جمعرات، 9 اگست، 2012

ڈی ڈی اردو:چینل کی دنیاکا واحدنمائشی ادارہ


ڈی ڈی اردو:چینل کی دنیاکا واحدنمائشی ادارہ


چھہ برسوں میں خوداپنا ڈھانچہ بھی کھڑانہیں کرسکا،اردو زبان کی ترقی کیا خاک ہوگی

محمد علم اللہ اصلاحی 
ٹیلی ویژن نشریات کی دنیامیں’ دوردرشن‘کوقابل قدر اضافہ کی حیثیت سے جانا اور پہچاناجاتاہے کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں سے ایک ہے۔جس کے پہلے نشریہ کا آغاز 15 ستمبر، 1959 کومحض آدھے گھنٹے کے پروگرام سے ہوا تھاجس کا دائرہ ابتدامیںتعلیم و ترقی تک محدود تھالیکن بہت جلد اس کے اثرات پھیلتے چلے گئے اور انتہائی کم مدت میں غیر معمولی تبدیلی کے بعد اس کی باقاعدہ شروعات دہلی (1965) ممبئی (1972)کولکاتہ (1975) اورچنئی (1975)سے کر دی گئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آیا جب 15 ستمبر 1976 کواسے ایک ادارہ کی شکل دے دی گئی ۔روز افزوں اس کے ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہوتاچلاگیا اور قدر دانوں کی بڑھتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی میں 1982 کے ایشیائی کھیلوں کے دورا ن اس کی نشریات کو رنگین کر دیا گیا ۔اس پیش رفت کو نشریات کی دنیامیںایک انقلاب بھی تصورکیاگیا۔انقلابی پیش رفت کاہی یہ نتیجہ تھاکہ 1984 میں ملک میں تقریبا ہر روز ایک ٹرانس میٹر لگایا گیاتاکہ پوری دنیا خاص طور پر ہندوستانی عوام کو سماجی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی مسائل سے واقف کرایاجاسکے اوران کی صحیح رہنمائی کی جاسکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دوردرشن نے ملک میں سماجی واقتصادی تبدیلی، قومی اتحادکے فروغ اور سائنسی وعلمی سوچ و فکر کو پروان چڑھانے اور اس کو رفتار فراہم کرنے میں اہم رول اداکیا۔ عوامی خدمات و بیداری کے حوالہ سے اس کی حصہ داری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جس نے پورے ملک میں آبادی پرکنٹرول ، خاندانی بہبود، ماحولیات کے تحفظ اور مختلف قسم کے توازن کوبنائے رکھنے میںنمایاں مقام ادا کیا ۔دوردرشن کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی رہی کہ تقریبا ملک کی تمام علاقائی زبانوں میں اس کے پروگرام منفرد اندازمیںپیش کئے جاتے رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فیضیاب ہو سکیں اورملک کے کونے کونے میں بسنے والے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آ سکے ۔اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی کی حیثیت سے ڈی ڈی اردو کا قیام بھی عمل میں آیاجس کی خاطر کافی احتجاج اور ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تاکہ دوردرشن کے اردو خواںناظرین کی دل بستگی کی سبیل نکل سکے۔ڈی ڈی اردوکا قیام 15اگست 2006کووزیر اعظم منموہن سنگھ کے ہاتھوں عمل میں آیاتاکہ دیگر زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرح اردو داں طبقہ بھی اس سے محظوظ ہوسکے۔چنانچہ جب اس وقت کے ابلاغ عامہ و نشریات کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے یہ مژدہ سنایاکہ اس نئے چینل کا مقصد ملک میں اردو ثقافت کی بحالی اور اس کا فروغ ہوگا تو اردو والوں کی بانچھیں کھل گئی تھیں اور وہ پھولے نہیں سما رہے تھے کہ اب اس کے ذریعہ واقعی اردو کا فروغ ممکن ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اس سے بہت سارے لوگوں کو ملازمت اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گالیکن بہت جلد ان کی امیدوں کے قلعہ ڈھ گئے اور ساری امیدوں پر پانی پھر گیا کیونکہ انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہاں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ان کے ساتھ عصبیت کا رویہ اپنایا جانے لگا ہے اور آزادی کے بعد سے عملاً اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھ لئے جانے کے بعد اس چینل کے ساتھ بھی عصبیت کا رویہ اپنایا جانے لگا ہے اور اس کے حقوق پر بھی شب خوں مارے جا رہے ہیں ۔شاید یہی وہ بنیاد ی سبب ہے کہ جس طرح دوسری زبانوں کے چینلوں میںبڑی ترقی ہوئی اور نئے نئے پروگرام پیش کر کے عوام کا دل جیتاگیا، اردو چینل میںیہ خصلتیںنہیں پائی گئیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جس پر اُردودنیافخرکرسکے بلکہ یہ ادارہ صرف ایک نمائش بن کر رہ گیا ۔

اس پر اردو داں طبقہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینل کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی حالانکہ اخبارات میں بار بار یہ بات دہرائی گئی کہ کافی پہلے یعنی دو دو ،تین تین سال ل قبل جو گھٹیا پروگرام محض پچاس ہزار فی ایپی سوڈ کے حساب سے لئے گئے تھے انھیں بار بار دہرایا جا رہا ہے ۔ان پروگراموں کی کوالٹی انتہائی خراب ہے باوجود اس کے چینل کا مکمل انحصار انھیں پروگراموں پر ہے ۔ابھی کچھ ہی دنوں قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ چینل کو جو رقم پروگرام بنانے کےلئے فراہم کی گئی تھی اسے استعمال کرنے سے چینل کے ذمہ داران قاصر رہے اور تقریبا62کروڑ روپئے چینل کو پروگرام بنانے کے لئے دئے گئے تھے مگر یہ رقم خرچ نہیں کی گئی اور مالی سال ختم ہوتے ہی اب یہ مر کزی سرکار کو لوٹا دی گئی ۔ابھی اس پربحثچل ہی رہا تھا کہ ایک دوسریخبر نے محبان اردو کو بے چین کر دیا اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ملک بھر کے 80 دوردرشن مراکز میںڈی ڈی اردو کےلئے ملازمین کی تقرری اب تک کیوں نہیں کی گئی؟یہ خبر ایک موقر میڈیا تنظیم کے سروے کے بعد منظر عام پر آئی جسے ملک بھر میں دہلی، لکھنو، حیدرآباد، کولکاتہ، پٹنہ اور احمد آباد کے علاوہ دوردرشن کے 80 مراکز سے اردو چینل کےلئے مقرر ملازمین کے سلسلے میںحق معلومات قانون کے تحت فراہم کئے گئے جوابات کی بنیاد پر تحقیقی جرنل میڈیا (ہندی) اورماس میڈیا (انگریزی) نے عام کیا۔ میڈیا تحقیق سے وابستہ اس اسٹڈی گروپ نے ڈی ڈی اردو کے مقاصد اور اس کے تناسب میں انسانی وسائل پر اپنے اس سروے میں پایا کہ خاص لسانی ناظرین کےلئے شروع کئے گئے اس چینل کے لیے ملازمین کی کوئی مستقل تقرری نہیں کی گئی ہے ۔

آر ٹی آئی سے ملی اطلاعات کے مطابق 80 دوردرشن مرکز، جہاں سے ڈی ڈی اردوکے پروگرام کی نشریات کا عمل انجام پاتا ہے، وہاں پر اس کےلئے نہ تو کوئی عہدہ تشکیل دیا گیا ہے، نہ ہی ملازمین کی تقرری کی گئی ہے۔ ان مراکز پر دوردرشن کےلئے کام کرنے والے ملازمین ہی ڈی ڈی اردوکا بھی کام کرتے ہیں۔ان مراکز پر اردو چینل کےلئے پروگرام بنانے کا بندوبست نہیں ہے۔دہلی میں دوردرشن عمارت میں ڈی ڈی اردو کےلئے 6 مستقل افسر مقرر ہیں۔ ان عہدوں میں ایک نائب ڈائریکٹر جنرل، ایک سیکشن افسر، ایک پروگرام پروڈیوسر، ایک پروڈیوسر، ایک ایڈیٹر اور ایک اے ڈی جی ہیں۔تنظیم کی معلومات کے مطابق اس کے علاوہ دوردرشن عمارت کے ڈی ڈی اردو سیکشن میں 18 ملازمین تعینات ہیں، جو کہ تمام عارضی ہیں علاقائی نشریات مراکز میںتقرریاں عارضی اور ہنگامی ہے۔ اس کے علاوہ دوردرشن کے دہلی مرکز میں اردو چینل کےلئے صرف 6 مستقل ملازمین ہیں، ان میں بھی چار عہدے انتظامی ہیںہے جبکہ دوردرشن کے لکھنو ¿ مرکز میں ڈی ڈی اردو کے پروگرام بنانے والے پینل میں 11، حیدرآباد میں 29، کولکاتہ میں 21 اور پٹنہ میں 6 ملازمین ہیں۔ یہ تمام عارضی یاکیزول بنیاد پر کام کرتے ہیں۔احمد آباد میں اردو کا ایک پروگرام انجمن نشر ہوتا ہے، جو دوردرشن مرکز کے ایک ملازم ایشو دیسائی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان تمام مراکز میں اردو چینل کے فروغ کےلئے نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ ایچ آر کے نام پر کوئی سہولت جس کی بناءپر عام ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

