بدھ، 19 فروری، 2014

ڈرٹی بوائے

(افسانچہ)

محمد علم الل اصلاحی

ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ بچے نے کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ خاتون نے اپنے پرس خستہ اور لذیذ بسکٹ کا پیکٹ نکال کر بچے کو دے دیا۔ بسکٹ کھاتے کھاتے بچے کی نگاہ ریلوے لائن کے اُس پار ایک بھکاری بچے پر پڑی جو لوگوں کے پھینک ہوئے کچرے اور کوڑا کرکٹ میں سے کچھ اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔ بولا: "موم موم! دیکھو ادھر ایک بچے کو دیکھو!" ماں نے ایک سرسری سی نگاہ اس بھکاری بچے پر ڈالی اور کہا: "ہاں! کیا ہے؟ کچھ کھا رہا ہے، تپ بھی اپنا بسکٹ جلدی finish کرو، ٹرین آنے والی ہے"۔ بچہ معصومیت سے بولا: ’’موم! وہ نیچے سے اٹھا کر کھا رہا ہے، چھی چھی!‘‘
ماں نے پھر سے بھکاری بچے کی جانب دیکھا اور نگاہ پھیرتے ہوئے بولی: "oh shit! اس کی طرف مت دیکھو، وہ dirty boy ہے، چلو یہاں سے! کہیں اور جا کر کھڑے ہوتے ہیں it ’s disgusting "
موم کا بچہ سوچ تو رہا ہو گا کہ اصل میں shit ہے کہاں! ۔

۔۔۔مزید

ڈسکاونٹ

(افسانچہ)

صاحبزادے مسابقہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کر رہے تھے۔ پروفیسر صاحب ایک کتب فروش کے پاس گئے۔ صاحب زادے نے من پسند کتابیں چن لیں۔ دو ہزار روپے کا بل بنا۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے : "بھئی ! کچھ تو ڈسکاونٹ بھی تو دیجئے، دو ہزار کی خریداری پر تین سو روپے کم کر دیجئے۔ کتب فروش نے کچھ کاروباری نکتہ نظر سے اور کچھ پروفیسر صاحب کے احترام میں دو سو روپے کی چھوٹ دے دی۔
کچھ دن ہی گزرے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کتابیں خریدنے کا کام سونپا گیا۔ کتب فروش نے پہچان لیا۔ پروفیسر صاحب نے کئی ہزار روپے کی کتابیں منتخب کیں۔ کتب فروش نے خود ہی ۱۵ فیصد چھوٹ کی پیش کش کر دی۔ پروفیسر صاحب ہنستے ہوئے بولے: "یوں کرو بھائی کہ جتنا ڈسکاونٹ بنتا ہے اس کے برار مسابقہ جاتی امتحانات کی نئی کتابیں دے دو، بل پورا بنا دو، یونیورسٹی کے نام"۔

۔۔۔مزید

ابھیجیت کی اسیری کاقصہ


محمد علم اللہ اصلاحی 
یہ کہانی ہے اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی سے گریجویٹ ابھیجیت کی۔ساکن بنڈوتھانہ رانچی کے ابھیجیت رہائی کے بعد ٹیچر بن کر نونہالوں کو بہتر زندگی کا سبق دینے کی خواب سجائے ہوئے ہیں۔ان کی عمر تقریبا 30سال کی ہوگی ،انھیں دفعہ 302یعنی قتل کئے جانے کے جرم میں عمر قید کی سزا ملی ہوئی ہے۔اورتب سے یعنی 1998سے یہ اپنے رہائی کے ایک ایک دن کا انتظار کر رہے ہیں،جھارکھنڈ کے کھونٹی جیل میں بھی کئی سال گذارچکے ابھیجیت کو 2002 میںبرسا منڈا جیل لایا گیا تب سے اب تک وہ یہیں ہیں، جیل میں رہتے ہوئے انھیں تقریبا 13 سال ہوچکے ہیں۔
ہم نے سب سے پہلے ان سے ان کے جرم کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا یہ ایک حادثہ تھا، میرے چچا اور ان کے لڑکے آپس میں لڑائی کر رہے تھے، اسی درمیان دھکا مکی میں میرے چچا کے سر پر چوٹ آئی اور وہ چوٹ ان کے لیے موت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور چونکہ وہ خود ایک سال کی سزا پا کر جیل سے باہر آئے تھے، ایک سال پہلے انہوں نے اپنے لائسنس بندوق سے میرے والد کو مارا تھا اس لیے وہ جیل گئے تھے جب ان کا انتقال ہوا تو میرے چچا زاد بھائیوں نے مجھے پھنسا دیا کہ میں نے ان سے والد کا بدلہ لیا ہے، مجھے آج بھی یاد ہے وہ جنوری کا مہینہ تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی میں اس دن کو کبھی نہیں بھول سکتا۔
ہم نے جب پوچھا جیل اور اس سے باہر کی زندگی میں کتنا فرق ہے تو کہتے ہیں بہت فرق ہے، باہر کی زندگی سے جیل کی دنیا کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہے، یہاں روزانہ کا بندھا ٹکا اصول ہے جسے آپ کو ہی کرنا ہے، نہیں تو جائیں گے کہاں، باہر دوستوں کے ساتھ گھومنا، خوش گپیاں کرنا ، من پسند کھانا کھانا، کھیلنا سب جیل میں نصیب نہیں ہونے والا،باہر کی دنیا ہی الگ ہے۔
ابھیجیت جیل میںاپنی روزانہ کی مشغولیت کے بارے میں بتاتے ہیں’ صبح 6 بجے اٹھ جاتے ہیں، نہا دھو کر اور دوسری ضروریات سے ہوکر ناشتہ کرتے ہیں، 7 سے 8:30 تک فٹ بال کھیلتے ہیں، پھر کلاس کی تیاری شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہاں پر پہلے کلاس سے لے کر بی اے تک کلاسیں ہم ہی دیکھتے ہیں اس لئے 9 ساڑھے 9 بجے تک کلاس پہنچ جانا پڑتا ہے، کلاسیں تقریبا دو بجے تک چلتی ہیں، کھانا تو صبح ہی مل جاتا ہے اسی کو لے کر رکھ لیتے ہیں دیر سے کھانے کی عادت ہے اس لئے دو بجے کے بعد ہی کھانا کھاتے ہیں، اس کے بعد کمپیوٹرلیب چلے جاتے ہیں (جس میں 34 سے 35 کمپیوٹرہیں) ساڑھے تین تک کمپیوٹر کلاس ہوتی ہے، کمپیوٹر کلاس جب ختم ہو جاتی ہے تو تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں اس کے بعد گھومنے کے لیے نکل جاتے ہیں، پھر شام 4 بجے آفس جاتے ہیں جہاں خط اور دیگر چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں، 6 بجے سے پہلے کمرے میں آ جاتے ہیں کیونکہ 6 بجے وارڈ بند کر دیا جاتا ہے، 6 بجے کے بعد چاہے تو اپنے کمرے میں مطالعہ کرتے ہیں یا پھر کوئی سیریل وغیرہ دیکھتے سو جاتے ہیں۔ہم نے ا ن سے پوچھا جیل آنے سے قبل جیل کے بارے میں آپ کے ذہن میں کیا خاکہ تھا تو کہتے ہیںیہاں آنے سے پہلے جیل کے بارے کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ہاں فلموں میں تو دیکھا تھا، اخباروں میں بھی ایک دو چیزیں پڑھی ہوگی لیکن کچھ یاد نہیں ہے۔اچھا فلموں میں جو کچھ دکھایا جا تا ہے جیل کے بارے میں اس میں کتنی فیصد صداقت ہوتی ہے تو ابھیجت کہتے ہیں،فلموں میں جیل کے بارے میں جو کچھ بھی دکھایا جاتا ہے، اس میں سچائی تو ہے، لیکن جو ماحول دکھایا جاتا ہے جیسے قیدیوں کے ساتھ ظلم اور مار پیٹ وغیرہ، ویسا جیل میں نہیں ہوتا، جیل آنے کے بعد تو آدمی ایک طرح سے محفوظ ہو جاتا ہے. یہاں مارپیٹ نہیں ہوتی ہے، لیکن اکثر فلموں میں یہی دکھایا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ان کا ماننا ہے کہ فلمیں کرائم کو بڑھا دیتی ہیں اس لئے اس معاملہ میں محتاط رویہ اپنانا چاہئے اور کرائم سے متعلقہ چیزیںیا اس کی تفصیلات قطعا نہیں دینی چاہئے اس سے بچوں کے علاوہ عام لوگوں کے ذہن میں بھی بہر حال برا اثر پڑتا ہے۔اور انسان غیر ارادی طور پر اس سے سیکھتا ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے یہ بات بالکل کہی جا سکتی ہے کی فلمز کرائم کو فروغ دیتی ہے۔ہم نے پوچھا تو کیسی چیزیں بننی چاہئے فلموں میں تو کہتے ہیں بہت ساری چیزوں کو دکھایا جا سکتا ہے، قانون کی پیچیدگیوں کو دکھایا جا سکتا ہے، ایک بھراپورا خاندان ایک آدمی جیل میں کس طرح ختم ہو جاتا ہے اسے دکھایا جا سکتا ہے الغرض پوری ایک دنیا ہے بہت ساری چیزوں پر کام ہو سکتا ہے۔خود کس طرح کی فلمیں بنانا پسند کریں گے تو کہتے ہیں لوگوں کے اوپر psychological اس کا اثر کیسے پڑتا ہے اسے دکھانا پسند کرونگا۔
جیل میں لڑائی جھگڑ ا جیسا کہ عموما فلموں وغیرہ میں دکھایا جاتا ہے اس بارے میں ان کا کہنا تھا بے شک کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خطرناک ثابت ہو جاتی ہیں جو لڑائی کی شکل اختیار کر کے جان لیوا حادثہ تک پہنچ جاتی ہیں۔قیدیوں کے بارے میں عام طور پر جیل سے باہر ایک غلط امیج ہے اس بارے میں وجوہات جاننے کے لئے جب ہم نے ان کی  رائے جاننی چاہی تو ان کا کہنا تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہے، یہ غلط بات ہے جو باہر پھیلی ہوئی ہے، بغیر وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جو جتنا بڑا مجرم ہے جیل میں اسے اتنی ہی عزت ملتی ہے یہاں ایسا نہیں ہوتا ہے! بلکہ ایسے مجرم کی حقیقت سامنے آتی ہے تو لوگ اس سے نفرت ہی کرتے ہیں،. ہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ایسے لوگ جیل میں قیدی بچوں جو عمر میں چھوٹے ہوتے ہیں سگریٹ، بیڑی اور اسی طرح چھوٹی موٹی چیزیں دے کر اپنا کام کرتے ہیں یہ لوگ ایسے بچوں کا استحصال بھی کرتے ہیں کئی بار بچوں کے ساتھ اپنی جنسی خواہش بھی بجھاتے ہیں لیکن ایسی خبریں باہر لیک نہیں ہوتی، اگر پتہ بھی چل جائے تو جیل باہر نہیں جانے دیتی ایسی خبروں کو کہ انتظامیہ کی بد نامی ہوگی۔جیل میں میڈیا والوں کی آمد کی بابت ابھیجت کہتے ہیں یہ ایک ایسی دنیا ہے جس کے بارے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بتانا چاہئے میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بھی آنے کی اجازت ملنی چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ جیل کے اندر کیا ہے۔جیل کی پہلی رات بڑی دقت طلب ہوتی ہے اس بارے میں ابھی جیت کہتے ہیں بہت آدمی تو خود ہی سہمے رہتے ہیں، وارڈ میں چلے جانے کے بعد کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو پیار کرتے ہیںکئی لوگ تو روتے ہوئے جیل سے جاتے ہیں۔جی جب پہلی بار انسان جیل میں آتا ہے تو اسے ایڈجسٹ کرنے میں کافی وقت لگتا ہے، کھانے پینے میں بھی کافی پریشانی ہوتی ہے، خاص طور سونے کے لئے کافی پریشانی ہوتی ہے، شروع شروع میں جیسے نیند ہی نہیں آتی۔ابھیجیت اپنے گھر مان باپ ،بھائی بہن سب کو بہت یاد کرتے ہیں کہتے ہیں ،گھر کی یاد تو بہت آتی ہے،جب بھی خالی ہوتے ہیں گھر ہی یاد آتی ہے پتہ نہیں کیا تبدیلی آئی ہے۔جیل میں اصلاح کے امکانات کی بابت ابھیجیت کی رائے ہے کہ 80 فیصد لوگ راہ راست پر آ جا تے ہیں۔اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس بارے میں ابھیجیت کہتے ہیں ہم سوچتے ہیں دکھ کے دن ہمیشہ نہیں ہوتے، آج نہیں تو کل سکھ کے دن آئیں گے، دکھ تو سب کے ساتھ آتا ہے لیکن آپ اس کو کس طرح کاٹ لیتے ہیں در اصل فن یہی ہے۔


