جمعرات، 9 اگست، 2012

سیر و سیاحت : گوا میں چند دن




سیر و سیاحت : گوا میں چند دن
گواکے اس دس دن کے پروگرام اور سیاحت میں میں نے محسوس کیا کہ طویل مدت تک حکومت کرنے والے پرتگالیوں نے یہاں کی تہذیب و ثقافت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

محمد علم اللہ اصلاحی 
ذہن کے گوشہ میں کچھ چیزیں اس طرح ثبت ہو جاتی ہیں کہ ان کا اثر دیر پا رہتاہے ۔پھر انسان اسے بھلانابھی چاہے توبھی نہیں بھلا پاتا ۔گرمی کی چھٹیوں میں’ گوا‘ کا میراسفر بھی اسی طرح یادوں کے چندانمٹ نقوش ثبت کر گیا جنھیں شاید میں کبھی نہ بھول پاں ۔دراصل دہلی میں ہی کچھ ایسے حالات رونما ہونے شروع ہوئے کہ دل نے کہا اسکی روداد ضرور قلم بند کی جائے۔اب دیکھئے! کہ ساڑھے سات بجے ہمیں نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے ٹرین پکڑنی تھی ٹکٹ بھی کنفرم نہیں، اور ہماری نیند کھلتی ہے ۶ بجے ،تیار ہوتے ہوتے سات بج جاتے ہیں ۔بلا وجہ ہوئی اس تاخیر کے جھلاہٹ اور جلدی جلدی کے چکر میں بجائے’ بٹلہ ہاؤس ‘یا ’جولینا ‘جانے کے رکشہ لیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ بس اسٹاپ پر آگیا کہ یہیں سے آٹورکشہ لیکراسٹیشن نکلیں گے لیکن جیسے آٹورکشہ والوں نے ہڑتال مچا رکھی تھی۔ کوئی اسٹیشن جانے کے لئے تیار نہیں ہو رہا تھا ۔میری نگاہ بار بار گھڑی پر جاتی تھی کہ کہیں ٹرین چھوٹ نہ جائے ۔بڑی منت سماجت کے بعد ایک آٹو والا اس بات پر تیار ہوا کہ نظام الدین ریلوے اسٹیشن تک کا پچاس روپئے لے گا، میں نے کہا ”چلو ٹھیک ہے“ اور بیٹھ گیا.


تقریبا 20 منٹ کے بعدہم اسٹیشن پہونچ گئے تھے ۔ٹرین پلیٹ فارم پرکھڑی تھی اور بس چلنے کے لئے تیارہی تھی ،میں جلدی سے ہانپتے کانپتے ٹرین پر سوار ہو گیا ۔لیکن چونکہ سیٹ کنفرم نہیں تھی اس لئے ابھی اور پریشانی جھیلنی تھی ۔دیر تک ٹی ٹی کے انتظار میں بیٹھا رہا ۔ٹی ٹی آیا تو معلوم ہوا کہ’ آراے سی ‘ہے ۔جان میں جان آئی ،خدا کا شکر ادا کیا ،اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔تقریبا پوری بوگی اسکولی بچوں سے بھری ہوئی تھی ۔بچے کھیل کھیل میں کبھی شور مچاتے تھے تو کبھی آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے تھے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی حرکتوں پر تو غصہ بھی آرہا تھاکہ میں تو خشونت سنگھ کے خشک ناول ’اے ٹرین ٹو پاکستان‘ کامطالعہ کر رہا ہوں اور یہ بچے بار بار میرا ذہن منتشرکئے دیتے ہیں۔غصہ سے میں نے کتاب بند کی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔


کسقدر پر کیف و پر لطف منظر تھا ،دیہی ہندوستان کی بساط میرے سامنے بچھی تھی جس پر پیادوں سے لیکر بادشاہ تک ہر ایک اپنی اپنی چال چلنے میں مصروف تھا،کھیت میں کام کرتے کسان،کارخانوں سے نکلتا دھنواں ،گاتی ہوئی ندیاں،مچلتے ہوئے جھرنے،آسمان کا بوسہ لینے کی کوشش میں مصروف پہاڑ،جھیلیں ،ان میں نہاتے پرندے اور ان سب کے درمیان اشرف المخلوق ہونے کا دعویٰ کرنے والا انسان ،کہیں گاڑی کھینچ رہا ہے تو کہیں کسی کی گاڑی پر بیٹھا ہے ،کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جب آدم ؑ آسمان سے ہم انسانوں کو دیکھتے ہونگے تو اپنی اولاد کے اتنے مختلف حالات دیکھ کر انہیں کیسا لگتا ہوگا؟۔انھیں سوچوں میں گم نہ جانے کب نیند لگ گئی ۔جب آنکھ کھلی تو رات کے آٹھ بج رہے تھے یعنی سفر کا ایک تہائی حصہ طے ہو چکا تھا ۔کچھ بچے سو رہے تھے ،کچھ اونگھ رہے تھے ۔میں نے ایک بچے سے پوچھاتم سب کہاں جا رہے ہو ؟اس نے بتایا ”ہم لوگ اسکول کی طرف سے گوا سیر کو جا رہے ہیں “۔ان بچوں کو دیکھ کر مجھے اپنا اسکول کا زمانہ یاد آنے لگا اور میں اپنی اس زندگی کو دیکھنے لگا جب تمام ذمہ داریوں سے بے پروا ہ اپنا زیادہ تر وقت کھیلنے ،کھانے،گھومنے اور نہ جانے کن کن چیزوں میں گزارا کرتا تھا۔ میں آج بھی اپنے اسکول سے متصل اس بوڑھے آم کے پیڑ کو نہیں بھول سکتا ،جب اسکے نیچے لکڑی کی کرسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب ہمیں درس دیا کرتے تھے ۔اور ہم بچے ان کے گرد حلقہ بنائے کھڑے ہوا کرتے تھے ۔مولوی صاحب کی موٹے لینس والی عینک سے جھانکتی آنکھیں ،برسوں کے تجربات سے سفید ہوئی داڑھی اور حالات زمانہ کے سبب ہاتھوں میں پڑی ہوئی جھریاں اور اس میں موٹی سی بانس کی قمچی جسے وہ’ تنبیہ الغافلین‘ کہا کرتے تھے آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں ۔مختلف دانش گاہوں کی سیر ،بڑی بڑی لائبریریوں میں کتب خوانی اور مختلف سمیناروں اور مذاکروں میں شرکت کرتے وقت مجھے کبھی یاد نہیں کہ میں اپنے مولوی صاحب کے ان لرزتے ہاتھوں کو بھول گیا ہوں جن ہاتھوں نے میری ننھی انگلیوں کوتھام کر قلم پکڑناسکھایاتھا۔


گوا جاتے ہوئے راستہ میں دہلی ،یو پی،راجستھان ،مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں سے گزرناہوا ۔گجرات میں داخل ہوتے ہی سانحہ گجرات یاد آگیا اور اسکے خیال سے ہی رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔آہ۔۔۔۔!!کس قدر دلدوز اور بھیانک رہا ہوگا وہ واقعہ۔انسان نما درندوں نے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو آن واحد میں ہی اپنی ہوس کا شکار بنایا ۔افسوس۔۔۔۔!!انھیں روتے بلکتے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں آیا اور حیرت تو یہ ہے کہ ان انسانیت سوز واقعات کے ذمہ دار اب بھی آزاد پھر رہے ہیں ۔یہ جمہوریت کا مذاق نہیں تو اور کیا ہے ؟گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایک صاحب نے بتایا کہ سابرمتی ایکسپریس کی جلی ہوئی بوگی کچھ دن پہلے تک اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی ۔وہ صاحب سانحہ گجرات پر شروع ہو گئے ،ٹرین اپنی پوری رفتار سے منزل کی طرف پھر سے دوڑ پڑی تھی اورشاید اس سے تیز رفتار آندھیاں میرے ذہن میں چل رہی تھیںپل بھر کے اندر قطب الدین انصاری سے لیکر بلقیس بانو تک ،سہراب الدین سے لیکر کوثر بی تک ،بیسٹ بیکری سے لیکر گلبر گ سوسائٹی وشاہ عالم کیمپ تک اور ۷۲فروری کے گودھرا سانحہ سے لیکر نریندر مودی کی تیسری جیت تک نہ جانے کتنے مناظر میری نظروں کے سامنے سے گزر گئے انھیں خیالات میں کھوئے کھوئے نہ جانے کب میں گجرات کی سر حد عبور کر چکا تھا ۔گاڑی آہستہ ہونے لگی تھی معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اب ہم مہاراشٹر میں داخل ہو رہے ہیں اور پہلا اسٹیشن آنے والا ہے ۔مہاراشٹر کو کئی اعتبار سے امتیازی اہمیت حاصل ہے ۔اسی ریاست کے شہر ناگپور میں وہ ناگ پیدا کئے جاتے ہیں جنھوں نے زعفرانی زہر سے سارے ملک کی فضا کو مسموم کر رکھا ہے ۔یہیں وہ خفیہ فوجی ٹریننگ کیمپ ہیں جن کے پیداوار پرگیہ ،دیا نندپانڈے اور ان کے ساتھی ہیں اور اسی مہاراشٹر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے ایک طلبہ تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا اور’ سیمی ‘کے نام پر اتنی گرفتاریاں ہوئیں جتنی شاید ہی کسی اور ریاست میں نہ ہوئیں ہوں ۔لیکن یہاں مجھے نہ جانے کیوں ایک عجیب سی مسرت کا احساس بھی ہو رہا تھا کہ میں اس سر زمین پر پہونچ گیا ہوں جہاں کے مراٹھا فرمانرواں نے اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام عزت و وقار کے ساتھ درج کرایا تھا ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مہاراشٹر کا اپنا ایک کلچر ہے ۔لیکن مجھے اس کا قطعی احساس تک نہ ہوا ۔البتہ وہ نا قابل دید فصیلیں جو راج ٹھاکرے اور بال ٹھاکرے نے کھڑی کی ہیں ان کی حقیقت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ضرور ملا ،اور اس کامجھے اس وقت احساس ہوا جب میں نے ایک اسٹیشن پرایک ہاکر سے ہندی یا انگریزی کا اخبار طلب کر لیا ۔ پہلے تواس نے مجھے تقریبا گھور کر دیکھا اور پھر بس اتنا کہا ”بھیا !یہ مہا راشٹر ہے “اب اسکے بعد کچھ پوچھنے کے لئے باقی نہ رہ گیا تھا ۔میں سمجھ چکا تھا کہ راج ٹھاکرے جیسے لوگوں نے ان سادہ لوح بیوپاریوں اور ہاکروں کے دلوں میں بھی کس قدر عصبیت کے بیج بو دیئے ہیں ۔وہ تو کہئے کہ میں نے اردو کا اخبار مانگنے کی غلطی نہ کی تھی ورنہ قارئین کی عدالت میں میں ہی خطاوار گردانا جاتا کہ’مراٹھی مانس ‘کا نعرہ دینے والے راج ٹھاکرے اور بال ٹھاکرے کے شہر میں اردو کا اخبار تلاش کر رہا ہوں لیکن میں نے تو ہندی یا انگریزی کا اخبارمانگا تھا، وہ بھی اسکے پاس نہیں تھا کہنے والے نے صحیح کہا ہے


انکی تیشہ  گری کو دیکھیے گا
 بانٹ  کر رکھ   دیا   زبانوں  کو
شمعیں روشن تو کی نہیں جاتی
 آگ  دینے  چلے  مکا نوں  کو 
(مالک اشتر نوگانوی

خیر! 32 گھنٹہ کے مسلسل سفر کے بعد اب ہم مہاراشٹر کی سرحد کو پار کر رہے تھے۔ابھی مہاراشٹر کی سر حد ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواں کے جھونکوں نے استقبال کرنا شروع کر دیا ۔یہاں درختوں کے قطار درقطار اور پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیاں نیز نیلے نیلے عودے عودے پھول عجیب دلکش اور مسحور کن نظارہ پیش کر رہے تھے ۔شام ہو چکی تھی ۔ایسے میں پہاڑوں کے عقب سے سورج کے غروب ہونے کا منظر ۔۔۔۔۔۔مجھے اقبال کا یہ شعر یاددلا رہا تھا ۔کانپتا پھرتا ہے یہ رنگ شفق کہسار پرخوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پرحالانکہ یہ بات بھی سہی ہے کہ منظر چاہے کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو غروب آفتاب کی کسک بہرحال ہر ایک حساس دل محسوس کرتا ہے مگر مخمور سعیدی کے اس شعر نے مجھے اس کسک کا احساس نہ ہونے دیا۔عورود شام میں بھی ہے ،نمود صبح کی نویدغروب آفتاب ہی ،طلوع آفتاب ہےان حسین وادیوں کو دیکھتے ہی دل و دماغ تازہ ہو گیا ۔دوستوں نے سفر پر نکلنے سے پہلے ہی ’گوا ‘کی سر سبز و شادابی اور اسکی جلوہ سامانیوں کو دیکھنے کی تاکید کی تھی ۔


واقعی اللہ تعالٰی نے اپنی کرشمہ سازیوں کے انمول نمونے اس سر زمین میں رکھے ہیں ۔جسے دیکھ کر طبیعت خوش ہو اٹھتی ہے ۔یہاں کا مو سم اورآب و ہوا اس قدر پر لطف ہے کہ بیمار سے بیمار انسان بھی اچھا ہو جائے۔شام میں ہم مڈگاں ریلوے اسٹیشن پہونچے ۔جہاں ہمیں اترنا تھا ۔چھوٹا سا خوبصورت اسٹیشن ،یہاں دلی اور رانچی کے اسٹیشنوں کی طرح بالکل بھیڑنہیں تھی، پرسکون ماحول ،خوشگوار فضا، موسم بھیگا بھیگا اور کافی سہانا ۔یہاں سے ہم لوگ بذریعہ بس منزل کی طرف روانہ ہوئے معلوم ہورہا تھا کہ دو تین دن سے جم کر بارش ہو ئی ہو،صاف شفاف نشیب و فراز والی پتلی پتلی سڑک پر ہماری گاڑی فراٹے بھر رہی تھی ۔ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ،بساط افق اور زمین کے آنچل پر پھیلا منظر ،چھوٹے و خوبصورت مکانات ،بڑے شہروں کی عام روایات کے برخلاف بیشتر ایک منزلہ کشادہ عمارتیں ۔ایک گھنٹہ کے اندر ہم اپنی منزل پہونچ چکے تھے ۔یہاں پہونچتے ہی ہم نے غسل کیا پھر ناشتہ اور چائے کے بعد ٹہلنے کے لئے نکل گئے ۔حالانکہ سفر سے لوٹنے کے بعد فطری طور پر انسان تکان اور سستی محسوس کرتا ہے ۔

لیکن قدرت کی ان کرشمہ سازیوں کو دیکھنے کے بعد تکان اور سستی کہاں غائب ہو گئی اسکا احساس ہی نہ رہا ۔ہم لوگ دیر تک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ’نیشنل کونسل آف چرچز‘کے احا طہ میں گھومتے رہے اور خدا کی بنائی ان نعمتوں پر عش عش کرتے رہے وہاں درختوں کی ہریالی ،پیڑ اور رنگ برنگے پھول پھر اوپر سے پانی کے گرنے کی آواز پورے ماحول کو اس قدر مسحور کن بنائے ہوئے تھی کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔چونکہ میرے رفیق سفر کی طبیعت بھی خراب تھی اس لئے چاہتے ہوئے بھی زیادہ دیر ٹہل نہ پا یا اور جلد ہی کمرے میں واپس آگیا ۔ساڑھے آٹھ بجے رات کھانے کا انتظام تھا ،کھانے میں چاول ،سلائس،مچھلی ،ناریل کڑھی،اچار اور کندری کی سبزی تھی۔کھانا ناریل اورمونگ پھلی کے تیل سے تیار کیا گیا تھا جبکہ ہمارے یہاں سرسوں کے تیل میں سالن بنانے کا رواج ہے۔اس لئے ذائقہ کچھ اجنبی سا لگا لیکن شدید بھوک میں ذائقہ کی پرواہ کون کرتا ہے؟۔اس لئے ہم شکم سیر ہوئے ۔کھانے کے بعد تمام مندوبین نے اپنی اپنی پیلٹوں کو خود صاف کیا یہ شاید اس بات کا پیغام تھا کہ ’اپنا کام آپ کرو‘یہ تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے تقریبا ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی بتایا تھا لیکن آہ۔۔۔۔!ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو پس پشت ڈال دیا ۔کسی نے سہی ہی کہا ہے کہ اسلام ،قرآن اور حدیث سب کچھ ہمارے پاس ہے لیکن شرافت ،عمل اور زندگی کا سلیقہ ہمارے پاس نہیں ہے۔شاید کہنے والے نے اسی لئے کہا تھا کہ ہم نے اپنے نبی کے فرمان کوبھلا دیا۔خدایا!ہمیں اسکی توفیق دے کہ ہم تیرے نبی اور حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی سعادت حاصل کر سکیں (آمین)۔

