بدھ، 19 فروری، 2014

ایک نا مکمل کہانی

محمد علم اللہ اصلاحی

"یار! میری ماں کتنا غصہ کرتی رہتی ہے، میں اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں، پر وہ کبھی ہنستی ہی نہیں ہے۔"
"تو نے کبھی پوچھا نہیں وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟" غفار نے سوال کیا۔
"ارے یار! میرے باپ کی وجہ سے۔تمہیں پتا ہے نا وہ ہم لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا نا، اس لیے ممو کو لگتا ہے کہ ایک دن میں بھی اسے چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔ بھائی! میں ایک بار ممو کو ہنستے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔"
"سچ بتاؤں تیرا باپ مجھے مل گیا نا تو اُسے میں گولی مار دوں گا۔" غفار نے اعلان کیا۔
٭٭٭
                                        
گاڑی کی آواز۔۔۔ گھڑ گھڑ گھڑ۔۔۔
ابھی دونوں کی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ کوڑے کے ڈھیر میں مزید کوڑا لے کر کوڑا ڈالنے والا ٹرک وہاں آ گیا۔ کوڑا چننے والے لڑکے اس کے پیچھے یوں بھاگنے لگے جیسے انھیں ان کی کھوئی ہوئی متاع مل گئی ہو۔
بات ختم کیے بغیر ہی چندو اور غفار بھی ان میں شامل ہو گئے۔
سب  لڑکے پلاسٹک، ٹوٹے جوتے چپل اور پانی کی خالی بوتلیں بورے میں بھرنے لگے۔وہ  ایک دوسرےسے دھکا دھکی کر کے خود ہی سارا سامان سمیٹ لینا چاہتے تھے۔
پیٹ اور غربت ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان بہت کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  دوپہر کو جب سارے لوگ کھا پی کر کام کے لیے نکل چکے ہوتے ہیں یا قیلولہ کر رہے ہوتے ہیں، یہی بچے  چپکے سے گھروں کا سامان چوری کرتے ہیں اور اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں۔ یہ غریب بچے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ انھیں اسی میں مزہ آتا ہے۔
اس وقت بھی یہ کوڑے کے ڈھیر سے سامان چننے میں ایسے منہمک تھے جیسے کروڑوں کی جائیداد پا رہے ہوں۔
چندو سب کو دھکا دیتے ہوئے آگے بڑھا۔ اسے کچھ نظر آیا تھا ، اس نے لپک کر اسے اٹھایا۔ تو اسے لگا کہ یہ کچھ عجیب سی چیز معلوم ہوتی ہے۔
وہ ایک ٹوٹا ہوا کیمرا تھا جسے کسی نے خراب ہو جانے کے بعد پھینک دیا تھا، مگر غریب چندو کو اس کی کیا خبر۔ وہ اسے اُلٹ پلٹ کر ایسے دیکھتا رہا جیسے کوئی بہت قیمتی چیز اس کے ہاتھ لگ گئی ہو، پھر اچانک اسے یاد آیا، اُس نے ایسا ہی کچھ اپنی مالکن کے گھر بھی دیکھا تھا جہاں اس کی ماں کام کرنے جایا کرتی تھی۔
ابھی وہ اسے کھول کر دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کے دوست غفار نے اس کے ہاتھوں سے کیمرا چھین لیا۔ اور بھاگ کھڑا ہوا۔ چندو بھی کوڑے کے ڈھیر کو پار کرتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔
تھوڑی دور تک دونوں آگے پیچھے دوڑتے رہے، آخر چندو نے دوڑ کر اسے پکڑ ہی لیا اور پھر دونوں کھکھلا کر ہنسنے لگے۔
"سالے لے کر کہاں بھاگ رہا تھا؟" چندو نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔
"میں تو مذاق کر رہا تھا، تو تو سچ سمجھ بیٹھا۔" غفار مسکرایا۔
"چل لا دے۔" چندو ے جیسے غفار کی خوشامد کی۔
"نہیں دوں گا۔" غفار نے مذاق کے طور پر منع کیا۔
"دے گا یا نہیں، یہ مجھے ملا ہے، اس لیے یہ میرا ہے۔" چندو غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ جھٹک کر بولا۔
"لے سالے، تو نے دکھا دی نا اپنی دوستی۔" غفار نے ذرا غصہ ہو کر وہ کیمرا اس کی طرف بڑھایا۔
"ابے یار! تو تو غصہ ہو گیا۔ میں دیکھنا چا ہ رہا تھا کہ یہ کیا ہے، اس لیے بھاگ رہا تھا تیر ے پیچھے۔" چندو ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
"کیمرا ہے، کیمرا۔ "غفار نے بتایا۔
"کیا کہا؟ کیمرا۔۔۔ !! کیا ہوتا ہے یہ؟" چندو کو حیرت ہوئی ۔ ایسی کیا چیز ہو سکتی ہے جو چندو کو نہیں معلوم لیکن غفار اس سے واقف نکلا۔
"فوٹو کھینچتے ہیں اس سے۔" غفار نے جواب دیا۔
"لے یہ تو آن بھی ہو گیا۔" یہ کہتے ہوئے غفار خوشی سے ناچنے لگا۔
"چل، میں تیری تصویر کھینچتا ہوں۔" سامنے جا کر کھڑا ہو جا۔" تھوڑی دیر رک کر اس نے کہا۔
چندو کو یقین تو نہیں آ تا،لیکن وہ دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔
"ابے ہنسے گا بھی یا ایسے ہی بندر کی طرح تصویر کھنچوائے گا" غفار نے مضحکے سے کہا۔
"میں کیوں ہنسوں؟ تیری لوگائی ہوں کیا " چندو ہنستے ہوئے بولا۔
"سالے! تصویر كھنچوانے کے لئے ہنسنا پڑتا ہے۔"غفار نے جواب دیا۔
"اچھا تو ایسے بول نا۔" یہ کہہ کر چندو کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔
"اچھا یار! یہ بتا، اگر میں اپنی ماں کی تصویر كھینچوں گا تو وہ ہنسے گی؟"چندو نے معصوم بچوں کی طرح سوال کیا۔ بھلا دس بارہ سال کے بچے کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔
"ہاں، کیوں نہیں۔" غفار جواب دیتے ہوئے کیمرے کا زاویہ درست کرنے لگا۔ "تصویر كھنچوانے کے لئے ہنسنا ہی پڑتا ہے۔"
"چل ٹھیک ہے، تو مجھے سکھا میں اپنی ممو کی تصویر کھینچوں گا۔"چندو خوش ہو کر بولا۔
٭٭٭

