جمعرات، 9 اگست، 2012

محمدصلی اللہ علیہ وسلم :عصر حاضر میں محبت ،امن ،اتحاداوررواداری کے ایک عظیم پیغامبر




محمدصلی اللہ علیہ وسلم :عصر حاضر میں محبت ،امن ،اتحاداوررواداری کے ایک عظیم پیغامبر


محمد علم اللہ اصلاحی
آج جب ہم عالمی پیمانہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مجموعی طور پر مغرب کی جس الحادی تہذیب کا غلبہ ہے اس میں یونان کی مادیت ،مسیحی مریضانہ مذہبیت اور جدید سائنسی الحادو دہریت کا خوف پوری شدت سے دوڑ رہا ہے ۔یہ چیز صدیوں کی کشمکش اور گمراہی کے بعد ہوئی،مسلمانوں کے زوال کے بعد اٹھارہویں صدی عیسوی اگرعقلیت پرستی کے لئے مشہور تھی تو انیسویں صدی میں جذبات پرستی کا غلبہ ہوا ،اس دور کو اس طور سے بھی پیچیدہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دور نہ تو محض عقل جزوی (جس کا اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں زور تھا )کا دور ہے اور نہ محض سائنس کا ،نہ اشتراکیت کا اورنہ ہی بے دینی کا ۔اس دور کی حقیقت یہ ہے کہ سارے رجحانات اور سارے افکار اپنے تضادات کے باوجود بیک وقت موجود ہیں اور ان کے اندر کسی قسم کی درجہ بندی نہیں ہے ۔ بلکہ سب کو ایک ہی سطح پر عمل کرنے کی آزادی ہے مثلا کرسٹو فرکاڈویلکے لفظوں میں”جارج برناڈشاکی برژوائی فینزم اور سارتر کی وجودیت اور اشتراکیت کے لئے ایسا ہونا اگرکہا جائے کہ یہ بالکل فطری تھا تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ وحی ،الہام اور خدا کی ہدایت کے بغیر کئی صدیوں تک مغربی مفکرین نے اپنے ذاتی رجحانات کے زیر اثر اپنی اپنی کلیسا سازی کوصرف حقیقت حیات سے تعبیر کیا“۔ڈارون نے ©”انسان کو حیوان “ثابت کیا تو میکڈوگل نے اسے ”حیوانی جبلتوں کا غلام“ بتایا ۔فرائڈنے اسے ”مغلوب الشہوات حیوان“ قرار دیا تو ایڈلرنے اسے ”خود پرست حیوان “کہا ۔نیگ نے اسے” توہماتی انسان “ثابت کیا اور مارکس اسے” شکم پرست انسان “سمجھنے پر مصر رہا ۔ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب اور اس کے زیر اثر ادب ،آرٹ ،تمدن و معاشرت ،سیاست و معیشت غرض زندگی کے ہر شعبہ میں شہوت رانی ،لذت پرستی ،ابن الوقتی،مکاری ،مادہ پرستی ،بد کرداری اور درندگی عام ہوتی گئی اس وجہ سے ڈرسےکہتا ہے کہ ”ہماری تہذیب اپنے قومی،معاشی ،عائلی ،اخلاقی ،مذہبی اور ذہنی نظام کے ہر شعبہ میں حماقت ،فریب اور ظلم کا مظہر ہے “۔اس کا یہ قول بجا ہے کیونکہ موجودہ مادہ پرستانہ تہذیبوں نے جہاں کمپیوٹر،ہوائی جہازٹیلی فون ،انٹرنیٹ اوراس قبیل کی حیرت انگیز ایجادیں کی ہیں وہیںایٹم بم ہائیڈروجن بم کے بعدمیگالن بم ایسٹرائڈ بم بالسٹک میزائل بم اور ان سے بھی زیادہ تباہ کن ہتھیار تیار کئے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ان دنوںانسانی صلاحیت ،دولت اور وقت کا کم از کم ستر فیصد حصہ تباہ کن آلات کی تیاری میں صرف ہورہا ہے بڑی طاقتیں شاید کسی ایسے ہتھیار کے لئے کوشاں ہیں کہ جس کی ایک ہی ضرب سے وہ پوری دنیا کو فنا کے گھاٹ اتاردیں اس میں ان کو کسی حد تک کامیاب بھی کہا جاسکتاہے۔

آئندہ صدی کو اگر اس مادہ پر ستانہ نظام فکر و عمل سے نہ نکالا گیا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ طلسم آب و گل کس طور پر ختم ہوجائے گا ۔
یہ بڑا اہم سوال ہے کہ دنیا اور بنی نوع انسانی کو اگر زندہ رہنا ہے تو وہ کون سے مطالبے ہیں جن کی ہمہ گیر تکمیل کے ذریعہ انسانی مستقبل کی بشارت دی جاسکتی ہے اس سلسلے میں جب ہم جائزہ لیتے ہیںتودنیا کے ماہرین اور دانشور وں کی تیارکردہ اصولوں کی روشنی میں جو مختصر سی فہرست ابھرکر سامنے آتی ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے ۔1۔آفاقی اصول قانون سازی۔
۔2عام انسانی مساوات اور وحدت آدم کا تصور
 ۔3مذہبی رواداری ۔
۔.4آزاد تحقیق و تجربہ اور تسخیر کائنات۔
 ۔5عورت اور مرد، فرد اور جماعت ،جسم اور روح نیز حق اور فرض کا مثالی توازن ۔
۔6۔جسمانی محنت کا وقار۔
۔7 ہر قسم کی غلامی سے آزادی وغیرہ ۔ 

اور یہ تما م چیزیںدنےا کے کسی افکار و نظرےات میں نہیںبلکہ محمد کی ذاتی زندگی اور ان کے ذریعہ لائے گئے پیغام میںپوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتی ہےں۔اس لئے کہ فی زمانہ دنیا میں جو رسہ کشی ہے اور ایک دوسرے کو غلط ٹھہرانے وان پر غاصبانہ قبضہ کرنے (خواہ وہ چین کا ارونا چل کے علاقہ میں پانی کے راستہ کا روکنا ہو،یا کشمیر کے علاقوں میں دراندازی،ہند و پاک کے جھگڑے ہوں ،ایران اور امریکہ کی چپقلش،اسرائیل کا فلسطینی عوام کو بے دریغ قتل کرنا،افغانستان میں امریکی فوجوں کی اسے تخت و تاراج کرنے کی کوشش یا عراق کو ظالم بتا کر اس کے معدنیات یا قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنا ،یا پھر تبت کا اپنی آزدی کے لئے جد و جہد کرنا )کی کوشش گویا سبھی اپنے مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں ۔ایسے میں محمد کی تعلیمات میں ان سب کا حل موجود ہے ۔لیکن اس وقت پوری دنیا میں ان کے ذریعہ لائے گئے پیغام کو ایک عجیب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔اس وجہ سے نہیں کہ لوگوں نے اس کو جانا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے ان کے خلاف اس قدر پرو پگنڈہ کیا کہ لوگوں کو کبھی ان کے بارے میں پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔حالانکہ نبی کریم محسن انسانیت تھے اوران کا پیغام بھی ابدی تھا آپ ﷺنے دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشش کی اور فرمایا:

 ”تم میں سے جو کوئی اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ امن سے ہو ،اپنے جسم کے اعتبار سے صحت مند ہو ۔اس کے پاس ایک دن کا کھانا پانی موجود ہو تو سمجھو اسے ساری دنیا کی دولت حاصل ہو گئی “(مشکواہ)

اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا ؛
”لوگوں کے درمیان قیامت کے دن جس چیز کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائیگا وہ نا حق بہایا گیا خون ہوگا“ ۔(بخاری)

 اور حجہ الوداع کے موقع پر آپ نے جو کچھ فرمایا وہ عالمی امن کے منشور کی حثیت رکھتا ہے ا ٓپ کے مطابق :
کسی بھی عربی کو عجمی پر ،کالے کو گورے پر کوئی امتیازحاصل نہیں ،تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں “یہ خطبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ مخالفین اسلام کی نگاہ میں بھی انسانیت کی بقا اور عالمی امن و اخوت کی ایک اہم مثال رکھتا ہے اس کی ایک مثال ایچ جی ویلزکا اعتراف ہے ۔ویلز نے رسول کی ازدواجی زندگی پر نہایت رکیک حملہ کئے ہیں ،لیکن جہاں تک اس خطبہ کا تعلق ہے اس نے اپنی کتاب” اے کنسائز ہسٹری آف دی ورلڈ “میں لکھا ہے کہ ”انسانی حریت ،اخوت اور مساوات کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے چنانچہ مسیح ناصری کے یہاں بھی وہ بکثرت موجود ہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ ان اصولوں پر بالفعل ایک معاشرہ تاریخ انسانی میں پہلی بار محمد نے قائم کیا “۔

عالمی تناظر میں بھی اس وقت عام طور پر جنگ کا مفہوم لوٹ مار ،قتل و غارت گری ،تباہ کاری کے سوا دنیا نے کچھ نہیں سمجھا اور امن کے نام پر لوگوں نے مزید خونریزی برپا کی مگر نبی اکرم نے اپنی تعلیمات میں فی سبیل اللہ کی قید لگائی اور فرمایا :

”تلوار اٹھاو مگر بدی کے انسداد کے لئے ،معاصیت ،ظلم و طغیان اور فتنہ و فساد مٹانے کے لئے نیز سر کش لوگوں سے خلق خدا اور معابد و مساجد کی بے حرمتی سے بچانے کے لئے اور جب فتنہ و فساد مٹ جائے تو ہاتھ روک لو حتی کے عین میدان جنگ میں دشمن صلح کی درخواست کرے تو اسے رد نہ کرو، عورتوں بچوں ،گرجوں میں عبادت کرنے والوں اورصو معہ کے راہبوں ۔سن رسیدہ لوگوں ،اپاہجوں بیماروں اور ان لوگوں کو جنھوں نے جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیاان کو قتل کرنا کسی بھی حال میں جائز نہ ہوگا ۔غلاموں نوکروں ،تیمارداروںاور سفیروں کے ساتھ مداہنت کا رویہ اختیار کرو ،دھوکہ دہی اور مقتولین کا مثلہ بنانا ممنوع قرار دیا اسی طرح زندہ جلانا ،پھلوں کو خراب کرنا ؛کھیتیوں کو برباد کرنا گھروں کو آگ لگانا ،درختوں کو کاٹنا ؛پانی میں زہر ملانا اس کے علاوہ کوئی نازیبا ہلاکت انگیز کام کرنے سے سختی سے روکا “۔(السیاسہ والشرعیہ بعہد الوہاب الخلافہ ،ص 89.90)

 دنیا کے تمام لوگ جو امن کا دعوی کرتے ہیں کیا اگر نبی اکرم کا یہ پیغام نافذ العمل ہو تو امن میں خلل واقع ہو سکتی ہے ؟کیا فلسطینی عوام کا خون بہ سکتا ہے؟کیا گجرات میں بسنے والی ماوں کی کوکھ کو نظر بد لگ سکتی ہے؟
آج ساری دنیا اخوت و محبت کو قائم کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کر رہی ہے پھر بھی اس میں ناکام ہے لیکن نبی کریم ﷺکی زندگی میں یہ ساری چیزیں ایک ہالہ کی سی دکھائی دیتی ہیں آپ نے اس شخص کی بھی خیریت دریافت کی جس نے آپ پر مسلسل کوڑے پھینکے آپ اس بوڑھی عورت کے بار بردار بنے جس نے خود محمد سے بچنے کی تلقین کی ،طائف والوں کی زیادتی سے جب آپ ﷺکا جسم لہو لہان ہو گیا تو اسکے باوجود انکے حق میں آپ نے جو کلمات کہے ، تاریخ نے اس کو محفوظ کر لیا آپ نے فرمایا:

”خدایا میری قوم نادان ہے وہ مجھے نہیں جانتی اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو نہ سہی ان کی آنے والی نسل شاید ایمان لے آئے“ ۔حضرت زید بن حارثہ جو آپ کے ساتھ تھے انھوں نے بد دعا کے لئے آپ سے کہا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایامیں دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(الرحیق المختوم ،ص199)