دوسرے دن حسب عادت صبح صادق کے وقت ہی بیدار ہو گیا ۔وضو وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھی اور قرآن مجید کے نصف پارے کی تلاوت کی ،چونکہ آج کوئی پروگرام نہیں تھا اس لئے تقریبا ساڑھے چھ بجے کمرے سے باہر چہل قدمی کے لئے نکل گیا،رات بھر بارش ہوئی تھی اس لئے پورا ماحول پانی کی بوندوں میں نہایا ہوا معلوم ہو رہا تھا ،یہ گرمی کا موسم ہے لیکن برسات کا گمان ہوتا ہے ۔آدھے گھنٹہ سے زائد بے راہرو مسافر کی طرح پورے کیمپس میں ادھر ادھر ٹہلتا رہا ۔واپسی کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ مجھے دور چرچ میں صبح کی عبادت ہونے کے آثار دکھائی دیئے چونکہ یہ عیسائیوں کے طرز عبادت کا مشاہدہ کرنے کا ایک بہترین موقع تھا اس لئے شوق دیدار مجھے اس سمت لے چلا۔دیکھا ایک شخص انجیل کا درس دے رہا ہے اور لوگ ہمہ تن گوش خاموشی سے اسے سن رہے ہیں،میں بھی اس درس میں جا شریک ہوا اور ان کی باتیں سننے لگا وہ بیچ بیچ میں نہ جانے کیوں اچانک کھڑے ہو جاتے تو کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور کبھی اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اپنے سینے اور پیشانی تک لاتے اور چھوڑ دیتے ۔غالبا یہ ان کی عبادت کا طریقہ تھا اور وہ عبادت کر رہے تھے ۔ان کی اس خود ساختہ مبینہ طرزعباد ت کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگا کہ یا الٰہ العالمین !انھیں ہدایت دے اور ہمیں استقامت عطا فرما ۔انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو کس طرح تھریف کا شکار بنا ڈالا تھا ۔اے کاش!!یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لے آتے تو انھیں نجات مل جاتی ۔در اصل اس میں ہم مسلمانوں کی بھی غلطی ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں دین اسلام کا امین بنایا تھا اور کہا تھا ادعوا الیٰ سبل ربک لیکن ہم نے اسکا پیغام اسکے بندوںتک نہیں پہنچایا ۔کل یقیناً خدا کی بارگاہ میں ان بے چاروں کا ہاتھ ہوگا وار ہمارا گریبا ن یہ فریادی ہونگے کہ با ری الٰہ !یہی وہ تیرے بندے ہیں جنھیں تو نے اپنے دین کا امین اور محافظ بنایا تھا لیکن انھوں نے تیرا دین ہم تک نہیں پہونچایا اور ہم سرگرداں رہ گئے اسلئے گر ہم سزا کے مستحق ہیں تو یہ بھی مستحق تادیب ہیں ۔

پروگرام چونکہ کل سے شروع ہوناہے اور ہم ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے تھے اس لئے ہم نے گوا گھومنے کا ارادہ بنایا اور ہم چار پانچ ساتھی پروگرام آرگنائزر مسٹر ونیت کوشی کو مطلع کر کے گھومنے نکل گئے ۔تین بجے کے قریب ہم لوگ’ پلر‘ سے نکل کر راجدھانی پنجی گئے جو کہ ہماری اقامت گاہ سے بارہ کیلو میٹر کی دوری پر واقع تھا ۔راجدھانی کافی خوبصورت تھی ۔لیکن چونکہ ہم لوگوں کو’ ڈونا پولا ‘جانا تھا اس لئے یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرے اور بزریعہ بس ’ڈونا پولا ‘نکل گئے ۔

یہ بھی راجدھانی سے گیارہ یا بارہ کیلو میٹر کی دوری پر ہے یہاں کئی سیاحتی مقامات تھے جن کے بارے میں مختلف قسم کے قصے کہانیاں گائیڈ سیاحوں کو سنا رہے تھے ۔یہاں سے سمندر کا نظارہ اس قدر دلچسپ تھا کہ دن بھر آدمی بیٹھا نظارہ کرتا رہے ۔ٹھیک سمندر کے کنارے اوشنوگرافی کالج تھا،جہاں سمندر اور اس سے متعلق تحقیقی تجربات کئے جاتے ہیں ۔سمندر کے کنارے کنارے دور تک بڑی بڑی چٹانیں تھیں جنھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ خصوصی طور پر انھیں کسی خاص مقصد کے لئے بچھایاگیا ہے ،سمندر کے لہروں کا ان چٹانوں سے ٹکرانے کا منطر ہی کچھ اور تھا ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے چٹانوں پر لہریں اپنا سر پٹک رہی ہیں ۔اور دور بپھری ہوئیٰ لہریںساحل تک آکر واپس لوٹتیں توان کے جھاگوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے ہزاروں ٹینکر دودھ سمندر کے کنارے انڈیل دئے گئے ہوں ۔مچھواروں کے ذریعہ بوٹنگ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔واسکو کی طرف جارہا ایک بوٹ لہروں کے بیچ ایسا نظر آرہا تھا جیسے ڈوب گیا ہو لیکن کچھ ہی منٹوں بعد پھر ابھر آتا ،کس قدر زور ہوتا ہے پانی کی ان لہروں میں اسے آج میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ابھی سنامی میں یہی لہریں تو بپھر اٹھی تھیں جنہوں نے لمحوںمیں ہزاروں لوگوں کو لقمئہ اجل بنا ڈالا تھا ۔سنامی سے متعلق خبریں اور تصویریں میرے ذہن کی اسکرین پر صاف دکھائی دے رہی تھیں ۔اس طرح کے چھوٹے چھوٹے حادثات دراصل انسان کو جگانے کے لئے ہوتے ہیں لیکن انسان اس سے سبق نہیں لیتا ۔خیر ہم لوگوں نے یہاں کافی لطف اٹھایا ۔کیمرے کے ذریعہ تصویریں کھینچیں ۔

چونکہ اس سیر میں میرے ساتھ مختلف مذاہب کے پیرو کئی اور بھائی بھی تھے اس لئے خوشی دوبالا ہو گئی۔ہم لوگ یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے ۔اس میں ایک دوسرے کے مذہب کے بارے میں جاننے اور بتانے کا موقع بھی ملا ۔میں نے انھیں اسلام کے بارے میں بتایا انھیں بڑی خوشی ہوئی انھوں نے کہا ہم آپ کے مذہب کو اور سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی کتاب یا قرآن دیجئے ۔میں نے کہا میرے پاس ہندی ترجمئہ قران اور کئی کتابیں موجود ہیں انشاءاللہ پلر جاتے ہی آپ کے حوالہ کر دونگا ۔ آپ ان کا ضرور مطالعہ ضرو ر کیجئے ۔اور پلر آ ٓتے ہی میں نے ان کی امانت ان کے حوالہ کر دیں۔اللہ انھیں ہدایت دے اور اسلام کی حقانیت کے لئے ان کاذہن کھول دے۔اسکے بعد بقیہ چھہ دن سخت مصروفیت میں گزرے ۔منتظمین کے مطابق ہرپروگرام میں تمام شرکاءکی شرکت لازمی تھی ،بصورت دیگر ہم لوگوں کا دور دراز کا سفر طے کرکے آنا فضو ل تھا ۔اس ہفتہ بھر کے پروگرام میں تقریبا ۵۱موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔موضوعات کچھ اس طرح کے تھے ۔شخصیت کوکیسے پہچانیں ؟،عدل کی اہمیت ضرورت اور اسکے تقاضے،کیسے نمٹیں اختلافات سے،بین المذاہب مکالمہ اور تعاون،ڈرامہ کی مشق و ممارست: معاشرتی مسائل کے تنا ظر میں ،معاشرے میں مصالحت اور امن کی بحالی میں نوجوانوں کا کردار، نسلی مسائل اور جنسیت، معاشی بحران :ترقی اور مذہبی ذمہ داریاں ،فضائی توازن میں نظریہ کی تلاش ،شناخت ،حقوق انسانی اور ثقافت میں اختلاف کا جشن۔دو شفٹوں میں ایک مقرر نے الگ الگ دو موضوعات پر گفتگو کی ۔جسکے لئے ساتوں مذاہب(ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی،بہائی،جین، بدھ) سے ایک ایک فرد کا انتخاب کیا گیا تھا اور قوس قزح کے مانند سب کو ایک خوبصورت گلدستہ میں سجانے کی کوشش کی گئی تھی ۔اس ورکشاپ میں لکچرس کے علاوہ کھیل کود اور بحث ومباحثہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا ۔

اس پروگرام کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ہر لکچر ۰۹منٹ کا ہوتا اور اسکے بعد ٹی بریک تاکہ چائے پینے اور کچھ چہل قدمی کر لینے کے بعد انسان دوبارہ دوسرے پروگرام کے لئے تازہ دم ہو جائے۔۰۹منٹ کے اندر ایک پروگرام کو نمٹا دینے کے پس منظر شاید یہ مصلحت کارفرما تھی کہ ایک انسانی ذہن لگاتار ۰۹ منٹ تک بغیر کسی بریک کے کام کر سکتا ہے۔یہاں لکچر کا انداز بھی ہمارے دینی مدارس یا دینی مجالس کے روایتی اور گھسے پٹے طریقہ سے یکسر مختلف تھا،جدید تکنک کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بات کو خوبصورت اور جامع اندازمیں کہنے کا فن کوئی ان سے سیکھے ۔بیچ بیچ میں سوال جواب تاکہ ذہن اصل مقصد سے بھٹکنے نہ پائے ساتھ ہی ساتھ اسپیکر اور سامع کا رشتہ اخیر تک برقرار رہے ۔اس سے سامعین کو کافی فائدہ ہوتا اور چونکہ ہر ایک کو اس بات کا خطرہ لاحق رہتا کہ نہ جانے کب مجھ سے کیا پوچھ لیا جائے اس لئے سبھی مقرر کی باتوں کو دھیان سے سنتے ۔بنیادی طور پر اس پروگرام کا مقصد ہی living togather is possible))یعنی ایک دوسرے کے درمیان رہنے اور رہ کر زندگی گزارنے کو ممکن بنانا تھا اس لئے تقریبا ہر مقرر کا مرکزی خیال یہی تھا۔یہاں پر شرکاءبھی تقریبا ہر مذہب سے تھے جو ملک کے مختلف شہروں جیسے دہلی،حیدرآباد، رانچی،جمشیدپور ،بنگلورو،کشمیر،ممبئی،پونا،کولکاتہ کے علاوہ بیرون ممالک امریکہ اسٹریلیا اور پاکستان کے بھی تھے ۔جن میں زیادہ تعداد عیسائیوں کی تھی ۔

یہ سات دن کا پروگرام خالص علمی نوعیت کا تھا اور سوائے ایک یا دو لیکچرس کے سارے لکچر انگریزی میں ہی ہو تے تھے ، یہاں کا ذریعہ زبان بھی انگریزی ہی تھا ، یہاں رہتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا جیسے ہم ہندوستان سے باہر کسی دوسرے ملک میں آگئے ہوں۔اس پروگرام میں تقریبا تمام ہی مذاہب کے افراد سے براہ راست ملنے اور تبادلئہ خیال کا موقع ملا۔یوں تو اس سے پہلے المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد اور جامعہ ملہ اسلامیہ میں مختلف مذاہب کے بارے میں پڑھنے اوراسکے تقابلی مطالعہ کا موقع ملا تھا ۔اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں نے تھیوری تو معہد اور جامعہ میں پڑھی لیکن پریکٹیکل کا موقع اس پروگرام میں ملا۔اس پروگرام میں ایک دن گو اکے جناب آصف صاحب آئے ہوئے تھے جو غالبا جماعت اسلامی ہند کے ممبر تھے انھوں نے ’ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال‘ پر سیر حاصل گفتگو کی سب سے زیادہ سوالات بھی انھیں سے کئے گئے ۔انھوں نے ہر سوال کا جواب انتہائی سلجھے ہوئے اور سائنٹفک انداز میں دیا ۔ایک لڑکے نے سوال کیا اس وقت پوری دنیا میں کیوں ہر جگہ مسلمانوں کو ہی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے خواہ وہ ہندوستان میں گجرات ہو ممبئی ہو یا مالیگاوں یا پھر ہندوستان سے باہر عراق،افغانستان،چیچنیا بوسنیا یا فلسطین ۔چونکہ ٹیبل ٹاک پروگرام تھا اور اس میں آصف صاحب کے علاوہ اوربھی کئی اسکالر موجود تھے جو اسکا جواب دینا چاہ رہے تھے لیکن سائل نے کہا کہ میرا یہ سوال خصوصا آصف صاحب سے ہے ۔تھوڑی دیر کے لئے آصف صاحب بھی شش و پنج کا شکار رہے سب کی نگاہیں ان پر ٹک گئیں کہ معلوم نہیں کیا جواب دیتے ہیں لیکن جب انہوں نے جواب دینا شروع کیا اور ماضی کے جھروکے سے حق و باطل کی معرکہ آرائی اور اسکے پیچھے کار فرما سازش کو چاک کرتے ہوئے الحق یعلو ولا یعلی علیہ کے اصول پر اسلام ہی کو کامیابی ملے گی کی بات کی تو بہت سے لوگوں اور خصوصا عیسائیوں کو آصف صاحب کی باتیں اچھی نہیں لگیں۔ایک صاحب نے تو کھڑے ہوکر کہہ بھی دیا کہ کہ ایسا صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ عالمی طور پر کئی ایسے مسائل ہیں جس سے پوری انسانیت جوجھ رہی ہے مثلاسفید فاموں کا سیاہ فاموں پر ظلم،دلتوں کی حالت زار ،سری لنکا میں تمل باغیوں کی زیادتیاں غرض اس نے درجنوں واقعات ایک ساتھ گنوا دیئے۔پروگرام ختم ہونے کے بعد ہماری ملاقات آصف صاحب سے ہوئی انھوں ہم لوگوں کے ملکر بڑی خوشی کا اظہار کیا ۔میں نے ان سے انگریزی ترجمئہ قرآن کے کچھ نسخوں کی فرمائش کی انھوں نے دوسرے ہی دن تقریبا ۵۲،۰۳ نسخہ بھیج دئے جسے میں نے اپنے غٰیرمسلم ساتھیوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔سبھوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اورمطالعہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔مجموعی طور پر پروگرام ٹھیک رہا۔

