جمعہ، 31 مئی، 2013

ایڈہاک سسٹم تعلیم دوست یا تعلیم دشمن؟

تعلیم سب کے لئے ،سرو شکشا ابھیان ،چودہ سال تک بچوں کی تعلیم مفت جیسے جملے بظاہر خوشنما اور سننے میں اچھے لگتے ہیں ۔لیکن اس کی حقیقت کا جب علم ہو تا ہے یا سرکار کے جھوٹے دعوﺅں کی قلعی کھلتی ہے توحیرانی بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی کہ ایک ایسے ملک میں جسے نالج معیشت کے طور پر جانا جاتا ہو یا جو سپر پاور بننے کا خواب دیکھتا ہو،اس کے اسکولوں ،وہاں کے اساتذہ اور تعلیم کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں ایک مثبت عمل ہے ،اور حکومت نے اس کے لئے کئی منصوبہ بنائے ،لیکن اس کو عملی جامہ پہنانا بھی ایک اہم کام ہے ۔حکومتیں تعلیم ، تعمیر اور ترقی کے نعرے تو دیتی ہیں اور خاکے بھی بناتی ہیں لیکن جب انھیں حقیقی روپ دینے اور عملی نفاذ کی بات آتی ہے تو معاملہ دگر گوں ہو جاتا ہے ،اور سارے کے سارے ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں ۔

ابھی سپریم کورٹ نے ایک ایسے ہی معاملہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں اسکولوں میں غیر مستقل اساتذہ کی بڑھتی تعداد اور ضرورت کے مطابق با صلاحیت اساتذہ کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے عدالت عالیہ نے مرکزی و ریاستی دونوں حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔اور کہا ہے کہ اس طرح کا رویہ تعلیم دوست نہیں بلکہ تعلیم دشمن ہے،یہ ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔اور ایسی پالیسی تعلیمی نظام کو برباد کر رہی ہے۔اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔عدالت نے عارضی اساتذہ کے عہدے پر نااہل افراد کی تقرری جیسے عمل سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تعلیم کا حق قانون نافذ ہونے کے بعد اس پالیسی کو کس طرح آگے بڑھایا جا سکے گا۔

اس سلسلہ میں ججوں نے ایسے اساتذہ کی قابلیت اور تقرریوں سے متعلق تفصیلات تیار کرنے کی ریاستی حکومت کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 21 -(الف )کے وجود میں ہونے کے بعد آپ کو اس طرح کی پالیسی کو کس طرح تیار کر سکتے ہیںجو تعلیم مددگارنہیںبلکہ تعلیم دشمن ہیں۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عدالت عالیہ کا یہ تبصرہ غلط بھی نہیں ہے پہلے سرو شکشا مہم اور اس کے بعد تعلیم کا حق (آر ٹی ای) قانون کے تحت اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کی تو بات کی گئی لیکن رقم بچانے کے لئے اساتذہ غیر مستقل یعنی ایڈہاک کی بنیاد پر رکھے گئے اور اس طرح پورے ملک میں غیر مستقل ٹیچر وں کی بہتات ہو گئی ۔

یہاں پر یہ بات واضح کر دینے کی ہے کہ عدالت کے جس فیصلہ کا ذکر اوپر کیا گیا وہ گجرات سے متعلق ایک کیس کی بابت تھا ۔جس پر گذشتہ دنوں جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس دیپک مشرا پر مشتمل بینچ فیصلہ میں یہ تبصرہ کیا تھا ۔مگر حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ محض گجرات کی ہی بات نہیں ہے ،بلکہ دیگر ریاستوں کی حالت بھی اس سے بہت بہتر نہیں ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے مختلف ریاستوں میں 5.5لاکھ سے بھی زیادہ غیر مستقل اساتذہ ہیں ،اور ایسا نہیں ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے بعد بھی یہ سلسلہ رک گیا ہو بلکہ یہ تا ہنوز جاری ہے ۔مختلف ریاستوں میں پرائمری اساتذہ کی ایڈہاک تقرریاں کی جا رہی ہیں اور اس کے لیے انہیں باقاعدہ اساتذہ کے مقابلے میں ایک چوتھائی تنخواہ ملتی ہے۔،کئی ریاستوںمیں تو انھیں مستقل کرنے کا مسئلہ سیاسی رخ اختیار کر چکا ہے ۔تعلیم سب کے لئے قانون میں کہا گیا ہے کہ30طلباءپر ایک ٹیچر ہونا چاہئے،استاذ تعلیم یافتہ ہونا چاہئے لیکن یہ مستقل ہوگا یا غیر مستقل اس بابت کچھ نہیں کہا گیا ہے اس لئے  آر ٹی سی کے تحت غیر مستقل ٹیچر رکھنا غیر قانونی نہیں ہے ۔قانون کے تحت جو اساتذہ کام کر رہے ہیں انھیں روزانہ کی مزدوری کی شرح سے بھی رقم نہیں مل رہی ہے لیکن قانون اس پر خا موش ہے ۔

کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد حکومتیں اس جانب توجہ دیں گی ؟یاکتنی جلد تبدیلی لائیں گی کہنا مشکل ہے۔کیونکہ فیصلہ کے فورا بعد دونوں ہی یعنی ریاستی اور  مرکزی حکومتوں کی جانب سے ”ہم ذمہ دار نہیں اس کے“والی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ سرو شکشا ابھیان یا آر ٹی ای کے تحت اساتذہ کی تنخواہ ریاستی حکومتیں  طے کریں ۔مرکزی حکومت سے ملنے والی رقم میں اساتذہ کی تنخواہیں بھی شامل ہیں ۔لیکن اس میں مرکزی و ریاستی حکومت کی حصہ داری والا فارمولہ کام کرتا ہے ۔اسمیں65فیصدخرچ مرکزی حکومت اور 35فیصد ریاستوں کو صرف کرنا ہوتا ہے ۔مرکزی حکو مت کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی حکومتیں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہیں اس فارمولہ کے تحت انھیں بجٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

اگر ریاست غیرمستقل اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہے یا انھیں مستقل کرتی ہے تو انھیں 35فیصد کا خرچ اٹھانا پڑے گا ۔لاکھوں اساتذہ کے حساب سے یہ کافی بڑی رقم ہوتی ہے ۔اس لئے یوپی ،بہار ،مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں غیر مستقل اساتذہ کی تنخواہیں نہیں بڑھا رہی ہیں اور نا ہی ان کا کی تقرری عمل میں آ رہی ہے ۔کونٹریکٹ ایکٹ وغیرہ میں ذکر ہے کہ غیر مستقل استاد یا مزدور رکھنے پر انھیں بازار میں اس پیشے کو معروف تنخواہ کے برابر رقم دی جائے گی ۔اس حساب سے اساتذہ کو قریب 15سے 20ہزار روپئے فی ماہ تنخواہ دی جانی چاہئے ۔اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں نے اس سمت میں پہل کی ہے لیکن کئی ریاستوں میںانھیں 3500سے 5000روپئے ادا کئے جا رہے ہیں ۔

یہاں پر یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ محض اسکولوں کی ہی یہ صورتحال نہیں ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم کی سطح بھی اس سے بہت بہترنہیں ہے ۔روزانہ نئی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور تکنیکی ادارے کھل رہے ہیں۔ لیکن کوالٹی کے معاملے میں وہ دیگر ممالک کے مقابلےمیں بہت پیچھے ہیں۔ اس وقت ملک میں 560 سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ ان میں 44 مرکزی یونیورسٹیاں، 285 ریاستی سطح کی یونیورسٹیاں، 130 ڈیڈ ڈیمڈ یونیورسٹیاں اور 106 پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 26,500 اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں جو امریکہ اور چین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔امریکہ میں 7000 اور چین میں محض 4000 اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں۔ لیکن بنیادی ڈھانچہ اور تعلیمی کوالٹی کے معاملے میں ان کے ادارے ہم سے بہت آگے ہیں۔ ہمارے یہاں نہ توضرورت کے مطابق اساتذہ ہیں اور نہ ہی تجربہ گاہ۔ تجارت اور صنعت کی ضرورتوں کے مطابق نہ تو اساتذہ اَپ ڈیٹ ہیں اور نہ ہی نصاب۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی اعلیٰ تعلیم پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جتنے اساتذہ کی ضرورت ہے اس میں سے نصف اساتذہ سے ہی گزارا کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں چھ لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے لیکن صرف تین لاکھ اساتذہ سے ہی کام چلایا جا رہا ہے۔ یعنی تین لاکھ اساتذہ کی کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ تعلیم کی ضرورتوں کے مطابق آئندہ 10 سال تک ہر سال تقریباً ایک لاکھ نئے اساتذہ چاہئے ہوں گے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی جیسے مقبول اداروں میں اساتذہ کے تقریباً 35 فیصد عہدے خالی پڑے ہیں۔مرکزی یونیورسٹیوں کی بھی حالت تشویشناک ہے جب کہ طلبا کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد تقریباً 1.6 کروڑ ہے جو 2020 تک بڑھ کر چار کروڑ ہو جائے گی۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ لیکن دوسرا رخ یہ ہے کہ اساتذہ بھی تعلیم کی گرتے معیار کے لئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی کہ سرکار۔ وہ نہ تو ریسرچ پر دھیان دیتے ہیں اور نہ ہی تجارتی نصاب کے مطابق خود کو اَپ ڈیٹ رکھتے ہیں۔اسکول سے لے کر کالج تک میں ایڈہاک پر اساتذہ کی تقرری میں پرزور طریقے سے بھائی بھتیجہ واد چل رہاہے جس سے  واقعی قابل اور تعلیم یافتہ اساتذہ کو موقع نہیں مل پارہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال مناسب جگہ پر کر سکیں ۔یہ الگ بات ہے کہ بعض جگہوں پر اس قسم کی رپورٹ بھی سننے کو ملی ہیں کہ مستقل طور پر مقرر اساتذہ خود نہ کلاسیں نہ لیکر دوسروں کو معمولی تنخواہ پر پڑھانے کے لئے بھیج دے رہے ہیں ۔

ایک ایسا ملک جس میں آبادی کا پچاس فیصد حصہ 25 سال کی عمر سے بھی کم ہو ، وہاں تعلیم کی اہمیت اور اسی طرح لائق اور قابل اساتذہ کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔گذشتہ ماہ سائنسی مشاورتی کونسل (SAC - Scientific Advisory Council) نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ترقی یافتہ ممالک کے درجہ کا ایک بھی تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔ اساتذہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کونسل نے اساتذہکے لئے بہترین مشاہروں اور سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت کو بھی اہم قرار دیا۔ہندوستان میں تحتانوی مدارس کی سطح پر بچوں کے داخلے کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سطح پر داخلے کی شرح اب 85 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔ہمیں فوری طور پر متعدد لائق و قابل اساتذہ کی ضرورت لاحق ہے ۔

ہندوستان میں فی الحال ہر تعلیمی سطح پر ماہر اساتذہ کی کافی کمی محسوس ہوتی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو اساتذہ دستیاب ہیں اور تنخواہ داروں کی فہرست میں شامل ہیں وہ مشکل ہی سے اسکولوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ عالمی بنک کے ایک معروف جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں سرکاری تحتانوی اسکول کے 25 فیصد اساتذہ اپنے کام پر حاضر نہیں ہوتے اور صرف 50 فیصد اساتذہ ہی عملاً تدریس میں مصروف رہتے ہیں۔ پرانے اساتذہ ، زیادہ تعلیم یافتہ ٹیچر اور صدر مدرس کی اچھی خاصی تنخواہ ہوا کرتی ہے اور یہی لوگ اکثر اسکولوں سے غائب رہا کرتے ہیں۔باضابطہ ملازم پیشہ اساتذہ کے مقابلے میں ٹھیکے پر کام کرنے والے ٹیچروں کی تنخواہیں بہت کم ہوا کرتی ہیں لیکن ان کی غیر حاضری کی شرح بھی باقاعدہ اساتذہ کی طرح ہوتی ہے۔اساتذہ اور ڈاکٹروں کی غیر حاضریوں کے بارے میں کئی بار بتایا جا چکا ہے کہ یہ خرابیاں ہی کم ترقی اور خواندگی اور حفضان صحت میں بہتری کے اضافے میں راستے کی رکاوٹیں ہیں۔