میڈیا اسٹڈی گروپ سے وابستہ ذمہ دارن نے اخباروں کے نام جاری کردہ بیان میں یہاں تک کہا ہے کہ زیادہ تر مراکز میں غیر تشفی بخش کام ہو رہا ہے ۔آر ٹی آئی رپورٹ کے انکشاف کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا گروپ نے اردو چینل کے ساتھ جانبداری پر کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔میڈیا گروپ کے مطابق اردو چینل کے جو مقاصد تھے ان میں رنگ بھرنے کی نہ کوشش کی گئی اور نہ ہی کوئی اقدام جو اردو چینل کے مقاصد تھے ۔میڈیا گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ نشریاتی چینل کے فروغ کے لئے کئی نئی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یہاں پائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ایک چینل کے طور پر ڈی ڈی اردو نے 14 نومبر 2007 سے 24 گھنٹے کی نشریات کی شروعات کی مگر اس میں وہ بری طرح ناکام رہا اورجس کا مقصد اپنے ناظرین کو وراثت، ثقافت، معلومات، تعلیم اور سماجی مسائل پر پروگرام مہیا کرانا تھا ،بالکل فوت ہو کر رہ گیا ۔ چینل کے قیام کے وقت یہ دعوی کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ اردو زبان کو پھر سے مقبول بنانے میں مدد ملے گی،لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ چینل ابھی تک پروگرام تعمیر کےلئے اپنا ڈھانچہ تیار نہیں کر سکا ہے۔ ملازمین کی تقرری نہیں کئے جانے کی وجہ سے اس چینل کو پروگراموں کی تعمیر کےلئے بیرونی ایجنسیوں پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ ڈی ڈی اردو سے نشر ہونے والی خبریں بھی دوردرشن سے ہی لی جاتی ہیں،اردو کے پروگرام کےلئے کسی پالیسی کا نہیں ہونا اصل میں ایک ٹھوس مواصلاتی پالیسی کی کمی سے منسلک ہے۔چوبیس گھنٹے کا یہ چینل ٹھوس پالیسی کے فقدان کی وجہ سے اپنے مقاصد کو حاصلنہیں کر پا رہا ہے۔میڈیا اسٹڈیز گروپ پہلے بھی میڈیا سے متعلق مسائل پر تحقیق اور سروے کرتا رہا ہے۔اس پر اگر اردو والے آواز اٹھاتے اور اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں بنیاد پرست اور نا جانے کیا کیا کہا جاتا ہے لیکن چینل کے تعلق سے یہ باتیں ہم نہیں بلکہ میڈیا کے ایک ایسے گروپ نے کہی ہے جو سبھوں کے درمیان ہمیشہ سے موقر اور معتبر تسلیم کی جاتی رہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ابھی تک حکومت کے اعلی ذمہ داران کی جانب سے کوئی امید افزا بیان تک نہیں آیا ہے ۔افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ڈی ڈی اردو کے اس حشر پر نہ تو کوئی لیڈر پارلیمنٹ میں آواز اٹھا رہا ہے اور نہ ہی کوئی اردو کا خیر خواہ ادھر توجہ دینے کو تیار ہے ۔ہمیشہ اردو کا دم بھرنے اور اپنی تقریروں و بیان بازیوں میں اردو کے حقو ق کی بات کرنے والے بھی خاموش ہیں ۔
    Md.Alamullah
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

گاوں میں کیوں نہیں جانا چاہتے ڈاکٹر؟


گاوں میں کیوں نہیں جانا چاہتے ڈاکٹر؟
 
محمد علم ا للہ اصلاحی


ملک میں برسوں سے یہ شکایت رہی ہے کہ تربیت یافتہ ڈاکٹر گاؤں میں اپنے فرائض انجام دینانہیں چاہتے، جس کے نتیجے میں دیہی ہندوستان پوری طرح نیم حکیموں کے شکنجہ میںجکڑا ہوا ہے۔ اپنے یہاں اوسطا 1،700 کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہے۔ابھی حال ہی میں منصوبہ بندی کمیشن رپورٹ نے بھی کہا تھا کہ ملک میں چھ لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ یہاں ہر سال نئے ڈاکٹر پیدا تو ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی اعلی تعلیم کے نام پر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، جو پھر لوٹتے ہی نہیں،تو کچھ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے شہر ی چمک کے آگے سپر ڈال دیتے اور گاؤں میں اپنی خدمات دینے سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس پر قابو پانے کےلئے حالانکہ حکومت کی جانب سے مسلسل اقدامات کئے جاتے رہے ہیں،مگربدقسمتی یہ ہے کہ اس کے خوشگوار نتائج ہنوز مرتب نہیں ہوسکے ہیں۔ماضی میںڈاکٹروںکو خدمت خلق کااحساس دلاتے ہوئے ملک کی مقتدر شخصیات مثلاً بابائے میزائیل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور صدر جمہوریہ پرتبھا پاٹل وغیرہ نے بھی اپیل کی تھی کہ ڈاکٹر دیہاتوں کی جانب بھی توجہ دیں لیکن اس کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ ہاتھ نہیں آ سکا ۔اس سلسلہ میںیوپی اے سے قبل این ڈی اے کے زمانہ میں بھی بعض کوششیںہوئیں، مگر ڈاکٹروں کا رجحان گاؤں کی طرف نہیں بڑھ پایا ۔ابھی حال ہی میں اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر غلام نبی آزاد نے کہاکہ ڈاکٹروں نے گاؤں نہیں جانے کی ٹھان لی ہے۔ ڈاکٹر اس کےلئے آگے نہیں آ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اب ہم ایسی پالیسی لا رہے ہیں جس سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹروں کیلئے ایک سال گاؤں میں خدمت دینا لازمی ہوگا۔صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر غلام نبی آزاد نے کہاکہ گاؤں میں ڈاکٹروں کی موجودگی بڑھانے کےلئے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹروں کو ایک سال تک گاؤں میں ہی پریکٹس کرنا لازمی کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں ڈاکٹروں کو بھیجنے کے مسئلے کا سامنا سابقہ وزراءکےلئے بھی چیلنج کن رہا تھا،اسی لئے اب حکومت دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی خدمات کو لازمی بنانے کیلئے قانونی تیاری کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے تحت ہر ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو ایک سال تک گاؤں میں رہ کر ہی اپنی پریکٹس کرنی ہوگی اور جلد ہی اسے قانونی طور پر لازم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قانونی دفعات میںترمیم کے بعد دیہی علاقوں میں نہ صرف ڈاکٹروں کی موجودگی بڑھے گی بلکہ دیہی باشندوں کو بہتر صحت کی سہولت بھی دستیاب ہو سکے گی۔اگر ایسا ہوتاہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ گاوں کے اس ملک جس کے بارے میں گاندھی جی نے کہا تھا ” ملک کی ترقی گاؤں سے منحصر ہے گاؤں ہی ترقی ترقی کی اولین دہلیز ہے“ انھوں نے اپنے سوراج کے پیغام کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا اس کا مقصدہے کہ ہر گاؤں ایک مکمل جمہوریہ ہو، اپنی ضروری اشیاء کے لئے وہ کسی کا محتاج نہ رہے اس کے پاس خوراک، کپاس، کھیل کود، تفریح، تعلیم، صحت کی مکمل انتطام ہو“میں تبدیلی آئے گی اور حقیقی معنوں میں گاؤں خود کفالتی اور خودترقیاتی بن سکے گا۔اورتب ہی طاقتورہندوستان کا خواب پورا ہو سکے گا۔لیکن اسے کیا کہیں کہ اس سلسلہ میںحکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود ڈاکٹروں کا رجحان دیہی علاقوں کی طرف نہیں بڑھا ہے، حالت یہ ہے کہ موجودہ وقت میں زیادہ تر ڈاکٹر شہروں میں ہی رہ کر خدمات دینا چاہتے ہیں،ڈاکٹروں کے اسی رویے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں طبی خدمات کی حالت خراب ہے۔حالانکہ اس بابت اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس پر قابو پانے کے لئے حکومت نے سال 2009-10 قانون میں حکومت نے تبدیلی بھی کی ہے اور کہاہے کہ تین سال تک دیہی علاقوں میں خدمات دینے والے ڈاکٹروں کو ایم ڈی ڈپلومہ میں پچاس فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔ساتھ ہی نئے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے دیہی علاقوں میں ایک سال سروس دینے پر ایم ڈی میں دس فیصد، دو سال دینے پر بیس فیصد اور تین سال دینے والوں کو تیس فیصد اضافی نمبر دیے جائیں گے۔سرکار کے اس فیصلہ کو خوش آئند قدم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اس سے ضرور تبدیلی آئے گی یہ الگ بات ہے کہ گاؤں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں یہ قدم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومت کو اس سلسلہ میں استقامت سے کام لینا ہوگا کیونکہ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ آج گاؤں میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی ہے، اس کےلئے کہیں نہ کہیں حکومت کی پالیسیاں بھی ذمہ دار رہی ہےں۔ سرکاری ڈاکٹر گاؤں میں خدمات فراہم کرنے کے بجائے شہروں میں ہی کام کرنازیادہ پسند کرتے ہیںحکومت ڈاکٹروں کو گاؤں میں بھیجنے کےلئے کئی بار سخت قوانین کا بھی سہارا لیتی ہے لیکن اس وقت وہ گاؤں جانے کے بجائے کام چھوڑنا ہی بہتر سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو ان کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج ملک کے تقریبا دو لاکھ سے زیادہ شفا خانوں میں ڈاکٹر ندارد ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا پسندیدہ مقام شہر ہے،ایسے میں دیہی علاقوں میں طبی خدمات کی بدحالی فطری ہے۔یہاں ابھی بھی ملک کی 73 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔اور اس بابت دستیاب صحت کی سہولیات کو اگرجائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ شہروں کے مقابلے 15فیصدبھی نہیں ہے۔مرکزی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 2083 افراد پر ایک ڈاکٹر اور فی 6 ہزار لوگوں پر ایک معاون نرس دستیاب ہونا چاہئے۔ لیکن کیا ایسا ہے نہیں ہر گز نہیں !کہنے کوتو ملک میں ڈاکٹر اور آبادی کا تناسب عالمی ادارہ صحت کی سفارش کے مطابق ہے۔لیکن باوجود اس کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی ہے۔ شہروں میں جہاں 662 کی آبادی کے بر عکس1 ڈاکٹر ہے، تو وہیں دیہی علاقوں میں 8333 کی آبادی کے تناسب سے 1 ڈاکٹر ہے۔ اس مثال سے خودبہ خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں اور آبادی کے تناسب میں کتنا بھاری فرق ہے۔ ملک میںفی الوقت آٹھ لاکھ 56 ہزار 65 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں، ان میں سے زیادہ تر کی خدمات شہروں کی محض 20 سے 30فیصد آبادی کو مل رہی ہے۔ وہیں دیہی علاقوں کے 70فیصد سے زیادہ لوگوںکی رسائی کسی قابل ڈاکٹر تک نہیں ہو پاتی۔ ظاہر ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی اس وجہ سے نہیں ہے کہ ڈاکٹر نہیں ہیں؟ بلکہ یہ ڈاکٹر گاؤں میں جانا پسند نہیں کرتے۔انھیں گاؤں کے بہ نسبت شہر میں کام کرنازیادہ اچھا لگتا ہے۔ایسے میں اب دیر سے ہی سہی وزارت صحت اس سمت میں موثر قدم اٹھانے جا رہا ہے،تو یہ امید بہر حال رکھنی چاہئے کہ اس کے مثبت نتائج بر آمد ہونگے ،جاتے جاتے یہ بات بھی یاد لاتے چلیں کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ طبی خدمات فراہم کرنے کےلئے یو پی اے حکومت نے اپنے گزشتہ دور اقتدار کے دوران قومی دیہی صحت مشن کی شروعات کی تھی۔ اس منصوبہ کا مقصد ملک کے دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں غریب خاندانوں تک قابل اعتماد اور سستی طبی سہولیات مہیا کرانا تھا۔ منصوبہ کا بجٹ کروڑوں روپے ہے لیکن ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے یہ حوصلہ افزا منصوبہ بھی پروان نہیں چڑھ پایا۔ آج بھی ملک میں زیادہ تر بنیادی صحت مرکز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بغیر ڈاکٹروں کے چل رہے ہیں، حکومت کو اس مشن کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے ۔ابھی حال ہی میں وزارت کی ہدایت پر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی طرف سے ملک کے تقریبا تمام اضلاع میں میڈیکل ا سکول کھولنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے ۔جس کےلئے دیہی ڈاکٹروں کے بےچلر آف رورل صحت کی دیکھ بھال کا نصاب بھی مقرر کر لیا گیا ہے ۔جس سے دیہاتیوں کی بیماریوں کا موثر علاج کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور اس جیسے دوسرے منصوبے کو فورا عملی جامہ پہنانا چاہئے دیگر معاملات کی طر ح اس جانب سست روی کسی بھی طرح سے بہتر عمل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونہ صحیح معنوں میں اگرایسے منصوبے پروان چڑھتے ہےں تو ملک کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔یہ یا اس جیسے اور بھی کئی منصوبے جس کا ہم نے ذکر کیا اگر کامیاب ہو جاتے ہیں توایک دو نہیںتقریبا چھ لاکھ سے زیادہ گاؤں کو صحت سے متعلق بنیادی سہولیات ملنی شروع ہو جائے گی،کیونکہ آج کی تاریخ میں گاؤں کی 95فیصد عوام صحت کی سہولیات کےلئے جھولاچھاپ ڈاکٹروں پر منحصر ہے۔جنھیں طبی علم بالکل نہیںہوتامگر حکومت کی جانب سے کوئی سبق آموز کاروائی نہ کئے جانے اور عام آدمی کی طرف سے بھی ان کی موجودگی کی مخالفت نہ کرنے کے سبب معاملہ نازک ہوتا جا رہا ہے اور اس کا مہلک اثر مستقل مریضوںکے اوپر پڑ رہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بڑی تعداد میں بیماریوں کی نہ تو تشخیص ہوپا رہی ہے اور نہ ہی کوئی حل بلکہ الٹامریضوں کو ہی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑرہا ہے ۔مجموعی طور پر آج ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پاٹنا ہے،اس سلسلہ میں بھارتی طبی کونسل نے دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کےلئے، الگ سے ڈگری اور 3 سال تک دیہی علاقے میں خدمات دینے والے طلبہ کےلئے پوسٹ گریجویٹ میں داخلہ کےلئے 25 فیصد سیٹیں محفوظ کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا ہے۔ اس منصوبہ پر صحت و خاندانی بہبود کی وزارت، دو دور کی بات کر چکا ہے اور فیصلہ آخری دور میں ہے۔حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے گاؤں کے غریبوں کا جھولاچھاپ ڈاکٹروں پر انحصار ان کی مجبوری ہے،اگر اس کی اصلاح کے لئے فورا اقدامات نہ کئے گئے تو محض خوبصورت اور اچھے قانون بنا لینے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ ہمارے ملک کی خرابی یہی ہے کہ یہاں قانون اور کمیشن تو بہت بنتے ہیں لیکن جب اس کو عملی جامہ پہنانے کی بات آتی ہے تو پتہ نہیں کیوں ’ٹائیں ٹائیں فش ‘والا معاملہ ہو جاتا ہے ،اور ساری امیدیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔


۔۔۔مزید

برما کے بے خانماں مسلمان



برما کے بے خانماں مسلمان



محمد علم اللہ اصلاحی
  

دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کو بدترین مظالم کا شکار بنایا جاتارہا ہے،یہ ایک کڑوی حقیقت ہے۔مسلمانوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ فلسطین‘ افغانستان اورعراق وغیرہ ممالک میںدراز ہوتا رہاہے، جہاں نہتے اور لاچار مسلمانوںپر ڈھائے جانے والے مظالم پر غیرجانبدار‘ باضمیر اور انصاف پسند حلقوںکی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںاور انسانیت سوز سلوک کے خلاف آوازیںبھی بلند کی جاتی رہی ہے، لیکن دنیا میں متعدد ممالک ایسے بھی ہیں جہاں مسلمان ناقابلِ بیان مسائل و مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے حق میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ ”وہ مردہ بہ دست ِزندہ“ کے مصداق اذیتیں سہنے پر مجبور ہیں۔مزید یہ تصویر اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب برما کے مہاجرین سے دہلی میں ملنے اور ان کی حالت زار کو جاننے کا ایک موقع ملا۔ جہاں پناہ گزیںکی حیثیت سے 150سے زائد بچے بیمار ہیں اور انھیں فوری علاج کی ضرورت ہے، اگر انھیں طبی و غذائی سہولیات مہیا نہ کی گئیں تو ان کی بڑی تعدا د اپنی جان بھی گنوا سکتے ہیں ۔جہاں کے بدنصیب مسلمانوں کو سفاک فوجی حکومت کے رحم و کرم پر 623 خاندان کے 1200 افراد پر مشتمل افراد انتہائی نا گفتہ بہ حالت میں زندگی گذار رہے ہےں،400 عورتیں اور300 بچوں پر مشتمل ان افراد کے پاس ہے نہ تو انھیں پانی، کھانا، انسانی ضروریات اور طبی سہولیات حاصل ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ایک عام انسان کا معاملہ کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ میںبھی ان کے بارے میں نہ کوئی خبر دی جارہی ہے نہ رپورٹ۔

حالانکہ یہ بات مخفی نہیں ہے کہ برما کے مسلمانوں کی اپنی تاریخی حقیقت رہی ہے۔ یہاں مسلمان نویں صدی عیسوی میں اس وقت آئے تھے ،جب اسلام پوری آب و تاب کے ساتھ عرب،فارس،یورپ اور چین میں اپنی لازول کرنیں بکھیر رہا تھا،اسی وقت برما میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے محمد حنفیہ کے ذریعہ اس آفاقی مذہب کی آمد ہوئی اور یہاں کے عوام اخوت ،محبت اور انسانیت سے لبریز دین اسلام سے متعارف ہوئے تھے ۔فی الحال برما کے مسلمانوں کی آبادی جو کہ عربی،فارسی ،ترکی،ہندوستانی ،چینی ملایائی نسل پر مشتمل ہے کیچن،کایا،کاین اور چین وغیرہ میں آباد ہیں، وہاں کے اصل باشندوں کی طرح برمی مسلمانوں کے نام سے آباد ہیں ۔برمی مسلمانوں کا مطلب وہ تمام مسلمان ہیں جو برما میں وہاں کے قانون،دفعہ ،ذات اور مذہب کے اعتبار سے وہاں کے اصل الاصول باشندے ہیں ۔وہاں کے مسلم قائدین کے بقول ایک اندازے کے مطابق 2006 میں وہاں کی آبادی 30فیصد سے بھی زائد تھی (تفصیل کے لئے دیکھئے :یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ 2006انٹرنیشنل رلیجنس فریڈم رپورٹ )برما کے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 8 لاکھ ہے جو شہریت کے حق سے بھی محروم کردیے گئے ہیں اور انہیں گندی پسماندہ بستیوں تک محدود کردیا گیا ہے جن میں وہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کررہے ہیں۔ بہتر زندگی اور روزگار کی تلاش میں جان پر کھیل کر کشتیوں کے ذریعے راہِ فرار اختیار کرنے والے اکثر افراد سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوجاتے ہیں‘ جب کہ باقی ماندہ لوگ تھائی لینڈ بحریہ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور غیر قانونی نقل مکانی کی پاداش میں جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں یا انہیں کھلے سمندر میں واپس ڈھکیل دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کے اردو اخبارات میں جو رپورٹیں آ رہی ہیں ان سے رونگٹے کھڑے کردینے والے حالات کا پتا چلتا ہے جن سے روہنگیا مسلمان دوچار ہیں۔ حالانکہ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہاں کے مسلمان شروع سے ہی امن پسند،روادار اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے آئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ برما کا جب قیام عمل میں آیا تو وہاں کی انتظامیہ میں بڑے افسران کے طور پر مسلمانوں کی تقرری ہوئی جسے انھوں نے بطرز احسن نبھایا۔ یہاں پر بتا دیں کہ برما ایک بدھ مذہب کے ماننے والوں کا اکثریتی ملک ہے لیکن اس کے باوجود جب یہ ایک نئے اسٹیٹ کے طور پردنیا کے نقشہ پر ابھرا تو یہاں کے اقلیتوں کو اس بات کی مکمل آزادی دی گئی کہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق مذہب کو قبول کریں اوراس کے مطابق زندگی گزاریں، آئین کے مطابق بغیر کسی خوف اور ڈر کے اپنے عقیدے اور ثقافت کو فروغ دیں ۔لیکن صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو فی زمانہ معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔خاص کر 1962میں جنرل نی کے اقتدار میں آنے کے بعدجان بوجھ کر بلکہ منظم طریقہ سے مسلمانوں کو اعلی عہدوں سے معزول کیا گیا اور سینکڑوں ہزاروں مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ برما چھوڑ دیں ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے مسلمان بے یار و مددگار تیسرے درجہ کے شہری بن کر رہ گئے ، اس سفاکانہ حکومت کے ذریعہ مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی ،مسلم اسکولوںپر پابندیاں عاید کی گئیںاور مذہبی عمارتوںکی تعمیرپر روک لگا دی گئی۔حد تو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید اور دیگر اسلامی لٹریچر کی نشر و اشاعت پر بھی قدغن لگا دیا گیا۔ یہاں مسلمانوں کو گوشت، انڈہ، مچھلی وغیرہ کھانے تک پر پابندی ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد پر پڑے بے گھر 4 لاکھ مسلمان شادیاں تک نہیں کر سکتے۔جون 2005میں منتظمین نے ٹان شپ اورشیوپیتھااور رنگون ڈیویژن جیسے علاقوں سے آٹھ مسلمانوں بشمول امام مسجد کو اس بات پر گرفتار کر لیا تھا کہ انھوں نے اپنے گھر میں نماز پڑھائی تھی ۔

یہاں کی حکومت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کی معیشت و سیاست کو تباہ کرنے کےلئے ہر وہ ہتھکنڈے اپنائے جو ممکن ہو سکتے تھے۔ اس کےلئے انھوں نے وہاں کے مقامی لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے اور ان کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کےلئے یہ افواہ اڑائی کہ بدھ کے مجسمہ میں مسلمانوں نے عورتوں کے ناپاک کپڑے رکھے ،مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور بڑے پیمانہ پر اس بات کی جھوٹی تشہیر کی گئی کہ ہر جمعہ کو بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلام قبول کرایا جاتا ہے ۔اور یہ بھی کہ اگر ایک مسلمان لڑکا کسی بدھ لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے مساجد سے تعاون دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اگر لڑکی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو اسی اعتبار سے امداد میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔مسلمانوں کو پیدائشی سرٹیفیکٹ دینے میں بھی عصبیت کا رویہ اپنایا گیا بلکہ ستوے اور رکھائن جیسی ریاستوں میں تو 2005میں زبانی طور پر یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ مسلم بچوں کو پیدائش کا سرٹیفیکٹ اجراءہی نہ کیا جائے ۔اس بابت رنگون کے مسلمانوںکو احتجاج کے بعد سرٹیفیکٹ دیا گیا لیکن وہاں کی مقامی حکومت نے اس بات کی اجازت تب بھی نہ دی کہ مسلم بچوں کا نام ہاس ہولڈ رجسٹر پر درج کیا جائے ۔وہاں کے مسلمانوں کو نیشنل رجسٹریشن کارڈ بھی جاری نہیں کئے جاتے اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ بدھ مذہب کو قبول کر لے ۔