لیکن اسکے باوجود اس پروگرام سے جو نتیجہ میں نے اخذ کیا وہ یہ کہ دراصل اس طرح کے پروگرام امت مسلمہ کے نوجوانوں کو ان کے اصل مقصد اور موقف سے بھٹکانے کا خوبصورت طریقہ کار ہیں ۔سیکولرزم اور انسانیت کے نام پر انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے کی یہ کوشش ویسے ہی ہے جیسے انسان حق کا متلاشی تو ہے لیکن وہاں تک پہونچنے کے لئے صحیح راستہ اختیار کرنے کو رضامند نہیں بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہوکہ نہیں مجھے تو اسی راستہ سے کامیابی ملے گی اور اسی کے ذریعہ ہم حق کو پا سکتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔مجھے حیرت اور افسوس ا سوقت ہوا جب کلکتہ سے آئے ایک عالم دین جو ماشاءاللہ ایک سرکردہ دینی ادارہ سے فارغ بھی ہیں انھوں نے اپنی تقریر میں یہ کہہ دیا کہ ”ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ ہم کسی کے مذہب کو برا بھلا کہیں ۔ہر مذہب حق اور خدا کے ذریعہ بنایا گیا ہے اور ہر مذہب ایک ہی خدا کو پہچاننے اور اور اسکی تعلیمات پر عمل کرنے کے الگ الگ راستے ہیں ۔میرے جی میں آیا کہ میں اٹھوں اور اسکا گریبان پکڑ کر کہوں تم نے آٹھ اور دس سال مدرسہ میں رہ کر کیا کیا۔۔۔۔؟؟ائے میرے دینی بھائی !اگر سب حق ہیں تو محمدصلی اللہ علیہ وسلمکیوں مبعوث کئے گئے اور ہمارے خالق ومالک نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں کیوں فرمایا ”جاءالحق ذہق الباطل کان ذہوقا“پھر ”لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“ کا کیا مطلب ہے ؟۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا آخر ہم حق بات کہنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور حق بات کو کیوں چھپاتے ہیں ۔مجھے اسکی اس غفلت پر حیرت تھی کہ” ان الدین عنداللہ الاسلام“کاوہ پیغام جو اسلام کے بارے میں معمولی علم رکھنے والے شخص کو بھی اچھی طرح معلوم ہے اگر تمام مذاہب حق ہیں تو پھر یہ اعلان چہ معنی کہ’ دین تو خدا کے نزدیک بس اسلام ہی ہے‘۔اس اعلان کا مطلب ہی ہے کہ بس اللہ تک جانے کی ایک ہی راہ ہے اور وہ اسلام ہے۔ہو سکتا ہے میرے یہ فاضل بھائی نصرانیت ،الحاد اور شرک کو اسی پلے میں رکھنا چاہتے ہیں جن کے جاہلانہ نظام کو ختم کرنے کے لئے رسول کائناتصلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام حقہ بنام اسلام سنایا تھا ۔خدا میرے اس بھائی کی ہدایت فرمائے (آمین)

اس ورکشاپ کا آخری دن گوا اور اسکے گرد و نوح میں گھومنے اور مختلف مقامات کی سیرکے لئے وقف تھا ۔جسکے کے لئے صبح تقریبا ۹ بجے دو بسوں کا انتظام کیا گیا تھا ۔چونکہ چالیس کے قریب شرکاءتھے اس لئے ۰۲،۰۲ کی تعداد میں سب کو تقسیم کر دیا گیا اور دونوں میں سے ایک کے لیے’ شمالی گوا‘اور دوسرے کےلئے ’جنوبی گوا‘ کا انتخاب کیا گیا ۔شمالی گوا کا صدر مقام’ پنجی ‘اور جنوبی کا ’مڈ گاوں‘۔جانے سے پہلے ایک عیسائی مذیبی رہنما (جس کا نام یاد نہیں رہ گیا ہے) نے کانفرنس ہال میں تمام ہی شرکاءکو جمع کرکے ’گوا‘کی مختصر تاریخ اور اسکی جغرافیائی حیثیت پر روشنی ڈالی انھوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر گوا کا اطلاق شما لی گوا کے ان تین گاوں پر ہوتا ہے جو کہ مغربی ہندوستان کی تاریخ کے مختلف کامیاب ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں ۔دوسرا قدیم گوا ہے جوکہ پرتگالی انتظامیہ کا صدر مقام بنا اور اس وقت یہ ہندوستان کی رومن کیتھولک کلیسا کا صدر مقام ہے ۔تیسرا جسے عام طور پر پنجی کہا جاتا ہے اس وقت گوا کی راجدھانی ہے ۔گوا کے اصل شہر (گوا ویلیا ۔goa velia)کو کدمبا حکمرانوں نے آباد کیا تھا ۔گوا کا دوسرا شہر (velha cidadede goa)جو کہ قدیم گوا کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔قدیم ہندو صدر مقام کے شمال میں پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔اسے مسلمانوں نے ۹۷۴۱ءمیں واسکوڈی گاما کی ہندوستان آمد سے انیس سال بعد آباد کیا تھا ۔اسی مشہور شہر کو البوقرق’Albuquerque‘نے ۰۱ ۵۱ءمیں فتح کیا تھا ۔یہ ایشیا میں سلطنت پرتگال کا صدر مقام بنا تھا ،یہی شہر مشرق و مغرب کے درمیان تجارت گاہ بن گیا تھا ۔اس دور میں یہ پرتگال کے صدر مقام لسبن ہی کی خصوصیات کا مالک تھا ۔اور اب یہ عیسائیوں کی مذہبی زیارت گاہ ہے جہاں پر سولہویں صدی کے عیسائی مبلغ سینٹ فرانسس زیویر St francis xavier))کی باسیلکا آف بوم جیس(basilica of bom jeus )میں رکھی میت کو دیکھنے آتے ہیں ۔اس نے لیپا پوتی اورجلد سے جلداپنی بات کو ختم کرنے کے چکر میں بہت سارے تاریخی حقائق سے انحراف کیا یا ممکن ہے جان بوجھ کر چھپا لیا ہو مثلا اس نے یہ نہیں بتایا کہ بعد کی صدیوں میں پرتگال کے زوال کے ساتھ ساتھ یہ بھی زوال پذیر ہوا اور اپنی اہمیت کھوتا گیا اور اب اس نے محض کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی صدر مقام کی حیثیت سے اپنی شناخت باقی رکھے ہوئے ہے۔اور اب یہاں سولہویں اور سترہویں صدی کے گرجا گھروں اور کلیساں کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے ۔پھر یہ کہ یہی وہ شہر ہے جہاں ۹۹۸ھ( ۴۹۴۱ء)میں اندلس میں صلیبیوں کے غلبہ کے صرف پندرہ سال بعد اندلس میں مسلمانوں پر داستان الم من و عن دہرائی گئی ۔یا یہ کہ مارچ ۰۱۵۱ءکو صلیبی سامراج کا اولین خواب صلیبی اور یورپی سامراج کے دوسرے وائسرائے البوقرق کے ہاتھوں گوا پر پرتگالیوں کے قبضہ سے پورا ہو ۔

۱۷۴۱عرصہ سے گوا پر عادل شاہی حکومت کا قبضہ چلا آرہا تھا ۔اسے اس نے درہم برہم کر دیا اور یہی وہ شخص تھا جس نے شاہ ایران اسماعیل صفوی سے ہر مز پر تسلط کے بدلہ مکہ مکرمہ پر حملہ اور کعبہ شریف کو ڈھانے سازش رچی تھی تھی ۔اس نے یہ بھی فراموش کر دیا کہ ۳۱۵۱ءمیں اس کا ارادہ تھا کہ حبشہ سے گھوڑے حاصل کرکے پرتگالی بری بیڑے کے چار سو سواروں کو ینبع کے راستہ مدینہ منورہ بھیجے تاکہ مسجد نبوی میں محفوظ اسلامی خزانوں کو لو ٹیں اورخاکم بدہن قبر اطہر سے جسد مبارک نکال کرحجاز سے باہر لے جائیں (نعوذو باللہ)۔پھر اسکے بعد شاہ پرتگال بیتت المقدس میں واقع کنیسہ القیامہ اسکے قبضہ میں دینے کے لئے مسلمانوں سے بھا تا کریں۔اس نے گوا کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت میں اسپین کے محاکم تفتیش کی یاد تازہ کر دی تاریخ کی کتابوں میں ایسے بہت سارے واقعات رقم ہیںمثلا پرتگالیوں میں سے جو لوگ اسلام لاکر مسلمانوں سے مل گئے تھے ۔اس نے ان کا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں کا ٹیں ،ان کے داڑھی اور سر کے بال نچوائے اور جسم میں خالی جگہوں پر مٹی بھر دی۔البوقرق نے تہیہ کر لیا تھا کہ گوا کی سر زمیں پر کوئی مسلمان باقی نہیں چھوڑے گا ۔اس نے وہاں کے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔اس کے حکم سے گوا کے مسلمانوں کو ایک مسجد میں جمع کرکے جلا دیا گیا ۔مسلمانوں کی قبریں اور مقبرے کھود کر ان کے پتھر قلعہ کی تعمیر میں لگوا دئے۔اس نے شاہ مانویل کو گوا کی فتح کے بعد جو خط لکھا تھا تاریخ کی کتابوں میں آج بھی وہ موجود ہے وہ لکھتا ہے ”اس کے بعد میں نے شہر کو آگ لگا دی ،ہر گردن پر میں نے تلوار رکھی ،کئی روز تک لوگوں کا خون بہتا رہا ۔جہاں بھی ہم نے مسلمانوں کو پایا ان کی کوئی عزت و توقیر نہیں کی ،ہم مسجدیں ان سے بھر کر ان کو آگ لگا دیتے تھے یہاں تک کہ ہم نے ۶ ہزار مرنے والوں کے جسم دیکھے ۔میرے آقا !یہ بہت عظیم اور شاندار کارنامہ تھا جس کا آغاز بہت خوب تھا اور اختتام بھی بہتر ہوگا “تاریخ سے د لچسپی اور اسکے طا لب علم ہونے کی حیثیت سے سفر پر نکلنے سے پہلے میں نے کئی کتابوں کا مطالعہ کر رکھا تھا ۔ اس لئے بہت ساری باتیں ذہن میں تھیں اور بہت سارے شکوک و شبہات بھی ۔میری خواہش تھی کہ میں ان سے سوال کروں اور کچھ پوچھوں لیکن شرکاءپہلے سے ہی بور ہو چکے تھے اور مزید کچھ سننے کے لئے تیار نہ تھے بلکہ جلد سے جلد ان ساری چیزوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تھے جسکے بارے میں ابھی ابھی فاضل مقرر نے بتایا تھا یا انھوں نے پہلے ہی کسی کی زبانی سنا تھا ۔

اس لئے میں بھی دونوں کے درمیان حائل ہونا مناسب نہیں سمجھا اور بہتری اسی میں محسوس کی کہ اب چلنا چاہئے۔چنانچہ پروگرام کے مطابق سب سے پہلے ہم ان مزدوروں کی جھوپنڑیوں کو دیکھنے گئے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں کمانے کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ان میں زیادہ تر تعداد یوپی ،بہار اور جھارکھنڈ کے باسیوں کی ہے جو سمندر کے کنارے کھجور کے پتے اور لکڑی و بانس کے بنے چھوٹے چھوٹے جھوپڑ ے نما مکانات میں رہتے ہیں ۔ ان کاکام سمندر سے ریت نکالنا اور اسکو بیچنا ہے یہ لوگ زیادہ تر گرمی کے دنوں میں یہاں آتے ہیں ۔یہ مزدور یہیں کھاتے ،پیتے ،رہتے،اور سوتے ہیں اور چونکہ زیادہ تر یہ غریب ہیں اور بمشکل اپنی روزی روٹی چلا پاتے ہیں ۔اس لئے عیسائی مشنریاں اسکا خوب خوب فائدہ اٹھا کر اپنی فکر اور کلچر ان کے سر تھوپتے ہیں یہ مشنریاں ان کے درمیان کئی رفاہی کام بھی کرتی ہیں مثلا ان غریب لوگوں اور ان کے غریب بچوں کے لئے مفت تعلیم ،ہاسپٹل اور دوائیوں کا انتظام کرنا ،مختلف مہلک بیماریوں خصوصا ایڈس کے تئیں بیداری پیدا کرنا اور انھیں اس سے بچا اور محفوظ رہنے کے طریقہ وغیرہ بتانا۔ہم نے یہاں رہ رہے لوگوں سے باتیں کیں ۔وہ انھیں بہت عزت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور دیوتا سے کم تصور نہیں کرتے میں نے دیکھا ان کی آنکھوں سے ان مشنری والوں کے لئے احسان کا جذبہ صاف عیاں تھا ۔اسکے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ تھا مشہور ’میرا میربیچ‘ یہاں پہونچتے ہی میں نے آ دیکھا نہ تا اور مزے میں کپڑے پہنے ہی پہنے سمندر میں کود گیا فورا خیال آیا یہ تو میں نے بڑا برا کیا لیکن میرے رفیق سفر نے بتایا کہ احتیاطا میں تمہارے بھی ایک جوڑے کپڑے ساتھ لے آیا تھا ۔پھر کیا تھا میں نے کپڑے پہنے ہی پہنے سمند ر میں خوب تیراکی کی اور نہایا ۔تقریبا دس سال بعد کسی سمندری ساحل پر گھومنے کا موقع ملا تھا ۔

یوں تو اس سے پہلے بھی میں بھٹکل میں سمندر دیکھ چکا تھا ۔لیکن اس وقت میں اتنا چھوٹا تھا کہ اسکی ایک مدھم سی تصویر بھرہی نظر آتی تھی ۔یہاں تو کھلی آنکھوں سے حقیقت دیکھ رہا تھا ۔مسٹر ونیت کوشی ہمارے ساتھیوں کو متنبہ کر رہے تھے کہ زیادہ دور نہ جا آج لہریں تیز ہیں ۔ان کے اس جملہ کو سنتے ہی میں سہم گیا سنامی کی صبح بھی لہریں تیز تھیں معلوم نہیں کس وقت سمندر بپھر اٹھے اور ایک مرتبہ پھرابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ مسٹر ونیت کوشی کی آوازپھر کانوں میں آئی واپس چلو۔۔۔۔!واپس چلو۔۔۔۔۔۔!اور پھر بس کے ذریعہ ہم لوگ واپس ’ہوٹل ہیریٹیج‘ پہونچے ۔جہاں رات کے کھانے کا انتظام تھا ۔کھانے کے بعد واپس پلار رٹرٹ سینٹر لوٹ آئے جہاں ہمارا قیام تھا۔دہلی آنے سے ایک دن پہلے ایس آئی او کے ایک ممبر شعیب بھائی سے ملاقات ہوئی جو گوا یونیورسٹی سے ایم اے کر رہے تھے اور ایس آئی او گوا کے زونل سکریٹری بھی ہیں ۔میری خواہش پر انھوں نے بھی کئی تاریخی مقامات کی سیر کرائی لیکن فی الحال میرے ذہن میں ’اولڈ گوا‘ میں واقع گرجا گھر کی یاد باقی رہ گئی ہے ۔جس میں سینٹ پال کے بعد مسیحیت کے سب سے عظیم ملغ سینٹ فرانس زیویر کی ممی (لاش)رکھی ہوئی ہے اور جسے یونیسکو نے تاریخی ورثہ کی حیثیت دے رکھی ہے ۔یہ گرجا گھر اصل میں مسجد تھی ،حیرت کی بات ہے اس گرجا گھر کے صدر دروازے پر صلیب آویزاں نہیں ہے مقامی روایت کے مطابق اس پر صلیب نصب نہیں ہو پاتی ہمیشہ گر جاتی ہے۔ 

گواکے اس دس دن کے پروگرام اور سیاحت میں میں نے محسوس کیا کہ طویل مدت تک حکومت کرنے والے پرتگالیوں نے یہاں کی تہذیب و ثقافت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔قدم قدم پر چرچ اور شراب کی دکانیں ۔۔۔۔۔بر ہنگی کی حد تک عریانیت ۔۔۔۔۔۔سویلائزیشن کے نام پر بد تہذیبی۔۔۔۔۔جدیدیت کے نام پر دور جہالت کی رسمیں۔۔۔۔۔فاضل کپڑوں میں مرد اور قلیل کپڑوں میں عورتیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی یورپی ملک میں ہم آگئے ہیں ۔دس لاکھ کے اس آبادی والے گوا میں ہندو اکثریت میں ہیں لیکن عیسائی ہر اعتبار سے خوشحال ۔مسلما نوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور ان کی بھی تقریبا وہی حالت ہی جو دیگر ہندی مسلما نوں کی ہے جماعت اسلامی کے علاوہ کئی مسلم تنظیمیں یہاں کام کر رہی ہیں لیکن وہ بھی اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہیں۔عشرے بھر تک دنیا بھر کے ممالک اور ہندوستان کے کونے کونے سے پہنچنے والے بھانت بھانت کے مندوبین سے ملاقاتوں اور ان کے ساتھ اس بات پر غور و فکر کہ بین المذاہب ہم آہنگ کی فضا کیونکر قائم کی جائے اس سب کے بعد جب میں مڈگاں کے اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں کھڑا تھا تو نہ جانے کیوں میرا دل اداس تھا ۔ جیسے ہی ٹرین ہمیں لیکر دہلی کے لئے چلنی شروع ہوئی ہلکی سی بوندا باندی ہونے لگی ایسا معلوم ہو رہا تھا گوا مہمانوں  جدائی پر آنسو بہا رہا ہو۔
alamislahi@gmail.com
    MD.ALAMULLAH ISLAHI