ان تمام صورت حال کے بعد بھی کیا حکومت اپنے رویہ میں تبدیلی لائے گی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔لیکن یہ بہر حال کہا جا سکتا ہے کہ محض نعرے دینے سے کام بننے والا نہیں ہے بلکہ عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا ۔آنے والے دنوںمیں ہندوستان نالج معیشت بننا چاہتا ہے۔تو کیا یہ ایسے ہی ہوائی وعدوں سے ہوگا یا اس کے لئے کچھ عملی طور پر بھی کرنا ہوگا ۔اس جانب حکومت کو توجہ دینی ہوگی ۔عدالت کا کام تو فیصلہ دینا یا غلط و صحیح کی نشاندہی کرنا ہے اس کا کے نفاذ کی ذمّہ داری بہرحال حکومت اور اداروں کا کی ہے سو عدالت نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اب حکومت بھی اپنا کام کرے اور ہنگامی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر کرے  تب ہی تبدیلی آئے گی ۔

۔۔۔مزید

ہفتہ، 25 مئی، 2013

پاکستان کے الیکشن اور ان کے بین الاقوامی معاملات پر اثرات

آخر کار مملکت خداداد یعنی اپنے پڑوسی ملک پاکستان میں انتخابات ہوگئے اور نتائج بھی تقریبا واضح ہو گئے ہیں۔ ابتدائی رجحانات اور غیر سرکاری ذرائع بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کوتقریباً اکثریت ملنے جا رہی ہے اور اب نواز شریف ہی تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے، چونکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طور پر منتخب کسی حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور اس کے بعد انتخابات بھی تقریبا پرامن طریقے سے نمٹ گئے، اس لئے ان انتخابات کو صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں امید افزا نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایک ملک کے طور پر جہاں فوج نے بار بار جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دیا ہو، دیکھا جائے تو اس طرح کے انتخابات واقعی غیر معمولی ہیں، لیکن اس موقع سے یہ دیکھنا ہے کہ صرف کامیاب انتخابات کا انعقاد اور پارٹی کا تقریبا واضح اکثریت لے کر اقتدار میں آنامحض ہے یا اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان کے بیشتر مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا؟

اس سوال پر بات کرنے سے پہلے میں آپ کو ذرا دیر کے لئے 1997 کے پاکستانی عام انتخابات کی طرف لے جانا چاہوں گا۔اس الیکشن میں نواز شریف کی اسی پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کل 207 میں سے 137 نشستیں جیت لی تھیں، اس وقت ان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، جسے مسلم لیگ (نواز) نے صرف اٹھارہ نشستوں پر سمیٹ دیا تھا۔ اس تاریخی جیت کے بعد نواز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن بعد میں کیا ہوا؟ وہ ہم سب کے سامنے ہے۔

اس موقع پر یہ یاد دلانے کا مقصد یہی ہے کہ صرف انتخابات جیت لینا یا یا بازی مار لینا ہی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ جمہوری نظام اور ریاست کےاجزائے ترکیبی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔
اس وقت پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں، ان کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
اولاً اندرون خانہ پاکستان میں برپا دہشت گردی اور تشدد کو ختم کرنا۔
ثانیاً پاکستان پر خارجہ برتری کو ختم یا کم سے کم محدود کرنا۔
اور ثالثاً پاکستان میں جمہوری اداروں کو استحکام دینا، تاکہ مستقبل میں فوجی ڈکٹیٹر عوام کی گردن پر لاگو نہ ہو۔جہاں تک پہلے مسئلے یعنی پاکستان میں اندرونی تشدد کے خاتمے کا سوال ہے تو اس کی جڑیں دراصل فرقہ وارانہ اختلافات اور کٹر مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر میں اندر تک جمی ہوئی ہیں۔اب پیچیدہ سوال یہ ہے کہ کیا محترم نواز شریف بنیاد پرست مذہبی جماعتوں کو کنٹرول کرنے کی جرأت دکھا سکیں گے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ نواز شریف کی کامیابی دراصل ان کی پنجاب میں حمایت دینا ہے اور اتفاق سے تقریبا تمام عسکریت پسند مذہبی جماعتوں کا بیس کیمپ بھی پنجاب کی ریاست ہی ہے، ایسے میں اپنے حامیوں کی ہی گردن کاٹنا شاید نواز شریف کے لئے آسان ثابت نہ ہو۔
پنجاب میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور پنجابی طالبان جیسی جماعتیں، ساتھ ہی ان جماعتوں کے حامی پنجاب کے باہر پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر ان تینوں میں سے کسی بھی گروپ کے خلاف مسلم لیگ(ن) کی حکومت کچھ کرنے کی کوشش کرے گی تو ہنگامہ ہونا طے ہے۔

دوسرا مسئلہ پاکستان پر خارجہ تسلط ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کی مسلسل بمباری سے سینکڑوں بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے امریکہ کی ان کارروائیوں کو عام پاکستانی سخت ناپسند کرتے ہیں، بلکہ محتاط تجزیہ یہ بھی کہتا ہے کہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جو درگت ہوئی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں امریکہ نے پاکستان میں جب جو چاہاکیا، لیکن پاکستانی حکومت اس کے خلاف چوں کرنے کی ہمت نہیں کرسکی۔ ایسے میں نئی حکومت کو عوام کے جذبات کا احترام بالخصوص مذہبی جماعتوں کی ہمدردی حاصل کرنی ہے تو انھیں امریکی کارروائی کو کنٹرول کرنا ہوگا۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگلا سال افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکا ہے، اس لئے ممکن ہے کہ اس سال کے آخر میں امریکہ اپنےآپریشن کے خاتمہ کے بطور پاکستانی علاقوں میں کارروائی اور تیز کردے، ایسے میں نئے وزیر اعظم کے لئے امتحان کی اصل گھڑی ہوگی کہ وہ امریکہ کی خوشی اور عوام کے جذبات میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں؟

تیسرا اور اہم مسئلہ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کا ہے، چونکہ خود نواز شریف تختہ الٹے جانے کا درد جھیل چکے ہیں، اس لئے وہ اصل میں کبھی نہیں چاہیں گے کہ مستقبل میں تاریخ دہرائی جائے، اس لیے عجب نہیں کہ فوج کے اختیارات کو کم کرنے پر غور کیا جانے لگے، مگر لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ کیا فوج خود اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے وردی اتروانے پر راضی ہو جائے گی؟ ابھی تو ایسا نہیں لگتا۔ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے بارے میں ایک اور اہم قدم آئی۔ایس۔آئی پر لگام ڈالنا بھی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کی ناکامی میں جتنا اہم کردار اس خفیہ ایجنسی نے انجام دیا ہے، اتنا تو پاکستان کے کسی دشمن نے نہیں دیا۔

اس وقت نواز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ(ن) فتح کا جشن منانے میں مصروف ہوں گے، ہمارا ارادہ بھی ان کی تقریب کو بدمزہ اور کرکرا کرنے کا نہیں ہے، لیکن چونکہ جمہوری انتخابات ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور اچھے خوابوں کی تکمیل کرنے کا نام ہے، اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے ارباب سیاست ایک مضبوط حکمت عملی تیار کریں کہ وہ پاکستان میں پیش آمدہ ان تین مسائل سمیت دیگر محاذوں پر کس طرح لڑیں گے۔

ان انتخابات کو سب سے زیادہ پر امید نظر وں سے ہمارا ملک ہندوستان دیکھ رہا ہے۔ اب پاکستان کی نئی حکومت کے پالے میں گیند ہے کہ وہ کس طرح ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار کرتی ہے۔ مجھے ہند و پاک دوستی کو لے کر پاکستان کی نئی حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بہت جلد دونوں ممالک کے رشتوں میں تلخی گھول دے گا، چونکہ اگلا سال افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا ہے اور ایسے میں کونسل جہاد کے سربراہ سید صلاح الدین نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ افغانستان سے نپٹ کر ان کے جنگجو کشمیر جائیں گے۔ ویسے بھی افضل گرو کی پھانسی نے انتہا پسند جماعتوں کو موقع دیا ہے کہ وہ کشمیر میں تشدد کو فروغ دیں۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان پر دباؤ ہندوستان ہی سے نہیں، دنیا بھر سے ہوگا کہ وہ تشددپسند جماعتوں کو کنٹرول کرے اور پھر وہی پرانا سوال حکومت پاکستان کے سامنے منہ اٹھائے کھڑا ہوگا کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

۔۔۔مزید

منگل، 7 مئی، 2013

امید ابھی باقی ہے سرحد کے دونوں پار

محمد علم اللہ اصلاحی
ایک ایسے دور میں جب سرحد کے دونوں طرف نفرت کی آندھی چل رہی ہو اس وقت اگر امن کے پیروکار دونوں ملکوں میں آواز اٹھاتے ہیں تو یہ قابل تعریف ہے۔ پاکستان میں سربجیت کے قتل کے بعد جس طرح سے ہندوستان میں ماحول زہریلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس میں میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا بہت ہی خراب رول ادا کر رہا ہو ایسے میں پاکستان کے اہم اخبار جہاں اس مسئلہ پر حکومت پاکستان کے رویہ کی تنقید کر رہے ہیں وہیں ہندوستان میں بھی امن کی آواز کمزور نہیں پڑی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مار کنڈے کاٹجو نے بھی انسانی بنیاد پر جموں جیل میں حملے میں زخمی ثنا ءاللہ کو پاکستان بھیجنے کی اپیل حکومت سے کی ہے۔

پاکستان کے اہم اخبار دی ایکسپریس ٹربیون نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ صرف یہ کافی نہیں ہے کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ سربجیت پر جیل میں حملہ کن لوگوں نے کیا بلکہ ان جیل حکام سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے جن کے اوپر تحفظ کی ذمہ داری تھی ۔اخبار لکھتا ہے کہ سربجیت کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کی تھی۔ اس کے خاندان نے پاکستان سے انصاف مانگا تھا۔ پنجاب کے قائم مقاموزیر اعلی نجم سیٹھی نے معاملے کی عدالتی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ حملہ بائی پلان تھا یا نہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ شدید تشویش ہے کہ ایک ہندوستانی قیدی جس کاوکیل مستقل اس کی جان کو شدید خطرہ ہونے کے بارے میں حکومت کو بتاتا رہا، اس کو پاکستانی جیل میں قیمہ بنانے کی حد تک پیٹا گیا۔ یہ جیل حکام کی شدید صریح مجرمانہ غفلت ہے۔ اخبار زور دے کر لکھتا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس بات کا جواب دینا ہی ہوگا کہ سربجیت کی جان کو شدید خطرہ ہونے کی اس کے وکیل کی وارننگ کے بعد پاکستان کی حکومت نے اس کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات اختیار کئے؟

اخبار لکھتا ہے کہ اس واقعہ نے نہ صرف سربجیت کی ایک قیدی کے طور پر حقوق کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ جیل حکام کی طرف سے برتی گئی سنگین خامی نے پاکستانی جیلوں کی صورت حال کو اجاگر کر دیا ہے۔اخبار کہتا ہے کہ ان پولیس افسران کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جانا چاہئے جن کے اوپر سربجیت کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔

اس واقعہ کو ہند و پاک تعلقات میں دراڑ ڈالنے والا بتاتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ امید کی جانی چاہئے کہ اس واقعہ سے پیدا سفارتی تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت ایک منصفانہ جانچ کرائے گی۔ویسے بھی اس واقعے نے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اخبار زور دے کر لکھتا ہےہندوستان سمیت اپنے تمام پڑوسی ملکوں سے بہتر اور ملنسار تعلق قائم رکھنا پاکستان کے ہی مفاد میں ہے۔ سربجیت کی موت کے سانحہ کو آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔ اخبار کہتا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے اور مجرم حکام کوسزا دی جانی چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیاہندوستانی میڈیا سے بھی ایسی ہی سمجھداری اور سنجیدگی کی امید کی جا سکتی ہے۔ افسوس ہے کہ اس کا جواب فی الحال نہ میں ہی ہے۔اسی طرح پاکستان کے معروف صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بینا سرور نے بھی مسلسل ٹوئٹر پر اس مسئلے پر پاکستانی حکومت کی تنقید کی اور انتہا پسندوں کو کرارے جواب بھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ بے شک جب قانون اپنا کام کرتا ہے تب اول انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ یہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔

ہندوستان میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی جموں جیل میں حملے میں زخمی ثناءاللہ کو پاکستان بھیجنے کی پاک حکومت کا مطالبہ انسانی بنیاد پر قبول کرنے کی اپیل حکومت سے کی ہے۔انھوں نےہندوستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں سے فوری طور پر ایک کمیٹی قائم کرنے کی اپیل کی ہے جو دونوں ممالک میں قید ایسے قیدیوں جنہیں مشتبہ یا ناکافی ثبوتوں یاکمفیشن (اعتراف) کی بنیاد پر مجرم ٹھہرایا گیا ہو، کی جلد رہائی کا پروانہ حاصل کر سکیں ۔

جسٹس کاٹجو کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو مبینہ اعتراف کی بنیاد پر مجرم ٹھہرایا گیا ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے ممالک میں ایسے اعترافات کیسے لیے جاتے ہیں (تھرڈ ڈگری ٹارچرکے ذریعہ)۔ اس لئے سزا کے لیے ان (کمفیشن) پر انحصار مکمل طور پر غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے دوسرے ممالک کے شہریوں کے بارے میں تشویش کرتے وقت لوگ تعصبات سے شکار ہو جاتے ہیں۔ اب وقت ان تعصبات کی دیوار کو گرا دینے کا آ گیا ہے ۔ورنہ یہ تعصب بڑے ظلم کا سبب بنے گی جیسا کہ ڈاکٹر خلیل چشتی اور سربجیت سنگھ اس کا شکار بنے۔

سینئر صحافی جگموہن پھٹےلا کہتے ہیں -”سو فیصد صحیح ہیں صحافی ،سربجیت بینس اور میرے دیگر بہت سارے دوست۔ثنا ءاللہ پر ہوئے حملے کو ہم سربجیت پر ہوئے حملے کا بدلہ کہہ کر خارج نہیں کر سکتے۔ ہمیں مان ہی لینا پڑے گا کہ انسانی حقوق کے معاملے میں ہم بھی کچھ کم جاہل نہیں ہیں۔ غم اگر سربجیت کا ہے تو دکھ ثنا ءاللہ کا بھی ہونا چاہیے۔ ذمہ دونوں حکومتوں اور دونوں عوام کی ہے۔ عوام کی سطح پر بیداری کی شعلہ جلتی رہنی چاہیے۔ سونا نہیں ہے کیونکہ ہم سب کے جاگے بغیر سویرا بھی ہونا نہیں ہے۔“

سینئر ادیب موہن چھیتریہ کہتے ہیں”ہندوستان اور پاکستان ان سگے بھائیوں کی طرح ہیں، جو برج کے میلے میں بچھڑ گئے تھے۔ایک سا طرز عمل گواہ ہے۔ اب کوئی سیاستدان نیوٹن کے قوانین (عمل کا رد عمل ) کی پھر سے یاد دلا سکتا ہے۔“

سینئر صحافی اور میڈیا ناقدآنند پردھان کہتے ہیں "انسانی حقوق، جیلوں میں قیدیوں کی بدتر حالت،ایکسٹرا جوڈیشیل قتل، انصاف کے نام پر ناانصافی، یہ تمام کتنے بڑے مسائل ہیں لیکن ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے یہاں سب ٹھیک ہے، پاکستان میں سب برا ہے۔ایسا نہیں کہنا چاہئے‘ کیونکہ اسے ہی کہتے ہیں ادھ قوم پرستی اور بے جا خود اعتمادی"یہی وجوہات ہیں کہ سرحد کے دونوں طرف امید کی شعلے ابھی باقی ہیں۔ انسانیت یوں ہی مر نہیں سکتی۔

۔۔۔مزید

منگل، 30 اپریل، 2013

2014 مرکزی انتخابات :کیا کریں اور کدھر جائیں مسلمان؟


محمد علم اللہ اصلاحی 
سہ روزہ دعوت میں شائع
گرچہ ابھی 2014 مرکزی انتخابات کی آمد میں کافی وقت باقی ہے مگر اس کی نوید ہمیں سنائی دینے لگی ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی بساط بچھانا اور اپنا اپنا بگل بجانا شروع کر دیا ہے۔غرض یہ کہ تمام سیاسی جماعتیں باضابطہ طور پر الیکشن کی تیاریوں میں جٹ گئی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے لے کر عام آدمی تک سبھی نے اپنے اپنے حربے استعمال کر نے  شروع کر دِیے ہیں۔اس کے لیے جہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اپنے اپنے راگ الاپنے میں مصروف ہیں، وہیں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر بھی پروپیگنڈہ جاری ہو گیا ہے۔ نئے نئے اخبارات و رسائل و جرائد بھی نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ قیاس آرائیاں ،چہ می گوئیاں ،تبصرے اور لعن طعن کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ فرقے اور کمیونٹیاں اپنے اپنے منصوبوں میں جٹ گئی ہیں۔لیکن اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسلمانوں کی جانب سے اب تک اس قسم کی کوئی سر گرمی شروع نہیں ہو ئی ہے۔ اور نہ اس کی کوئی رمق دکھائی دے رہی ہے۔ہم بیدار تو ہوتے ہیں لیکن اس وقت جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔حالانکہ دنیا میں کامیاب وہی قوم ہوتی ہے جو پہلے سے منصوبے بناتی ہے،لائحہ عمل مرتب کرتی ہے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوگا یا اس سے ہٹ کر کچھ نیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کیونکہ ہم ہمیشہ سے ہی اپنی بے وقوفی کا مظاہرہ کر ہزیمت اٹھاتے رہے ہیں۔سیکولرازم،مذہب اور انسانیت کی آڑ میں سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو مہرا بناتے ہوئے جس قدر استحصال کیا ہے،شاید ہی کسی اور قوم کے نام پر اتناکچھ ہوا ہوگا۔لیکن اس کے باوجود ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہماری مسلم جماعتوں نے بھی محض قرار داد منظور کرنے ،منصوبہ بنانے ،ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے ،فتوے بازی کرنے ،فسادات کے بعد باز آباد کاری کا کام کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔مسلم پرسنل لا ء بورڈ کا قیام ہر طرح کی رہنمائی اور قیادت کے لیے عمل میں آیا تھا۔لیکن اس کا رویہ بھی قابل افسوس اور تشویش کا ہی رہا۔ بعد میں سب کو ملانے اور ایک ہو کر کام کر نے کے لیے مسلم مجلس مشاورت کی تشکیل ہوئی لیکن یہ بھی دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔اور انھوں نے بھی وہی ڈھرا اپنایا جو دوسروں کا اب تک رہا تھا۔جمعیت علمائے ہند ،جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث وغیرہ ملک کی بڑی مسلم تنظیمیں ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انھوں نے بھی اس طرح کے معاملہ میں کوئی منظم قدم یا فیصلہ نہیں لیا اور نہ ہی مسلمانوں کی کوئی بہتر رہنمائی کی۔

اس صورتحال میں اب مسلمان کیا کریں، کون سی راہ اپنائیں، کدھر جائیں، کسے ووٹ دیں، جسے ووٹ دے رہے ہیں اس سے کیا مطالبہ اور کیا معاہدہ کریں؟۔ یہ سب انتہائی اہم سوالات ہیں۔ اور ان کے جوابات تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم نے اس کا کوئی جواب نہیں ڈھونڈا تو پھر ہمارا حال وہی ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اب تک فسادات سے لے کر ظلم و استحصال ،حق تلفی و ناانصافی جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے یہ سب ہمارے اسی غلط رویہ،منصوبہ بندی کے نہ ہونے اور ہماری غفلت شعاری کا نتیجہ ہے۔اس میں ہمارے علمائے دین کی بھی غلطی ہے کہ انہوں نے ہمیں محض نماز،روزہ، زکاۃ اور حج تک محدود رکھا۔دین اور دنیا دو الگ الگ چیزیں بنا دیں۔حالانکہ اسلام میں تو دین و دنیا کی کوئی تفریق ہے ہی نہیں۔اگر دنیوی امور شریعت کے احکامات کی پابندی کے ساتھ ہو تو ہماری دنیا بھی دین ہی ہے۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کی تعلیم دی تھی۔انہوں نے دین اور دنیا کی قیادت کی کوئی تفریق نہیں کی تھی۔اسلام کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک پیکیج ڈیل (Package Deal) ہے۔صرف خانقاہوں اور مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کر نے اور محض چند ارکان پر عمل کر لینے سے معاملات حل نہیں ہو نے والے۔ اسلام کل زندگی اور ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں سیاست،قیادت سبھی کچھ شامل ہے۔

آزادی سے پہلے 1600 سال تک حکمرانی کرتے رہنے کے باوجود انگریزوں کی غلامی میں 200سال تک جکڑ جانے میں بھی ہمارے یہی عوامل کار فرما تھے۔یہ الگ بات ہے کہ مورخین اور تجزیہ کار اسے مغلوں کی نا اہلی ،معیشت کی تباہ حالی یا پھر اورنگ زیب کی کٹر پالیسی جیسی وجوہات سے تعبیر کرتے ہیں۔معاملہ چاہے جو بھی ہو اس پر ہمیں فی الحال بحث نہیں کرنی ، لیکن اگر اس کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو کہیں نہ کہیں ہمارے یہ رویّے ضرور سامنے آتے ہیں، جس سے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ بہر حال غلطی ہماری رہی تھی۔ اس غلطی کے احساس کے بعد گرچہ ملک کو آزاد کرانے کے جتن کئے گئے اور ہمیں اس میں کامیابی بھی ملی، لیکن ہماری حالت ،اور ہماری فکر میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بلکہ ہماری اسی نا اہلی کے سبب دشمنوں کی سازشیں کامیاب ہوئیں اور ملک کا بٹوارہ ہو گیا،ہم اقلیت میں آ گئے۔ اور بھی قومیں اقلیت میں آئیں لیکن انھوں نے سیاست ،معیشت ہر اعتبار سے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور ہم ساٹھ سال میں اور بھی بد سے بد تر ہوتے گئے۔ہم نے کبھی اپنے حالات میں سدھار لانے کی کوشش نہیں کی۔ اس بات کا تجزیہ کرنا گوارہ ہی نہیں کِیا کہ اب تک ہم نے کیا پایا ،کیا کھویا اور پھر آگے کیا کرنا ہے۔ غصہ کرنا ہے، بے صبری کا مظاہرہ کرنا ہے، محض ایک دوسرے پر الزام لگانا ہے، اپنے ہی نظریات کو صحیح سمجھنا ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نا نہ ہوں ،چند کھوٹے سکوں کی خاطر ہماری ہی بیخ کنی کرنے والی پارٹیوں کا آلہ کار بنے رہنا ہے یا پھر یہ سب چھوڑ کر واقعی مسائل پر غور کرنا ہے۔

