام قاسم (62)۔ہم تو ڈر کے مارے وہاں سے نکلے ہی نہیں۔بعد میں جولا گاوں کے لوگ فورس کے ساتھ آئے اور ہمیں نکال کریہاں لائے ‘‘۔
یہیں مستری مانگی کے یہاں مقیم 137لوگوں میں سے ایک اقبال( 41سال )جس نے اپنے تیرہ سالہ بیٹے کو کھو دیا کا کہنا تھا :’’۔انھوں نے میرے بیٹے کو شہید کر دیا۔میرے گھر کو آگ لگا دی ،سارا اثاثہ لوٹ کر لے گئے ،ہم کسی طرح جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔میری امی 75سال کی ہے انھیں بھی ان لوگوں نے سر میں مار کر زخمی کر دیا۔گنڈاسے سے مار کر پیٹھ کو زخمی کر دیا اور آگ لگا کر بھاگ گئے۔اقبال کی والدہ رمضانو سے ہم نے ملاقات کی۔وہ بستر پر پڑی تھی اور آس پاس عیادت کرنے والی خواتین کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ان کا پچھلا حصہ پوری طرح جلا ہوا تھا ،سر پر پٹی تھی اور پشت پر بینڈیج لگا تھا۔
کینوال کیمپ :
شفیق الپٹی نامی گاؤں میں ایک وسیع و عریض سرکاری قطعہ اراضی پر تھوڑے تھوڑے سے فاصلہ پر کئی خیمے لگے ہوئے ہیں ۔وہ خواتین جو کل تک اپنے اپنی گھروں میں ہنسی خوشی زندگی گذار رہی تھیں،یہاں دھوپ کی شدت اور بارش میں ٹپکتے پانی کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور تھے ۔اس کیمپ کے ٓرگنائزر مولانا محمد داؤود اسعدی کے بقول :’’اس کیمپ میں تقریبا پانچ ہزار افراد مقیم ہیں کچھ اپنے رشتہ داروں کے یہاں چلے گئے ہیں پھر بھی روزانہ یہاں 300سے زائد لوگوں کا کھانا بنایا جا رہا ہے ۔یہاں 29گاوں کے لوگ ہیں ۔
اس کیمپ میں مقیم ایک بزرگ محمد یوسف 50سال کا کہنا تھا :رات کو پتھرا�ؤکیا گیا ،ہمارے گاؤں سے کسی کے مرنے کی اطلاع تو نہیں ہے لیکن رات بھر بلوائی گالم گلوچ ااور دلوں کو دہلا دینے والے نعرے لگاتے رہے ۔ہم سے کہا گیا کہ اگر یہاں رہنا ہے تو سارے مسلمانوں والے اعمال کرنا چھوڑ دو ،داڑھی کٹوا لو اور ہم جیسا کہیں ویسا ہی کرو نہیں تو ہم تم لوگوں کو مزا چکھا دیں گے ۔ہم بہت ڈر گئے تھے ،دروازہ بند کر لیا تھا ،کئی دنوں تک ہم گھر میں بند رہے 7ستمبر کو فورس آئی اور ہمیں شکار پوئی چھوڑ گئی اور وہاں سے ہم کیمپ میں آ گئے ‘‘
یہیں تنگائی گاؤں کی ایک خاتون جنھوں نے اپنا نام حسینہ بتایا عمر پوچھنے پر ذہن پر ذرا زور دیتے ہوئے 60بتایا ،کہنے لگیں :پہلے تو ان لوگوں نے فساد ہونے سے بھی پہلے ہمارے گاوں میں مسجد کے امام حاجی علی حسن کے اوپر غلط الزام لگا کر انھیں جیل بھیجوا دیا اور جب وہ ضمانت پر رہا ہوکر آئے تو ان کے اوپر حملہ کی کوشش کی گئی ،انھیں مارا پیٹا گیا ،ہماری مسجد جسے ستارہ مسجد کہتے ہیں میں خنزیر کا گوشت رکھ دیا ۔ہماری جانب سے احتجاج کیا گیا تو پورے گاوں کو تباہ و برباد کر دینے کی دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ہمارے کئی جانوروں کو ان لوگوں نے زہر دے کرمار دیا ،ہم اس گاوں میں صرف 30سے 40گھر ہیں ۔ہم واپس نہیں جا سکتے چاہے یہیں ہماری موت کیوں نہ آ جائے ۔
لوئی گاوں کا کیمپ :
یہاں بھی بقول یہاں کے پردھان مہربان علی کے پانچ ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں وہ کرودا ،نرپڑا ،بڑہل ،باوڑی دہا اور دوسرے گاوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے پاس نہ تو رہنے کا کوئی بندو بست ہے اور نا ہی کوئی مناسب ہیلتھ سینٹر اور دیگر سہولیات کا انتظام جس کے سبب کئی بچوں کی موت ہو چکی ہے۔کئی ایک شدید طور پر زخمی ہیں ،جن کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔یہاں بھی زیادہ تر لوگ ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے افراد ہیں۔لوگوں کی آمد کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ،اور یہ اتنی زیادہ ہے کہ ان کے رہنے سہنے اور دیگر ضروریات کا انتظام کرانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے محض امید اور دلاسا دلایا جا رہا ہے۔لیکن ابھی تک صحیح معنوں میں کچھ نہیں کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے اپنے اپنے طور پر جو کچھ ہو سکا ہے کیا ہے۔