۔۔۔مزید

چینی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا مگر عالم اسلام خاموش کیوں ؟


چینی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا مگر عالم اسلام خاموش کیوں ؟

ہم لوگ فلسطین میں ہونے والے مظالم پر تو چلا اٹھتے ہیں لیکن چین میں مسلمانوں پر اتنا کچھ ہونے کے باوجود اس سے تجارتی روابط اور دوستی کی خاطر پینگیں بڑھانے سے باز نہیں آتے ۔


محمد علم اللہ اصلاحی

عالم اسلام سمیت پوری 
بیرونی دنیا کو چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے قیام کے اول دن سے یہیظاہر  
 کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ اس کے تحت چین میں اندرونی استحکام اور مکمل نظام امن کا ماحول ہے۔مگردنیا کواپنا یک رخی اورچمکیلا چہرہ دکھانے کی لاکھ کوششوں کے باوجودوہ اپنی ذاتی، نسلی اورعصبیت پرستانہ رویہ کو چھپا نہیں پارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نئے سال کے شروع بلکہ پہلے ہفتہ میں ہی ایک مرتبہ پھر چین نے مع ایک مسجد کی شہادت کے کئی مسلمانوں کوجاں بحق کرنے، اپنی حیوانیت اور تشدد پسندی کا ننگا ناچ ناچنے اور دنیا کو یہ معلوم نا ہو سکے کہ وہ لامذہبیت اور برابری کی آڑ میں کیاکچھ کر رہا ہے،زمین پرپڑے ہوئے خون کو چھپانے کے لئے اس جگہ کو ڈھک دیا ہے یہی نہیں بلکہ یہاں کے فون روابط بھی منقطع کر دئے ہیں تاکہ وہاں کے مظلوم اپنا درد بھی کسی کو نہ بیان کر سکیں۔ اس سلسلہ میں معروف خبر رساں ایجنسی ’رائٹر ‘کے مطابق شمال مغربی چین میں مسلم کمیونٹی کے ایک گاؤں کی مسجد کو گرانے آئے پولیس اور سینکڑوں افراد کے ساتھ جھڑپ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ہانگ کانگ واقع انسانی حقوق مبصرین کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت کھڑا ہوا جب جمعہ کے روز’ ہیکسی‘ نامی قصبے میں فساد کنٹرولر پولیس نے مسجد کو غیر قانونی ڈھانچہ قرار دے دیکر شہید کر دیا۔خبروں کے مطابق اس جھڑپ میں پولیس نے’ ہوئی‘ نسل کے مسلمان مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان کے خلاف آنسو گیس ، لاٹھیوں اور چاقوؤں کا استعمال کیا۔جس کے نتیجہ میں زائد از 2 افراد شہید، 50 زخمی اورتقریبا 100 مسلمان حراست میں لے لئے گئے ہیں ، چینی حکام نے مسجد گرائے جانے اور لوگوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔

یاد رہے کہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی خاص کر دوسری جنگ عظیم یعنی 1949کے بعد وہاں کے مسلم اکثریتی والا علاقہ ژنجیانگ (مشرقی ترکستان)کو چین ناجائز طور پر قبضہ میں لینے کے بعد سے مستقل اب تک مسلمانوں پر عصبیت کا رویہ اپناتے ہوئے ان کےساتھ نسل کشی ،فساد ،ظلم و بربریت اور غیر انسانی سلوک کا رویہ اپناتا رہا ہے۔یہاںاسلامی شناخت کو ختم کرنے کیلئے وہ ایک طرف توان علاقوں میں چین کے غیر مسلم اقوام کو لا کر بسا رہا ہے تاکہ مسلم آبادی غالب ترین اکثریت نہ رہ سکے یا کم از کم بڑے شہروں کی حد تک ایک معتدبہ تعداد غیر مسلم باشندوں کی دکھلائی جا سکے اور دوسری طرف اسلامی عقیدے کو مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے ذہن سے محو کرنے کیلئے مختلف حربے بھی استعمال کر رہا ہے اور تیسری طرف روس کی طرح یہاں کی معدنی اور زرعی پیداوار کو نچوڑ کر دوسرے صوبوں میں لے جارہا ہے۔اس قسم کی ظلم و بر بریت کے علاوہ 1964سے لے کر 1996 تک چین نے اپنے تقریبا تمام جوہری تجربات انھیں مسلم علاقوں میں کئے ہیں۔ 

مسلمانوں کو بے بس کرنے کے لئے یہاں کے مساجد پرتالالگا یاگیا، اسلامی عبادت و روایات پر مختلف طرح سے پابندیاں عائدکی گئیں اورقرآن پاک کی تعلیمات کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ اس سے عاجز آکر 1974 میں مسلمانوں نے اپنے مذہبی تشخص کے احیاءکے لئے ملک گیر پیمانے پر کوشش کی،تو انھیں دہشت گرد کہا گیا۔اسی کو لیکرمسلم آبادی والے دوسرے بڑے صوبہ یونّان میں زبردست پر تشدد جھڑپیں ہوئیں، جس میں تقریباً 1700 مسلمان شہید ہوگئے۔چند سال بعد چینی حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے محدود مذہبی آزادی دے دی۔ لیکن مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم رہا۔ ہان نسل کے لوگوں نے حکومت کی تائید سے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول دیا جس سے تنگ آکر 1988ءمیں ان کے خلاف ژنجیانگ کے دارالحکومت ارمقی و دیگر شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ 1990ءمیں اس وقت کے چینی وزیر اعظم ”لی پانگ“ نے اقلیتوں کی ایک کانفرنس میں ژنجیانگ کے علیحدگی پسندوں کی کھل کر مذمت کی جس کے خلاف پوری ریاست میں مسلمانوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ لیکن فوجی آپریشن کے ذریعہ اس کو کچل دیا گیا،جس میں 60مسلمانوں سمیت ایک مسجد بھی شہید ہوگئی۔ گزشتہ سال بھی ایسے ہی مذہبی اجتماع کے موقع پر ایک منظم فساد کے ذریعہ 165 غیورمسلمانوں کوقتل 800 سے زائدافراد کو زخمی اور 1500 افراد گرفتار کیا گیا ۔

پچھلے سال انھیں علاقوں کے مختلف بسوں ،سڑکوں ،گلیوں اور اسکولوں میں مسلمانوں پر نظر رکھنے کے لئے تقریبا17 ہزار کیمرے نصب کیے گئے جبکہ رواں سال بھی کئی ہزار مزید کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔یہاں طلبہ اور اساتذہ کو روزہ رکھنے، سرکاری ملازموں کو مسجد جانے، مردوں کو داڑھی رکھنے، عورتوں کو اسکارف پہننے نیز رمضان میں دن کے اوقات میں ہوٹلوں کو بند کرنے سے منع کر نے کے ساتھ ہی گزشتہ کئی سالوں سے مشرقی ترکستان کے اسلامی شناخت پر مبنی تاریخی ورثے کو مٹایا جاتا رہا ہے۔مشرقی ترکستان میں اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے چین ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کر رہا ہے، اپنے مذموم مقاصد کیلئے یہاں مخلوط تربیتی پروگرام جبرا ترتیب دیا تاکہ بداخلاقی اور زناکاری کو فروغ حاصل ہو اور اسلام مردوزن کو جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اس کا برسرعام تمسخر اڑا سکے۔ مقامی مسلمان قائدین نے جب ایسے تربیتی پروگرام کے خلاف آواز بلند کی تو چین نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا۔ ان قتل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قائدین میں چند نامور نام بھی تھے جنہوں نے چین میں قربانی کی داستانیں رقم کی ہیں جن میں عبدالرحیم عیسٰی، عبدالرحیم سیری اور عبدالعزیز قاری جیسے نام شامل ہیں۔

لیکن اسکے باوجود حیرت ہے کہ چین کی اس حرکت کے خلاف ابھی تک بین الاقوامی طور پر تودورعالم اسلام میں بھی ترکی اور ہندوستان کے علاوہ کسی مسلم ملک کی جانب سے اس پرغم وغصہ کا بھی اظہار نہیں کیا گیااگرچہ مسئلہ فلسطین اور گیارہ ستمبر جیسے پیچیدہ مسائل کے بارے میں مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور ابلاغ عامہ میں تقریباً ہر روز ان کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے چینی مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم پر ابلاغ عامہ کی کوئی نظر نہیں پڑتی۔ اس مسئلے کو سیاسی اور ابلاغ عامہ کی سطح پر فراموش کر دینے کا نتیجہ اس طرح نکلا ہے کہ مسلمانوں کا ایک وسیع قطعہ اراضی چین نے ہتھیا کر وہاں کے مسلمانوں کو باقی امت سے کاٹ کر رکھ دیا، اگر ہمیں اپنی تاریخ پڑھنے کا موقع ملے تو ہمیں اپنے علمی اثاثہ سے معلوم ہوگا کہ چین میں مسلمانوں کی تعداد کروڑوں میں ہے ،یہاں عالم اسلام سے آنے والوں کا اثر صرف دین مبین کی تبلیغ تک محدود نہیں رہا بلکہ اسلامی دنیا سے وہ سائنس اور طب ،ریاضیات اور ہیئت کے علوم کے تحفہ بھی لائے ۔چینی کلینڈر کی تدوین میں بھی تقویم سے مدد لی گئی ہے ۔چینی سائنسداں جمال الدین ایک بہت بڑے ہیئت داں تھے ۔چودہویں صدی میں ماشح اور دوسرے مترجموں نے عربی سے ترجمہ کر کے چین کے سائنس کو ایسے ہی مالا مال کیا جیسے عباسی عہد کے مترجموں نے اپنے ہاں کے علوم کی زمین کو آسمان بنا دیا تھا ۔تیرہویں صدی کے سر بر آوردہ چینی مصوروں میں بھی کا کے کنگ نام کے ایک مسلمان تھے ،اور اسی عہد کے ایک عالم شمس الدین تو بہت مشہور ہیں جنھوں نے فلسفہ ،تاریخ ،ریاضی ،فلکیات ،جغرافیہ حتی کہ انجینئرنگ پر بیسیوں تصانیف چھوڑی ہیں۔چین میں خاص کر مسلمان گورنروں اور جر نیلوں کے تذکرے کا یہاں موقع نہیں ،جنھوں نے ہر عہد میں بڑے معرکہ مارے۔ہیں۔

الغرض یہ کہ چینی مسلمانوں نے اسلام کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں اسے ہم اس مختصر سے مضمون میں بیان نہیں ایسے میں انھیں اسلامی امت کر سکتے تاہم اس بابت اتنا ضرور کہیں گے کہ کہ اسلامی تاریخ اور اس کی نشرو اشاعت میں ان کی حصہ داری جزولاینفک ہے ،ان کے ان ہی خدمات کے سبب ماضی قریب تک چین میں مشرقی ترکستان کا ایک فعال کردار رہا ہے جسے اسلامی مملکت ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، اگرچہ یہ کردار ہمارے ہاں کوئی بڑی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا جس کی وجہ ابلاغ عامہ کی خیانت ہے اور اب بھی وہاں اسلامی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئی ہیں بلکہ برابر زور پکڑ رہی ہیں۔اور چین اسے انتہا پسند ،طالبانی ،دہشت گرد جیسے الفاظ سے نہ صرف پکار رہا ہے بلکہ ان سے اسی انداز سے پیش بھی آ رہا ہے اور آئے دن جس طرح سے تبتیوں کو اپنے عتاب کا شکار بنایا ان کے ساتھ بھی وہی انداز اپنائے ہوئے ہے ۔یہ صحیح ہے کہ تبتیوں کے حقوق کو لے کر جتنی بیداری اور ہمدردی مغربی دنیا میں ہے ، وہ یہاں کے مسلمانوں کے لئے نہیں ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ابھی بھی باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے پاس دلائی لامہ جیسا کوئی شخصیت موجود نہیں ہے ، جو ان کے حقوق کے تئیں بیداری پھیلائے۔پھر مسلمانوں کے حقوق کے لئے جو لوگ پر امن طریقے سے بھی جدوجہد کر رہے ہیں ان پر بھی چین نے دہشت گرد ہونے کا ٹھپاا لگا دیا ہے۔

ہم لوگ فلسطین میں ہونے والے مظالم پر تو چلا اٹھتے ہیں، ہم نے ان کی خاطرکئی مرتبہ اسرائیل کا بائیکاٹ کئے جانے کا بھی اعلان کیا ، جب کہ کچھ عرب ممالک نے تو اسرائیل سے باقاعدہ تجارتی روابط رکھے ہوئے ہیں۔یہاں پر اگر یہ کہا جائے تو بالکل غلط نا ہوگا کہ چین کا مسئلہ بھی تقریبا ویسے ہی ہے لیکن اس کے باوجودعالم اسلام بھی چین سے اپنی تجارتی روابط مستحکم کرنے اور اس سے اس سے دوستی کی خاطر پینگیں بڑھانے سے باز نہیں آتے ،ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہیں آمیز خاکے شائع ہونے پر اپنے ہی ملک میں اپنے بھائیوں کے کاروبار تباہ کردیتے ہیں،(ایساپاکستان کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں ہو چکا ہے )صرف اس لئے کہ ان کا کاروبار کسی ایک خاص کمپنی کی فرن چائز ہوتا ہے، ہم لوگ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے روئیے پر تو شور کرتے ہیں، مگر جب اپنے ہی پچھواڑے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ہو تو خاموش کیوں رہتے ہیں ؟اس کا جواب حقوق انسانی کے مبینہ علمبر داروں سمیت پورے عالم اسلام کو دینا ہی پڑے گا ۔یاد رہے کہ چونکہ گزشتہ دنوں گیتا سے متعلقہ ایک تنازعہ کو لیکر ہندوستان نے باقائدہ سفارتی سطح پر روس سے بات چیت کی تھی اسلئے یہ امید کی جا رہی تھی کہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کو پاکستان سفارتی سطح پر چین سے اٹھائے گا لیکن ان سطور کے لکھے جانے تک ایسی کوئی خبر نہیں ہے۔
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