۔۔۔مزید

سابق نوکرشاہ اوشارانی کی اسیری کاقصہ

محمد علم اللہ اصلاحی 
جھارکھنڈکے برسامنڈاسنٹرل جیل میںبند قیدیوںسے ملاقات کے اس سلسلے کی اگلی کڑی جھارکھنڈ کمیشن کی سابق کنٹرولر امتحانات محترمہ اوشا رانی ہیں ،جن کی عمر60سال سے بھی زیادہ ہے۔اوشا رانی کا تعلق ریاست صنعتی شہر جمشید پور سے ہے۔انھوں نے رانچی یو نیورسٹی سے انگریزی میں بی اے اور ایم اے اس وقت کیا، جب تعلیم کی اہمیت کا لوگوں کو احساس بھی نہیں تھا۔یہ خود کہتی ہیں میں نے جتنی تعلیم حاصل کی تھی ہماری برادری یا قوم میں اتنی تعلیمی لیاقت کا حامل کوئی بھی نہیں تھا اسی لئے میں نے ایک عیسائی نوجوان سے شادی کی جو خو د بھی پڑھے لکھے اور اعلی ڈگریوں کے حامل تھے۔اوشا رانی ابھی زیر سماعت قیدی کی حیثیت سے ہی زندگی گذار رہی ہیں۔ان پر 2008میں جے پی ایس سی کے امتحانات میں ہیر پھیر کا الزام عائدکیاگیاتھا۔محترمہ گزشتہ ایک سال پانچ ماہ سے یہاں بند ہیں۔
 باہر کی دنیا سے جیل کے اندر کی دنیا کس قدر مختلف ہے؟اس سوال کے جواب میںاوشارانی کا کہنا تھا ، دیکھئے باہر کی دنیا تو ایک الگ ہی دنیا ہے، دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔جیل امن و سکون سے رہنے کی جگہ نہیں ہے،یہاں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا سب کچھ اپنے مقررہ وقت پر کرنا پڑتا ہے جبکہ باہر ایسا نہیں ہے۔ آپ یہاں کسی سے ہنسی مذاق بھی نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں رہتے رہتے لوگوں کا خیال اتنا زیادہ چڑچڑا پن اور پریشان کرنے والا ہو چکا ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی کبھی بڑی بڑی لڑائیاں ہو جاتی ہیں اور خواتین میں تو یہ سب کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہاں پریشانی ہی پریشانی ہے ہر ایک کی اپنی الگ بپتا اور الگ کہانی ہے۔
جیل میں گذرنے والے اپنے روز و شب کے بارے میں اوشا رانی بتاتی ہیں’ ایسے تو گھر پر بھی صبح سویرے اٹھ جانے کی عادت تھی لیکن یہاں یہ زندگی کا حصہ ہے جیسے، صبح ناشتہ کے بعد روزانہ تھوڑاوقت عبادت میںگزارتی ہوں اور پھر سارے ایف آئی آر کو گہرائی سے پڑھتی اور جائزہ لیتی ہوں جس میں بغیر وجہ میرے اوپرالزامات لگائے گئے تھے۔اسے دیکھتے ہوئے دن میں میرا چار سے پانچ گھنٹے کا وقت گزر جاتا ہے، اس درمیان میرے خیال میں جو کچھ بھی آتا ہے، خاص طورپر اس معاملے سے ،اسے ڈائری پر نوٹ کر لیتی ہوں۔ اس سے میں اپنے وکیل کو بھی بہت کچھ بتا سکتی ہوں، اسی طرح جب شام ہوتی ہے تو میرا وقت عام طورپر کھیل میں گزرتا ہے، اس کے لئے ہم جیل کے اندر ہی اپنے قیدی ساتھیوں کے ساتھ مختلف طرح کے کھیل کھیلتے ہیں۔یہ کھیل بس یونہی ہوتی ہے۔ شام کو جب کھیلتے کھیلتے تھک جاتے ہیں تو اپنے کمرے میں لوٹ جاتے ہیں جہاں دوستوں سے چپٹ کرتے سو جاتے ہیں جہاں تک پڑھنے کی بات ہے تو میرا زیادہ وقت لائبریری میں گزرتا ہے۔ یہاں قانون کی کتابیں پڑھتی ہوں اور جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ جو کیس ہمارے اوپر لگائے گئے ہیں وہ پتہ کیا جائے تاکہ مسائل کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
جیل کے بارے میں پہلے سے کیا جانتی تھیں؟یہ پوچھے جانے پر وہ کہتی ہیں’ پہلے سے کچھ زیادہ نہیں جانتی تھی بس وہی اخبار اور میگزین میں جو کچھ پڑھا یا فلموں میں دیکھی تھی وہی۔ اس کے علاوہ پہلے سے مجھے کچھ بھی پتہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود پتہ نہیں کیوں جیل کی بہت خراب تصویر میرے من میں تھی لیکن یہاں آنے کے بعد میری سوچ میں تبدیلی آگئی‘! اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں’ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور جانا کہ حقیقت ہے۔ اخبار ،میگزین یا کسی سے زبانی سنی باتوں اور خود دیکھے ہوئے حالات میں بڑا فرق ہوتا ہے۔باتوں باتوں میںہم نے ان سے پوچھا کتنی فلمیں دیکھی ہیں آپ نے؟ دماغ پر زور ڈال کر سوچنے کی کوشش کرتے ہوئے،اب مجھے کوئی نام یاد نہیں آ رہا ہے کافی دن ہو گئے۔ہم نے جب پوچھا کہ عوام کو جیل کی دنیا کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ چل پاتا، اس کی کیا وجہ ہے انتظامیہ کی سختی یا پھر میڈیا سے جڑے لوگوں کا تجاہل عارفانہ؟ اوشا رانی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں دونوں وجہیں ہیں۔آپ کے خیال میں فلموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے، اس میں حقیقت سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں؟ اوشا رانی کہتی ہیں’’ دیکھئے صحیح بات تو یہ ہے کہ فلم میں حقیقت کم ہوتی ہے اور یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ جیل میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ سب کچھ دکھا دیا جائے۔البتہ ہاں غلط چیزوں کو نہیں دکھانا چاہئے ،اس سے غلط اثر پڑتا ہے۔توکیا فلمیں کرائم کو بڑھاوا دیتی ہیں ؟اس سوال کااثبات میںجواب دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں’جی ہاں! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فلموں سے جرائم کو فروغ مل رہا ہے اور اس سے بچے جرم کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ فلم نے جرم کے راستے کو اور بھی آسان بنا دیا ہے۔وہ مزید کہتی ہیں’ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ فلموں نے شائقین میں جرم کرنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا کر دیا ہے خاص کر انگریزی فلموں سے، اس لئے یہاں پر یہ ضرور کہوں گی کہ فلم میں کم سے کم آئیڈیا نہیں دینا چاہئے۔‘‘ فلم بنانے سے پہلے لوگوں کو ہر طرح سے سوچنا چاہئے کہ اس کے مثبت اور کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے۔درست بات تو یہ ہے کہ فلمیںCertain point میں بننی چاہئے۔اس کے علاوہ کہہ سکتی ہوں بنانے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے کہ ہم کیا پروسنے جا رہے ہیں۔آپ کے خیال میں کس طرح کی چیزیں خاص کر جیل کے بارے میں دکھائی جانی چاہئے ،اس سوال پرتھوڑی دیر سوچنے کے بعد اورشا رانی کہتی ہیں’’ جیل کے اندر جو بچے ہیں ان کے اوپر بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔ جیل میں فلم کیلئے یہ ایک اچھا موضوع ہے‘‘!کیا جیل میں لڑائی جھگڑا بھی ہوتا ہے؟ عموماً فلموں میں جیل کی یہ تصویر دکھائی جاتی ہے ،کبھی کبھی اخباروں میں بھی اس طرح کی خبریں آتی ہیں ، اس سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں’’ہاں ہاں بالکل ، میں ابھی تھوڑی دیر پہلے اس بارے میں آپ کو بتائی تھی دراصل ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ایک جگہ رہتے رہتے آدمی چڑ جاتا ہے۔ اس لئے غیر روحانی طور پر نہ چاہتے ہوئے بھی چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ جاتا ہے اور نوبت لڑائی جھگڑے تک آ جاتی ہے۔ خواتین کے ساتھ یہ زیادہ ہوتا ہے۔کسی بچہ نے کمرہ کے آگے پیشاب کر دیا، کسی نے کسی کے بارے میں کسی کے پاس کچھ کہہ دیا یا پھر اور بھی اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بن جاتی ہیں لیکن معاملہ جلد ہی پھر نمٹ بھی جاتا ہے،کبھی کبھی اس طرح کے حالات خطرناک صورتحال اختیار کر جاتے ہیں‘‘۔ اوشا رانی بڑی صفائی سے مسکراتے ہوئے کہتی ہیں ممکن ہے مرد قیدیوں میں ایسا ہوتا ہو گا،خواتین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔مستورات جیل کے بارے میں کچھ بتائیے ؟کیابتاؤں ؟ مجھے لگتا ہے کہ خواتین کو جتنا حق ملنا چاہئے اتنے نہیں ملتے ہیں۔ یہ ایک پہلو ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے میں تفصیل سے نہیں بتا سکتی۔ ذمہ داری داران خود سروے بھیجیں اور اصلی مسئلہ کو جاننے کی کوشش کریں تو کئی اہم چیزیں آ سکتی ہیں۔
سنا ہے جب لوگ شروع شروع میں جیل آتے ہیں تو کئی کئی دن تک نیند نہیں آتی، بہت پریشان ہوتے ہیںلوگ؟کیاخیال ہے آپ کا؟،یہ سنتے ہی اوشا رانی کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور اپنے آنسو?ں کو اپنے ساڑی کے پلو سے پونچھتے ہوئے کہتی ہیں ’بہت تکلیف ہوتی ہے اسے میں بیان نہیں کر سکتی، میں خود اتنا روتی تھی، اتنا روتی تھی کہ… دو دن تک کچھ کھائی نہیں، جب میں یہاں آئی تھی تو اسی کے ایک یا دو دن بعد یہاں رانچی میں زلزلہ آیا تھا سارے دروازے بند تھے ہم سب گھروں سے باہر نکل آئے لیکن اس کے باوجود مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اندر ہی مر جائیں گے۔ آج بھی اس دن کو یاد کرتی ہوں تو کانپ جاتی ہوں۔باہر کی دنیا میں جو شخص بھی جیل میں رہ کر آتا ہے لوگ اس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے آخر کیوں ؟اس سوال کے جواب میںانہوںنے کہا’’ہم بھی اس بات کو برابر محسوس کرتے ہیں کہ ہم بدنام ہو چکے ہیں، پتہ نہیں چھوٹ کر جب سماج میں جائیں گے تو کیا وہی عزت ملے گی جو پہلے تھی؟وہ میڈیا والے جو کل تک چیخ چیخ کر جج سے پہلے ہی فیصلہ سنا دے رہے تھے، چھوٹنے کے بعد ہماری بے گناہی کابھی ایسے ہی اعلان کریں گے؟(ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ) ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہے لیکن یہ سب سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔
اس سوال پر کہ آپ اپنے خاندان کو کتنا مس کرتی ہیں؟ اوشا رانی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے ہیں! ایک کانسٹیبل خاتون پولیس آتی ہے اور پانی کا گلاس دیتی ہے۔ پانی کے گھونٹ پینے کے بعد تھوڑے سے وقفے کے بعدکہتی ہیں’’ میں میرے شوہر دونوںملازمت کرتے تھے، اسی وجہ سے ہمیشہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہے۔ اب ریٹائر ہوئی تھی تو یہ وقت تھاکہ دونوں ایک ساتھ وقت گزاریں مگر قسمت کو یہ منظور نہیں تھا۔‘‘ پھر آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور تھوڑے توقف کے بعد اوشا رانی بتاتی ہیں’ یہاں آنے کے بعد اپنے بھی سب غیرہو گئے کسی نے بھی ساتھ نہیںدیا سب یہی سمجھنے لگے کہ میں بری ہوں تبھی تو جیل آئی ہوں۔صرف میرا بیٹا مجھے نہیں بھولا، اس نے ہمیشہ مجھے ہمت دلایا اور کہا کہ امی تم بے گناہ ہو اور ایک دن ضرور بے گناہ یہاں سے جاؤ گی۔( روتے ہوئے) خدا میرے بیٹے کو زندہ رکھے!۔