یہ ساری باتیں مجھے اکثر بے چین کر دیتی ہیں۔اور اسی بے چینی نے مجھے یہ سطریں لکھنے پر مجبور کیا ہے۔میرے ناقص فہم میں ان تمام تفکرات و ترددات سے نکلنے کا بس ایک ہی راستہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب ہم متحد ہوں گے تب ہی کچھ کر پائیں گے۔ہمیں سیاستدانوں کے آگے پیچھے خوشامدانہ انداز میں گھومنے، جذباتی اور بے تکی باتیں کرنے، اخباروں اور کتابوں سے بیزاری برتنے۔ فٹ پاتھ سے ون بائی ٹو چائے لے کر غیر ذمہ دارانہ باتیں کرنے اور اچھے مشورے دینے والوں پر لعن طعن کرنے سے باز آنا ہوگا۔اور یہ بھی اچھی طرح پہچاننا ہوگا کہ کون ہمارا دشمن ہے اور کون دوست۔ ہمیں کوئی مناسب اور منظم لائحہ عمل طے کرنا ہوگا اور اسی کے مطابق اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اب تک جو ہوا سو ہوا۔ اب ہمارے سامنے جو بھی ہے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

ہمیں تمام چیزوں کو بھلا کر یہ کوشش کرنی ہوگی کہ مسلم اکثریت والے علاقوں میں کالج ہوں، ہاسٹل ہوں، اسپتال ہوں، جم ہوں، بینکوں کی شاخیں ہوں، انجینئرنگ کالج ہوں، کونسلنگ سنٹرس ہوں، اچھے راستے اور پارک ہوں، بجلی اور پانی کا اچھا انتظام ہو، روزگار کے مواقع ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے لئے ہر حلقہ میں ایم ایل اے کے ساتھ آپ کی عدالت جیسے پروگرام ہوں اور ان سے ٹائم باونڈ وعدے لئے جائیں۔اس کے لئے باضابطہ طور پر پارٹیوں سے معاہدہ کر کے تھوک کے بھاو میں انھیں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے ماہرین کو بھی چاہئے کہ جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ مسلمانوں میں تعلیمی، معاشی اور سیاسی شعور پیدا کریں۔اور اس میں بات علاقائی زبانوں میں بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے مثلاً مراٹھی، کنڑ، تامل، ملیالم، بنگالی، اڑیہ، پنجابی جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں تاکہ کم پڑھا لکھا اور ایک عام آدمی بھی بات کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکے۔

یہ فی الحال مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اس کا احساس مسلم لیڈروں کو بھی ہمیشہ رہا ہے۔ چنانچہ ماضی میں مسلم مجلس ،اتحاد المسلمین جیسی سیاسی پارٹیوں کا قیام بھی عمل میں آیا لیکن اب تک ان کی ملک گیر تو چھوڑیئے ریاست گیر سیاسی شناخت بھی قائم نہیں ہو سکی ، وہ ہر الیکشن میں کسی دوسری پارٹی کے حاشیہ برداربنتے رہے۔ادھر ماضی قریب میں بھی بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کے بعد علماء کونسل اور پھر ابھی کچھ سال قبل ویلفیر پارٹی آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا ہے۔اسے بھی اوپر اٹھانے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب علماء اور مسلم لیڈر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور طے کریں کہ مسلمان کس پارٹی کو ووٹ دیں۔مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلمان نمائندوں کی جیت کو یقینی بنائیں اورساتھ ہی فرقہ پرستوں کو کسی بھی صورت میں اقتدار سے باہر رکھیں۔

کہا جاتا ہے کہ ’’آزمائے ہوئے کو آزمانا بہت بڑی غلطی ہے‘‘۔ ہم نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو بار بار آزما کر دیکھ لیا۔ دونوں کی ذہنیت ایک ہے بس نام الگ الگ ہیں۔ لیکن اس بابت اس کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا کہ اس وقت مسلم بیزاری کی جو لہر پورے ہندوستان میں جاری ہے ان حالات میں کوئی مسلم سیاسی پارٹی عام ووٹروں کوکس طور متاثر کر پائے گی۔ اگر آسام کی طرح علماء کونسل یا متحدہ مسلم محاذ کو بھی کچھ کامیابی مل جاتی ہے یا اسی طرح آندھرا پردیش میں مجلس اتحاد مسلمین یا کرناٹک میں ایس۔ڈی۔پی۔آئی (سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا)اپنی حد تک مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی مقدور بھر کوشش کر رہی ہے۔مگر اس سے مکمل مسلمانوں کے مسائل حل تو نہیں ہوں گے۔ہاں! اس تجربہ سے ایک حد تک خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے۔مسائل حل نہ بھی ہوں تو جن سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو بندھوا غلام سمجھ رکھا ہے یا جنہوں نے بی جے پی کا خوف دلا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ مسلمان جائیں گے کہاں ؟ لامحالہ ان ہی کے سیکولر دروازہ پر سجدہ ریز ہونگے ایسی تمام پارٹیوں کو ایک زبردست چوٹ لگ سکتی ہے اور تب ان کو مسلمانوں کی سیاسی قوت کا اندازہ ہوگا۔ اس پس منظر میں چھوٹی چھوٹی علاقائی مسلم سیاسی پارٹیوں کی افادیت تو ہے لیکن پورے مسائل کے حل کا یہ علاج نہیں ہے۔ملک کے مختلف علاقوں کا سروے کر کے دیکھا جائے کہ کہاں کہاں مسلمانوں کے ایسے علاقے ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں ، ان مقامات کی نشاندہی کر کے ان علاقوں میں پوری طاقت صرف کی جائے اور مسلمانوں کو تیار کیا جائے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور کسی قیمت پر ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں۔مسلمانوں کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کا متحدہ الیکشن مینی فیسٹو ہو۔ مختلف چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بنانے سے گریز کریں۔اور نہ ہی ایسی پارٹیاں بنائی جائے جو خالص مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہو اس سے فرقہ واریت بڑھے گی۔ اور فرقہ پرستوں کو بالراست فائدہ ہوگا۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ مسلم نوجوانوں کی رہنمائی کا بھی ہے۔ہمارا نوجوان طبقہ اس وقت سب سے زیادہ ذہنی اور فکری انتشار کا شکار ہے۔یوں تو تقریباً تمام معاملات میں ان کی حالت ایسی ہی ہے لیکن اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی انتشار کا شکار ہے۔مانا کہ حالیہ دنوں میں تعلیم وغیرہ کو لے کر نوجوانوں میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے اندر سوجھ بوجھ بھی پہلے کے مقابلہ میں کافی حد تک بیدار ہوئی ہے۔لیکن انہیں تعلیمی لیاقت کے مطابق ملازمت نہ ملنے ،ہر جگہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جانے،ملک کی بیشتر منفی وارداتوں میں بلا وجہ انہیں پھنسا دِیے جانے جیسے رویوں سے ان کے اندر ایک قسم کی بے چینی، اضطراب اور خوف و دہشت کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔وہ زبان کھولتے ہوئے بھی ڈر تے ہیں۔کچھ لوگ اگر زبان کھول بھی رہے ہیں تو جذبات کی رَو میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔اور شر پسند عناصر اسی کا فائدہ اٹھانے کے فراق میں رہتے ہیں۔یہ نوجوان ہر اس شخص کو مسیحا سمجھتے ہیں جو ان سے روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ کئی انتخابات میں اسی وعدہ پر نہ جانے کتنے ووٹ بٹورے گئے۔ نوجوان اپنے رہنماؤں سے سب سے پہلے یہی امید وابستہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی مسائل ہیں لیکن روزگار ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کو سیاسی سطح پر ہی حل کیا جاسکتا ہے صرف وعدہ فردا اس کا حل نہیں ہے۔عام طور پر دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ الیکشن کے آس پاس فسادات، دھماکے اور اس طرح کی غیر انسانی حرکتیں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں۔جس کا فائدہ شر پسند عناصر اٹھانا چاہتے ہیں ایسے موقع پر احتیاط سے کام لینے کے علاوہ مسلم نوجوانوں کے اندر خصوسا صبر و تحمل کا مادہ پیدا کرانا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے اور ہم ان امور میں کامیاب ہو گئے تواس بات کا اغلب امکان ہے کہ ہماری تعداد کے حساب سے انتخابی حلقے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونگے جہاں مسلم اجتماعی فیصلے کے تحت اپنا جلوہ دکھا سکتے ہیں۔ فی الوقت مسلمانوں کو ہر پارٹی میں شامل ہو کر اپنی بات منوانی ہو گی۔ ہم کسی ایک پر نہ تو بھروسہ کر سکتے ہیں نہ ہی کسی ایک پر منحصر رہ سکتے ہیں۔مسلم قیادت اس پر بھی توجہ دے سکتی ہے۔ سیاست میں حصہ لینے والے ملک کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی حالات کا بھی قریب سے جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی اور مسلمانوں کے ساتھ ہم وطن بھائیوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات سے سیاسی وسماجی تعلقات اور ان کے مسائل کو بھی جاننا ہوگا۔ موجودہ مسائل کے حل کے لئے ہم محض اللہ کا نام لے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے بلکہ ہمیں خود ہی پیش قدمی کرنی ہوگی۔ اللہ کی مدد اسی صورت میں آ سکتی ہے کیوں کہ اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے،اور بقول علامہ اقبال:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

نوٹ:اس مضمون کی تیاری میں جناب اعجاز عبید صاحب (حیدر آباد)،جناب ڈاکٹر سیف قاضی(مہاراشٹر)،محترمہ عندلیب صاحبہ( حیدرآباد)،جناب شوکت عزیز (ممبئی)،جناب فارقلیط رحمانی( گجرات) اورجناب عبد الحسیب صاحب (حیدرآباد)کا تعاون شامل رہا ۔جنھوں نے مضمون کی تیاری میں اپنے قیمتی آراء،تجاویز اور مشوروں سے نوازا۔میں سبھوں کا مشکور ہوں ۔اور دعاگو بھی کہ اللہ تعالی انھیں علم و عمل اور دین و دنیا میں مزید ترقی عطا فرمائے ۔اور سبھوں کی شفقت و محبت تادیر قائم رکھے (آمین)


۔۔۔مزید

1984 سکھ مخالف فسادات،ٹائٹلراور متثاثرین کیا انصاف ملے گا؟


محمد علم اللہ اصلاحی 
بابری مسجد انہدام اور گجرات قتل عام سے پہلے آزاد مارکیٹ کی معیشت کی راہ طے کرنے میں ہندو سامراج نے جو دو بڑے پڑاؤ طے کیے، ان میں سے پہلا بھوپال گیس سانحہ ہے تو دوسرا سکھوں کا قتل عام، جسے امریکہ نے نسل کشی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ منموہن کے بدلے راہل کووزیر اعظم بنائے جانے کی بات شروع ہوتے ہی جیسے واشنگٹن نے ویزا کے لئے نریندر مودی کا خیر مقدم کر دیا، اسی طرح وہ گجرات میں قتل عام کی تاریخ کو بھی مسترد کر دیں۔ جمہوریہ ہندمیں گھوٹالوں میں تو کبھی کسی کو سزا ہونے کی اطلاع نہیں ہے، لیکن انسانیت کے خلاف واقع ان چاروں واقعات میں قصورواروں کو سزا نہ ہونا اور ملزمان کے اقتدار سربراہی تک پہنچ جانے کی داستان ،بہر حال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر نظام کی تاریخ میں بدنما داغ سے کم نہیں ہے۔سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں سابق مرکزی سیکرٹری جگدیش ٹائٹلر کو 84 کے فسادات میں کلین چٹ دی تھی۔ لیکن دہلی کی کڑ کڑ ڈوماما کورٹ نے ٹائٹلر کے توقع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے سی بی آئی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔عدالت نے ان کے خلاف پھر سے جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سکھ فسادات کے معاملے میں جگدیش ٹائٹلر کی فائل دوبارہ کھلنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