ڈی ڈی اردو:چینل کی دنیاکا واحدنمائشی ادارہ


ڈی ڈی اردو:چینل کی دنیاکا واحدنمائشی ادارہ


چھہ برسوں میں خوداپنا ڈھانچہ بھی کھڑانہیں کرسکا،اردو زبان کی ترقی کیا خاک ہوگی

محمد علم اللہ اصلاحی 
ٹیلی ویژن نشریات کی دنیامیں’ دوردرشن‘کوقابل قدر اضافہ کی حیثیت سے جانا اور پہچاناجاتاہے کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں سے ایک ہے۔جس کے پہلے نشریہ کا آغاز 15 ستمبر، 1959 کومحض آدھے گھنٹے کے پروگرام سے ہوا تھاجس کا دائرہ ابتدامیںتعلیم و ترقی تک محدود تھالیکن بہت جلد اس کے اثرات پھیلتے چلے گئے اور انتہائی کم مدت میں غیر معمولی تبدیلی کے بعد اس کی باقاعدہ شروعات دہلی (1965) ممبئی (1972)کولکاتہ (1975) اورچنئی (1975)سے کر دی گئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آیا جب 15 ستمبر 1976 کواسے ایک ادارہ کی شکل دے دی گئی ۔روز افزوں اس کے ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہوتاچلاگیا اور قدر دانوں کی بڑھتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی میں 1982 کے ایشیائی کھیلوں کے دورا ن اس کی نشریات کو رنگین کر دیا گیا ۔اس پیش رفت کو نشریات کی دنیامیںایک انقلاب بھی تصورکیاگیا۔انقلابی پیش رفت کاہی یہ نتیجہ تھاکہ 1984 میں ملک میں تقریبا ہر روز ایک ٹرانس میٹر لگایا گیاتاکہ پوری دنیا خاص طور پر ہندوستانی عوام کو سماجی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی مسائل سے واقف کرایاجاسکے اوران کی صحیح رہنمائی کی جاسکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دوردرشن نے ملک میں سماجی واقتصادی تبدیلی، قومی اتحادکے فروغ اور سائنسی وعلمی سوچ و فکر کو پروان چڑھانے اور اس کو رفتار فراہم کرنے میں اہم رول اداکیا۔ عوامی خدمات و بیداری کے حوالہ سے اس کی حصہ داری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جس نے پورے ملک میں آبادی پرکنٹرول ، خاندانی بہبود، ماحولیات کے تحفظ اور مختلف قسم کے توازن کوبنائے رکھنے میںنمایاں مقام ادا کیا ۔دوردرشن کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی رہی کہ تقریبا ملک کی تمام علاقائی زبانوں میں اس کے پروگرام منفرد اندازمیںپیش کئے جاتے رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فیضیاب ہو سکیں اورملک کے کونے کونے میں بسنے والے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آ سکے ۔اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی کی حیثیت سے ڈی ڈی اردو کا قیام بھی عمل میں آیاجس کی خاطر کافی احتجاج اور ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تاکہ دوردرشن کے اردو خواںناظرین کی دل بستگی کی سبیل نکل سکے۔ڈی ڈی اردوکا قیام 15اگست 2006کووزیر اعظم منموہن سنگھ کے ہاتھوں عمل میں آیاتاکہ دیگر زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرح اردو داں طبقہ بھی اس سے محظوظ ہوسکے۔چنانچہ جب اس وقت کے ابلاغ عامہ و نشریات کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے یہ مژدہ سنایاکہ اس نئے چینل کا مقصد ملک میں اردو ثقافت کی بحالی اور اس کا فروغ ہوگا تو اردو والوں کی بانچھیں کھل گئی تھیں اور وہ پھولے نہیں سما رہے تھے کہ اب اس کے ذریعہ واقعی اردو کا فروغ ممکن ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اس سے بہت سارے لوگوں کو ملازمت اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گالیکن بہت جلد ان کی امیدوں کے قلعہ ڈھ گئے اور ساری امیدوں پر پانی پھر گیا کیونکہ انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہاں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ان کے ساتھ عصبیت کا رویہ اپنایا جانے لگا ہے اور آزادی کے بعد سے عملاً اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھ لئے جانے کے بعد اس چینل کے ساتھ بھی عصبیت کا رویہ اپنایا جانے لگا ہے اور اس کے حقوق پر بھی شب خوں مارے جا رہے ہیں ۔شاید یہی وہ بنیاد ی سبب ہے کہ جس طرح دوسری زبانوں کے چینلوں میںبڑی ترقی ہوئی اور نئے نئے پروگرام پیش کر کے عوام کا دل جیتاگیا، اردو چینل میںیہ خصلتیںنہیں پائی گئیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جس پر اُردودنیافخرکرسکے بلکہ یہ ادارہ صرف ایک نمائش بن کر رہ گیا ۔

اس پر اردو داں طبقہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینل کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی حالانکہ اخبارات میں بار بار یہ بات دہرائی گئی کہ کافی پہلے یعنی دو دو ،تین تین سال ل قبل جو گھٹیا پروگرام محض پچاس ہزار فی ایپی سوڈ کے حساب سے لئے گئے تھے انھیں بار بار دہرایا جا رہا ہے ۔ان پروگراموں کی کوالٹی انتہائی خراب ہے باوجود اس کے چینل کا مکمل انحصار انھیں پروگراموں پر ہے ۔ابھی کچھ ہی دنوں قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ چینل کو جو رقم پروگرام بنانے کےلئے فراہم کی گئی تھی اسے استعمال کرنے سے چینل کے ذمہ داران قاصر رہے اور تقریبا62کروڑ روپئے چینل کو پروگرام بنانے کے لئے دئے گئے تھے مگر یہ رقم خرچ نہیں کی گئی اور مالی سال ختم ہوتے ہی اب یہ مر کزی سرکار کو لوٹا دی گئی ۔ابھی اس پربحثچل ہی رہا تھا کہ ایک دوسریخبر نے محبان اردو کو بے چین کر دیا اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ملک بھر کے 80 دوردرشن مراکز میںڈی ڈی اردو کےلئے ملازمین کی تقرری اب تک کیوں نہیں کی گئی؟یہ خبر ایک موقر میڈیا تنظیم کے سروے کے بعد منظر عام پر آئی جسے ملک بھر میں دہلی، لکھنو، حیدرآباد، کولکاتہ، پٹنہ اور احمد آباد کے علاوہ دوردرشن کے 80 مراکز سے اردو چینل کےلئے مقرر ملازمین کے سلسلے میںحق معلومات قانون کے تحت فراہم کئے گئے جوابات کی بنیاد پر تحقیقی جرنل میڈیا (ہندی) اورماس میڈیا (انگریزی) نے عام کیا۔ میڈیا تحقیق سے وابستہ اس اسٹڈی گروپ نے ڈی ڈی اردو کے مقاصد اور اس کے تناسب میں انسانی وسائل پر اپنے اس سروے میں پایا کہ خاص لسانی ناظرین کےلئے شروع کئے گئے اس چینل کے لیے ملازمین کی کوئی مستقل تقرری نہیں کی گئی ہے ۔

آر ٹی آئی سے ملی اطلاعات کے مطابق 80 دوردرشن مرکز، جہاں سے ڈی ڈی اردوکے پروگرام کی نشریات کا عمل انجام پاتا ہے، وہاں پر اس کےلئے نہ تو کوئی عہدہ تشکیل دیا گیا ہے، نہ ہی ملازمین کی تقرری کی گئی ہے۔ ان مراکز پر دوردرشن کےلئے کام کرنے والے ملازمین ہی ڈی ڈی اردوکا بھی کام کرتے ہیں۔ان مراکز پر اردو چینل کےلئے پروگرام بنانے کا بندوبست نہیں ہے۔دہلی میں دوردرشن عمارت میں ڈی ڈی اردو کےلئے 6 مستقل افسر مقرر ہیں۔ ان عہدوں میں ایک نائب ڈائریکٹر جنرل، ایک سیکشن افسر، ایک پروگرام پروڈیوسر، ایک پروڈیوسر، ایک ایڈیٹر اور ایک اے ڈی جی ہیں۔تنظیم کی معلومات کے مطابق اس کے علاوہ دوردرشن عمارت کے ڈی ڈی اردو سیکشن میں 18 ملازمین تعینات ہیں، جو کہ تمام عارضی ہیں علاقائی نشریات مراکز میںتقرریاں عارضی اور ہنگامی ہے۔ اس کے علاوہ دوردرشن کے دہلی مرکز میں اردو چینل کےلئے صرف 6 مستقل ملازمین ہیں، ان میں بھی چار عہدے انتظامی ہیںہے جبکہ دوردرشن کے لکھنو ¿ مرکز میں ڈی ڈی اردو کے پروگرام بنانے والے پینل میں 11، حیدرآباد میں 29، کولکاتہ میں 21 اور پٹنہ میں 6 ملازمین ہیں۔ یہ تمام عارضی یاکیزول بنیاد پر کام کرتے ہیں۔احمد آباد میں اردو کا ایک پروگرام انجمن نشر ہوتا ہے، جو دوردرشن مرکز کے ایک ملازم ایشو دیسائی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان تمام مراکز میں اردو چینل کے فروغ کےلئے نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ ایچ آر کے نام پر کوئی سہولت جس کی بناءپر عام ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

میڈیا اسٹڈی گروپ سے وابستہ ذمہ دارن نے اخباروں کے نام جاری کردہ بیان میں یہاں تک کہا ہے کہ زیادہ تر مراکز میں غیر تشفی بخش کام ہو رہا ہے ۔آر ٹی آئی رپورٹ کے انکشاف کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا گروپ نے اردو چینل کے ساتھ جانبداری پر کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔میڈیا گروپ کے مطابق اردو چینل کے جو مقاصد تھے ان میں رنگ بھرنے کی نہ کوشش کی گئی اور نہ ہی کوئی اقدام جو اردو چینل کے مقاصد تھے ۔میڈیا گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ نشریاتی چینل کے فروغ کے لئے کئی نئی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یہاں پائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ایک چینل کے طور پر ڈی ڈی اردو نے 14 نومبر 2007 سے 24 گھنٹے کی نشریات کی شروعات کی مگر اس میں وہ بری طرح ناکام رہا اورجس کا مقصد اپنے ناظرین کو وراثت، ثقافت، معلومات، تعلیم اور سماجی مسائل پر پروگرام مہیا کرانا تھا ،بالکل فوت ہو کر رہ گیا ۔ چینل کے قیام کے وقت یہ دعوی کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ اردو زبان کو پھر سے مقبول بنانے میں مدد ملے گی،لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ چینل ابھی تک پروگرام تعمیر کےلئے اپنا ڈھانچہ تیار نہیں کر سکا ہے۔ ملازمین کی تقرری نہیں کئے جانے کی وجہ سے اس چینل کو پروگراموں کی تعمیر کےلئے بیرونی ایجنسیوں پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ ڈی ڈی اردو سے نشر ہونے والی خبریں بھی دوردرشن سے ہی لی جاتی ہیں،اردو کے پروگرام کےلئے کسی پالیسی کا نہیں ہونا اصل میں ایک ٹھوس مواصلاتی پالیسی کی کمی سے منسلک ہے۔چوبیس گھنٹے کا یہ چینل ٹھوس پالیسی کے فقدان کی وجہ سے اپنے مقاصد کو حاصلنہیں کر پا رہا ہے۔میڈیا اسٹڈیز گروپ پہلے بھی میڈیا سے متعلق مسائل پر تحقیق اور سروے کرتا رہا ہے۔اس پر اگر اردو والے آواز اٹھاتے اور اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں بنیاد پرست اور نا جانے کیا کیا کہا جاتا ہے لیکن چینل کے تعلق سے یہ باتیں ہم نہیں بلکہ میڈیا کے ایک ایسے گروپ نے کہی ہے جو سبھوں کے درمیان ہمیشہ سے موقر اور معتبر تسلیم کی جاتی رہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ابھی تک حکومت کے اعلی ذمہ داران کی جانب سے کوئی امید افزا بیان تک نہیں آیا ہے ۔افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ڈی ڈی اردو کے اس حشر پر نہ تو کوئی لیڈر پارلیمنٹ میں آواز اٹھا رہا ہے اور نہ ہی کوئی اردو کا خیر خواہ ادھر توجہ دینے کو تیار ہے ۔ہمیشہ اردو کا دم بھرنے اور اپنی تقریروں و بیان بازیوں میں اردو کے حقو ق کی بات کرنے والے بھی خاموش ہیں ۔
    Md.Alamullah
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

گاوں میں کیوں نہیں جانا چاہتے ڈاکٹر؟


گاوں میں کیوں نہیں جانا چاہتے ڈاکٹر؟
 
محمد علم ا للہ اصلاحی


ملک میں برسوں سے یہ شکایت رہی ہے کہ تربیت یافتہ ڈاکٹر گاؤں میں اپنے فرائض انجام دینانہیں چاہتے، جس کے نتیجے میں دیہی ہندوستان پوری طرح نیم حکیموں کے شکنجہ میںجکڑا ہوا ہے۔ اپنے یہاں اوسطا 1،700 کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہے۔ابھی حال ہی میں منصوبہ بندی کمیشن رپورٹ نے بھی کہا تھا کہ ملک میں چھ لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ یہاں ہر سال نئے ڈاکٹر پیدا تو ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی اعلی تعلیم کے نام پر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، جو پھر لوٹتے ہی نہیں،تو کچھ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے شہر ی چمک کے آگے سپر ڈال دیتے اور گاؤں میں اپنی خدمات دینے سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس پر قابو پانے کےلئے حالانکہ حکومت کی جانب سے مسلسل اقدامات کئے جاتے رہے ہیں،مگربدقسمتی یہ ہے کہ اس کے خوشگوار نتائج ہنوز مرتب نہیں ہوسکے ہیں۔ماضی میںڈاکٹروںکو خدمت خلق کااحساس دلاتے ہوئے ملک کی مقتدر شخصیات مثلاً بابائے میزائیل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور صدر جمہوریہ پرتبھا پاٹل وغیرہ نے بھی اپیل کی تھی کہ ڈاکٹر دیہاتوں کی جانب بھی توجہ دیں لیکن اس کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ ہاتھ نہیں آ سکا ۔اس سلسلہ میںیوپی اے سے قبل این ڈی اے کے زمانہ میں بھی بعض کوششیںہوئیں، مگر ڈاکٹروں کا رجحان گاؤں کی طرف نہیں بڑھ پایا ۔ابھی حال ہی میں اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر غلام نبی آزاد نے کہاکہ ڈاکٹروں نے گاؤں نہیں جانے کی ٹھان لی ہے۔ ڈاکٹر اس کےلئے آگے نہیں آ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اب ہم ایسی پالیسی لا رہے ہیں جس سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹروں کیلئے ایک سال گاؤں میں خدمت دینا لازمی ہوگا۔صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر غلام نبی آزاد نے کہاکہ گاؤں میں ڈاکٹروں کی موجودگی بڑھانے کےلئے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹروں کو ایک سال تک گاؤں میں ہی پریکٹس کرنا لازمی کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں ڈاکٹروں کو بھیجنے کے مسئلے کا سامنا سابقہ وزراءکےلئے بھی چیلنج کن رہا تھا،اسی لئے اب حکومت دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی خدمات کو لازمی بنانے کیلئے قانونی تیاری کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے تحت ہر ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو ایک سال تک گاؤں میں رہ کر ہی اپنی پریکٹس کرنی ہوگی اور جلد ہی اسے قانونی طور پر لازم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قانونی دفعات میںترمیم کے بعد دیہی علاقوں میں نہ صرف ڈاکٹروں کی موجودگی بڑھے گی بلکہ دیہی باشندوں کو بہتر صحت کی سہولت بھی دستیاب ہو سکے گی۔اگر ایسا ہوتاہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ گاوں کے اس ملک جس کے بارے میں گاندھی جی نے کہا تھا ” ملک کی ترقی گاؤں سے منحصر ہے گاؤں ہی ترقی ترقی کی اولین دہلیز ہے“ انھوں نے اپنے سوراج کے پیغام کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا اس کا مقصدہے کہ ہر گاؤں ایک مکمل جمہوریہ ہو، اپنی ضروری اشیاء کے لئے وہ کسی کا محتاج نہ رہے اس کے پاس خوراک، کپاس، کھیل کود، تفریح، تعلیم، صحت کی مکمل انتطام ہو“میں تبدیلی آئے گی اور حقیقی معنوں میں گاؤں خود کفالتی اور خودترقیاتی بن سکے گا۔اورتب ہی طاقتورہندوستان کا خواب پورا ہو سکے گا۔لیکن اسے کیا کہیں کہ اس سلسلہ میںحکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود ڈاکٹروں کا رجحان دیہی علاقوں کی طرف نہیں بڑھا ہے، حالت یہ ہے کہ موجودہ وقت میں زیادہ تر ڈاکٹر شہروں میں ہی رہ کر خدمات دینا چاہتے ہیں،ڈاکٹروں کے اسی رویے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں طبی خدمات کی حالت خراب ہے۔حالانکہ اس بابت اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس پر قابو پانے کے لئے حکومت نے سال 2009-10 قانون میں حکومت نے تبدیلی بھی کی ہے اور کہاہے کہ تین سال تک دیہی علاقوں میں خدمات دینے والے ڈاکٹروں کو ایم ڈی ڈپلومہ میں پچاس فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔ساتھ ہی نئے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے دیہی علاقوں میں ایک سال سروس دینے پر ایم ڈی میں دس فیصد، دو سال دینے پر بیس فیصد اور تین سال دینے والوں کو تیس فیصد اضافی نمبر دیے جائیں گے۔سرکار کے اس فیصلہ کو خوش آئند قدم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اس سے ضرور تبدیلی آئے گی یہ الگ بات ہے کہ گاؤں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں یہ قدم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومت کو اس سلسلہ میں استقامت سے کام لینا ہوگا کیونکہ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ آج گاؤں میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی ہے، اس کےلئے کہیں نہ کہیں حکومت کی پالیسیاں بھی ذمہ دار رہی ہےں۔ سرکاری ڈاکٹر گاؤں میں خدمات فراہم کرنے کے بجائے شہروں میں ہی کام کرنازیادہ پسند کرتے ہیںحکومت ڈاکٹروں کو گاؤں میں بھیجنے کےلئے کئی بار سخت قوانین کا بھی سہارا لیتی ہے لیکن اس وقت وہ گاؤں جانے کے بجائے کام چھوڑنا ہی بہتر سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو ان کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج ملک کے تقریبا دو لاکھ سے زیادہ شفا خانوں میں ڈاکٹر ندارد ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا پسندیدہ مقام شہر ہے،ایسے میں دیہی علاقوں میں طبی خدمات کی بدحالی فطری ہے۔یہاں ابھی بھی ملک کی 73 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔اور اس بابت دستیاب صحت کی سہولیات کو اگرجائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ شہروں کے مقابلے 15فیصدبھی نہیں ہے۔مرکزی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 2083 افراد پر ایک ڈاکٹر اور فی 6 ہزار لوگوں پر ایک معاون نرس دستیاب ہونا چاہئے۔ لیکن کیا ایسا ہے نہیں ہر گز نہیں !کہنے کوتو ملک میں ڈاکٹر اور آبادی کا تناسب عالمی ادارہ صحت کی سفارش کے مطابق ہے۔لیکن باوجود اس کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی ہے۔ شہروں میں جہاں 662 کی آبادی کے بر عکس1 ڈاکٹر ہے، تو وہیں دیہی علاقوں میں 8333 کی آبادی کے تناسب سے 1 ڈاکٹر ہے۔ اس مثال سے خودبہ خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں اور آبادی کے تناسب میں کتنا بھاری فرق ہے۔ ملک میںفی الوقت آٹھ لاکھ 56 ہزار 65 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں، ان میں سے زیادہ تر کی خدمات شہروں کی محض 20 سے 30فیصد آبادی کو مل رہی ہے۔ وہیں دیہی علاقوں کے 70فیصد سے زیادہ لوگوںکی رسائی کسی قابل ڈاکٹر تک نہیں ہو پاتی۔ ظاہر ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی اس وجہ سے نہیں ہے کہ ڈاکٹر نہیں ہیں؟ بلکہ یہ ڈاکٹر گاؤں میں جانا پسند نہیں کرتے۔انھیں گاؤں کے بہ نسبت شہر میں کام کرنازیادہ اچھا لگتا ہے۔ایسے میں اب دیر سے ہی سہی وزارت صحت اس سمت میں موثر قدم اٹھانے جا رہا ہے،تو یہ امید بہر حال رکھنی چاہئے کہ اس کے مثبت نتائج بر آمد ہونگے ،جاتے جاتے یہ بات بھی یاد لاتے چلیں کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ طبی خدمات فراہم کرنے کےلئے یو پی اے حکومت نے اپنے گزشتہ دور اقتدار کے دوران قومی دیہی صحت مشن کی شروعات کی تھی۔ اس منصوبہ کا مقصد ملک کے دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں غریب خاندانوں تک قابل اعتماد اور سستی طبی سہولیات مہیا کرانا تھا۔ منصوبہ کا بجٹ کروڑوں روپے ہے لیکن ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے یہ حوصلہ افزا منصوبہ بھی پروان نہیں چڑھ پایا۔ آج بھی ملک میں زیادہ تر بنیادی صحت مرکز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بغیر ڈاکٹروں کے چل رہے ہیں، حکومت کو اس مشن کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے ۔ابھی حال ہی میں وزارت کی ہدایت پر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی طرف سے ملک کے تقریبا تمام اضلاع میں میڈیکل ا سکول کھولنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے ۔جس کےلئے دیہی ڈاکٹروں کے بےچلر آف رورل صحت کی دیکھ بھال کا نصاب بھی مقرر کر لیا گیا ہے ۔جس سے دیہاتیوں کی بیماریوں کا موثر علاج کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور اس جیسے دوسرے منصوبے کو فورا عملی جامہ پہنانا چاہئے دیگر معاملات کی طر ح اس جانب سست روی کسی بھی طرح سے بہتر عمل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونہ صحیح معنوں میں اگرایسے منصوبے پروان چڑھتے ہےں تو ملک کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔یہ یا اس جیسے اور بھی کئی منصوبے جس کا ہم نے ذکر کیا اگر کامیاب ہو جاتے ہیں توایک دو نہیںتقریبا چھ لاکھ سے زیادہ گاؤں کو صحت سے متعلق بنیادی سہولیات ملنی شروع ہو جائے گی،کیونکہ آج کی تاریخ میں گاؤں کی 95فیصد عوام صحت کی سہولیات کےلئے جھولاچھاپ ڈاکٹروں پر منحصر ہے۔جنھیں طبی علم بالکل نہیںہوتامگر حکومت کی جانب سے کوئی سبق آموز کاروائی نہ کئے جانے اور عام آدمی کی طرف سے بھی ان کی موجودگی کی مخالفت نہ کرنے کے سبب معاملہ نازک ہوتا جا رہا ہے اور اس کا مہلک اثر مستقل مریضوںکے اوپر پڑ رہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بڑی تعداد میں بیماریوں کی نہ تو تشخیص ہوپا رہی ہے اور نہ ہی کوئی حل بلکہ الٹامریضوں کو ہی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑرہا ہے ۔مجموعی طور پر آج ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پاٹنا ہے،اس سلسلہ میں بھارتی طبی کونسل نے دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کےلئے، الگ سے ڈگری اور 3 سال تک دیہی علاقے میں خدمات دینے والے طلبہ کےلئے پوسٹ گریجویٹ میں داخلہ کےلئے 25 فیصد سیٹیں محفوظ کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا ہے۔ اس منصوبہ پر صحت و خاندانی بہبود کی وزارت، دو دور کی بات کر چکا ہے اور فیصلہ آخری دور میں ہے۔حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے گاؤں کے غریبوں کا جھولاچھاپ ڈاکٹروں پر انحصار ان کی مجبوری ہے،اگر اس کی اصلاح کے لئے فورا اقدامات نہ کئے گئے تو محض خوبصورت اور اچھے قانون بنا لینے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ ہمارے ملک کی خرابی یہی ہے کہ یہاں قانون اور کمیشن تو بہت بنتے ہیں لیکن جب اس کو عملی جامہ پہنانے کی بات آتی ہے تو پتہ نہیں کیوں ’ٹائیں ٹائیں فش ‘والا معاملہ ہو جاتا ہے ،اور ساری امیدیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔


۔۔۔مزید

برما کے بے خانماں مسلمان



برما کے بے خانماں مسلمان



محمد علم اللہ اصلاحی
  

دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کو بدترین مظالم کا شکار بنایا جاتارہا ہے،یہ ایک کڑوی حقیقت ہے۔مسلمانوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ فلسطین‘ افغانستان اورعراق وغیرہ ممالک میںدراز ہوتا رہاہے، جہاں نہتے اور لاچار مسلمانوںپر ڈھائے جانے والے مظالم پر غیرجانبدار‘ باضمیر اور انصاف پسند حلقوںکی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںاور انسانیت سوز سلوک کے خلاف آوازیںبھی بلند کی جاتی رہی ہے، لیکن دنیا میں متعدد ممالک ایسے بھی ہیں جہاں مسلمان ناقابلِ بیان مسائل و مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے حق میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ ”وہ مردہ بہ دست ِزندہ“ کے مصداق اذیتیں سہنے پر مجبور ہیں۔مزید یہ تصویر اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب برما کے مہاجرین سے دہلی میں ملنے اور ان کی حالت زار کو جاننے کا ایک موقع ملا۔ جہاں پناہ گزیںکی حیثیت سے 150سے زائد بچے بیمار ہیں اور انھیں فوری علاج کی ضرورت ہے، اگر انھیں طبی و غذائی سہولیات مہیا نہ کی گئیں تو ان کی بڑی تعدا د اپنی جان بھی گنوا سکتے ہیں ۔جہاں کے بدنصیب مسلمانوں کو سفاک فوجی حکومت کے رحم و کرم پر 623 خاندان کے 1200 افراد پر مشتمل افراد انتہائی نا گفتہ بہ حالت میں زندگی گذار رہے ہےں،400 عورتیں اور300 بچوں پر مشتمل ان افراد کے پاس ہے نہ تو انھیں پانی، کھانا، انسانی ضروریات اور طبی سہولیات حاصل ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ایک عام انسان کا معاملہ کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ میںبھی ان کے بارے میں نہ کوئی خبر دی جارہی ہے نہ رپورٹ۔

حالانکہ یہ بات مخفی نہیں ہے کہ برما کے مسلمانوں کی اپنی تاریخی حقیقت رہی ہے۔ یہاں مسلمان نویں صدی عیسوی میں اس وقت آئے تھے ،جب اسلام پوری آب و تاب کے ساتھ عرب،فارس،یورپ اور چین میں اپنی لازول کرنیں بکھیر رہا تھا،اسی وقت برما میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے محمد حنفیہ کے ذریعہ اس آفاقی مذہب کی آمد ہوئی اور یہاں کے عوام اخوت ،محبت اور انسانیت سے لبریز دین اسلام سے متعارف ہوئے تھے ۔فی الحال برما کے مسلمانوں کی آبادی جو کہ عربی،فارسی ،ترکی،ہندوستانی ،چینی ملایائی نسل پر مشتمل ہے کیچن،کایا،کاین اور چین وغیرہ میں آباد ہیں، وہاں کے اصل باشندوں کی طرح برمی مسلمانوں کے نام سے آباد ہیں ۔برمی مسلمانوں کا مطلب وہ تمام مسلمان ہیں جو برما میں وہاں کے قانون،دفعہ ،ذات اور مذہب کے اعتبار سے وہاں کے اصل الاصول باشندے ہیں ۔وہاں کے مسلم قائدین کے بقول ایک اندازے کے مطابق 2006 میں وہاں کی آبادی 30فیصد سے بھی زائد تھی (تفصیل کے لئے دیکھئے :یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ 2006انٹرنیشنل رلیجنس فریڈم رپورٹ )برما کے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 8 لاکھ ہے جو شہریت کے حق سے بھی محروم کردیے گئے ہیں اور انہیں گندی پسماندہ بستیوں تک محدود کردیا گیا ہے جن میں وہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کررہے ہیں۔ بہتر زندگی اور روزگار کی تلاش میں جان پر کھیل کر کشتیوں کے ذریعے راہِ فرار اختیار کرنے والے اکثر افراد سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوجاتے ہیں‘ جب کہ باقی ماندہ لوگ تھائی لینڈ بحریہ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور غیر قانونی نقل مکانی کی پاداش میں جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں یا انہیں کھلے سمندر میں واپس ڈھکیل دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کے اردو اخبارات میں جو رپورٹیں آ رہی ہیں ان سے رونگٹے کھڑے کردینے والے حالات کا پتا چلتا ہے جن سے روہنگیا مسلمان دوچار ہیں۔ حالانکہ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہاں کے مسلمان شروع سے ہی امن پسند،روادار اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے آئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ برما کا جب قیام عمل میں آیا تو وہاں کی انتظامیہ میں بڑے افسران کے طور پر مسلمانوں کی تقرری ہوئی جسے انھوں نے بطرز احسن نبھایا۔ یہاں پر بتا دیں کہ برما ایک بدھ مذہب کے ماننے والوں کا اکثریتی ملک ہے لیکن اس کے باوجود جب یہ ایک نئے اسٹیٹ کے طور پردنیا کے نقشہ پر ابھرا تو یہاں کے اقلیتوں کو اس بات کی مکمل آزادی دی گئی کہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق مذہب کو قبول کریں اوراس کے مطابق زندگی گزاریں، آئین کے مطابق بغیر کسی خوف اور ڈر کے اپنے عقیدے اور ثقافت کو فروغ دیں ۔لیکن صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو فی زمانہ معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔خاص کر 1962میں جنرل نی کے اقتدار میں آنے کے بعدجان بوجھ کر بلکہ منظم طریقہ سے مسلمانوں کو اعلی عہدوں سے معزول کیا گیا اور سینکڑوں ہزاروں مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ برما چھوڑ دیں ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے مسلمان بے یار و مددگار تیسرے درجہ کے شہری بن کر رہ گئے ، اس سفاکانہ حکومت کے ذریعہ مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی ،مسلم اسکولوںپر پابندیاں عاید کی گئیںاور مذہبی عمارتوںکی تعمیرپر روک لگا دی گئی۔حد تو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید اور دیگر اسلامی لٹریچر کی نشر و اشاعت پر بھی قدغن لگا دیا گیا۔ یہاں مسلمانوں کو گوشت، انڈہ، مچھلی وغیرہ کھانے تک پر پابندی ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد پر پڑے بے گھر 4 لاکھ مسلمان شادیاں تک نہیں کر سکتے۔جون 2005میں منتظمین نے ٹان شپ اورشیوپیتھااور رنگون ڈیویژن جیسے علاقوں سے آٹھ مسلمانوں بشمول امام مسجد کو اس بات پر گرفتار کر لیا تھا کہ انھوں نے اپنے گھر میں نماز پڑھائی تھی ۔

یہاں کی حکومت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کی معیشت و سیاست کو تباہ کرنے کےلئے ہر وہ ہتھکنڈے اپنائے جو ممکن ہو سکتے تھے۔ اس کےلئے انھوں نے وہاں کے مقامی لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے اور ان کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کےلئے یہ افواہ اڑائی کہ بدھ کے مجسمہ میں مسلمانوں نے عورتوں کے ناپاک کپڑے رکھے ،مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور بڑے پیمانہ پر اس بات کی جھوٹی تشہیر کی گئی کہ ہر جمعہ کو بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلام قبول کرایا جاتا ہے ۔اور یہ بھی کہ اگر ایک مسلمان لڑکا کسی بدھ لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے مساجد سے تعاون دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اگر لڑکی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو اسی اعتبار سے امداد میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔مسلمانوں کو پیدائشی سرٹیفیکٹ دینے میں بھی عصبیت کا رویہ اپنایا گیا بلکہ ستوے اور رکھائن جیسی ریاستوں میں تو 2005میں زبانی طور پر یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ مسلم بچوں کو پیدائش کا سرٹیفیکٹ اجراءہی نہ کیا جائے ۔اس بابت رنگون کے مسلمانوںکو احتجاج کے بعد سرٹیفیکٹ دیا گیا لیکن وہاں کی مقامی حکومت نے اس بات کی اجازت تب بھی نہ دی کہ مسلم بچوں کا نام ہاس ہولڈ رجسٹر پر درج کیا جائے ۔وہاں کے مسلمانوں کو نیشنل رجسٹریشن کارڈ بھی جاری نہیں کئے جاتے اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ بدھ مذہب کو قبول کر لے ۔

ابھی حال ہی میں یہاں کی حکومت نے ان مسلمانوں کےلئے ایک الگ قسم کاشناختی کارڈ جو انھیں یہاں کے دیگر شہریوں سے ممیز کرتا ہے ،جاری کیا ہے۔ان سب کے علاوہ عام کام کی جگہوں اور فوج میں بھی مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا رویہ اپنایا جاتا ہے ۔مسلمانوں کو فوج میں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی اس وقت تک کہ وہ اپنے مذہب کو تبدیل کر لے ۔ملازمت کےلئے بھی آفیسرز کو کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب تبدیل کرے مع اپنی بیوی بچوں کے تبھی اسے ملازمت کا اہل قرار دیا جائے گا ۔ اسکولوں میں بھی اس قسم کا رویہ کم نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جنرل ون کے سوشلسٹ پروگرام پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مانگ جب وزیر تعلیم بن کر آئے تو اپنے عہدہ کی بر قراری کےلئے اپنے من کی خوب بھڑاس نکالی۔ اس کےلئے انھوں نے تمام پبلک اسکولوں میں بدھ مذہب کے مخصوص ترانہ اور ان کے مذہبی دعاں کو ہر طالبعلم کےلئے پڑھنا لازمی قرار دے دیا ۔اس سلسلہ میں چند طلباءنے جب اعتراض جتایا تو انتظامیہ نے مئی 2005میں وہاں کے طلباءکو اس بات پر زبردستی مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسے پڑھیں ورنہ انھیں اسکول سے نکال دیا جائے گا ۔مسلمانوں کے پرائیوٹ اسکولوں پر بھی پابندی عاید کی گئی اور ان کے اوپر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ان اسکولوں میں مذہب تبدیل کرانے کاکام کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں وہاں کی حکومت نے کئی مسلم رہنما کو گرفتار بھی کیا۔ خاص کر جنوبی ٹاونشپ علاقہ میں جو مسلم بچوں کو اپنے گھروں میں قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔

برما کے مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی ہر اس تحریک کو ہوا دی گئی جو انھیں بے دست و پا کرنے کے لئے کام کرتے تھے ۔یہاں کی حکومت نے برما کے مسلمانوں کو تقسیم اور حکمرانی کی پالیسی کے تحت ہدف کا نشانہ بنایا ۔اس بابت مسلم مخالف سرگرمیوں میں 2000کے بعد زیادہ اضافہ ہوا ۔گزشتہ 6 سالوں میں تقریبا ایک ہزار مسلمانوں کے گھروں اور 30سے زائد مساجد کو پانچ مسلسل مذہبی فسادات کے دوران تباہ کیا گیا ۔برما میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی جو آندھی گزشتہ 20 سال سے چل رہی ہے، اس میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسلمانوں پر جو ظلم و جبر برما میں روا رکھا گیا ہے، وہ دنیا کے کسی خطے میں یا تاریخ انسانی میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لیکن ان سب کے باوجود اس حوالے سے کہیں کوئی تذکرہ تک دیکھنے سننے کو نہیں ملتا۔ برمی مسلمانوں کی بدترین صورتحال پر ہر طرف خاموشی بھیانک جرم سے کم نہیں۔ اس سلسلہ میں بین الاقوامی طور پر حقوق انسانی کےلئے کام کرنے والی تنظیموں کا رویہ بھی افسوس ناک ہے ۔کافی شور اور ہنگامہ کے بعد گرچہ ہندوستان کی بعض مسلم تنظیموں نے اس جانب پہل کی ہے لیکن ان کی سست روی بھی کسی مثبت مستقبل کی جانب اشارہ نہیں کرتی ہے ۔ اس سلسلہ میں یو این او کی جانب سے بھی مداخلت کی جانی چاہئے تھی،لیکن بدقسمتی سے ایسی کسی پیش رفت کا کوئی احساس نہیں ہورہا ہے۔


۔۔۔مزید

طلبہ یونین پر پابندی یا نوجوان قیادت کا خاتمہ؟



        طلبہ یونین پر پابندی یا نوجوان قیادت کا خاتمہ؟

محمد علم اللہ اصلاحی 

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس جیسی ملک کی دیگر کئی یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کی بحالی کے مطالبےاورعام آدمی کے اس میں دلچسپی لینے کے عمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج ہمارے ملک میں ہر   کسی کو ایک ایسے لیڈر کی تلاش ہے ، جو عوام کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے حکومت کو بہتر ڈھنگ سے چلا سکے اور جمہوریت کے مقاصد کے حصول کے لئے پختہ عزم ،مضبوط قوت ارادی اور مثبت طرز فکر کاحامل ہو۔عوام کوامید ہے کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں بڑھتی سرمایہ پرستی ، نسل پرستی اور مافیا کی طرح کام کرنے والے عناصر کو چیلنج کرنے میںجمہوریت کے مختلف مکتب فکر اور تعلیمی اداروں سے تربیت یافتہ نیز پڑھے لکھے لوگ ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی زیادہ تر یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کے انتخابات پر پابندی عائدکر دی گئی ہے۔اس بابت اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیںہوگا کہ اس پابندی کے پیچھے طلبا کو ملک کے مسائل سے لا علم رکھنے کی حکمت عملی کام کر رہی ہے۔کیونکہ آج ملک میں بڑے کارپوریٹ گھرانوں اور کثیر ملکی کمپنیوں کا بول بالا ہو گیا ہے اور ہمارے سیاستداں بھی انھیںکے اشاروںپر کام کر رہے اور انھیں کے مفادات میں فیصلے لئے جارہے ہیں،جیسا کہ وکی لیکس،ٹوجی اسپکٹرم،سوئز بینک میں ناجائزپیسوں کا حاصل جمع اورراڈیا ٹیپ جیسے انکشافات نے حقیقت واضح کر دی ہے۔ظاہر ہے ایسے میں جب بے خوف اوربا خبر تعلیم یافتہ رہنما قومی سیاست میں آئیں گے تو وہ سوال پوچھیں گے، تحریک چلائیں گے اور ان کا قلع قمع کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے یقینا بد عنوانوںکے مفاد متاثر ہوں گے اور ان کے کاز کو زک پہونچے گی اور وہ اپنی روش بدلنے پر مجبور ہونگے ۔

 لیکن اسے ہمارے ملک کا المیہ ہی کہا جائے گا کہ یہاں ناخواندہ نوجوان توپارلیمنٹ میں اپنا نمائندہ منتخب کر سکتے ہیں ، لیکن تعلیم یافتہ طلبہ کیمپس میں اپنا نمائندہ نہیں چن سکتے۔ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، لیکن جمہوریت کی پہلی سیڑھی کو ہی ہم منہدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طلبہ یونین جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے ۔اس کے ذریعہ طلباءکی سیاسی تربیت اوران کے اندر قیادت کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ آج ملک کے تقریبا تین سو یونیورسٹیوں اور پندرہ ہزار کالجوں میں سے 80 فیصد یونیورسٹیوں میں طلباءیونین نہیں ہے۔کئی ریاستوں نے طلبہ یونین انتخابات پرکلیتا قدغن لگا رکھی ہے۔جوطلباءکے جمہوری حقوق پر حملہ اور ملکی مفاد کے لئے بھی خطرناک ہے۔ یہ اپنے آپ میں بھی متضاد امر ہے کہ ایک طرف تو آپ 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو عوامی نمائندہ منتخب کرنے کے لئے ووٹ دینے کا حق دیتے ہیں، وہیں دوسری جانب طلبہ یونین الیکشن پر پابندی لگا دی جاتی ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے....؟ کہ ملک کاایک طالب علم پارلیمنٹ اور لوک سبھا کے لئے عوامی نمائندے انتخاب کر سکتا ہے لیکن اپنے کالج میں اپنے لئے نمائندہ نہیں چن سکتا۔اس کی دلیل میں حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اس سے یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑا بن جاتی ہیںاور غنڈہ گردی و منفی رویوں کوفروغ حاصل ہوتاہے،جس سے لاءاینڈ آرڈر کو برقرار رکھ پانا مشکل ہو جاتا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی خامیاں قومی سیاست میں نہیں ہوتیں؟ کیا اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کرسیاں نہیں اچھالی جاتیں ؟شور و ہنگامہ آرائی نہیں ہوتی ؟کیا وہاں ممبران کے درمیان زور آزمائی اور ہاتھا پائی نہیں ہوتی ؟کیا آئے دن ملک میں ہندو مسلم کے نام پر فسادات اور جھوٹی سیاست کی خاطر لا ءاینڈ آرڈر کا معاملہ پیش نہیں آتا تو کیا ایسی صورت میں حکومت ہمیشہ کے لئے انتخابی نظام کو ختم کر دیتی ہے ؟نہیں ایسا نہیں ہوتا تو پھر صرف طلبہ یونین کے انتخابات پر ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ بیماری دور کرنے کے بجائے مریض کو مارنا کہاں تک منصفانہ عمل ہے؟

یہاں بات صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہی نہیں ہے بلکہ حالت یہ ہے کہ ملک کی زیادہ تر ریاستوں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔یہاں تک کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کو نافذکرنے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود زیادہ تر ریاستی حکومتوں اور یونیورسٹی انتظامیہ نے سست روی سے کام لیا ہے اور حقیقتا طلبہ یونین بحال کرنے اور ان کا انتخاب کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا ئی ہے۔طلباءیونین اور طلبائی سیاست کے تئیں یونیورسٹیوںکے وائس چانسلروں کے ایسے رویوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں راہل گاندھی کے میمورنڈم پر فروغ انسانی وسائل کے وزیر کپل سبل کی فوری انتخابات کرانے کی ہدایت کوجامعہ سے لے کر بی ایچ یو تک کے تمام وائس چانسلروں نے انگوٹھا دکھا دیا، لیکن اس کے باوجود اس پر مکمل خاموشی چھائی رہی اور کسی نے اس بابت کوئی اقدام نہ کیا ۔

اس معاملہ میں طلباءکی یہ شکایت بالکل بجا ہے کہ کوئی بھی وائس چانسلر، یونیورسٹی انتظامیہ اور اس سے منسلک اعلی افسران طلبہ یونین نہیں چاہتے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ کوئی یونین نہیں چاہتے ، چاہے وہ ٹیچر یونین ہو ملازم یونین ،نن ایجوکیشن یونین یا پھر طلباءیونین لیکن یونیورسٹی حکام ان سبھی میں سب سے زیادہ طلبہ یونین سے ہی خار کھاتے ہیں۔اس سلسلہ میں یونیورسٹی انتطامیہ کا یہ الزام کہ طلبہ یونین کیمپسوں میںغنڈہ گردی ، لاقانونیت ، توڑ پھوڑ ، ذات برادری ،علاقہ پرستی کا فروغ ہوتا ہے اور طلباءغیرتعلیمی سرگرمیوںپرزیادہ توجہ دینے لگ جاتے ہیں۔ جس سے پڑھائی لکھائی کے ماحول پر اثر پڑتا ہے۔ اوریہ شکایت بھی کہ اس سے کیمپسوں میں سیاسی ماحول بڑھتا ہے۔ اس سے طلباء، اساتذہ اور ملازمین میں کھینچ تان اوررسہ کشی شروع ہوجاتی ہے نا درست نہیںہے اور یہ کہ ان الزامات اور شکایات میں دم نہیں ہے۔ یقینا ان کا فرمایا ہوا مستند ہے اور بہت حد تک سچائی پر مبنی بھی کہ گزشتہ کچھ دہائیوں میں طلباءسیاست سے سماج اور نظام میں تبدیلی کے خوابوں ، امیدوں ، خیالات اور عزائم کے کمزور پڑنے کے ساتھ مجرمانہ ذہنیت ،فرقہ واریت اور اس جیسے دوسرے سماج مخالف رویوںکا رجحان بڑھا ہے اور اس کی وجہ سے طلباءیونین کا بھی زوال ہوا ہے۔ اس سے عام طالب علموں کی طلباءیونین اور سیاست سے نفرت بھی بڑھی ہے۔اور یہ بھی کہ زیادہ تر یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کے خاتمہ کا پیش لفظ خود طلباءنے ہی لکھا ہے اور وہی غیرسماجی عناصر سے ملکر تخریبی افعال انجام دئے ہیں ۔

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ ترکیمپسوں میں انہی وجوہات کی بنا پر عام طالب علم ، استاد اور ملازمین بھی سیاست سے خوف کھانے لگے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹیوں کے اہلکاروں نے اس کا ہی فائدہ اٹھا کر کیمپسوں میں طلباءسیاست کا شیرازہ بکھیرا اوریونینوں کاخاتمہ کیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طلبائی سیاست اوریونین کے اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس میں اعلی اخلاقی اقدار کے دعوے دار سیاستدانوں ، افسران اور یونیورسٹیوں کے عہدے داروں کا کوئی کردار نہیں ہے؟سچ یہ ہے کہ طلبہ سیاست کو بدعنوان ، موقع پرست ، گندی ذہنیت اورغنڈہ گردی کا اکھاڑا بنانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری کانگریس ، بی جے پی اور مین اسٹریم کے دیگر سیاسی جماعتوں کے ذیلی تنظیموں،این ایس یو آئی ، اے بی وی پی،ایس ایف آئی اور اس جیسی دوسری طلباءتنظیموں کا ہے جنھوں نے ایسے عناصرکو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ یہ کھلے سانڈ کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ،جو کبھی رام راج کے نام پر لاٹھی ڈنڈا چلاتے تو کبھی نو نرمان کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بناتے تو کبھی کشمیر و ایودھیا کے نام پر عام افراد کی زندگی اجیرن کرتے ہیں ابھی حال ہی میں معروف وکیل پرشانت بھوشن پر کشمیر کے ایک معاملہ کو لیکر بیان دینے پر جان لیوا حملہ بھی اسی کھلی چھوٹ اور سرپرستی کا نتیجہ ہے ۔یہاں پر میں یہ بھی کہونگا کہ ان طلبہ تنظیموں اور ان کے لیڈروں کو یونیورسٹیوں کے افسران اوروائس چانسلروں نے بھی بدعنوان بنایاہے تاکہ ان کے کالے کرتوتوں پر پردہ پڑا رہے اوران کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں پر طلبہ یونین انگلی نہ اٹھائے۔کئی یونیورسٹیوں کو قریب سے دیکھنے کی بنیاد پر دعوی کے ساتھ کہاجا سکتا ہے کہ طلباءسیاست اوریونینوں کو بدعنوان بنانے میں یونیورسٹیوں کے بدعنوان افسروں کا بہت بڑاکردار رہا ہے تو اس میں وہ سیاستداں بھی پیچھے نہیں ہیں ،جنہوں نے طلبہ یونین عہدیداروں کو”کھلاو ¿ پلاو ، بدعنوان بناو ¿ ، بدنام کرو اور نکال پھےکو“کی حکمت عملی کا شکار بنایاہے۔اس حکمت عملی کے تحت طلبہ یونین عہدیداروں کو افسروں نے ہی پیسے کھلائے ، ان کی غنڈہ گردی کو نظر انداز کیا ، انہیں من مانی کرنے کی چھوٹ دی ، پھر ان سب کے لئے انہیں طلبا کے درمیان بدنام کرنا شروع کیا اور جب یہ لگا کہ یہ لیڈر طلباءولن بن گئے ہیں تو انہیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا۔اس میں وہ اس لئے بھی کامیاب ہوئے کیونکہ طلباءسیاست کے ایجنڈے سے جب اعلی منزل کا ہدف ، مثالی کردار ،اورمستقل جدوجہد غائب ہو گئی تو طلبہ تنظیموں اور طلبہ لیڈروں کو بدعنوان بنانا آسان ہو گیا۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ طلباءیونین کے ختم ہو جانے کے باوجود کیمپسوں میں رام راج آ گیا ہے یا امن اور سلامتی قائم ہو گئی ہے ۔مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ہی لے لیجئے جہاں گزشتہ دس گیارہ سالوں سے یونین کے انتخابات نہیں ہو ئے ہیں۔سچائی یہ ہے کہ یونین کے ختم ہونے کے بعد سے ان یونیورسٹیوں نے نہ تو تعلیمی برتری کا کوئی ریکارڈ بنایا ہے اور نہ ہی وہاں بدعنوانی اور بے ضابطگیاں ختم کی ہیں،بلکہ زیادہ تر یونیورسٹیوں میںطلباءکے جذبات کو اس قدر کچلا گیا ہے کہ وہاں پڑھائی لکھائی کے علاوہ باقی سب کچھ ہو رہا ہے۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت والی ریاست بہار کی کسی بھی یونیورسٹی میں گزشتہ 25 برسوں سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں اس کے کیا نتائج بر آمد ہو رہے ہیں اسے جاننے کے لئے جے این یو ، ڈی یو اوراے ایم یو وغیرہ جوملک کی کئی بہترین یونیورسٹیوں میںشامل ہیں کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں طلبہ یونین ہیں اوریہ وہاں کے تعلیمی ماحول کے لازمی حصے ہیں۔ ان کے ہونے سے ان کیمپسوں میں دانشورانہ بحث اور غورو فکراور صلاح و مشورہ کا ایسا ماحول بنا رہتا ہے جس سے سیاسی اور شعوری طور پر آگاہی اورشہریوں کی نئی نسل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کیمپسوں میںطلباءسیاست اوریونینوں کا ہونا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اسے اسے قانونی طور پرعملی جامہ پہنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

 آخر یونیورسٹیوں اور کالجوں کے منصوبوں میں طالب علموں کی شرکت کیوں ہونا ضروری نہیں ہے؟ ، طلباءکی سیاسی تربیت میں برائی کیا ہے؟ کیا انہیں ملکی سماج کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لینا چاہئے؟تصور کیجئے !سیاست سے عاری نوجوانوں کی جو کل ملک کے شہری ہوں گے ، وہ کیسے جمہوریت چلائیں گے؟ ان نوجوانوں کی سیاست سے بد ظنی کل اگر عام سیاست سے بدظنی میں بدل جائے تو کیا ہوگا ؟ صاف ہے کہ طلباءیونین کی مخالفت ، نہ صرف غیر جمہوری بلکہ تانا شاہی کی وکالت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ صرف اساتذہ اور ملازمین ہی نہیں بلکہ طلبہ کو بھی یونیورسٹی کے پالیسی طئے کرنے والے تمام منصوبوں میں حصہ داری دی جائے۔ اس سے کیمپسوں میں موجودہ بدعنوان نوکر شاہوں کی جگہ صاف شفاف اورہر ایک کی حصہ داری پر مبنی نظام بن سکے گاجیسا کہ ہندوستانی نشاة ثانیہ کے نقیب رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا ،”جہاں دماغ بغیر خوف کے ہو ، جہاں سر اونچا ہو ، جہاں علم آزادہو، اسی آزادی کے جنت میں ، میرے رب !میرا ملک (یا یونیورسٹی) آنکھیں کھولے“۔اس آزادی کے بغیر کیمپسوںمیں صرف پیسہ جھونکنے یا انہیں پولیس چوکی بنانے یا غیر ملکی یونیورسٹیوں کے سپرد کرکے پلہ جھاڑ لینے سے بات بننے والی نہیں ہے