ابھی حال ہی میں یہاں کی حکومت نے ان مسلمانوں کےلئے ایک الگ قسم کاشناختی کارڈ جو انھیں یہاں کے دیگر شہریوں سے ممیز کرتا ہے ،جاری کیا ہے۔ان سب کے علاوہ عام کام کی جگہوں اور فوج میں بھی مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا رویہ اپنایا جاتا ہے ۔مسلمانوں کو فوج میں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی اس وقت تک کہ وہ اپنے مذہب کو تبدیل کر لے ۔ملازمت کےلئے بھی آفیسرز کو کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب تبدیل کرے مع اپنی بیوی بچوں کے تبھی اسے ملازمت کا اہل قرار دیا جائے گا ۔ اسکولوں میں بھی اس قسم کا رویہ کم نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جنرل ون کے سوشلسٹ پروگرام پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مانگ جب وزیر تعلیم بن کر آئے تو اپنے عہدہ کی بر قراری کےلئے اپنے من کی خوب بھڑاس نکالی۔ اس کےلئے انھوں نے تمام پبلک اسکولوں میں بدھ مذہب کے مخصوص ترانہ اور ان کے مذہبی دعاں کو ہر طالبعلم کےلئے پڑھنا لازمی قرار دے دیا ۔اس سلسلہ میں چند طلباءنے جب اعتراض جتایا تو انتظامیہ نے مئی 2005میں وہاں کے طلباءکو اس بات پر زبردستی مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسے پڑھیں ورنہ انھیں اسکول سے نکال دیا جائے گا ۔مسلمانوں کے پرائیوٹ اسکولوں پر بھی پابندی عاید کی گئی اور ان کے اوپر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ان اسکولوں میں مذہب تبدیل کرانے کاکام کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں وہاں کی حکومت نے کئی مسلم رہنما کو گرفتار بھی کیا۔ خاص کر جنوبی ٹاونشپ علاقہ میں جو مسلم بچوں کو اپنے گھروں میں قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔

برما کے مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی ہر اس تحریک کو ہوا دی گئی جو انھیں بے دست و پا کرنے کے لئے کام کرتے تھے ۔یہاں کی حکومت نے برما کے مسلمانوں کو تقسیم اور حکمرانی کی پالیسی کے تحت ہدف کا نشانہ بنایا ۔اس بابت مسلم مخالف سرگرمیوں میں 2000کے بعد زیادہ اضافہ ہوا ۔گزشتہ 6 سالوں میں تقریبا ایک ہزار مسلمانوں کے گھروں اور 30سے زائد مساجد کو پانچ مسلسل مذہبی فسادات کے دوران تباہ کیا گیا ۔برما میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی جو آندھی گزشتہ 20 سال سے چل رہی ہے، اس میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسلمانوں پر جو ظلم و جبر برما میں روا رکھا گیا ہے، وہ دنیا کے کسی خطے میں یا تاریخ انسانی میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لیکن ان سب کے باوجود اس حوالے سے کہیں کوئی تذکرہ تک دیکھنے سننے کو نہیں ملتا۔ برمی مسلمانوں کی بدترین صورتحال پر ہر طرف خاموشی بھیانک جرم سے کم نہیں۔ اس سلسلہ میں بین الاقوامی طور پر حقوق انسانی کےلئے کام کرنے والی تنظیموں کا رویہ بھی افسوس ناک ہے ۔کافی شور اور ہنگامہ کے بعد گرچہ ہندوستان کی بعض مسلم تنظیموں نے اس جانب پہل کی ہے لیکن ان کی سست روی بھی کسی مثبت مستقبل کی جانب اشارہ نہیں کرتی ہے ۔ اس سلسلہ میں یو این او کی جانب سے بھی مداخلت کی جانی چاہئے تھی،لیکن بدقسمتی سے ایسی کسی پیش رفت کا کوئی احساس نہیں ہورہا ہے۔


۔۔۔مزید

طلبہ یونین پر پابندی یا نوجوان قیادت کا خاتمہ؟



        طلبہ یونین پر پابندی یا نوجوان قیادت کا خاتمہ؟

محمد علم اللہ اصلاحی 

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس جیسی ملک کی دیگر کئی یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کی بحالی کے مطالبےاورعام آدمی کے اس میں دلچسپی لینے کے عمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج ہمارے ملک میں ہر   کسی کو ایک ایسے لیڈر کی تلاش ہے ، جو عوام کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے حکومت کو بہتر ڈھنگ سے چلا سکے اور جمہوریت کے مقاصد کے حصول کے لئے پختہ عزم ،مضبوط قوت ارادی اور مثبت طرز فکر کاحامل ہو۔عوام کوامید ہے کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں بڑھتی سرمایہ پرستی ، نسل پرستی اور مافیا کی طرح کام کرنے والے عناصر کو چیلنج کرنے میںجمہوریت کے مختلف مکتب فکر اور تعلیمی اداروں سے تربیت یافتہ نیز پڑھے لکھے لوگ ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی زیادہ تر یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کے انتخابات پر پابندی عائدکر دی گئی ہے۔اس بابت اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیںہوگا کہ اس پابندی کے پیچھے طلبا کو ملک کے مسائل سے لا علم رکھنے کی حکمت عملی کام کر رہی ہے۔کیونکہ آج ملک میں بڑے کارپوریٹ گھرانوں اور کثیر ملکی کمپنیوں کا بول بالا ہو گیا ہے اور ہمارے سیاستداں بھی انھیںکے اشاروںپر کام کر رہے اور انھیں کے مفادات میں فیصلے لئے جارہے ہیں،جیسا کہ وکی لیکس،ٹوجی اسپکٹرم،سوئز بینک میں ناجائزپیسوں کا حاصل جمع اورراڈیا ٹیپ جیسے انکشافات نے حقیقت واضح کر دی ہے۔ظاہر ہے ایسے میں جب بے خوف اوربا خبر تعلیم یافتہ رہنما قومی سیاست میں آئیں گے تو وہ سوال پوچھیں گے، تحریک چلائیں گے اور ان کا قلع قمع کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے یقینا بد عنوانوںکے مفاد متاثر ہوں گے اور ان کے کاز کو زک پہونچے گی اور وہ اپنی روش بدلنے پر مجبور ہونگے ۔

 لیکن اسے ہمارے ملک کا المیہ ہی کہا جائے گا کہ یہاں ناخواندہ نوجوان توپارلیمنٹ میں اپنا نمائندہ منتخب کر سکتے ہیں ، لیکن تعلیم یافتہ طلبہ کیمپس میں اپنا نمائندہ نہیں چن سکتے۔ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، لیکن جمہوریت کی پہلی سیڑھی کو ہی ہم منہدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طلبہ یونین جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے ۔اس کے ذریعہ طلباءکی سیاسی تربیت اوران کے اندر قیادت کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ آج ملک کے تقریبا تین سو یونیورسٹیوں اور پندرہ ہزار کالجوں میں سے 80 فیصد یونیورسٹیوں میں طلباءیونین نہیں ہے۔کئی ریاستوں نے طلبہ یونین انتخابات پرکلیتا قدغن لگا رکھی ہے۔جوطلباءکے جمہوری حقوق پر حملہ اور ملکی مفاد کے لئے بھی خطرناک ہے۔ یہ اپنے آپ میں بھی متضاد امر ہے کہ ایک طرف تو آپ 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو عوامی نمائندہ منتخب کرنے کے لئے ووٹ دینے کا حق دیتے ہیں، وہیں دوسری جانب طلبہ یونین الیکشن پر پابندی لگا دی جاتی ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے....؟ کہ ملک کاایک طالب علم پارلیمنٹ اور لوک سبھا کے لئے عوامی نمائندے انتخاب کر سکتا ہے لیکن اپنے کالج میں اپنے لئے نمائندہ نہیں چن سکتا۔اس کی دلیل میں حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اس سے یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑا بن جاتی ہیںاور غنڈہ گردی و منفی رویوں کوفروغ حاصل ہوتاہے،جس سے لاءاینڈ آرڈر کو برقرار رکھ پانا مشکل ہو جاتا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی خامیاں قومی سیاست میں نہیں ہوتیں؟ کیا اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کرسیاں نہیں اچھالی جاتیں ؟شور و ہنگامہ آرائی نہیں ہوتی ؟کیا وہاں ممبران کے درمیان زور آزمائی اور ہاتھا پائی نہیں ہوتی ؟کیا آئے دن ملک میں ہندو مسلم کے نام پر فسادات اور جھوٹی سیاست کی خاطر لا ءاینڈ آرڈر کا معاملہ پیش نہیں آتا تو کیا ایسی صورت میں حکومت ہمیشہ کے لئے انتخابی نظام کو ختم کر دیتی ہے ؟نہیں ایسا نہیں ہوتا تو پھر صرف طلبہ یونین کے انتخابات پر ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ بیماری دور کرنے کے بجائے مریض کو مارنا کہاں تک منصفانہ عمل ہے؟

یہاں بات صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہی نہیں ہے بلکہ حالت یہ ہے کہ ملک کی زیادہ تر ریاستوں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔یہاں تک کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کو نافذکرنے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود زیادہ تر ریاستی حکومتوں اور یونیورسٹی انتظامیہ نے سست روی سے کام لیا ہے اور حقیقتا طلبہ یونین بحال کرنے اور ان کا انتخاب کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا ئی ہے۔طلباءیونین اور طلبائی سیاست کے تئیں یونیورسٹیوںکے وائس چانسلروں کے ایسے رویوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں راہل گاندھی کے میمورنڈم پر فروغ انسانی وسائل کے وزیر کپل سبل کی فوری انتخابات کرانے کی ہدایت کوجامعہ سے لے کر بی ایچ یو تک کے تمام وائس چانسلروں نے انگوٹھا دکھا دیا، لیکن اس کے باوجود اس پر مکمل خاموشی چھائی رہی اور کسی نے اس بابت کوئی اقدام نہ کیا ۔