سکھ قتل عام کے معاملے میں سب سے دلچسپ پہلویہ ہے کہ سکھوں کی نمائندگی کرنے والا اکالی دل اب اس یونین کے خاندان کے ساتھ ہے، جو سکھوں کے قتل عام کے وقت کانگریس کے ساتھ بغیر شرط قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی ۔ اسی درمیان بابری مسجد انہدام معاملے میں اڈوانی کے خلاف اپیل میں کوتاہی کے لیے سپریم کورٹ نے حکومت کی کھنچائی ضرور کی ہے۔تاہم رام مندر تحریک کے ترکیب کے ساتھ اڈوانی نے بھی گجرات قتل عام کے معاملے میں ملزم نریندر مودی کے مقابلے شدت پسند ہندوتو کا پانسا پھینک کر وزیر اعظم بننے کا دعوی پیش کر دیاہے۔ اب وشو ہندو پریشد کی قیادت میں ہندو قوم کے لئے سنگھ پریوار پھر رام مندر تحریک شروع کر رہی ہے۔ اسی درمیان شرومنی اکالی دل نے دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر کے خلاف 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق معاملے کو پھر سے کھولے جانے کو لے کر دئے گئے حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔ جیسا کہ پنجاب کے نائب وزیر اعلی اور اکالی دل کے صدر سکھدیپ سنگھ بادل کہتے ہیں،’’ یہ فیصلہ ہزاروں فساد متاثرہ خاندانوں کے 30 سال کے طویل جدوجہد میں پہلی چھوٹی فتح ہے۔کیسی جیت، کس کی جیت؟ ٹائٹلر کے خلاف 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے منسلک معاملہ تو کھلا!مگر انصاف بھی ملے گا؟ باقی معاملات میں چاہے جو ہوا ہو، سکھوں کو انصاف نہ ملنے کی سب سے بڑی وجہ سکھ سیاست اور قیادت کازعفرانی کرن ہے‘‘۔سکھ بیربادل نے الزام لگایا کہ ’’کانگریس فسادات کے بعد سے ہی دہلی پولس، سی بی آئی اور متاثرہ خاندانوں کو دباؤ بنا کر انصاف کے تمام راستوں کو مسدودکرنے کے لئے کام کر رہی ہے‘‘۔

بہر حال، دہلی میں ہوئے 1984 کے سکھ فسادات کے معاملے میں کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی کلوزر پورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ان معاملات کی دوبارہ جانچ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ خبروں کے مطابق اضافی سیشن جج انو رادھا شکلا بھاردواج نے ایک مجسٹریٹ عدالت کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں ٹائٹلر کوکلین چٹ دینے والی سی بی آئی کی کلوزرپورٹ کو قبول کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2 اپریل 2009 کو سی بی آئی نے یہ کہتے ہوئے فساد کیس میں ٹائٹلر کو کلین چٹ دے دی تھی کہ ان کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں۔ ٹائٹلر 1 نومبر 1984 اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پھیلے فسادات میں تین لوگوں کی موت میں ملزم ہیں۔ شمالی دہلی میں واقع پل بنگش گرودوارہ کے پاس بادل سنگھ، ٹھاکر سنگھ، اور گرچر سنگھ کے قتل کے معاملے پر سی بی آئی کی کلوز رپورٹ کو دسمبر2007 میں عدالت نے قبول نہیں کیا تھا ،جس کے بعد معاملے کی دوبارہ جانچ کی گئی تھی۔ سب سے پہلے 2005 میں ناناوتی کمیشن نے اپنے تفتیش میں جگدیش ٹائٹلر کا نام لیاتھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے ٹائٹلر کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس کے سبب ٹائٹلر کو مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ٹائٹلر پر الزام ہے کہ سکھوں کے قتل کے وقت وہ وہاں موجود تھے۔ اس سے پہلے 29 ستمبر 2007 کو کورٹ میں پہلی کلوزر رپورٹ دی تھی۔

رپورٹ میں سی بی آئی نے کہا تھا کہ اس معاملے کا اہم گواہ جسبیر سنگھ لاپتہ ہے اور وہ نہیں مل رہا ہے۔ لیکن معروف ٹیلی ویژن چینل IBN7 نے جس بیر سنگھ کو کیلی فورنیا سے ڈھونڈ نکالا تھا۔جس بیر سنگھ کا کہنا تھا کہ سی بی آئی نے کبھی اس سے پوچھ گچھ ہی نہیں کی۔ اس کے بعد کورٹ نے سی بی آئی کی کلوز رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی دوبارہ جانچ کرنے کا حکم دیا تھا۔کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے کل 6 گواہوں کے بیان درج کئے اس میں جسبیر سنگھ بھی شامل تھے۔ سی بی آئی نے کیلی فورنیا جا کر جسبیر سنگھ کا بیان درج کیا تھا۔ لیکن پھر بھی سی بی آئی نے اس کو قابل اعتماد گواہ نہیں مانا۔ سی بی آئی نے اپریل 2009 میں ایک بار پھر سے معاملے میں کلوزرپورٹ داخل کی۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق 1 نومبر 1984کو پل بنگش میں ہوئے فسادات کے دوران ٹائٹلر موقع پر موجود نہیں تھے۔سی بی آئی نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ ٹائٹلر اس وقت آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی رہائش گاہ تری مورتی بھون میں تھے۔

معلوم ہو کہ 23سال پہلے ہوئے اس قتل عام کے گوا ہ جسبیر سنگھ کی سی بی آئی کو طویل عرصے سے تلاش تھی۔ غور طلب ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں بھڑکے سکھ مخالف فسادات میں تقریبا 3000 سکھ فسادیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔گزشتہ دنوں دہلی کے کڑ کڑڈوما کورٹ نے سکھ مخالف فسادات سے متعلق پل بنگش کیس معاملہ میں یہ حکم دیااور واضح لفظوں میں کہا کہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر اس معاملے میں ملزم ہیں۔سی بی آئی نے عدالت میں اس کیس کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اپنی کلوزرپورٹ پیش کر دی تھی۔ مگر، عدالت نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے سی بی آئی کو حکم دیا کہ اس معاملے کو دوبارہ کھولا جائے اور پھر سے جانچ کرکے ٹائٹلر پر مقدمہ چلایا جائے۔

غور طلب ہے کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں فسادات بھڑک گئے تھے اور ان فسادات کے دوران کانگریس کے کچھ لیڈروں پر فسادات کو بھڑکانے کا الزام لگا تھا۔ ٹی وی چینل آئی بی این 7نے اس کیس کے ایک اہم گواہ جسبیر سنگھ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔جسے سی بی آئی نے اپنی کلوزر رپورٹ میں قابل اعتماد گواہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔قابل ذکر یہ بھی ہے کہ جسبیر پر دہلی میں 1997 میں فسادات کے ایک گواہ پر حملے اور ایک گواہ کو 25 لاکھ کی رشوت کی پیشکش کا بھی الزام ہے۔اس معاملہ پر جسبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹائٹلر کو دہلی کے پل بنگش علاقے میں فسادیوں کو بھڑکاتے ہوئے دیکھا تھا۔آئی بی این 7 نے جسبیر کو جب کیلی فورنیاسے تلاش نکالا تھا۔اس وقت جس بیر نے یہ کہا تھا کہ’’ اگر سی بی آئی انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ دے تو وہ ہندوستان لوٹ کر گواہی دے سکتے ہیں ‘‘۔جس بیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے کنگس وے کیمپ میں اسپتال کے باہر ٹائٹلر کو بھیڑ کو اکساتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے کہ تمہاری وجہ سے میں شرمسار ہوں۔ نارتھ میں سجن کمار کے علاقے میں دیکھو یا ایسٹ میں ایچ کے ایل بھگت کی آس پاس ہر جگہ سکھوں کی کالونیوں کی کالونیاں منہدم کر دی گئی ہیں۔ لیکن میرے علاقے میں ابھی تک صرف کچھ کو ہی مارا گیا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماہ فروری میں کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کو نشانے پر لیتے ہوئے فساد متاثرین نے سی بی آئی پر تفتیش کو غلط طریقے سے آگے بڑھانے کا الزام لگایاتھا۔ فساد متاثرین نے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف ہوئے فسادات میں تین افراد کے قتل کیس میں آگے کی جانچ کی مانگ کی تھی جس ٹائٹلر کا الزام ثابت ہو سکے۔ ایڈیشنل سیشن جج انو رادھا شکلا بھاردواج کو متاثرین نے بتایا کہ’’ سی بی آئی کو بالی وڈاسٹار امیتابھ بچن اور دہلی پولیس کے سابق افسر سے بھی بطور گواہ بازپرس کرنی چاہئے کیونکہ دونوں ہی ایک سی ڈی میں ٹائٹلر کے ساتھ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے جسدخاکی کے پاس کھڑے دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق تری مورتی بھون میں یہ سی ڈی ایک ایجنسی نے ریکارڈ کی تھی۔ فساد متاثرہ لکھوندر کور کی جانب سے دائر کردہ مخالفت کی درخواست کے بعد کورٹ میں اس معاملے پر آخری جرح ہو رہی ہے۔اسی میں کور کے شوہر بادل سنگھ کی فسادات میں موت ہوئی تھی۔ کور نے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ اور ٹائٹلر کو کلین چٹ دئے جانے پر سوالیہ نشان قائم کئے ہیں ۔

کلوزررپورٹ کو صحیح قرار دیتے ہوئے سی بی آئی نے اسی سی ڈی پر یقین ظاہر کیا تھا جسے ملزم ٹائٹلر نے ہی فراہم کیا تھا۔ ٹائٹلر اس سی ڈی کو یہ ثابت کرنے کے لئے لے کر آئے تھے کہ وہ فسادات کے وقت اندرا گاندھی کے جسدخاکی کے پاس ہی تھے۔حالانکہ سی ڈی میں نہ ہی وقت اور نہ ہی تاریخ کا کوئی ذکر ہے۔مبینہ سی ڈی میں آر کے دھون (اندرا گاندھی کے سابق سکریٹری)، گوتم کول (تب کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس) اور امیتابھ بچن ٹائٹلر کے ساتھ ایک جگہ پر ہی کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ متاثرین کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس پھلکا نے سی ڈی کے کی توثیق کے لئے ان ہی تینوں سے بطور گواہ پوچھ تاچھ کرنے کو کہاہے۔ متاثرین کے وکیل نے مطالبہ کیاہے کہ سی بی آئی نے ان تینوں ہی سے کسی بھی طرح کی پوچھ گچھ نہیں کی ہے۔

جسبیر سنگھ 84 کے فسادات میں اہم گواہ ہیں۔ آئی بی این 2007 میں ان تک پہنچا تھا۔سالوں سے 5 مختلف قسم کی تحقیقات، کمیشن اور دباؤ جھیل رہے جسبیر نے آئی بی این 7 سے بات چیت میں اپنا دم خم برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک اپنے بیان پر قائم ہیں۔ سی بی آئی فائلوں میں یہ شخص 1984 میں پل بنگش میں ہوئے سکھوں کے قتل عام کا چشم دید گواہ ہے۔جسبیر نے بتایا کہ کانگریس رہنما جگدیش ٹائٹلر کے کردار کے بارے میں اس نے کئی بار بولا ہے۔ لیکن سی بی آئی سننا ہی نہیں چاہتی ج بیر نے بتایا کہ سی بی آئی تو اسے لاپتہ قرار دے چکی ہے۔ یہی نہیں سی بی آئی نے ٹائٹلر کو کلین چٹ دے کر اپنی جانچ رپورٹ کی فائل ہی بند کر دی تھی لیکن 2007 میں آئی بی این 7 نے ج بیر سنگھ کو ان کے کیلیفورنیا کے گھر سے ڈھونڈ نکالا تھا۔جسبیرنے الزام عائد کیاہے کہ بیان نہ دینے کے لئے ان کے گھر والوں کو کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی۔ جان پر خطرے کی وجہ سے وہ اپنے خاندان سے دور کیلی فورنیا میں رہ رہے ہیں۔ٹیلی ویژن آئی بی این سیون کے مطابق جس بیر کا یہ کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا بیان دوبارہ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن سی بی آئی کبھی جسبیر تک پہنچی ہی نہیں۔ فساد متاثرہ انصاف کا انتظار کرتے رہے۔ اب عدالت سے سی بی آئی کو 
جھٹکا ملا ہے۔ جس سے فساد متاثرین میں انصاف کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ 