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماءؓکے والدین جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا ان سے ملنے مدینہ تشریف لائے ۔حضرت اسماءنے آپﷺسے پوچھا میں ان سے ملوں یا نہ ملوں آپ نے فرمایا ان سے ملو بھی اور ان کے ساتھ محبت اور حسن سلوک بھی کرو ۔(سیرةالنبی ،ج 2ص 234,)
اس وقت گوانتنامو اور اس طرح کی دوسری جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ جس ظلم اور بر بریت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ،ان کو نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم کی زندگی سے سبق لینا ہوگا جب آپ صلی للہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو با عزت رہا کیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی اور ان پر ظلم و زیادتی کو سختی سے منع کیا اور وعید بھی سنائی ”کسی نبی کے لئے درست نہیں کہ
 اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی کر لے ۔تم لوگ دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے ۔اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۔اگر اللہ کی طرف سے نوشتہ سبقت نہ کر چکا ہوتا تو تم لوگوں نے جو کچھ لیا ہے اس پرتم کو سخت عذاب پکڑ لیتا “ (سورہ الانفال آیت 67,68)
عالمی پیمانہ پر ایسی زندہ دلی کی مثالیں کہاں دیکھنے کو ملتی ہیں یہ نبی کریم کا ہی اعجاز تھا کہ آپ نے دنیا کو ایسی نظیر دی ،جسکی کوئی مثال نہیں ۔
آج پوری دنیا میںمال و زر کی لڑائیاں ،فرقوں کی باہمی جنگیں ،ملکوں کی آپسی دشمنی ،خاندانی جھگڑے ،کرسی کی لڑائیاں ،اتحاد و امن کی سالمیت کے لئے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں ۔اس پس منظر میں محمد کی پوری زندگی لوگوں کو جوڑنے اور متحد کرنے میں صرف ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ مثلا:نبوت سے قبل ہی حجر اسود کے رکھنے کے مسئلہ کو اتنی خوبصورتی سے رفع دفع کیا کہ نیام سے نکلی ہوئی تلواریں نیام میں واپس لوٹ گئیں ۔آخری خطاب میں لوگوں کو مساوات انسانی کی تعلیم دیکر جوڑ ااور پر امن بقائے باہمی کے تحت سماجی رشتوں کو متحد کیا اور سماج کو توڑنے والی تمام برائیوں کاقلع قمع کیا ۔حلف الفضول میں آپ نے لوگوں کو اس بات پر متحد کیا کہ وہ تاجروں پر ہو نے والے مظالم کی مخالفت کریں ۔مدینہ میں تشریف لے گئے تو یہودی قبائل کے ساتھ امن و امان کا ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس میں یہودی قوم کو جو درجہ دیا وہ قابل دید ہے آپ نے فرمایا © © ©
 ©:

٭بنو عوف کے یہودی مومنوں کے ساتھ ایک قوم ہیں ۔
٭اس معاہدہ میں شریک اقوام مل کر کسی بھی جنگ کرنے والے کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کریں گی ۔
٭آپس میں خیر خواہی اور ہر طرح کی بھلائی کے تعلقات رکھیں گی گناہ کے معاملہ سے اجتناب کریںگی ۔
٭یہودیوں کے حلیفوں کے حقوق بھی ایسے ہی مانے جائ ¾یںگے ۔
٭مظلوم کی یقینا مدد کی جائیگی ۔
(سیرت ابن ہشام،ج 1ص،178)
اسی طرح صلح حدیبیہ میں آپ نے بظاہر دب کر صلح کی تھی آپ کا مقصدلو گوں سے جنگ و جدا ل نہیںتھا بلکہ ان کو اتحا د کی ایک ایسی کڑی میں پرونا تھا جس میں ان کے لیے نجا ت تھی۔آپ نے تما م انسانوں کو خدا کا بند ہ اور مخلو ق اورایک کنبہ قرا ر دیا۔

مسلمان اور عیسائی ملکر دنیا کی نصف آبادی کو تشکیل کرتے ہیں ۔اگران دونوں میں اتحاد پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا نے امن و اتحاد کا نصف سفر طے کر لیا ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فرقہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے کے بجائے مثبت رویہ اختیار کریں اور ماضی کی مثبت حقیقتوں کو یاد کریں جیسا کہ مشہور مشتشرق مسٹر جیسن نے لکھا ہے کہ ”اسلام اور مسلمانوں کے عروج کی تاریخ رواداری اور ان کی اعلی قدروں کو اجاگر کرنے کی تاریخ ہے ۔اس دور کی مسلمانوں کی سلطنتیں ستم رسیدہ یہودیوں اور نسطوری ،یعقوبی اور دوسرے عقائد رکھنے والے عیسائیوں کی پناہ گاہ تھیں اور ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے کے با وجود مسلم ممالک میں انھیں پناہ لینے کی کھلی آزادی تھی بلکہ انھیں مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کو تعمیر کرنے کی بھی آزادی حاصل تھی اور یہ سب محمد کی تعلیمات کا نتیجہ تھا “(سہ روزہ دعوت دہلی،13ستمبر1983ئ)
اسپر ٹ آ ف اسلا م میں جو نی لال کے بقول ©:
”رسول نے عیسائیوں کو ایسی مراعات عطا کیں جو انھیں اپنے مذہب کے بادشاہوں کے زیر حکومت بھی حاصل نہیں تھیں “
اور رسالہ وشال بھارت میں شری سندر لال جی نے اسی کاکچھ ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے :

”محمد صاحب نے غیر مسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی حکومت کے اندر رہ کر مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض قرار دیا “
(رسالہ وشال بھارت کلکتہ نومبر 1933۔ص،517)

آپ کی یہ اور اس طرح کی بے شمار اخلاق حسنہ نے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ۔اور آپ کے اسی جزبہ محبت ،امن ،اتحاد اور رواداری نے ”شام ستم “میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو ”صبح امن“کا پیغام دیا۔آج اگر دنیا چاہتی ہے کہ ایک پاکیزہ سماج اور ایک پاکیزہ ماحول کے اندر زندگی بسر کرے تو اسے محمد کی تعلیمات سے بہتر کوئی پیغام نہیں مل سکتاکہ:
دوائے درد لیکر مرہم زخم جگر لے کر
رسول پاک آئے منصب خیر البشر لیکر


۔۔۔مزید

اللہ تعالی کی تیسری مخلوق


اللہ تعالی کی تیسری مخلوق
خواجہ سراوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ایک تبصرہ
محمد علم اللہ اصلاحی 
Add caption

 گزشتہ دنوں قومی دارالحکومت دہلی میں خواجہ سواوں کے ایک کنونشن میں آگ لگنے سے کم سے کم پندرہ خواجہ سرا ہلاک جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ،یہاں تقریبا ڈیڑھ ہزارسے زیادہ خواجہ سرا جمع تھے ، ہم اس بابت اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک اس بات کی کلی جانچ نہ ہو جائے کہ آگ کیوں اور کیسے لگی ۔چونکہ حادثات انہونی ہوتے ہیں اور وہ بتا کر نہیں آتے اس لئے بھی ہم اس پر کچھ تبصرہ نہیں کر سکتے لیکن حادثہ کے بعد انتظامیہ ،پولس اور دیگر عملہ نے جو رویہ اپنایا اسے کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا ،یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف لوگ خاک ،خون اور زخموں سے تڑپ رہے ہیں وہیں دوسری جانب ملک اور اس کے باشندوں کی حفاظت و صیانت کا فریضہ انجام دینے والی پولس متاثرین کے زیورات اتارنے میں مصروف تھی ۔ انھیں مناسب طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں اور ان سب سے بڑھ کربات یہ کہ وزیر اعلی کی جانب سے راحت کے نام پر متاثرین کو دو دو لاکھ روپئے دینے پر بھی بعض لوگوں نے اعتراض جتانا شروع کر دیا ۔

 خدا کی اس مخلوق کے ساتھ اس قسم کا رویہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہی ان کے ساتھ حکومتوں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی یہی رویہ اپنایا ہے ۔ لوگ انھیں گالیاں دیتے ہیں ، ڈراتے دھمکاتے ہیں ،ان کے خلاف ایسے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ شیطان بھی سن کر شرما جائے ، لوگ کہتے ہیں کہ یہ غنڈہ گردی کرتے ہیں ، بدتمیز ہیں ،یہ ان کے ڈر کا فائدہ اٹھاتے ہیںوغیرہ وغیرہ، لیکن افسوس کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ وہ اس حال میںکیوں ہیں اور انھوں نے عام انسانوں کے راستہ سے پرے یہ ڈگر کیونکراپنائی ہے ۔ 
 ہمارے معاشرے میں جانوروں کے بھی محافظ ہیں ، بڑی بڑی ہستیاں جانوروں پر ہو رہے ظلم کے لئے آواز اٹھاتی ہیں اور چندے کے نام پر پیسہ بھی بٹورتی ہیں،مگرمعتوبوں کے معتوب خواجہ سراو ¿ں کی برادری آج بھی اپنے حقوق کےلئے ایک مشکل لڑائی لڑ رہی ہے۔ ان پر تعلیم و صحت کی سہولتوں کے دروازے اکثر بند کر دئے جاتے ہیں۔ جائیداد خریدنے یا مکان کرایے پر حاصل کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ان کے اپنے خاندان بھی انہیں میراث کے حقدار نہیں سمجھتے۔معاشرہ انہیں خدا کی ٹھکرائی ہوئی مخلوق گردانتا ہے۔ پیدائش کے وقت ہی ماں باپ چھوڑ دیتے ہیں اور اگر نا بھی چھوڑنا چاہیں تو سماج چھڑوادیتا ہے۔ ان بچوں کو اپنایا نہیں جاتا اور پھر شروع ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا سفر جہاں وہ دوسرے خواجہ سراو ¿ں کے یہاں ہی پلتے اوربڑے ہوتے ہیں ، نا پڑھائی نا لکھائی۔نا مستبل کی باتیں نا ماضی کی سنہری یادیں،اب ایسے میں بڑے ہو کر اگر وہ لوگوں سے پیسہ نہ وصولےں ،تو کیا کرےں؟کیوںکہ یہی طریقہ انھوں نے سیکھا ہے۔

 ہم جمہوریت اور یکساں حقوق کی خاطر بحث و مباحثہ،سیمنار اور جلسے وجلوس نکالتے ہیں ،کتابیں لکھتے اور فلمیں بناتے ہیں مگر یہ مساوی حقوق عورت مرد کے حقوق تک ہی محدود رہتا ہے۔ معاشرے میں تیسری جنس بھی ہے یہ سوچنے کی زحمت کسی کو نہیں ہوتی ؟حد تو یہ ہے کہ اگر اس جانب کوئی دھیان بھی دیتا اور ان کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے بھی ایسے ہی عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔اس سلسلہ میں ابھی حال ہی میںریلیزہونے والی شعیب منصورکی پاکستانی فلم’ بول‘کوپیش کیا جا سکتا ہے جسے گرچہ بعض وسیع الذہن افراد نے سراہا ہے ۔لیکن اس سے کہیں زیادہ افراد نے اس کو تنقیدو تنقیص کا نشانہ بنایا ہے اور اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے،قابل ذکر ہے کہ اس قسم کا خیال رکھنے والے زیادہ تر افراد کی تعداد مذہبی طرز فکر رکھنے والوں کی ہے اور اس میں بھی انکی جو اپنے آپ کو ساری دنیا میں حق اور سچ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے،یہ حضرات اپنی سوچ کے ساتھ چلتے ہوئے دنیا جہاں پر رائے دیتے ہیں لیکن جب اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں اور وہ اس کے حق میں ایک لفظ بولنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ 

 یہ صرف پاکستان کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک میں بھی صورتحال بہت اچھی نہیں ہے ،آج ہندوستان میں دس لاکھ خواجہ سراو ¿ں کی تعداد ہے ،مگران کے پاس ووٹ دینے کا حق نہ ہونے کے برابر ہے کیوںکہ ووٹر شناختی نمبر کے لئے جن دستاویز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کے پاس نہیں ہیں۔ پبلک پلیس پر میل اورفی میل کے لئے استنجا خانہ و بیت الخلاءکی بحث ہوتی ہے پر خواجہ سراو ¿ں کے لئے الگ سے ایسا کوئی بندوبست کرنے کی بات نہیں اٹھتی۔ان کے لئے اسکول قائم کرنے ،اس سے چھڑا کر کوئی مناسب ملازمت دینے یا کچھ متبادل تلاشنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ۔حالانکہ یہ بات سبھی خاص کرپڑھا لکھا طبقہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہیجڑے ٹیکنیکل بنیاد پر نامرد نہیں کہے جا سکتے۔ ایک عام مرد بھی اس چیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا ہارمونل بیلنس کس طرف زیادہ ہے اسی بنیادپرہارمونل ٹیسٹس کے بعد ان کو قریبی مرد یا عورت کہا جاتا ہے، یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے،شاید اسی وجہ سے ان کو نہ تو معاشرہ قبول کرتا ہے اور نہ ہی ان کی حرکات و سکنات کی وجہ سے ان کے گھر والے قبول کرتے ہیں۔ 

 ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اندر احترام آدمیت نہیں رہا۔ مانا کہ یہ معاشرے میں کچھ ب ±رے کاموں کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن یہ برائی بھی اسی معاشرے ہی کی پیداوار ہے۔ ان کی یہ تیسری کنڈیشن انہیں گندی عادات پر مجبور نہیں کرتی بلکہ معاشرہ ہی کے چند لوگ انہیں اس طرف مائل کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ ا سے عادت اور پیشہ بنا لیتے ہیں۔یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ انہیں پیدا کرنے والی ہستی تو وہی ہے جس نے ہمیں پیدا کیا۔ ہمارے معاشرے نے ان لوگوں پر ہر قسم کے پیشے کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ کوئی ان کو چپراسی تک کی نوکری نہیں دیتا۔پھر اگر یہ ایسا نا کریں تو کیا کریں ،بلاشبہ ہمارے معاشرے نے ان کے ساتھ جو کیایہ بے چارے وہی معاشرے کو لوٹا رہے ہیں۔ایسے میں ان کے عمل کو کلیتا غلط بھی نہیں کہا جا سکتا ۔اسلئے کہ ہم نے ان کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے،اس میںہمارے معاشرے کے علاوہ،حکومت، ملی تنظیمیں اور وہ ادارے بھی مجرم ہیں جنھوں نے تمام تر دعوں کے باوجود ان مظلوموں کو کبھی بھی اپنا موضوع نہیں بنایا ۔جو ایک تلخ حقیت بن کر رہ گئے ہیں اور ہمارے ہی درمیان معاشرے میں سانس لیتی اللہ کی بنائی ہوئی یہ تیسری مخلوق ہمارے سامنے غربت، حقارت، حق تلفی، نظر اندازی کا پیکر بنی کھڑی ہے۔ان کی مسکراہٹ اور من چلے انداز میں لپٹا درد چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میرا کیا قصور ، اگر بنانے والے نے مجھے ایسا ہی بنایا ہے۔