اس معاملہ میں طلباءکی یہ شکایت بالکل بجا ہے کہ کوئی بھی وائس چانسلر، یونیورسٹی انتظامیہ اور اس سے منسلک اعلی افسران طلبہ یونین نہیں چاہتے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ کوئی یونین نہیں چاہتے ، چاہے وہ ٹیچر یونین ہو ملازم یونین ،نن ایجوکیشن یونین یا پھر طلباءیونین لیکن یونیورسٹی حکام ان سبھی میں سب سے زیادہ طلبہ یونین سے ہی خار کھاتے ہیں۔اس سلسلہ میں یونیورسٹی انتطامیہ کا یہ الزام کہ طلبہ یونین کیمپسوں میںغنڈہ گردی ، لاقانونیت ، توڑ پھوڑ ، ذات برادری ،علاقہ پرستی کا فروغ ہوتا ہے اور طلباءغیرتعلیمی سرگرمیوںپرزیادہ توجہ دینے لگ جاتے ہیں۔ جس سے پڑھائی لکھائی کے ماحول پر اثر پڑتا ہے۔ اوریہ شکایت بھی کہ اس سے کیمپسوں میں سیاسی ماحول بڑھتا ہے۔ اس سے طلباء، اساتذہ اور ملازمین میں کھینچ تان اوررسہ کشی شروع ہوجاتی ہے نا درست نہیںہے اور یہ کہ ان الزامات اور شکایات میں دم نہیں ہے۔ یقینا ان کا فرمایا ہوا مستند ہے اور بہت حد تک سچائی پر مبنی بھی کہ گزشتہ کچھ دہائیوں میں طلباءسیاست سے سماج اور نظام میں تبدیلی کے خوابوں ، امیدوں ، خیالات اور عزائم کے کمزور پڑنے کے ساتھ مجرمانہ ذہنیت ،فرقہ واریت اور اس جیسے دوسرے سماج مخالف رویوںکا رجحان بڑھا ہے اور اس کی وجہ سے طلباءیونین کا بھی زوال ہوا ہے۔ اس سے عام طالب علموں کی طلباءیونین اور سیاست سے نفرت بھی بڑھی ہے۔اور یہ بھی کہ زیادہ تر یونیورسٹیوں میں طلباءیونین کے خاتمہ کا پیش لفظ خود طلباءنے ہی لکھا ہے اور وہی غیرسماجی عناصر سے ملکر تخریبی افعال انجام دئے ہیں ۔

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ ترکیمپسوں میں انہی وجوہات کی بنا پر عام طالب علم ، استاد اور ملازمین بھی سیاست سے خوف کھانے لگے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹیوں کے اہلکاروں نے اس کا ہی فائدہ اٹھا کر کیمپسوں میں طلباءسیاست کا شیرازہ بکھیرا اوریونینوں کاخاتمہ کیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طلبائی سیاست اوریونین کے اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس میں اعلی اخلاقی اقدار کے دعوے دار سیاستدانوں ، افسران اور یونیورسٹیوں کے عہدے داروں کا کوئی کردار نہیں ہے؟سچ یہ ہے کہ طلبہ سیاست کو بدعنوان ، موقع پرست ، گندی ذہنیت اورغنڈہ گردی کا اکھاڑا بنانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری کانگریس ، بی جے پی اور مین اسٹریم کے دیگر سیاسی جماعتوں کے ذیلی تنظیموں،این ایس یو آئی ، اے بی وی پی،ایس ایف آئی اور اس جیسی دوسری طلباءتنظیموں کا ہے جنھوں نے ایسے عناصرکو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ یہ کھلے سانڈ کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ،جو کبھی رام راج کے نام پر لاٹھی ڈنڈا چلاتے تو کبھی نو نرمان کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بناتے تو کبھی کشمیر و ایودھیا کے نام پر عام افراد کی زندگی اجیرن کرتے ہیں ابھی حال ہی میں معروف وکیل پرشانت بھوشن پر کشمیر کے ایک معاملہ کو لیکر بیان دینے پر جان لیوا حملہ بھی اسی کھلی چھوٹ اور سرپرستی کا نتیجہ ہے ۔یہاں پر میں یہ بھی کہونگا کہ ان طلبہ تنظیموں اور ان کے لیڈروں کو یونیورسٹیوں کے افسران اوروائس چانسلروں نے بھی بدعنوان بنایاہے تاکہ ان کے کالے کرتوتوں پر پردہ پڑا رہے اوران کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں پر طلبہ یونین انگلی نہ اٹھائے۔کئی یونیورسٹیوں کو قریب سے دیکھنے کی بنیاد پر دعوی کے ساتھ کہاجا سکتا ہے کہ طلباءسیاست اوریونینوں کو بدعنوان بنانے میں یونیورسٹیوں کے بدعنوان افسروں کا بہت بڑاکردار رہا ہے تو اس میں وہ سیاستداں بھی پیچھے نہیں ہیں ،جنہوں نے طلبہ یونین عہدیداروں کو”کھلاو ¿ پلاو ، بدعنوان بناو ¿ ، بدنام کرو اور نکال پھےکو“کی حکمت عملی کا شکار بنایاہے۔اس حکمت عملی کے تحت طلبہ یونین عہدیداروں کو افسروں نے ہی پیسے کھلائے ، ان کی غنڈہ گردی کو نظر انداز کیا ، انہیں من مانی کرنے کی چھوٹ دی ، پھر ان سب کے لئے انہیں طلبا کے درمیان بدنام کرنا شروع کیا اور جب یہ لگا کہ یہ لیڈر طلباءولن بن گئے ہیں تو انہیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا۔اس میں وہ اس لئے بھی کامیاب ہوئے کیونکہ طلباءسیاست کے ایجنڈے سے جب اعلی منزل کا ہدف ، مثالی کردار ،اورمستقل جدوجہد غائب ہو گئی تو طلبہ تنظیموں اور طلبہ لیڈروں کو بدعنوان بنانا آسان ہو گیا۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ طلباءیونین کے ختم ہو جانے کے باوجود کیمپسوں میں رام راج آ گیا ہے یا امن اور سلامتی قائم ہو گئی ہے ۔مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ہی لے لیجئے جہاں گزشتہ دس گیارہ سالوں سے یونین کے انتخابات نہیں ہو ئے ہیں۔سچائی یہ ہے کہ یونین کے ختم ہونے کے بعد سے ان یونیورسٹیوں نے نہ تو تعلیمی برتری کا کوئی ریکارڈ بنایا ہے اور نہ ہی وہاں بدعنوانی اور بے ضابطگیاں ختم کی ہیں،بلکہ زیادہ تر یونیورسٹیوں میںطلباءکے جذبات کو اس قدر کچلا گیا ہے کہ وہاں پڑھائی لکھائی کے علاوہ باقی سب کچھ ہو رہا ہے۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت والی ریاست بہار کی کسی بھی یونیورسٹی میں گزشتہ 25 برسوں سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں اس کے کیا نتائج بر آمد ہو رہے ہیں اسے جاننے کے لئے جے این یو ، ڈی یو اوراے ایم یو وغیرہ جوملک کی کئی بہترین یونیورسٹیوں میںشامل ہیں کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں طلبہ یونین ہیں اوریہ وہاں کے تعلیمی ماحول کے لازمی حصے ہیں۔ ان کے ہونے سے ان کیمپسوں میں دانشورانہ بحث اور غورو فکراور صلاح و مشورہ کا ایسا ماحول بنا رہتا ہے جس سے سیاسی اور شعوری طور پر آگاہی اورشہریوں کی نئی نسل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کیمپسوں میںطلباءسیاست اوریونینوں کا ہونا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اسے اسے قانونی طور پرعملی جامہ پہنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

 آخر یونیورسٹیوں اور کالجوں کے منصوبوں میں طالب علموں کی شرکت کیوں ہونا ضروری نہیں ہے؟ ، طلباءکی سیاسی تربیت میں برائی کیا ہے؟ کیا انہیں ملکی سماج کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لینا چاہئے؟تصور کیجئے !سیاست سے عاری نوجوانوں کی جو کل ملک کے شہری ہوں گے ، وہ کیسے جمہوریت چلائیں گے؟ ان نوجوانوں کی سیاست سے بد ظنی کل اگر عام سیاست سے بدظنی میں بدل جائے تو کیا ہوگا ؟ صاف ہے کہ طلباءیونین کی مخالفت ، نہ صرف غیر جمہوری بلکہ تانا شاہی کی وکالت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ صرف اساتذہ اور ملازمین ہی نہیں بلکہ طلبہ کو بھی یونیورسٹی کے پالیسی طئے کرنے والے تمام منصوبوں میں حصہ داری دی جائے۔ اس سے کیمپسوں میں موجودہ بدعنوان نوکر شاہوں کی جگہ صاف شفاف اورہر ایک کی حصہ داری پر مبنی نظام بن سکے گاجیسا کہ ہندوستانی نشاة ثانیہ کے نقیب رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا ،”جہاں دماغ بغیر خوف کے ہو ، جہاں سر اونچا ہو ، جہاں علم آزادہو، اسی آزادی کے جنت میں ، میرے رب !میرا ملک (یا یونیورسٹی) آنکھیں کھولے“۔اس آزادی کے بغیر کیمپسوںمیں صرف پیسہ جھونکنے یا انہیں پولیس چوکی بنانے یا غیر ملکی یونیورسٹیوں کے سپرد کرکے پلہ جھاڑ لینے سے بات بننے والی نہیں ہے


۔۔۔مزید

ضیا اعظی اور اس کا عکس خیال



ضیاء اعظی اور اس کا عکس خیال

 محمد علم اللہ اصلاحی

تصویر: ضیاء اعظمی 
اردو زبان کی تاریخ ا گرچہ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے ،لیکن اس کے باوجوداتنی کم مدت میں اس زبان نے لوگوں کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے وہ دراصل اس کی چاشنی اور لطافت کے سبب ہے اور اس کی اس خوبی کو بر قرار رکھنے میں بڑی حد تک ان تخلیق کاروں کی خدمات کو دخل ہے جو بغیر کسی نام و نمود کے دیار غیر میں بھی رہ کر اس زبان کی آبیاری میں مصروف ہیں،ایسے حالات میں کسی زبان کے بارے میں س خدشہ کا اظہار کرنا کہ یہ زوال پذیر ہے قطعاً درست نہیں ہوگا کیوںکہ اس کے چاہنے والوں نے اس کی تاثیر کوصرف اپنوں ہی تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیروں کو بھی اس سے متاثر کیا ہے ،جبھی تو بر صغیر ہی کی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہ زبان نہ صرف بولی ،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے بلکہ اس کی تہذیبی روایات بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ باقی ہیں اور وہاں بھی رسائل و جرائد کے علاوہ باقاعدہ اردو زبان میں ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ مشاعرے کا بھی رواج زندہ ہے جو کسی بھی زبان کے بقاءکی ضمانت کے لئے کافی ہیں، لیکن اس ماحول میں جہاں لوگ اس سے بہت زیادہ آشنا نہ ہوں اور انھیں خود اپنی زبان کے بقاء کی فکر ہو اپنی حیثیت تسلیم کرا لینا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔

خیالوں میں گم اپنے آفس میں نوجوان شاعر ضیاء اعظمی۔

لیکن بعض لوگوں نے وہاں بھی ا پنی شناخت قائم رکھی ہے اردو ادب و شاعری کے چراغ کوروشن کیا ہے، ان میں ضیا ءالرحمان ضیاء اعظمی بھی ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ،پرورش اور تعلیم بھی یہیں ہوئی، لیکن معاشی مسائل نے انھیں یہاں جگہ نہیں دی اور وہ اسی کی تلاش میں دیار غیر یعنی سعودی عرب پہنچ گئے لیکن تصنیف و تالیف اور شاعری کا ذوق وہاں بھی مدھم نہیں پڑا اور اپنے اس شوق کو وہاں بھی انھوں نے بر قرار رکھا وہ خود کہتے ہیں ”خامہ فرسائی کا شوق تھا اس لئے مدرسہ سے فراغت کے بعد ادارہ تحیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ سے وابستگی اختیار کی لیکن وہاں کے انتظام سے اطمینان نہ پاکر دارالمصنفین اعظم گڑھ کا رخ کیا شبلی منزل کی فضا، رفقا کا انکسار، ناظم ادارہ مولانا ضیا ءالدین اصلاحیؒ کی شفقتوں نے گرویدہ کرلیا، کم تنخواہ کے باجود تقریباً چارسال تک پروف ریڈر کی حیثیت سے وہاں خدمت کی، گو آج مےں وہاں نہیں  ہوں پھر بھی خود کو وہیں تصور کرتاہوں، مجھے وہاں کے در و دیوار تک سے عشق ہے، کیوں  کہ وہ شبلی کا دیار ہے اور مجھے شبلی، ان کے فکر ، ان کی تحریر اور ان کے شعور سے عشق ہے جن کے فےض سے مدرسة الاصلاح کا تعلیمی خاکہ دیگر روایتی  مدارس سے فائق، منفرد اور قوم کے لئے مفید ہے۔ لیکن ان ذمہ داریوں سے کیوں کر دست کش ہواجائے جو گھر کے بڑے پر عائد ہوتی ہیں، چناں چہ تلاش معاش کے لئے دل میں دارالمصنفین سے علاحدگی کا 
غم لے کر نکل پڑا اور آج تک تلاش معاش اور غم فراق ساتھ چل رہے ہیں“۔




.اپنے آبائی وطن دوباواں میں ضیاءاعظمی  
شعر و سخن کا ذوق انھیں ورثہ میں ملا ہے جس کا اعتراف ضیاء خود ان الفاظ میں کرتے ہیں ” شعر وسخن سے لگاﺅ مجھے والدین سے ملا،بچپن مےں اپنے والد کے پاس سوتاتھا، جب تک ان سے کوئی غزل نہ سن لوں مجھے نیند نہیں  آتی تھی، دن کے اوقات میں امی ابوالاثر حفیظ جالندھری کی” شاہنامہ اسلام“ بڑے درد وسوز سے پڑھتی تھےں، مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ جب امی حضور سفرطائف کے واقعات پڑھ رہی تھیں تو زارو قطار رو رہی تھےں،امی کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگا، مجھے بھی احساس تھا کہ یہ رونا کیوں کر ہے، تربیت کے ان ہی مراحل سے گذر کر مذہبی شعور مےں پختگی آئی اور اللہ اور اس کے رسول اکی محبت نے دل میں گھر کر لیا  ساتھ ہی ریاض شعر وسخن کی آبیاری بھی ہوئی، مولانا ابوہارون مجاہداعظمی نے عروض کی درستگی کرائی اور استاذ محترم مولانا انیس احمد اصلاحی نے حوصلہ افزائی اوراصلاح کی، یوں”نکھرتاہے مزاج روزگار آہستہ آہستہ “کے مصداق ذوق پروان چڑھا اور شعر موزوں کرنے کی یک گونہ اہلیت ہو ئی، ویسے بھی قلبی تسکین  اور زندگی سے وابستگی سے اظہارکے لےے ہی شاعری سے شغف ہے، ممکن ہے اس میں کسی کے لئے افادیت کا کچھ مواد بھی ہو جس کی مجھے خبرنہیں، انسانوں کی اس بھیڑ میں قحط الرجال کا 
:رونا کچھ اس طرح ہے

ادائے دل بری سے فصل لہراتی ہے کھیتوں میں 
مگر باد خزاں میں اے خدا تاثیر کتنی ہے
بھری ہیں بالیاں بیجوں سے
لیکن بیج ہلکے ہیں 
گاوں کی سبزہ زاروں کا نظارہ کرتے ضیا اعظمی 
ضیا ءاعظمی نے شاعری کے تقریبا تمام ہی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور حمد و نعت کے ساتھ نظم ،غزل،مرثیہ ،مدح ،قطعہ اور ترانوں کے دفاتر جمع کر دئے ہیں، جس میں انھوں نے زندگی کے حقائق کو خوش اسلوبی سے برتنے کی کوشش کی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ اس میں تنقید اور بحث کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے باوجود ضیاء اپنی نظموں اور ترانوں کے ذریعہ مسلمانوں کوعظمت رفتہ اور نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں ،عام طور پر حمد اور نعت گوئی میں شعراءفرق نہیں کر پاتے اور اچھے اچھے اس میں کہیں نہ کہیں گرفت میں آ ہی جاتے ہیں لیکن ضیاء یہاں بھی اپنے دامن کو 
  : بچا لے جاتے ہیں ،ان کے یہ نعتیہ اشعارملاحظہ ہوں


دعا ئے    خلیل  اور   نوید  مسیحا   ، ذرا  دیکھئے  کیا  اثر  لا ر ہی  ہے
وہ  فاراں کی چوٹی سے رحمت کی بدلی،اٹھی جارہی ہے  بڑھی جارہی ہے
سراپا   محبت   ،   سراپا   عنایت   ،  سراپا  شرافت    ،     سراپا  سخاوت
یہ  بزم  نبوت ہے  ،   شمع رسالت  ،   ہدایت  کے   انوار    پھیلا رہی  ہے
مشام   رگ جاں م عط ر ہیں  میرے ،   سلامت  رہے   گلشن  دین  و ایماں
ضیاء وہ لگن میرے دل میں لگی ہے،تپش جس کی سورج کو گرمارہی ہے

ضیا ء الرحمان ضیا ء اعظمی کی عمر بہت زیادہ نہیں ہے لیکن ان کی شاعری بڑے اور قادر الکلام شعراءکی یاد تازہ کردیتی ہے ،ضیاءکی پیدائش 15 کتوبر 1981 کو اعظم گڈھ کے ایک چھوٹے سے گاوں دوباواں میں ہوئی ،ضیاء اپنی  شاعری کے بارے میں کہتے ہیں

 ضیا اعظمی خوشگوار موڈ میں 
.چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے
کم سنی میں  یہ تن و توش  الٰہی توبہ
کون ہووے گا بڑھاپے میں سہارا  کہئے
چھوڑ  کر جام و سبو، ذکر  بہاراں کیسا
گرکہیں ہے یہ چلن،کیوں اسے زیباکہئے
لوگ کہتے ہےں گہرہائے ندامت جن کو
باعثِ  خو   شنو دی   بارِ   الٰہا    کہئے


:ایک جگہ اور کہتے ہیں

نہ  یہ    داستان   غم   ہے ،  نہ   فسانہ   محبت
نہ  ہے  گیت  بل   بلوں   کا  ، نہ   ترانہ   محبت
ائے خدائے عشق مجھ پر،یو ں تمام کردے نعمت
میرے دل میں بھر دے  سارا،   تو  خزانہ  محبت

شہر اعظم گڈھ کے شبلی منزل ( دارالمصنفین ) میں گذارے ہوئے ایام کو کچھ 
 : اس انداز میں یاد کرتے ہیں


سرزمینِ حجازِ اعظم گڈھ
تیری صبحیں بڑی سہانی ہیں
اےک گھر سےنکڑوں ہیں دروازے
اور سب محوِ دُرفشانی ہےں
جوئے تخئیل ہے رواں یثرب
گویا آئینے پانی پانی ہیں

مدینۃ الرسول میں ضیا اعظمی
ضیاءالرحمان اعظمی نے اپنے دونوں ناموں یثرب اورضےاءکوتخلص کے طور
 پر اپنایا ان کی نانی جان نے ان کا نام ےثرب تجوےز کےاتھااور والد محترم نے ضیاءالرحمن اور الحمدللہ آج وہ اسی ملک میں مقیم ہیں جہاں یثرب (مدینة الرسول ) کی زےارت کا شرف اللہ کے فضل سے جب چاہں ممکن ہے،مذہبی شعور اور مذہب سے والہانہ وابستگی کا اظہار ان کی شاعری مےں بڑے دل کش انداز مےںنظر آتاہے، 
:کہتے ہیں







وہ اک نوشتہ جس کی سرخیاں ہمارے  نام ہیں 
ہمارے  ذمہ جو بھی ہیں وہ اہمیت کے کام ہیں
ہے  گل  بہار  خیمہ  زن  ہما رے  انتظار  میں
رسول اس کے پھر رہے ہیں کوچہ  ودیار میں
ہم ایسی  راہ  پر ہیں دونوں سمت خار زار ہے
لہو   لہو   ہے  جسم  اور  لباس  تار  تار  ہے
ضیاء  یہی  وہ  راہ  ہے، چلے  جو راہ یاب ہو
سفر   کے   اختتام   پر   گلاب   ہی  گلاب   ہو



ضیاءکی شاعری میں حقیقت کی منظر نگاری کچھ اس انداز میں ہوتی ہے کہ
:قاری اسی میں کھوکر رہ جاتا ہے دیکھئے ان کا یہ اچھوتا شعر

چھوٹے جو قفس سے ہم، زنداں میں پڑے جاکر
وسعت  کی   فراوانی  پر  خود  کو  رہا  سمجھے

ضیاء اعظمی کی شاعری کا ایک خوبصورت نمونہ 
اس میں” وسعت کی فراوانی “کی تعبیر کو ضیاء نے جس انداز میں برتا ہے یہ ان  ہی کا حصہ ہے ۔ان یاروں کو جو دوستوں ہی کو زک پہنچاکر خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا جہان کی نعمت پالی اس پر ضیاء کچھ اس انداز سے طنز کرتے ہیں ۔


دل پرلگائے زخم اور اس پر ہنساکرےکوئی
ایسا نصیب سے ملے دل بر خدا کرے کوئی



ضیاء کی شاعری زمینی حقائق سے جڑی ہوتی ہے چوںکہ انھوں نے خود غربت کو قریب سے دیکھا ہے اورغربت ہی کی وجہ سے انھیں وطن عزیز کو چھوڑ کر دور درازکا سفر کرنا پڑا اس لئے وہ ایک غریب انسان پر گزرنے والے احساسات سے اچھی طرح واقف ہیں تبھی تو وہ کہتے ہیں ۔