چندو آج کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔ اس کے ذہن کے دریچے میں مختلف قسم کے خیالات آرہے تھے۔ برسوں بعد وہ اپنی ممو کو ہنستا ہوا دیکھے گا، کتنا مزا آئے گا!!!
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا، "ممو سے ہنسنے کو کہوں گا تو وہ ہنستے ہوئے کتنی اچھی لگے گی۔"
ابھی وہ انھی خیالات میں گُم تھا کہ غفار نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "بھائی! تیری بوری پھٹ گئی۔"
اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی، وہ جلدی سے بوری زمین پر رکھ کر دیکھنے لگا۔
"یہ تو ٹھیک ہے۔" چندو نے پھر بوری کندھے پر اٹھا لی اور مسکراتے ہوئے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭

’ممو۔۔۔ ممو۔۔۔۔!!‘ گھر پہنچ کر چندو اپنی ممو کو خوش خبری سنانے ہی لگا تھا کہ ممو کہتی ہے:
"ہے، آ گیا نکھٹو! چل جا پہلے نہا لے!!"
"ممو۔۔۔۔ ممو۔۔۔ !!" اس کی آواز گلے میں ہی اٹک گئی۔
ممو ایک دم چلا کے بولی: "جا، پہلے نہا لے، بدبو آ رہی ہے۔"
اس کی ماں نے اس سے بورا چھین کر ایک کنارے پر رکھ دیا اور دو بوریوں سے جوڑ کر بنائے گئے غسل خانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی  "جا جا۔۔۔ پانی گرم ہے۔ جلدی جا!"
غسل خانے میں  آدھے کٹے ڈرم میں پانی اور مگ رکھا تھا۔ وہیں پیڑھا اور صابن دانی بھی۔"
بلآخر چندو بغیر کچھ بولے نہانے چلا گیا، مگر اس کے ذہن میں کیمرا اور اس کی ممو کی ہنسی ٹی وی کے اسکرین کی طرح چل رہی تھی۔
وہ گنگنانے لگا "آج تو ہنساؤں گا۔۔۔ تم کو دکھاؤں گا۔۔۔ "
٭٭٭

اسی دوران ایک کباڑی چیختا ہوا گلی سے گزرا "کباڑی والے۔۔۔ ردی پیپر والے۔۔۔ پرانا لوہا برتن۔۔۔ پلاسٹک والے۔۔۔ "
ادھر غسل خانے کے اندر پانی کی آواز اور گانے کے سُر میں چندو کو پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ غسل خانے سے باہر کیا ہونے لگا ہے۔
ممو بھی حقیقت سے بے خبر چندو کا بورا اٹھا کر لائی اور اسے كباڑي کو دے دیا ۔ كباڑي اس کوڑے کے مناسب دام دے کر چلتا بنا۔
تھوڑی دیر بعد چندو خوشی خوشی غسل خانے سے نہا دھو کر نکلا تو اس کی نظر بوری کی طرف ہی پڑی۔ مگر وہاں بوری نہیں تھی۔ یہ دیکھ کر وہ چلایا۔۔۔ "ممو! بورا۔۔۔ ؟"
"وہ تو میں نے کباڑی والے کو دے دیا " ممو نے بتایا۔
چندو کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی سرک گئی۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں آ گیا۔  پھر اچانک ممو سے بغیر کچھ کہے گلی کی طرف دوڑ لگا دی۔ لیکن گلی میں دور تک کہیں بھی کباڑی دکھائی نہیں دیا۔ دور کہیں اُسے سائیکل کی گھنٹی کی آواز سنائی دیتی اور وہ پھر دوبارہ ادھر ہی دوڑنا شروع کر دیتا۔ آخر وہ کباڑی اسے نظر آ گیا۔ اس کی سانسیں پوری طرح پھولی ہوئی ہوتی ہیں، چندو گھبرائی ہوئی آواز سے پوچھنے لگا "ن نن ۔۔ نالے۔۔ کک۔۔کے پپ۔۔پا ۔۔س مم۔۔۔ میرے۔۔۔ گھ۔۔۔ گھر۔۔ سے۔۔۔ جج۔۔۔ جو کباڑ لیا ہے وہ کہاں ہے؟"
"وہ تو میں اصغر کباڑی کی بڑی دکان پر دے آیا۔" کباڑی نے جواب دیا۔
چندو نے ٹھیے کی طرف تیزی سے دوڑ لگا دی۔اصغر کی دوکان پر ہر طرف کباڑے کا ڈھیر تھا، پرانی بوتلیں ایک طرف، پلاسٹک کا سامان ایک طرف۔ اس سے پہلے کہ وہ اصغر سے کچھ پوچھتا،  اس کی نظریں ایک طرف پڑیں اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک بوڑھا آدمی جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا وہ ہتھوڑے والا ہاتھ اوپر کیے کیمرے کو دیکھ رہا تھا۔ چندو ابھی آواز دے بھی نہیں پایا تھا کہ بوڑھے نے کیمرے پر اپنی پوری قوت کے ساتھ ہتھوڑا چلا دیا۔
٭٭٭