 جب ہم معاشرے کے اچھے یا ب ±رے ہونے کی بات کرتے ہیں تو وہاں کے بسنے والوں کے آپس میں میل جول اور مساوات کو دیکھتے ہیں۔کہ آیا وہاں کسی کی حق تلفی تو نہیں ہورہی اور عدل و انصاف کے ترازو میں تولا جائے تو سب برابر ہوں۔ خواجہ سراووں کی موجودہ حالت کے ذمہ دار ہم خود ہیں، کم از کم اس مسئلے پر تو ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ ان لوگوں کے مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کو شرم کے مارے کچرے میں کو ن پھینکتا ہے، حقارت اور ذلت کی نظر سے کون دیکھتا ہے، راہ چلتے ان پر فقرے کون کستا ہے، انہیں اسکول کالج کوئی کیوں نہیں بھیجا جاتا ، کوئی باعزت نوکری کیوں نہیں دی جاتی، بچوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ یہ بھی ہم ہی جیسے انسا ن ہیں، ان کا بھی دل ہے اوریہ بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جب تک خواجہ سراووں کے ساتھ معاشرے میں ایک عام انسان جیسا سلوک نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان کو اس دلدل سے نکالنا نا ممکن ہے۔ میں یہاں حکومت کی ذمہ داری پر بحث نہیں کرنا چاہتا اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت بھی تو مجھ جیسے اور آپ جیسے لوگوں کی ہی ہے۔ جب تک عوام کی سوچ نہیں بدلی جائے گی اس وقت تک کچھ نہیں ہونے والا۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہم نے ان کو خلائی مخلوق کیوں سمجھ رکھا ہے ؟ ہم کیوں آج تک ترقی یافتہ تو کیا ترقی پزیر قوموں کی صف میں بھی نہیں؟ صرف اس لیئے کہ ہماری فرسودہ اور جدت سے عاری سوچ نے ہمیں آج تک غلام بنا رکھا ہے۔ جب تک ہم ان چھوٹی چھوٹی ناانصافیوں کو ختم نہیں کریں گے اس وقت تک ہم ترقی کی کسی بھی پکڈنڈی پر بھی چل سکتے ہیں۔

 یہاں پر بطور اسلام کے نام لیواں اور اس کے ماننے والوں کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جانب خاص توجہ دیں اور اس کے لئے باضابطہ کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ اس لئے کہ اسلام نام ہی ہمدردی ،مسیحا ئی، بھائی چارے اور انصاف و مساوات کی تعلیم دینے کا ہے۔اس سے یقینا مثبت نتائج بر آمد ہونگے اور اچھی خاصی آبادی اپنی ناپسند روش چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں پناہ لے لے گی جس سے سماج اور معاشرے کا بھی بھلا ہو گا ۔



۔۔۔مزید

جھگی والوں کے بغیر محلوں میں رونق نہیں


جھگی والوں کے بغیر محلوں میں رونق نہیں 
محمد علم اللہ اصلاحی

 ملک میں غریبوں کی تعداد گھٹانے اور بڑھانے کا کھیل کافی عرصہ سے چل رہا ہے۔وہیں گاو ¿ں سے نقل مکانی کر روٹی کے لئے ہر طرح کا ظلم اور درد سہنے والے شہروں میں جھگی جھونپڑی کے باشندوں کی ترقی کے نام پر انہیں وہاں سے ہٹانے کی سازش پورے ملک میں جاری ہے۔ کبھی بھی جھوپڑیاں اجاڑ دی جاتی ہیں۔ چاہے وہ بارش کا موسم ہویا کپکپاتے ٹھنڈ کا۔گزشتہ دن بھی جنوبی دہلی کے جامعہ نگر علاقہ میں ایساہی کچھ ہوا جس میں پر اسرار طور پر آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے وہاں پر موجود تقریبابیس جھگیوں کو اپنی زد میں لے لیاجس میں ایک معصوم بچہ سمیت تین افراد زندہ جل کر راکھ ہو گئے جبکہ دیگر سات سے بھی زائد افراد کو سنگین زخمی حالت میں ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں وہ موت و حیات کی زندگی گزار رہے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے حادثہ کو نہ تو ہندی و انگریزی اخبارات نے کوئی جگہ دی اور نا ہی دن رات عوام کے حق کی بات کرنے کا دعوی اور مستقبل کی بابت پیشن گوئی کرنے والے چینلوں نے کوئی اہمیت دی۔ابھی تک متاثرین کیلئے کسی سرکاری امداد کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے حتٰی کہ علاقہ کے ایم ایل اے اور ایم پی بھی اس سلسلے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، اور ایم ایل اے کی جانب سے محض ڈھائی ہزار فی کنبہ ادا کرکے پلا جھاڑ دیا گیا ہے۔شاید اسی لئے ابھی تک یہ آگ کیسے اور کیوں لگی کسی کو معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔تاہم مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ آگ زمین مافیا اور بلڈروں نے لگائی ہے جن کی نگاہ میں یہ جھگیاں خار بن کر کھٹکتی رہی ہیں ۔اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو حکومت ہی بتا سکتی ہے لیکن اگر اس میں ذرہ برابر بھی واقعی سچائی ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی تامل نہیں کہ یہ طبقہ ایسا اس لیے کر پاتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے اس کا نا تو حکومت کوئی نوٹس لیگی اور نا ہی یہ لوگ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے اہل ہونگے ۔قابل ذکر ہے کہ اسی علاقہ میں جب دوسرے لوگوں کے غیر قانونی تجاوازات ہٹانے کی بات آتی ہے تو یہی سرکاری عملہ اس پر ہاتھ بڑھانے تک کی ہمت نہیں جٹا پاتی۔

 ایسے میں سماج کا یہ طبقہ کہاں جائے اور کیا کرے اس جانب سوچنے کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ دیہات تو چھوڑیے ملک کے تمام ہی شہروں میں جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے بلکہ ایک تخمینہ کے مطابق ملک میں کل آبادی کا 55 فیصد لوگ جھگی بستیوں میں رہتے ہیں۔ملک میں بڑھتی مہنگائی اور کرپشن نے پہلے ہی ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ،اسکیمیںگرچہ غریبوں کے لئے بنائی جا رہی ہیں لیکن اس کو سرکاری افسران اور حکومت کے دیگر ذمہ داران اپنی جاگیر سمجھ رکھے ہیں، اس کا نتیجہ ہے کہ ان کی حالت دن بدن بد سے بستر ہوتی جا رہی ہے ،پیٹ پالنے کے لئے گاو ¿ں سے نقل مکانی کر شہر پہنچنے والے ان مجبوروں کی۔ اب تو جھگیوں میں بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔یہاں زمین اتنی مہنگی ہے کہ اس کے آس پاس کوئی غریب یا عام خاندان زمین خرید ہی نہیں سکتا۔ گھر بنانے کی بات تو خواب دیکھنے جیسا عمل ہے۔ ایسے حالات میں صبح تاشام سخت محنت کرنے والا یہ طبقہ ریلوے کی پٹریوں کے آس پاس زندگی کے بقاءکی تلاش کر رہا ہے توآبادی سے دور کوڑے کرکٹ کی آماجگاہ میں، جہاں ان کی زندگی جہنم کدہ بن کر رہ گئی ہے۔اس میں کبھی خطرناک بیماریوں کی وجہ سے ان بے چاروں کی موت ہو جاتی ہے ، تو کبھی آتشزدگی کا شکار ہوکر غریب دم توڑ دیتے ہیں۔ ان سب سے بچتے ہیں تو ٹرین کی پٹریوں میں روندے جاتے ہیں۔بے چاروںکی جھونپڑی کب اجڑجائے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔اپنے آپ کو ملک کا مسیحا کہنے والے سیاسی قائدین بھی ان کا خوب خوب استحصال کرتے ہیں کبھی اپنے مجمع میں بھیڑ اکٹھا کرنے کے لئے انھیں بلوایا جاتا ہے تو کبھی دنگا اور فساد کے لئے ان کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اور جب ان محصولین کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو اپنے لئے لقمہ تر بھی انھیں بھولے بھالے لوگوں کو بنایا جاتاہے۔

 حالانکہ ایسے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سماج کا یہ طبقہ اگر شہر میں نہ رہے تو ایک سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اوریہ واقعتا اپنے آپ کو مسیحا اوررئیس سمجھے جانے والے طبقہ کے لئے ایک نادرست عمل ہوگا۔کیونکہ جھگی جھونپڑی میں رہنے والے لوگوں سے ہی ان کے محلوں میں رونق آتی ہے ۔اسے اسی بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ برتن دھونے ، کپڑے دھونے ، پوچھا لگانے سے لے کر اور بھی چھوٹے موٹے گھریلو کام کرنے خانسہ ماںیا نوکرانی گھر نہیں آتی تو انکی کیا حالت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود کو رئیس سمجھے جانے والے لوگوں کو ان غریب لوگوں کے بغیر سینما گھروں اور باغیچوں میں چین کا ایک پل بھی گزارنے کے لئے وقت نہیں ملے گا۔ اس کے بعد بھی جھگیوں میں بسنے والے اس طبقے کے بارے میں ایمانداری سے کوئی مثبت رویہ نہیں اپنایا جا رہا ہے اور نا ہی ان کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ پہلے سالانہ منصوبے میں ملک کے لئے جھگیوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک دھبہ کہا گیا تھا۔اور اس دھبے کو مٹانے کے لئے کئی خوبصورت اسکیموں کا اجراءعمل میں آیا تھا لیکن ہمیشہ سماج کے اس طبقے کے لئے کاغذوں میں منصوبے محض بنتے اور بگڑتے ہی رہے ۔

 گزشتہ سال مرکزی رہائش اور غربت ہٹاوزیر کماری شےلجا نے کہا تھا کہ پانچ برسوں کے اندر اندر شہروں کو جھگی جھونپڑی سے آزاد کیا جائے گا۔ اس کے لئے راجیو گاندھی کی رہائش منصوبہ کے تحت گھر بنائے جائیں گے۔ لیکن اب تک سالوں گزرنے کے باوجود اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ہے اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے کہ اس طبقے کی ترقی سماج کا روشن اور خوشحال طبقہ نہیں چاہتا ہے۔ تبھی تو لاکھوں کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور غریبوںکے لئے بنی پلاٹیں امیروں کے نام ہو جاتے ہیں ۔یہ کوئی کہاوت یا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسا ملک کے دارالحکومت میںگزشتہ دنوںہی ہو چکا ہے ،جس پر کافی لے دے بھی ہوئی ہے ۔اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا بھی یہاں پر غلط نہیں ہوگاکہ سماج کا رئیس طبقہ ان کی ترقی اس لیے بھی نہیں چاہتا کہ اگر جھگی بستیوں میں رہنے والوں کی ترقی ہوئی تو ان کے گھر کام کاج کرنے کون آئے گا اور جب وہ ترقی کے راستے پر ہوں گے تو ان کا استحصال کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی کہ حکومت غریبوں کو ابھی بھی ملک کے لیے ایک داغ ہی سمجھتی ہے جو وقت وقت پر اس کے سلوک سے دکھائی دیتا ہے جو درحقیقت ملک سے غربت ختم کرنے کی نہیں بلکہ غریبوں کو ہی ختم کرنے کی حکمت عملی اور سازش کا حصہ دکھائی دیتاہے۔

  دہلی کے اوکھلا سمیت متعدد جگہوں پر دولت مشترکہ کھیلوں کے وقت سے لیکر اب تک کی ہونے والی واردات نے کچھ ایسی ہی صورتحال دکھائی ہے۔ بحیثیت صحافی جھگی جھونپڑی بستیوں میں اپنے متعدد دوروں کے دوران میں ان ہزاروں لوگوں سے مل چکا ہوں ، جو چاہتے تھے کہ انہیں بہتر کیفیات میں جینے کا موقع ملے اور وہ اپنی اس ذلت و مشقت بھری زندگی سے باہر نکلنے کے خواہاں تھے اور ہیں،میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ بھی اپنے بچوں کو پڑھانا لکھانااور ترقی پذیر ہندوستان میں اپنی حصہ داری نبھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اسے ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ حکومت بجائے انھیں اس کا موقع فراہم کرنے کے ان کے خلاف ہی اقدامات کرتی رہی ہے ۔بات صاف ہے نوکرشاہی اور ملک کا موجودہ نظام غربت اور تنگ دستی کی زندگی جینے والوں کو براہ راست شہروں سے غائب کر دینا چاہتا ہے۔ اگر ایمانداری سے آنکھیں کھول کر اس طبقہ کی ترقی کے لئے کام ہوا ہوتا یا ابھی بھی ہو توہندوستان دنیا کا نمبر -1 متحدہ طاقت بن سکتا ہے،جو کسی بھی ملک کو ناکوں چنے چبوا نے کے لئے کافی ہے۔ ان جھگی بستیوں میں صلاحیت و قابلیت کی بھی کمی نہیں ہے۔ کیونکہ ملک کے مختلف اہم کورسیز میں داخلہ اور مقابلہ جاتی امتحانات میں ایسے بچوں کی نمایاں کامیابی ہم اکثر اخباروں اور ٹیلی ویژن میں پڑھتے رہتے ہیں جسے کوئی اور نہیں بلکہ یہی میڈیا دکھاتی اور بیان کرتی ہے ،یہاں مس ورلڈ اور مس ایجوکیشن بننے کی قابل لڑکیاں اور باکمال و با صلاحیت نوجوان بھی رہتے ہیں جنھوں نے کھیل سمیت علوم و فنون کے مختلف میدانوں میںاپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ایسی چیزوں کی جھلک ہمیں فلموں کے ذریعہ بھی دکھتی رہی ہے اور فلم ”سلم ڈاگ ملینئر“اور” دھوبی گھاٹ “نے تو اس کی مکمل عکاسی کر دی ہے جسے کسی بھی طرح محض مجازی نہیں کہا جا سکتا بلکہ بہت حد تک اس میں حقیقت ہے ،اس کے باوجود ارباب حل و عقداس سے آنکھیں چرانے میں لگے ہوئے ہیں ۔جسے کسی بھی طرح مثبت طرز فکر کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
ختم شدہ