ان کے علاوہ بھی اورمتعدد کیمپ ہیں لیکن چونکہ رات کافی ہو گئی تھی اور ہمیں دہلی واپس بھی آنا تھا اس لئے ہم ان جگہوں کا دورہ نہیں کر سکے اور یوں ہمیں اس خواہش کے باوجود کے اور بھی لوگوں سے ملاقات کرتے انھیں حوصلہ دلاتے اور دکھ درد میں شریک ہوتے وقت نہ ہونے کے سبب واپس لوٹنا پڑا۔واضح رہے کہ ہمارا یہ دورہ مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی قیادت میں تھا جن کے ساتھ مشاورت کے رکن مرکزی عاملہ نوید حامد ،ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے اخلاق احمد کے علاوہ کئی سماجی کارکنان بھی شامل تھے۔اس وفد نے پرانی دہلی کے عوام اور مقتدر طبقہ کی جانب سے عطیہ کی شکل میں دئے گئے کپڑے ،چادریں اور ضروری سامان بھی متاثرین کے درمیان تقسیم کئے۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور نوید حامد نے تفصیل سے متاثرین کی بات سنی، انھیں دلاسا دیا اور اعلی ذمہ داران تک ان کی بات پہنچانے و انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔
عمومی تاثرات
لوگ ابھی بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔کسی بھی طرح سے وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔زیادہ تر لوگ ان پڑھ ،ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے ہیں اس لئے انھیں اپنے حقوق کے لئے لڑنے حتی کہ ایف آئی آر کس طرح سے درج کرائی جائے یا کیسے لکھی جائے معلوم نہیں ہے۔پولس اور دیگر منتظمین کا رویہ متعصبانہ ہے اور وہ حقیقت حال نہ تو جاننا چاہ رہے ہیں اور نہ ہی مجرمین کو کوئی سزا دینا ،بلکہ بعض جگہوں پر جیسا کہ متاثرین نے بتایا ،حکومتی ذمہ داران نے جان بوجھ کر لوگوں کو ڈھیل دی کہ مسلمانوں پر حملہ کیا جائے اور ان کے جان و مال کو لوٹا جائے۔اس بابت پھگانہ سے شروع ہونے والے ایس او علاقہ کے اوم بی سروہی کے کر دار پر لوگوں نے سوالیہ نشان کھڑے کئے۔اسی طرح لوگوں نے ہریش چندر جوشی کاندھلہ کے موجودہ ایس او کی کافی تعریف بھی کی اور کہا کہ ان کا کر دار اس معاملہ میں مثبت رہا۔جہاں پر واردات ہوئی ہیں حکومت کی جانب سے سروے اور دیگر احکام جاری ہونے کے بعد بھی پولس کی جانب سے شواہد کے مٹانے کا کام پڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ فساد شروع ہونے سے پہلے پولیس نے مسلم گھروں سے ان کے روزمرہ کے استعمال کے اشیاء بلم، گنڈاسے اور چاقو وغیرہ ، جو ان کے دفاع میں کام آسکتے تھے، جمع کرالئے ،جب کہ باہر سے اسلحے وغیرہ لاکر فسادی عناصر میں تقسیم کئے گئے۔بعض معمر لوگ اور بچے ابھی تک مخدوش گاؤوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ کھانا مل رہا ہے اور نہ پانی۔ پولیس ان کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد نہیں کررہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگرتوجہ نہ دی گئی تو ان میں سے کچھ کمزور لوگ مرگئے ہوں گے یا عنقریب مر جائیں گے۔ جہاں مسلم اکثریت میں ہیں ان علاقوں سے بعض ہندو بھی احتیاطاً بھاگے لیکن مسلمانوں نے ان کی حفاظت کی اور کہیں بھی ان کے خلاف کوئی واردات انجام دینے کی خبریں نہیں ملیں۔کافی تعداد میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔وہ کہاں ہیں کس حالت میں ہیں کسی کو علم نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام طرح کی یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کوئی مثبت رویہ سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھ پر کیا گذری :
سچ مچ ان تمام حالات اور واقعات کو دیکھنے کے بعد مجھ پر کیا گذری میں اسے بیان نہیں کر سکتا ،کئی جگہ میری آنکھیں بھر آئیں ۔ہم صحافی لوگ روزانہ کسی نہ کسی معاملے میں کسی کے مرنے کی خبر سنتے ہیں اور اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہیں سڑک حادثہ ،تو کہیں قتل کہیں لڑائی جھگڑا ،وہاں پر ہمارے لئے صرف اور صرف خبر کی اہمیت ہوتی ہے اگر ہم ان میں جذبات کو حاوی ہونے دیں تو شاید ایک سطر بھی نہ لکھ سکیں ۔لیکن یہاں کا منظر ہی کچھ ایسا تھا کہ ہم اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے ،میں اپنے آنسووں کو روک نہیں پایا ۔انھیں تسلی کیا دیتا یہاں تو خود اپنی حالت ہی غیر تھی ۔شاید اسی وجہ سے واپسی کے موقع سے ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب جن کی معیت میں مجھے جانا نصیب ہوا تھا سے میں نے کہہ ہی دیا کہ ان تمام واقعات کو دیکھنے کے بعد تو جینے کی جیسے تمنا ہی ختم ہو جاتی ہے ،اس سے بہتر تو مر جانا ہے ،ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر خفگی کا اظہار کیا اور کافی دیر تک مجھے سمجھاتے رہے ،کہنے لگے’’ اسی معاشرے کو تو بدلنا ہے اپنی فکر سے اپنے علم سے۔۔۔ ‘‘ ۔