بظاہر یہاں تک تو کہانی مکمل ہے۔مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔
لیکن اتنی غربت اور ماحول نا سازگار ہونے کے باوجود چندو کالج تک کیسے پہنچ گیا۔۔۔۔۔چندو نے جب اتنی بات مجھے بتائی تھی تبھی مجھے یہ پوچھ لینا تھا؟
لیکن میں نے کیوں نہیں پوچھا؟ مجھے یہ بات برابر کچوکے لگاتی رہتی۔
ایک دن موسم معمول پر تھا۔ میں ذرا جلدی ہی کالج پہنچ گیا تھا۔ سوچا وقت گزاری کے لیے کینٹین میں چائے کی چسکیاں ہی لے لوں۔کینٹین پہنچا تو دیکھا چندو وہاں ایک کتاب لیے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
وہ ایک کتاب یا ڈائری تھی، میں اس کے قریب گیا۔ سلام کیا اور پوچھا، "بھائی چندو! اس دن تم نے ادھوری کہانی سنائی تھی، اس کو مکمل تو کرو۔"
وہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے بولا "ارے بھئی! وہ کہانی نہیں تھی۔ بس ایسے ہی کچھ چیزیں یاد آئیں تو میں نے سنادیں۔"
"ہاں، تو پھر بتاؤ نا کہ تم نے پڑھائی کیسے مکمل کی؟ تم تو کوڑا چنتے تھے، جیسا کہ تم نے بتایا تو پھر تم کالج تک کیسے پہنچ گئے؟" میں نے اسے پھر کریدا۔
"بھائی! یہ ایک بہت لمبی داستان ہے،نہ پوچھو تو بہتر ہے۔" چندو بولا۔
میں نے مزید کریدنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا:
"کچھ خاص نہیں، بس پھر معمول کے مطابق زندگی گزرنے لگی۔ میں بھی ساری چیزیں بھول بھال گیا۔ اسی درمیان میں اچانک ممو کیایک دن طبیعت خراب ہوئی اور میں ان کی صحت کے لیے کچھ نہ کر سکا۔ وہ ملیریے کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئی۔" اس کے آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
میں نے کہا: "اچھا، چلو چھوڑو، پھر کبھی بات کر لیں گے۔"
"پھر کیوں؟ جب سننا ہی چاہتے ہو تو سن لو۔" وہ کہنے لگا۔ "جب ممو کا انتقال ہوا تو گویا میری زندگی ہی لٹ گئی۔ میں تنہا رہ گیا۔ ایکدن حکومت کے آرڈر سے ساری جھگیوں کو ڈھا دیا گیا اور پھر تو میں بے گھر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے نظام الدین ریلوے اسٹیشن کو اپنی جائے پناہ بنایا۔ لوگ مجھ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے۔ بہت سارے لوگ ڈانٹ کر بھگا بھی دیتے۔ ممو کا کہا یاد آتا تھا کہ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا۔ میں نے یہی سوچ کر کچھ کام کرنے کا سوچا۔ ایک دن ایک بوڑھے کو دیکھا، اس کے ہاتھ میںایک بیگ تھا۔ مجھے لگا یہ کوئی باہر سے آیا ہے۔ اسی سے کچھ پیسے مانگ لوں، لیکن میری ہمت نہیں ہوئی۔ بہت ہمت کر کے میں ان کے قریب گیا اور کہا: "میں آپ کا سامان وہاں تک پہنچا دوں گا، آپ مجھے دس روپئے دیں گے؟" انھوں نے تھوڑی دیر تک میرا جائزہ لیا پھر کہنے لگے: "چلو میرے، پیچھے چلو۔"
میں ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ وہ مجھے گھر لے کر گئے۔" چندو سانس لینے کے لیے رکا، مگر مجھے بے صبری تھی۔
"پھر۔۔۔ پھر۔۔۔ کیا ہوا؟" میں یہ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ چندو رُک کر اچانک گھڑی دیکھنے لگا اور بولا
"دیر ہو گئی۔کہیں آج بھی ابسنٹ نہ لگ جائے، مجھے جانا پڑے گا۔" یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور میرے اندر یہ جاننے کی خواہش بر قرار رہی کہ اب اس سے آگے کیا ہوا ہوگا۔
اتفاق سے لنچ کے وقت پھر چندو سے ملاقات ہو گئی۔
میں نے پوچھا: "چندو! تم کس کورس میں ہو اور کس کلاس میں پڑھتے ہو؟"
تھوڑی دیر کے لیے وہ مجھے دیکھ کر ٹھہر سا گیا۔ میرے ہاتھ میں کیمرا تھا۔ اسے وہ بڑی حسرت سے دیکھنے لگا۔
 "چندو! کیا ہوا؟ کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔" میں نے اس کو ٹہوکا دیتے ہوئے پوچھا۔
چندو ایسے چونکا جیسے اس کا ذہن کہیں اور ہو پھر کہنے لگا: "مم۔۔۔ میں پڑھائی نہیں کرتا، میں تو کام کرتا ہوں۔"
پھر میں نے پوچھا: "ابھی صبح تم نے کہا تھا، آج پھر ابسنٹ نہ ہو جاؤں، مجھے جانا پڑے گا تو تم کہاں گئے تھے؟"
"بھیا! میں یہاں تین مہینوں سے کام کر رہا ہوں۔ پچھلے مہینے میں آیا، لیکن ٹریفک کی وجہ سے کچھ دیر ہو گئی تو ٹھیکے دار نے پیسے کاٹ لیے، آج کل اسی لیے جلدی آنے کی کوشش کرتا ہوں۔"
اور پھر میرے کیمرے کو چھوتے ہوئے کہنے لگا: "بھیا۔۔! مجھے بھی کیمرا چلانا سکھاؤگے؟"
میں نے کہا: "ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔۔۔ ؟ لیکن۔۔ لیکن تم یہ سیکھ کر کیا کرو گے؟"
وہ کہہ رہا تھا: "بھیا! میں لوگوں کو مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ فوٹو کھنچواتے وقت مسکرانا پڑتا ہے نا۔۔۔ "
وہ نہ جانے اور کیا کچھ کہہ رہا تھا، مگر میں سوچ رہا تھا کیا چندو کی کہانی مکمل ہو گئی۔۔۔ ؟

۔۔۔مزید

الوداع (افسانہ)