اس پورے معاملہ کو لیکر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ظلم بہر حال ظلم ہے۔عدالتوں،ایجنسیوں اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے والے اداروں کو شفافیت سے کام لینا چاہئے ۔تاکہ جمہوریت کی بالا دستی برقرار رہ سکے ۔ہر ملک میں اقلیتوں کو ان کے حقوق دئے گئے ہیں لیکن جتنا اقلیتوں کے اوپر ظلم و ستم اور ان کے ساتھ استحصال کا رویہ ہمارے ملک ہندوستان میں اپنایا جاتا ہے کسی اور جگہ نہیں ۔اس معاملہ میں عدالت کا رویہ قابل ستائش ہے ۔لیکن عدالت اسی وقت مبارکباد کی مستحق ہوگی جب صحیح معنوں میں متاثرین کو انصاف مل سکے ۔ طبقہ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، حکمرانوں کو ان کے احساسات کا لحاظ کرنا چاہیئے۔ سکھوں نے اس طرح ملک کی سب سے بڑی مسلم اقلیت گجرات کے متاثرین کے لئے بھی راستہ دکھایا ہے کہ معاملہ خواہ کتنا ہی پرانا ،نازک اور حساس کیوں نہ ہو، انصاف کے لئے قانونی طریقہ سے جد و جہد جاری رکھنی چاہیئے۔ آج نہیں تو کل انصاف ضرور ملے گا کہ :
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں 
ناؤ کاغذ کی صدا چلتی نہیں 

۔۔۔مزید

پیر، 15 اپریل، 2013

سوشل میڈیا اور نوجوان طبقہ


محمد علم اللہ اصلاحی
 سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جس کا موجودہ دور معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاو انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزادشوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرئع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔

اگرچہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ابلاغ و ترسیل میں ماضی کے مقابلے میں حالیہ کچھ سالوں میں ایک بڑا انقلاب آیا ہے اور اسی تبدیلی کے سبب ہم اسے مواصلاتی انقلاب کہتے ہیں۔سوشل ذرائع میں انقلاب کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی انقلاب آیا ہے۔ جس نے مارسل میکلوہان کے بیان کو مکمل طور سچ کر دیا کہ پوری دنیا ایک گاوں میں تبدیل ہو جائے گی۔انسانوں کے بولنے کا انداز بدل جائے گا اور عمل و رد عمل بھی۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے توبالکل ایسا ہی ہوا ہے، آج نوجوان ریڈیو سن رہا ہے، ٹیلی ویژن دیکھ رہا ہے، موبائل سے باتیں کر رہا ہے اور انگلیوں سے لیپ ٹاپ چلا رہا ہے،چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان ایک ساتھ کئی تکنیک سے مواصلات ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ ان کی کئی طریقوں سے میڈیا تک رسائی ہے اور اس میں سب سے موثرسوشل میڈیا ہے۔سوشل میڈیائی ذرائع کا نوجوان طبقے پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں باتیں کریں تو ہر ایک ذریعہ کی طرح اس کے بھی دو پہلو دکھائی دیتے ہیں اولاَ مثبت اورثانیاَ منفی۔ایسے میں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج کی نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذرائع کے کس پہلو سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ مثبت پہلو یا منفی ۔یہ بات الگ ہے کہ سوشل میڈیا ذرائع کی بدولت آج کا نوجوان طبقہ اپنی خواہشات کی تکمیل کر رہا ہے۔لیکن وہ خواہشات کیسی ہیں ؟ اس کا معیار کیا ہے ؟ اس کا بھی پتہ لگانا اور ادراک کرنا اشد ضروری ہے۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق کہیں تو ملک کی تقریبا 58 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرتاہے۔ میڈیا ان نوجوانوں کو خواب دکھانے سے لے کر انہیں نکھارنے بنانے ،سنوارنے اوران کے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے اور اسے شرمندہ تعبیر کرنےمیں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اخبار،میگزین اور رسالے جہاں نوجوانوں کو معلومات فراہم کرنے کافن و ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، وہیں ٹیلی ویڑن ،ریڈیو، سنیما انہیں تفریح کے ساتھ جدیدیت بلکہ جدیدیت کے نام پر اور بھی بہت کچھ سکھا رہی ہیں۔ لیکن ان سب میں سب سے زیادہ اور اہم اثر سوشل میڈیا کا ہی ہے۔

انٹرنیٹ سے لے کر تیسری نسل (تھری - جی) موبائل تک جدید ٹیکنالوجی مکڑی کے جال کی طرح پھیل چکی ہے کہ دنیا کی سرحدوں کا مطلب بالکل ختم ہو گیا ہے۔کوئی دیوار باقی نہیں رہ گئی ہے ،ساری سرحدیں اور بندھنیں ٹوٹ چکے ہیں گویا ان کے خوابوں کی پرواز کو ٹیکنالوجی نے گویا پر لگا دیئے ہیں۔ بلاگنگ کے ذریعے جہاں یہ نوجوان اپنی فہم و فراست اور عقل و دانش کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہیں سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی طرح کی ذہنیت والے لوگوں کو جوڑ کر سماجی معاشرہ کی ذمہ داری کوبطرز احسن نبھا رہے ہیں۔اور اس طرح کے کاموں میں دونوں قسم کے افردا شامل ہیں یعنی مثبت طرز فکر والے اور منفی سوچ والے،سماج کی اصلاح کرنے والے اور سماج کو بگاڑنے والے بھی،معاشرے کے لئے بھلا سوچنے والے یا پھر انھیں قعر مذلت میں ڈھکیل دینے والے بھی۔

حال ہی میں عرب ممالک میں انقلاب اس کی سب سے تازہ مثال ہے۔ ان تحریکوں کے ذریعہ نوجوانوں نے سماجی تبدیلی میں اپنے کردار کا لوہا منوایا تو نوجوانوں کے ذریعہ میڈیا کا بھی دم پوری دنیا نے دیکھا۔ نوجوانوں پر اس کا زیادہ اثر اس لئے پڑا کیونکہ وہ جذباتی اور حساس عادت و طبیعت کے ہوتے ہیں۔ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ہندوستان میں انا ہزارے اور پاکستان میں عمران خان اور مولانا طاہر القادری کی تحریکوںکے علاوہ ملالہ اور ہندوستان میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی دامنی کی مقبولیت اور اس کے ذریعہ پیدہ شدہ حالات کے علاوہ ہمارے ملک کے چھوٹے بڑے مسائل کو لیکر لوگوں کی آرا اور اس پر سنجیدہ اور مثبت رویوں پر مبسوط بحثیں بھی اس میں شامل ہیں۔

لیکن یہاں پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دوسری طرف نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کی چمک کے مایا جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ اس بابت اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ نوجوانوں میں تیزی سے اس کے سبب انحطاط اور علمی و فکری زوال بھی آرہا ہے ، اس میں ان کی گمراہی اورضلالت کو بھی جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور اس کے پیچھے چلنے کی خواہش اور ہوڑ انہیں جدیدیت کا متبادل لگنے لگی ہے۔ ان نوجوانوں کی پوری زندگی اور رہن سہن ان سے متاثر دکھائی پڑ رہی ہے جس سے کھانے پینے سے لیکر رہنے سہنے یہاں تک کہ بول چال تک تمام ہی چیزیں مجموعی طور پر شامل ہے۔آج کے نوجوانوں کو نشہ آور اشیا فیشن کے انداز لگنے لگے ہیں۔انھیں شراب پیتے،گٹکا کھاتے اور اسی طرح سے گانجہ ،سگار ،ہیروئن جیسے مضر صحت اشیا کا استعمال کرتے ہوئے بھی کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی میں یہ وجہ بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ باہمی رشتے ناطوں میں بڑھتی ہوئی دوریاں اور خاندانوں میں انتشار کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انتہائی جدیدہوتے مواصلاتی نظام جسے ہم جدیدمیڈیا کے نام سے جانتے ہیں ایک طرف نوجوانوں کے لئے نعمت ثابت ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ ایک لعنت کے طور پر نوجوانوں کی بے سمتی اور بے راہ روی کو بڑھا رہا ہے۔ اگر اعداد و شمار پر غور کریں تو 30 جون، 2012 تک ملک میں فیس بک اور سوشل سائٹس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریبا 5.9 کروڑ تھی جو گزشتہ دو سال یعنی محض 2010 کے مقابلے میں 84 فیصد زیادہ ہے۔ ان 5.9 کروڑ لوگوں میں تقریبا 4.7 کروڑ نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھیں توہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ فیس بک کا استعمال کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ڈیجیٹل(برقی) انقلاب نے نوجوانوں کی پرائیویسی کو متاثر کیا ہے اور نوجوان اپنی سوچ سے اپنے معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں۔

ابھی حال ہی میں انڈیا بزنس نیوز اینڈ ریسرچ سروسز کی طرف سے 1200 لوگوں پر کئے گئے سروے جن میں 18-35 سال کی عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق تقریبا 76 فیصد نوجوانوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا ان کو دنیا میں تبدیلی لانے کے قابل بنا رہا ہے۔اسی طرح قریب 24 فیصد نوجوانوں نے اس کی معلومات کا ذریعہ سوشل میڈیا کو بتایا۔ تقریبا 70 فیصد نوجوانوں نے یہ بھی مانا کہ کسی گروپ خاص سے منسلک ہو نے سے زمینی حقیقت نہیں بدل جائے گی، بلکہ اس کے لئے بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات ہم بھی مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا ذرائع نے گلوبل ولیج یعنی عالمگیریت کے تصور کو جنم دیا ہے۔جس کے تحت آنے والے ذرائع برقی خطوط، ٹی وی، ریڈیو، موبائل، انٹرنیٹ جیسےان تمام ذرائع نے نوجوان طبقے پر اپنے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔بلکہ اس کا اثرتو اتنا طاقتور اور موثّرہے کی آج کے نوجوان ان ذرائع کے بغیر اپنے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔ادبی اور تعمیری میگزین خریدنے سے زیادہ جنسی اور فحش،رسالے خریدتے اور پڑھتے ہیں اور سہی معنوں میں اپنے کردار کا اخلاقی زوال کر اپنے مستقبل کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ اسی طرح ٹی وی جیسے سب سے زیادہ متاثر کن ذریعے کا بھی نوجوانوں پر اچھا اور برا دونوں طرح کا اثر پڑا ہے ٹی وی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ کسی بھی موضوع کے مثبت اور منفی پہلو کو سمجھ سکتا ہے اگرچہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو لیکن نوجوان طبقہ اس ذریعے کا بھی غلط استعمال کرنے والے لوگوں کو ہی زیادہ دیکھتے ہیں ،کیونکہ ان کو اسی کے ذریعہ فوری لطف اور لذت کا سامان میسر آتے ہیں اور وہ اس دور رس تباہی کو نہیں سمجھ پاتے جس سے ان کا مستقبل نا صرف بگڑتا بلکہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی مان لینے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ فی زمانہ موبائل اور انٹرنیٹ جدید تکنیک کاہی ہے۔ جن میں اس کا استعمال زیادہ تر نوجوانوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ موبائل یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے دور بیٹھے شخص کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے اور اپنے حسین لمحات میموری میں قید کئے جا سکتے ہیں۔ یہ تو اس کا عہد ہی ہے لیکن آج نوجوان اس ذریعے کا غلط استعمال کر ایم ایم ایس جیسے رویوں میں بھی پھنس جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ سوشل میڈیا ذرائع میں سب سے متاثر کن ہے جس نے دوری اور فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ اس کا زیادہ تر استعمال نوجوان طبقے کی طرف سے کیا جاتا ہے جہاں اس کی طرف سے نوجوانوں کو تمام معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ ترقی میں تو مددگار ہے لیکن آج موجودہ وقت میں نوجوان کی طرف سے اس کا غلط استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