۔۔۔مزید

کہانی ایک فنکار قیدی کی


محمد علم اللہ اصلاحی 

آئیے اب ملتے ہیں گریڈیہہ کے نغمہ اور ناگپوری گیتوں سے دلچسپی رکھنے والے محمد اشرف سے ،جو دفعہ 302 یعنی قتل کیس میں2008 میں جیل لائے گئے اور تب سے اب تک وہ یہیں اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔جیل کے اندر نغمہ و سرور کی محفل گرم رکھنے والے محمد اشرف کی تعلیم بہت زیادہ نہیں ہوئی ہے وہ خود کہتے ہیں ہمارے گا?ں گھر میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں تھا اس لئے بہت زیادہ نہیں پڑھ سکا ساتویں پاس ہوں۔محمد اشرف کی عمر تقریبا 45سال کے قریب ہے،جب ہم نے ان سے انٹریو کی بات کی تو وہ سمجھ ہی نہیں سکے۔ ہم نے کہا ہم آپ سے بس بات چیت کرنا چاہتے ہیں ہم آپ سے جو پوچھیں گے بس آپ اس کا جواب دینا اس میں ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے ہم نے محمد اشرف سے پوچھا کہ آپ کس جرم میں یہاں لائے گئے تو انھوں نے بتایا کہ قتل کیس میں۔انھوں نے بتایا کہ جیل میں ان کے تین سال سات ماہ گذر چکے ہیں۔باہر کی زندگی کے بارے میں پوچھے جانے پر کہتے ہیں ،میں باہر زندگی کے بارے میں آج بھی وہی سوچتا ہوں جو کل سوچاکرتا تھا، جیل تو گھٹن کی دنیا ہے باہر جیسی آزادی یہاں نصیب نہیں ہے، جیل ایک ایسی چیز ہے جہاں آتے ہی اچھے سے اچھے آدمی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اگر باہر آپ کو کچھ ہو جاتا ہے تو دکھ سکھ کے ساتھی مل جاتے ہیں، ضرورت ہو تو وقت پر روپے یا مدد بھی مل جاتا ہے لیکن یہاں ویسابالکل بھی نہیں ہے،جیل آنے کے بعد میری ماں کا صحیح علاج صرف اس لیے نہیں ہو پایا کہ پیسے نہیں تھے اور اسی لیے (RIMS) رمس اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔میں باہر ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے روپے کا جگاڑ کر امی کا بہتر علاج کراتا۔کیا آپ نے جیل کے بارے میں یہاں آنے سے قبل کچھ سن رکھا تھا ہم نے جب یہ پوچھا تو محمد اشرف کا جواب تھا ،ہاں جیل کے بارے میں جانتا تھا کیونکہ اس سے پہلے پونا جیل میں بجلی ملازم کے طور پر کام کرتا تھا، اس لئے پتہ تھا کے جیل کیسا ہوتا ہے لیکن یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن ہمیں بھی یہاں آنا پڑے گا۔اخبار وغیرہ میں جیل کی بابت کچھ نہ پڑھ پانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محمد اشرف کہتے ہیں پڑھے تو نہیں ہیں البتہ ہاں،ایک دو فلمیں بہت پہلے دیکھی تھی لیکن اب کچھ بھی یاد نہیں ہے، ایک فلم بہت پہلے دیکھا تھا جس میں قیدیوں سے چکی پسوایا جاتا ہے، نام یاد نہیں ہے اس کا لیکن ہاں اس کا گانا بہت اچھا لگا تھا اور وہیں سے مجھے بھی نغمے کی خواہش پیدا ہوئی۔جیل میں فلموں کی عکاسی کی بابت کہتے ہیں، فلموں میں بہت کم سچ کو دکھایا گیا ہے، یہاں (جیل) میں معاملہ کچھ اور ہی ہے ، جیل میں تو بم پھوڑ نے والے کو مجرم دکھایا جاتا ہے لیکن یہاں بم پھوڑنے کا شک جن کے اوپر ہو گیا چاہے اس نے نہ پھوڑا ہو لیکن وہ بھی بند ہے یہاں ایسی چیزوں کو فلم میں نہیں دکھایا جاتا۔محمد اشرف کہتے ہیں کہ فلمیں جرائم کو بہر حال بڑھا وا دیتی ہیں وہ زور دے کر کہتے ہیں ہاں فلم جرائم کو فروغ دینے والی چیز تو ہے۔اس کا اثر کہیں نہ کہیں پڑتا ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دینا چاہئے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ یہ تومحض کہانی ہے۔جیل میں لڑائی جھگڑا کی بابت محمد اشرف بتاتے ہیںکہ 100میں پانچ فیصد صحیح ہے باقی سب غلط۔گھر میں دو چار لوگ ہیں اس میں لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے اور یہ تو جیل ہے جہاں بہرحال اس بات کے امکانات مزید بڑھ جاتے ،لیکن یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں ہے۔کیا غنڈہ گرد عناصر جیل میں بھی اپنی داداد گیری کامظاہرہ کرتے ہیں؟اس سوال کے جواب میںمحمد اشرف کہتے ہیں ہاں کچھ حد تک یہ صحیح ہے لیکن عام قیدی ایسے افراد سے احتیاط برتتے اور دور ہی رہتے ہیں۔فلموں میں جیل کی کیسی عکاسی ہونی چاہئے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد اشرف کہتے ہیںکہ جیل میں لوگ کیوں سڑ رہے ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس سے انہیں کیا کیا پریشانی ہوتی ہے؟ اس کو دکھایا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں فلموں میں کوئی بھی ایسی چیز دکھانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے جس سے جرائم میں کمی ہو سکے۔میڈیا والوں سے شکایت کناں محمد اشرف کہتے ہیں میڈیا کو اس دنیا پر بھی توجہ دینی چاہئے ، آخر یہاں بھی تو انسان ہی رہتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں جیل میں ابتدائی دنوں میں بڑی تکلیف ہوتی ہے لیکن آہستہ آہستہ دوستی ہو تی جاتی ہے اور سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔وہ اپنے پرانے دنوں کی بابت بتاتے ہوئے کہتے ہیں ہم پہلی بار جب جیل آئے تھے تو اکیلے رکھا گیا تھا، وہ بہت خطرناک جگہ تھی، اس دن ہم نہ تو کچھ کھا سکے تھے اور نہ ہی سو پائے تھے، دوسرے دن بیرک تبدیل کیا گیا اور دوسرے قیدیوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سمجھایا کہ چھوڑو یار اب تو ایسے ہی گزارنا ہے، رونے دھونے اور افسوس کرنے سے تم باہر نہیں نکل جاؤ گے ،لوگوں کا بھی کہنا صحیح تھا واقعی بہت مشکل ہوتا ہے شروع میں لیکن دھیرے دھیرے عادت بن جاتی ہے اور لوگوں سے دوستی ہو جاتی جن کے درمیان اپنا دکھ درد بیان کر اپنی تکلیف کو کم کرتے ہیں۔محمد اشرف اپنے گھر کو بہت یاد کرتے ہیں کہتے ہیں گھر کی بہت یاد آتی ہے میں اپنی بیوی بچوں (دو لڑکے، تین لڑکیاں) کو بہت یاد کرتا ہوں، رات کو تو نیند بھی نہیں آتی یہی سوچتا رہتا ہوں پتہ نہیں گاؤں محلے والے کیا سوچتے ہوں گے، گھر والوں کا کیا ہوتا ہوگا۔ کیا جیل میں لوگ اپنے جرموں سے تائب بھی ہوتے ہیں اس بابت محمد اشرف کہتے ہیں ہاں تبدیلی تو آتی ہے لیکن کچھ لوگ بہت ڈھیٹ ہوتے ہیں ان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن اس طرح کے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان کا لہجہ باہر بڑا نرم اور دھیما ہوتا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد رف ہو گیا آگے وہ کہتے ہیں لیکن ہمیشہ کوشش یہی رہتی ہے کی اچھے سے رہیں،محمد اشرف پر امید ہیں کہ ہاتھ میں فن ہے۔باہر نکل کر کچھ نہ کچھ بہتر کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ سب کا حق ادا کر سکیں۔


۔۔۔مزید

وکیل قیدی کی کہانی


محمد علم اللہ اصلاحی 

    پیشہ سے وکالت کافریضہ انجام دینے والے اروند رانچی کے رہنے والے ہیں۔ انھیں  1992میں دفعہ 302 کے تحت قتل کے مقدمہ میں جیل لایا گیا تھا۔ اروندجیل میں تقریبا دس سال گذار چکے ہیں۔اروندر جیل میں قیدیوں کو موسیقی کی بھی تربیت دیتے ہیں ان کے بقول انھیں نغمہ اور موسیقی سے شروع سے ہی دلچسپی تھی ،جیل انتظامیہ نے ان کے اس ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے جیل کی طرف سے کئی جگہ انھیں نمائندگی کا بھی موقع دیا ہے۔اروند جیل میں محرر کے بھی فرائض نبھاتے ہیں۔چھوٹا ناگپور یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور بی ایس سی کر چکے اروند کو جیل کے قیدی کافی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،یہ جیل میں وارڈن بھی ہیں۔

    جیل کے اندر اور باہر کی زندگی کے فرق کی بابت دریافت کرنے پر ان کا کہنا تھایہ تو زندگی کی ایک ایسی بھیانک جگہ ہے جس کے بارے میں میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتا۔زندہ رہنے کا دل نہیں کرتا، کیا بتائیں آدمی کا جب خواب ٹوٹ جاتا ہے اس کے بعد سوچنا کچھ بھی بے کار ہو جاتا ہے۔ یہاں سے باہر جانے کے بعد آدمی کس طرف جائے گا، وہ تو بعد میں پتا چلے گا۔آگے ان کا کہنا تھاسچی بات تو یہ ہے کہ جیل آنے کے بعد میں کسی کام کا نہیں رہ گیا۔ باہر جو لوگ ہیں، وہ اندر رہنے والے آدمی کو یہی سمجھتے ہیں کہ وہ چور ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے یہی لیکن جیل میں جب وہ آ جاتا ہے، تب اس کو حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ دس فیصد سے بھی کم حقیقی مجرم ہیں۔دراصل یہ باہر اور اندر کی حقیقت ہے، باہر والے اس کو نہیں سمجھ پاتے ہے، یہاں ہم کو یہ لگا کہ آج کی تاریخ میں جیل تیرتھ یاترا سے کم نہیں!۔جیسے گنگا دیوی میں آدمی ایک بار جاتا ہے ،بار بار سوچتا بھی نہیں ہے جانے کیلئے، یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ آج کی تاریخ میں کون اور کب کیسے جھوٹے الزام میں پھنس کر آ جائے گا ؟یہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ آگے کہتے ہیں میں بہت سوچتا ہوں ایک وقت تھا جب میں دیوار کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا اور آج میں اسی دیوار کے اندر ہوں، جو ہمارے احباب یا دوست تھے، آج وہ کس جگہ پر چلے گئے اس بارے میں جب سوچتا ہوں توہمارے اوپر کیا گذرتی ہے ،میں بیان نہیں کر سکتا۔