الوداع 
محمد علم اللہ اصلاحی 
باہر ابھی اجالا ہے ہلکا ہلکا اجالا جو ابھی تھوڑی دیر میں اندھیرے کی شکل لینا شروع کر دے گا ۔ امی باورچی خانے میں ابھی بھی کچھ کھٹ پٹ کر رہی ہیں جبکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں سوٹ کیس اور بیگپیک ہو چکے ہیں اور اب مزید کوئی چیز رکھنے کی جگہ نہیں وہ کرسی پر آرام سے بیٹھا ہے ۔ سامنے واصف پلنگ پر بیٹھا ہے ۔ ابو دروازے پر ٹہل رہے ہیں اور پتہ نہیں کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ کبھی باہر کی طرف دیکھتا ہے، کبھی واصف کی طرف اور کبھی كچن کی طرف، سبھی جیسے کسی چیز کا انتظار کر رہے ہوں ۔ گھڑی کی سوئیوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر ایک خاص جگہ پہنچ جانا بھی جیسے کتنا اداس واقعہ ہے، اور کتنا تھکا دینے والا ہے یہ انتظار ابو باہر ٹہلتے ٹہلتے ہی وقفہ وقفہ سے اسے دیکھ لے رہے ہیں جیسے انہیں یقین ہی نہ ہو کہ وہ اسی گھر میں اسی ٹوٹی کرسی پر بیٹھا ہے ۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر پر کبھی اندر آ رہے ہیں اور کبھی باہر جا رہے ہیں۔ 
امی ایک ڈبے میں کچھ لے کر آ تی ہیں۔
اسے بیگ کی سائڈ والے خانہ میں جگہ بنا کر رکھ لو ۔ '
"کیا ہے یہ ۔۔۔ ؟ ' وہ ڈبے کو بغیر تھامے پوچھتا ہے۔
'راستے میں کھانے کے لئے کچھ ناشتہ۔۔۔ ۔ '
'امی، میں نے کہا تھا نہ نا کہ پلین میں کھانا ملتا ہے ۔ ' وہ جھنجھلا جاتا ہے۔
پر یہ کھانا تھوڑی ہے، تھوڑی - تھوڑی دیر پر نکال کر کھاتے رہنا۔ ' امی تھوڑی سہم جاتی ہیں۔
'امی تم بھی۔۔۔ '
واصف اٹھ کر امی کے ہاتھ سے ڈبہ لے لیتا ہے۔
لاؤ آنٹی، میں رکھ دیتا ہوں ۔ دو چار اپنی جیب میں اور باقی بیگ میں۔۔۔ ۔ ' واصف کہتا ہے۔
ہاں بیٹا، لے رکھ دے ۔ '
ابو پھر اندر آتے ہیں۔
' بیٹا، وہاں جا کر اپنا حساب کتاب دیکھ کر مجھے فون کرنا ۔اور بھی پیسوں کی ضرورت ہوگی تو بتانا ۔ پڑھائی میں دھیان لگانا، پیسوں کی کوئی فکر مت کرنا۔۔۔ ۔ '
اسے پتہ ہے ابو کی عادت ہے یہ، جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے، اسے ہی سب سے زیادہ دستیاب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
واصف چپ چاپ بیٹھا بسکٹ کھا رہا ہے ۔وقفہ وقفہ سے وہ اسے دیکھ بھی لے رہا ہے اور مسکرا رہا ہے ۔ یہ اتنا چپ تو کبھی نہیں رہتا ۔ بسکٹ کھانے میں ایسے لگا ہے جیسے بسکٹ کھانا دنیا کا سب سے ضروری کام ہو اور اس کا مطالعہ کرنے نیو یارک جانا ایک معمولی بات ہو ۔
ابھی تین گھنٹے بعد وہ فلائٹ میں ہوگا ۔ سب سے دور ۔۔۔ امی ابو سے، دوستوں سے، اس محلے سے، اس شہر سے، اس ملک سے۔۔۔ ۔
تھوڑی دیر میں طارق بھی آ جاتا ہے۔
'سب تیار ہے نہ نا ؟وہ واصف سے پوچھتا ہے۔
'جی ہاں، جی ہاں سب تیار ہے ۔ بس ۔۔۔ نکلتے ہیں ۔ 'واصف اطمینان سے ایک بسکٹ نکال کر طارق کی طرف بڑھا دیتا ہے۔
معمول کا دن ہوتا تو اتنے سکون سے طارق ایک بسکٹ لے کر کھانے لگتا ؟ واصف کے ہاتھ سے دوسری بھی چھین لیتا اور واصف اسے چھیننے کے لئے اس کی ٹانگوں میں ہاتھ ڈال کر گرا دیتا اور بسکٹ چھیننے لگتا ۔ امی ہمیشہ کی طرح دونوں کی طرف دیکھ کر کہتیں، ' ارے لڑو مت بیٹا ۔ ابھی اور بھی بسکٹ بچی ہوئی ہیں۔ '
مگر طارق ایک بسکٹ آرام سے کھا رہا ہے ۔ امی صوفہ پر بیٹھ کر اس کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ وہ مسکرا دیتا ہے۔
'کیا ہے امی ؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟ '
'کیا ! ہا ں، بیٹا اب ہمیں تو راتوں کو بھی نیند نہیں آئے گی، کیوں کہ تو وہاں اس وقت جاگتا ہو گا اور ہمیں تمہارے فون کا انتظار رہے گا اپنے کھانے - پینے کا خیال رکھنا ۔ رات کو دودھ ضرور پینا ۔۔۔ اور فون کرتے رہنا ۔ تعلیم پر توجہ دینا'
'ارے آنٹی، یہ ہر دو - تین دن پر ای میل کرتا رہے گا اور ہم آ کر اس کا حال چال بتا دیا کریں گے ۔ طارق کہتا ہے۔
جگ جگ جيو بیٹا۔ '
وہ طارق کی طرف آنکھ مار کر دیکھتا ہے ۔ طارق بھی کچھ بتانے کے لئے اس کی طرف دیکھ رہا ہے پر امی کی موجودگی سے دونوں خاموش ہیں ۔ وہ واصف کی طرف دیکھتا ہے ۔ واصف اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ جاتا ہے ۔ وہ اٹھ کر امی کے پاس چلا جاتا ہے۔
'آنٹی وہ نمکین والی بسکٹ دو نہ نا ایک۔ '
'جا بیٹا، اس سفید ڈبے میں ہے، نکال لے ۔ ' امی وہاں سے بالکل نہیں اٹھنا چاہتیں۔
نہیں آنٹی پلیز آپ نکال لاؤ نا ۔ '
'اچھا رکو، ابھی لاتی ہوں ۔' امی آہستہ سے اٹھ کر باورچی خانے کی جانب چلی جاتی ہیں۔
طارق لپک کر اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
'کیا ہوا ؟ ' وہ بے چین نظر رہا ہے۔
'وہ سیدھا ایرپورٹ آئے گی ۔' طارق بتاتا ہے۔
'یار یہاں آ جاتی تو میں نیچے جا کر مل آتا ۔ ایرپورٹ پر تو ابو بھی ہوں گے ۔ کیا بول کر تعارف كراؤں گا اس کا ۔۔۔ ؟ '
'کہہ دینا دوست ہے ۔ ' طارق مشورہ دیتا ہے۔
'جی ہاں پر ۔۔۔ فیرویل (آخری) کس نہیں لے پائے گا ابو کے سامنے ۔ ' واصف مسکراتا ہوا کہتا ہے۔
'ارے یار وہ بات نہیں ۔۔۔ ابھی تک امی ابو کو کچھ نہیں بتایا تو اب جاتے وقت ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا، براہ راست فائنل ڈسيجن کے وقت ۔۔۔ ۔ ' وہ کچھ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