اگرچہ اسکا کچھ افراد کی طرف سے صحیح استعمال کیا جا رہا ہے وہیں تقریبا 100 میں سے 85 فیصد لوگ فحش سائٹس کا استعمال کرتے ہیں اور حیرت بلکہ تعجب کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ سب سے زیادہ وزیٹر بھی ان پورن سائٹس کے ہی ہیں۔ ان فحش سائٹس پر جا کر وہ اپنے جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہیہ ان کے اور معاشرے کے زوال کا باعث ہے۔ ساتھ ہی انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال نے سائبر کرائم جیسے جرائم کو جنم دے کر نوجوانوں میں جرائم کی نئی دنیا پیدا کر دی ہے۔ جس سے آج کا نوجوان طبقہ ذہنی، جسمانی اور اقتصادی زوال کی طرف بڑھنے لگ گیا ہے۔ جو ہمارے سماج کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔
اگرنفس مضمون کی بات کریں تو تمام سوشل میڈیا نے جہاں گلوبل ولیج، تعلیم، تفریح اور رائے عامہ کی تعمیر، سماج کو متحرک بنانے اور معلومات کا بازار بنانے میں تعاون کیا ہے وہیں جنسی، تشدد،لڑائی جھگڑے ،برائی اور سماج کو اخلاقی اور ثقافتی زوال کی جانب گامزن کیا دیا۔ اب ہم نوجوانوں کو خود ہی اس کا انتخاب کرنا ہوگا کہ ہمیں کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ بلندی پر یا پستی کی کی طرف؟
alamislahi@gmail.com
Social media and youth 


۔۔۔مزید

جامعہ کا اردو میڈیم اسکول بنام انگلش میڈیم


محمد علم اللہ اصلاحی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اردومڈل اسکول کا ذریعہ تعلیم اب انگریزی کیا جا رہا ہے۔نئے تعلیمی سال2013-14 سے اس اسکول میں تمام مضامین کی تعلیم انگریزی زبان میں ہوگی۔شیخ الجامعہ نجیب جنگ نے عصر حاضر میں انگریزی کی ضرورت و اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ساتھ ہی اسکول کے بچوں کے یونیفارم تبدیل کرنے اوراسمارٹ کلاس روم بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ جامعہ کے مڈل اسکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس اسکول میں ذریعہ تعلیم ابھی تک اردو اور ہندی تھا۔ معتبر ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ اس اسکول کے اساتذہ کے ساتھ شیخ الجامعہ (وی۔سی۔) کی ایک میٹنگ ہوئی ۔جس میں جون 2010 میں ہی ہوئے فیصلہفیصلہ کے مطابق کہ اِس اسکول میں چھٹی اور اس کے بعد کی کلاسوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی کر دیا جائے۔تاہم متعدد وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا تھا۔اب کی وائس چانسلر نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعدباضابطہ اِس اِسکول میں پہلی جماعت سے ذریعہ تعلیم انگریزی کر دینے کا با ضابطہ فیصلہ لے لیا ہے۔وی سی نے اساتذہ کی بد ذوقی پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اوراب شعبہ تعلیم کی جانب سے منعقد ہونے والے ورکشاپ اور تر بیتی پروگرام میں آنے والے سیشن سے پہلے پہلے اپنے آپ کو بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہل بنا لینے کے لئے کہا ہے۔

یہ خبر ابھی حال ہی میں اخبارات کے ذریعہ دیکھنے کو ملی۔اطلاعات کے مطابق اس فرمان کے آنے بعد کچھ اساتذہ وی سی سے ناراض ہو گئے ہیں وہیں ایک مرتبہ پھر حسب معمول بحث و مباحثہ اور بیان بازی کا بازار گرم ہو گیاہے۔جامعہ کے کچھ اساتذہ سمیت بعض افراد کو یہ فیصلہ جامعہ کے وجود کے لئے خطرہ محسوس ہو رہا ہے تووہیں بعضوں نے اس کی پرزور حمایت کر کے شیخ الجامعہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔اول الذکر گروپ میں مسلمانوں کا بنیاد پرست طبقہ اور جامعہ برادری کے ا فراد بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے :”اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انگریزی ترقی کی زبان ہے، لیکن لگتا ہے اب ترقی پسند ہونے کا مطلب اپنی جڑوں کو ہی کاٹنا ہو گیا ہے“ اس فیصلہ کی مخالفت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم انگریزی تعلیم کے مخالف نہیں ہیں، مگرجامعہ کی تاریخ اور اردو روایت کو ہم قطعی طور پر ختم نہیں ہونے دیں گے۔اس گروہ کی وکالت کرنے والوں میں سماجی کارکن ،صحافی اور آر ٹی آئی اکٹی وسٹ افروز عالم ساحل کا کہنا ہے کہ دراصل، جامعہ کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی سلطنت کی نگرانی میں چلنے والے تعلیمی اداروں اور انگریزی تعلیم کی مخالفت میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں 1920 میں جامعہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ان بزرگوں کی نگرانی میں سب سے پہلے جامعہ کے نام پر صرف ایک مڈل اسکول کی بنیاد رکھی گئی، جسے مدرسہ ابتدائی کے نام سے جانا گیا۔ اور آگے چل کر وہی مدرسہ ابتدائی ایک یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا، جسے آج پوری دنیا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے جانتی ہے۔ مگر یقینا یہ افسوس کی بات ہے کہ آج اسی اسکول پر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اپنے وجود کو بچانے کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔

افروز عالم ساحل ڈاکٹرذاکر حسین (مرحوم) کے ایک قول کہ ” کئی بار ادارے آدرشوں کا قبرستان بن جاتے ہیں جن کے لیے ان کو قائم کیا جاتا ہے۔“کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں۔ذاکر حسین کی یہی بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے، اسی تاریخی اسکول کو انگریزی میڈیم اِسکول بنایا جا رہا ہے۔جس کا قیام ہی مادری زبان کے فروغ کی خاطر عمل میں آیا تھا۔وہ کہتے ہیں اس صف میں شامل گاندھی جی نے بھی بہت شدت کے ساتھ اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا تھا کہ تعلیم کا ذریعہ ہندوستانی زبانوں میں ہی ہونی چاہئیں۔وہ کہتے ہیں اسی سبب جامعہ میں مادری زبان کو ہر زمانہ میں اولیت دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے تعلیمی نظام نے روایتی اور جدید تعلیم میں ایک رشتہ پیدا کیا اور نوجوانوں کو اپنی ثقافت اور ہندوستانی زبانوں پر ناز کرنا سکھایا۔ وہ کہتے ہیں جامعہ کی اسی خصوصیت نے اسے اپنے ہم عصر اداروں کاشی وِدیاپیٹھ(بنارس) اور گجرات وِدیا پیٹھ(احمدآباد)سے بہت آگے پہنچا دیا۔افروز عالم ساحل کے مطابق یہاں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ 30 سال سے اردو میڈیم میں پڑھا رہے ہیں اور اب ان کے لئے انگریزی میں پڑھانا اتنا موثر نہیں ہو گا۔ان کے بقول ہمارا یہ اِسکول ہندوستان کی تحریک آزادی کا ورثہ ہے، اسے بچائے رکھنا بہت ضروری ہے۔ انتظامیہ چاہے تو اور بھی انگریزی میڈیم اِسکول کھول سکتی ہے۔کیونکہ جامعہ کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اس طرح کے مزید ادارے کھول سکے۔وہ کہتے ہیں ویسے بھی جامعہ میں پہلے سے ہی ایک سیلف فائنانس (خود کفالتی) انگریزی میڈیم اسکول موجود ہے جس نے کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔
وہیں دوسرے گروہ جس میں دانشور طبقہ،نوجوان اور جدید خیالات کے حامل افراد شامل ہیں کا کہنا ہے کہ شیخ الجامعہ کا یہ فیصلہ نہ صرف برمحل بلکہ حالات کے تقاضے کے مطابق دیر آید درست آید کے مصداق ہے ،جس کا استقبال کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ جن تقاضوں کے تحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تبلیغ دین کی غرض سے عجمی زبانیں سیکھنے کی نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی تھی بلکہ حکم دیا تھا۔اورجن حالات کے تحت مصطفیٰ کمال اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط تبدیل کر دیا تھا بعینہ اسی طرح شیخ الجامعہ نے بھی وقت کی نبض کو پہچاننے کا کام کیا ہے۔اس طبقہ کے بقول انگریزی زبان کی روزافزوں بڑھتی ہوئی مقبولیت، انٹر نیٹ، کمپیوٹر، انجنیرنگ، سائنس اور میڈیکل کے میدانوں میں اس کی بڑھوتری، اور اس سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے سبب اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔

پیشہ سے معلم ،مترجم اور قلم کار فارقلیط رحمانی گجرات میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔”ہمارے اردو اسکول کے اطراف جو مسلمان آباد ہیں انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ملک میں تلاش معاش میں اردو کی تعلیم رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے بچوں کوگجراتی، انگریزی اور ہندی اسکولوں میں داخل کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اس کا یہ حل نکالا کہ ہم اردو اسکول میں ہی بچوں کو گجراتی و ہندی کی تعلیم دینے لگے،چنانچہ جیسے ہی ہم نے ایسا کیا ،ہمارے اسکول میں بہار آ گئی۔ اوربچوں کی تعداد پھر بڑھ سے گئی۔وہ کہتے ہیں کچھ عجب نہیں کہ دہلی کے والدین نے بھی اپنے بچوں کو بجائے اردو کے انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں بھیجنا شرو ع کر دیا ہو،اور شیخ الجامعہ نے وقت کی نبض کو پہچانتے ہوئے جامعہ کے اردو اسکول ہی میں ہماری طرح انگریزی تعلیم کا با قاعدہ انتظام کر دیا ہو۔ جو کام ہم نے حکومت کی مرضی کے خلاف غیر قانونی طور پر کیا وہی کام شیخ الجامعہ نے قانونی طور پر با قاعدہ کر دیاجس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں “۔

وہیں بعض ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچّوں کو ان کی مادری زبان ہی میں تعلیم دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے بچّے موضوع کو بآسانی سمجھ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی اور زبان میں تعلیم دی جاتی ہے تو بچّوں پر اضافی بوجھ بن جاتا ہے اور بچّے بنیادی اور اصولی باتیں ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتے۔اور آج کے اس مسابقت بھرے ماحول میں انسان کا کامیاب ہونا صرف اس کی زبان پر منحصر نہیں ہوتا۔اس معاملہ میں زبان کے علاوہ بھی دیگر بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔جیسے متعلقہ شخص کا اپنی فیلڈ کے متعلق علم، اس کی محنت، اس کا پروفیشنلزم، اس کا رویّہ (ایٹی چیوڈ)، عام معلومات (کرنٹ افیرز) وغیرہ۔

شیخ الجامعہ کے فیصلہ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک کمپنی میں (گرافکس)کا کام کرنے والے شوکت پرویز کہتے ہیں جہاں تک بات اردو میڈیم یا انگریزی میڈیم کی ہے تو ایسے بہت سے انگریزی میڈیم کے بچّے ہیں جو "کامیاب" نہیں ہو پاتے اور ایسے بہت سے اردو میڈیم (یا دوسرے ورنا کلر میڈیم) کے بچّے ہیں جو "کامیاب" ہو جاتے ہیں۔وہ مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:” دنیا میں اکثر جگہوں پر انسان ذو لسانی (بلکہ کثیر لسانی) ہوتے ہیں مثلاعرب خطہّ کوہی دیکھیں تو وہاں کے کئی لوگ عربی، انگریزی (اور اب تو اردو، ہندی) بھی بآسانی سمجھ اور بول لیتے ہیں ما فی الضمیر کا مدعا بیان کر لیتے ہیں اور مخاطب کے بیان کردہ مطالب کو بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔وہ مزید مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں شام، لبنان (اور فرانس کی نو آبادیات رہ چکے ممالک کا) تعلیم یافتہ طبقہ بخوبی عربی، فرنچ، اور انگریزی میں گفتگو کر لیتا ہے۔ان کے مطابق یوروپی ممالک کا اکثر تعلیم یافتہ طبقہ اپنی قومی زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی مہارت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم برّصغیر میں رہتے ہیں تو ہندوستان کی مثال بھی دیکھ لیں اکثر ہندوستانی اپنی مادری زبان (جہاں مادری زبان ہندی نہیں) کے ساتھ ساتھ ہندی بآسانی سمجھ بول لیتے ہیں-ہم اگر خود اعتمادی کے ساتھ انگریزی زبان کو استعمال کرنے لگیں گے تو ہم (اِن شاءاللہ) اس میں بھی مہارت حاصل کر لیں گے۔"ذریعہ تعلیم مادری زبان ہی ہونا چاہیے" شوکت پرویزاِس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں” ابتدائی تعلیم تو بہر حال مادری زبان ہی میں ہونی چاہیے، لیکن دھیرے دھیرے دوسری زبانیں بھی سیکھنی چاہیے۔اس سلسلہ میں وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنا ایک شعر سناتے ہوئے کہتے ہیں۔
تعلیم اور زبان تلک ٹھیک ہے مگر
شوکت کبھی نہ سیکھنا فیشن فرنگ کا