فساد زدہ علاقوں سے لوٹنے کے بعد جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ایسا لگ رہا ہے جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے ۔میں دیکھ رہا ہوں سڑک کے دونوں جانب لہلہاتے ہرے بھرے کھیت ہیں لیکن ان میں بھی اداسی چھائی ہوئی ،پتہ نہیں قدرت کے ان کرشمہ سازیوں کو دیکھنے کے بعد دل میں جو سرور اور طمانیت نصیب ہوتی ہے آج مجھے وہ بالکل بھی نظر نہیں آ رہا ہے ۔ایک ہو اور سناٹے کا عالم ہے ۔میں اپنے دوست اویس سلطان خان سے اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں ’’یہ نظروں کا پھیر ہے‘‘،ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن پتہ نہیں مجھے تو بڑی بے چینی ہو رہی ہے اور مجھے ہر کوئی بے قرار اور آبدیدہ نظر آ رہا ہے ۔
میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جس کے ذریعہ میں اپنی ماوں اور بہنوں کے درد اور کرب کو بیان کر سکوں ،میرے اندر اتنی ہمت ہی نہیں کہ میں ان بوڑھے بزرگ اور لاٹھی ٹیکتے ضعیف العمرلوگوں کی کہانی کو لفظوں کا روپ دے سکوں ،ان معصوم بچوں کی ان کہی کہانیوں کو لکھ سکوں جو وقت سے پہلے ،مستقبل سے بے خبر یتیم ہو گئے ۔معروف جرمن شاعر اور ادیب رائندر ماریہ رلکے نے اپنے شاگرد صحافی فرانز ژاور کاپس کو ایک خط میں لکھا تھا’’ اگر زندگی کی حقیقتوں کو بیان نہیں کر سکتے ،معاشرے کی عکاسی نہیں کر سکتے تو تم سمجھ لو کہ ایک اچھا تخلیق کار نہیں بن سکتے ،تمہیں لکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ‘‘اگر ماریہ رلکے کہ اس حقیقت پسندانہ بیان کو دیکھا جائے تو مجھ جیسے مبتدی قلم کار کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ۔لیکن اس کے باوجود میں نے اسے اس لئے لکھنے کی کوشش کی ہے کہ آنے والے دنوں کے لئے سند رہے ۔مجھے پتہ ہے اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے پھر بھی نے اسے اس لئے لکھا کہ ہمارا ۱قومی ذرائع ابلاغ اور خود اردو اخبارات جو ہمیشہ اور ہر آن قوم کی قصیدہ خوانی کا گن گاتے اور آواز اٹھانے کا دم بھرتے ہیں اتنے بڑے حادثہ کو بیان کرنے میں لگی لپٹی سے کام لیتے رہے ۔اللہ ان سب کو سمجھ عطا کرے، کہنے والے اس کو عصبیت کا شاخسانہ کہہ رہے ہیں، تو کچھ سیاسی بازی گری کا نتیجہ ،لیکن میں کیا کہوں مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔


۔۔۔مزید

منگل، 10 ستمبر، 2013

دہشت گردی کے انتہائی وسائل حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار


محمد علم اللہ اصلاحی
انسانی سماج کے لئے نہ تو جنگ نیا لفظ ہے اور نہ دہشت گردی۔ انسانی معاشرہ کے آغاز سے آج تلک اور مختلف تہذیبوں کی ترقی سے تباہی کے صفحات پر ان کی مہر لگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ انسانیت، محبت، امن اور خدا پر ایمان و یقین رکھنے والے افراد اور ان کے سرگروہان کی اس سلسلہ میں کارگزاری بھی کوئی خیر پہ مبنی نہیں ہے۔رہے وہ،جن کا کوئی مذہب ہی نہیں.... ان کی بات ہی الگ ہے، انہوں نے اپنے اپنے ازم کی تبلیغ اورفکر و فلسفہ کی ترویج کے لئے وقتاً فوقتاً اس لعنت کا سہارا لینے سے گریز نہیں کیاہے اور نہ کر رہے ہیں۔اس کی تازہ مثال شام میں ظالموں کے ذریعہ کیمیائی گیس سے سینکڑوں لوگوں کا جابرانہ اور وحشیانہ قتل ہے۔اس بارے میں ابھی تک اس بات کا انکشاف ہی نہیں ہو سکا ہے کہ حقیقت میں یہ حملہ کیا کس نے!!محض اٹکل کے تیر چلائے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام در الزام کا سلسلہ جا ری ہے۔ماضی کے تلخ تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بابت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حقیقت کے ادراک کے باوجود بھی انجام کار کوئی مثبت چیز سامنے لائے شاید ہی ہی ممکن ہے ،کیونکہ کہ یہ سارا کا سارااپنے مفاد اور محض اپنے مقصد کی حصولیابی کی خاطر ہوا ہے۔