۔۔۔مزید

جامعہ میں گم ہوتی تاریخی روایات




Published Daily Urdu Hindustan Express Delhi
جامعہ جامعہ کی گم ہوتی تاریخی روایات 
محمد علم اللہ اصلاحی 
(جامعہ کے یوم تاسیس کی مناسبت سے لکھی گئی خصوصی تحریر







وہ تین 
ستمبرجمعرات کادن اور2009کاسن تھا ،جب جامعہ ملیہ اسلامیہ سے معروف مورخ پروفیسرمشیر الحسن اپنی میعاد پوری کرکے جا چکے تھے اور ان کی جگہ وزارت پٹرولیم میں جوائنٹ سکریٹری اور مختلف اعلی حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے سینٹ اسٹیفن کالج دہلی اور لندن اسکول آف اکونومکس کے پڑھے تجربہ کار آئی اے ایس افسر نجیب جنگ اس عظیم تاریخی ادارے کے وائس چانسلر بنائے گئے تھے۔تو یہاں کے طلباءکے علاوہ اس سے محبت کرنے والے ہزاروں دلوں کو امید تھی کہ نئے وی سی جامعہ میں کچھ انقلاب لائیں گے اور ان کے ذریعہ جامعہ کا وقار بحال ہوگا خود مسٹر جنگ نے بھی چارچ سنبھالتے ہی صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا جامعہ کے تئیں اپنے پاکیزہ خیالات اور نیک عزائم کا اظہار کرتے ہوئے جس کے ایک ایک لفظ آج بھی مجھے یاد ہے کہا تھا کہ میرے سامنے بہت سارے چیلنجز ہیں۔میںجامعہ کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک بنانا چاہتاہوں۔ میں اپنی ہر ممکن کوشش کروں گا کہ یہاں کا تعلیمی و ثقافتی اور یونیورسٹی کا معیار بہتر ہو،میرا خواب ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ بلندیوں کے ان مدارج کو طئے کر لے کہ اس کی حیثیت ہارڈورڈ اور آکسفورڈ سے بھی اونچا ہو۔نجیب جنگ نے کہا تھا جامعہ کا مقابلہ ڈی یو، جے این یو یا اس جیسے ملک کے دیگر یونیورسٹیوں سے نہیں ہے بلکہ اس کا مقابلہ بین الاقوامی سطح کے غیر ملکی یونیورسٹیوں سے ہے الغرض انھوں نے جامعہ کو ورلڈ کلاس کا یونیورسٹی بنا دینے کے لئے اپنی ہر ممکن کوششیں کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے لئے انھوں نے محض ایک سال کی مدت مانگی تھی۔لیکن اب تقریبا ایک ماہ بعدتیسرا سال شروع ہونے کو ہے نجیب جنگ کے اس خیالی یونیورسٹی کا کوئی عکس جامعہ میں نظر نہیں آیا ۔

یہاں پر ہم ان کی کلیتا خدمات کا انکار نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ انھوں نے گزشتہ سالوں کے مقابلہ جامعہ کے تعلیمی و انتظامی امور کو جس حد تک سنبھالا اور پڑھائی لکھائی کا جو ماحول بنا یا ہے یہ انھیں کا حصہ ہے اور اس پر انھیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے انھوں نے اس ادارے کو حکومت سے اقلیتی کردار کا درجہ دلانے میں بھی کم کردار ادا نہیں کیا ۔ لیکن ان تمام اعتراف کے باوجودیہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ موصوف وائس چانسلرکے وعدے کے مطابق حالات جو ہونے چاہئیں تھے نہیں ہوئے بلکہ ان کی بعض نادانیوں کے سبب جامعہ کو کافی نقصانات اور پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔بات بات پر میڈیا میں چھائے رہنے کے شائق نجیب جنگ نے اپنے آقاں کو خوش کرنے کے لئے کبھی جامعہ کو اعلی مدرسہ کے ٹھپہ سے باہر باہر نکالنے کی بات کہ کر میڈیا کا رخ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تو کبھی غیر حاضری معاملہ میں طلباءکے حقوق پر شب خوں مار کر میڈیا کے سامنے فاتح بننے کا عمل کیا تو کبھی کشمیر معاملہ پر بیان بازی کرکے اپنے آپ کو ملک کا سب سے بڑا دانشور ثابت کرنے کے لئے میڈیا کو ہتھیار بنایا تو کبھی خیر سگالی اور بھائی چارے کے نام پر جامعہ میں ہولی و دیوالی کے نئے رواج کو جنم دیا اور ان سب سے بڑھ کر ضیاع وقت کے نام پر جامعہ کے تعلیمی میلہ پر ہی ہتھوڑا چلا ڈالا ۔

آج جب کہ ہم یہ تحریریں لکھ رہے ہیں جامعہ میں تعلیمی میلہ منانے کا دن ہوا کرتا تھا اس لئے فی الحال ہم جنگ کے اسی کارنامہ پر گفتگو کرتے ہیں ،موقع ملا تو بقیہ باتیں پھر کبھی کریں گے ۔قارئین کو معلوم ہوگا کہ گزشتہ سال سے ہی موصوف وائس چانسلر نے یہاں کے تعلیمی میلہ پر پابندی عاید کردی ہے ۔اس وقت اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اور ہمدردان جامعہ کی جانب سے احتجاج کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ اس روایت کو ہم نے اس لئے ختم کر دیا کہ اس سے طلباءکا کوئی فائدہ نہیںبلکہ یہ تو بلا وجہ کا وقت اور پیسہ کا ضیاع ہے۔نجیب جنگ کی اس بات پر یہ کہا جائے تو مضائقہ نہیں ہوگا کہ اگر موصوف جامعہ کی تاریخ اسکی روایت اور مقصد سے ذرہ برابر بھی واقف ہوتے تو ایسی بات ہر گز نہ کرتے ۔ہم ان کی اس بات پر جامعہ کے سابق وائس چانسلر اور اس ادارے کے لئے اپنا سب کچھ تج دینے والے پروفیسر محمد مجیب 1943میں کی گئی تقریر کا ایک اقتباس نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں جس سے جامعہ میں تعلیمی میلہ کی روایت اور حقیت کا پتہ چلتا ہے پروفیسر مجیب کہتے ہیں ”جامعہ نے جہاں اور باتوں میں عام روش اور عام وضع کو چھوڑا ہے وہاں تعلیمی میلہ کی تقریب منانے میں بھی انوکھا چلن اختیار کیا ہے ۔ایسا چلن کہ اس پر رعب اور شان کا فریب کھائے ہوئے لوگ مسکراتے ہیں ۔قائدے اور ضابطے کے سیدھے رستے پر چلنے والے حیران ہوتے ہیں یا الجھتے ہیں مگر سادگی اور خلوص،ایمانداری اور انکسار کے قدر دان کو اس میں کچھ نہ کچھ دل میں رکھنے اور ساتھ لے جانے کو ضرور نظر آ جاتا ہے“ملک کے سب سے پہلے مسلم صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کہتے ہیں ”اس کے ذریعہ ہمارا مقصد علاقہ (اوکھلا)کے لوگوں کے درمیان تعلیمی بیداری پیدا کرنا ہے کہ وہ لوگ جو تعلیم و تعلم سے دور ہیں وہ اس تعلیمی میلہ میں آئیں ،اسکو قریب سے دیکھیں تاکہ ان کے اندر بھی تعلیمی ذوق پروان چڑھے

یہاں پر ہم 1929 میں شروع ہونے والی جامعہ اس روایت کی سب سے پہلی،تجویزاور رپورٹ بھی نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں جس سے ہمارے بزرگوں کے مقاصد اور عزائم کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔جامعہ کے سابق استاذعبد الغفارمد ہولی (مرحوم ) اپنی کتاب جامعہ کی کہانی میں لکھتے ہیں ”یہ پہلا سال تھا کہ یوم تاسیس منانے کے سلسلہ میں ہر ایک جماعت سے تعلیمی کام لیا گیا ،ذاکر صاحب نے ایک مہینہ پہلے استاذوں سے بات چیت کرکے اپنی تجویزیں ان کے سامنے رکھ دی تھیں۔وہ یہ کہ (1)ہر جماعت لکھنے پڑھنے سے متعلق کوئی چیز تیار کرکے جامعہ کو تحفہ کے طور پر دے ،ایک جماعت کئی چیزیں دے سکتی ہے ۔(2)میلہ میں ان سب تحفوں کی نمائش کی جائے تاکہ ایک دوسرے کے کام سے لڑکے اور مہمان واقف ہو جائیں ۔(3)ایک طرف مکتبہ والے بھی صرف جامعہ کی چھاپی ہوئی کتابیں سجائیں۔(4)لڑکوں کو مشغول رکھنے کے لئے ایک ڈرامہ کھیلا جائے ۔(5)پیام تعلیم والے خاص نمبر نکالیں جس میں زیادہ تر جامعہ کے استاذاور لڑکوں کے مضامین ہوں “۔اس کا کیا اثر طلباءکے اوپر پڑا اس بابت لکھتے ہیں ”جب لڑکوں کو یہ معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے ۔ایسا معلوم ہوتا تھا عید کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔کچھ کرنے کی خوشی سے پہلے سے زیادہ پڑھا لکھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ لکھنے پڑھنے کا شوق بڑھتا ہی گیا ۔جماعتوں میں بے رونقی نہ رہی ،کھلنڈرے لڑکوں کی تو بن آئی ،دوڑ دوڑ کر کام کرتے تھے “۔آگے بتاتے ہیں ”تاریخ اور جغرافیہ کی مسلمانوں کی حکومتوں کے نئے اور پرانے نقشے ،چندر گپت کا زمانہ ،راجپوپوتوں کی ریاستوں کے نقشے اور اشوک کے سلطنت کے نقشے بنوائے گئے ۔لال قلعہ (دہلی)کی چزیں دکھلا کر مضمون لکھوایا گیا ۔1857کے بعد دہلی میں جو پرانی درسگاہیں رہ گئیں یا جو نئی قائم ہوئیں ان کا حال گھوم پھر کر دیکھنے کے بعد لکھا گیا ۔اسلامیات دانوں نے مشہور حدیثیں جمع کیں ،آں حضرت کے خطبہ کو بہت خوش خط لکھواکر آویزاں کیا گیا ۔اردو والوں نے اس زبان کے پانچ مشہور مصنفوں کے (جو عناصر خمسہ کہلاتے ہیں )حالات لکھے ،اور ان کی تصویریں بنوائیں ۔سائنس والوں نے کام کے چارٹ بنائے ،منشی علی محمد خان صاحب ہندوستان کے بہترین خوش نویسوں میں سے تھے ۔آپ کا تعلق شروع سے آخر تک جامعہ ہی رہا ،لڑکوں نے آپ کی نگرانی میں اچھے اچھے کتبے اور قطعات تیار کئے ،ڈرائن والوں کی تو بن آئی ۔جو لڑکے ڈرائنگ اچھی جانتے تھے وہ تو آرٹسٹ بنے ہوئے تھے ،طاہر علی ،مسعود اختر،ضمیر الدین نے اسلامی ملکوں کے بڑے بڑے رہنما ،ہندوستان کے مشہور لوگوں کی منہ بولتی تصویریں بنائی تھیں ۔شعبہ نجاری نے اس سجاوٹ میں چار چاند لگا دئے ،لکڑی کی خوبصورت ڈھال (شیلڈ)کے چاروں طرف نقاشی اور بیچ میں جامعہ کی مہر کندہ کرکے رنگ و روغن کر دیا تھا ،لکڑی کا کچھ اور سامان بھی تیار کیا تھا “۔ خستہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ”کرائے کی مکان میں بھلا خوبصورت حال کہاں سے لاتے ۔صحن میںشامیانے لگا کر سب چیزیں سجائی تھیں ۔ایک طرف جلسے کا انتطام تھا ،مشہور لوگوں میں سے کون نہیں تھا ،ڈاکٹر انصاری ،مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا محمد علی ،پنڈت موتی لال نہرو ،پنڈت مدن موہن مالویہ ،لالہ لاجپت رائے ،سری نواس آئنگر ،ستی مورتی ،این سی کیلکر ،مولانا ظفر المک ،مسٹر امینی بیسنٹ ،مسٹر آصف علی سب ہی تھے “۔