'سن تو! ابو کو ایرپورٹ چلنے کے لئے منع کر دے ۔ کچھ بھی بول کر سمجھا لے ۔ کہہ دے کہ دو لوگ تو جا ہی رہے ہیں ۔ ' واصف مشورہ دیتا ہے۔
' ہا ں شاید یہی ٹھیک رہے گا ۔ ' وہ سوچتے ہوئے بدبداتا ہے۔
امی بسکٹ رکھ کر ابو کے پاس چلی گئی ہیں ۔ دونوں آپس میں باتیں کر رہے ہیں ۔ یا اب اکیلے صرف ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی مشق ۔۔۔ ؟ 
ابو پھر اندر آتے ہیں۔
'سردی سے بچ کر رہنا وہاں سردی بہت زیادہ پڑتی ہے ۔ ہمیشہ مفلر لگا کر رہنا ۔ سردی کانوں پر ہی سب سے پہلے حملہ کرتی ہے ۔ کان ہمیشہ ڈھکے ہونے چاہئے ۔ یہ نہیں کہ فیشن میں بال نہ بگڑے، اس لئے مفلر ہی نہ لگاؤ ۔ احتیاط سے کام لینا۔ وہاں کوئی دیکھنے نہیں آئے گا ۔ وہ تمہارا گھر نہیں نیو یارک ہے'
ابو گزشتہ کچھ دنوں سے ہر بات میں گھما پھرا کر نیو یارک کا ذکر ضرور لے آتے ہیں جیسے پوری تصدیق کر لینا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی اتنی دور جا رہا ہے۔
'جی ۔۔۔ ۔ ' اتنی باتوں کے جواب میں وہ صرف ایک لفظ بولتا ہے جو باہر پھیل رہے اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔
ابو باہر جا کر دوبارہ ٹہلنے لگتے ہیں ۔ امی باہر کرسی پر بیٹھی ہیں۔
'آج روز جتنی سردی نہیں ہے ۔ ' طارق کہتا ہے۔
'ہاں بلکہ مجھے تو گرمی لگ رہی ہے ۔ ' وہ کہتا ہے۔
'وہ تو لگے گی ہی، تو نے سویٹر اور جیکٹ دونوں پہن رکھی ہے ۔ مجھے دیکھ ۔۔۔ ۔ ' واصف اسے اپنا ہاف سویٹر دکھاتا ہے۔
'ارے یار، ابو نے زبردستی۔۔۔ '
'تو ابو کے سپوت، اب تو اتار دے ۔ ابو باہر ہیں ۔ اتار کر جیکٹ کی چین بند کر لے ۔ انہیں کیا پتہ چلے گا ۔ ' واصف کہتا ہے۔
وہ جیکٹ اتار کر سویٹر اتار دیتا ہے ۔ پھر جیکٹ پہن کر اس کی چین بند کر دیتا ہے۔
'میں سوچ رہا تھا، یہ سویٹر نہیں لے جاؤں ۔ ' وہ سویٹر کو تہہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔
'صحیح سوچ رہا ہے ۔ یہ پرانے سویٹر کو لے جا کر کیا کرے گا ؟ تین تین اچھے سویٹر تو ہیں تیرے پاس ۔۔۔ ۔ ' طارق سمجھاتا ہے۔
'مگر ابو دیکھ لیں گے تو انہیں برا لگے گا ۔ وہ خود یہ سویٹر میرے لئے تبتین مارکٹ سے لائے تھے ۔ ' وہ ہچكچاتا ہوا کہتا ہے۔
'ابھی نہیں دیکھیں گے نا؟ بعد میں دیکھیں گے تو سوچیں گے غلطی سے چھوٹ گیا ۔ ' طارق سویٹر تہہ کر کے تکیے کے نیچے رکھ دیتا ہے۔
پھر تینوں اچانک چپ ہو جاتے ہیں ۔ طارق اور واصف دونوں اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں۔
'کچھ کہہ رہی تھی ؟ ' وہ متجسس نظروں سے طارق کو دیکھتا ہے۔بھی مسکراتا ہے۔
'نہیں، کچھ خاص نہیں ۔ بس یہی کہ پہنچتے ہی اپنا پوسٹل ایڈریس ای میل کر دینا ۔ جو سویٹر آپ کے لئےبن رہی ہے، مکمل ہونے ہی والا ہے، اسے کورئیر کرے گی ۔ کہہ رہی تھی بہت ساری باتیں ہیں جو تم سے ایرپورٹ پر کرے گی ۔ میں نے کہا مجھے بتا دے، میں آپ کو بتا دوں گا تو ناراض ہونے لگی ۔۔۔ ' طارق کی گفتگو سے وہ محظوظ ہوتا ہے۔
'سالے تجھے کیوں بتائے گی ؟ وہ باتیں تو خضری سے کیوں نہیں کرتا ؟ ' وہ بھی مسکراتا ہے۔
'یار، وہ نہ تو مجھے گھاس ڈالتی ہے نہ میری ڈالی گھاس کھاتی ہے ۔ اس سے کیا باتیں کروں، مجھے تو تیری شاعری ہی پسند ہے ۔ ' طارق سے ہنستا (ہوا گویا ہوتا) ہے۔'
وہ پھر مسکراتا ہے ۔ وہ جانتا ہے اور کوئی دن رہتا تو خضری کا نام سنتے ہی طارق دل پر ہاتھ رکھ کر ساری باتیں آہستہ آہستہ ڈرامائی انداز میں کراہتے ہوئے کہتا ۔ وہ بھی اس کی زبان سے آیت کا نام سنتے ہی اس پر لاتیں چلانے لگتا ؟۔ پر آج کی بات دوسری ہے ۔ آج ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔ آدھے گھنٹے کے اندر وہ ایرپورٹ کے لئے نکل جائیں گے ۔ اس سے پہلے یاروں کے درمیان ہونے والی بے وقوفیوں کو ری وائنڈ کرنا اچھا لگتا ہے۔
ابو امی کے ساتھ پھر اندر آتے ہیں۔
اب نکلتے ہیں بیٹے، کہیں پہنچنے میں دیر نہ ہو جائے ۔ '
'ارے انکل، ابھی تو وقت ہے ۔ ' طارق کہتا ہے۔
'ارے بھئی ٹریفک جام کا کوئی بھروسہ ہے کیا ۔تاخیر ہو سکتی ہے۔'
امی نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہیں۔ ' تیرے جانے کے بعد گھر بالکل سونا ہو جائے گا ۔ ' لگتا ہے امی رو دیں گی۔
'کم آن آنٹی، ہم سونا ہونے دیں گے تب نا ۔۔۔ ۔ ' واصف امی کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے ۔ امی اس کا گال تھپتھپا دیتی ہیں۔
'چلو بیٹا چلو، اب نکلتے ہیں ۔۔۔ آؤ کہیں دیر نہ ہو جائے ۔ ' ابو اس کے پاس آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اسے ابو پر اسی بات سے غصہ آتا ہے ۔ جس بات کو ایک بار منہ سے نکال دیتے ہںے اس کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں۔
'چلو بیٹا، طارق آؤ ۔۔۔ ۔۔۔ ' اس کے سوچنے بھر میں ابو ایک بار اور اپنی بات دہرا دیتے ہیں اور ایک بیگ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
'ارے انکل، آپ کہاں پریشان ہوں گے ؟ ہم ہیں نا ۔۔۔ ۔ آپ آرام کیجئے ۔ ' طارق یہ کہتا ہوا بیگ اٹھا لیتا ہے ۔ واصف دونوں سوٹ کیس اٹھا لیتا ہے۔
'ارے نہیں بیٹا، میں بھی چلتا ہوں ۔ ' ابو پریشان نظر آنے لگے ہیں۔