    کیا فلمیں کرائم کو بڑھاوا دیتی ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا تھا گناہ کبھی بھی کسی سے بھی ہو سکتا ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فلموں سے ہوتے ہیں، وہاں جیسا دکھایا جاتا ہے، وہ ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ فلمیں کرائم کو بڑھاتی ہیں ،کیا آپ نے اس کا اثر قبول کیا؟ اس بارے میں وہ کہتے ہیں یہ چیز تو 100فیصد ہے کہ میں نے کبھی اس کا اثر قبول نہیں کیا۔فلموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے، اس کی حقیقت کے بارے میں ان کا کہنا ہے یہاں اس طرح کاکچھ بھی نہیں ہوتا۔جیل کے بارے میں اگر فلم بنائی جائے تو آپ کی نظر میں کیسی ہونی چاہئے؟ اس سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا’ مان لیجیے آپ اچھی چیز دکھاتے ہیںمگر ایسا تھوڑے ہی ہے کہ جیل میں سب کچھ اچھا ہی ہوتا ہے، لوگ تو وہی کہیں گے جو جانتے ہیں‘۔جیل کی معلومات عموما ًنہیں ملتی، کیا اس کی فلٹرنگ کی جاتی ہے؟ ان کا جواب تھا ’ہاں، ہوتا ہے بہت بار ہوتا ہے لیکن میں تفصیل نہیں بتاؤںگا ‘۔اگر آپ کو موقع مل جائے فلمیں بنانے کا تو اس میں دکھائیں گے؟ اس سوال کے جواب میںان کاکہناتھاکہ جو مرضی میں بات آتی ہے اس کو دکھائیں گے اور باقی جو اور لوگ ہیں یہاں وہ کیا سمجھتے ہیں، اس کوبھی بتائیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ جیل پر فلمیں بننی چاہئیں کہ یہاں پر کیا ہورہاہے اور کیسے لوگ رہتے ہیں؟

    آپ نے جیل کی دنیا میں اپنے آپ کو کیسے فٹ کیا؟ اس بابت وہ کہتے ہیں وقت تو لگتا ہے، یہ تو آدمی کے اوپر منحصر ہے، بہت مشکل تھا میرے لئے میںخود کو بہت مشکل میں پاتا تھا، اتنے دن ہو گئے۔ اب کیا بولیںجیساکہ پہلے بتایاکہ دوستوں کے بارے میں، آج وہ کہاں ہیں، ہم کہاں ہیں، ہم نظر نہیں ملا سکتے تھے، اپنے آپ سے کیونکہ حقیقت کیا ہے ہم جانتے ہیں میرا تو سوچتے سوچتے دن گذر جاتا تھا ،اور آج بھی یہی حال ہے۔کیا جیل کی دنیا میں واقعی لوگ راہ راست پر آ جاتے ہیں؟ اس بابت ان کا جواب ہے جو کریمنل ہے اس کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیل میں مصیبت بھرے ایام کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں دقت ہوتی تھی بہت زیادہ لیکن آدمی کیا کرے۔سوچتے تھے کہ کوئی ملے جس سے ہم بات کریں لیکن ویسا بھی نہیں ہوتا تھا، اکیلے ہی رہنا پڑتا تھا۔وہ کہتے ہیں’ ہمیشہ سوچتے ہیںکہ ایک بار دوبارہ سب درست ہو جائے اور پھر گناہ بھی نہیں کئے ہیں تو مانتے تو رہتے ہیں کہ ایک اوسربھگوان ضرور دے گا۔


۔۔۔مزید

زیر سماعت قیدی صوفیہ کی کہانی


محمد علم اللہ اصلاحی 

آئیے ملتے ہیں زیر سماعت قیدی صوفیہ سے،ان کا آبائی وطن شہر رانچی ہے جبکہ سسرال میرا بورنگ روڈ پٹنہ۔عمر تقریباً 26 سال ، ان کوناجائز طریقہ سے اسلحہ رکھنے کے الزام میں 7اکتوبر 2009کوبرسا منڈا جیل لایا گیا تھا،جب سے اب تک وہ یہیں انصاف کے انتظار میں اسیری کے ایام گذار رہی ہیں۔ کم عمری میں شادی ہو جانے کے سبب شوق کے باوجود اعلی تعلیم حاصل نہ کر سکیں جب ہم نے ان سے ان کی تعلیم کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’’میری شادی بہت پہلے ہو گئی تھی اور چونکہ اس وقت میں بہت چھوٹ تھی تقریبا 17 سال کی تو زیادہ پڑھ نئی پائی۔ بی اے پارٹ 2کی ہے آرٹ سے۔جب ہم نے ان سے ان کے جرم کی بابت پوچھا تو ان کا جواب تھاہم کو ابھی تک مجرم نہیںگردانا گیا ہے۔کچھ سوچ کر اور ادھر ادھر دیکھ کر’ہم کو آرمس ایکٹ میں یہاں لایا گیا‘جبکہ میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں انجانے میں ایک لڑکے سے پیار کر بیٹھی تھی۔ سر نیچا کرکے،مجھ کو اس سے پیار نہیں کرنا چاہئے تھا، آج اسی کی وجہ سے میں یہاں پر ہوں۔ بولتے ہیں نہ پیار اندھا ہوتا ہے تو بس مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ناجائز طریقہ سے کسی قسم کا اسلحہ رکھے ہوئے ہے اور اپنی کارستانی میرے سر تھوپ دے گا۔جب میں جیل آئی تو سب ہی کہتے تھے کہ دور ہو اس سے، میرے بارے میں جھوٹ کہا گیاکہ میں ما نواز باغیوں کی گینگ چلاتی ہوںبہر حال یہاں آنے کے پہلے میں سمجھ گئی تھی کہ ایک دن ایسا ہونے والا ہے ہمارے ساتھ، اب جب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ نہیں پڑنا چاہیے تھا اس کے چکر میں لیکن اب کیا کریں اب تو انصاف کا انتظار ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہونگے۔ہم نے ان سے باہر کی زندگی کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ،بس اپنے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوںکہ کیا ہوگا ان کا، میرے جو شوہر تھے، مطلب پہلے والے ان کاانتقال ہو چکاہے، ان سے میرے دو بچے ہیں، ادتیہ بیٹا اور سرد بیٹی ہے، گھر میںکوئی نہیں ہے اب بس ممی ہی ایک واحدسہارا ہیں،یہ بتاتے ہوئے صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو چھلک آتے ہیں اور گویا ہوتی ہے۔ بہت غصہ آتا ہے مجھ کو کو بہت کچھ یاد کر کے تھوڑی دیر کیلئے کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر صوفیہ بولنا شروع کرتی ہے’ بس صبح شام منت کرتی ہوں کہ یہاں سے نکل سکوں اپنے بچوں کیلئے، میرے بچوں کے سامنے مجھے پولیس نے ذلیل کیا کیا بتاؤں۔‘ تھرڈ ڈگری تو نہیں لیکن ایسی حرکت کا کیااثر ہوا ہوگا ان پر، غصہ آتا ہے جب وہ سب یاد آتا ہے تو بہت زیادہ۔جب ہم نے صوفیہ سے پوچھا یہاں آنے سے پہلے جیل کے بارے میں کیا جانتے تھے اور یہاں اس حقیقی دنیا کو دیکھ کر کیسا لگا تو کہنا تھا۔ بس کچھ کچھ پتہ تھا، نانا جی جج تھے میرے، تو وہی گھر میں آکر تھوڑا بہت بتاتے تھے وہی معلوم تھابس لیکن اندر کیا ہوتا ہے، کیا نہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔مطلب زیادہ کچھ تو نہیںمعلوم تھا، تو اتنا فرق نہیں سمجھے،منتظمین ٹھیک ہی ہیں ،جب پہلی بار ممی آئی تھیں ملنے تو پوچھ رہی تھیں کہ کیسے رہتی ہو یہاں پر؟ بہت دقت ہوتی ہے کیا؟جیل کی پریشانیوں کے بارے میں تو سب کو پتہ ہوتا ہے، اسی حساب سے وہ پوچھ رہی تھیں لیکن میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے، ٹھیک سے رہتے ہیں یہاں مسکراتے ہوئے۔ سنیچر کو کھچڑی بنا کر کھاتے ہیں یہاںسہی معنوں میں جیل ایسا نہیں ہے جیسا لوگ سمجھتے ہیں، ممی کو بھی جو پتہ تھا اسی حساب سے پوچھی تھیں۔اگر دیکھا جائے تو عورتیں یہاں زیادہ محفوظ ہیں! باہر تو جیسے بازار میں یا کہیں بھی لوگ ہم لوگوں کو پریشان کر سکتے ہیں یہاں اتنا نہیں ہے! کبھی کبھی ہو جاتا ہے! پھر بھی ہم لوگ یہاں محفوظ ہیں!ہم نے ان سے پوچھا اچھا فلموں میں جو جیل کے بارے میں دکھا یاجاتا ہے ،اس میں آپ کے خیال میں جیل کی حقیقی دنیا سے کتنی مطابقت ہے تومسکراتے ہوئے ان کا کہنا تھا،گھر میںفلم اتنا کوئی دیکھتا نہیں تھا،ہم بھی بہت کم دیکھے ہیں۔ اب کیسے بتائیںمطلب فلموں میں جودکھایا جاتا ہے کہ چکی پیسنا ہوتا ہے،پتھر توڑنا ہوتا ہے وہ سب یہاں نہیں ہوتا ہے، کھانا دے دیا گیا تو یہ نہیں ہے کہ اسی وقت کھانا ہے،بعد میں بھی کھا سکتے ہیں۔کیا فلمیں کرائم کو بڑھا دیتی ہیں اس کے جواب میں صوفیہ کا کہنا تھا ہاں بالکل ،جرائم کی دنیا یا اس سے متعلقہ چیزوں کو فلموں میں نہیں دکھانا چاہئے۔جیل میں قیدیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی بابت صوفیہ کا کہنا تھا ہاں کسی حد تک درست ہے یہاں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں جھگڑے یہاں،ہم لوگوں پر فقرے بازیاں بھی کی جاتی ہیں۔جیل میں غنڈہ گرد عناصر کی سرگرمیوں کے بارے میں صوفیہ کہتی۔ہاں صد فی صد سچ ہے مسکراتے ہوئے جیسے میں یہاں تھوڑا دبنگ قسم کی ہوں،کیونکہ میرے بارے میں مشہور ہے کہ میں گینگ چلاتی تھی اس وجہ سے لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تھوڑا۔فلموں میں جیل کی کیا تصویر پیش کی جانی چاہئے ہم نے جب یہ پوچھا تو صوفیہ کچھ سوچ کہتی ہیں ہمیں یہاں پر قیدیوں کو کوئی کپڑا نہیں ملتا ہے، باہر سب کو لگتا ہے کہ وہی سفید اور کالی دھاری والا کپڑا پہنتے ہیں تو ویسا نہیں ہوتا ہے نہ مطلب مثبت طرز عمل کو دکھانا چاہئے۔ اس خیال کو توڑنے کیلئے کی ہم لوگ ہمیشہ سے ایسے تھے یا ہمیشہ ایسے رہیں گے، لوگوں کو بتانا چاہئے کی ایسا نہیں ہے، بہت سارے لوگ تو بغیر کچھ کئے ہی پھنس جاتے ہیں،سماج کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے!