۔۔۔مزید

ضیا اعظی اور اس کا عکس خیال



ضیاء اعظی اور اس کا عکس خیال

 محمد علم اللہ اصلاحی

تصویر: ضیاء اعظمی 
اردو زبان کی تاریخ ا گرچہ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے ،لیکن اس کے باوجوداتنی کم مدت میں اس زبان نے لوگوں کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے وہ دراصل اس کی چاشنی اور لطافت کے سبب ہے اور اس کی اس خوبی کو بر قرار رکھنے میں بڑی حد تک ان تخلیق کاروں کی خدمات کو دخل ہے جو بغیر کسی نام و نمود کے دیار غیر میں بھی رہ کر اس زبان کی آبیاری میں مصروف ہیں،ایسے حالات میں کسی زبان کے بارے میں س خدشہ کا اظہار کرنا کہ یہ زوال پذیر ہے قطعاً درست نہیں ہوگا کیوںکہ اس کے چاہنے والوں نے اس کی تاثیر کوصرف اپنوں ہی تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیروں کو بھی اس سے متاثر کیا ہے ،جبھی تو بر صغیر ہی کی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہ زبان نہ صرف بولی ،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے بلکہ اس کی تہذیبی روایات بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ باقی ہیں اور وہاں بھی رسائل و جرائد کے علاوہ باقاعدہ اردو زبان میں ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ مشاعرے کا بھی رواج زندہ ہے جو کسی بھی زبان کے بقاءکی ضمانت کے لئے کافی ہیں، لیکن اس ماحول میں جہاں لوگ اس سے بہت زیادہ آشنا نہ ہوں اور انھیں خود اپنی زبان کے بقاء کی فکر ہو اپنی حیثیت تسلیم کرا لینا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔

خیالوں میں گم اپنے آفس میں نوجوان شاعر ضیاء اعظمی۔

لیکن بعض لوگوں نے وہاں بھی ا پنی شناخت قائم رکھی ہے اردو ادب و شاعری کے چراغ کوروشن کیا ہے، ان میں ضیا ءالرحمان ضیاء اعظمی بھی ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ،پرورش اور تعلیم بھی یہیں ہوئی، لیکن معاشی مسائل نے انھیں یہاں جگہ نہیں دی اور وہ اسی کی تلاش میں دیار غیر یعنی سعودی عرب پہنچ گئے لیکن تصنیف و تالیف اور شاعری کا ذوق وہاں بھی مدھم نہیں پڑا اور اپنے اس شوق کو وہاں بھی انھوں نے بر قرار رکھا وہ خود کہتے ہیں ”خامہ فرسائی کا شوق تھا اس لئے مدرسہ سے فراغت کے بعد ادارہ تحیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ سے وابستگی اختیار کی لیکن وہاں کے انتظام سے اطمینان نہ پاکر دارالمصنفین اعظم گڑھ کا رخ کیا شبلی منزل کی فضا، رفقا کا انکسار، ناظم ادارہ مولانا ضیا ءالدین اصلاحیؒ کی شفقتوں نے گرویدہ کرلیا، کم تنخواہ کے باجود تقریباً چارسال تک پروف ریڈر کی حیثیت سے وہاں خدمت کی، گو آج مےں وہاں نہیں  ہوں پھر بھی خود کو وہیں تصور کرتاہوں، مجھے وہاں کے در و دیوار تک سے عشق ہے، کیوں  کہ وہ شبلی کا دیار ہے اور مجھے شبلی، ان کے فکر ، ان کی تحریر اور ان کے شعور سے عشق ہے جن کے فےض سے مدرسة الاصلاح کا تعلیمی خاکہ دیگر روایتی  مدارس سے فائق، منفرد اور قوم کے لئے مفید ہے۔ لیکن ان ذمہ داریوں سے کیوں کر دست کش ہواجائے جو گھر کے بڑے پر عائد ہوتی ہیں، چناں چہ تلاش معاش کے لئے دل میں دارالمصنفین سے علاحدگی کا 
غم لے کر نکل پڑا اور آج تک تلاش معاش اور غم فراق ساتھ چل رہے ہیں“۔




.اپنے آبائی وطن دوباواں میں ضیاءاعظمی  
شعر و سخن کا ذوق انھیں ورثہ میں ملا ہے جس کا اعتراف ضیاء خود ان الفاظ میں کرتے ہیں ” شعر وسخن سے لگاﺅ مجھے والدین سے ملا،بچپن مےں اپنے والد کے پاس سوتاتھا، جب تک ان سے کوئی غزل نہ سن لوں مجھے نیند نہیں  آتی تھی، دن کے اوقات میں امی ابوالاثر حفیظ جالندھری کی” شاہنامہ اسلام“ بڑے درد وسوز سے پڑھتی تھےں، مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ جب امی حضور سفرطائف کے واقعات پڑھ رہی تھیں تو زارو قطار رو رہی تھےں،امی کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگا، مجھے بھی احساس تھا کہ یہ رونا کیوں کر ہے، تربیت کے ان ہی مراحل سے گذر کر مذہبی شعور مےں پختگی آئی اور اللہ اور اس کے رسول اکی محبت نے دل میں گھر کر لیا  ساتھ ہی ریاض شعر وسخن کی آبیاری بھی ہوئی، مولانا ابوہارون مجاہداعظمی نے عروض کی درستگی کرائی اور استاذ محترم مولانا انیس احمد اصلاحی نے حوصلہ افزائی اوراصلاح کی، یوں”نکھرتاہے مزاج روزگار آہستہ آہستہ “کے مصداق ذوق پروان چڑھا اور شعر موزوں کرنے کی یک گونہ اہلیت ہو ئی، ویسے بھی قلبی تسکین  اور زندگی سے وابستگی سے اظہارکے لےے ہی شاعری سے شغف ہے، ممکن ہے اس میں کسی کے لئے افادیت کا کچھ مواد بھی ہو جس کی مجھے خبرنہیں، انسانوں کی اس بھیڑ میں قحط الرجال کا 
:رونا کچھ اس طرح ہے

ادائے دل بری سے فصل لہراتی ہے کھیتوں میں 
مگر باد خزاں میں اے خدا تاثیر کتنی ہے
بھری ہیں بالیاں بیجوں سے
لیکن بیج ہلکے ہیں 
گاوں کی سبزہ زاروں کا نظارہ کرتے ضیا اعظمی 
ضیا ءاعظمی نے شاعری کے تقریبا تمام ہی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور حمد و نعت کے ساتھ نظم ،غزل،مرثیہ ،مدح ،قطعہ اور ترانوں کے دفاتر جمع کر دئے ہیں، جس میں انھوں نے زندگی کے حقائق کو خوش اسلوبی سے برتنے کی کوشش کی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ اس میں تنقید اور بحث کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے باوجود ضیاء اپنی نظموں اور ترانوں کے ذریعہ مسلمانوں کوعظمت رفتہ اور نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں ،عام طور پر حمد اور نعت گوئی میں شعراءفرق نہیں کر پاتے اور اچھے اچھے اس میں کہیں نہ کہیں گرفت میں آ ہی جاتے ہیں لیکن ضیاء یہاں بھی اپنے دامن کو 
  : بچا لے جاتے ہیں ،ان کے یہ نعتیہ اشعارملاحظہ ہوں


دعا ئے    خلیل  اور   نوید  مسیحا   ، ذرا  دیکھئے  کیا  اثر  لا ر ہی  ہے
وہ  فاراں کی چوٹی سے رحمت کی بدلی،اٹھی جارہی ہے  بڑھی جارہی ہے
سراپا   محبت   ،   سراپا   عنایت   ،  سراپا  شرافت    ،     سراپا  سخاوت
یہ  بزم  نبوت ہے  ،   شمع رسالت  ،   ہدایت  کے   انوار    پھیلا رہی  ہے
مشام   رگ جاں م عط ر ہیں  میرے ،   سلامت  رہے   گلشن  دین  و ایماں
ضیاء وہ لگن میرے دل میں لگی ہے،تپش جس کی سورج کو گرمارہی ہے

ضیا ء الرحمان ضیا ء اعظمی کی عمر بہت زیادہ نہیں ہے لیکن ان کی شاعری بڑے اور قادر الکلام شعراءکی یاد تازہ کردیتی ہے ،ضیاءکی پیدائش 15 کتوبر 1981 کو اعظم گڈھ کے ایک چھوٹے سے گاوں دوباواں میں ہوئی ،ضیاء اپنی  شاعری کے بارے میں کہتے ہیں

 ضیا اعظمی خوشگوار موڈ میں 
.چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے
کم سنی میں  یہ تن و توش  الٰہی توبہ
کون ہووے گا بڑھاپے میں سہارا  کہئے
چھوڑ  کر جام و سبو، ذکر  بہاراں کیسا
گرکہیں ہے یہ چلن،کیوں اسے زیباکہئے
لوگ کہتے ہےں گہرہائے ندامت جن کو
باعثِ  خو   شنو دی   بارِ   الٰہا    کہئے


:ایک جگہ اور کہتے ہیں

نہ  یہ    داستان   غم   ہے ،  نہ   فسانہ   محبت
نہ  ہے  گیت  بل   بلوں   کا  ، نہ   ترانہ   محبت
ائے خدائے عشق مجھ پر،یو ں تمام کردے نعمت
میرے دل میں بھر دے  سارا،   تو  خزانہ  محبت

شہر اعظم گڈھ کے شبلی منزل ( دارالمصنفین ) میں گذارے ہوئے ایام کو کچھ 
 : اس انداز میں یاد کرتے ہیں


سرزمینِ حجازِ اعظم گڈھ
تیری صبحیں بڑی سہانی ہیں
اےک گھر سےنکڑوں ہیں دروازے
اور سب محوِ دُرفشانی ہےں
جوئے تخئیل ہے رواں یثرب
گویا آئینے پانی پانی ہیں

مدینۃ الرسول میں ضیا اعظمی
ضیاءالرحمان اعظمی نے اپنے دونوں ناموں یثرب اورضےاءکوتخلص کے طور
 پر اپنایا ان کی نانی جان نے ان کا نام ےثرب تجوےز کےاتھااور والد محترم نے ضیاءالرحمن اور الحمدللہ آج وہ اسی ملک میں مقیم ہیں جہاں یثرب (مدینة الرسول ) کی زےارت کا شرف اللہ کے فضل سے جب چاہں ممکن ہے،مذہبی شعور اور مذہب سے والہانہ وابستگی کا اظہار ان کی شاعری مےں بڑے دل کش انداز مےںنظر آتاہے، 
:کہتے ہیں







وہ اک نوشتہ جس کی سرخیاں ہمارے  نام ہیں 
ہمارے  ذمہ جو بھی ہیں وہ اہمیت کے کام ہیں
ہے  گل  بہار  خیمہ  زن  ہما رے  انتظار  میں
رسول اس کے پھر رہے ہیں کوچہ  ودیار میں
ہم ایسی  راہ  پر ہیں دونوں سمت خار زار ہے
لہو   لہو   ہے  جسم  اور  لباس  تار  تار  ہے
ضیاء  یہی  وہ  راہ  ہے، چلے  جو راہ یاب ہو
سفر   کے   اختتام   پر   گلاب   ہی  گلاب   ہو



ضیاءکی شاعری میں حقیقت کی منظر نگاری کچھ اس انداز میں ہوتی ہے کہ
:قاری اسی میں کھوکر رہ جاتا ہے دیکھئے ان کا یہ اچھوتا شعر

چھوٹے جو قفس سے ہم، زنداں میں پڑے جاکر
وسعت  کی   فراوانی  پر  خود  کو  رہا  سمجھے

ضیاء اعظمی کی شاعری کا ایک خوبصورت نمونہ 
اس میں” وسعت کی فراوانی “کی تعبیر کو ضیاء نے جس انداز میں برتا ہے یہ ان  ہی کا حصہ ہے ۔ان یاروں کو جو دوستوں ہی کو زک پہنچاکر خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا جہان کی نعمت پالی اس پر ضیاء کچھ اس انداز سے طنز کرتے ہیں ۔


دل پرلگائے زخم اور اس پر ہنساکرےکوئی
ایسا نصیب سے ملے دل بر خدا کرے کوئی



ضیاء کی شاعری زمینی حقائق سے جڑی ہوتی ہے چوںکہ انھوں نے خود غربت کو قریب سے دیکھا ہے اورغربت ہی کی وجہ سے انھیں وطن عزیز کو چھوڑ کر دور درازکا سفر کرنا پڑا اس لئے وہ ایک غریب انسان پر گزرنے والے احساسات سے اچھی طرح واقف ہیں تبھی تو وہ کہتے ہیں ۔

نہیں  ہنستا  کسی  کی   خستہ حالی  فاقہ  مستی  پر
بہت دیکھی ہیں چھوٹی عمر میںً مجبوریاں میں نے


محبت جسے آج کی ترقی یافتہ دنیا کوڑیوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی یعنی بازار ِجنس میں ان گہر پاروں کی وہ ارزانی ہے کہ خود خریدار بسا اوقات پس و پیش میں پڑ جاتا ہے لیکن ضیاءکہتے ہیں ۔
  
کوئی چھیڑے بھلا کیوںکر ہمیں یاد ِمحبت میں
جبیں خم ہے ہماری  آج پھر  ان کی عقیدت میں
تصور اور ہے ،تصویر  جاناں  اور ہی شے ہے
جدا ہیں مرتبے سب کے ، نگاہ ِذوقِ الفت میں

ضیا اعظمی کی تحریر کا ایک عکس 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضیاء کی شاعری اپنی ندرت اور تخلیقیت کی بنیاد پر نمایاں مقام رکھتی ہے اور انھوں نے اتنی کم عمری میں بھی عمدہ شاعری کی ہے لیکن ان سب کے باوجود بعض جگہ کمیاں اور خامیاں بھی پائی جاتی ہیں ،میں نے اس سلسلہ میں ادب اور شاعری کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جن چیزوں کو شدت سے محسوس کیا ہے وہ ان کے کلام میں عربی و فارسی کے ثقیل اور بھاری بھر کم استعارات و مرکبات کا استعمال ہے ، اس کی وجہ جو بھی رہی ہو لیکن پورے کلام میں فارسی و عربی کی عمیق ترکیبیں اس کثرت سے در آئی ہیں کہ قاری الفاظ کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے جس سے کہنے والے کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اورظاہر ہے ایک تخلیق کار جس کے لئے اپنی تخلیق پیش کرتا ہے وہی اسے نہ سمجھے تو اس بات کا کم ہی امکان رہ جاتا ہے کہ وہ تخلیق عوامی یا پھر لوک ادب کا حصہ بن سکے گی،ہاں اگر صرف ناقدین ادب کے لئے ہی شاعری کی جاتی ہے تو ضیاء کا ایسی ترکیبیں استعمال کرنا کچھ معیوب نہیں، کیوں کہ ترکیبیں جس قدر معنی آفرینی کرتی ہیں سادہ زبان ویسے گل نہیں کھلاسکتی۔

اسی طرح ایک اور چیز جو اکثر جگہوں پرکھٹکتی ہے وہ یہ کہ ضیاءشعری وزن کی ہمواری ، آہنگ و عروض کا خیال رکھنے اور شعر کو وزن میں باندھنے کے لئے بعض غیر ضروری تراکیب اور الفاظ بھی استعمال کر جاتے ہیں،جو فن شاعری میں معیوب ہے،لیکن ان سب کے باوجود ضیا نے بڑی خوبی سے ان اضافی چیزوں کو بھی نبھانے کی کوشش کی ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ضیاءکی شاعری کوزبان وادب کی خدمت کے طور پر قبول فرمائے ۔
(آمین) 


۔۔۔مزید