'چھوڑئے انکل، ڈاکٹر نے ویسے بھی مزید دوڑ دھوپ سے منع کیا ہے آپ کو ۔ آپ یہیں رہیں ۔ ہم ہیں نا ۔۔۔ ' کہتا ہوا واصف باہر نکل جاتا ہے ۔ پیچھے پیچھے طارق بھی۔
'ڈاکٹر نے دوڑنے سے انکار کیا ہے بھئی ۔ مجھے دوڑتے ہوئے تھوڑے ہی چلنا ہے ۔ ۔۔۔ چلتا ہوں میں بھی ۔۔۔ ' ابو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک اداس ہنسی ہنستے ہیں جو اس اداس شام کو اور اداس کر جاتی ہے۔
'رہنے دیجئے ابو، آپ بیکار پریشان ہوں گے ۔ ' وہ ابو سے الوداعی انداز میں کہتا ہے پھر ہاتھ ہلاتے ہوئے امی کو ۔
بیٹا، امی سے ہاتھ تو ملا لو ۔ '
وہ آگے بڑھ کر ہاتھ ملاتا ہے اور پھر ابو سے گلے مل کر مل کر وہ باہر آ جاتا ہے ۔ ابو امید بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے رہتے ہیں ۔
تینوں گھر سے نکل کر سڑک پر آ جاتے ہیں ۔ وہ خود کو ایسے مقام پر پا رہا ہے جہاں ایک واجب خوشی کا احساس دل میں اس لئے نہیں امڈ کر آرہا ہے کیونکہ کچھ چھوٹ جانے کا غم اس پر حاوی ہوتا جا رہا ہے ۔ اپنے دوست، اپنی جگہ، اپنا ماحول ۔۔۔ ۔ ایک نئی دنیا میں جانے کی خوشی پتہ نہیں کیوں اتنی شدت سے ۔
قریب سو میٹر چلنے کے بعد طارق سگریٹ جلا کر دونوں کو ایک ایک تھما دیتا ہے ۔ دونوں سگریٹ کے مرغولے اڑاتے ہوئے آٹو کی طرف جانے لگتے ہیں۔
'آج صبح ڈاکٹر آصف کے گھر پولیس کا چھاپہ پڑا تھا ۔' طارق سگریٹ کا دھواں چھوڑتا ہوا بتاتا ہے۔
'جی ہاں، اس کے ڈیڈی بزنس کی آڑ میں کچھ غلط دھندا کرتے تھے ۔ ' واصف کہتا ہے۔
اس کا دل صبح سے بھاری ہو رہا ہے ۔ وہ اپنی بیتی زندگی اور آنے والی زندگی کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔ ان دونوں کی باتیں سن کر اس کا دل جیسے بیٹھنے لگا ہے ۔ وہ بھی تو اس کے بغیر اکیلے ہو جائیں گے ۔ وہ کتنا مس کرے گا ان کو۔۔۔ ۔
'اچھا سن، وہاں کی لڑکیاں بڑی فرینک ہوتی ہیں ۔ دو چار پٹ جائیں تو بتانا، ہم بھی ٹرائی کر لیں گے ۔ کیوں!! ' طارق کی بات پر اسے ہنسی آ جاتی ہے۔سےوہ ہنسنے لگتا ہے۔
وہ بھی مسکرا دیتا ہے ۔ واصف ایک بار اس کی طرف دیکھ بھر لیتا ہے ۔ وہ دل دكھانے والی باتیں نہیں کرنا چاہتے۔
'میں وہاں تم لوگوں کو بہت مس کروں گا ۔۔۔ ' وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا ہے ۔ واصف اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دبا دیتا ہے۔
'ارے کبھی - کبھی اسے بھی مس کر لینا جو اپنا پیار سویٹر کی شکل میں بھیجنے والی ہے ۔۔۔ ۔ ' طارق جذباتی ہونے کے باوجود بات کو ہنسی میں اڑا دیتا ہے۔
'انکل آ رہے ہیں ۔ پیچھے پلٹنے سے پہلے سگریٹ پھینک دو ' واصف آہستہ سے پھسپھساتا ہے۔
وہ سگریٹ پھینک کر پلٹتا ہے ۔ ابو تقریباً دوڑتے ( تڑپتے ) ہوئے آ رہے ہیں ۔ وہ آگے بڑھ کر سڑک پار کرتا ہے اور ان کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
'کیا بات ہے ابو ؟ آپ کے لئے دوڑنا نقصان دہ ہے، آپ جانتے ہیں پھر بھی ۔۔۔ ؟ ' وہ ہلکا غصہ ظاہر کرتا ہے ۔ اسے پہلی بار یاد آتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد ابو کی جلد بازی کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا اور وہ جلد بازی میں اپنا نقصان کرتے رہیں گے۔
'ارے تم یہ سویٹر بھول آئے تھے تکیے کے نیچے ۔۔۔ ۔ تمہاری امی نے کہا کہ تمہیں دے آؤں ۔۔۔ اس لئے تھوڑا دوڑنا پڑا ۔ دیکھو بیگ میں رکھ لو ۔۔۔ ' ابو اٹكتی سانسوں کے ساتھ بولے جا رہے ہیں اور ان کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئی ہیں۔
اسے اچانک ابو کے اوپر ترس آنے لگتا ہے، پھر اپنے اوپر ۔ پھر ابو کے اوپر محبت آنے لگتی ہے اور اپنے اوپر غصہ ۔نم آنکھوں اور طویل سانسوں کے درمیان ابو نے کتنی فکر چھپا رکھی ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ ابو کو محبت کی ساری داستان بتا دے اور جو راز اس نے چھپا کر رکھا ہے اسے ظاہر کر دے ۔ کیا پتہ پھر ابو بھی جاتے وقت اسے گلے لگا لیں۔مگر اس کی ہمت نہیں ہو رہی ہے ۔
وہ ڈوبتی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے سویٹر ہاتھ میں لئے تھوڑی دیر کھڑا رہتا ہے اور ابو کو دیکھتا رہتا ہے۔
'ساری ضروری چیزیں رکھ لی ہیں نا؟ یہ یاد رکھنا کہ ہمیشہ اپنی محنت پر یقین رکھنا ۔ صحیح راستہ مشکل ہو یا طویل، ہمیشہ اسے ہی منتخب کرنا ۔ جسم اور پڑھائی دونوں پر توجہ دینا ۔ پیسوں کی فکر مت کرنا ۔ چلو، اب جاؤ، دیکھو طارق نے آٹو طے کر لیا ہے ۔ ۔۔۔ بلا رہا ہے تم کو ۔ ' ابو اپنے آنسو چھپانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
'جی ۔۔۔ ۔ ' وہ خود ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ پلٹتا ہے ۔ دو تین قدم چلنے پر ابو کی آواز سنائی دیتی ہے۔
'کہو تو میں بھی چلے ہی چلوں ۔۔۔ ۔ ویسے بھی گھر پر بیٹھا ہی رہوں گا ۔۔۔ ۔ ' ابو کی سست آواز جیسے کہوں اور نہ کہوں کے تعطل کے درمیان سے نکل کر آ رہی ہے ۔ زمانے بھر کا درد اور اپنی آواز کو انہوں نے اس طرح ظاہر کرنا چاہا ہے جیسے انہوں نے بہت عام اور چھوٹی سی بات کہی ہے اور اس کے نہ مانے جانے پر بھی ان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