۔۔۔مزید

سزایافتہ قیدی چیتالی فاطمہ کاقصہ ٔ درد


محمد علم اللہ اصلاحی 

 آئیے آپ کی ملاقات کرائیںبرسا منڈا جیل میں قیدایک انتہائی قابل ،با صلاحیت اور اعلی تعلیم یافتہ خاتون قیدی چیتالی فاطمہ سے ،ان کی عمر تقریبا 33سال ہے۔ پہلے یہ ہندو تھیں بعد میںانہوں نے اسلام قبول کیا۔انھیں ہندی ،انگریزی ،فرنچ اور کئی دیگرزبانیں خوب آتی ہیں۔ کلاسیکل موسیقی میں بھی انہوںنے تربیت لی ہوئی ہے۔تعلیم کیلئے انھوں نے اپنے آبائی وطن جمشید پور کے علاوہ رانچی، حیدر آباد اور دہلی کا سفر کیا۔ فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلومہ کرنے والی یہ خاتون اس وقت عمر قید کی سزا جھیل رہی ہے۔ آپ کو اس جیل میں آئے ہوئے کتنے دن ہو گئے؟یہ سوال سن کروہ تھوڑی دیر کیلئے سوچوں میں غرق ہو گئیں۔ انگلیوں پرشمار کے بعد بتایا مجھے تقریبا ساڑھے 13 سال ہو چکے ہیں۔یہاں سے پہلے میں کچھ وقت شاید دو سال ساکچی جیل میں رہی۔ مجھے پھانسی کی سزا ہوئی تھی، لیکن بعد میںیہ سزا عمر قید میں بدل گئی۔ معافی یا بخشش کے بعدیہ رواج ہے کہ جس کو سزائے عمرقید دی جاتی ہے، اسے سینٹرل جیل میں ہی رکھا جاتا ہے، (ہونٹوں میں ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے) اور تب سے ابھی تک میں یہیں ہوں۔ مجھے نہیں معلوم آگے کیا ہوگا۔ آپ کس جرم میں یہاں لائی گئیں ؟یہ سوال سنتے ہی انہوںنے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور کہنا شروع کیا ’ مجھ پر دفعہ 302 کا چارج لگا تھا۔میرے اوپر یہ الزام تھا کہ میں نے اپنے ماں، باپ، دادا اور بھائی کو مار کر ان کی باڈی کوٹکڑے ٹکڑے کرٹنکی میں ڈال دیا تھا، لیکن سہی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا! اگر میرے شوہر نے کیا تھا تو اس نے مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا،وہ لمحہ سوچ کر میں اب بھی ہل جاتی ہوں۔ آپ خود بتا? حادثہ کے چار ماہ بعد جب باڈی ملی وہ بالکل تازہ تھی پھر بھی پولیس نے مجھ پر یہ چارج لگایا کہ یہ کارنامہ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کرانجام دیا تاکہ ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکیں۔ پولیس اوراستغاثہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکے۔ لیکن پھر بھی شاید کرائم کینیچر کی وجہ سے مجھے اور میرے شوہر کو پھنسی کی سزا دی گئی تھی۔ افرسٹ کم ٹو لاسٹ کم لیکن ہمارے ساتھ تو الٹا ہوا نا کسی بھی وٹنیس نے یہ نہیں کہا میں نے دیکھا ہے چیتالی کو اور اس کے شوہر کو اپنے گھر والوں کو زہر دیتے ہوئے اور پھر باڈی کومثلہ کرتے ہوئے، جس وقت مجھے سزا دی گئی میں حاملہ تھی، لیکن پھر بھی رحم نہیں دکھایاگیا۔ جج نے اسے rarest of the rare case (شاذ و نادر پیش آنے والا واقعہ) کہا تھا (آنسو?ں کو چھپانے کی ناکام کوشش کے ساتھ ) اس نے کہا’اس دن قانون پر سے میرا بھروسہ اٹھ گیا تھا‘۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد چیتالی کہتی ہیں ’جب جب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ میں نے ان کے خواب توڑے،میرا بھی ایک بیٹا ہے۔ ایک سال میں ایک بار ہی ملنے دیا جاتا ہے اس سے۔یہاں ہونے کی وجہ سے میں ایک ماں کی ممتا اور پیار بھی نہ دے سکی ، اچھی تعلیم بھی نہیں اس کی اچھی پرورش بھی نہیں کر سکی‘۔
اپنے پرانے دنوں کے بارے میں چیتالی کہتی ہیں من ہی نہیں لگتا تھا، بھوک ختم، نیند ختم، ایک ڈر رہتا تھازندگی کے بارے میں سوچ کرجب بھی یہ سوچتی تھی کہ جب تک وقت ختم نہ ہو جائے اس وقت تک یہیں رہنا ہے، تو بہت پست ہمت ہو جاتی تھی، بالکل پاگل ہو جاتی تھی ،ہمیشہ بس رونے کا ہی من ہوتا تھا۔(آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں)سننا بہت آسان ہوتا ہے پر جب گزرتی ہے اپنے پر تب لگتا ہے، شام کو جب 6 بجے سیل کا دروازہ بند ہوتا تھا تب لگتا تھا کہ جیل کیا ہوتی ہے، اوپر سے ایسی جگہ پرایک انجان لوگوں کے درمیان جنہیں آپ جانتے بھی نہیں عجیب سا محسوس ہوتا تھا۔جتنا روتی تھی اتنا ہی اس کی شدت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ صحیح معنوں میں یہ جگہ(جیل) آپ کو توڑدیتی ہے (روتے ہوئے کہتی ہیںمیں اس لمحہ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی )میری وجہ سے میرے بیٹے کو بہت پربلم ہوئی ایڈجیسٹ کرنے میں۔حکومت کاقانون ہے کہ بچے کی عمر 6 سال ہو جائے تو اسے جیل میں نہیں رکھ سکتے لیکن 6 سال تک تو وہ یہیں رہا تھا۔ پھر جب وہ گھر گیا دادی کے ساتھ تو اندھیرا ہونے کے ساتھ یہ بولنے لگا کی دروازہ بند کرو اب،ممی جہاں رہتی ہے وہاں ایساہی ہو جاتا ہے! تب دادی اسے سمجھاتی کہ نہیں بیٹے کچھ نہیں ہوگا، ممی دوسری جگہ رہتی ہے لیکن چھوٹا سا ہے وہ، خود اٹھ کر دروازہ بند کر دیتا تھا اور زمین پر سو جاتا تھا، بیڈ پر اسے نیند نہیں آتی تھی۔پھر ایڈجسٹ ہونا پڑا دھیرے دھیرے،میرے ساتھ جو ہوا اس کی بنیاد پر میں یہاں کہہ سکتی ہوں کہ اگر یہاں زندہ رہنا ہے تو آپ کو دیواروں سے دوستی کرنی پڑے گی ،دشمنوں سے بھی آپ کو دستوں کی طرح پیش آنا ہوگا۔بھولنا ہوگا کے آپ کبھی یہاں سے جائیں،آپ کو یہاں ایڈجسٹ کرنا ہی پڑتا ہے ورنہ جینا بہت مشکل ہے۔یہاں تو بس آپ ہمیشہ سیل کے دیوار کو ہی دیکھتے رہتے ہیں، ایسے ہی، چپ چاپ، بغیر کچھ بولے، بس گھنٹوں دیوار کو ہی دیکھتے رہتے ہیں، دل میں بس یہی بات آتی ہے کہ پتہ نہیں میرے بارے میں لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے، میرے دوست کیا سوچ رہے ہوں گے یہاں تک کہ آپ اس سوچ کی تہ کے نیچے دب گئے ہیں ،نئی جگہ ہے، کوئی جان پہچان نہیں ہوتی اور ڈر بھی لگتا ہے بہت، اور کسی سے کوئی بات بھی نہیں کر سکتے، بھوک تو لگتی ہی نہیںہے، پیاس لگتی بھی ہے تو آپ میں اٹھ کر پانی پینے کی ہمت نہیں ہوتی، رات بھر جاگ کر صرف رونا، صرف رونا، یہی ہوتا ہے بس اور سب کے ساتھ ہوتا ہے جو پہلی بار آتا ہے۔ یہاںسیل کے بند ہونے کے بعد وہی ایک عجیب احساس۔ یہ کہتے ہوئے چیتالی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