اور اسمیں کوئی شک نہیں کہ ایسے نام نہاد فتح و کامرانی کی ہوس اور خواہشِ اقتدار نے انسانوں کو ہر دور میں جنگ کے نئے نئے وسائل کی تلاش میں لگائے رکھا ہے۔اوراسی سبب جسمانی جنگ، مہارت میں کارکردگی، تیر، تفنگ ، تلوار، برچھی ، گولی ، بندوق،توپ ، بارود، بم وغیرہ کی حدیں پار کرتے ہوئے آج انسان کیمیائی ہتھیاروں اور میزائل کے ذخیرے پر کھڑا نہ صرف خود اپنی ہلاکت کا سامان کر رہا ہے، بلکہ نسل انسانی کی تباہی کی جانب ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے اب تباہ کن حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش میں لگا ہوا ہے۔ایسے حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار جن کی مدد سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو پل بھر میں موت کی نیند سلایا جا سکتا ہے یا پھر طرح طرح کی بیماریوں کی زد میں لا کر سسک سسک کرجینے مرنے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔جب تک لوگوں کو اس قسم کے حملے کی معلومات ہوگی تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔مجھے حیرت تو سب سے زیادہ اس بات کی ہے کہ جو قوم ان کی تلاش میں سب سے آگے آگے دوڑ رہی ہے وہی آج اس سے سب سے زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی ہے اور اس کے لئے کہیں دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں، تو کہیں انسانیت کے تحفظ کا ریاکارانہ سہارا لے کرمعصوموں کا بے دریغ قتل کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہے۔انھیں خوف ہے کہ کوئی نام نہاد غیر ذمہ دار حکومت یا دہشت گرد گروہ ایسے ہتھیاروں کو نہ تیار کر لے یا کہیں سے انہیں قبضہ میں نہ لے لے۔اوریوں ان کےاپنے خاص مقصد اور ایجنڈہ کو زک پہنچے۔
قانون کی دھجیاں کس نے اڑائیں:
اس سلسلہ میں ماضی قریب جسے پوری انسانی عہد میں سب سے زیادہ پر امن ،تعلیم اور ترقی یافتہ گردان کر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے ،سب سے زیادہ تباہی اسی عہد میں ہوئی ہے۔اور اس بابت جو سب سے زیادہ خود کو امن کا نقیب ثابت کرنے اور مسیحائی کا گن گانے کی بات کر رہا ہے نے انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔چنانچہ اس بارے میں یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ خلیج کی جنگ کے وقت امریکہ جیسی سپر پاور کو عراق کے نام نہاد حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کا ڈر سب سے زیادہ ستا رہا تھا ،کیونکہ ان کی خفیہ نظام کی معلومات کے مطابق عراق نے ایسے ہتھیاروں کے سلسلے میں وسیع تحقیق کی تھی اور ان کو بڑی مقدار میں جمع کر رکھا تھا۔ تاہم اس جنگ میں ان کا خوف بے بنیاد ثابت ہوا۔اسی معاملہ کو لے کر ایران اور بعض دوسرے ممالک کو بھی دھمکیاں دی جاتی رہتی ہیں۔اور یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل مسلم ہے کہ 2009 میں مبینہ طور پر 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا خوف امریکہ کوزیادہ ستانے لگاہے۔ اس کو سب سے بڑا ڈر عراق جیسے ممالک سے تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ یہ ملک دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور ان کو ایسے ہتھیار بھی دے سکتا ہے یا پھر خود اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔اسی خوف کی وجہ سے عراق پر حملہ بھی کیا گیا اور ایسے ہتھیاروں کی تلاش وہاں آج بھی چل رہی ہے، جس میں فی الحال کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ہے۔
ان تباہ کن تمام صورتحال کو دیکھ اور سن کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ہتھیارکیا ہیں ، یہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ اور لوگ ان سے کیوں ڈرے ہوئے ہیں ؟یہ بھی سب ہی جانتے ہیں اس کے باوجود اس کا استعمال دھڑلے سے کیوں ہو رہا ہے ؟اس سلسلہ میں جب ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے کیمیائی ہتھیار کے طور پر کلورین گیس کا غلط استعمال جرمنی نے پہلی عالمی جنگ عظیم میں مو ¿ثر طور پر کیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گیس آسانی سے کسی بھی فیکٹری میں عام نمک کی مدد سے بنائی جا سکتی ہے اور اس کے ضمنی اثرات براہ راست پھیپھڑوں پر پڑتے ہیں۔ یہ گیس پھیپھڑوں کے ٹشوزکو جلا کر تباہ کردیتی ہے۔ جرمنی نے اس گیس کی کئی ٹن مقدار ماحول میں چھوڑ کر ایک قسم کا مصنوعی بادل بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور ہوا کے رخ کے ساتھ اسے وہ دشمن کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس گیس کی خوفناک طاقت کو ذہن میں رکھ کر 1925 میں اس جیسے کسی بھی زہریلے کیمیکل اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کو محدود کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دنیا کے زیادہ تر ممالک نے دستخط کئے۔ پھر بھی اس سلسلے میں چوری چھپے تحقیقی کام جاری رہا تاکہ ان کا استعمال اور بھی موثر اور منظّم طور پر کیا جا سکے۔ اس بابت تمام قواعد و قوانین کی دھجیاں اڑانے والے دوسری عالمی جنگ کے وقت جرمنی میں ہٹلر کے بدنام زمانہ گیس چیمبرزسے بھلا کون ناواقف ہوگا؟