جامعہ کے اس فیصلے کو لے کر مسجل(رجسٹرار) ایس۔ ایم۔ راشد کی جانب سے 14 نکات پر مشتمل جو
اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ :”وی سی نے جون 2010کو جامعہ کے اردو اسکول میڈیم کی کارکردگی پر نا خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انگریزی میڈیم کرنے اور اساتذہ کو بطور خاص انگریزی زبان کی تربیت لینے کے لئے کہا تھا۔لیکن تین سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود اس میں کوئی بدلا نہیں آیا۔نا تو اسے انگریزی میڈیم کیا گیا اورنا ہی اساتذہ نے اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کی۔اس نوٹس کے مطابق شعبہ تعلیم کی جانب سے تربیتی ورکشاپ منعقد کرنے پر بھی اسکول کے اساتذہ نے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔جس پر وائس چانسلر نے خود ہی فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ حکم دیاہے کہ اب تمام ہی مضامین کی تعلیم انگریزی میں ہوگی اوراس کے لئے شعبہ تعلیم کے ڈین ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کرائے گی۔جس میں اساتذہ انگریزی میں کیسے تعلیم دیں اس کی ٹریننگ لیں گے۔اور نیا اکیڈمک سیشن شروع ہونے سے پہلے پہلے تمام اساتذہ کو اس کا اہل قرار دینا اور خود کو تیار کر لینا ضروری ہوگا“۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وی۔ سی۔ کا بیان بے وقت کی راگنی نہیں ہے۔انہوں نے توتین سال پہلے ہی حالات میں سدھار کی بات کہی تھی اس کے لئے انھوں نے اساتذہ کی خاطر مفت تربیتی پروگرام کا بھی انعقاد کرایا تھا۔تو پھر اساتذہ نے دلچسپی کیوں نہیں دکھائی یہ بہر حال ایک سوال ہے۔کیا یہ سوچنے کی بات بات نہیں ہے کہ جن کے کندھوں پر ملک و قوم کا مستقبل تعمیر کرنے کی ذمہ داری ہے۔ وہی سستی، کاہلی اور بے دلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔پھر ان سے کیوں کر یہ توقع کی جا سکتی ہے، کہ وہ اپنے طلباءکی رہنمائی بہتر ڈھنگ سے کر سکیں گے۔جامعہ کا قیام جن مقاصد کے لئے عمل میں آیا تھا اگر آج جامعہ اسے پورا نہیں کر پایایا اس میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو بہر حال یہ اساتذہ بھی پوری طرح اس کے ذمہ دار ہیں۔جو لوگ اردو میڈیم اسکولوں کی بات کرتے ہیں یا جو اردو کے اساتذہ وپروفیسران اردو ذریعہ زبان کو ضروری قرار دیتے ہیں ان کے بچے خود کنونٹ ، ڈی اے وی اور مشنری کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔جس میں جامعہ کے اساتذہ کے بچوں کی بھی بڑی تعدادشامل ہے۔کیا جامعہ اسکول کو اس لئے اردو میڈیم ہونا چاہئے کہ اس میں غریب والدین کے بچے پڑھتے ہیں ؟پھر جامعہ اسکول جب اردو میڈیم تھا تب بھی اس نے کون سا پہاڑ توڑ دیا تھا۔کتابیں اردو میں دستیاب نہیں۔اردو کے اساتذہ تربیت یافتہ نہیں۔بچے صحیح ڈھنگ سے ایک شعر کی تشریح نہیں کر سکتے۔اردو میڈیم سے پڑھے ہوئے بچے اپنی اسی کمی کے سبب ملک کے دیگر مسابقتی امتحانات میں نہیں ٹک پاتے۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جانے کے بعد بھی احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی (کانفیڈنس) نہیں ہوتی تو اب اس میں کس کی کمی ہے؟۔ کیا مخالفت کرنے والے اس کا جواب دیں گے ؟۔
 The University's Urdu medium schools versus English Medium
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

ہماری زندگی میں چاند کی کیا اہمیت ہے ؟





نوٹ :ایک عزیز کی جانب سے 
اردومحفل فورم میں ہماری زندگی میں چاند کی کیا اہمیت ہے ؟“پوچھے جانے
پر لکھی گئی ایک ناتمام تحریر-




محمد علم اللہ اصلاحی 

                                                                 :بچپن میں کبھی ہم کہا کرتے تھے
چندا ماما دور کے      
روٹی پکائیں بور کے
آپ تو کھائیں تھالی میں
اور ہم کو دیں پیالی میں
تھالی گئی ٹوٹ
چندا ما ما گئے روٹھ
تھالی لائے اور
چندا ماموں آئے دَوڑ

ہماری زندگی میں ماموں جان کی کتنی اہمیت ہے،دیہاتوں میں اکثر کہتے سنا ماما کچھ لے کر ہی آتے ہیں کبھی خالی ہاتھ نہیں۔ ٹھیک ویسے ہی چندہ ماما بھی ہمیں چاندنی اور سہانی روشنی دیتا ہے۔ چاند سے بھرا آسمان اور چاندنی سے بھری زمین دلفریب لگتی ہے دل کو لبھانے والی راتیں جی ہاں !!راتیں تو راتیں ہیں۔

مگراندھیری اور چاندنی راتوں میں کتنا فرق ہے۔کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آسمان میں اگر چاند نہیں ہوتا تو زمین پر ہماری زندگی کیسی ہوتی۔ راتیں کتنی بھیانک ہوتی بھائیں بھائیں کرتی ڈراونی اتیں شکر ہے اس خدا وند قدوس کا جس نے آسمان کی چھاتی پر چاند کو ٹانک دیا ہے۔کبھی مکمل تو کبھی آدھا جیسا بھی دیکھئے، چاند تو چاند ہے۔


چاندنی رات میں خوشیوں سے بھر جاتا ہے؟ دل کی اس سہانی کیفیت کو بیان کرتے کرتے ادیبوں نے چاند کو بھی پریت (خوبصورتی) کی علامت مان لیا۔ محبوب کے چہرے کے مقابلے چاند سے کر دی۔ لیکن تلسی داس نے رام کے منہ سے سیتا کے چہرے کی خوبصورتی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا۔

!سندرتا کہوں سندر کرئی
!چھوی گرہ دیپ شیکھاجنو برئی
!سب اوپما کوی رہے جٹھاری
!کیہیں پٹتروں ویدیہ کماری

یعنی خوبصورتی کے لئے تمام اشیا کو شاعر نے جھوٹا کر رکھا ہے۔ ہم ودیہ کماری کی خوبصورتی کا موازنہ کس سے کریں۔ہندو عقیدت مندوں کے مطابق رام کے سامنے یہ مسئلہ رہا ہوگا تبھی انہوں نے سیتا سے اولین ملاقات میں ان کے حسن کا بیان چاند سے نہیں کیا، لیکن تب سے لے کر آج تک شاعر حضرات محبوباوں  کی خوبصورتی کے مقابلے چاند سے ہی کرتے رہے ہیں۔چاند کے اندر چرکھا کاتتی بیٹھی بڑھیا کی الگ کہانی ہے، چاند کے اندر کالے دھبے سماج کا عکس ہے۔

جس طرح صحن، چھت اور کھلے دروازے کا ہماری زندگی میں خاص اہمیت ہے۔سورج کی روشنی ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔ سورج سے ہم آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ سورج جتنا تپتا ہے، ہم اس سے دور ہو جاتے ہیں۔لیکن چاندنی کی رات کو ہم کھلے میں کھانا، کھلے میں سونا، دریا میں نہانا پسند کرتے ہیں۔بعض عقیدت مند مکمل چاندنی رات میں کھیر بنا کر چاندنی میں رکھتے ہیں۔خیال ہے کہ اس رات امرت اوس پڑتی ہے۔کامیابی کےحصول کے متمنی اس رات برسے امرت اوس کو اپنی کھیر کی کٹوری میں سنبھال لیتے ہیں۔

جس طرح ہمارے یہاں اسلام میں چاند کی اہمیت ہے اسی طرح قدیم مذاہب کی کتابوں میں بھی چاند کی خاص اہمیت ہے۔کہا جاتا ہے ”شیو کی جٹا سے گنگا بہتی ہے،اسی جٹا کے اوپر چاند بھی ہے“۔ان کتابوں میں سمندر اور چاند کابھی ذکر ہے اور اس میں اسکی خصوصی اہمیت بتائی گئی ہے۔ مگر افسوس زمینی فضاوں میں ہلچل مچانے والا چاند اب ہمارے میٹرو زندگی سے اوجھل ہو رہا ہے۔آنکھوں کوخیرہ کر دینے والی بجلی۔ بغیر آنگن کے فلیٹ کے سبب چاند آسمان پر آتا تو ہے، مگر ان شہروں میں نظر نہیں آتا۔ لطف کی تلاش میں پانچ ستارہ ہوٹل اور فلیٹوں میں ہم قید ہو جاتے ہیں۔ چاند کسی کھڑکی سے جھانک نہیں سکتا۔ موٹے پردوں کی پرتیں ہیں۔ ایئرکنڈیشن کمرے ہیں۔جس کی وجہ سے چاند اب ہم تک نہیں پہونچ سکتا۔

اس سے نقصان چاند کانہیں، ہماراہو رہا ہے۔ سائنس دوریاں مٹانے کا کام کرتا ہے۔ مگر آج انسان اور چاند کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ شاید اسی لیے ہماری زندگی سے خوشیاں اور مسرت بھی ختم ہو رہی ہے۔میری دادی کہتی ہیں۔اب بچوں کے گیتوں میں چندہ ماما نہیں ہے۔چندہ ماما ارے آب، پارے آب’سونا کے کٹوریوں میں دودھ بھات لے لے آببوا کے منہ میں دے گھٹک“۔بقول دادی اماں ببوا چاند کو دیکھتے دودھ کی کٹوری خالی کر دیتا تھا۔ مگرآج کا منا دودھ چاول نہیں کھاتا۔ ”میگی“ اور ”پزا “کھاتا ہے۔کھانے دیجئےوقت بدلا ہے۔ مگر چاند نہیں بدلا ہے۔ بے چارا ویسے ہی طلوع ہوتا اور ڈوبتا ہے۔ چاندنی پھیلاتا ہے۔

چاند کو اپنا دوست برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ کیونکہ چاند ہمارے لئے فائدہ مند ہے، چاند کے لیے ہم نہیں۔ہمارے خاندانی نظام میں بھی ماموں جان بہت دور ہو گئے۔ بہت سے بچے اپنے ماموں جان کو ہی نہیں پہچانتے تو چندہ ماماتو دور کی ماما ہیں۔چاند سے دور رہ کر ہماری زندگی بد مزہ ہو سکتی ہے۔چاند پر لوگ جانے لگے۔مستقبل قریب میں چاند پر بیاہ شادی بھی رچاے جا سکتے ہیں۔ پر ماموں جان اور سورج کی چاند بہن والے چاند کی بات ہی کچھ اور تھی۔ چندہ ماماتو سننے میں ہی اچھا لگتا ہے۔مگر اب؟؟



۔۔۔مزید