اپنے ہاتھوں کے نشانات دکھاتے ہوئے جس میں چوڑیوں اور دانتوں کے نشان صاف نظر آ تے ہیں چیتالی کہتی ہیں۔دیکھو کتنا نشان ہے،جب میں یہاں آئی تھی تو کوشش کرتی تھی کہ اپنے آپ کو مار لوں، بہت بار کوشش کیا لیکن…( پھر کچھ سوچ کر) اگر بیٹا نہیں ہوتا تو کچھ بھی کرجاتی، مر جاتی، لیکن اس کیلئے تو زندہ رہنا پڑے گا۔جذباتی انداز میں چیتالی بتاتی ہیں ’شروع میں بھاگنے کی بات آتی ہے دل میں لیکن جب آپ کوچالیس چالیس فٹ کی دیواریں اور چوکسی یاد آتی ہے تو آپ جان جاتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں،پھر آپ خود کو وہاں کے حساب سے ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں تب آپ میںتبدیلی شروع ہوتی ہے، مجھ سے لوگ پوچھتے تھے چیتالی تم نے ایسا کیوں کیا، میں کوئی جواب نہیں دیتی تھی لیکن پھر بھی ہر کوئی یہی پوچھتا رہتا تھا، بڑا غصہ آتا تھا مجھے اور مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ غصہ بہت جلدآجاتاتھا۔ اندر سیمتشددہوجاتی تھی، بلکہ آپے سے باہر، لیکن وہ غصہ کسی پر اتارتی نہیں تھی،ہمیشہ خود پر ہی اتارتی تھی (پھر آنکھوں سے آنسو …) خود کوشش کرتی تھی کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھوں کئی لوگ اس کو محسوس بھی کرتے تھے ،جی میں آتا تھا کہ کہیں جا کرگلے میں آواز رندھ جاتی ہے۔
 اس کے بعد جب ہم نے چیتالی سے پوچھا کافی لمبے عرصہ سے آپ جیل میںہیں تو باہر کی زندگی کے بارے میں کیا سوچتی ہیں ؟ مسکراتے ہوئے ’کیا سوچوںگی؟جو ہونا تھا، جس کی وجہ سے میں یہاں پر ہوں اس کے بارے میں سوچ کر کیا ہو گا،وہ بھی یہاں ہے۔ اسی جیل میں،باہر بیٹا ہے اپنے دادی کے ساتھ،بس اسی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ کیا ہوگا کیسے ہوگا، اس کی دادی بھی تو بوڑھی ہے اور وہ بھی چھوٹا ہے،بس یہی سب سوچتی رہتی ہوں اور کیا۔فیملی اور خاندان کی یاد کی بابت کہتی ہیں فیملی کے نام پر صرف بیٹا ہی تو بچا ہے، اسے بھی سال میں صرف ایک بار ملنے دیا جاتا ہے، یہاں سے جانے کے بعد وہ بہت اداس ہو گیا تھا، ایک ایک سال تک انتظار کرتا تھا کہ جب جاؤںگا ممی کے پاس تو یہ سب بتاؤںگا، آنے کے بعد کہتا بھی تھا کہ میں نے آپ کو بولا ہے، آپ پلیزاسے پاپا کو مت بتانا۔اب جب بھی سوچتی ہوں تو بس اسی کے بارے میں۔
میڈیا والوں سے دلبرداشتہ چیتالی کہتی ہیں ’جس طرح سے میرے کیس کو میڈیا نے سب سے زیادہ بدنام کیسوں میں سے ایک کا درجہ دیا، بغیر کچھ سوچے سمجھے مرچ مسالہ لگا کر کام لیا سچ کہتی ہوں تب تو برقی میڈیا اتنی تھی بھی نہیںاس کے باوجود میرے کیس کوایک طرفہ طریقے سے ظاہر کیا گیا تھااور اس میں میڈیا نے پورا پورا کردار نبھایا۔ اس کی وجہ سے تو لوگوں نے مجھے پہلے ہی مجرم سمجھ لیا تھا۔ میں آپ کو ایک واقعہ بتاتی ہوں(ذرا مسکراتے ہوئے)مجھے ایک بار جب کورٹ میں لے جایاگیا تھا(کچھ سوچ کر) یہ بالکل شروع کی بات ہے ،وہاں میڈیا کے ساتھ ساتھ اور بھی کافی تعداد میں لوگ جمع تھے،تو میں وہاں ایک کونے میں کھڑی تھی اور تھوڑی دور پر ایک لڑکی کھڑی تھی تو میں نے اس سے پوچھا کی اتنی بھیڑ کیوں ہے یہاں؟ اس نے کہا کہ ارے آپ کو پتہ نہیں آج چیتالی آنے والی ہے یہاں۔ وہی جس نے اپنے گھر والوں کو مارا ہے۔تو میں نے اس سے پوچھا آپ کو کیوں لگتا ہے کہ چیتالی نے انہیں مارا ہے؟ اس نے کہا ارے پوری میڈیا کہہ رہی ہے کہ اس نے ہی مارا ہے، وہ جھوٹ کیوں بولیں گے؟ تو میں نے اس کو سمجھایا کہ جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا تب تک تو وہ معصوم ہے، قریب دس منٹ اسے سمجھاتی رہی میں۔ اتنے میں ایک حولدار آیا میرے پاس اور بولاچیتالی! چلو اب اندر۔ اس کے بعد میں اس لڑکی کومیں اور وہ مجھے تھوڑی دیر تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر وہ اچانک سے رونے لگی اور بولی نہیں نہیں! آپ چیتالی نہیں ہو سکتیں! آپ تو اتنے اچھے سے بات کر رہی ہیں، آپ کسی کا قتل نہیں کر سکتی ہو۔
یہ پوچھے جانے پر کہ جیل آنے سے قبل آپ جیل کے بارے میں کچھ جانتی تھیں ؟کہا ’بس اتنا پتہ تھا کی جیل ایک جگہ ہے جہاں کریمنل کو رکھا جاتا ہے! اور ویسے کچھ نہیں پتہ تھا۔جیل میں گزارے ہوئے ایام کی بابت پوچھے جانے پر’ اتنا یاد نہیں۔کیوں کہ یہاں کے پہلے ساکچی جیل میں تھی! اس کے بارے میںتو یاد ہے کچھ کچھ اس رات میں سو نہیں سکی تھی بالکل بھی ،ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں ،بہت روئی تھی اس وقت۔ بہت ہی مایوس ہو گئی تھی۔کسی کرمنل کیلئے یہ نیا نہیں ہوتا ہوگا لیکن ایک بے گناہ کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔! ہمیشہ بس یہی سوچتی تھی کہ اب ہمیشہ یہیں رہنا ہوگا۔ تھوڑی بھی نیند نہیں آتی تھی۔ آتی بھی تھی تو تھوڑی دیر بعد ٹوٹ جاتی تھی۔ایک ڈر لگا رہتا تھا کہ اب کیا ہوگا! میرے بیٹے کا کیا ہوگا اور لوگ کیا سوچتے ہوں گے۔ ہمارے بارے میں آپ مانوگے نہیں جو سب کہتے ہیں نہ کبھی کبھی اندھیرا بہت ڈراونا ہوتا ہے۔ یہ اس وقت محسوس ہوتا تھامجھے یہاں۔ پوری پوری رات بغیر سوئے ایسے ہی گزر جاتی تھی (چشمہ اتار کر) جب سر پر کلنک لگا ہو تو نیند نہیں آتی ہے۔
باہر کی دنیا کے بارے میں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کیا کچھ ہو رہا ہے (مسکراتے ہوئے )چیتالی نے ہمیں بتایااخبار آتے ہیں ہندی اور انگلش دونوں آتے ہیں۔ انگلش آج کل بند ہے، ٹی وی ہے پر صرف دوردرشن آتا ہے(ہنس کر) سرکاری جگہ ہے تو چینل بھی سرکاری آتا ہے،کوئی میگزین اگر چاہیے تو لکھوا کر جیلرکو دینا پڑتاہے پھر اجازت ملنے کے بعد وہ آ جاتی ہے تھوڑے دن بعد۔چیتالی سے جب یہ پوچھا کہ فلموں میں جیل کی بابت جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس میں کتنی سچائی ہے تو ان کا کہنا تھا فلموں میں جو دکھایا جاتا ہے کہ چکی وغیرہ پیسنا ہوتا ہے وہ سب بالکل غلط ہے، ویسا کچھ بھی نہیں ہوتا،میں جو تمہارے پاس آئی ہوں توتین گیٹ پار کر کے آئی ہوں، وہ بھی ہماری جو گارڈ ہوتی ہے خاتون گارڈ ان کے علاوہ دو میل گارڈ بھی رہتے ہے جب ہمیں آنا ہوتا ہے، آنے کے وقت مکمل راستہ خالی کرا دیتے ہیں وہ لوگ… کسی کو ڈراتے، ما رتے بھی نہیںہیں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کھانا ملتا ہے تو اسی وقت کھانا ہوتا ہے پر ایسا نہیں ہے، کھانا لے کر جس کو جب دل ہو تب کھا سکتا ہے۔
 فلمیں کرائم کو بڑھا وا دیتی ہیں،اس سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟اس سوال پرچیتالی کہتی ہیں بالکل ہمارے وقت میں تو ہمیں پتہ نہیں ہوتا تھا کہ بندوق کیا ہوتی ہے لیکن اب کے بچے صرف جانتے ہی نہیں، چلاتے بھی ہیں۔جیلوں میں لڑائی جھگڑے کی بابت چیتالی بتاتی ہیں خاتون وارڈ میں تو نہیں ہوتا ہے میل وارڈ میں بھی اتنا نہیں ہوتا ہے ہاں کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پربحث و تکرار تو ہو ہی جاتی ہے ، یہاں کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا ہے۔
 اگلا سوال تھا کہ جیلوں میں عموما کرمنل اور ایسے اعلیٰ ریکارڈ رکھنے والوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ایسی باتیں کئی مرتبہ اخباروں کے ذریعہ سننے کو ملتی ہیں ،اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی تو چیتالی کا کہنا تھا ہاں یہ سچ ہے ، جب میں یہاں آئی تھی تو سب کو پتہ تھا میرے بارے میں، کوئی مجھ سے بات بھی نہیں کرتا تھا، سب ڈرتے تھے کہ ارے یہ تو اپنے ماں باپ کاقتل کرکے آئی ہے، اس سے کون الجھے گا، تو سب مجھ سے ڈرتے تھے۔ ان کیلئے جو پہلے سے کرمنل ہیں لیکن جیل کے لوگوں کو ان کے بارے میں معلوم نہیں ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے، لیکن میرے بارے میں تو سب نے سنا تھااسی لئے اسی طرح سے بر تا? بھی کیا۔میڈیا میں کس طرح کی چیزوں کو اولیت دی جانی چاہئے اس بابت چیتالی کہتی ہیں یہاں یا کہیں بھی جو معصوم ہیں، ان کے بارے میں اور بتانا چاہئے۔بہت سے ایسے لوگ بھی یہاں ہے جو کچھ بھی نہیں کیا لیکن پولس نے طاقت کے زور پرانہیں مجرم بنا دیا کوئی مجوزہ کرائم کروا دیا، ان کے بارے میں اور بتانا چاہئے۔
باتوں باتوں میں ہم نے پوچھا کہ اگر آپ کو فلم بنانے کا کبھی موقع ملا تو کن چیزوں کو دکھانا پسند کریں گی چیتالی نے ہنس کرجواب دیا مطلب! اگر مجھے فلم بنانی ہو تو! میںیہ خیالی یا اس بھرم کو توڑنا چاہوں گی کہ جو ایک بار یہاں آ گیا وہ کرمنل ہی ہے یا یہاں ہمیں ٹارچر کیا جاتا ہے ،ہم بھی یہاں باہرکے لوگوں کی طرح نارمل زندگی جیتے ہیںسب سے بڑی سزا تو یہی ہوتی ہے کہ ہمیں فیملی سے، معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے لیکن تمام تو یہاں کرمنل نہیں ہوتے۔حقیقت کیا ہے؟ سوچ و فکر توتبدیل ہو سوسائٹی کا کچھ۔
جیل کے بارے میں باہر کے لوگوں کو کیوں لاعلم رکھا جاتا ہے اس بارے میں چیتالی کہتی ہیں ’پانی میں رہ کر ہم مگر سے تو جھگڑا نہیں کر سکتے نادیکھو(تھوڑی دیر توقف کے بعد)، کچھ تو سیکوریٹی کامسئلہ ہو سکتا ہے اور کچھ یہ کہ نہ حکومت سچ بتانا چاہتی ہے اور نہ ہی لوگ سچ سننا چاہتے ہیں (مسکراتے ہوئے) سوچتے ہوں گے کہ یہ سب توسرد خون کے قاتل ہیں ، ان کے بارے میں کیا کریں گے جان کر۔میرے خیال میں سیکورٹی کی وجہ سے پچاس فیصداور دوسری وجوہات سے پچاس فیصد مگر آپ اس کو 75 اور 25 فرض کر لو۔ جیل میں آنے کے بعد اصلاح کے کتنے امکانات باقی رہ جاتے ہیں،اس سوال کے جواب میں چیتالی کہتی ہیں ڈاکٹر کلام نے کہا ہے اپنے حق کے لئے لڑو لیکن جب آپ انہی لوگوں کوسزاکرتے ہو تو کوئی مطلب نہیں بنتا، مگر بہت کچھ سکھا دیتاہے! یہاں سب کوموقع ملتا ہے ، اب یہ اس پرمنحصر کرتا ہے کہ وہ بہتر بننا چاہتا ہے یا نہیں۔

۔۔۔مزید

بس اسٹاپ پر (کہانی)