تاریخی حوادث اور اس کے اثرات :
آج کل سائنسدان کیڑے مارنے والے ادویات میں پائے جانے والے بہت سے زہریلے کیمیکلز کو بھی موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تجربات کر رہے ہیں۔ ان کیمیکلز کے ضمنی اثرات کی شدت کا اندازہ ہم ہندوستان میں بھوپال گیس حادثہ سے،جہاں یونین کاربائڈ پیسٹی سائیڈز یعنی کرم کش ( کیڑے مار ادویات بنانے والی فیکٹری ) میں حادثہ کی صورت میں 2 دسمبر 1984 کے دن ٹاکسک اور بیماریاں پھیلانے والے بیکٹیریا کے ذریعہ کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں کی جانیں سوتے سوتے ہی چلی گئیں اور لاکھوں افراد آج بھی اس کے اثرات کو جھیل رہے ہیں۔یعنی پیدائشی طور پر بچوں کا معذور پیدا ہونا یا ایسی بیماریوں کی گرفت میں آ جانا جس کی دوائیں بھی عموما دستیاب نہیں ہیں سے لگا سکتے ہیں۔اسی طرح چھوٹے پیمانے پر 1995 میں ”مسنر و “نامی دہشت گرد تنظیم کے لوگوں نے ٹوکیو شہر میں اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی گیس کا رساو ¿کر کے ہزاروں لوگوں کو پل بھر میں زخمی کر دیا اور بارہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیاتھا۔ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین کے سپہ سالاروں نے عراق میں کردوں کی بغاوت کو دبانے کے لئے شاید ایسے ہی کسی کیمیائی ہتھیار کا استعمال کر کے ہزاروں بے گناہوں کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا تھا۔فی زمانہ ہتھیاروں کے معاملے میں تکنیکی ترقی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں، جہاں انسانیت کے خلاف عمل کرنے والے لوگوں کو تازہ ترین ہتھیار قبضہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ بربادی اور دہشت پھیلا سکتے ہیں اور پھیلا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اب تک وسیع قتل عام والے ہتھیاروں کی پیداوارکے ذخیرہ اور استعمال پر پابندی نہیں ہے۔ اگرچہ بعض ممالک نے ان ہتھیاروں پر کنٹرول کے لئے اور ایٹمی ہتھیاروں کے قوانین کے لئے قرارداد بھی منظور کی ہوئی ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کئی طرح کی کانفرنسیں کی گئیں ،لیکن ان کا نتیجہ بھی سب پر واضح ہے۔
کون کتنا آگے:
 تحقیقات کے مطابق 1985 میں 68،000 اعلی خطرناک ہتھیار تھے ، جن میں سے کچھ یعنی 4،100 فعال ایٹمی ہتھیاراب بھی ہیں اور 2013 ءتک پوری دنیا میں 17،000 کل ایٹمی ہتھیار اب موجود ہیں۔ ان میں امریکہ کے پاس سب سے زیادہ2,150 / 7,700 ہتھیار ہیں جبکہ روس کے پاس 1,800 / 8,500، فرانس کے پاس 290 / 250،برطانیہ کے پاس 160 / 225،چین کے پاس 250، ہندوستان کے پاس 65 اور پاکستان کے پاس 25 جوہری ہتھیار ہیں۔ ان سب کے علاوہ دنیا کے 80 ممالک نے وسیع قتل عام والے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنا لئے ہیں۔ امریکہ نے 1200 سے زیادہ جوہری ٹیسٹ کیے ہیں تو روس نے تقریبا 1000، برطانیہ نے تقریبا 45، فرانس نے 210، چین نے 50 اور ہندوستان نے تقریبا 10 جوہری تجربے کیے ہیں۔ پاکستان نے بھی تقریبا 10 کے آس پاس جوہری ٹیسٹ کیے ہیں، ایران، عراق، شمالی کوریا جنوبی کوریا اور لیبیا نے بھی رپورٹ کے مطابق ایٹمی ہتھیار پروگرام چلا رکھے ہیں۔ یہی بات اسرائیل کے تناظر میں بھی کہی جا رہی ہے بلکہ اس نے تو تمام حدود کو پار کر دیا ہے۔
کتنے خطرناک ہیں یہ :
لیکن انسانیت کے لئے اس کی زہر ناکی اور خطرناکی کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔حالانکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ حیاتیاتی کیمیائی عناصر جاندار کو جیسے ہی مس کرتے یا اس کے جسم میں داخل ہوتے ہیں ،اپنا عمل شروع کر دیتی ہے اور اس کا انجام آخر کار زندگی کاخاتمہ ہی ہوتا ہے۔یہ کس طرح عمل کرتی ہے اس بابت ماہرین کا کہنا ہے کہ اولین صورت میں یہ عضلات کے معلومات کے نظام کی خلیات کے لئے "ایسی ٹل کولین " نامی کیمیکل کا اخراج کرتی ہیں۔ اور چونکہ پٹھوں کا بھی نظام کی ترسیل پر ہی انحصارہوتا ہے۔اس لئے اگر اعصابی نظام کے خلیات سے ایسی ٹل کولین کو نہ ہٹایا جائے تو ہمارے جسم کااعصابی نظام پورے طور سے مسلسل تنگ ہونے لگتا ہے۔ اور اگر ایساسینہ اور پیٹ کو الگ کرنے والے ڈائی فرام کے پٹھوں کے ساتھ ہوا توانسان گھٹ کر مر جائے گا۔