نہیں  ہنستا  کسی  کی   خستہ حالی  فاقہ  مستی  پر
بہت دیکھی ہیں چھوٹی عمر میںً مجبوریاں میں نے


محبت جسے آج کی ترقی یافتہ دنیا کوڑیوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی یعنی بازار ِجنس میں ان گہر پاروں کی وہ ارزانی ہے کہ خود خریدار بسا اوقات پس و پیش میں پڑ جاتا ہے لیکن ضیاءکہتے ہیں ۔
  
کوئی چھیڑے بھلا کیوںکر ہمیں یاد ِمحبت میں
جبیں خم ہے ہماری  آج پھر  ان کی عقیدت میں
تصور اور ہے ،تصویر  جاناں  اور ہی شے ہے
جدا ہیں مرتبے سب کے ، نگاہ ِذوقِ الفت میں

ضیا اعظمی کی تحریر کا ایک عکس 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضیاء کی شاعری اپنی ندرت اور تخلیقیت کی بنیاد پر نمایاں مقام رکھتی ہے اور انھوں نے اتنی کم عمری میں بھی عمدہ شاعری کی ہے لیکن ان سب کے باوجود بعض جگہ کمیاں اور خامیاں بھی پائی جاتی ہیں ،میں نے اس سلسلہ میں ادب اور شاعری کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جن چیزوں کو شدت سے محسوس کیا ہے وہ ان کے کلام میں عربی و فارسی کے ثقیل اور بھاری بھر کم استعارات و مرکبات کا استعمال ہے ، اس کی وجہ جو بھی رہی ہو لیکن پورے کلام میں فارسی و عربی کی عمیق ترکیبیں اس کثرت سے در آئی ہیں کہ قاری الفاظ کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے جس سے کہنے والے کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اورظاہر ہے ایک تخلیق کار جس کے لئے اپنی تخلیق پیش کرتا ہے وہی اسے نہ سمجھے تو اس بات کا کم ہی امکان رہ جاتا ہے کہ وہ تخلیق عوامی یا پھر لوک ادب کا حصہ بن سکے گی،ہاں اگر صرف ناقدین ادب کے لئے ہی شاعری کی جاتی ہے تو ضیاء کا ایسی ترکیبیں استعمال کرنا کچھ معیوب نہیں، کیوں کہ ترکیبیں جس قدر معنی آفرینی کرتی ہیں سادہ زبان ویسے گل نہیں کھلاسکتی۔

اسی طرح ایک اور چیز جو اکثر جگہوں پرکھٹکتی ہے وہ یہ کہ ضیاءشعری وزن کی ہمواری ، آہنگ و عروض کا خیال رکھنے اور شعر کو وزن میں باندھنے کے لئے بعض غیر ضروری تراکیب اور الفاظ بھی استعمال کر جاتے ہیں،جو فن شاعری میں معیوب ہے،لیکن ان سب کے باوجود ضیا نے بڑی خوبی سے ان اضافی چیزوں کو بھی نبھانے کی کوشش کی ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ضیاءکی شاعری کوزبان وادب کی خدمت کے طور پر قبول فرمائے ۔
(آمین) 


۔۔۔مزید

محمدصلی اللہ علیہ وسلم :عصر حاضر میں محبت ،امن ،اتحاداوررواداری کے ایک عظیم پیغامبر




محمدصلی اللہ علیہ وسلم :عصر حاضر میں محبت ،امن ،اتحاداوررواداری کے ایک عظیم پیغامبر


محمد علم اللہ اصلاحی
آج جب ہم عالمی پیمانہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مجموعی طور پر مغرب کی جس الحادی تہذیب کا غلبہ ہے اس میں یونان کی مادیت ،مسیحی مریضانہ مذہبیت اور جدید سائنسی الحادو دہریت کا خوف پوری شدت سے دوڑ رہا ہے ۔یہ چیز صدیوں کی کشمکش اور گمراہی کے بعد ہوئی،مسلمانوں کے زوال کے بعد اٹھارہویں صدی عیسوی اگرعقلیت پرستی کے لئے مشہور تھی تو انیسویں صدی میں جذبات پرستی کا غلبہ ہوا ،اس دور کو اس طور سے بھی پیچیدہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دور نہ تو محض عقل جزوی (جس کا اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں زور تھا )کا دور ہے اور نہ محض سائنس کا ،نہ اشتراکیت کا اورنہ ہی بے دینی کا ۔اس دور کی حقیقت یہ ہے کہ سارے رجحانات اور سارے افکار اپنے تضادات کے باوجود بیک وقت موجود ہیں اور ان کے اندر کسی قسم کی درجہ بندی نہیں ہے ۔ بلکہ سب کو ایک ہی سطح پر عمل کرنے کی آزادی ہے مثلا کرسٹو فرکاڈویلکے لفظوں میں”جارج برناڈشاکی برژوائی فینزم اور سارتر کی وجودیت اور اشتراکیت کے لئے ایسا ہونا اگرکہا جائے کہ یہ بالکل فطری تھا تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ وحی ،الہام اور خدا کی ہدایت کے بغیر کئی صدیوں تک مغربی مفکرین نے اپنے ذاتی رجحانات کے زیر اثر اپنی اپنی کلیسا سازی کوصرف حقیقت حیات سے تعبیر کیا“۔ڈارون نے ©”انسان کو حیوان “ثابت کیا تو میکڈوگل نے اسے ”حیوانی جبلتوں کا غلام“ بتایا ۔فرائڈنے اسے ”مغلوب الشہوات حیوان“ قرار دیا تو ایڈلرنے اسے ”خود پرست حیوان “کہا ۔نیگ نے اسے” توہماتی انسان “ثابت کیا اور مارکس اسے” شکم پرست انسان “سمجھنے پر مصر رہا ۔ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب اور اس کے زیر اثر ادب ،آرٹ ،تمدن و معاشرت ،سیاست و معیشت غرض زندگی کے ہر شعبہ میں شہوت رانی ،لذت پرستی ،ابن الوقتی،مکاری ،مادہ پرستی ،بد کرداری اور درندگی عام ہوتی گئی اس وجہ سے ڈرسےکہتا ہے کہ ”ہماری تہذیب اپنے قومی،معاشی ،عائلی ،اخلاقی ،مذہبی اور ذہنی نظام کے ہر شعبہ میں حماقت ،فریب اور ظلم کا مظہر ہے “۔اس کا یہ قول بجا ہے کیونکہ موجودہ مادہ پرستانہ تہذیبوں نے جہاں کمپیوٹر،ہوائی جہازٹیلی فون ،انٹرنیٹ اوراس قبیل کی حیرت انگیز ایجادیں کی ہیں وہیںایٹم بم ہائیڈروجن بم کے بعدمیگالن بم ایسٹرائڈ بم بالسٹک میزائل بم اور ان سے بھی زیادہ تباہ کن ہتھیار تیار کئے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ان دنوںانسانی صلاحیت ،دولت اور وقت کا کم از کم ستر فیصد حصہ تباہ کن آلات کی تیاری میں صرف ہورہا ہے بڑی طاقتیں شاید کسی ایسے ہتھیار کے لئے کوشاں ہیں کہ جس کی ایک ہی ضرب سے وہ پوری دنیا کو فنا کے گھاٹ اتاردیں اس میں ان کو کسی حد تک کامیاب بھی کہا جاسکتاہے۔

آئندہ صدی کو اگر اس مادہ پر ستانہ نظام فکر و عمل سے نہ نکالا گیا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ طلسم آب و گل کس طور پر ختم ہوجائے گا ۔
یہ بڑا اہم سوال ہے کہ دنیا اور بنی نوع انسانی کو اگر زندہ رہنا ہے تو وہ کون سے مطالبے ہیں جن کی ہمہ گیر تکمیل کے ذریعہ انسانی مستقبل کی بشارت دی جاسکتی ہے اس سلسلے میں جب ہم جائزہ لیتے ہیںتودنیا کے ماہرین اور دانشور وں کی تیارکردہ اصولوں کی روشنی میں جو مختصر سی فہرست ابھرکر سامنے آتی ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے ۔1۔آفاقی اصول قانون سازی۔
۔2عام انسانی مساوات اور وحدت آدم کا تصور
 ۔3مذہبی رواداری ۔
۔.4آزاد تحقیق و تجربہ اور تسخیر کائنات۔
 ۔5عورت اور مرد، فرد اور جماعت ،جسم اور روح نیز حق اور فرض کا مثالی توازن ۔
۔6۔جسمانی محنت کا وقار۔
۔7 ہر قسم کی غلامی سے آزادی وغیرہ ۔ 

اور یہ تما م چیزیںدنےا کے کسی افکار و نظرےات میں نہیںبلکہ محمد کی ذاتی زندگی اور ان کے ذریعہ لائے گئے پیغام میںپوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتی ہےں۔اس لئے کہ فی زمانہ دنیا میں جو رسہ کشی ہے اور ایک دوسرے کو غلط ٹھہرانے وان پر غاصبانہ قبضہ کرنے (خواہ وہ چین کا ارونا چل کے علاقہ میں پانی کے راستہ کا روکنا ہو،یا کشمیر کے علاقوں میں دراندازی،ہند و پاک کے جھگڑے ہوں ،ایران اور امریکہ کی چپقلش،اسرائیل کا فلسطینی عوام کو بے دریغ قتل کرنا،افغانستان میں امریکی فوجوں کی اسے تخت و تاراج کرنے کی کوشش یا عراق کو ظالم بتا کر اس کے معدنیات یا قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنا ،یا پھر تبت کا اپنی آزدی کے لئے جد و جہد کرنا )کی کوشش گویا سبھی اپنے مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ۔ایسے میں محمد کی تعلیمات میں ان سب کا حل موجود ہے ۔لیکن اس وقت پوری دنیا میں ان کے ذریعہ لائے گئے پیغام کو ایک عجیب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔اس وجہ سے نہیں کہ لوگوں نے اس کو جانا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے ان کے خلاف اس قدر پرو پگنڈہ کیا کہ لوگوں کو کبھی ان کے بارے میں پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔حالانکہ نبی کریم محسن انسانیت تھے اوران کا پیغام بھی ابدی تھا آپ ﷺنے دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشش کی اور فرمایا:

 ”تم میں سے جو کوئی اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ امن سے ہو ،اپنے جسم کے اعتبار سے صحت مند ہو ۔اس کے پاس ایک دن کا کھانا پانی موجود ہو تو سمجھو اسے ساری دنیا کی دولت حاصل ہو گئی “(مشکواہ)

اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا ؛
”لوگوں کے درمیان قیامت کے دن جس چیز کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائیگا وہ نا حق بہایا گیا خون ہوگا“ ۔(بخاری)