صورتحال سے واقفیت کراتے ہوئے آگے کہتے ہیں ”یہ سار دھوم دھام لڑکوں کی تعلیمی حالت اور معاشرے میں بیداری کے لئے ہو رہی تھی ۔ورنہ اس زمانے میں جامعہ کی مالی حالت انتہائی حد تک خراب ہو گئی تھی ۔قوم کے رہنما تعلیم کی طرف سے غافل تھے اس کی ایک مچال یوں بھی سمجھئے کہ چند مالی قوم کی بھلائی کے لئے مصیبتیں اٹھا کر باغ کے پودوں کو سینچ رہے ہوں ،قوم سیر کرتی ہوئی ادھر آ نکلے اور پوچھے بھی نہیں کہ حال کیسا ہے تو اس وقت مالی جو کچھ کہے اس کا کہا برا نہیں لگتا ہے ۔

اس قدر تنگ دستی اور عسرت کے باوجود کتنے عظیم خیالات تھے ان بزرگوں کے اس کا اندازہ اوپر پیش کئے گئے اقتباسات سے لگایا جا سکتا ہے ۔لیکن بجائے اس کے کہ ہم ان کے ایسے عمدہ خواہشات وعزائم کا استقبال اور اسکی حفاظت کے اقدامات کرتے، اسی پر چھری چلانا شروع کر دیا جو یقینا تمام ہی لوگوں کے لئے تشوییش کا باعث ہے اور اسکے ذمہ دار محض وائس چانسلر یا جامعہ انتظامیہ نہیں ہیں بلکہ اس میں وہ مبینہ محبان و ہمدردان بھی بھی شامل ہیں جنھوں نے اس پر خاموشی اختیار کی ۔انھیں یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر ہم اپنی ان روایات کو ایسے ہی بے حیثیت سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو نہ صرف یہ کہ ہمارا کوئی تاریخی اعتبار رہ جائے گا بلکہ وہ ساری شناخت اور اقدار بھی مٹی میں مل جائیں گے جو اس یونیورسٹی کا طرہ امتیاز رہی ہیں اور جسکی وجہ سے اس یونیورسٹیکا دیگر یونیورسٹیوں کے مقابلہ ایک عظیم تاریخی پس منظر رہا ہے ۔



۔۔۔مزید

آہ ! مفتی محمد شعیب اصلاحی قاسمی



آہ ! مفتی محمدشعیب اصلاحی قاسمی

 محمد علم اللہ اصلاحی 

تھی امانت اٹھ گئی، کیوں کوئی واویلا کرے
آمدمومن ہے، رضواں، خلد کا در وا کرے

عمر طبعی کو پہنچ کر جب کوئی داعی اجل کو لبےک کہتاہے تو متعلقین اور متوسلین کو یہ تسلی رہتی ہے کہ ان کا عزیز کسی ناگہانی آفت، مہلک مرض،حادثہ ےا قتل جےسی کسی اذےت کا شکار ہو کر فوت نہیں ہوا، باوجود اس کے متوفی ٰکے اعزہ،اقارب اور متوسلین کی آنکھیں دائمی فراق کے احساس سے اشک بار ہوہی جاتی ہیں اوران کا دل دکھ سے بھر جاتا ہے، پھر اگر وفات پانے والا کوئی ایسا شخص ہو جس نے ایک بہت بڑی انسانی جمعیت کو اپنی شخصےت اور صفات حسنہ سے متاثر کےاہواور اپنے چشمہ فیض سے ایک عالم کو سیراب کیا ہو تو پھر اس کی مفارقت بہت سے انسانوں کے دلوں پر داغ بن جاتی ہے،مفتی محمد شعیب اصلاحی قاسمی ایسی ہی ایک فیض رساں شخصیت تھے جنھوں نے کتنے ہی سینوں کودین کے علم سے منور کیا،چوںکہ راقم السطور کو بھی مفتی صاحب کے سامنے زانوے تلمذتہ کرنے کا شرف حاصل رہا ہے ، اس لےے ان کی وفات کی خبر نے مجھے بھی غم زدہ کر دیا اور ان کی مربےانہ شفقتےں، بحےثےت استاذان کا صبروتحمل اور لطف و عنایت ایک ایک کر کے یاد آئے

مفتی صاحب صحت مند اور لانبے قد کے متشرع شخص تھے، انہوں نے جو علم حاصل کےا اس پر عمل بھی کےا، صلہ رحمی کرنا انہےں پسند آتا تھا، خوش مزاج تھے اور لطےف حس مزاح بھی رکھتے تھے، تحریر و تصنیف کابھی ذوق تھا اور جس طالب علم مےں اس کے جوہر دےکھتے اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے،خودداری کے حامل تھے، انا کا ہلکا شائبہ تھا جسے ہم فطری کمزوری پر محمول کرتے ہےں اور یہ بشریت کے منافی نہیں ، موجودہ وقت میں مدرسة الاصلاح سے جس قدر طلبہ نے کسب فےض کےا انہےں مفتی صاحب کے لطف وکرم، عناےت،محبت، تنبےہ اور شفقت کاوافر حصہ ملا، اس پہلو سے ہم تمام اصلاحی برادران مفتی صاحب کے شاگرد ہونے کے ساتھ ان کے توجہات اور مہربانیوں کے گر ویدہ بھی ہیں۔

مفتی صاحب کا انتقال صرف اصلاحی برادری کے لئے نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے لئے عظیم سانحہ ہے ،وہ ایک قومی دینی اور ملی اثاثہ تھے اور ہم طلبہ کے لئے شفیق و ملنساراستاذجن کی یاد ہمیشہ ستاتی رہے گی، مفتی صاحب کے اندر اخلاص و للہیت،حلم و بردباری،رحمت و شفقت،جرات و بہادری،تواضع اور انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، انہےں ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی کہ کسی بھی طرح اپنے جائز مقا صد میں کامیابی اور اس کو پانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیں ،مولانا اس کے لئے طلبہ کو رغبت دلاتے ،پند و نصیحت کرتے، اسلاف اور بزرگان دین کے قصے سناتے اور اتنی کوششوں کے بعد بھی اگر کوئی طالب علم نہ مانتا تو چھڑی کا بھی سہارا لیتے ،لیکن اس میں بھی اپنائیت اور ہمدردی کا عنصر غالب ہوتا ،مولانا اکثر ہم طلبہ کو کہا کرتے ”علم ایک ایسی شے ہے جس کے لےے اگر آپ اپنا سب کچھ تج دیں گے تو وہ بمشکل اپنا تھوڑا حصہ آپ کو دے گی“اورعلامہ اقبال کا یہ شعر سناتے

عطار ہو رومی ہو، رازی ہوغزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

مجھے یاد پڑتا ہے جمعرات کے دن مدرسہ میں چھٹی کے بعدعموما اور گرمی ،عید الفطر و عید الاضحی کی چھٹیوں میں خصوصا گھر جانے سے پہلے مفتی صاحب تمام طلبہ کو مسجد میں جمع کرکے دیر تک پند و نصیحت کرتے اور سمجھاتے کہ گھروں میں کس طرح رہنا ہے ،ماں باپ،بڑے بزرگ،گاوں محلہ اور چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ کس انداز سے پیش آنا ہے۔

مدرسہ سے فراغت کے بعد دو یا تین مرتبہ مفتی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا لیکن اس درمیان بھی وہی تڑپ اور درد مندی دیکھنے کو ملی،مولانا جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس جیسی جدید عصری درس گاہوں میں آنے والے طلبہ کی بڑی ہمت افزائی کرتے لیکن اس درمیان یہ کہنا ہر گز نہ بھولتے کہ” اپنا تشخص اور وقار ملحوظ خاطر رکھنا“۔مولانا کو ان طلبہ سے بڑی تکلیف ہوتی جو مغربی تہذیب اور جدید فیشن پرستی سے مرعوب ہوکر اپنی روش بدل لےتے تھے، مفتی صاحب نے کئی مرتبہ راقم الحروف اور دیگر کئی ساتھیوں سے کہا:” مدرسہ سے فراغت کے بعدیونیورسٹیاں اسلامی تعلیمات اور اس کی روح کو متعارف کرانے کے لئے خوب صورت ذریعہ ہیں طلبہ کو اس سے خوب خوب فائدہ اٹھانا چاہےے اور ان عارضی رعنائیوں سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ مرعوبیت کی علامت ہے اور مرعوبیت شناخت کو تباہ کرتی اور قوموں کو مزید ذلت ورسوائی کے اندھےروںمیں ڈال دیتی ہے“۔

ہر بڑے انسان کے بہت سے خواص خود اس کے اپنے قریب رہنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہےں اور دور رہنے والے اس کی قدر ومنزلت کو خوب سمجھتے ہےں،مدرسہ میں رہتے ہوئے مفتی صاحب کے علمی مقام ومرتبہ سے واقفےت کے باجود ان کے بہت سے مکارم پردہ راز میں تھے، لیکن دوسرے دن تقریباً تمام بڑے اخباروں میں ان کے انتقال کی خبروں اور سیاسی ،سماجی اور علمی شخصیات کے تعزیت نامے اور تاثرات نے مفتی صاحب کے متعلق میرے علم و خبر گراں قدر اضافہ کےا اور میں نے جانا کہ وہ خدمت خلق ،جد و جہد ،شرافت و نجابت اور ایثار و قربانی میں اپنے ہم عصروں سے بہت آگے تھے اور علامہ اقبال کے اس شعر:

مقام ہم عصروں سے ہو اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں تجھ کو

کاعملی نمونہ اور زندہ مثال بن گئے تھے۔مفتی صاحب بلند پایہ علمی شخصیت تھے ،آپ نے تقریبا ًہر فن کی کتابوں کا درس دےا، حدیث، فقہ،ادب، اسرار شریعت ، فلسفہ و منطق سب پر آپ کو یکساں عبور تھا ،طلبہ آپ کے زےر درس مضمون سے کافی خوش رہتے ،مولانا کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مضامین جو آپ کے ذمہ نہیں تھے اگر ان مےں کہیں دشواری محسوس ہوتی اور کوئی نکتہ سمجھ میں نہ آ رہا ہوتا،حل کے لئے ان کی جانب رجوع کیا جاتا تو فورا ًچٹکیوں میں حل کر دیا کرتے ،میں نے مدرسہ میں کئی اساتذہ کو ان سے استفادہ اور اسباق کی تیا ری کرتے دیکھا ہے۔


مدرسة الاصلاح کے طلبہ کے متعلق عام تصوریہ پایا جاتا ہے کہ وہ صرف قرآن مجید پر اپنی توجہ صرف کرتے ہیں اور ان کی پہچان بھی قرآنی اسکالر کے طور پر ہوتی ہے لیکن مفتی صاحب ہر فن پر یکساں مہارت رکھتے تھے، وہ علاقہ میں ایک بڑے مفتی کی حیثیت رکھتے تھے، لوگ اپنے عائلی اور نجی معاملات میں مشورہ اور تصفیہ کے لئے ان کی طرف رجوع کرتے ،عوام کو ان پر بڑا اعتماد اور بھروسہ تھا،وہ مسائل جوچیلنج کی حیثیت رکھتے تھے آپ ان کو بھی بہ آسانی حل کر دیتے، آپ ایک اچھے منتظم بھی تھے جس کی جےتی جاگتی مثال مدرستہ الاصلاح میں ان کا بارہ سالہ زرےں عہد صدارت ہے ،اس درمیان میں آپ بہت سے سردو گرم حالات کاسامنا کرتے ہوئے بڑی خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ دارےوں سے عہدہ برآ ہوئے۔

مفتی صاحب کے عہد صدارت میں طلبہ ان سے اوروہ طلبہ سے بہت قریب رہتے، ان کی خفگی بھی شفقت کا ہی اےک حصہ ہوتی اور یہی وجہ تھی کہ طلبہ ان سے خوف نہےں کھاتے تھے بلکہ اپنے مسائل بے تکلف ان سے بےان کرسکتے تھے، خاطر داری اور مہمان نوازی ان کی طبےعت مےں رچی بسی تھی،ان کے زمانہ صدارت سے پہلے مدرسة الاصلاح کے طلبہ مےںآزادروی اور روشن خےالی عام تھی، لےکن جب مفتی صاحب نے تعلیمی وتربیت ذمہ دارےاں اٹھائےں تو اس بے لگام آزادی پر قدغن لگائی اور طلبہ کو وعظ و تلقےن اور تنبےہ وتحریض کرتے رہے، ان کی یہ کوشش بارآور ہوئی اور مدرسة الاصلاح کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی وضع اختےار کی اور جو کچھ وہ تعلیم حاصل کرتے رہے اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی ان میں پیدا ہوا اور یہ سلسلہ بحمد اللہ جاری ساری ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ان کے مساعی ِجمیلہ کا بھر پور صلہ بخشے اور اسے صدقہ جاریہ کے طور پر قبول کرے۔