ایسی ٹل کولین کو اعصابی نظام کے خلیات سے دور کرنے کے لئے کولینسٹریز نامی اینزائم کی ضرورت پڑتی ہے۔جبکہ سیرین اور وی ایکس ' جیسی زہریلی گیسیں مندرجہ بالا اینزائم سے رد عمل کر کے ایسی ٹل کولین کو ہٹانے کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں، نتیجہ میں مبتلا شخص کی موت کچھ ہی لمحات میں دم گھٹنے سے ہو جاتی ہے۔ ہمارے پھیپھڑوں میں مندرجہ بالا گیسوں کی ایک ملی گرام کی مقدار ہی زندگی کو ختم کرنے کے لئے کافی ہے۔مسٹرڈ اور لیوسائٹ جیسی گیسوں کے ضمنی اثرات جلد پر چھالے اور پھیپھڑوں کے ٹشو کی تباہی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔مسٹرڈ گیس کا استعمال تو پہلی عالمی جنگ کے وقت سے ہی ہے۔ اس کی دس ملی گرام کی مقدار ہی موت کے لئے کافی ہے۔ ویسے تو بہت سے زہریلے کیمیکل ہیں جن کا غلط استعمال کیمیائی ہتھیاروں کے طور پر ہو سکتا ہے، لیکن مندرجہ بالا کیمیکل سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ زیادہ تر بیماریوں کی جڑ میں جراثیم ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اینٹی بایوٹکس اور اسی طرح کی دیگر ادویات کی تلاش سے پہلے طاعون اورہیضہ جیسی بیماریوں نے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں لی ہیں اور آج بھی انسان ایڈز،کینسراور سارس جیسی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے راستہ تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ دوسری طرف انسان انہیں بیکٹیریا کو ہتھیار کے طور استعمال کر کے ہزاروں لاکھوں جانداروں کی جان لینے کی فکر میں الجھا ہوا ہے۔اس بات سے سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ یہ صورتحال نیوکلئیر اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے کہیں زیادہ تباہ کن اور خطرناک ہے۔ جو ممالک دشمن کی دہائی کا رونا رو کر یا اپنی دادا گیری دکھا کراس کی افزائش میں لگی ہوئی ہیں اگر خدا نخواستہ کچھ ہو گیا تو وہ کیا کریں گے ؟ظاہر ہے ایسے حملے کے لئے کسی جدیداسلحہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں تو بس چھوٹے موٹے جانوروں، پرندوں، ہوا، پانی، انسان وغیرہ کسی بھی ذریعہ سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ سارس کو پھیلانے میں انسانی دماغ کس طرح ذرائع کا کام کر رہا ہے۔ یہ اس عمل کا محض ایک مثال بھر ہے۔
تنویمی معمول  :
سائنسدان کھاد پر بھی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں جبکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ اگر ہم انسانی یا حیوانی فضلہ سے بنی کھاد کو کنویں، تالاب یا پانی کی ٹنکی میں ملا دیں تو اس پانی کو انجانے میں پینے والے طرح طرح کی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے کیوں کہ کھاد میں طرح طرح کے خطرناک اور جان لیوا جراثیم پلتے ہیں۔ اس قسم کے حملوں کے بعد ہم ایک نادیدہ دشمن کے رحم وکرم پہ ہوں گے ، جس کا نہ چہرہ ہو گا نہ شناخت....ایسے میں کسی کے خلاف ہتھیار اٹھائے جائیں تو کیسے؟ اور اگر کسی طرح ان کے بارے میں پتہ بھی کر لیں تو بھی کوئی بڑا فائدہ نہ ہو گا۔ یوں کبھی نہ ختم ہونے والا حادثوں کا سلسلہ شروع ہوگا ،اس لئے کہ یہ کوئی بیماری پھیلانے والے عام بیکٹیریا تو ہیں نہیں، بلکہ جینیاتی طور پرتباہ کرنے والے ہیں، جن کے خلاف عام اینٹی بائٹک بھی کام نہیں کر پائیں گے۔ اور اس کی وجہ سے وہ ہوا ، جسے ہم سانس کے ذریعے اندر لے جاتے ہیں، جو کھانا ہم کھاتے ہیں اور جو پانی ہم پیتے ہیں سب آلودہ ہو چکا ہوگا۔جب تک ہم ان کے خلاف کارگر دوا کی تلاش کریں گے تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی اوراس وقت تک شاید پورے انسانیت ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہوگی،حالانکہ یہ حیاتیاتی ہتھیار کے استعمال کا سب سے سستا لیکن بھونڈا طریقہ ہے۔