۔۔۔مزید

سچی خوشی

عرصہ گذرا اسی طرح کی ایک کہانی ہندی میں کہیں پڑھی تھی ،کہاں وہ اب یاد نہیں رہا ۔کہانی جب پڑھی تھی تو ہمارے چچا محترم مولانا ابراہیم ندوری نے اسے اپنے لفظوں میں لکھنے کے لئے کہا تھا ۔اس وقت میں چھٹی یا ساتویں کا طالب علم تھا ۔آج اپنی پرانی ڈائری میں مجھے یہ کہانی نظر آئی۔ دیکھا تو ایک عجیب خوشی کا احساس ہوا ۔معمولی حذف و اضافہ کے ساتھ بلاگ میں شامل کر رہا ہوں ۔اسے عید کا تحفہ ہی سمجھئے ۔کہیں کوئی کمی یا غلطی ہو تو نشاندہی فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔

محمد علم اللہ اصلاحی
تیس دن کے روزوں کے بعد آج عید کا دن آیا تھا۔ اس مبارک موقع پر ہر شخص نئے کپڑے پہنے عید گاہ کی طرف خراماں خراماں چلا جا رہا تھا۔ہر شخص کی چال میں ایک عجب سی مستی تھی اور چہرے پر ایک میٹھی مسکراہٹ۔ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب سب کے چہرے ایک خاص قسم کی چمک سے دمک رہے تھے۔آج کل کے لوگوں کے چہروں پہ ایسی خوشی تو کبھی کبھی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

صرف عید گاہ کے اندر ہی نہیں، بلکہ باہر تک لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ مسجد کے مائک سے عید کی نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی تھی۔اسی دوران امام صاحب فطرہ (عید کی نماز سےقبل دیا جانے والا صدقہ) ادا کرنے کے اصول بھی بتاتے جا رہے تھے۔کیونکہ عید کی نماز سے پہلے فطرہ ادا کر دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرنے والے شخص کے روزے ناقص سمجھے جاتے ہیں۔

مسئلہ اجاگر کرنےکے بعد امام صاحب نے عید کی نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد انہوں نے خطبہ پڑھا ۔خطبہ کے بعد امام صاحب نے دعا کی جس پر تمام نمازیوں نے یک زبان ہو کر آمین کہا ۔دعا ختم ہوتے ہی تمام لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگے۔ تقریبا آدھے گھنٹے تک مبارکبادیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔اس کے بعد لوگ خوشی خوشی ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہوئے اپنےاپنے گھروں کی جانب چل پڑے۔