مفتی صاحب نے اپنے مدرسة الاصلاح کے زمانہ قیام مےں سماج کے ہر طبقہ مےں مدرستہ الاصلاح کی نمایندگی کی اور اللہ کی بخشی ہوئی علمی اورفقہی بصیرت سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہے،قرب وجوار کے چھوٹے بڑے مدارس کی سرپرستی اور علمی رہنمائی کی ذمہ داری بھی قبول کی ، فلاح عام کے کاموں مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےا، علاقہ کے مسلمانوں کی خےر خواہی کے جذبہ سے مسلم فنڈ قایم کےاجو علاقہ کے مسلمانوں کا بےنک ہے جس سے ضرورت مند لوگ اپنی ضرورےات کی تکمےل کے لےے قرض حاصل کر سکتے ہےں، علاقہ کے مسلمانوں کی شرعی امور مےں رہنمائی کے لےے محکمہ شرعیہ قائم کےا، آپ کو تعلیم و تعلم کا بھی بڑا شوق تھا یہی وجہ ہے کہ منصب صدارت سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی آپ نے مدرسہ سے اپنا رشتہ نہیں توڑا اورپہلی ہی سی خوش دلی اور دل جمعی سے پڑھاتے رہے، آپ کو نئی نسل کے اندر اسلام کی تعلیمات اور اس کی روح کو متعارف کرانے کی بے حد فکر رہتی اس کے لےے آپ نے تنظیم الفاروق کی مدد سے اعظم گڈھ ،جونپور اور آس پاس کے دیہی علاقوں میں مکاتب و مدارس کا جال بچھا دیا تھا، انھیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ آنے والے وقت میں مسلمان بچے صحیح رہنمائی نہ ہونے کہ وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، اس اندیشہ کے پےش نظر انہوں نے تقریبا 22 مکاتب اور مدارس قائم کےے تھے ،حالاںکہ معاشی بحران کے اس دور میں سبھی جانتے ہیں کہ کسی مکتب یا مدرسہ کو چلانا کس قدر مشکل ہے، لیکن مفتی صاحب نے یہ مشکل کام اللہ تعالیٰ کی مدد، اپنے رفےقوں کے تعاون اور عوام کے اےثار سے انجام دےا، ضرورت ہے کہ ان کے خدمات کو سراہا جائے اور ان کے قائم کےے ہوئے اسباب کی افادےت کوعام کر نے کی کوشش کی جائے، یہی ان کے خدمات کا خراج تحسین ہوگا۔

مفتی صاحب محمد شکےل ندوی کی دعوت پر بحرےن جارہے تھے، مسقط ہوائی اڈے پر وقفہ کے دوران فرشتہ اجل آپہنچااور انہوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی، اور کوئی نفس نہےں جانتا کہ وہ کس سرزمےن میں موت پائے گا“ اللہ تعالیٰ کے ان کے حسنات اور اعمال صالحہ کو ان کے لےے نجات کا ذریعہ بنائے اور بشری لغزشوں سے صرف نظر کر کے اپنے دامن رحمت ومغفرت میں جگہ دے،......آمین

مفتی صاحب کے انتقال سے مدرسةالاصلاح نہ صرف ایک اچھے استاذ سے خالی ہوگیابلکہ افتائاور ارشاد کی جس مسند پروہ جلوہ افروز تھے وہ لمبے عرصہ کے لئے خالی ہوگئی ہے،اللہ تعالیٰ مدرسہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے.....آمین








۔۔۔مزید

ریزرو بینک کی پالیسی اور مسلمان



اقلیتوں پربینکوں کی فیاضی

مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی کے امکانات

محمد علم اللہ اصلاحی

  ریزرو بینک کے ماسٹر سرکلر میں ترمیم کے بعداقلیتوں کی پسماندگی دورکئے جانے کی شعوری کوششوں کااحساس نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے،کیونکہ ریزرو بینک کی ہدایت پرملک کے بینکوں نے اقلیتی طبقہ کو گزشتہ پانچ برسوں میں ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کے قرض مہیا کرائے ہیں،جو آزادی کے بعد ساٹھ سال میں دئے گئے قرضوں کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس میں یعنی قرض لینے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔مسلمانوں پر بنیاد پرستی کاالزام عائد کیاجاتا رہا ہے اور خصوصاً عورتوں کے بارے میں ہمیشہ سے یہ کہا جا تا رہا ہے کہ انھیں دبا کر رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے مردوں کے مقابلہ ان کی حالت زیادہ خراب ہے ۔اس خبر کے آنے کے بعد اس طبقہ کو جوہمیشہ مسلم طبقہ کی خامیاں تلاش کرنے میں عملاً یقین رکھتاچلا آرہا ہے،اس کے نظریات میںتبدیلی پیدا ہوناخلاف امید نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی کے امکانات کے درمیان یہ کہاجانے لگا ہے کہ مسلمان مین اسٹریم میں آنے لگے ہیں اور اب پہلے جیسے حالات نہیں رہ گئے ۔

  یہاں پر اس بات سے قطع نظر کہ واقعی اس سے تبدیلی آئے گی بھی یا نہیں، قرض کی فراہمی کو بہر حال ایک خوش آئند قدم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں بینک کے جملہ ذمہ داران اور خود یو پی اے سرکار بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس پالیسی کے نفاذسے مسلمانوںکے درمیان مالی مفلوک الحالی کے خاتمہ کی امید پیدا ہوئی ہے۔اب سے پہلے بینکوں کی طرف سے اقلیتی طبقہ کو صرف دو سے تین فیصد ہی قرض مل پاتے تھے۔اس سلسلہ میں پرائیوٹ بینک تو درکنار خود سرکاری زمرہ کے بینک بھی مسلمانوں کو قرض دینے کے معاملہ میں اگر تفریق نہیں برتتے تھے تو زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے تھے ۔جس کی خبریں مستقل اخبارات میں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی رہتی تھیں۔بعض جگہوںسے تواقلیتوںکو بینکوں سے بھگا دینے اور ذلیل و بے عزت کئے جانے تک کی خبریں بھی ملتی رہی تھیں ۔اس کی تصدیق اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نیشنل مائنارٹی کمیشن نے بھی کی تھی اور اس نے اس بابت فورا اصلاح و سدھار کی سفارش بھی کی تھی۔ اس سلسلہ میںکمیشن نے کہا تھا کہ اسے(کمیشن کو) مسلمانوں کی طرف سے بینکوں کے خلاف بہت ساری شکایات ملی ہیں،کمیشن نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر بتایا تھا کہ بہت سے مسلمانوں کو مبینہ طور پر یا تو بینک اکاو ¿نٹ کھولنے نہیں دیاجاتا یا پھر انہیں قرض دینے سے صاف انکار کر دیا جاتا ہے ،اور یہ بھی کہ یہ اعدادوشمار پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا ہو گئے ہیں،یہاں پر یہ باتیں یاد رکھنے کی ہے کہ کمیشن نے یہ باتیں گذشتہ پانچ سالہ منصوبہ کے شروعات میں ہی کہی تھیں ۔اس وقت کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ مبینہ امتیازی سلوک آندھرہ پردیش میں سب سے زیادہ دیکھا گیا جہاں نوے ہزار مسلمان حکومت کی طرف سے ملنے والی وظیفے کے رقم بینک میں جمع نہیں کرا پائے۔کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ کیرلا اور آسام میں مسلمان کھاتے داروں کی تعداد آدھی ہو گئی ہے۔کمیشن کے علاوہ ملکی بینکوں کے ذریعہ مختلف طرح کے قرض فراہم کرنے کی پالیسیوں کا فائدہ اقلیتوں کو نہیں مل پانے پر سچر کمیٹی نے بھی سوال اٹھائے تھے،اور اس کی روشنی میں ایسی کئی سفارشات کی تھیں جن سے مسلمان بھی معاشی و سماجی اعتبار سے مضبوط ہو سکیں ۔سچر کمیٹی نے تو یہاں تک کہاتھا کہ ہندوستانی مسلمان اقتصادی اور تعلیمی معاملات میں دلتوں سے بھی زیادہ پستی میں ہیں ۔کمیٹی نے اسے ثابت کرنے کے لئے اعداد و شمار بھی پیش کئے تھے ۔جسے حکومت سمیت سیکولر پسندطبقہ نے بھی تسلیم کیا تھا ۔

 شاید اسی وجہ سے 1 جولائی، 2007 کو ریزرو بینک نے اپنے سرکلر میں ترمیم کر اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ قرض مہیا کرانے کی ہدایت دی تھی، چونکہ اس وقت لوگوں نے جم کر ہنگامہ آرائی کی تھی اورچہار جانب سے حکومت پر سوالیہ نشان لگایاجارہاتھا، اس لئے صفائی پیش کرتے ہوئے وزیر مالیات پی چدمبرم نے پارلیمنٹ میں اپنی بجٹ تقریر میں مسلمانوں کو بینکوں سے قرض دلانے کا وعدہ کیا تھا اور انھیں دنوںاپنے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے مرکز نے قومی بینکوں کے سربراہوں کی میٹنگ کے دوران انہیں یہ ہدایت دی تھی کہ وہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنی تجارتی سرگرمیاں بڑھائیں اور مسلمانوں کی گھنی آبادی والے علاقوں میں اپنی شاخیں کھولیں ۔ظاہر ہے اگر حکومت کسی مسئلہ کو سنجیدگی سے لے اور اس پر صدق دل سے کاروائی کرے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوںگے ہی ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں حکومتیں مسلمانوں کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتی ہی نہیں۔ اسی کا نتیجہ رہا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مستقل دانستہ طور پر عصبیت کا رویہ اپنایا گیا۔ان کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ روا رکھا گیا اور صنعت و معیشت میں ایک سازش کے تحت ان کو پیچھے رکھنے کی کوشش کی گئی جس کے سبب ان کی حالت دن بدن دگر گوں ہوتی چلی گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ حاشیہ سے بھی نیچے چلے گئے ۔انھوں نے ملک میں رہتے ہوئے اتنی پریشانیاں جھیلیں کہ اگر تھوڑی سی بھی راحت ملتی ہے اور ان کے حقوق کا ذرا بھی خیال رکھا جاتا ہے تو وہ خوش ،اور کھلکھلا اٹھتے ہیں ۔

 یہی وہ فطری سبب ہے کہ بینکوںکے ذریعہ قرض کی فراہمی میںفرخدلی دکھانے پر مسلم طبقہ کی جانب سے خوش آمدید کہاجارہا ہے۔واضح رہے کہ اس ہدایت کے بعد ملک بھر کے بینکوں کی طرف سے 31 دسمبر، 2007 کے بعد اب تک کل 154789.90 کروڑ کے قرض اقلیتی برادری کے لوگوں کو تقسیم کئے جا چکے ہیں،یہ تخمینہ علاقائی قرض کا 14.83 فیصد ہے۔اقلیتی امور کے ریاستی وزیر ونسنٹ ایچ پالا کے مطابق حکومت مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کےلئے مختلف معیار کی جانچ کر رہی ہے۔ اس نے سچر کمیٹی کے مشوروں کی بنیاد پر اہم منصوبے کی شروعات کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 2007 سے اب تک مسلم اکثریت کی آبادی والے اضلاع میں بینکوں نے 3236 شاخیں کھولی ہیں۔اقلیتی طبقہ کی خواتین میںسرمایہ کاری کی خاطر قرض کوفروغ دینے کے لئے چھ لاکھ سے زیادہ اکاو ¿نٹ کھولے گئے ہیں۔اس مدت میں مسلم خواتین کو 6611.87 کروڑ کا قرض مہیا کرایا گیا ہے۔شاید اسی وجہ سے کانگریس کے ہمنوا یہ کہہ رہے ہیں کہ یو پی اے حکومت کی پہل پر اس کا براہ راست اثر اقلیتوں کی اقتصادی حالت پر نظر آ رہاہے۔اس میں کتنی سچائی اور حقیقت ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔کچھ لوگوں کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے خوشنما وسبز باغ دکھا کر سرکار محض مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسے مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہو جائے۔اگر حکومت واقعی مسلمانوںکی ہمدرد ہے تو سچر کمیٹی اور رنگا ناتھ کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرے ۔

 اس بابت مسلم دانشوروں کے ایک طبقے کا یہ بھی خیال ہے کہ مسلمانوں کو اپنی حالت سدھارنے کے لئے خود ہی اقدامات کرنے ہونگے۔ ان کے مطابق مسلمان لیڈروں کی ترقی کےلئے حکمت عملی، تبدیلی اور تعلیم کے پھیلاو ¿ کے لئے سر گرم ہونے کے بجائے صرف شکایت کرنے کی عادت ہے۔صرف اپنی چھاتی پیٹنے سے طویل مدت میں بھی کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔مسلم طبقے کو خود اپنے مفاد کے لئے کام کرنا ہوگا۔اسے اپنی ترقی کے لئے اپنے دانشورانہ اور مادّی وسائل کو متحرک کرنا ہوگا۔تو کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری ملک میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اقلیت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد کرے۔کیونکہ زیادہ تر مسلمان کمزور طبقات جیسے او بی سی ، دلت اور قبائل (ایس سی اور ایس ٹی)سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے بقول مسلم طبقے میں افسوسناک حد تک تعلیم کا فقدان ہے اور بے انتہا غربت کے سبب وسائل کی بھی قلت ہے۔اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مسلمان خود وسائل یکجا نہیں کر سکتے۔ ایسے میں حکومت کی اس روشن خیال پالیسی سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت میں بہتری کے اشارے ملنے کے امکانات ہیں۔

 گلوبلائزیشن کے اس دور میں ہر وہ چیز عالمی بازار میں فروخت ہو رہی ہے جس کی مارکیٹنگ اچھی اور جدید طریقہ سے کی جائے۔ اس کے لئے پیداواری مرحلہ سے لے کر مارکیٹنگ کے مرحلہ تک میں زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی کمی کا فائدہ آڑھتی اور بچولئے اٹھاتے ہیں اب حکومت نے بینکوں سے قرض فراہمی کی راہ ہموار کر کے دستکاروں کے لئے ترقی اور خوشحالی کا دروازہ کھول دیا ہے جس سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت انہیں خود اپنے آپ میں پیدا کرنی ہو گی ۔انسان گھوڑے کو کھینچ کر ندی تک لے جا سکتا ہے لیکن پانی گھوڑے کو خود ہی پینا ہوتاہے۔ وہی حالت یہاں کے مسلمانوں یا دیگر طبقوں کے ساتھ ہے۔ حکومت انہیں سہولیات فراہم کر سکتی ہے سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت تو خود ان میں ہی ہونی چاہئے۔