محمدعلم اللہ اصلاحی
دھوپ شدت کی تھی، اتنی زیادہ کہ ایک قدم بھی چلنے کی ہمت نہ تھی۔ شاید اسی وجہ سے جو سڑک کل تک اژدحام کا منظر ہوا کرتی تھی آج بالکل خالی خالی تھی، اکا دکا آدمی ہی نظر آ رہے تھے۔ انھیں بھی میری ہی طرح ہی کہیں اہم کام کے لئے جانا ہوگا۔ ورنہ اتنی گرمی میں گھروں سے لوگ باہر عموماً نہیں نکلتے بلکہ اپنے اپنے مکانوں میں دبکے پڑے اے۔سی اور کولر کے کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ آج رکشے والے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ پسینے سے شرابور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جب ضرورت نہ ہو تو کم بخت رکشے والے ہر جگہ چیختے نظر آئیں گے: ”بٹلہ ہاوس“ ، ”اوکھلا ہیڈ“ ، ”غفار منزل“ ، لیکن پتا نہیں آج انھیں کیا ہو گیا ہے؟ اگر ضروری کام نہ ہو تا تو اتنی چلچلاتی دھوپ اور چہروں کو جھلسا دینے والی گرمی میں میں کبھی باہر نہ نکلتا، لیکن کبھی کبھی بہت ساری چیزوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میں بھی یہی سوچ کر نہ چاہتے ہوئے بھی بدقت تمام پیدل چل کر ”لاجپت نگر“ کے لئے جامعہ کے بس اسٹاپ پر پہنچا تھا۔ دھوپ سے بچنے کے لئے میں اسٹاپ پر بنی کرسی نما سیٹ پر بیٹھ گیا۔
کچھ اور لوگ بھی بس کے انتظار میں تھے، کچھ مختلف موضوعات پر اپنے احباب سے گفتگو میں محو تھے تو کچھ گرمی کی شدت سے موسم کو کوس رہے تھے۔ ایک دو نوجوان جو چہرے بشرے سے طالب علم معلوم ہوتے تھے ہنسی مذاق اور ایک دوسرے سے ”تفریح لینے“ میں مصروف تھے۔ بغل ہی میں ایک نوجوان اخبار بینی میں منہمک تھا۔ اخبار بینی کا شوق تو مجھے بھی ہے، لیکن میرا ذہن خدا جانے کیوں آج اس جانب نہیں جا رہا تھا۔ میں تو ایک اور ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔
میں دراصل اس بوڑھے کو دیکھ رہا تھا جو مجھ سے چند قدم آگے ہی اپنا رکشا لئے کھڑا تھا۔انتہائی لاغر اور کمزور ، رکشے کے کیریر پر اک گندی سی پانی کی بوتل لٹک رہی تھی۔ بوڑھے نے اس میں سے پانی کے چند گھونٹ اپنے حلق میں ڈالے، شاید وہ گرمی سے بہت پریشان تھا، ا س کے کرتے پر نمکین پسینا جذب ہونے سے سفید سفید دھاریاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ بار بار اپنے کندھے پر پڑے ایک گمچھے سے پسینا پونچھتا اور بڑی پر امید نگاہوں سے کبھی دائیں ،کبھی بائیں تو کبھی بس اسٹاپ کی طرف نظر دوڑاتا۔ شاید وہ سواری کی تلاش میں تھا، لیکن کوئی سواری تھی ہی نہیں، بجلی کے بنے رکشے اس کے سامنے سے ہارن بجاتے ہوئے گزر جاتے اور وہ دیکھتا رہ جاتا۔ میں اسے دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا کہ اس ضعیفی میں وہ کیوں کر گرمی میں رکشا چلانے پر مجبور ہے؟ کیا اس کا کوئی نہیں دنیا میں؟ اس نے اور بہت سارے پیشے چھوڑ کر یہی پیشہ کیوں اختیار کیا؟ پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے بیٹے اور باپ میں نہ بنتی ہو اور بیٹوں نے بوڑھے کو فالتو چیز سمجھ کر گھر سے ہی نکال دیا ہو۔ آخر وہ کس کے لئے اتنی محنت کر رہا ہے؟ کیا محض اپنے لئے یا پھر اپنے گھر والوں کے لئے؟ اس بڑھاپے میں تو اسے آرام کرنا چاہیے تھا۔
میں نہ جانے کیا کیا سوچنے لگ گیا، میرے خیالات کا تسلسل تو تب ٹوٹا جب دو لڑکوں نے رکشے والے سے کہیں جانے کے لئے کہا۔ بوڑھا ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ ان میں سے ایک لڑکا بول پڑا:
”ابے اس گرمی میں کہاں جائے گا یہ بڈھا؟ کہیں راستے میں مر مرا گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔“
دوسرے نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کی اور لڑکے آپس میں گپیں لگاتے ہوئے آ گے بڑھ گئے۔
ابھی ان لڑکوں نے کچھ ہی قدم آگے بڑھائے ہونگے کہ دو لڑکیاں سامنے والی سڑک کو عبور کرتے ہوئے رکشے والے تک آئیں اور اس سے کہیں جانے کے لئے کہا۔ دونوں میں سے ایک لڑکی کسی اونچے گھرانے کی دکھائی دے رہی تھی۔ بوڑھے نے بڑی آس سے ”ہاں“ کہا! ایک لڑکی رکشے میں بیٹھ گئی۔ دوسری لڑکی بیٹھنے ہی والی تھی، بوڑھے نے رکشے کے پیڈل پر پاوں رکھ کر ابھی دبایا ہی تھا کہ لال رنگ کی اے سی والی بس آتی دکھائی دی۔ ان دونوں میں سے ایک لڑکی رکشے سے نیچے اتر گئی اور سامنے والی لڑکی سے کہنے لگی:
”چھوڑ، دیکھ بس آ گئی ہے، چل آجا بس میں ٹھیک رہے گا۔“
یہ کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی بس کی جانب چل پڑی۔ دوسری لڑکی بھی رکشے سے اترکر جانے لگی، بوڑھے کی امید ٹوٹ گئی۔ مگر پھر وہ دوسری لڑکی رک کر بوڑھے کی طرف دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر کے لئے اس نے کچھ سوچا اور جلدی سے اپنے پرس میں سے ایک دس کا نوٹ نکال کر رکشے والے کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ رکشے والے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
”اوہ بٹیا! جب کام ہی نہیں لیا تو پیسے کس بات کے دے رہی ہو؟ مجھے نہیں چاہیے، یہ پیسے تم اپنے پاس ہی رکھو۔“
لڑکی کے پاس جواب دینے کے لئے وقت نہیں تھا، وہ جلدی سے بس میں سوار ہو گئی اور بس ہارن بجاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
میں نے دیکھا بوڑھے کا چہرہ کچھ عجیب سا ہو گیا تھا، لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اورفخرکا احساس بھی، وہ کچھ سوچ بھی رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ وہ خوددار بھی ہے۔ بوڑھا کسی سوچ میں ڈوب گیا، شاید اسے اپنی ناتی یا پوتی یاد آ گئی ہو وہ ایک ہاتھ ہینڈل اور ایک ہاتھ اپنے سر پر رکھے کھڑا تھا۔
کہ اچانک کسی کے چلانے کی آواز آئی:
” ابے تیری تو....!“
یہ ایک پولیس والا تھا جو رکشے والے کو غلیظ قسم کی گالیوں سے نوازتے ہوئے ڈنڈا پٹخ رہا تھا:
”ابھی ہوا کھول دوں گا رکشے کی۔“
پولس والے نے دھمکی دی۔ بے چارے بوڑھے نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔ اس کا رکشا ایک شان دار گاڑی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ غضب یہ تھا کہ گاڑی پر ایک علاقائی پارٹی کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ رکشا کنارے ہوا اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ میں نے دھیان دینے کی کوشش کی ، کالے شیشے والی گاڑی پر ، گزشتہ کئی میقاتوں سے جیتنے والی پارٹی کا جھنڈا پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا تھا۔
یہ دیکھ کر مجھے کئی برس پہلے اسی پارٹی کے ذریعے اعلان کردہ ایک اسکیم کی یاد آئی جسے میں نے کئی سال ہوئے اخبار میں پڑھا تھا۔ اس میں ساٹھ سال کی عمر کو پار کرنے والے بزرگوں کو وظیفہ دینے کی بات کہی گئی تھی۔ میرے قدم خود بخود بوڑھے کے جانب بڑھ گئے۔ میں نے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام ”جمن شیخ“ بتایا۔
میں نے بوڑھے کو حکومت کی اس اسکیم کے بارے میں بتایا۔
”میں کئی مرتبہ گورنمنٹ آفس گیا تھا، لیکن بہت دیر تک یہاں وہاں لائن میں انتظار کرانے کے بعد انھوں نے نہ جانے کیا کیا کاغذات مانگے جو میرے پاس نہیں ہیں۔“ بوڑھا بتاتے بتاتے روہانسا ہو گیا تھا۔
”بیٹا! میں کئی مرتبہ ان کے یہاں گیا، لیکن جب ایک بار انھوں نے مجھے دھکا دے کر یہ کہتے ہوئے نکال دیا کہ ”چل سالے جھوٹے! سالا جھوٹ بول کر مفت میں پیسے لینا چاہتا ہے، حرام خور! چل بھاگ یہاں سے۔“ تو پھر میری دوبارہ ہمت نہیں ہوئی۔ “
"آفس سے باہر میری ایک ایجنٹ سے بھی ملاقات ہوئی جوبتا رہا تھا کہ اگر میں پانچ ہزار کا انتظام کر لوں تووہ میرے لئے نقلی کاغذات بنوا سکتا ہے"
بوڑھا کہہ رہا تھا۔
’اچھا‘ میں نے حیرت کا اظہار کیا۔
‘ جی میاں، آج کل تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایجنٹ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے بہت سے جوانوں کے بھی نقلی کاغذات بنوائے ہیں جو آرام سے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،اور ان میں سے بہت سے تو اسی گورنمنٹ آفس میں کام کرنے والوں کے رشتہ دار بھی ہیں۔‘

یہ کہ کر بوڑھے نے آسان کی طرف دیکھا اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہوئے اور اس کی قسمت کی طرح ٹیڑھی میڑھی لکیر بناتے ہوئے اس کی داڑھی میں جذب ہو گئے ۔​

بوڑھا کچھ اور کہنا چاہ رہا تھا لیکن میرے اندر اس کی مزید باتیں سننے کی سکت نہ تھی اور میں بوجھل قدموں سے آٹو لیکر لاجپت نگر کے لئے نکل پڑا مگر میرے ذہن میں علامہ اقبال کا یہ شعر گردش کر رہا تھا :​

تو قادر و عادل ہے مگر ترے جہاں میں​


ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات​

۔۔۔مزید

ایک نا مکمل کہانی

محمد علم اللہ اصلاحی

"یار! میری ماں کتنا غصہ کرتی رہتی ہے، میں اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں، پر وہ کبھی ہنستی ہی نہیں ہے۔"
"تو نے کبھی پوچھا نہیں وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟" غفار نے سوال کیا۔
"ارے یار! میرے باپ کی وجہ سے۔تمہیں پتا ہے نا وہ ہم لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا نا، اس لیے ممو کو لگتا ہے کہ ایک دن میں بھی اسے چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔ بھائی! میں ایک بار ممو کو ہنستے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔"
"سچ بتاؤں تیرا باپ مجھے مل گیا نا تو اُسے میں گولی مار دوں گا۔" غفار نے اعلان کیا۔
٭٭٭
                                        
گاڑی کی آواز۔۔۔ گھڑ گھڑ گھڑ۔۔۔
ابھی دونوں کی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ کوڑے کے ڈھیر میں مزید کوڑا لے کر کوڑا ڈالنے والا ٹرک وہاں آ گیا۔ کوڑا چننے والے لڑکے اس کے پیچھے یوں بھاگنے لگے جیسے انھیں ان کی کھوئی ہوئی متاع مل گئی ہو۔
بات ختم کیے بغیر ہی چندو اور غفار بھی ان میں شامل ہو گئے۔
سب  لڑکے پلاسٹک، ٹوٹے جوتے چپل اور پانی کی خالی بوتلیں بورے میں بھرنے لگے۔وہ  ایک دوسرےسے دھکا دھکی کر کے خود ہی سارا سامان سمیٹ لینا چاہتے تھے۔
پیٹ اور غربت ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان بہت کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  دوپہر کو جب سارے لوگ کھا پی کر کام کے لیے نکل چکے ہوتے ہیں یا قیلولہ کر رہے ہوتے ہیں، یہی بچے  چپکے سے گھروں کا سامان چوری کرتے ہیں اور اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں۔ یہ غریب بچے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ انھیں اسی میں مزہ آتا ہے۔
اس وقت بھی یہ کوڑے کے ڈھیر سے سامان چننے میں ایسے منہمک تھے جیسے کروڑوں کی جائیداد پا رہے ہوں۔
چندو سب کو دھکا دیتے ہوئے آگے بڑھا۔ اسے کچھ نظر آیا تھا ، اس نے لپک کر اسے اٹھایا۔ تو اسے لگا کہ یہ کچھ عجیب سی چیز معلوم ہوتی ہے۔
وہ ایک ٹوٹا ہوا کیمرا تھا جسے کسی نے خراب ہو جانے کے بعد پھینک دیا تھا، مگر غریب چندو کو اس کی کیا خبر۔ وہ اسے اُلٹ پلٹ کر ایسے دیکھتا رہا جیسے کوئی بہت قیمتی چیز اس کے ہاتھ لگ گئی ہو، پھر اچانک اسے یاد آیا، اُس نے ایسا ہی کچھ اپنی مالکن کے گھر بھی دیکھا تھا جہاں اس کی ماں کام کرنے جایا کرتی تھی۔
ابھی وہ اسے کھول کر دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کے دوست غفار نے اس کے ہاتھوں سے کیمرا چھین لیا۔ اور بھاگ کھڑا ہوا۔ چندو بھی کوڑے کے ڈھیر کو پار کرتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔
تھوڑی دور تک دونوں آگے پیچھے دوڑتے رہے، آخر چندو نے دوڑ کر اسے پکڑ ہی لیا اور پھر دونوں کھکھلا کر ہنسنے لگے۔
"سالے لے کر کہاں بھاگ رہا تھا؟" چندو نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔
"میں تو مذاق کر رہا تھا، تو تو سچ سمجھ بیٹھا۔" غفار مسکرایا۔
"چل لا دے۔" چندو ے جیسے غفار کی خوشامد کی۔
"نہیں دوں گا۔" غفار نے مذاق کے طور پر منع کیا۔
"دے گا یا نہیں، یہ مجھے ملا ہے، اس لیے یہ میرا ہے۔" چندو غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ جھٹک کر بولا۔
"لے سالے، تو نے دکھا دی نا اپنی دوستی۔" غفار نے ذرا غصہ ہو کر وہ کیمرا اس کی طرف بڑھایا۔
"ابے یار! تو تو غصہ ہو گیا۔ میں دیکھنا چا ہ رہا تھا کہ یہ کیا ہے، اس لیے بھاگ رہا تھا تیر ے پیچھے۔" چندو ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
"کیمرا ہے، کیمرا۔ "غفار نے بتایا۔
"کیا کہا؟ کیمرا۔۔۔ !! کیا ہوتا ہے یہ؟" چندو کو حیرت ہوئی ۔ ایسی کیا چیز ہو سکتی ہے جو چندو کو نہیں معلوم لیکن غفار اس سے واقف نکلا۔
"فوٹو کھینچتے ہیں اس سے۔" غفار نے جواب دیا۔
"لے یہ تو آن بھی ہو گیا۔" یہ کہتے ہوئے غفار خوشی سے ناچنے لگا۔
"چل، میں تیری تصویر کھینچتا ہوں۔" سامنے جا کر کھڑا ہو جا۔" تھوڑی دیر رک کر اس نے کہا۔
چندو کو یقین تو نہیں آ تا،لیکن وہ دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔
"ابے ہنسے گا بھی یا ایسے ہی بندر کی طرح تصویر کھنچوائے گا" غفار نے مضحکے سے کہا۔
"میں کیوں ہنسوں؟ تیری لوگائی ہوں کیا " چندو ہنستے ہوئے بولا۔
"سالے! تصویر كھنچوانے کے لئے ہنسنا پڑتا ہے۔"غفار نے جواب دیا۔
"اچھا تو ایسے بول نا۔" یہ کہہ کر چندو کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔
"اچھا یار! یہ بتا، اگر میں اپنی ماں کی تصویر كھینچوں گا تو وہ ہنسے گی؟"چندو نے معصوم بچوں کی طرح سوال کیا۔ بھلا دس بارہ سال کے بچے کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔
"ہاں، کیوں نہیں۔" غفار جواب دیتے ہوئے کیمرے کا زاویہ درست کرنے لگا۔ "تصویر كھنچوانے کے لئے ہنسنا ہی پڑتا ہے۔"
"چل ٹھیک ہے، تو مجھے سکھا میں اپنی ممو کی تصویر کھینچوں گا۔"چندو خوش ہو کر بولا۔
٭٭٭