خوشی کے اس اتھاہ سمندر میں شامل عامر جب اپنے ابو کے ساتھ عید گاہ کی سیڑھیاں اترنے لگا تو اچانک اس کی نظر سامنے کھڑے ایک لڑکے پر پڑی۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس وہ لڑکا درد بھرے لہجے میں کہہ رہا تھابابو جی، کچھ پیسے دے دو، ہم بھی ہنسی خوشی عیدمنا لیں "
اس کی حالت دیکھ کر عامر ایک لمحے کے لئے رکا اور پھر پیسے نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن اس کی جیب خالی تھی۔ جلدی کے چکر میں وہ اپنے سارے پیسے گھر پر ہی چھوڑ آیا تھا۔ اچانک اسے پیچھے سے دھکا لگا اور اسے آگے بڑھنا پڑا۔

راستے بھر عامر اس لڑکے کے بارے میں سوچتا رہا۔ کب گھر آ گیا، اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ گھر میں تمام لوگوں سے سلام دعا کے بعد وہ اپنے کمرے میں جا بیٹھا۔اس کے چہرے کی خوشی اب کافور ہو چکی تھی۔اس کی آنکھوں میں بھکاری لڑکے کی تصویر اور کانوں میں اس کی آواز اب بھی گونج رہی تھی۔

کتنا غریب تھا وہ لڑکا اس کی آواز میں بھی کتنا درد و گدازتھا۔ بیچارے کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ عید کے دن بھی ٹھیک ٹھاک کپڑے پہن سکے۔عامر کے ذہن میں خیالات بڑی تیزی سے گردش کرنے لگے۔ کیا ہم اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتے؟ کیا ہم صرف فطرہ دے کر ہی کام چلا لیں گے؟ نہیں، ہمیں ان لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کی ہم پر بھی تو کوئی ذمہ داری ہے۔اسے کلاس میں بتایا ہوا اپنی میڈم کا ایک ایک فقرہ یاد آ رہا تھا۔

" کیا ہوا عامر بیٹے؟ تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟'' امی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا'' چلو، سویّا ں کھا لو، میں نے نکال کر رکھی ہیں"

" نہیں امی، ابھی میرا موڈ نہیں ہے" عامر نے آہستہ سے کہا۔

" کیوں؟ کیا ہوا تمہارے موڈ کو ؟" عامر کی بات سن کر امی کے پیشانی پر تشویش کی لکیریں ابھر آئیں" کہیں بخاروغیرہ تو نہیں ہے؟"

" نہیں امی، ایسی کوئی بات نہیں" عامر نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر وہ لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

" اچھا جاؤ کرتا پاجامہ اتار کر پینٹ شرٹ پہن لو اور دوستوں کے ساتھ گھوم پھر آؤ۔تمہارا دل بہل جائے گا" یہ کہتی ہوئی امی اس کے کمرے سے باہر چلی گئیں۔

عامر بے دلی سے اٹھا اور کپڑے بدلنے لگا۔اس کی آنکھوں کے آگے اب بھی اسی لڑکے کی تصویر تیر رہی تھی۔ تبھی اچانک اسے کہیں دور سے اسی لڑکے کی آواز سنائی دی۔ اس نے الماری سے پانچ روپے کا نوٹ اٹھایا اور سیدھا باہر کی طرف بھاگا۔

باہر گلی میں وہ لڑکا پڑوس والے گھر کے سامنے کھڑا اپنی بات دہرا رہا تھا" بابو جی! کچھ پیسے دے دو، ہم بھی ہنسی خوشی عید منا لیں"

عامرنے آواز دے کر اسے اپنے پاس بلا لیا۔ وہ اسے پانچ روپے کا نوٹ دیتے ہوئے بولا،" اب تو خوش ہو؟"
" ہاں بابو جی، خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کی جھولی ہمیشہ روپے پیسوں سے بھری رہے" کہتے کہتے اس لڑکے کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

اس نے عامر کو سلام کیا اور پھر اچھلتا ہوا گلی میں ایک طرف بھاگ گیا۔اس لڑکے کو اس طرح سے بھاگتا دیکھ کر عامر کا چہرہ کھل اٹھا۔وہ اس وقت تک اسے دیکھتا رہا، جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔

تبھی عامر کو لگا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے۔اس نے مڑ کر دیکھا، سامنے اس کے ابو کھڑے تھے۔ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا بیگ تھا۔ اس تھیلے کو دیکھ کر عامر کو بڑا تعجب ہوا۔وہ بولا،" اس میں کیا ہے ابو؟ "

" تمہارے کپڑے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں" ابو نے مسکرا کر جواب دیا"

" میرے کپڑے؟" عامرچونکا" آپ ان کو لے کر کہاں جا رہے ہیں؟"

آؤ میرے ساتھ، تمہیں خود معلوم ہو جائے گا"کہہ کر وہ ایک طرف چل پڑے"

عامرکی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ وہ بھی چپ چاپ ابو کے ساتھ ہو لیا۔

چار پانچ گلیوں کو عبور کرتے ہوئے وہ لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے، جہاں پر بہت سی جھگیاں بنی ہوئی تھیں۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو بولے،" عامر بیٹے، ان میں وہ لوگ رہتے ہیں، جنہیں عید و بقرعید میں بھی ڈھنگ کا کھانا نہیں نصیب ہوتا۔ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔ یہ سامان انہی لوگوں کے لئے ہے۔ لواسے اپنے ہاتھوں سے تقسیم کرو"

عامرنے فخر سے ابو کی طرف دیکھا۔اس کے چہرے کی چمک پھر سے لوٹ آئی تھی۔وہ عید کے چاند کی طرح جگمگانے لگا۔ اس نے بیگ ہاتھ میں پکڑا اور آگے بڑھ گیا۔ امید کی روشنی سے جگمگاتی سینکڑوں نگاہوں کا وہ اگلا ہدف تھا۔


۔۔۔مزید