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 103 اضلاع ایسے ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں قالین، لکڑی، چکن، تالا، قینچی، ہینڈلوم، پاورلوم وغیرہ ان کے خاص کاروبار ہیں۔زراعت کے بعد دستکاری آج بھی روزگار فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور دستکاری زیادہ تر مسلمانوں کے ہاتھوں میں رہتی ہے ۔سرمایہ کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کی اس صلاحیت اور فن کا فائدہ سود خور مہاجنوں نے بھی اٹھایا اور لالچی و خود غرض تاجروں نے بھی۔ اندرا گاندھی نے بینکوں کو قومی زمرہ میں لیا ہی اسی مقصد سے تھا کہ کسانوں دستکاروں اور غیر منظم زمرہ کے دیگر ضرورت مندوں کو آسانی سے قرض مل سکے اور وہ اپنے فن کو ترقی دینے کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی معیشت کی بہتری میں اپنا اہم کردار بھی ادا کریں ۔لیکن بینکوں کے رویہ میںتبدیلی نہ آنے کے سبب معاملہ جوں کا توں پڑا تھا، اب حکومت کی منشا اور نیت صاف ہو جانے کے بعد امید ہے کہ قومی زمرہ کے بینک سماج کے ایک بہت بڑے طبقہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ حکومت کو بھی اور اقدامات کرنے ہونگے کہ کیسے مسلمان ترقی کریں ان کے لئے اور بھی اسکیمیں جاری کرنی ہوںگی اور یہ احساس بھی کرنا ہوگاکہ 25کروڑ مسلمانوںکو پیچھے چھوڑ کر آگے نہیں بڑھاجاسکتا ۔اس بابت حکومت کے ساتھ ہی مسلم لیڈران و دانشوران دونوں کو بھی مسلمان طبقے کے لئے وسائل جمع کر کے کمزور طبقے کی مدد کرنی ہوگی۔ گلوبلائزیشن اور لبرلائزیشن کے موجودہ دور میں یہاں سے واپس جانے کی شاید ہی کوئی گنجائش ہے۔اور حکومت پر انحصار کی ایک حد ہے۔لبرلائزیشن ذاتی کوششوں اور قابلیت پر انحصار کرتا ہے، مسلمان طبقے کو ترقی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے خود ہی اپنے اندرونی وسائل پیدا کرنے ہوں گے۔

رابطہ کا پتہ:۔

alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات

پس و پیش ....میں کانگریس بی جے پی

محمد علم اللہ اصلاحی

 پورے ملک میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعدجن دوسرے اہم انتخابات پر اب نظر ہوگی وہ دہلی میونسپل کارپوریشن یعنی ایم سی ڈی کے انتخابات ہےں،جس کی سرگرمیاں موسم گرما کے پارے کے ساتھ ساتھ پورے زور و شور سے شروع ہو چکی ہیں، تمام سیاسی جماعتیں کمر کس چکی ہیںاور ایک دوسرے پر الزام اور جوابی الزام کے ساتھ عوام کو رجھانے اور اپنے جھوٹے وعدوں کے ساتھ ان کا دل جیتنے کی کوشش جاری ہے۔اس کے لئے جہاں ایک طرف دہلی حکومت نے لوگوں کو کچھ لبھانے لالی پاپ کی پیش کش کی ہے ، توو ہیں ایم سی ڈی میں قابض بی جے پی نے بھی انتخابی رنگ میں رنگا بجٹ منظور کیا ہے ۔اس چناوی میدان میں بی جے پی کے دہلی ریاستی صدر وجیندر گپتا نے فروری میں 15 دنوں کی’ جن سنگھرش یاترا‘ نکال کر ماحول میں گرمی پھونک دی،اس یاترامیں وہ دہلی کے تمام اضلاع میں گئے، کارکنوں کو خوش کرنے کی کوشش کی اور انھیں ہر اس ہتھکنڈے کو اپنانے کا مشورہ دیا ہے جس سے چنا میں جیت حاصل ہوتی ہو۔اسی طرح کانگریس نے بھی اپنے کارکنان کی کانفرنس کے ذریعہ اپنی فضا ہموار کرنی شروع کر دی ہے ۔شاید اسی لئے اگربی جے پی کے صدر وجیندر گپتانے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات میں وہ بجلی، پانی، سیورےج، ٹرانسپورٹ، تعلیم، روزگار، ہاو ¿سنگ کے ساتھ قانونی نظاموں کی خرابی پروہ حالت پر دہلی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں گے، وہ عوام کو بتائیں گے کہ کس طرح دہلی حکومت ان تمام مورچوں پر ناکام رہی ہے۔ وہیں کانگریس دہلی صوبے کے صدر جے پی اگروال نے بھی کہا کہ بی جے پی کے راج میں ایم سی ڈی کا پانچ سالہ دور میں ایسا کچھ نہیں ہواجسے یاد رکھا جا سکے،اسی اٹھا پٹک کو دیکھ کر خیال کیا جا رہا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں اہم مقابلہ انہی دو پارٹیوں کے درمیان ہونے کی امید ہے ،لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ دیگر پارٹیاں اس میں نہیں ہونگی ،گزشتہ دنوں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمارنے بھی ان انتخابات کو لیکر بھیڑ اکٹھا کی ہے جس کے ذریعہ انھوںنے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ ان کا جادو دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بھی چلنے والا ہے۔ 

 چونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دہلی میں بہار کے مہاجروں کی آبادی 20 فیصد سے بھی زائد ہے اس لئے جے ڈی یوکو بھی کچھ سیٹیں ہاتھ آ جانے کے امکانات ہیں ۔ایم سی ڈی انتخابات میں اس بار لوگوں کی نگاہیں ایس پی پر بھی ہیں،یوپی میں پارٹی کی جیت کے بعد کیا اکھلیش کا جادو ایم سی ڈی میں بھی چل پائے گا اس سوال کا جواب ہر کوئی تلاش رہا ہے،سماج وادی پارٹی نے گزشتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں 57 اور اسمبلی انتخابات میں 38 امیدوار اتارے تھے لیکن پارٹی کا کھاتہ تک نہیں کھل پایا تھا، اس بار پارٹی رہنماو ¿ں کو لگتا ہے کہ بدلے حالات میں کچھ سیٹیں ان کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔رہی بات بی ایس پی کی تو پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں ایم سی ڈی 17 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا تھا، اور ایم سی ڈی میں تیسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، اس بار اطلاعات ہیں کہ بی ایس پی تقریبا تمام ہی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔

 ایسے میں ایم سی ڈی کے انتخابات کئی لحاظ سے اہم بن گئے ہیں،دہلی میں کارپوریشن کے تقسیم کاری کے بعد پہلی مرتبہ میونسپل کارپوریشن کا الیکشن ہو رہا ہے،ووٹ کے حق کا استعمال کرنے کی مہم میں دہلی کی شرکت کا بھی جائزہ لیا جانا ہے، وزیر اعلی شیلا دکشت کے تیسرے دور کے آخری ڈیڑھ سال کا امتحان ہے، بی جے پی کے مقامی قیادت کیلئے بھی یہ انتخابات کم خطرناک نہیں ہیںاور چونکہ کانگریس کاپنجاب اور یوپی میں لاکھ کوشش کے باوجود سیٹوں میں کوئی نمایاں اور حوصلہ افزاءاضافہ نہیں ہواہے ۔اتراکھنڈ کو چھوڑ کر کیونکہ اس کو بنیاد بنا کر دہلی میں جیتنے کا دعوی نہیں کیا جا سکتاکہ دونوں جگہوں کے مسائل الگ الگ ہیں، بی جے پی کی سیٹیں یوپی میں بھی کم ہوئیں اور پنجاب میں بھی جبکہ اتراکھنڈ میں حکومت ہاتھ سے پھسل گئی۔ جس کے سبب اپنی کامیابی کیلئے خود اپنی پیٹھ تھپتھپانے کی بجائے دونوں ہی پارٹیاں ایک دوسرے کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ منفی رجحان کے دوران یہی دلیل دی جا رہی ہے کہ کس کے دامن پر کتنے دھبے ہیں۔اگر دیگر پارٹیوں پر نظر ڈالیں تو یہ نتیجہ خاص طور پر کانگریس کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا سکتی ہیں، یہ مانا جا رہا ہے کہ یوپی میں مسلم ووٹر ایس پی کے ساتھ چلے گئے۔

 دہلی میں مسلمانوں کو ان انتخابات میں رام کرنا کانگریس کے لئے سب سے زیادہ مشکل تصور کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی مہینوں سے مسلسل ایسی خبریں سامنے آئیں ہیں جنکے سبب مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں تلخی بڑھی ہے۔خود جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری بارہا کانگریس کی کھنچائی کر چکے ہیں اور یہ بھی طے ہے کہ ان چنا ں میں انکی حمایت سماجوادی پارٹی کو حاصل ہوگی ۔درگاہ شاہ مرداں میں چہلم کے موقع پر مسلمانوں پر لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ سے بھی مسلمان نالاں ہیں اور مولانا کلب جواد سمیت تمام بڑے علماءاس معاملے پر سیدھے سیدھے کانگریس کو مورد الزام ٹھہرا چکے ہیں۔صحافی محمد احمد کاظمی کی دہلی پولس کے ہاتھوں گرفتاری اور دربھنگہ کے نوجوانوں کو مسلسل پولس کے ذریعہ پریشان کئے جانے جیسے معاملات بھی اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان انتخابات میں کانگریس کو مسلمانوں کو ساتھ لانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے ہونگے۔اوکھلا جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں کانگریس مخالف ہوا واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے اور اسی کو بھانپتے ہوئے کانگریس بھی ان علاقوں میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے ۔مسلمانوں کی کانگریس سے ناراضگی کا اندازہ پانچ ریاستوں کے انتخابات سے ہو چکا ہے اور اگر یہی رجحان دہلی میں بھی رہا تو کانگریس کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، پچھلی بار یوپی میں بی ایس پی نے بازی ماری تھی تو ایم سی ڈی میں 17 سیٹیں اس کی جھولی میں آ گئی تھیں۔ اس مرتبہ بھی اگر دلتوں کے ووٹوں کا بڑا حصہ بی ایس پی لے جاتی ہے اور مسلم ووٹ ایس پی کے حصے میں آتے ہیں تو یہ دونوں پارٹیاں خود بھلے ہی اپنے نشانہ میں اضافہ نہ کرسکیں لیکن کانگریس کے ووٹ کاٹ کر اس کی شکست کا ذریعہ بن سکتی ہیں،کیونکہ سلمان رشدی کی ’اٹڈیاٹوڈے کنکلیو‘ میں شرکت سے اپنا دامن بچا کر اکھلیش نے مسلمانوں کی مزید قربت حاصل کی ہے جبکہ فسطائیت کے معاملے میں کانگریس اور بی جے پی ایک ہی چشمے سے دیکھی جارہی ہیں۔ اس سلسلہ میں جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو ایم سی ڈی میں اقتدار اسی کے ہاتھ میں رہاہے۔ا ینٹی ان کم بینسی کو روکنا اس کیلئے بڑا چیلنج ہے تو انا فیکٹر بھی کہیں اس کے حق میں نظر نہیں آ رہا۔ انا فیکٹر حاوی ہوتا تو بی جے پی کو خاص طور پر اتراکھنڈ میں فائدہ ہونا چاہئے تھا لیکن مضبوط لوک پال بل بنانے کا دعوی کرنے والے کھنڈوری خود اپنا ہی 
انتخابات نہیں جیت سکے۔ ویسے، ایم سی ڈی انتخابات میں امیدواروں کا انتخاب 
بھی کامیابی کا ایک بڑا پیمانہ ہو گا۔

 اس سلسلہ میں ایک اور بھی اہم مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو گرچہ ہری جھنڈی مل چکی ہے، لیکن ابھی ایم سی ڈی کے انتخابات 272 نشستوں پر ایک ساتھ ہونے ہیں۔ ان میں سے 50 فیصد سیٹیں خواتین کے لئے مختص ہوں گی تو کئی اور سیٹیں درج فہرست ذات و قبائل کے لئے محفوظ ہیں، ریزرویشن کا فارمولہ کیا ہوگا، اسے کس طرح سے کیا جائے گا، اسے لے کر بھی تصویر صاف نہیں ہے، اس بابت گرچہ ریاست الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر راکیش مہتا نے اعلان کیا ہے کہ ہم نے مکمل فارمولہ تیار کر لیا ہے اور یہ ایسا فارمولہ ہوگا، جو طاقت ورہونے کے علاوہ قابل عمل بھی ہے اس لئے اس میں کسی کوکوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔لیکن کمیشن کے اس فارمولے اور سیٹوں کے ریزرویشن کے طریقوں پر تقریبا تمام جماعتوں کو اعتراض ہے، اس کے مخالفت میں انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایاہے لیکن قرائن بتا رہے ہیں کہ کورٹ کے انتخابات کو کسی بھی قیمت پر ٹالنے کے حق میں نہیں ہے اور نہ ہی اس کا موڈ الیکشن کمیشن کی نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کا ہے۔

 ان سب کے باوجود اگر بنظر غایر دیکھا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ کسی بھی پارٹی کے پاس ایم سی ڈی کے ان انتخابات میں نہ تو پختہ دعوے ہیں اور نہ وہ جوش و جزبہ جو نظر آنی چاہئے ۔ بی جے پی جو مسائل اچھال رہی ہے، وہ مرکز اور شیلا حکومت سے وابستہ بدعنوانی، بجلی کمی، قانون و انتظامیہ کے مسائل ہیں۔وہیں کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی اپنے گریبان میں جھانکے اور یہ بتائے کہ اس نے گزشتہ پانچ سال میں ایم سی ڈی میں کیا کر دکھایا ہے،اس طرح الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہے اورمسائل وہیں کے وہیں ہیں جہاں پانچ سال پہلے تھے۔ دہلی میںسب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے لیکر کئی علاقوں میں پانی کی کمی کا ہے،اوکھلا جیسی نہ جانے کتنی ہی بستیاں غیر قانونی کے نام پر آج بھی دہلی کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں، ان بستیوں کو مناسب طریقہ سے باقاعدہ حل کرنے کا مسئلہ بھی گزشتہ کئی ایم سی ڈی کے انتخابات میں اٹھتا رہا ہے، گزشتہ پانچ برسوں میں اگرچہ کئی غیر قانونی بستیوں کو باقاعدہ کیا گیا، لیکن ابھی بھی ہزار سے اوپرکالونیاں حکومت کے بقول غیر قانونی کے زمرے میں آتی ہیں، اسی لئے ا وہ ترقی سے بھی دور ہیں، یہ مسئلہ جتنے ایم سی ڈی سے وابستہ ہیں، اتنے ہی دہلی حکومت سے بھی ہے ۔چنا کے اس دنگل میں کسکو جیت اور کسے شکست نصیب ہوگی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال جو صورتحال ہے وہ نہ صرف بی جے پی بلکہ کانگریس کے لئے بھی غیر یقینی ہے اسلئے ان تمام پارٹیوں کو مل کر کافی محنت کرنی پڑے گی تبھی ان کی نا کنارے لگ سکتی ہے ۔
alamislahi@gmail.com


  

۔۔۔مزید

پیر، 23 جولائی، 2012

چاند پر یہ اختلاف کیوں ؟


چاند پر یہ اختلاف کیوں ؟  

رویت ہلال کے مسئلہ پر اتحاد و اتفاق کا جنازہ نکل جانا ملتکے قائدین کے لئے شرمناک 

محمد علم اللہ اصلاحی
 ہمارے ملک کے پرانے اور بار بار جنم لینے والے مسائل میں سے ایک شوال کے چاند کو دیکھنا بھی ہے جس پر اتفاق رائے پیدا کرنا محال بنا دیا گیا ہے،ہر سال رمضان کی آمد کے ساتھ اس معاملہ کو لیکر ہندوستانی مسلمان ایک عجیب قسم کی کشمکش، الجھن اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں،جب امت ایک ہے،قران ایک ہے ،اسکے رسول ایک ہیں ،ان کے مسائل ایک،امت کا ہر حصہ دوسرے سے ایک گہرے جذباتی تعلقات سے جڑا ہوا ہے،ان کی ہر تنظیمیں اور ہر قائداپنے آپ کو سب سے بڑا رہنما اور مسیحا کہتے نہیں تھکتے ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب بات رمضان یا عیدین کی ہوتی ہے، تو پوری قوم تقریبا تمام جگہوں پر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتی ہے۔اپنی ڈفلی اور اپنا راگ کے مطابق کبھی دو دن قبل ہی رمضان شروع ہو جاتے ہیںتو دو دن بعد عید،اور تو اور ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے مختلف صوبوں بلکہ ضلعوں میں الگ عیدیں مناناکوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔اس گو مگوکی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ایک عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ علماءجب ایک مسئلہ میں اتفاق رائے نہیں رکھتے، تو پھر امت میں اتفاق اور اتحاد کیسے ممکن ہے،آخر کب ایک امت وسط کی معنوی حقیقت سامنے آئے گی ،جب اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل میں علماءقوم کی رہنمائی نہیں کر سکتے تو دےگر مسائل مےں ملت کے رہنمائی اور ملت کے حق مےں ان کی خےر خواہی کی کےا امےد کی جاسکتی ہے۔

 اسے شومی قسمت سے ہی تعبیر کیا جائے گا کہ اِس ماہ کا آغاز ’اختلاف‘ سے شروع ہو کر ’اختلاف‘ پر ختم ہو جاتا ہے‘ اب کی بھی ایسا ہی ہوا، اور عین اس وقت جبکہ دنیا بھر سے رمضان المبارک کی آمد پر اظہار مسرت کرنے کی خبریں موصول ہوئیں ،ہندوستان میں اس سال بھی یہ بابرکت موقع اختلاف کی نذر ہو گیا۔امارت شرعیہ نے اپنے شواہد کی بنیاد پرسنیچر کو ہی رمضان ہونے کا اعلان کر دیا،شام کے بلیٹن میں آل انڈیا ریڈیو سے بھی اس کی تصدیق کر دی گئی۔بہارکے علاوہ جھارکھنڈ،آندھرا پردیش،اور کرناٹک میں بھی لوگوں نے سنیچر کو ہی روزہ رکھا ،جبکہ دہلی میں آٹھ بجے ہی مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم کا بیان سامنے آگیا کہ روزہ اتوار کو رکھا جائے گا،جبکہ دیر گئے رات تک جمعیة العلماءاوردیگر تنظیمیں میٹنگیں کرتے رہے ،گیا رہ بجے رات کو شاہی امام نے شاہجہانی جامع مسجد سے صدا لگائی کہ نہیں روزہ سنیچر کو ہی رکھنا ہے ۔

وہیں معتبر اردو خبر ایجنسی یو این آئی نے 7بجے شب کی ٹریک میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر اتوار کو پہلا روزہ رکھے جانے کی خبر جاری کر دی یہ الگ بات ہے کہ دیر گئے رات ایجنسی نے پھر دہلی میں سنیچرکو ہی روزہ رکھنے کی خبر جاری کی لیکن اس کے باوجود بعض اخباروں میں پہلے والی ہی خبر شائع ہوئی ،اسی طرح لکھن میں مرکزی صدر کمیٹی کے صدر مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور شیعہ چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نقوی نے اتوار کو روزہ رکھنے کی بات کی ،تو معروف شیعہ عالم دین مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نائب صدرمولانا کلب صادق نے سنیچر کو روزہ رکھے جانے کا اعلان کرتے ہوئے 20اگست کو عید الفطر منانے کا بھی اعلان کیا۔مرادآباد وممبئی شہر میں گھوم گھوم کر آٹو رکشہ کے ذریعہ دیر گئے رات تک یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ سنیچر کو نہیں اتوار کو روزہ رکھنا ہے ،جبکہ بوہرا فرقہ کے مسلمانوں نے اپنے فکس کیلنڈر کے مطابق جمعرات سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیا ،آخر بار بار ایسا کیوں ہو رہا ،اس کے باوجود کہ قرآن مجید میں ’اتحادواتفاق‘ کا واضح حکم موجود ہے ۔

 دراصل یہ شریعت سے تجاہل عارفانہ ،اور صرف’ منبری کی دوکان چلے ‘ جیسی سوچ کا نتیجہ ہے ورنہ شرعی اعتبار سے دیکھا جائے تو چاند دیکھنا اور اس کی شہادت دینا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا پیچیدہ اور مشکل ہمارے علماءنے اسے بنا دیا ہے یہ تو چند اصولوں کے تابع ہے جن پر عمل کرکے اس پیچیدہ مسئلہ کو انتہائی آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ شرےعت میں اس بارے میںواضح احکامات موجود ہیں ، جو ہمیں بتاتی ہے مہینوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے (سورئہ نساءآیت نمبر301)۔اسی طرح قران میں ہی چاندکو مہینوںکے تعین کا آلہ شناخت بتایا گیا ہے،اور بتایا گیا نمازوں کے وقت کا تعین سورج سے ہوتا ہے اور مہینوں کا تعین چاند سے( سورئہ بقرہ کی آیت 981)۔اسی طرح حدیث میں اللہ کے نبی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، اگر تم پر بادل چھائے تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرو‘(صحیح بخاری: کتاب الدم؛ جلد اول، حدیث نمبر2871) ابو داوود کی روایت کے مطابق’ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ اس نے رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ اللہ کے ایک ہونے کی شہادت دیتا ہے، اس نے اعتراف کیا کہ ہاں یہ شہادت دیتا ہے، پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوبحیثیت اللہ کے رسول کا مانتا ہے، اس پر اس نے ہاں کہا اور گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کردےں کہ کل سے روزہ رکھنا ہے‘(راوی حضرت عبداللہ ابن عباس، سنن ابو داو ¿د: حدیث نمبر (3332) اسی طرح ابو داو ¿دکی حدیث نمبر 4332 اور 5332 میں بھی یہی بات دیگر روایات کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔

 ان واضح ہدایات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امت کے ٹھیکیدار امت کی رہنمائی کے نام پر اس پر کتنا عمل آوری کرتے ہیں اگر اس پر ذرہ برابر بھی عمل آوری ہوئی ہوتی تو معاملہ بالکل اس کے بر عکس کبھی نظر نہیںآتا ۔اس سلسلہ میں جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے توبلا وجہ کی تاویلیں کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے ہر جگہ مطلع مختلف ہے اور ”اختلاف المال“ کی بنیاد پر ہر جگہ الگ الگ عید ہونے کو صحیح قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 198 مےں لکھا ہے کہ ’مطلع کے اختلافات کی کوئی اہمیت حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نزدیک نہیں ہے“۔اسی طرح ”مذاہب اربعہ “جلد اول صفحہ 550 پر اس موضوع پر چاروں مسالک کی آ راءکا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب چاند کہیں ثابت ہو جائے تو روزے رکھنا تمام مسلمانوںکا فرض ہو جاتا ہے، مطلع کے اختلافات کی کوئی وقعت نہیں ہے،اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فتاوی؛ جلد پنجم: صفحہ: IIIمیں لکھتے ہیں ”ایک شخص کو کہیں چاند کے نظر آنے کی معلومات بر وقت ہو تو روزہ رکھے اور ضرور رکھے، اسلام کی نص اور سلف کا عمل اسی پر ہے، اس طرح چاند کی شہادت کو کسی فاصلہ یا کسی خاص ملک میں محدود کر دینا عقل کے بھی خلاف ہے اور اسلامی شریعت کے بھی‘۔

 اگر سائنسی اعتبا ر سے دیکھا جائے تو بھی آج کی ترقی کرتی ہوئی دنیا میں سرے سے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ،سائنسدان ،ماہرین ریاضیات اور علم نجوم کا ادراک رکھنے والے چاند (ہلال) کے ظہور کا وقت‘ دورانیہ‘ اور افق پر ظاہر ہونے کا مقام اورکن علاقوں میں اِسے دیکھا جا سکے گا‘ پہلے ہی سے بتا دیتے ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے ’انسانی آنکھ کے ذریعے کسی بھی مہینے کے پہلے روز کے چاند کو دیکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا‘ اگر حساب کتاب سے یہ بتا دیا جائے کہ ’زیر گردش زمین سے چاند کی دوری کے مراحل اور افقی اعتبار سے ا ±س کے ظہور ہونے کا مقام کیا ہے لیکن ہمارے مذہبی حلقے اِس سائنسی توجیہ کو خاطر میں نہیں لاکرمسئلہ کو مزید چوں چوں کا مربہ بنا دتے ہیں، اور ہر سال اس معاملہ کو لیکر اتنی اٹھا پٹک ہوتی ہے کہ الامان و الحفیظ،انھیں پتہ نہیں ہے کہ ان کے اس رویہ سے صرف امت کیجگ ہنسائی ہی نہیں ہوتی ہے‘ بلکہ اس طرح کی بے ےقےنی کی صورت حال سے غیر مسلموں کے درمیان بھی مسلمانوں کے تئیں عدم اعتماد اور کھوکھلے پن کا اظہار ہوتا ہے،حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب اس قدر حساس معاملہ کو بھی مسلکی رنگ دے دیا جاتا ہے ،اور بعض علماءاور تنظیمیں بھی اسے اپنی انانیت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جس کا نتیجہ اہل حدیث ،بریلوی ،دیوبندی اور خدا معلوم کیسی کےسی تفرقہ باز شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ،اگر آپ کو یقین نہ آئے تو فیس بک اور ٹیوٹر میں جا کے دیکھئے جہاں ہزاروں کی تعداد میںرےمارکس مسلمانوں کا منہ چڑا رہے ہیں ،ایسے میں امت کا سواد اعظم کدھر جائے ،کیا کرے ؟ اس سوال کے جواب تک پہنچنے کیلئے قوم کو نہ جانے مزید کتنی مرتبہ رمضان اور عید کے مواقع پر انتشار اورتقسیم کی اذیتوں سے گزرنا ہو گا۔مسلم قےادت کواس کا جواب دینا ہی ہوگا، صرف اپنے اپنے منبروں سے مواعظ اورتقاریر مےں امت مسلمہ کے اتحاد و یگانگت کا راگ الاپنے سے بات نہےں بننے والی ہے، بلکہ رمضان المبارک اور عیدےن جیسے اہم مواقع پر قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ ہونے سے بچانے کے لئے عملی طورپرکچھ کرنا پڑے گا ۔
 alamislahi@gmail.com



۔۔۔مزید