 اور حجہ الوداع کے موقع پر آپ نے جو کچھ فرمایا وہ عالمی امن کے منشور کی حثیت رکھتا ہے ا ٓپ کے مطابق :
کسی بھی عربی کو عجمی پر ،کالے کو گورے پر کوئی امتیازحاصل نہیں ،تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں “یہ خطبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ مخالفین اسلام کی نگاہ میں بھی انسانیت کی بقا اور عالمی امن و اخوت کی ایک اہم مثال رکھتا ہے اس کی ایک مثال ایچ جی ویلزکا اعتراف ہے ۔ویلز نے رسول کی ازدواجی زندگی پر نہایت رکیک حملہ کئے ہیں ،لیکن جہاں تک اس خطبہ کا تعلق ہے اس نے اپنی کتاب” اے کنسائز ہسٹری آف دی ورلڈ “میں لکھا ہے کہ ”انسانی حریت ،اخوت اور مساوات کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے چنانچہ مسیح ناصری کے یہاں بھی وہ بکثرت موجود ہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ ان اصولوں پر بالفعل ایک معاشرہ تاریخ انسانی میں پہلی بار محمد نے قائم کیا “۔

عالمی تناظر میں بھی اس وقت عام طور پر جنگ کا مفہوم لوٹ مار ،قتل و غارت گری ،تباہ کاری کے سوا دنیا نے کچھ نہیں سمجھا اور امن کے نام پر لوگوں نے مزید خونریزی برپا کی مگر نبی اکرم نے اپنی تعلیمات میں فی سبیل اللہ کی قید لگائی اور فرمایا :

”تلوار اٹھاو مگر بدی کے انسداد کے لئے ،معاصیت ،ظلم و طغیان اور فتنہ و فساد مٹانے کے لئے نیز سر کش لوگوں سے خلق خدا اور معابد و مساجد کی بے حرمتی سے بچانے کے لئے اور جب فتنہ و فساد مٹ جائے تو ہاتھ روک لو حتی کے عین میدان جنگ میں دشمن صلح کی درخواست کرے تو اسے رد نہ کرو، عورتوں بچوں ،گرجوں میں عبادت کرنے والوں اورصو معہ کے راہبوں ۔سن رسیدہ لوگوں ،اپاہجوں بیماروں اور ان لوگوں کو جنھوں نے جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیاان کو قتل کرنا کسی بھی حال میں جائز نہ ہوگا ۔غلاموں نوکروں ،تیمارداروںاور سفیروں کے ساتھ مداہنت کا رویہ اختیار کرو ،دھوکہ دہی اور مقتولین کا مثلہ بنانا ممنوع قرار دیا اسی طرح زندہ جلانا ،پھلوں کو خراب کرنا ؛کھیتیوں کو برباد کرنا گھروں کو آگ لگانا ،درختوں کو کاٹنا ؛پانی میں زہر ملانا اس کے علاوہ کوئی نازیبا ہلاکت انگیز کام کرنے سے سختی سے روکا “۔(السیاسہ والشرعیہ بعہد الوہاب الخلافہ ،ص 89.90)

 دنیا کے تمام لوگ جو امن کا دعوی کرتے ہیں کیا اگر نبی اکرم کا یہ پیغام نافذ العمل ہو تو امن میں خلل واقع ہو سکتی ہے ؟کیا فلسطینی عوام کا خون بہ سکتا ہے؟کیا گجرات میں بسنے والی ماوں کی کوکھ کو نظر بد لگ سکتی ہے؟
آج ساری دنیا اخوت و محبت کو قائم کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کر رہی ہے پھر بھی اس میں ناکام ہے لیکن نبی کریم ﷺکی زندگی میں یہ ساری چیزیں ایک ہالہ کی سی دکھائی دیتی ہیں آپ نے اس شخص کی بھی خیریت دریافت کی جس نے آپ پر مسلسل کوڑے پھینکے آپ اس بوڑھی عورت کے بار بردار بنے جس نے خود محمد سے بچنے کی تلقین کی ،طائف والوں کی زیادتی سے جب آپ ﷺکا جسم لہو لہان ہو گیا تو اسکے باوجود انکے حق میں آپ نے جو کلمات کہے ، تاریخ نے اس کو محفوظ کر لیا آپ نے فرمایا:

”خدایا میری قوم نادان ہے وہ مجھے نہیں جانتی اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو نہ سہی ان کی آنے والی نسل شاید ایمان لے آئے“ ۔حضرت زید بن حارثہ جو آپ کے ساتھ تھے انھوں نے بد دعا کے لئے آپ سے کہا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایامیں دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(الرحیق المختوم ،ص199)

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماءؓکے والدین جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا ان سے ملنے مدینہ تشریف لائے ۔حضرت اسماءنے آپﷺسے پوچھا میں ان سے ملوں یا نہ ملوں آپ نے فرمایا ان سے ملو بھی اور ان کے ساتھ محبت اور حسن سلوک بھی کرو ۔(سیرةالنبی ،ج 2ص 234,)
اس وقت گوانتنامو اور اس طرح کی دوسری جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ جس ظلم اور بر بریت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ،ان کو نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم کی زندگی سے سبق لینا ہوگا جب آپ صلی للہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو با عزت رہا کیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی اور ان پر ظلم و زیادتی کو سختی سے منع کیا اور وعید بھی سنائی ”کسی نبی کے لئے درست نہیں کہ
 اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی کر لے ۔تم لوگ دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے ۔اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۔اگر اللہ کی طرف سے نوشتہ سبقت نہ کر چکا ہوتا تو تم لوگوں نے جو کچھ لیا ہے اس پرتم کو سخت عذاب پکڑ لیتا “ (سورہ الانفال آیت 67,68)
عالمی پیمانہ پر ایسی زندہ دلی کی مثالیں کہاں دیکھنے کو ملتی ہیں یہ نبی کریم کا ہی اعجاز تھا کہ آپ نے دنیا کو ایسی نظیر دی ،جسکی کوئی مثال نہیں ۔
آج پوری دنیا میںمال و زر کی لڑائیاں ،فرقوں کی باہمی جنگیں ،ملکوں کی آپسی دشمنی ،خاندانی جھگڑے ،کرسی کی لڑائیاں ،اتحاد و امن کی سالمیت کے لئے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں ۔اس پس منظر میں محمد کی پوری زندگی لوگوں کو جوڑنے اور متحد کرنے میں صرف ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ مثلا:نبوت سے قبل ہی حجر اسود کے رکھنے کے مسئلہ کو اتنی خوبصورتی سے رفع دفع کیا کہ نیام سے نکلی ہوئی تلواریں نیام میں واپس لوٹ گئیں ۔آخری خطاب میں لوگوں کو مساوات انسانی کی تعلیم دیکر جوڑ ااور پر امن بقائے باہمی کے تحت سماجی رشتوں کو متحد کیا اور سماج کو توڑنے والی تمام برائیوں کاقلع قمع کیا ۔حلف الفضول میں آپ نے لوگوں کو اس بات پر متحد کیا کہ وہ تاجروں پر ہو نے والے مظالم کی مخالفت کریں ۔مدینہ میں تشریف لے گئے تو یہودی قبائل کے ساتھ امن و امان کا ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس میں یہودی قوم کو جو درجہ دیا وہ قابل دید ہے آپ نے فرمایا © © ©
 ©:

٭بنو عوف کے یہودی مومنوں کے ساتھ ایک قوم ہیں ۔
٭اس معاہدہ میں شریک اقوام مل کر کسی بھی جنگ کرنے والے کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کریں گی ۔
٭آپس میں خیر خواہی اور ہر طرح کی بھلائی کے تعلقات رکھیں گی گناہ کے معاملہ سے اجتناب کریںگی ۔
٭یہودیوں کے حلیفوں کے حقوق بھی ایسے ہی مانے جائ ¾یںگے ۔
٭مظلوم کی یقینا مدد کی جائیگی ۔
(سیرت ابن ہشام،ج 1ص،178)
اسی طرح صلح حدیبیہ میں آپ نے بظاہر دب کر صلح کی تھی آپ کا مقصدلو گوں سے جنگ و جدا ل نہیںتھا بلکہ ان کو اتحا د کی ایک ایسی کڑی میں پرونا تھا جس میں ان کے لیے نجا ت تھی۔آپ نے تما م انسانوں کو خدا کا بند ہ اور مخلو ق اورایک کنبہ قرا ر دیا۔

مسلمان اور عیسائی ملکر دنیا کی نصف آبادی کو تشکیل کرتے ہیں ۔اگران دونوں میں اتحاد پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا نے امن و اتحاد کا نصف سفر طے کر لیا ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فرقہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے کے بجائے مثبت رویہ اختیار کریں اور ماضی کی مثبت حقیقتوں کو یاد کریں جیسا کہ مشہور مشتشرق مسٹر جیسن نے لکھا ہے کہ ”اسلام اور مسلمانوں کے عروج کی تاریخ رواداری اور ان کی اعلی قدروں کو اجاگر کرنے کی تاریخ ہے ۔اس دور کی مسلمانوں کی سلطنتیں ستم رسیدہ یہودیوں اور نسطوری ،یعقوبی اور دوسرے عقائد رکھنے والے عیسائیوں کی پناہ گاہ تھیں اور ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے کے با وجود مسلم ممالک میں انھیں پناہ لینے کی کھلی آزادی تھی بلکہ انھیں مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کو تعمیر کرنے کی بھی آزادی حاصل تھی اور یہ سب محمد کی تعلیمات کا نتیجہ تھا “(سہ روزہ دعوت دہلی،13ستمبر1983ئ)
اسپر ٹ آ ف اسلا م میں جو نی لال کے بقول ©:
”رسول نے عیسائیوں کو ایسی مراعات عطا کیں جو انھیں اپنے مذہب کے بادشاہوں کے زیر حکومت بھی حاصل نہیں تھیں “
اور رسالہ وشال بھارت میں شری سندر لال جی نے اسی کاکچھ ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے :

”محمد صاحب نے غیر مسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی حکومت کے اندر رہ کر مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض قرار دیا “
(رسالہ وشال بھارت کلکتہ نومبر 1933۔ص،517)

آپ کی یہ اور اس طرح کی بے شمار اخلاق حسنہ نے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ۔اور آپ کے اسی جزبہ محبت ،امن ،اتحاد اور رواداری نے ”شام ستم “میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو ”صبح امن“کا پیغام دیا۔آج اگر دنیا چاہتی ہے کہ ایک پاکیزہ سماج اور ایک پاکیزہ ماحول کے اندر زندگی بسر کرے تو اسے محمد کی تعلیمات سے بہتر کوئی پیغام نہیں مل سکتاکہ:
دوائے درد لیکر مرہم زخم جگر لے کر
رسول پاک آئے منصب خیر البشر لیکر


۔۔۔مزید