چندو آج کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔ اس کے ذہن کے دریچے میں مختلف قسم کے خیالات آرہے تھے۔ برسوں بعد وہ اپنی ممو کو ہنستا ہوا دیکھے گا، کتنا مزا آئے گا!!!
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا، "ممو سے ہنسنے کو کہوں گا تو وہ ہنستے ہوئے کتنی اچھی لگے گی۔"
ابھی وہ انھی خیالات میں گُم تھا کہ غفار نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "بھائی! تیری بوری پھٹ گئی۔"
اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی، وہ جلدی سے بوری زمین پر رکھ کر دیکھنے لگا۔
"یہ تو ٹھیک ہے۔" چندو نے پھر بوری کندھے پر اٹھا لی اور مسکراتے ہوئے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭

’ممو۔۔۔ ممو۔۔۔۔!!‘ گھر پہنچ کر چندو اپنی ممو کو خوش خبری سنانے ہی لگا تھا کہ ممو کہتی ہے:
"ہے، آ گیا نکھٹو! چل جا پہلے نہا لے!!"
"ممو۔۔۔۔ ممو۔۔۔ !!" اس کی آواز گلے میں ہی اٹک گئی۔
ممو ایک دم چلا کے بولی: "جا، پہلے نہا لے، بدبو آ رہی ہے۔"
اس کی ماں نے اس سے بورا چھین کر ایک کنارے پر رکھ دیا اور دو بوریوں سے جوڑ کر بنائے گئے غسل خانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی  "جا جا۔۔۔ پانی گرم ہے۔ جلدی جا!"
غسل خانے میں  آدھے کٹے ڈرم میں پانی اور مگ رکھا تھا۔ وہیں پیڑھا اور صابن دانی بھی۔"
بلآخر چندو بغیر کچھ بولے نہانے چلا گیا، مگر اس کے ذہن میں کیمرا اور اس کی ممو کی ہنسی ٹی وی کے اسکرین کی طرح چل رہی تھی۔
وہ گنگنانے لگا "آج تو ہنساؤں گا۔۔۔ تم کو دکھاؤں گا۔۔۔ "
٭٭٭

اسی دوران ایک کباڑی چیختا ہوا گلی سے گزرا "کباڑی والے۔۔۔ ردی پیپر والے۔۔۔ پرانا لوہا برتن۔۔۔ پلاسٹک والے۔۔۔ "
ادھر غسل خانے کے اندر پانی کی آواز اور گانے کے سُر میں چندو کو پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ غسل خانے سے باہر کیا ہونے لگا ہے۔
ممو بھی حقیقت سے بے خبر چندو کا بورا اٹھا کر لائی اور اسے كباڑي کو دے دیا ۔ كباڑي اس کوڑے کے مناسب دام دے کر چلتا بنا۔
تھوڑی دیر بعد چندو خوشی خوشی غسل خانے سے نہا دھو کر نکلا تو اس کی نظر بوری کی طرف ہی پڑی۔ مگر وہاں بوری نہیں تھی۔ یہ دیکھ کر وہ چلایا۔۔۔ "ممو! بورا۔۔۔ ؟"
"وہ تو میں نے کباڑی والے کو دے دیا " ممو نے بتایا۔
چندو کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی سرک گئی۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں آ گیا۔  پھر اچانک ممو سے بغیر کچھ کہے گلی کی طرف دوڑ لگا دی۔ لیکن گلی میں دور تک کہیں بھی کباڑی دکھائی نہیں دیا۔ دور کہیں اُسے سائیکل کی گھنٹی کی آواز سنائی دیتی اور وہ پھر دوبارہ ادھر ہی دوڑنا شروع کر دیتا۔ آخر وہ کباڑی اسے نظر آ گیا۔ اس کی سانسیں پوری طرح پھولی ہوئی ہوتی ہیں، چندو گھبرائی ہوئی آواز سے پوچھنے لگا "ن نن ۔۔ نالے۔۔ کک۔۔کے پپ۔۔پا ۔۔س مم۔۔۔ میرے۔۔۔ گھ۔۔۔ گھر۔۔ سے۔۔۔ جج۔۔۔ جو کباڑ لیا ہے وہ کہاں ہے؟"
"وہ تو میں اصغر کباڑی کی بڑی دکان پر دے آیا۔" کباڑی نے جواب دیا۔
چندو نے ٹھیے کی طرف تیزی سے دوڑ لگا دی۔اصغر کی دوکان پر ہر طرف کباڑے کا ڈھیر تھا، پرانی بوتلیں ایک طرف، پلاسٹک کا سامان ایک طرف۔ اس سے پہلے کہ وہ اصغر سے کچھ پوچھتا،  اس کی نظریں ایک طرف پڑیں اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک بوڑھا آدمی جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا وہ ہتھوڑے والا ہاتھ اوپر کیے کیمرے کو دیکھ رہا تھا۔ چندو ابھی آواز دے بھی نہیں پایا تھا کہ بوڑھے نے کیمرے پر اپنی پوری قوت کے ساتھ ہتھوڑا چلا دیا۔
٭٭٭

بظاہر یہاں تک تو کہانی مکمل ہے۔مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔
لیکن اتنی غربت اور ماحول نا سازگار ہونے کے باوجود چندو کالج تک کیسے پہنچ گیا۔۔۔۔۔چندو نے جب اتنی بات مجھے بتائی تھی تبھی مجھے یہ پوچھ لینا تھا؟
لیکن میں نے کیوں نہیں پوچھا؟ مجھے یہ بات برابر کچوکے لگاتی رہتی۔
ایک دن موسم معمول پر تھا۔ میں ذرا جلدی ہی کالج پہنچ گیا تھا۔ سوچا وقت گزاری کے لیے کینٹین میں چائے کی چسکیاں ہی لے لوں۔کینٹین پہنچا تو دیکھا چندو وہاں ایک کتاب لیے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
وہ ایک کتاب یا ڈائری تھی، میں اس کے قریب گیا۔ سلام کیا اور پوچھا، "بھائی چندو! اس دن تم نے ادھوری کہانی سنائی تھی، اس کو مکمل تو کرو۔"
وہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے بولا "ارے بھئی! وہ کہانی نہیں تھی۔ بس ایسے ہی کچھ چیزیں یاد آئیں تو میں نے سنادیں۔"
"ہاں، تو پھر بتاؤ نا کہ تم نے پڑھائی کیسے مکمل کی؟ تم تو کوڑا چنتے تھے، جیسا کہ تم نے بتایا تو پھر تم کالج تک کیسے پہنچ گئے؟" میں نے اسے پھر کریدا۔
"بھائی! یہ ایک بہت لمبی داستان ہے،نہ پوچھو تو بہتر ہے۔" چندو بولا۔
میں نے مزید کریدنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا:
"کچھ خاص نہیں، بس پھر معمول کے مطابق زندگی گزرنے لگی۔ میں بھی ساری چیزیں بھول بھال گیا۔ اسی درمیان میں اچانک ممو کیایک دن طبیعت خراب ہوئی اور میں ان کی صحت کے لیے کچھ نہ کر سکا۔ وہ ملیریے کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئی۔" اس کے آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
میں نے کہا: "اچھا، چلو چھوڑو، پھر کبھی بات کر لیں گے۔"
"پھر کیوں؟ جب سننا ہی چاہتے ہو تو سن لو۔" وہ کہنے لگا۔ "جب ممو کا انتقال ہوا تو گویا میری زندگی ہی لٹ گئی۔ میں تنہا رہ گیا۔ ایکدن حکومت کے آرڈر سے ساری جھگیوں کو ڈھا دیا گیا اور پھر تو میں بے گھر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے نظام الدین ریلوے اسٹیشن کو اپنی جائے پناہ بنایا۔ لوگ مجھ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے۔ بہت سارے لوگ ڈانٹ کر بھگا بھی دیتے۔ ممو کا کہا یاد آتا تھا کہ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا۔ میں نے یہی سوچ کر کچھ کام کرنے کا سوچا۔ ایک دن ایک بوڑھے کو دیکھا، اس کے ہاتھ میںایک بیگ تھا۔ مجھے لگا یہ کوئی باہر سے آیا ہے۔ اسی سے کچھ پیسے مانگ لوں، لیکن میری ہمت نہیں ہوئی۔ بہت ہمت کر کے میں ان کے قریب گیا اور کہا: "میں آپ کا سامان وہاں تک پہنچا دوں گا، آپ مجھے دس روپئے دیں گے؟" انھوں نے تھوڑی دیر تک میرا جائزہ لیا پھر کہنے لگے: "چلو میرے، پیچھے چلو۔"
میں ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ وہ مجھے گھر لے کر گئے۔" چندو سانس لینے کے لیے رکا، مگر مجھے بے صبری تھی۔
"پھر۔۔۔ پھر۔۔۔ کیا ہوا؟" میں یہ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ چندو رُک کر اچانک گھڑی دیکھنے لگا اور بولا
"دیر ہو گئی۔کہیں آج بھی ابسنٹ نہ لگ جائے، مجھے جانا پڑے گا۔" یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور میرے اندر یہ جاننے کی خواہش بر قرار رہی کہ اب اس سے آگے کیا ہوا ہوگا۔
اتفاق سے لنچ کے وقت پھر چندو سے ملاقات ہو گئی۔
میں نے پوچھا: "چندو! تم کس کورس میں ہو اور کس کلاس میں پڑھتے ہو؟"
تھوڑی دیر کے لیے وہ مجھے دیکھ کر ٹھہر سا گیا۔ میرے ہاتھ میں کیمرا تھا۔ اسے وہ بڑی حسرت سے دیکھنے لگا۔
 "چندو! کیا ہوا؟ کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔" میں نے اس کو ٹہوکا دیتے ہوئے پوچھا۔
چندو ایسے چونکا جیسے اس کا ذہن کہیں اور ہو پھر کہنے لگا: "مم۔۔۔ میں پڑھائی نہیں کرتا، میں تو کام کرتا ہوں۔"
پھر میں نے پوچھا: "ابھی صبح تم نے کہا تھا، آج پھر ابسنٹ نہ ہو جاؤں، مجھے جانا پڑے گا تو تم کہاں گئے تھے؟"
"بھیا! میں یہاں تین مہینوں سے کام کر رہا ہوں۔ پچھلے مہینے میں آیا، لیکن ٹریفک کی وجہ سے کچھ دیر ہو گئی تو ٹھیکے دار نے پیسے کاٹ لیے، آج کل اسی لیے جلدی آنے کی کوشش کرتا ہوں۔"
اور پھر میرے کیمرے کو چھوتے ہوئے کہنے لگا: "بھیا۔۔! مجھے بھی کیمرا چلانا سکھاؤگے؟"
میں نے کہا: "ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔۔۔ ؟ لیکن۔۔ لیکن تم یہ سیکھ کر کیا کرو گے؟"
وہ کہہ رہا تھا: "بھیا! میں لوگوں کو مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ فوٹو کھنچواتے وقت مسکرانا پڑتا ہے نا۔۔۔ "
وہ نہ جانے اور کیا کچھ کہہ رہا تھا، مگر میں سوچ رہا تھا کیا چندو کی کہانی مکمل ہو گئی۔۔۔ ؟

۔۔۔مزید