اب ذرا کچھ ایسی مثالوں پر توجہ دیتے ہیں جوحقیقی خطرہ ہیں اور لوگ جن سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔اینتھریکس(Anthrax) پھیلانے والے بیسلس اینتھریسس (Bacillus anthracis) نامی بیکٹیریا کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بکٹریا متعدی نہیں ہے اور بنیادی طور پر جانوروں میں پھیلتا ہے، پھر بھی کھانے پینے سے سانس کے ساتھ اس کے جراثیم ہمارے جسم کے مسامات میں پہنچ کرجان لیواثابت ہو سکتے ہیں۔یہاں تک کہ ہماری جلد میں بھی اگر کوئی زخم ہے تو وہاں بھی یہ اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کچھ ہی وقت میں اس بیماری کی جان لیوا علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔سانس کے ساتھ ہمارے جسم میں آئے” سپورز“(Spores)سات سے دس دن کے اندداخل ہو کر بیماری کی علامات ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ بخار، کھانسی، سردرد، قے، سردی، کمزوری، پیٹ اور سینے میں درد، سانس لینے میں دقت وغیرہ اس کی ابتدائی علامات ہیں، جو کچھ گھنٹے سے لے کر کچھ دن تک رہتے ہیں۔ پھر یہ علامات کچھ وقت کے لئے غائب بھی ہو سکتی ہیں۔ دوسری بار ان علامات سے سانس کی تکلیف، پسینے کے ساتھ بخار ....نیزجلد پر نیلے دھبے .....نتیجہ بالآخر موت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
کھانے پینے کے ساتھ اینتھریکس کے اسپورز ہماری غذائی نالی میں پہنچ کرمتلی ، خونی قے، خونی اسہال، پیٹ درد وغیرہ کی علامات پیدا کرتے ہیں۔ 25 سے 60 فیصد لوگوں کی موت بھی ہو جاتی ہے۔ جلد پر اس کا اثر چھوٹے چھوٹے دانوں کے طور پر نظر آتا ہے جو جلد ہی پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے پانی کی طرح پیپ بہتی رہتی ہے۔ ابتدائی علامات کے وقت اس کی تشخیص " سپرو فلاکسیسین (Ciprofloxacin) نامی " اینٹی بایو ٹک " کے ذریعے سے کیا جا سکتی ہے لیکن بعد میں صرف اس " ببیکٹیریا " کو تباہ کیا جا سکتا ہے.....بیماری کو نہیں۔
اکیسویں صدی کے اوائل سے اس بیکٹریا کے ا سپورز کو پاوڈر کی شکل میں ڈاک کے ذریعہ سے پھیلانے کی کوشش بھی دیکھنے میں آئی تھی ،جس سے امریکہ کے لوگ کافی دہشت زدہ ہو گئے تھے۔ اسمال پاکس جسے ہم چیچک کے نام سے بھی جانتے ہیں، صدیوں سے ایک جان لیوا بیماری کے طور میں بدنام رہی ہے۔ اس کی زد میں آکر لاکھوں لوگ اپنی جانسے ہاتھ دھو بیٹھے اور آنکھیں تو اس سے بھی کئی گنا زیادہ لوگ گنوا چکے۔ کتنے ہی چہرے اور جسم پر مستقل خوفناک داغوں کے ساتھ بدصورتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں ویری ولا نامی وائرس سے پھیلنے والی اس بیماری سے ویکسی نیشن کی مدد سے پوری دنیا کو نجات مل گئی۔ 1975 کے بعد اس بیماری کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے پھر بھی لوگوں کو خوف ہے کہ کہیں کوئی دہشت گرد گروہ یا کوئی سرپھرا فوجی آمر اس وائرس کے کسی رد عمل کے طور پرجارحیت کا استعمال کسی حیاتیاتی ہتھیار کی مدد سے نہ کر دے۔
اسی طرح” ہیموریجک “(Hemorrhagic)بخار پیدا کرنے والا آر اے نئے قسم کا ابولا وائرس بھی حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وائرس میں مبتلا مریض کی شناخت سب سے پہلے 1975 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ہوئی تھی۔اس کی انفیکشن کے اثرات 2 سے 21 دنوں کے اندر نظر آتےہیں۔ بخار، سر درد، جوڑوں اور پٹھوں میں درد وغیرہ اس کی ابتدائی علامات ہیں. بعد میں دست، قے اور پیٹ درد کی علامات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ مریضوں میں جلد پر ددورے، لال آنکھیں اور بیرونی اور اندرونی کمزوری وغیرہ علامات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس بیماری سے کچھ مریض خود ٹھیک ہو جاتے ہیں توبہت سے مر بھی جاتے ہیں .....اور ایسے لاکھوں کیس موجود ہیں۔
”باٹیولن بیکٹیریا “(Botyulin bacteria)کے ذریعہ سے پیدا زہر کے ایک گرام کا اربواں حصہ ہی ہمارے جسم میں’ لقوہ ‘ اور فالج پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ زہر اعصابی خلیوں سے ان کیمیکلز کا اخراج روک دیتا ہے جن کی طرف سے پٹھوں کا داخلہ ہوتا ہے۔ جانوروں میں منہ کھر بیماری پھیلانے والا ببیکٹیریا بھی حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی، ان وسائل کا استعمال دہشت گرد سرگرمیوں، ہتھیاروں کے لئے تحقیق اور تعمیر پر خرچ کیا جا رہا ہے،جب کہ ان کا استعمال دوسرے مثبت کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد حملے نہ صرف زندگی چھینتے ہیں، بلکہ صحت،کی امید اور لوگوں کی توقعات کا بھی قتل کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ انفراسٹرکچر، رہن سہن اور رہائش، کھیت کھلیان، پل، ہسپتال اور باقی سہولیات کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔اس سے بنیادی ضروریا ت جیسے بجلی، پانی وغیرہ کی ترسیل میں بھی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہیں۔ قابلِ کاشت زمین زہریلی ہو جاتی ہے، سڑکوں اور گلیوں میں بیریر لگا دیے جاتے ہیں اور لوگوں کی ان تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔
حیاتیاتی و کیمائی ہتھیار کا فرق:
یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار بنیادی طور پر دو مختلف نوعیت کے ہتھیار ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیاروں میں ہمیشہ کسی جاندار فنگس، بیکٹیریا یا جاندار نما اجسام جیسے وائرس کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے دشمن کو ہلاک یا مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ حیاتیاتی ہتھیار کو چلانے کے بعد سے لے کر اس کے کارگر ثابت ہونے تک عموماً کچھ گھنٹوں سے کچھ دن لگتے ہیں یعنی ہتھیار کے چلائے جانے اور دشمن کی ہلاکت کے درمیان کچھ وقت حائل ہوتا ہے کیونکہ ان اجسام کو پلنے، بڑھنے اور پھر کام دکھانے میں وقت لگتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حیاتیاتی ہتھیار کا مقصد دشمن کو ہلاک کرنے سے زیادہ مفلوج کرنا ہوتا ہے تاکہ دشمن پر زیادہ سے زیادہ دھاک بٹھائی جا سکے۔ موجودہ دور میں یہ ہتھیار براہ راست انسان کو نقصان پہنچانے، فصلوں کی تباہی، زمین کی تباہی یا پھر مال مویشی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا اپنا اپنا طریقِ مبارزت ہوتا ہے جو اس میں استعمال ہونے والے ذریعے پر منحصر کرتا ہے۔
کیمیائی ہتھیار کا عمومی مقصد دشمن کی ہلاکت ہوتا ہے۔ کیمیائی ہتھیار اسی غرض سے بنائے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے فی الفور دشمن کا خاتمہ کیا جا سکے۔ کیمیائی ہتھیار کی عام اور قدیم ترین قسم دشمن کے علاقے میں گھس کر یا اپنے علاقے کو چھوڑتے وقت پانی کے ذخائر کو زہر آلود کر دینا ہوتا تھا جس کی مدد سے دشمن کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس کی مثالوں میں ویت نام میں ایجنٹ اورینج اور افغانستان میں روس کی جانب سے زہر وغیرہ کو پانی میں ملانا شامل ہیں۔
تاہم یہ ہتھیار جنہیں ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہا جاتا ہے، اب ایک طرح سے ماضی کا قصہ ہیں۔ نئے دور کی جنگ اب اس سے کہیں زیادہ جدید ہو چکی ہے۔ اب موسمیاتی طرز کو کنٹرول کرنے، بارش برسانے یا کسی علاقے سے بارش کو یکسر ختم کر دینے، زلزلے اور دیگر "قدرتی" تباہی جیسے طوفان برپا کرنےجیسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں۔اور ظاہر ہے اس طرح کے حملوں کا سیدھا مطلب تو یہ یہی ہے کہ لوگوں کو کھانا بھی نصیب نہیں ہوگا۔ پانی پینے کے قابل نہیں ہو گا، عمارتیں بری حالت میں اور ٹوٹی پھوٹی ہوں گی۔صحت کی سہولیات کا ملنا دوبھر ہو جائے گا اور دشمنی ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی زندگی قابل رحم ہوگی۔اس لئے دہشت گردی کے انتہائی وسائل کے خاتمہ اور انسانیت کی تحفظ کی خاطر سب کو صدق دلی سے ایماندارانہ کردار ادا کرناہوگا اورا س عفریت سے پوری دنیا کے ممالک کو مل کر نپٹنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف اور صحت مند ماحول اورآب و ہوا دے سکیں گے۔
ماحصل
ان سب کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملے سے بچنے کے لئے ہمارے پاس کوئی طریقہ ہے۔ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوگا ،حالانکہ اب اس بات پر بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔جہاں تک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے بچنے کا سوال ہے، اصل میں ہمارے پاس کوئی ٹھوس اور موثر طریقہ کارموجود نہیں ہے۔ جنگ کے علاقے میں فوجی جوان تو گیس ماسک اور جلد کو پوری طرح صاف رکھنے والے سوٹ پہن کر اپنا دفاع کسی حد تک کر سکیں گے۔ مندرجہ بالا ملبوسات کے علاوہ مختلف قسم کے ویکسین اور مختلف قسم کی بایوٹکس کی بھاری خوراک حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملے سے بھی بچاو ¿میں ممد و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن کسی ملک کے عوام، خاص طور پہ غریب اور ترقی پذیر یا پسماندہ ملک کے باسی اپنا دفاع کس طرح کر پائیں گے ؟ کیا وہ ریاستیں اپنے عوام کی حفاظت کے مندرجہ بالا اقدامات کا خرچ برداشت کر سکیں گی؟ چلیے، ایک لمحے کے لئے مان بھی لیا جائے کہ ایسا ممکن ہے تو کیا مندرجہ بالا اقدامات کافی ہوں گے؟ اس پر بھی سوچنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید