منگل، 8 اکتوبر، 2013

ترکی وہندتعلقات اورپرنب کا دورہ

محمد علم اللہ اصلاحی
صدرجمہوریہ ہند اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گل کی دعوت پرحال ہی میں استنبول کے کامیاب دورے سے واپس آئے ہیں۔ خبروں کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں کسی ہندوستانی صدر کایہ پہلا ترکی کا سفرتھاجبکہ ترکی کے صدر 2010 میں آخری بار ہندوستان آئے تھے۔اس دورے پرصدرجمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ ، تاجروں، صحافیوں اوردانشوروں کاایک اعلیٰ سطحی وفدبھی شریکِ سفر تھا۔ پرنب مکھرجی نے ترکی کے صدر عبداللہ گل کے علاوہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوغان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے امکانات پر گفت وشنیدکی، جس میں بالخصوص سائنس ،ٹیکنالوجی اور معیشت و ثقافت جیسے موضوعات زیر غور آئے۔علاوہ ازیں ہندوستان اور ترکی کے درمیان تجارتی شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ لیکن ان تمام سرگرمیوں کے حوالے سے ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ہندوستانی میڈیا میں صدرجمہوریہ کے دورہ ترکی کوکوئی اہمیت نہیں دی گئی ،سوائے اس کے کہ چند ہی خبریں اس ضمن میں اخبارات کی زینت بنیں۔اس کی وجہ کیا ہے، ہم ٹھیک سے تو نہیں کہہ سکتے، لیکن میڈیا کی یہ بے رخی بہتو ں کو معنی خیزمحسوس ہورہی ہے۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر کے دورے کوہمارے میڈیا نے بھلے ہی بہت زیادہ اہمیت نہ دی ہو لیکن ترک سمیت عالمی میڈیا میں یہ خبر اس پورے ہفتہ بحث کا موضوع بنی رہی اور مختلف تجزیہ نگار اپنے اپنے نقطہ نظر سے پرنب کے دورہ ترکی کی خبرکو تجزیہ اور تبصرہ کاموضوع بناتے دیکھے گئے۔

ترک میڈیا میں اس دورے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعہ دونوں ملکوں کے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات میں استحکام پیدا ہوگااور سائنس و تکنالوجی کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھے گا۔ اس ضمن میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پرنب مکھر جی کو استنبول یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطاکی گئی ہے۔اس سلسلے میں اس دورے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ہندوستان کے کئی بڑے اداروں کے ذمہ داران یعنی جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی کے سربراہان کے علاوہ یوجی سی کے چیر مین وید پرکاش بھی وفد کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق اس موقع پرتعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔جن میں دونوں ملکوں کے درمیان طلباء کا تبادلہ اور اسکالر شپ جیسے پروگرام بھی شامل ہیں۔اس سے یقیناًعلمی تحقیق و جستجو کی راہیں ہموار ہوں گی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر کا ترکی سے رشتہ قدیم اور گہراہے۔دونوں ممالک کی تہذیب وثقافت میں بھی کافی مماثلت ہے۔ شاید اس لئے بھی بہت سارے ہندوستانیوں کو یہ جاننے کی خواہش رہی ہوگی کہ اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور کیا کیا موضوعات زیر بحث آئے لیکن انھیں ہندوستانی میڈیا سے مایوسی ہوئی جو بہر حال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ امریکہ یادوسرے یورپی ممالک کے سفر پر ہمارے ملک کا چھوٹے سے چھوٹا افسر یاوزیربھی جاتا ہے تو خبریں بھری پڑی رہتی ہیں لیکن اسے اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔ترکی کو قدر و منزلت اور عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے ہندی مسلمانوں سمیت بہت سے لوگ ہماریمیڈیا کے اس رویے سے حیرت زدہ ہیں۔اس سلسلے میں جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات عرض کرتا چلوں کہ صدر جمہوریہ نے اپنے وفد میں جامعہ ملیہ کے کسی ذمہ دار کو شامل سفرنہیں کیا،یاد رہے کہ ہندوستان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ وہ واحد یونیورسٹی ہے جہاں باضابطہ طور پر ترکی ڈپارٹمنٹ قائم ہے اور بڑی تعداد میں طلباء ذوق شوق سے ترکی زبان وادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ترکوں سے ہماری وابستگی کوئی نئی نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطحی آمدورفت بھی دیکھی گئی ہے۔ ابھی ماہ جولائی میں ہی ہمارے ملک کے وزیر خارجہ سلمان خورشید بھی ترکی کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے کافی خوشی کا اظہار کیا تھا، اس لئے اس بارے میں لوگوں کے توہمات بے جا بھی نہیں ہیں۔راقم الحروف کو ابھی حال ہی میں ترکی کی ایک این جی او انڈیا لاگ فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ترکی شعبہ کے منتظم ڈاکٹر محسن علی نے بڑی تفصیل سے ترک و ہند تعلقات پر روشنی ڈالی۔انہی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ ترکی حکومت کی جانب سے دہلی جیسے شہر میں چار معیاری اسکول چلائے جا رہے ہیں ،کئی ہاسٹل اور کوچنگ سینٹر بھی جس سے مسلم و غیر مسلم ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں لیکن ایسی سرگرمیوں پر بھی ہمارے میڈیا کی توجہ نہیں جاتی۔ڈاکٹرموصوف کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں سے کئی معیاری علمی و ادبی پرچوں کا بھی اجرا ہواہے، یہ یقیناًخوشی کی بات ہے۔یوں بھی ترکوں سے ہماری علمی و ادبی وابستگی گھر اور آنگن جیسی ہے،جس کے اثرات وہاں اور یہاں کے ثقافت اور کلچر میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔

آتے وقت انڈیا لاگ فاونڈیشن دہلی آفس کے ڈائریکٹر نورالدین کپارو نے ’’ٹرکش ریویو‘‘ کا ایک خاص شمارہ بھی دیا جو شہر استنبول سے متعلق ہے۔اس شمارے میں اس شہر سے متعلق کافی معیاری اور تاریخی مضامین و مقالہ جات شامل ہیں۔ابھی اسے مکمل پڑھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا ، لیکن اس کے چیدہ چیدہ حصوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک قوم کا معیار کافی بلند اور ذوق بالیدہ ہے۔شاید اسی وجہ سے ہمارے یہاں یعنی ہندوستان سے بھی کافی لوگ ترکی گئے، وہاں آباد ہوئے اور وہاں کے بارے میں کافی کچھ لکھا۔معروف ادیب سید سجاد حیدر بھی اسی وجہ سے ترکی سیکھنے پر مجبور ہوئے تھے اور انھیں ترکی اتنا بھایا تھا کہ انھوں نے اپنے نام میں ’’یلدرم‘‘ کا اضافہ کر لیا تھا۔انھوں نے بغداد اور قسطنطنیہ (آج کا استنبول) کے برطانوی قونصل خانے میں ترکی زبان کے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔انھوں نے بڑی تعداد میں وہاں کے لٹریچر کا تر جمہ بھی کیا۔ان کے قلم سے ہوئے 1906ء4 میں خلیل رشدی کے ’’نشے کی پہلی ترنگ‘‘ نامی افسانے کے ترجمہ کو اردو دان حلقے نے بطور خاص خوب سراہا۔انھوں نے اس کے بعد ترکی سے کئی ڈرامے اور افسانے ترجمہ کیے۔اسی طرح علامہ شبلی نے کافی کچھ ترکی کے بارے میں لکھا اور وہاں سے اپنے خصوصی لگاؤ کا ذکر کیا ،علامہ شبلی نے توترکی سے واپسی کے بعد باقاعدہ سفرنامہ لکھا جسکی تاریخی اور ادبی حیثیت سے شاید ہی کوئی انکار کر سکتا ہے۔اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کے والد مولوی خیر الدین کوبھی ترکی کی علمی فضا راس آنااوران کے ذریعہ ترکی کی لغت تیار کرنا ایک اہم کارنامہ تھا جسے ہم فراموش کر چکے ہیں۔

یہ ترکی سے اردو ادیبوں اور شاعروں کی محبت ہی تھی کہ 1922ء میں علامہ نیاز فتح پوری نے ایک علمی اور ادبی پرچہ کا آغاز کیا تو ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی نسبت سے اس کا نام ’’نگار‘‘ رکھا۔ علامہ اقبال کو بھی ترکی سے خاص نسبت تھی اور اپنی شاعری میں وہ اس کا جابجا ذکر بھی کرتے ہیں۔ترکی قلمکاروں نے بھی ہندوستان کو اتنی ہی اہمیت دی اور شاید یہ بھی وجہ رہی ہو کہ جب خالدہ ادیب خانم 20ء کی دہائی میں ہندوستان آئیں تو ان کا استقبال شہزادیوں کی طرح کیا گیا، اسی طرح دوسرے ترک ادیب بھی ہندوستان کے اردو خواں طبقے میں مقبول و محبوب رہے۔خالدہ ادیب خانم نے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کئی خطبات بھی دیے، جنھیں تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ہمارے ملک کے باسیوں میں ترکوں اور سلطنت عثمانیہ سے وابستگی اور اس کیلئے محبت و مودت کے احساس کا عالم یہ تھا کہ ہندوستان میں خلافت تحریک چلائی گئی تو اسے مسلم ہندو اتحاد کی علامت کادرجہ حاصل ہوگیا جس کے قائدین میں محمد علی جوہر کے علاوہ گاندھی جی بھی تھے۔پہلی عالمی جنگ نے جہاں دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا، وہیں سلطنت عثمانیہ کا سورج بھی ڈوب گیا۔ کمال اتا ترک نے خلافت کو خیر باد کہا اور 1923 میں جدید ترکی کی بنیاد رکھی۔اس نے ترکی میں جدید مغربی خیالات و نظریات اورطرز معاشرت کا دور شروع کیا۔ وہ ملک جو یورپ کا ’’مرد بیمار‘‘ کہلاتا تھا اور بہت پسماندہ اور بدحال تھا اس کی حالت اقتصادی طور پہ قدرے بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن 1929 میں دنیا شدید اقتصادی بحران کا شکار ہو گئی جس کوعظیم کساد بازاری کہتے ہیں،ظاہر ہے اس کا اثر ترکی پر بھی پڑا۔

کہا جاتا ہے کہ یہی بحران آگے چل کر دوسری عالمی جنگ کا ایک سبب بنا۔ اس درمیان ترکی میں ناخوشگوار حالات پیدا ہوتے چلے گئے اور اس مملکت کواقتصادی بحران نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کے سکے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی۔ قرض اور درآمد کی ادائیگی کے لئے خزانہ خالی ہوگیا۔ ایسے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ذریعہ حکومت کی مدد کی گئی اور یوں اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہ وہ وقت تھا جب مملکت ترکی کی اقتصادی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے جہاں ایک دوسرے کو بربادکیا وہیں جنگ کے بحران میں پھنسی ہوئی ترکی کی معیشت کو سہارا دیا۔ 1980۔88 ء کے درمیان عراق اور ایران نے ترکی کے ساتھ تجارت کی، خاص طور سے عراق نے ترکی کی بندرگاہوں کا استعمال کیا جس کے ذریعہ ترکی کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ملا۔ 90 ء کی دہائی میں ترکی میں مستقل اقتصادی ترقی کاایک عمل شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ترکی اس وقت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کے حساب سے وہ دنیا کی 17 ویں بڑی معیشت ہے۔ چند سال پہلے جب پوری دنیا مالی بحران کا شکار تھی،اس وقت ترکی کی معیشت 8 اور 9 فیصد سالانہ ترقی کی شرح پر تھی۔اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ترکی یورپ میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے وہ اعلی وسطی آمدنی والا ملک ہے۔

فوربس سروے کے مطابق استنبول میں ارب پتی افراد کی تعداد 28 ہے جبکہ نیو یارک میں 60 ، ماسکو میں 50 اور لندن میں 32 ارب پتی رہتے ہیں۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول ارب پتیوں کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام انتظامی اختیارات وزیر اعظم اور کابینہ کے پاس ہیں۔ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے، 1933 کے بعد سے ووٹنگ کا حق 18 سال کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ ہندوستان کی طرح اس ملک میں درجنوں سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہیں۔ آئین کے مطابق تر ک خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی میں ایک خاتون حکومت بھی ملک کی باگ ڈور سنبھال چکی ہیں جبکہ امریکہ جیسے ملک میں ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

ہم ترکوں سے اپنے دیرینہ تعلقات وروایات کا ذکر بار بار کرتے ہیں۔لیکن ان تمام حقائق کے باوجود ہم میں سے بہت کم ہیں جو ترکی کی صنعت ، زراعت اور معیشت کاقریب سے جائزہ لیتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کی اندرونی کل پیداوار 1358 ارب ہے۔ کاروبار کے لئے بہتر ممالک میں ترکی 71 ویں نمبر پر ہے۔اس کی سالانہ برآمدات163.40 ارب ڈالر ہے اور وہ برآمد کے بارے میں دنیا میں 29 واں سب سے بڑا ملک ہے 2012 ء تک ترکی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 152.90 ارب ڈالر تھا۔ اس سلسلے میں وہ دنیا کا 29 واں بڑا ملک تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی 209 ارب ڈالر جبکہ سالانہ خرچ 228.3 ارب ڈالر ہے۔ اس وقت جب کہ ہمارے یہاں تبادلہ کے ذخائر کم ہو چکے ہیں اس تناظر میں دیکھیں تو ترکی کے پاس کرنسی ذخائر اگست 2013 تک124.187 ارب ڈالر تھے۔ ترکی دنیا میں 10 واں سب سے بڑا سٹیل پروڈیوسر ہے اور یورپ میں ٹی وی تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

فن تعمیر کی صنعت میں بھی یہ چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی 33 تعمیراتی کمپنیوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس کے طول و عرض میں 9 بین الاقوامی سمیت 102 ہوائی اڈے ہیں۔ہوائی مسافروں کی سالانہ تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ ریلوے کا 22 واں سب سے بڑا نظام ترکی میں ہے۔ سڑکوں کا جال چار لاکھ 26 ہزار کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ جس میں 2 ہزار کلومیٹر ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔ ترکی کے پاس 12 سو جہاز ہیں اور دنیا میں جہاز رانی کی 7 ویں بڑی صنعت ہے۔لینڈ لائن ٹیلی فون اور موبائل کی طرف سے ترکی دنیا کا علی الترتیب 18 واں اور 15 واں بڑا ملک ہے۔ سیاحت میں ترکی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے 100 بہترین ہوٹلوں میں سے 10 ترکی میں ہے جہاں 3 کروڑ سیاح ہر سال آتے ہیں اورجن سے اسے 22 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

ان تمام خشک اعداد و شمار ز اور تفصیلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم علم اور ادب کی دنیا کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں وہاں دنیا کے مشہور مصنف اور شاعر ملتے ہیں۔ ناظم حکمت اور محمد عاکف ارصوئی کا ہمارے یہاں کافی نام ہے۔ اسی طرح جدید ترکی کے مصنفین میں اورخان پاموک ادب کا نوبل انعام لے چکا ہے۔ ہمارے ملک کو اس بات پر فخر ہے کہ اتنے بڑے عظیم قلم کار کی مہمان نوازی کر چکا ہے جے پور لٹریری فیسٹیول میں جس طرح سے لوگوں نے ان کی عزت افزائی کی، یہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔کل کا قسطنطنیہ جو آج استنبول کے نام سے مشہور ہے ، اس کے بارے میں اورہان پامک نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ہر عمر اور ہر نسل کے بچے ، نوجوان اور بڑے ، عورتیں اور مرد اپنی کھڑکیوں یا بالکونی میں کھڑے ہوکر ان بحری جہازوں کو تکتے اور گنتے رہتے ہیں جو آبنائے باسفورس سے گزرتے ہیں۔ترکی کے اس مصنف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کتابیں ترکی کے عوام اس طرح پڑھتے ہیں گویا اپنی نبض ٹٹول رہے ہوں۔ابھی حال ہی میں معروف ہندوستانی پبلشر پنگوئن نے ان کی کتاب ’’اسنو‘‘کا خوبصورت ہندی ترجمہ شائع کیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ ترکی علم و ادب اور ثقافت کے چاہنے والے ہندوستان میں بڑی تعداد میں ہیں۔میں نے یہ کتاب پڑھی ہے، واقعی کافی دلچسپ ہے۔اس کتاب کے ذریعہ ہم یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ترکی کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

الغرض ہم جتنی باریکی سے ہندوستان اور ترکی کا جائزہ لیتے ہیں، علم وادب اورثقافت کی پرتیں تہہ در تہہ کھلتی جاتی ہیں۔ہمیں اس ملک کی قدر کرنی چاہئے اور ایک ایسے دور میں جب کہ ہمارے ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ایک مخلص اور ترقی کی طرف گامزن ملک کے طور پر ترکی کے احساسات و جذبات کی قدر اور خلوص کا اسی انداز میں استقبال کرنا چاہئے۔ہمارے ملک کے صدر پرنب مکھر جی نے وہاں جن جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے اسے حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ایک دوست مملکت کے خلوص اور محبت کا تقاضہ بھی ہے اور خود ہمارے ملک کے امن ومفاد عامہ کے لئے مفید ترین بھی۔اگر انقرہ ا اور دہلی کی یہ کوشش بار آور ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہوگا۔بلکہ اس پورے خطہ کے لئے بھی مفید ،اور اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ اس خطہ کے مسائل کو حل کرنے کے حوالہ سے ترکی انتہائی مثبت کردار ادا کرنیکی پوزیشن میں ہے، کیونکہ ترک قیادت کو پاکستان میں بھی تمام حلقوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ہندوستان ،پاکستان اور افغانستان کے مسائل کو حل کرنے میں ترکی کا معاشی درجہ بھی ممد و معاون ہوسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کارپردازان سلطنت ان امکانات کو جانچ ٹٹول کر نیک نیتی سے آگے بڑھنے کا تہیہ کریں اور پھر اس ضمن میں جلد از جلد عملی اقدامات اٹھائیں۔

۔۔۔مزید

اتوار، 15 ستمبر، 2013

مظفر نگر فساد:آنکھوں دیکھا حال

قیامت کے دن ہیں مصائب کی راتیں

محمد علم اللہ اصلاحی
کبھی کسی کی زبانی سنا تھا ’’فساد تو دراصل فروٹ ہوتا ہے اس سے پہلے کھاد ،پانی اور بیج بویا جاتا ہے نفرت ،تعصب ،ظلم اور بربریت کا ‘‘۔اس قول کی سچی تعبیر اس وقت دیکھنے کو ملی جب ہم مغربی یوپی کے علاقہ مظفر نگر اور اس کے مضافات میں ہوئے فسادات کے بعد حالات کا جائزہ لینے کے لئے وہاں پہونچے۔پولس اور فورس کی بھاری نفری نے نقض امن کی دہائی دیکر ہمیں ان علاقوں میں جانے تو نہیں دیا جہاں یہ واردات انجام دی گئی تھیں۔مگر ہم نے متاثرین پر ہوئے ظلم و تشدد کی کہانی سننے اور حقیقی واقعہ کی تلاش کے لئے عارضی طور پر بنے کیمپوں کا رخ کیا اور وہیں بے یار و مددگار اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاررہے متاثرین سے ملاقات کی۔
ریاست اترپردیش کے ضلع کاندھلہ ،شاملی اور باغپت جیسے ضلعوں کے مختلف مدرسوں ،اسکولوں، عید گاہوں و گھروں میں مقیم ایک لاکھ سے بھی زائد مہاجرین کی الگ الگ داستان اور الگ الگ واقعات تھے ،جنھیں سنتے ہوئے ہمارے دل لرز رہے تھے تو لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے۔یہیں معلوم ہوا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ان کی کربناک داستان الگ ہے جن میں ہزاروں لوگ قرب و جوار میں اپنے رشتے داروں کے یہاں چلے گئے ہیں۔یہاں پچاسوں ہزارسے بھی زائد کی تعداد میں اپنے جائداد ،لٹے پٹے گھر ،جانور اور اثاثہ کو کھو دینے والے مہاجرین کے چہرے سے خوف اور دہشت صاف عیاں تھی۔
کھلے آسمان تلے ان بے خانماں لوگوں میں کوئی اپنے بیٹے کو کھوچکا ہے تو کسی کی بیٹی غائب ہے ،کوئی عورت اپنے شوہر کے قتل کی روداد سناتے سناتے آنسووں کو ضبط نہیں کر پارہی تو کوئی بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کو کاندھا دینے کی دلخراش کہانی بیان کرتے کرتے رو پڑتا ہے۔کسی کا پورا اثاثہ لٹ گیا ہے ،کسی کے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے تو کسی کے شیر خوار بچے کو چھین کر اس کے سامنے ہی قتل کر دیا گیاہے۔کسی کی ماں زخمی ہے تو کسی کا بھائی ہمیشہ کے لئے پاوں سے معذور ہو چکا ہے۔کتنے ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنی جوان بیٹیوں کو کھو دیا ہے یا انھیں بلوائی اغوا کر لے گئے ہیں۔
دہلی سولہ دسمبر 2012کے غیر انسانی واقعہ میں دامنی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس پر شنوائی کرتے ہوئے عدالت نے چار لوگوں کو پھانسی کی سزا دی ہے ، اس سے کہیں زیادہ شرمناک اور جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے واقعات اس علاقے میں ہماری بہت سی بہنوں کے ساتھ پیش آئے ہیں، یہ دونوں واقعات موازنہ کے قابل نہیں ہیں لیکن واقعاتی نوعیت پر حکومت کے اقدام کا موازنہ ضرور کیا جانا چاہیے، ایک موقع پر عالمی پیمانے پر حکومت کی ساکھ مجروح ہونے کا ڈر تھااس لیے تمام قانونی کارروائیاں عمل میں آگئیں،حکومت نے اخلاقی تقاضے بھی دھڑادھڑ پورے کرڈالے، دوسری طرف صرف اندرون ملک کا سماجی خلفشار ہے ، جو ہمیشہ سے حکومت کی غفلت شعاری کا شکار رہا ہے، اس واقعہ میں بھی سیاسی جماعتیں باہم جھگڑ رہی ہیں اور فساد کے مارے ہوئے لوگ عوام کے ذریعہ پہنچائی گئی مدد کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ سلیمانیہ کاندھلہ کیمپ
سب سے پہلے ہم سلیمانیہ کاندھلہ مدرسہ اسلامیہ میں واقع کیمپ میں پہنچے۔جس کے ذمہ دارپوری دل جمعی سے پناہ گزینوں کی خدمت کر رہے ہیں۔یہاں تقریبا ساڑھے سات ہزار مہاجرین قیام پذیر ہیں ،اس کیمپ میں زیادہ تر لساڑ گاوں ،نثار گنج ،پھگانہ ،دھوبیان جیسے دیہی علاقوں کے افراد تھے۔اس کیمپ کی دیکھ ریکھ اور دیگر ذمہ داریاں انجام دینے والے مولانا نور الحسن راشد کا کہنا تھا: ’’پورے علاقے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 60ہزار سے بھی زائد مہاجرین اس طرح کے کیمپوں میں ہیں ،مرنے والوں کی تعداد حکومت کے مطابق 48ہے تاہم ہمارا کہنا ہے کہ یہ تعداد بھی دو سو سے کم نہیں ہے۔بعض خاندانوں کے تو پانچ اور بعضوں کے دس دس افراد کو بلوائیوں نے یا تو قتل کر دیا یا زندہ جلا دیاہے۔20سے زائد لڑکیاں غائب ہیں۔لوگوں کے اندر خوف و ہراس اس قدر ہے کہ وہ پولس اور فورس کی موجودگی میں بھی اپنے گھروں کو واپس جانا نہیں چاہ رہے ہیں۔بہت سارے مسلم نوجوانوں کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے ،گھراور مسجدیں مسمار کر دی گئی ہیں اور لاش و دیگر شواہد کو مٹانے کے لئے اس کے راکھ تک کو ندی میں بہا دیا گیا ہے۔مکانات جس طرح سے گرائے گئے ہیں وہ ایسا نہیں ہے کہ اچانک ہو گیا بلکہ وہ منظم سازش کا مظہر ہے ،جس میں دھماکہ خیز اشیاء کے علاوہ کچھ خاص قسم کے کیمیکل بھی استعمال کئے گئے ہیں۔سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہاں کبھی بھی اس قسم کے حادثات وقوع پذیر نہیں ہوئے،حتی کہ تقسیم ہند کے بعد بھی جب پورا ملک خاک و خون میں لتھڑ گیا تھا ‘‘۔
یہاں گوکہ ملی تنظیموں کی جانب سے ہیلتھ سینٹر ، اشیائے خوردونوش اور دیگر عام ضروریات زندگی کا نظم کیا گیا ہے لیکن حالات بہر حال نا گفتہ بہ ہیں۔ایک ایک خیمہ میں ہزاروں خواتین ایک ساتھ اور اسی طرح مردوں کے خیمہ میں ہزاروں مرد ایک ساتھ سونے پر مجبور ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمر کھیلنے اور اسکول جانے کی ہے ہجرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔یہاں پر ہم نے مختلف متاثرین سے ملاقات بھی کی جنھوں نے ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔نثار گنج کے محمد طیب (30)کہتے ہیں ’’سات ستمبر کو کوال میں پنچایت ہوئی اسی کے بعد حالات خراب ہوئے ،سب سے پہلے گاوں کے ہی انصاری لڑکے کو جاٹ لڑکوں نے مارا۔کئی جگہ اس طرح کی واردات سننے میں آ رہی تھیں اور لوگ گھروں کو چھوڑ کر جانے لگے تھے۔ہم نے بھی لڑکیوں اور خواتین کو محفوظ مقام میں پہنچانا شروع کر دیا لیکن راستہ میں جاٹوں کے کھیت میں چار سو سے بھی زائد ہندو اکٹھا ہو گئے اور انھوں نے ہمیں جانے نہیں دیا۔کسی طرح ہم لوگ فورس کی مدد سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے لیکن ہماری بہت ساری خواتین اور لڑکے چھوٹ گئے اوروہ غائب ہیں جن کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔‘‘
اسی گاؤں کے ایک اور متاثر محمد خالد 25سال کا کہنا تھا: ’’ہم سب سے بعد میں آئے۔مختلف شر پسند عناصر کی جانب سے سی ڈی( CD)کی تقسیم کے بعد جس میں کچھ لوگوں کو مبینہ طور پر دکھایا گیا تھا کہ مسلمان ہندؤوں کو مار رہے ہیں۔ان کا مطلب یہی تھا کہ ہمارے لوگ جو مر گئے ہیں ان کا بدلہ لیا جائے۔سب سے پہلے ہمارے مکان سے آگ لگائی گئی۔آگ لگانے والوں کے ہاتھ میں پٹرول اور خطرناک ہتھیار تھے۔وہ ڈھول اور باجے کے ساتھ آتے تھے اور آگ لگاتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔آگے آگے پولس تھی لیکن وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ہم لوگوں نے گنے کے کھیت میں چھپ کر کسی طرح اپنی جان بچائی۔‘‘
اسی کیمپ میں مقیم 40سالہ لساڑ گاوں کے ستارہ مسجد کے امام جمیل احمد کا کہنا تھا: ’’ ہمارے گاوں میں تین سو کے قریب مسلمان گھرانے ہیں ،کوئی بھی نوکری والا نہیں ہے۔جس وقت واردات ہوئی میں جان بچا کر بھاگ رہا تھا۔ میرے سامنے میرے چچا کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔اتوار کا دن تھا آٹھ ستمبر ہمارے چچا، جن کا نام سکھن تھا کو انھوں نے گنڈاسے اور تبلہ سے مار دیا۔حملہ آوروں کے پاس تلوار ،گڑاسا ،بندوق اور رائفلیں تھیں۔انھوں نے مسجد کو بھی آگ لگا دی ،جس میں خاصی تعداد میں قرآن مجید اوردوسری بہت سی چیزیں جل کر راکھ ہو گئیں۔میں نے کھیتوں میں گھس کر جان بچائی اور ندی پار کرکے کاندھلہ پہنچا ‘‘۔
محمد سلیم 44 سال پھگانہ محلہ چھوٹی مسجد دھوبیان کا کہنا تھا ’’آٹھ ستمبر کی صبح کو جاٹ آئے ،جو بھاگ سکے وہ بھاگے۔عورتوں کو انھوں نے زخمی کیا ،کئی کو مار ڈالا۔عمر علی حاجی کی ماں اور ان کے لڑکے اور بھائی کو بری طرح چاقو سے مار کر زخمی کر دیا۔آس محمد نام کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔اس کی وہ ریکارڈنگ بھی ہمارے پاس ہے جب وہ ڈاکٹر اور دیگر افراد کو رو رو کر بتا رہا ہے کہ کس طرح اس کے ہاتھ اور پاوں کو کاٹ دیا گیا۔ان تمام واقعات کی اطلاع کے لئے جب ہم نے ایس او کو فون کیا تو انھوں نے فون کاٹ دیا ،میرے سامنے دو لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکا ،اس لئے کہ وہ پوری طرح ہتھیار سے لیس تھے ‘‘۔
مدرسہ اسلامیہ رفیقیہ ریاض العلوم جوگیا کھیڑا
اس کیمپ میں بھی پانچ ہزار کے قریب افراد قیام پذیر ہیں ،یہاں زیادہ تر پھگانہ ،ہڑد ،کھیڑا ،ستان ،شد ناولی ،ٹکری ،ڈونگر ،وغیرہ جیسے گاؤں کے افراد تھے۔لوگوں کے بقول حکومت کے ذمہ داران نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے کھانے پینے ،رہنے سہنے اور ہر قسم کی ضرورتوں کا انتظام کرایا جائے گا ،لیکن فی الحال حکومت کی جانب سے کوئی خاص اقدام نہیں ہوا ہے۔زیادہ تر لوگ نا خواندہ اور کم پڑھے لکھے ہیں۔اس لئے ابھی تک انھوں نے اپنے اوپر ہوئے ظلم و تشدد کی رپورٹ بھی درج نہیں کرائی ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو گئی اور ہر ایک اپنی داستان سنانے کے لئے بے تاب ہو گیا۔اس کیمپ میں اسی سالہ بزرگ سے لیکر 15دن کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی موجود تھے۔
اس کیمپ میں مقیم پھگانہ کی ایک خاتون فاطمہ 35سال کا کہنا تھا :’’بلوائیوں نے انھیں ننگا کر کے آبروریزی کی کوشش کی ،وہ برہنگی کی حالت میں بھاگ کر پولس اسٹیشن آئی جہاں انھیں کپڑا دیا دیا گیا اور اس کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔جلدی میں اور جان بچانے کے چکر میں ان کی تین سالہ بھتیجی بھی چھوٹ گئی جس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔فسادی جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے اور ڈھول بجاتے ہوئے حملہ کے لئے آئے تھے۔،ان لوگوں نے ہمارے کتنے لوگوں کو مارا پتہ نہیں ‘‘۔
پھگانہ کے حاجی مان علی ولد فتح دین( 55سال) کا کہنا تھا :’’ کئی دن پہلے سے مودی کے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔گاوں کے پردھان نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔پردھان ہمیں یہ کہہ کر گیا تھا کہ آج کے دن نوجوانوں میں ذرا آکروش ہے تو اگر وہ کچھ کہہ بھی دیں تو اس کا جواب نہ دیں۔ہم لوگوں نے بھی یہی سوچا تھا کہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد انھوں نے حملہ کر دیا۔وہ بلم اور تلوار لئے ہوئے تھے۔انھوں نے میرے لڑکے کو گنڈاسا سے مار کر زخمی کر دیا۔اسلام نامی ایک ستر سالہ بزرگ کو میرے سامنے قتل کر ڈالا۔ہم اپنی جان بچانے کے لئے گھر وں کے چھتوں میں چڑھ گئے اور وہاں اینٹیں بھی جمع کر لیں۔ ہم نے سوچ لیا تھا کہ ہم انھیں اینٹوں سے حملہ کریں گے اگر وہ ہماری جانب آنے کی کوشش کریں گے۔بچوں کو ہم نے حوصلہ دلایا کہ ڈرو نہیں ہم بھی مقابلہ کر سکتے ہیں اور سچ مچ جب انھیں اندازہ ہو گیا کہ ہم بھی کچھ کر سکتے ہیں تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔اس کے بعد ہم نے تھانہ فون کیا لیکن فون ریسیو نہیں کیا گیا۔شام کو سات گھنٹہ بعد فورس آئی اور پھر چھت میں سے جہاں 300افراد جمع تھے ہمیں یہاں منتقل کیا۔اب ہمارے گھروں کو جلا دیا گیا ہے۔بھینس اور جانور کھول کر لے گئے۔ کچھ نہیں بچا ہم لٹ گئے ‘‘۔
اسی گاوں کے گلفام (30سال) کا کہنا تھا ’’ہم ہمت کر کے چار دن بعد اپنی بھینیسوں کو لانے گئے اور 6بھینسوں کو لانے میں کامیاب ہوئے ان لوگوں نے بہت سارے جانور ہمارے چرا لئے۔گاوں میں ایک بڑا مدرسہ تھا۔اس کو بھی پوری طرح لوٹ لیا۔اس میں تعمیراتی کام بھی جاری تھا۔عطیہ کی رقم بھی کافی مقدار میں اکٹھا تھی وہ سب لوٹ کر لے گئے۔مسجدوں میں بھگوا جھنڈا گاڑ دیا گیا ہے۔پتہ چلا کہ ہمارے بہت سے جانور وہ لوگ کاٹ کر کھا گئے اور بھی لوگوں کے جانور وہاں بندھے ہوئے تھے ،کئی دنوں سے انھیں کھانا پانی اور چارہ نہیں دیا گیا ہے وہ ویسے ہی وہاں پر بندھے پڑے ہیں اگر ان کی دیکھ ریکھ نہیں کی گئی تو سب مر جائیں گے ،کئی بچھڑے اور گائیں تو مرچکی ہیں۔‘‘
جولا گاؤں کا کیمپ
یہاں باضابطہ خیمہ گاڑ کر کیمپ نہیں بنایا گیا ہے ،لیکن بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کے گھروں میں مقیم ہیں۔یہاں بھی پانچ ہزار لوگ مقیم ہیں۔کسی کے یہاں دو سو لوگوں کے رہنے کا عارضی انتظام کیا گیا ہے تو کسی کے یہاں ڈیڑھ سو۔بہت سارے خاندان ٹکڑیوں کی صورت میں مختلف لوگوں نے مہمان بنا لئے ہیں ،یہاں بھی زخمی اور بے یار و مددگار اور عزیزوں اور پیاروں کو کھو دینے والے افراد کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لوگوں نے اپنے اپنے طور پر ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کیا ہے۔یہاں کے مقامی مدرسہ میں ریلیف کا سامان رکھا ہواہے جہاں سے ضرورت مندوں کو سپلائی کیا جا رہا ہے ،ایک اور مدرسہ میں طعام کا انتظام کیا گیا ہے۔یہاں لاکھ گاؤں، باوڑی ،لساڑ اور ڈونگر جیسے علاقوں کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔
یہاں حاجی مہدی کے یہاں مقیم 120لوگوں میں سے لاکھ کی رہنے والی ایک 60سالہ رئیسہ خاتون کا کہنا تھا: ’’ 8ستمبر کو صبح کا وقت تھا۔وہ لوگ بڑے بڑے لاٹھی، ڈنڈا اور بلم و چاقو لے کر گاؤں میں گھس گئے ،وہ زور زور سے چلا رہے تھے۔ ساتھ میں نعرے بھی لگا رہے تھے اور ڈھول و باجا بھی پیٹ رہے تھے۔جب ہم نے انھیں دیکھا تو ہم بیت الخلاء میں چھپ گئے۔انھوں نے ہمارے گھر میں گھس کر ہمارے دیور اور شوہر کو مار ڈالا۔میرے دیور کا نام پونی (40)تھا اور شوہر کا نام قاسم (62)۔ہم تو ڈر کے مارے وہاں سے نکلے ہی نہیں۔بعد میں جولا گاوں کے لوگ فورس کے ساتھ آئے اور ہمیں نکال کریہاں لائے ‘‘۔
یہیں مستری مانگی کے یہاں مقیم 137لوگوں میں سے ایک اقبال( 41سال )جس نے اپنے تیرہ سالہ بیٹے کو کھو دیا کا کہنا تھا :’’۔انھوں نے میرے بیٹے کو شہید کر دیا۔میرے گھر کو آگ لگا دی ،سارا اثاثہ لوٹ کر لے گئے ،ہم کسی طرح جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔میری امی 75سال کی ہے انھیں بھی ان لوگوں نے سر میں مار کر زخمی کر دیا۔گنڈاسے سے مار کر پیٹھ کو زخمی کر دیا اور آگ لگا کر بھاگ گئے۔اقبال کی والدہ رمضانو سے ہم نے ملاقات کی۔وہ بستر پر پڑی تھی اور آس پاس عیادت کرنے والی خواتین کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ان کا پچھلا حصہ پوری طرح جلا ہوا تھا ،سر پر پٹی تھی اور پشت پر بینڈیج لگا تھا۔
کینوال کیمپ :
شفیق الپٹی نامی گاؤں میں ایک وسیع و عریض سرکاری قطعہ اراضی پر تھوڑے تھوڑے سے فاصلہ پر کئی خیمے لگے ہوئے ہیں ۔وہ خواتین جو کل تک اپنے اپنی گھروں میں ہنسی خوشی زندگی گذار رہی تھیں،یہاں دھوپ کی شدت اور بارش میں ٹپکتے پانی کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور تھے ۔اس کیمپ کے ٓرگنائزر مولانا محمد داؤود اسعدی کے بقول :’’اس کیمپ میں تقریبا پانچ ہزار افراد مقیم ہیں کچھ اپنے رشتہ داروں کے یہاں چلے گئے ہیں پھر بھی روزانہ یہاں 300سے زائد لوگوں کا کھانا بنایا جا رہا ہے ۔یہاں 29گاوں کے لوگ ہیں ۔
اس کیمپ میں مقیم ایک بزرگ محمد یوسف 50سال کا کہنا تھا :رات کو پتھرا�ؤکیا گیا ،ہمارے گاؤں سے کسی کے مرنے کی اطلاع تو نہیں ہے لیکن رات بھر بلوائی گالم گلوچ ااور دلوں کو دہلا دینے والے نعرے لگاتے رہے ۔ہم سے کہا گیا کہ اگر یہاں رہنا ہے تو سارے مسلمانوں والے اعمال کرنا چھوڑ دو ،داڑھی کٹوا لو اور ہم جیسا کہیں ویسا ہی کرو نہیں تو ہم تم لوگوں کو مزا چکھا دیں گے ۔ہم بہت ڈر گئے تھے ،دروازہ بند کر لیا تھا ،کئی دنوں تک ہم گھر میں بند رہے 7ستمبر کو فورس آئی اور ہمیں شکار پوئی چھوڑ گئی اور وہاں سے ہم کیمپ میں آ گئے ‘‘
یہیں تنگائی گاؤں کی ایک خاتون جنھوں نے اپنا نام حسینہ بتایا عمر پوچھنے پر ذہن پر ذرا زور دیتے ہوئے 60بتایا ،کہنے لگیں :پہلے تو ان لوگوں نے فساد ہونے سے بھی پہلے ہمارے گاوں میں مسجد کے امام حاجی علی حسن کے اوپر غلط الزام لگا کر انھیں جیل بھیجوا دیا اور جب وہ ضمانت پر رہا ہوکر آئے تو ان کے اوپر حملہ کی کوشش کی گئی ،انھیں مارا پیٹا گیا ،ہماری مسجد جسے ستارہ مسجد کہتے ہیں میں خنزیر کا گوشت رکھ دیا ۔ہماری جانب سے احتجاج کیا گیا تو پورے گاوں کو تباہ و برباد کر دینے کی دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ہمارے کئی جانوروں کو ان لوگوں نے زہر دے کرمار دیا ،ہم اس گاوں میں صرف 30سے 40گھر ہیں ۔ہم واپس نہیں جا سکتے چاہے یہیں ہماری موت کیوں نہ آ جائے ۔
لوئی گاوں کا کیمپ :
یہاں بھی بقول یہاں کے پردھان مہربان علی کے پانچ ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں وہ کرودا ،نرپڑا ،بڑہل ،باوڑی دہا اور دوسرے گاوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے پاس نہ تو رہنے کا کوئی بندو بست ہے اور نا ہی کوئی مناسب ہیلتھ سینٹر اور دیگر سہولیات کا انتظام جس کے سبب کئی بچوں کی موت ہو چکی ہے۔کئی ایک شدید طور پر زخمی ہیں ،جن کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔یہاں بھی زیادہ تر لوگ ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے افراد ہیں۔لوگوں کی آمد کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ،اور یہ اتنی زیادہ ہے کہ ان کے رہنے سہنے اور دیگر ضروریات کا انتظام کرانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے محض امید اور دلاسا دلایا جا رہا ہے۔لیکن ابھی تک صحیح معنوں میں کچھ نہیں کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے اپنے اپنے طور پر جو کچھ ہو سکا ہے کیا ہے۔
ان کے علاوہ بھی اورمتعدد کیمپ ہیں لیکن چونکہ رات کافی ہو گئی تھی اور ہمیں دہلی واپس بھی آنا تھا اس لئے ہم ان جگہوں کا دورہ نہیں کر سکے اور یوں ہمیں اس خواہش کے باوجود کے اور بھی لوگوں سے ملاقات کرتے انھیں حوصلہ دلاتے اور دکھ درد میں شریک ہوتے وقت نہ ہونے کے سبب واپس لوٹنا پڑا۔واضح رہے کہ ہمارا یہ دورہ مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی قیادت میں تھا جن کے ساتھ مشاورت کے رکن مرکزی عاملہ نوید حامد ،ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے اخلاق احمد کے علاوہ کئی سماجی کارکنان بھی شامل تھے۔اس وفد نے پرانی دہلی کے عوام اور مقتدر طبقہ کی جانب سے عطیہ کی شکل میں دئے گئے کپڑے ،چادریں اور ضروری سامان بھی متاثرین کے درمیان تقسیم کئے۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور نوید حامد نے تفصیل سے متاثرین کی بات سنی، انھیں دلاسا دیا اور اعلی ذمہ داران تک ان کی بات پہنچانے و انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔
عمومی تاثرات
لوگ ابھی بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔کسی بھی طرح سے وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔زیادہ تر لوگ ان پڑھ ،ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے ہیں اس لئے انھیں اپنے حقوق کے لئے لڑنے حتی کہ ایف آئی آر کس طرح سے درج کرائی جائے یا کیسے لکھی جائے معلوم نہیں ہے۔پولس اور دیگر منتظمین کا رویہ متعصبانہ ہے اور وہ حقیقت حال نہ تو جاننا چاہ رہے ہیں اور نہ ہی مجرمین کو کوئی سزا دینا ،بلکہ بعض جگہوں پر جیسا کہ متاثرین نے بتایا ،حکومتی ذمہ داران نے جان بوجھ کر لوگوں کو ڈھیل دی کہ مسلمانوں پر حملہ کیا جائے اور ان کے جان و مال کو لوٹا جائے۔اس بابت پھگانہ سے شروع ہونے والے ایس او علاقہ کے اوم بی سروہی کے کر دار پر لوگوں نے سوالیہ نشان کھڑے کئے۔اسی طرح لوگوں نے ہریش چندر جوشی کاندھلہ کے موجودہ ایس او کی کافی تعریف بھی کی اور کہا کہ ان کا کر دار اس معاملہ میں مثبت رہا۔جہاں پر واردات ہوئی ہیں حکومت کی جانب سے سروے اور دیگر احکام جاری ہونے کے بعد بھی پولس کی جانب سے شواہد کے مٹانے کا کام پڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ فساد شروع ہونے سے پہلے پولیس نے مسلم گھروں سے ان کے روزمرہ کے استعمال کے اشیاء بلم، گنڈاسے اور چاقو وغیرہ ، جو ان کے دفاع میں کام آسکتے تھے، جمع کرالئے ،جب کہ باہر سے اسلحے وغیرہ لاکر فسادی عناصر میں تقسیم کئے گئے۔بعض معمر لوگ اور بچے ابھی تک مخدوش گاؤوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ کھانا مل رہا ہے اور نہ پانی۔ پولیس ان کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد نہیں کررہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگرتوجہ نہ دی گئی تو ان میں سے کچھ کمزور لوگ مرگئے ہوں گے یا عنقریب مر جائیں گے۔ جہاں مسلم اکثریت میں ہیں ان علاقوں سے بعض ہندو بھی احتیاطاً بھاگے لیکن مسلمانوں نے ان کی حفاظت کی اور کہیں بھی ان کے خلاف کوئی واردات انجام دینے کی خبریں نہیں ملیں۔کافی تعداد میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔وہ کہاں ہیں کس حالت میں ہیں کسی کو علم نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام طرح کی یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کوئی مثبت رویہ سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھ پر کیا گذری :
سچ مچ ان تمام حالات اور واقعات کو دیکھنے کے بعد مجھ پر کیا گذری میں اسے بیان نہیں کر سکتا ،کئی جگہ میری آنکھیں بھر آئیں ۔ہم صحافی لوگ روزانہ کسی نہ کسی معاملے میں کسی کے مرنے کی خبر سنتے ہیں اور اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہیں سڑک حادثہ ،تو کہیں قتل کہیں لڑائی جھگڑا ،وہاں پر ہمارے لئے صرف اور صرف خبر کی اہمیت ہوتی ہے اگر ہم ان میں جذبات کو حاوی ہونے دیں تو شاید ایک سطر بھی نہ لکھ سکیں ۔لیکن یہاں کا منظر ہی کچھ ایسا تھا کہ ہم اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے ،میں اپنے آنسووں کو روک نہیں پایا ۔انھیں تسلی کیا دیتا یہاں تو خود اپنی حالت ہی غیر تھی ۔شاید اسی وجہ سے واپسی کے موقع سے ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب جن کی معیت میں مجھے جانا نصیب ہوا تھا سے میں نے کہہ ہی دیا کہ ان تمام واقعات کو دیکھنے کے بعد تو جینے کی جیسے تمنا ہی ختم ہو جاتی ہے ،اس سے بہتر تو مر جانا ہے ،ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر خفگی کا اظہار کیا اور کافی دیر تک مجھے سمجھاتے رہے ،کہنے لگے’’ اسی معاشرے کو تو بدلنا ہے اپنی فکر سے اپنے علم سے۔۔۔ ‘‘ ۔
فساد زدہ علاقوں سے لوٹنے کے بعد جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ایسا لگ رہا ہے جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے ۔میں دیکھ رہا ہوں سڑک کے دونوں جانب لہلہاتے ہرے بھرے کھیت ہیں لیکن ان میں بھی اداسی چھائی ہوئی ،پتہ نہیں قدرت کے ان کرشمہ سازیوں کو دیکھنے کے بعد دل میں جو سرور اور طمانیت نصیب ہوتی ہے آج مجھے وہ بالکل بھی نظر نہیں آ رہا ہے ۔ایک ہو اور سناٹے کا عالم ہے ۔میں اپنے دوست اویس سلطان خان سے اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں ’’یہ نظروں کا پھیر ہے‘‘،ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن پتہ نہیں مجھے تو بڑی بے چینی ہو رہی ہے اور مجھے ہر کوئی بے قرار اور آبدیدہ نظر آ رہا ہے ۔
میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جس کے ذریعہ میں اپنی ماوں اور بہنوں کے درد اور کرب کو بیان کر سکوں ،میرے اندر اتنی ہمت ہی نہیں کہ میں ان بوڑھے بزرگ اور لاٹھی ٹیکتے ضعیف العمرلوگوں کی کہانی کو لفظوں کا روپ دے سکوں ،ان معصوم بچوں کی ان کہی کہانیوں کو لکھ سکوں جو وقت سے پہلے ،مستقبل سے بے خبر یتیم ہو گئے ۔معروف جرمن شاعر اور ادیب رائندر ماریہ رلکے نے اپنے شاگرد صحافی فرانز ژاور کاپس کو ایک خط میں لکھا تھا’’ اگر زندگی کی حقیقتوں کو بیان نہیں کر سکتے ،معاشرے کی عکاسی نہیں کر سکتے تو تم سمجھ لو کہ ایک اچھا تخلیق کار نہیں بن سکتے ،تمہیں لکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ‘‘اگر ماریہ رلکے کہ اس حقیقت پسندانہ بیان کو دیکھا جائے تو مجھ جیسے مبتدی قلم کار کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ۔لیکن اس کے باوجود میں نے اسے اس لئے لکھنے کی کوشش کی ہے کہ آنے والے دنوں کے لئے سند رہے ۔مجھے پتہ ہے اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے پھر بھی نے اسے اس لئے لکھا کہ ہمارا ۱قومی ذرائع ابلاغ اور خود اردو اخبارات جو ہمیشہ اور ہر آن قوم کی قصیدہ خوانی کا گن گاتے اور آواز اٹھانے کا دم بھرتے ہیں اتنے بڑے حادثہ کو بیان کرنے میں لگی لپٹی سے کام لیتے رہے ۔اللہ ان سب کو سمجھ عطا کرے، کہنے والے اس کو عصبیت کا شاخسانہ کہہ رہے ہیں، تو کچھ سیاسی بازی گری کا نتیجہ ،لیکن میں کیا کہوں مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔


۔۔۔مزید

منگل، 10 ستمبر، 2013

دہشت گردی کے انتہائی وسائل حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار


محمد علم اللہ اصلاحی
انسانی سماج کے لئے نہ تو جنگ نیا لفظ ہے اور نہ دہشت گردی۔ انسانی معاشرہ کے آغاز سے آج تلک اور مختلف تہذیبوں کی ترقی سے تباہی کے صفحات پر ان کی مہر لگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ انسانیت، محبت، امن اور خدا پر ایمان و یقین رکھنے والے افراد اور ان کے سرگروہان کی اس سلسلہ میں کارگزاری بھی کوئی خیر پہ مبنی نہیں ہے۔رہے وہ،جن کا کوئی مذہب ہی نہیں.... ان کی بات ہی الگ ہے، انہوں نے اپنے اپنے ازم کی تبلیغ اورفکر و فلسفہ کی ترویج کے لئے وقتاً فوقتاً اس لعنت کا سہارا لینے سے گریز نہیں کیاہے اور نہ کر رہے ہیں۔اس کی تازہ مثال شام میں ظالموں کے ذریعہ کیمیائی گیس سے سینکڑوں لوگوں کا جابرانہ اور وحشیانہ قتل ہے۔اس بارے میں ابھی تک اس بات کا انکشاف ہی نہیں ہو سکا ہے کہ حقیقت میں یہ حملہ کیا کس نے!!محض اٹکل کے تیر چلائے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام در الزام کا سلسلہ جا ری ہے۔ماضی کے تلخ تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بابت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حقیقت کے ادراک کے باوجود بھی انجام کار کوئی مثبت چیز سامنے لائے شاید ہی ہی ممکن ہے ،کیونکہ کہ یہ سارا کا سارااپنے مفاد اور محض اپنے مقصد کی حصولیابی کی خاطر ہوا ہے۔
اور اسمیں کوئی شک نہیں کہ ایسے نام نہاد فتح و کامرانی کی ہوس اور خواہشِ اقتدار نے انسانوں کو ہر دور میں جنگ کے نئے نئے وسائل کی تلاش میں لگائے رکھا ہے۔اوراسی سبب جسمانی جنگ، مہارت میں کارکردگی، تیر، تفنگ ، تلوار، برچھی ، گولی ، بندوق،توپ ، بارود، بم وغیرہ کی حدیں پار کرتے ہوئے آج انسان کیمیائی ہتھیاروں اور میزائل کے ذخیرے پر کھڑا نہ صرف خود اپنی ہلاکت کا سامان کر رہا ہے، بلکہ نسل انسانی کی تباہی کی جانب ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے اب تباہ کن حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش میں لگا ہوا ہے۔ایسے حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار جن کی مدد سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو پل بھر میں موت کی نیند سلایا جا سکتا ہے یا پھر طرح طرح کی بیماریوں کی زد میں لا کر سسک سسک کرجینے مرنے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔جب تک لوگوں کو اس قسم کے حملے کی معلومات ہوگی تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔مجھے حیرت تو سب سے زیادہ اس بات کی ہے کہ جو قوم ان کی تلاش میں سب سے آگے آگے دوڑ رہی ہے وہی آج اس سے سب سے زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی ہے اور اس کے لئے کہیں دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں، تو کہیں انسانیت کے تحفظ کا ریاکارانہ سہارا لے کرمعصوموں کا بے دریغ قتل کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہے۔انھیں خوف ہے کہ کوئی نام نہاد غیر ذمہ دار حکومت یا دہشت گرد گروہ ایسے ہتھیاروں کو نہ تیار کر لے یا کہیں سے انہیں قبضہ میں نہ لے لے۔اوریوں ان کےاپنے خاص مقصد اور ایجنڈہ کو زک پہنچے۔
قانون کی دھجیاں کس نے اڑائیں:
اس سلسلہ میں ماضی قریب جسے پوری انسانی عہد میں سب سے زیادہ پر امن ،تعلیم اور ترقی یافتہ گردان کر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے ،سب سے زیادہ تباہی اسی عہد میں ہوئی ہے۔اور اس بابت جو سب سے زیادہ خود کو امن کا نقیب ثابت کرنے اور مسیحائی کا گن گانے کی بات کر رہا ہے نے انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔چنانچہ اس بارے میں یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ خلیج کی جنگ کے وقت امریکہ جیسی سپر پاور کو عراق کے نام نہاد حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کا ڈر سب سے زیادہ ستا رہا تھا ،کیونکہ ان کی خفیہ نظام کی معلومات کے مطابق عراق نے ایسے ہتھیاروں کے سلسلے میں وسیع تحقیق کی تھی اور ان کو بڑی مقدار میں جمع کر رکھا تھا۔ تاہم اس جنگ میں ان کا خوف بے بنیاد ثابت ہوا۔اسی معاملہ کو لے کر ایران اور بعض دوسرے ممالک کو بھی دھمکیاں دی جاتی رہتی ہیں۔اور یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل مسلم ہے کہ 2009 میں مبینہ طور پر 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا خوف امریکہ کوزیادہ ستانے لگاہے۔ اس کو سب سے بڑا ڈر عراق جیسے ممالک سے تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ یہ ملک دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور ان کو ایسے ہتھیار بھی دے سکتا ہے یا پھر خود اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔اسی خوف کی وجہ سے عراق پر حملہ بھی کیا گیا اور ایسے ہتھیاروں کی تلاش وہاں آج بھی چل رہی ہے، جس میں فی الحال کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ہے۔
ان تباہ کن تمام صورتحال کو دیکھ اور سن کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ہتھیارکیا ہیں ، یہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ اور لوگ ان سے کیوں ڈرے ہوئے ہیں ؟یہ بھی سب ہی جانتے ہیں اس کے باوجود اس کا استعمال دھڑلے سے کیوں ہو رہا ہے ؟اس سلسلہ میں جب ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے کیمیائی ہتھیار کے طور پر کلورین گیس کا غلط استعمال جرمنی نے پہلی عالمی جنگ عظیم میں مو ¿ثر طور پر کیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گیس آسانی سے کسی بھی فیکٹری میں عام نمک کی مدد سے بنائی جا سکتی ہے اور اس کے ضمنی اثرات براہ راست پھیپھڑوں پر پڑتے ہیں۔ یہ گیس پھیپھڑوں کے ٹشوزکو جلا کر تباہ کردیتی ہے۔ جرمنی نے اس گیس کی کئی ٹن مقدار ماحول میں چھوڑ کر ایک قسم کا مصنوعی بادل بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور ہوا کے رخ کے ساتھ اسے وہ دشمن کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس گیس کی خوفناک طاقت کو ذہن میں رکھ کر 1925 میں اس جیسے کسی بھی زہریلے کیمیکل اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کو محدود کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دنیا کے زیادہ تر ممالک نے دستخط کئے۔ پھر بھی اس سلسلے میں چوری چھپے تحقیقی کام جاری رہا تاکہ ان کا استعمال اور بھی موثر اور منظّم طور پر کیا جا سکے۔ اس بابت تمام قواعد و قوانین کی دھجیاں اڑانے والے دوسری عالمی جنگ کے وقت جرمنی میں ہٹلر کے بدنام زمانہ گیس چیمبرزسے بھلا کون ناواقف ہوگا؟
تاریخی حوادث اور اس کے اثرات :
آج کل سائنسدان کیڑے مارنے والے ادویات میں پائے جانے والے بہت سے زہریلے کیمیکلز کو بھی موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تجربات کر رہے ہیں۔ ان کیمیکلز کے ضمنی اثرات کی شدت کا اندازہ ہم ہندوستان میں بھوپال گیس حادثہ سے،جہاں یونین کاربائڈ پیسٹی سائیڈز یعنی کرم کش ( کیڑے مار ادویات بنانے والی فیکٹری ) میں حادثہ کی صورت میں 2 دسمبر 1984 کے دن ٹاکسک اور بیماریاں پھیلانے والے بیکٹیریا کے ذریعہ کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں کی جانیں سوتے سوتے ہی چلی گئیں اور لاکھوں افراد آج بھی اس کے اثرات کو جھیل رہے ہیں۔یعنی پیدائشی طور پر بچوں کا معذور پیدا ہونا یا ایسی بیماریوں کی گرفت میں آ جانا جس کی دوائیں بھی عموما دستیاب نہیں ہیں سے لگا سکتے ہیں۔اسی طرح چھوٹے پیمانے پر 1995 میں ”مسنر و “نامی دہشت گرد تنظیم کے لوگوں نے ٹوکیو شہر میں اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی گیس کا رساو ¿کر کے ہزاروں لوگوں کو پل بھر میں زخمی کر دیا اور بارہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیاتھا۔ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین کے سپہ سالاروں نے عراق میں کردوں کی بغاوت کو دبانے کے لئے شاید ایسے ہی کسی کیمیائی ہتھیار کا استعمال کر کے ہزاروں بے گناہوں کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا تھا۔فی زمانہ ہتھیاروں کے معاملے میں تکنیکی ترقی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں، جہاں انسانیت کے خلاف عمل کرنے والے لوگوں کو تازہ ترین ہتھیار قبضہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ بربادی اور دہشت پھیلا سکتے ہیں اور پھیلا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اب تک وسیع قتل عام والے ہتھیاروں کی پیداوارکے ذخیرہ اور استعمال پر پابندی نہیں ہے۔ اگرچہ بعض ممالک نے ان ہتھیاروں پر کنٹرول کے لئے اور ایٹمی ہتھیاروں کے قوانین کے لئے قرارداد بھی منظور کی ہوئی ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کئی طرح کی کانفرنسیں کی گئیں ،لیکن ان کا نتیجہ بھی سب پر واضح ہے۔
کون کتنا آگے:
 تحقیقات کے مطابق 1985 میں 68،000 اعلی خطرناک ہتھیار تھے ، جن میں سے کچھ یعنی 4،100 فعال ایٹمی ہتھیاراب بھی ہیں اور 2013 ءتک پوری دنیا میں 17،000 کل ایٹمی ہتھیار اب موجود ہیں۔ ان میں امریکہ کے پاس سب سے زیادہ2,150 / 7,700 ہتھیار ہیں جبکہ روس کے پاس 1,800 / 8,500، فرانس کے پاس 290 / 250،برطانیہ کے پاس 160 / 225،چین کے پاس 250، ہندوستان کے پاس 65 اور پاکستان کے پاس 25 جوہری ہتھیار ہیں۔ ان سب کے علاوہ دنیا کے 80 ممالک نے وسیع قتل عام والے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنا لئے ہیں۔ امریکہ نے 1200 سے زیادہ جوہری ٹیسٹ کیے ہیں تو روس نے تقریبا 1000، برطانیہ نے تقریبا 45، فرانس نے 210، چین نے 50 اور ہندوستان نے تقریبا 10 جوہری تجربے کیے ہیں۔ پاکستان نے بھی تقریبا 10 کے آس پاس جوہری ٹیسٹ کیے ہیں، ایران، عراق، شمالی کوریا جنوبی کوریا اور لیبیا نے بھی رپورٹ کے مطابق ایٹمی ہتھیار پروگرام چلا رکھے ہیں۔ یہی بات اسرائیل کے تناظر میں بھی کہی جا رہی ہے بلکہ اس نے تو تمام حدود کو پار کر دیا ہے۔
کتنے خطرناک ہیں یہ :
لیکن انسانیت کے لئے اس کی زہر ناکی اور خطرناکی کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔حالانکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ حیاتیاتی کیمیائی عناصر جاندار کو جیسے ہی مس کرتے یا اس کے جسم میں داخل ہوتے ہیں ،اپنا عمل شروع کر دیتی ہے اور اس کا انجام آخر کار زندگی کاخاتمہ ہی ہوتا ہے۔یہ کس طرح عمل کرتی ہے اس بابت ماہرین کا کہنا ہے کہ اولین صورت میں یہ عضلات کے معلومات کے نظام کی خلیات کے لئے "ایسی ٹل کولین " نامی کیمیکل کا اخراج کرتی ہیں۔ اور چونکہ پٹھوں کا بھی نظام کی ترسیل پر ہی انحصارہوتا ہے۔اس لئے اگر اعصابی نظام کے خلیات سے ایسی ٹل کولین کو نہ ہٹایا جائے تو ہمارے جسم کااعصابی نظام پورے طور سے مسلسل تنگ ہونے لگتا ہے۔ اور اگر ایساسینہ اور پیٹ کو الگ کرنے والے ڈائی فرام کے پٹھوں کے ساتھ ہوا توانسان گھٹ کر مر جائے گا۔ایسی ٹل کولین کو اعصابی نظام کے خلیات سے دور کرنے کے لئے کولینسٹریز نامی اینزائم کی ضرورت پڑتی ہے۔جبکہ سیرین اور وی ایکس ' جیسی زہریلی گیسیں مندرجہ بالا اینزائم سے رد عمل کر کے ایسی ٹل کولین کو ہٹانے کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں، نتیجہ میں مبتلا شخص کی موت کچھ ہی لمحات میں دم گھٹنے سے ہو جاتی ہے۔ ہمارے پھیپھڑوں میں مندرجہ بالا گیسوں کی ایک ملی گرام کی مقدار ہی زندگی کو ختم کرنے کے لئے کافی ہے۔مسٹرڈ اور لیوسائٹ جیسی گیسوں کے ضمنی اثرات جلد پر چھالے اور پھیپھڑوں کے ٹشو کی تباہی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔مسٹرڈ گیس کا استعمال تو پہلی عالمی جنگ کے وقت سے ہی ہے۔ اس کی دس ملی گرام کی مقدار ہی موت کے لئے کافی ہے۔ ویسے تو بہت سے زہریلے کیمیکل ہیں جن کا غلط استعمال کیمیائی ہتھیاروں کے طور پر ہو سکتا ہے، لیکن مندرجہ بالا کیمیکل سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ زیادہ تر بیماریوں کی جڑ میں جراثیم ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اینٹی بایوٹکس اور اسی طرح کی دیگر ادویات کی تلاش سے پہلے طاعون اورہیضہ جیسی بیماریوں نے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں لی ہیں اور آج بھی انسان ایڈز،کینسراور سارس جیسی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے راستہ تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ دوسری طرف انسان انہیں بیکٹیریا کو ہتھیار کے طور استعمال کر کے ہزاروں لاکھوں جانداروں کی جان لینے کی فکر میں الجھا ہوا ہے۔اس بات سے سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ یہ صورتحال نیوکلئیر اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے کہیں زیادہ تباہ کن اور خطرناک ہے۔ جو ممالک دشمن کی دہائی کا رونا رو کر یا اپنی دادا گیری دکھا کراس کی افزائش میں لگی ہوئی ہیں اگر خدا نخواستہ کچھ ہو گیا تو وہ کیا کریں گے ؟ظاہر ہے ایسے حملے کے لئے کسی جدیداسلحہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں تو بس چھوٹے موٹے جانوروں، پرندوں، ہوا، پانی، انسان وغیرہ کسی بھی ذریعہ سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ سارس کو پھیلانے میں انسانی دماغ کس طرح ذرائع کا کام کر رہا ہے۔ یہ اس عمل کا محض ایک مثال بھر ہے۔
تنویمی معمول  :
سائنسدان کھاد پر بھی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں جبکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ اگر ہم انسانی یا حیوانی فضلہ سے بنی کھاد کو کنویں، تالاب یا پانی کی ٹنکی میں ملا دیں تو اس پانی کو انجانے میں پینے والے طرح طرح کی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے کیوں کہ کھاد میں طرح طرح کے خطرناک اور جان لیوا جراثیم پلتے ہیں۔ اس قسم کے حملوں کے بعد ہم ایک نادیدہ دشمن کے رحم وکرم پہ ہوں گے ، جس کا نہ چہرہ ہو گا نہ شناخت....ایسے میں کسی کے خلاف ہتھیار اٹھائے جائیں تو کیسے؟ اور اگر کسی طرح ان کے بارے میں پتہ بھی کر لیں تو بھی کوئی بڑا فائدہ نہ ہو گا۔ یوں کبھی نہ ختم ہونے والا حادثوں کا سلسلہ شروع ہوگا ،اس لئے کہ یہ کوئی بیماری پھیلانے والے عام بیکٹیریا تو ہیں نہیں، بلکہ جینیاتی طور پرتباہ کرنے والے ہیں، جن کے خلاف عام اینٹی بائٹک بھی کام نہیں کر پائیں گے۔ اور اس کی وجہ سے وہ ہوا ، جسے ہم سانس کے ذریعے اندر لے جاتے ہیں، جو کھانا ہم کھاتے ہیں اور جو پانی ہم پیتے ہیں سب آلودہ ہو چکا ہوگا۔جب تک ہم ان کے خلاف کارگر دوا کی تلاش کریں گے تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی اوراس وقت تک شاید پورے انسانیت ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہوگی،حالانکہ یہ حیاتیاتی ہتھیار کے استعمال کا سب سے سستا لیکن بھونڈا طریقہ ہے۔
اب ذرا کچھ ایسی مثالوں پر توجہ دیتے ہیں جوحقیقی خطرہ ہیں اور لوگ جن سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔اینتھریکس(Anthrax) پھیلانے والے بیسلس اینتھریسس (Bacillus anthracis) نامی بیکٹیریا کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بکٹریا متعدی نہیں ہے اور بنیادی طور پر جانوروں میں پھیلتا ہے، پھر بھی کھانے پینے سے سانس کے ساتھ اس کے جراثیم ہمارے جسم کے مسامات میں پہنچ کرجان لیواثابت ہو سکتے ہیں۔یہاں تک کہ ہماری جلد میں بھی اگر کوئی زخم ہے تو وہاں بھی یہ اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کچھ ہی وقت میں اس بیماری کی جان لیوا علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔سانس کے ساتھ ہمارے جسم میں آئے” سپورز“(Spores)سات سے دس دن کے اندداخل ہو کر بیماری کی علامات ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ بخار، کھانسی، سردرد، قے، سردی، کمزوری، پیٹ اور سینے میں درد، سانس لینے میں دقت وغیرہ اس کی ابتدائی علامات ہیں، جو کچھ گھنٹے سے لے کر کچھ دن تک رہتے ہیں۔ پھر یہ علامات کچھ وقت کے لئے غائب بھی ہو سکتی ہیں۔ دوسری بار ان علامات سے سانس کی تکلیف، پسینے کے ساتھ بخار ....نیزجلد پر نیلے دھبے .....نتیجہ بالآخر موت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
کھانے پینے کے ساتھ اینتھریکس کے اسپورز ہماری غذائی نالی میں پہنچ کرمتلی ، خونی قے، خونی اسہال، پیٹ درد وغیرہ کی علامات پیدا کرتے ہیں۔ 25 سے 60 فیصد لوگوں کی موت بھی ہو جاتی ہے۔ جلد پر اس کا اثر چھوٹے چھوٹے دانوں کے طور پر نظر آتا ہے جو جلد ہی پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے پانی کی طرح پیپ بہتی رہتی ہے۔ ابتدائی علامات کے وقت اس کی تشخیص " سپرو فلاکسیسین (Ciprofloxacin) نامی " اینٹی بایو ٹک " کے ذریعے سے کیا جا سکتی ہے لیکن بعد میں صرف اس " ببیکٹیریا " کو تباہ کیا جا سکتا ہے.....بیماری کو نہیں۔
اکیسویں صدی کے اوائل سے اس بیکٹریا کے ا سپورز کو پاوڈر کی شکل میں ڈاک کے ذریعہ سے پھیلانے کی کوشش بھی دیکھنے میں آئی تھی ،جس سے امریکہ کے لوگ کافی دہشت زدہ ہو گئے تھے۔ اسمال پاکس جسے ہم چیچک کے نام سے بھی جانتے ہیں، صدیوں سے ایک جان لیوا بیماری کے طور میں بدنام رہی ہے۔ اس کی زد میں آکر لاکھوں لوگ اپنی جانسے ہاتھ دھو بیٹھے اور آنکھیں تو اس سے بھی کئی گنا زیادہ لوگ گنوا چکے۔ کتنے ہی چہرے اور جسم پر مستقل خوفناک داغوں کے ساتھ بدصورتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں ویری ولا نامی وائرس سے پھیلنے والی اس بیماری سے ویکسی نیشن کی مدد سے پوری دنیا کو نجات مل گئی۔ 1975 کے بعد اس بیماری کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے پھر بھی لوگوں کو خوف ہے کہ کہیں کوئی دہشت گرد گروہ یا کوئی سرپھرا فوجی آمر اس وائرس کے کسی رد عمل کے طور پرجارحیت کا استعمال کسی حیاتیاتی ہتھیار کی مدد سے نہ کر دے۔
اسی طرح” ہیموریجک “(Hemorrhagic)بخار پیدا کرنے والا آر اے نئے قسم کا ابولا وائرس بھی حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وائرس میں مبتلا مریض کی شناخت سب سے پہلے 1975 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ہوئی تھی۔اس کی انفیکشن کے اثرات 2 سے 21 دنوں کے اندر نظر آتےہیں۔ بخار، سر درد، جوڑوں اور پٹھوں میں درد وغیرہ اس کی ابتدائی علامات ہیں. بعد میں دست، قے اور پیٹ درد کی علامات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ مریضوں میں جلد پر ددورے، لال آنکھیں اور بیرونی اور اندرونی کمزوری وغیرہ علامات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس بیماری سے کچھ مریض خود ٹھیک ہو جاتے ہیں توبہت سے مر بھی جاتے ہیں .....اور ایسے لاکھوں کیس موجود ہیں۔
”باٹیولن بیکٹیریا “(Botyulin bacteria)کے ذریعہ سے پیدا زہر کے ایک گرام کا اربواں حصہ ہی ہمارے جسم میں’ لقوہ ‘ اور فالج پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ زہر اعصابی خلیوں سے ان کیمیکلز کا اخراج روک دیتا ہے جن کی طرف سے پٹھوں کا داخلہ ہوتا ہے۔ جانوروں میں منہ کھر بیماری پھیلانے والا ببیکٹیریا بھی حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی، ان وسائل کا استعمال دہشت گرد سرگرمیوں، ہتھیاروں کے لئے تحقیق اور تعمیر پر خرچ کیا جا رہا ہے،جب کہ ان کا استعمال دوسرے مثبت کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد حملے نہ صرف زندگی چھینتے ہیں، بلکہ صحت،کی امید اور لوگوں کی توقعات کا بھی قتل کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ انفراسٹرکچر، رہن سہن اور رہائش، کھیت کھلیان، پل، ہسپتال اور باقی سہولیات کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔اس سے بنیادی ضروریا ت جیسے بجلی، پانی وغیرہ کی ترسیل میں بھی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہیں۔ قابلِ کاشت زمین زہریلی ہو جاتی ہے، سڑکوں اور گلیوں میں بیریر لگا دیے جاتے ہیں اور لوگوں کی ان تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔
حیاتیاتی و کیمائی ہتھیار کا فرق:
یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار بنیادی طور پر دو مختلف نوعیت کے ہتھیار ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیاروں میں ہمیشہ کسی جاندار فنگس، بیکٹیریا یا جاندار نما اجسام جیسے وائرس کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے دشمن کو ہلاک یا مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ حیاتیاتی ہتھیار کو چلانے کے بعد سے لے کر اس کے کارگر ثابت ہونے تک عموماً کچھ گھنٹوں سے کچھ دن لگتے ہیں یعنی ہتھیار کے چلائے جانے اور دشمن کی ہلاکت کے درمیان کچھ وقت حائل ہوتا ہے کیونکہ ان اجسام کو پلنے، بڑھنے اور پھر کام دکھانے میں وقت لگتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حیاتیاتی ہتھیار کا مقصد دشمن کو ہلاک کرنے سے زیادہ مفلوج کرنا ہوتا ہے تاکہ دشمن پر زیادہ سے زیادہ دھاک بٹھائی جا سکے۔ موجودہ دور میں یہ ہتھیار براہ راست انسان کو نقصان پہنچانے، فصلوں کی تباہی، زمین کی تباہی یا پھر مال مویشی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا اپنا اپنا طریقِ مبارزت ہوتا ہے جو اس میں استعمال ہونے والے ذریعے پر منحصر کرتا ہے۔
کیمیائی ہتھیار کا عمومی مقصد دشمن کی ہلاکت ہوتا ہے۔ کیمیائی ہتھیار اسی غرض سے بنائے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے فی الفور دشمن کا خاتمہ کیا جا سکے۔ کیمیائی ہتھیار کی عام اور قدیم ترین قسم دشمن کے علاقے میں گھس کر یا اپنے علاقے کو چھوڑتے وقت پانی کے ذخائر کو زہر آلود کر دینا ہوتا تھا جس کی مدد سے دشمن کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس کی مثالوں میں ویت نام میں ایجنٹ اورینج اور افغانستان میں روس کی جانب سے زہر وغیرہ کو پانی میں ملانا شامل ہیں۔
تاہم یہ ہتھیار جنہیں ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہا جاتا ہے، اب ایک طرح سے ماضی کا قصہ ہیں۔ نئے دور کی جنگ اب اس سے کہیں زیادہ جدید ہو چکی ہے۔ اب موسمیاتی طرز کو کنٹرول کرنے، بارش برسانے یا کسی علاقے سے بارش کو یکسر ختم کر دینے، زلزلے اور دیگر "قدرتی" تباہی جیسے طوفان برپا کرنےجیسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں۔اور ظاہر ہے اس طرح کے حملوں کا سیدھا مطلب تو یہ یہی ہے کہ لوگوں کو کھانا بھی نصیب نہیں ہوگا۔ پانی پینے کے قابل نہیں ہو گا، عمارتیں بری حالت میں اور ٹوٹی پھوٹی ہوں گی۔صحت کی سہولیات کا ملنا دوبھر ہو جائے گا اور دشمنی ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی زندگی قابل رحم ہوگی۔اس لئے دہشت گردی کے انتہائی وسائل کے خاتمہ اور انسانیت کی تحفظ کی خاطر سب کو صدق دلی سے ایماندارانہ کردار ادا کرناہوگا اورا س عفریت سے پوری دنیا کے ممالک کو مل کر نپٹنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف اور صحت مند ماحول اورآب و ہوا دے سکیں گے۔
ماحصل
ان سب کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملے سے بچنے کے لئے ہمارے پاس کوئی طریقہ ہے۔ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوگا ،حالانکہ اب اس بات پر بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔جہاں تک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے بچنے کا سوال ہے، اصل میں ہمارے پاس کوئی ٹھوس اور موثر طریقہ کارموجود نہیں ہے۔ جنگ کے علاقے میں فوجی جوان تو گیس ماسک اور جلد کو پوری طرح صاف رکھنے والے سوٹ پہن کر اپنا دفاع کسی حد تک کر سکیں گے۔ مندرجہ بالا ملبوسات کے علاوہ مختلف قسم کے ویکسین اور مختلف قسم کی بایوٹکس کی بھاری خوراک حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملے سے بھی بچاو ¿میں ممد و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن کسی ملک کے عوام، خاص طور پہ غریب اور ترقی پذیر یا پسماندہ ملک کے باسی اپنا دفاع کس طرح کر پائیں گے ؟ کیا وہ ریاستیں اپنے عوام کی حفاظت کے مندرجہ بالا اقدامات کا خرچ برداشت کر سکیں گی؟ چلیے، ایک لمحے کے لئے مان بھی لیا جائے کہ ایسا ممکن ہے تو کیا مندرجہ بالا اقدامات کافی ہوں گے؟ اس پر بھی سوچنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

جمعرات، 5 ستمبر، 2013

ہم جو ہوئے بیمار

احوالِ نا سازیِ طبع اور یاراں

محمد علم اللہ اصلاحی​
ہسپتال جانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کیسے کیسے مریض ہوتے ہیں وہاں؟ اور ان مریضوں کی تشویش ناک اور کرب ناک حالت کو دیکھ کراور ان کے امراض کے متعلق جان کر، خود کو لاحق تکلیف یا مرض بہت چھوٹا نظر آنے لگتا ہے ۔میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔گذشتہ دنوں اچانک پیٹ میں درد کی شدید لہر اٹھی، اور یہ سلسلہ اتنا زیادہ بڑھا کہ یوں محسوس ہونے لگا گویا اب موت ہی آنے کو ہے۔ ایسے میں میں ایک دوست کو بدقت تمام فون پر خبرہی دے سکا اور کچھہی دیر بعد میں اسپتال میں تھا ۔ پہنچتے ہی انجکشن، درد کم کرنے کی دوا اورساتھ ہی گلوکوز چڑھایا گیا ۔ الٹراساؤنڈ، ایکسرے، خون اور پیشاب کے ٹیسٹ ، الغرض ہر قسم کی تشخیص اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، ساری چیزیں نارمل ہیں، لیکن چونکہ انسان فطرتاَ بڑا ہی متجسس اور خوف زدہ پیدا کیا گیا ہے سو فکر اور پریشانی دامن گیر ہی رہی، ویسے بھی یہ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ تکلیف میں زندگی گزارے یا اس کا ایک پل بھی دکھ میں بسر ہو۔ بھلا میں کیوں اس سے مستثنیٰ رہتا؟

اسی تشویش میں ہی شاید!جب مجھے کوئی خاص افاقہ محسوس نہ ہوا تو میں نے دوستوں کوایک دوسرے اسپتال لے جانے کے لئے کہا۔ وہاں بھی یہی سب کچھ ہُوا، سارے ٹیسٹ دکھائے، لیکن ڈاکٹروں نے کہا: ”کسی دوسرے اسپتال کی رپورٹ کو ہم نہیں مانتے، کراس چیکنگ کرانی پڑے گی۔“اور یوں کراس چیکنگ ہوئی، مگر یہاں بھی خداوند قدوس کی مہربانیوں سے ٹسٹوں کےنتائج منفی ہی رہے۔ ادھر میری تکلیف کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر مزید کچھ دن اسپتال میں روکنا چاہ رہے تھے، لیکن چونکہ انجکشن اور دواؤں کی وجہ سے مجھے تکلیف میں کمی محسوس ہوئی تھی، جیب کا بھی خیال آتا تھا اس لئے دوستوں کے مشورے سےچھٹی کراکر واپس اپنے کمرے لوٹ آیا، اس وقت رات کے تقریبا تین بج رہے تھے ۔

مجھے نیند بالکل بھی نہیں آ رہی تھی ،جانے کیا کچھ یاد آرہا تھا ۔ایک مرتبہ پہلے بھی مجھے ایسے ہی درد کی شکایت ہوئی تھی ،جاڑوں کے دن تھے۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا اور مجھے سچ مچ اپنی موت سامنے نظر آنے لگی تھی ۔میں نے سوچا تھا دن میں لوگوں کو لاش نکالنے میں دقت ہوگی دروازہ کھول دوں ،اور دروازہ کھولنے کے لئے بستر سے جیسے ہی اٹھا ،چٹخنی کھولتے ہی درد سے بے تاب ہوکر بے ہوش ہو چکا تھا ۔اس وقت بھی ہاسٹل میں کافی بھگدڑ مچ گئی تھی اور دوست مجھے اٹھا پٹھا کر فورا اسپتال لے گئے تھے ۔گرنے کے سبب سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور ٹانکے بھی لگے تھے ۔لیکن خدا کا کرم اس وقت بھی مجھے کچھ نہیں ہوا اور ڈاکٹروں نے چند گھنٹے اسپتال میں رکھنے کے بعد چھٹی دے دی تھی ۔

ایک مرتبہ مجھے دانت میں درد کی شکایت ہوئی تھی ،اس وقت میں بہت چھوٹا تھا ،مجھے یاد آتا ہے ان دنوں میں نانی کے گھر میں تھا ۔امی گھر پر اکیلی تھیں اور میں درد سے پورے بر آمدے میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ماموں مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے ۔وہ تمام واقعات یاد آآکر میری پریشانی میں اضافہ کر رہے تھے ۔رات یوں ہی سوچوں میں گزر گئی ۔صبح ہوئی تو میں نے جامعہ ہیلتھ سینٹر کےایک سینئر ڈاکٹر شریف صاحب سے ملاقات کی اور اپنی اس تکلیف کی وجہ جاننی چاہی۔انھوں نے مجھے اپنے ایک شناسا ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا ۔ جنھوں نے ساری رپورٹیں دیکھیں اور دوائیں چیک کیں اور کہا کہ بیٹا ! کچھ بھی نہیں ہے زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اکثر ایسا ہوجاتا ہے ۔ کچھ پرہیز بتایا دوائیاں لکھیں اور کہا جاؤ آرام کرو ۔

اب درد بھی نہیں ہے اور نہ ہی بخار ۔اب تو طبیعت بالکل بحال ہو چلی ہے ۔پہلے سے زیادہ بھلا چنگا ہوں خدا کا شکر ہے۔تاہم میں سوچ رہا ہوں انسان بھی کتنا بڑا نا شکرا ہے۔ عام دنوں میں اسےاپنے رب کی نعمتوں کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ زندگی کی مصروفیات اس بات کا موقع ہی نہیں دیتیں کہ انسان ذراٹھہر کر اس بارے میں سوچے اور اپنے مالک و خالق کا شکر بجا لائے ، لیکن کسی نعمت میں ذرا سا فرق آ جائے، کوئی عیب یا اچانک کوئی انہونی ہوجائے تو انسان بے چین ہو جاتاہے اور پکار اٹھتا ہے: ”بار الہا!! مدد--“ میں بھی پکار اٹھا تھا: ”خدایا! رحم فرما“ اور آن کی آن میں کتنے احباب جمع ہو گئے تھے۔ کیسے ؟ امی اور ابو پریشان ہو گئے تھے۔امی کو تو کسی نے اطلاع نہیں دی تھی انھوں نے مجھے فون کیا اور کہنے لگی گھبراہٹ ہو رہی تھی اس لئے کال کیا ،میں نے انھیں بتایا نہیں لیکن کیسے وہ جان گئیں ؟کس طرح بار بار احباب کو فون پر ابو کی ہدایات مل رہی تھیں؟ کیسے سب جاننے والے حبیب بیتاب اور پریشان ہوگئے تھے؟۔ میں خود خدا تعالی سے کیا کیا منتیں کر رہا تھا؟، مگر ہائے رے ناشکرے متوحش انسان ! محض دو رکعت شکرانے کی نماز پڑھی اور خوش ہو لیے۔اس موقع سے میں نے دوستوں کو بھی بہت پریشان کیا اور انھوں نے بھی دوستی کا خوب بھرم نبھایا اللہ سب کو نیک بدلہ دے ۔

سوچتا ہوں اتنے اچھے اور اتنے مہرباں دوست ،ماں باپ کی شفقت و محبت ،مجھے میرے جس رب نے سب کچھ تو دیئے ۔ اس رب کا شکر ادا نہ کرنا تو نالائقی ہی ہوگی --- اے اللہ ! میں تیرا عاجز و درماندہ بند ہ ترا شکر ادا کرتا ہوں ۔تو نے مجھے جو بھی دیا بہت اچھا دیا اس کا احساس مجھے اسپتال جانے کے بعد ہوا ۔اسپتال جانے کے بعد سچ مچ یہ پتہ چلا کہ میری بیماری تو کچھ بھی نہیں تھی، بلکہ مجھ سے سیریس اور زیادہ تکالیف میں مبتلا مریضوں کی قطار لگی ہوئی تھی، کسی کا ہاتھ ٹوٹا تھا تو کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی، ایک لڑکی پاٖؤں زمین پر نہیں رکھ پا رہی تھی، اس کا پورا پاٖؤں زخموں سے لتھڑا پڑا تھا اور مکھیاں اس پر بھنبھنا رہی تھیں۔ ایک معصوم بچہ اتنی تیز سانس لے رہا تھا کہ اس کی آواز دوسرے مریضوں کو بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ ایک بوڑھا اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا، پورے اسپتال میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی، ایک طرف خواتین رو رہی ہیں تھیں تو دوسری جانب مرد حضرات مایوس کھڑے تھے ۔ مریضوں کی درد سے بھری چیخ وپکار اور تیمارداروں کی منتیں، بیزار ڈاکٹرز اور شفقت سے بے نیاز نرسوں کی بے حس آنکھیں۔ مہنگی دواؤں کے پرچے ہاتھ میں لیے پریشانی کے عالم میں باہر جاتے لوگ اور باہر سے اپنے پیاروں کو ملنے آنے والے رشتہ داروں کی بھیڑ۔ ایسی عجب سی دنیا تھی کہ الامان و الحفیظ۔

اس بیماری کے دوران میں نے ایک اورچیز بھی محسوس کی وہ یہ کہ مریض سے ہمدردی کا ایک بول بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے ،مریض سے کبھی بھی حتی کہ غیر دانستہ طور پر بھی کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جس سے اس کی تکلیف میں اضافہ ہو ۔ ابھی جب یہ بات نکلی تو مجھے یاد آیا جب میں بیمار تھا تو میرے ایک دوست نے مجھے فون کیا اور کہنے لگا : ’’سنا تھا تمہاری طبیعت خراب ہے ۔تم ابھی تک زندہ کیسے ہو مرے کیوں نہیں !‘‘ مجھے اس کی یہ بات بہت بری لگی ۔میں نے یہ بات اس سے نہیں کہی البتہ غصہ سے فون منقطع کردیا،۔اس نے دوبارہ فون کیا لیکن میں نے ریسیو نہیں کیا ۔بعد میں وہی دوست مجھے ہسپتال لے جانے والوں میں تھا اور اسپتال میں دیگر دوستوں کے ساتھ رات بھر موجود رہا ۔ مجھے پتہ ہے اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہے کہ اس کی یہ بات مجھے بری لگی تھی ۔ میں سوچتا ہوں کیا مذاق میں بھی کسی کو ایسا کہنا جائز ہوسکتا ہے؟

رات جب میں یہ سطریں لکھ رہا تھا تو میری نگاہ گیلری پر پڑی ۔ جو بالکل ویران تھی ۔یہ منظر دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ میرے کمرے کی گیلری میں کچھ دنوں سے گلہریوں کی آمد نہیں ہوئی اور میں تنہا درو دیوار کو تکتا رہتا ہوں ۔ میں بے تابی سے صبح کا انتظار کرنے لگا لیکن گلہریاں دکھائی نہ دیں ۔ مجھے یاد آیا کہ میں تو کل تک ان گلہریوں کوکوسا کرتا تھا اور جب وہ صبح کے وقت چلانا شروع کرتیں تو مجھے بہت غصہ آتا تھا کہ کم بخت نیند خراب کرنے چلی آتی ہیں ۔انھیں زور زورسےڈانٹتا اور کرسی پٹختے ہوئے دوبارہ دروازہ بند کر سوجاتا اور یوں گلہریاں بھاگ جاتیں ۔شاید ڈر کر ۔۔مجھے احساس ہوا کہ ان کی آواز مجھے اس تنہائی میں کسی کے قرب کا احساس دلا تی تھیں ۔لیکن گلہریاں شاید روٹھ گئی ہیں اس لئے تو اب نہیں آتیں۔

مجھے ایک ترکیب سوجھی ۔بیماری کے ان دنوں میں دوست میرے لیے جو بسکٹ لے کر آئے تھے میں نے ان میں سے دوچار گیلری میں رکھ دئیے۔مجھے اس وقت بہت خوشی ہوئی جب گلہریوں کو گیلری میں ادھر سے ادھر پھدکتے دیکھا ۔ صبح ان کی آواز سے ہی بیدار ہوا نماز بھی پڑھی اور خوب پڑھائی بھی کی ۔اب میں انھیں ڈانٹتا نہیں ،میں نے ان سے اب دوستی کر لی ہے ۔بہت دنوں سے ایک الارم کلاک خریدنے کاسوچ رہا تھا ۔موبائل والے الارم سے نہیں اٹھ پاتا کئی مرتبہ تو یہ بجتا بھی نہیں ۔لیکن اب اس کی ضرورت نہیں میں نے گلہریوں سے کہہ دیا ہے مجھے روزانہ چیخ چیخ کر جگا دینا تمہیں بسکٹ بھی دوں گا گلہریاں بھی کافی سمجھدار ہیں اپنی ڈیوٹی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں ۔ان کے بدولت جلد اٹھنا بھی نصیب ہو رہا ہے اور صحت بھی اب کافی اچھی اوربہتر ہے ۔

۔۔۔مزید

پیر، 26 اگست، 2013

چراغِ بزمِ ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ


محمد علم اللہ اصلاحی
لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی
آؤ پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی
تو آئیے کچھ ذکر کرتے ہیں ’دہلی ‘کے اس علاقے کا۔
"جہاں پورے ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ،مہذب ، ادب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں "
"جہاں دریائے جمنا کے خوبصورت کنارے اور ہرے بھرے باغ ،کویل کی کوک اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونجتے ہیں "۔
" جہاں پر واقع معروف ،قدیم ،ثقافتی اور مرکزی دانش گاہ’ جامعہ ملیہ اِسلامیہ‘ اک عالم کو اپنے علم سے منور کرتی ہے "۔
" جہاں ہندوستان کی تقریباً تمام ہی ملی تنظیموں کے دفاتر اور مراکز ہیں "۔
"جہاں سے’ ملی گزٹ ‘،’ہندوستان ایکسپریس‘،’دعوت‘،’افکار ملی‘ ،’ریڈینس‘،’پیام تعلیم‘،’کتاب نما ‘کے علاوہ سیکڑوں اخبارات ،رسائل و جرائد اور میگزین چھپتے اور اک جہان کے دلوں پر راج کرتے ہیں "۔
" جہاں عالمی شہرت یافتہ’اسکورٹ‘ ( دل کا اسپتال )،’ ہولی فیملی‘ اور’ مہندرا سنگھ‘ جیسے مستشفی خانے واقع ہیں"۔
جہاں کے کباب شاورما ، ذائقے دار پکوان و ڈشوں کی خوشبوؤں سے معطر ریستورانوں کی قطاریں پورے انڈیا میں معروف ہیں۔"
" جہاں فطرت سے محبت کرنے والے انسانوں کے علاوہ نیلے ،پیلے اور ہرے پنکھوں والے ہزاروں پرندوں کی" اوکھلا برڈ سینکچواری " میں آمد ہوتی ہے "۔
" جہاں پورے ملک سے آنے والی وسائل حمل و نقل طرح طرح کے پھلوں اورسبزیوں کو " اوکھلا سبزی منڈی " میں پہنچاتے ہیں "۔
جب اس جگہ کا ذکر کیا جائے تو ان گنت اہم ،پرکشش ،معروف اور رنگا رنگ روشنیوں ،تہذیبوں اور تاریخوں سے آراستہ مقامات کا نام سن کر ہمارے دل میں ایک عجیب و غریب اور کسی الگ دنیا کا تصور ابھرتا ہے۔اور یوں لگتا ہے گویا اس جنت نشاں علاقے میں ہر قسم کی سہولیات ہوں گی ،یہاں کے لوگ خوش و خرم اور بے فکر ہونگے،یہاں کے پر سکون ماحول میں بسنے والے چین کی بنسری بجا رہے ہوں گے اور بہترین طریقے پر پر سکون اور معیاری زندگی گزار رہے ہوں گے۔
لیکن اگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔میں یہاں پر نیو فرینڈس کالونی ،ذاکر باغ ،کالندی کنج ،جسولہ جیسی پوش کا لونیوں اور بستیوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ جہاں حکومت کے ہر طرح کی عنایات اکرامات اور نوازشات شامل حال رہتی ہیں۔جہاں بڑے بڑے مالدار لکھ پتی،کروڑ پتی، ارب پتی، کھرب پتی، بیوروکریٹس ،لیڈر اور وی آئی پیز رہتے ہیں۔بلکہ میں بات کر رہا ہوں ان بستیوں کا جہاں کے لوگوں کا ایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ کرب اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ جن کی نہ تو حکومت کو فکر ہے اور نہ ہی ان تنظیموں کو جو ہمیشہ اور ہر آن حقوقِ اِنسانی کی بات کرتی ہیں ، جب دہلی جیسے شہر میں اَیسی تعصب و تنگ نظری کے جال میں پھنسی ہوئی بستیاں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو باآسانی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دیہی علاقوں کی کیا صورتحال ہوگی؟ وہاں کی مسلم بستیوں میں بنیادی وسائل کی کس قدر کمی ہوگی ؟ وہاں کے باشندے کس کسمپرسی اور بدحالی میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔؟
کیا آپ دہلی کے اس علاقہ کا تصور کر سکتے ہیں جس میں بعض ایسی بھی بستیاں ہیں جہاں پوری کی پوری بستی میں محض ایک یا دو دسویں پاس ہیں۔ہزاروں ایسے ہیں جن کےووٹر آئی ڈی (شناختی کارڈ )نہیں ہے ،نالیاں اور سڑکیں نہیں ہیں۔نوجوان نوکریوں سے محروم ہیں ،پانی بجلی اور اسی طرح کی دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے،شاید نہیں !
مگر یہ حقیقت ہے اور ذاکر نگر،غفار منزل،ابوالفضل،شاہین باغ ،طوبی کالونی ،بٹلہ ہاوس،محبوب نگر اور اس جیسی ایسی کئی بستیوں کا شمار ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے۔ جہاں کھانے پینے کے ڈھابے اور ریستوران کے سامنے گندگی کا ڈھیر پڑا بدبو پھیلاتا دکھائی دیتا ہے تو کہیں آٹو رکشا اسٹینڈ عوامی بیت الخلاء کے ساتھ ہی بنا نظر آتا ہے۔ کہیں پورے کے پورے بس اسٹینڈ میں کیچڑ، گندگی،بدبو اور دلدل کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے تو کہیں صحت کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری ہسپتال، میڈیکل کالج، نجی نرسنگ ہوم وغیرہ گندگی اور کوڑے کے ڈھیر اور ٹھہرے ہوئے گندے برساتی پانی سے گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ان علاقوں میں آپ کہیں بھی چلے جائیں۔ بینک، کوئی بھی سرکاری دفتر، مساجد ،اسکول ،سنیما گھر یہاں تک کہ ذاتی کاروباری مراکز وغیرہ تمام جگہوں پر کوڑے کا ڈھیر، نالوں کے رکے ہوئے پانی، ان پر اُڑتے، بھنبھناتے زہریلے مچھروں کی افزائش نسل کی کالونیاں دکھائی دیں گی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کو انہی جگہوں پر دہلی سرکار کے ہورڈنگز اور بڑے بڑے بینر وعدوں وعیدوں اور مبارکبادوں کے ساتھ آویزاں نظر آئیں گے۔جنہیں دیکھ کر ذہن میں سوال اٹھے گا کہ کیا حکومتِ دہلی کو اس بات کی تھوڑی سی بھی سمجھ نہیں ہے کہ یہاں کے عوام نہ صرف ہوڑدنگ دیکھنے کی بلکہ ان کے اردگرد پھیلی گندگی، اندھیرے اور بھاری ترقی کو دیکھنے کا مادہ بھی رکھتے ہیں۔ان کی صرف اتنی سی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اور ان کے بچے بیمار نہ پڑیں، خوش رہیں، ہر طرح کی نہ سہی کم از کم بنیادی سہولیات تو ہوں۔ مگر یہاں پر حکومت کا کام کاج کس طریقے سے چل رہا ہے۔ان علاقوں سے گذرتے ہوئے بدرجہ اتم محسوس کیا جا سکتا ہے۔بلاشبہ پھیلی گندگی کے لیے ایک حد تک عوام کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن دہلی کے کوڑے دانوں میں دھماکے کیا ہو گئے گویا حکومت کو بہانہ مل گیا علاقوں میں ڈسٹ بین نہ رکھنے کا۔(راقم الحروف خود کئی بار کیلے کے چھلکے، بریڈ کے خالی پیکٹ ہاتھ میں لئے آدھا آدھا کلومیٹر تک پیدل چلا، لیکن کہیں کوئی ڈسٹ بین دکھائی ہی نہیں دیا۔)
پارٹیوں اور لیڈروں کے بڑے بڑے بینروں کی جیسے باڑھ آئی ہو،کہیں کوئی عید کی مبارکباد دیتا نظر آتا ہے،تو کہیں کوئی چھوٹے سے کرائے گئے کام کی تفصیل،کہیں موٹے موٹے حروف میں خرچ کئے گئے بجٹ لکھے نظر آئیں گے تو کہیں عوام کا بے جا شکریہ ادا کرتے ہوئے اشتہارات۔کہیں امید بھری نگاہوں کے ساتھ عوام سے ووٹوں کی التجا کرتی تصویر لگی ہوگی اور ٹھیک اس کے نیچے کوڑے کا بدبو دار ڈھیر انھیں کا منہ چڑا رہا ہوگا۔اگر برانڈ، مصنوعات اور کمپنیاں اتنے بڑے سائز کے ہورڈنگز لگاتی ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ گاہکوں کو بہلا پھسلا کران کے خواب خرید کر اپنی مصنوعات بیچتی ہیں۔لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت اور لیڈر اس طرح کے جارحانہ مہنگے اشتہارات میں بے شرمی سے اُتر کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟سچی بات تو یہ ہے کہ جتنی بجلی کی کھپت ان اشتہارات کوشو کرنے یا روشنی میں نہلانے کے لئے ہوتی ہے۔ اتنی بجلی تاریک گلیوں یا کمیونٹی اداروں میں فراہم کی جائے تو حکومت کو بنا اشتہارات ہی کے عزت و شہرت مل جائے۔مانا کہ سیاسی اشتہارات کی دوڑ میں سیاسی پارٹیاں اور خود موجودہ حکومت بھی برانڈ کے طرز پر کام کرتی ہے لیکن برانڈ کمپنیاں بھی اس حد تک بے شرمی اور اسراف نہیں کرتیں جتنا کہ یہ سیاسی لیڈران۔
کچھ ایسے ہی حالات و مناظر کو دیکھ کر حیدرآباد دکن کے مشہور تاجر و قلم کار علیم خان فلکی نے اپنے بلاگ " سفرنامہ ؛ دلی کہاں است " میں لکھا کہ ” اوکھلا، ذاکر نگر اور جامعہ ملیہ وغیرہ میں پتہ نہیں چلتا کہ پہلے گندگی کو بسانے کی پلاننگ کی گئی یا پہلے مسلمانوں کو بسنے کا موقع دیا گیا۔یہاں کے لوگ صبر ایوارڈ دیے جانے کے لائق ہیں۔ بالخصوص بارش کے موسم میں جب گندے نالے اور بارش کا پانی ایک ساتھ مل کرسڑک پر گنگا جمنی تہذیب کی طرح اتحاد سے بہتے ہیں تو پتہ نہیں لوگ سانس کس طرح لیتے ہیں۔ ایک صاحب سے ہم نے پوچھا "آپ کی ناک کس طرح یہ بدبو برداشت کر لیتی ہے"، انہوں نے پوچھا "یہ ناک کہاں ہوتی ہے"۔اتفاق سے ملک کی سرکردہ دینی اور ملّی جماعتوں کے مراکز بھی انہی علاقوں میں ہیں، اسی لئے حکومت بھی یہاں کی گندگی کو مسلمانوں کے پرسنل لائف کی طرح کا ایک داخلی معاملہ سمجھتے ہوئے بالکل دخل اندازی نہیں کرتی۔ البتہ کبھی انکاؤنٹر یا دہشت گردی کی کسی اِسٹوری کی شوٹنگ کرنی ہوتی ہے تو ادھر آ جاتی ہے کیونکہ بٹلہ ہاوس جیسے علاقوں میں شوٹنگ سے فلم بہت ہِٹ ہوتی ہے۔ چونکہ اب آبادی ہزاروں گنا بڑھ چکی ہے، زمانہ ترقی کر رہا ہے اس لیے ان علاقوں کو اب مغلیہ انتظامیہ سے نکال کر شیلا  دکشت کے انتظامیہ کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ محترمہ نے جو نئی دہلی کو ترقی دی ،وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ لگتا ہے آپ یورپ یا امریکہ ہی کے کسی شہر میں پہنچ گئے ہوں۔ یہ عجیب معاملہ ہے جو اب حیدرآباد میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ صاف ستھرے علاقوں میں باہر سے آ کر بسنے والے رہیں اور اصل شہری انہی تنگ و تاریک و متعفن پرانے علاقوں میں رہیں جنہیں ان کے آبا و اجداد نے بسایا تھا۔“
ان کی یہ تحریر بظاہر طنزیہ معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا ایک ایک حرف سچائی کی گواہی دے رہا ہے۔ان کے لفظ لفظ سے درد اور کرب کا اظہار ہو رہا ہے۔یہ صرف علیم خان کی بات نہیں ہے اس بارے میں اور بھی بہت سارے لوگ لکھتے ہیں اور حکومتی ذمہ داران کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حکومتی ذمہ داروں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی بلکہ الٹا یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ۔’’مسلمانوں کا کام ہی ہے صرف رونا ،یہ اُن کی عادت بن چکی ہے۔ ‘‘ اب انھیں کون بتائے کہ ہم واقعی میں ہمیشہ روتے رہتے ہیں یا درد اور تکلیف سے کراہتے ہیں۔بقول شاعر:
میں رونا اپنا روتا ہوں تو وہ ہنس ہنس کے سنتے ہیں
انھیں دل کی لگی اک دل لگی معلوم ہوتی ہے
خیر وہ تو ایک مسلمان کا تجزیہ تھا کچھ غیر مسلم دوستو ں کے تجزیے کو بھی دیکھ لیں۔’گوپال پرساد‘ اپنے بلاگ”سمپرن کرانتی “میں ’زہریلی ہو چکی ہے دہلی کی آب و ہوا‘ میں لکھتے ہیں ”دہلی میں جہاں جہاں لینڈ ہیں، وہاں زیر زمین پانی زہریلا ہو چکا ہے۔ پینا تو دور یہ دوسرے کاموں کے قابل بھی نہیں رہ گیا ہے۔ اس سے اٹھتی بو اور گندگی کی وجہ سے ارد گرد کے لوگوں کا سانس لینا بھی دوبھر ہے۔فضائی آلودگی کی سطح خطرے کو پار کر چکی ہے۔ان تمام کے باوجود لینڈ فل کے مسئلے سے مستقل طور پر نجات حاصل کرنے کے لئے نہ تو دہلی حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی دہلی میونسپل کارپوریشن کے پاس“۔وہ آگے لکھتے ہیں:”دہلی کے اوکھلا اور غازی پور لینڈ فل سائٹ کے ارد گرد آباد لوگوں کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (کیگ) کی ہندوستان میں ویسٹ مینیجمنٹ نامی رپورٹ میں دہلی کے بھلسوا ں اور اوکھلا لینڈ فل کے ارد گرد زیر زمین پانی کا ٹی ڈی ایس (ٹوٹل ڈزولو سولڈ) مطلوبہ حد سے 800 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے زمین کا بھاری پن مقررہ حد سے 633 فیصد زیادہ ہو چکا ہے۔ اس لینڈ فل کے کیچڑ کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ پانی کا ڈی ڈی ایس مناسب حد سے 2000 فیصد زیادہ ہے اور اس کا کھارا پن 533 فیصد زیادہ۔پانی میں کلورائڈس کی ضرورت کی حد فی لیٹر 250ملی گرام کے مقابلے میں فی لیٹر 4100 ملی گرام ہے۔اوکھلا لینڈ فل سائٹ کا ٹی ڈی ایس ضرورت کی حد سے 244 فیصد زیادہ ہے۔زمینی پانی زہریلا ہو چکا ہے۔ ان لینڈ فلوں کے ارد گرد کی ہوا کا معیار بھی تباہ ہو چکا ہے۔اس کے ارد گرد کے علاقے کی فضائی آلودگی خطرے کی سطح کو کبھی کی پار کر چکی ہے“۔
ایک اور بلاگر ’نلیما‘ کے ” واد سمواد“ نامی بلاگ آنکھ کی کر کری کالم کے تحت شائع مضمون ’گذرئیے بھوک، ہوس اور گندگی کے مارکیٹ سے - ذرا دامن بچا کے ‘پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک قاری کملیش مدان لکھتے ہیں ”آگرہ سے دہلی کی طرف آنے پر جب حضرت نظام الدین کے نالے کے اوپر سے گزرتے ہوئے دہلی میں داخلہ ہوتا ہے تو وہاں صاف دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں اور اس نالے پر رہنے والے جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔آگے بڑھنے پر اوکھلا کے شارٹ کٹ پر ریلوے کے کنارے رفع حاجت، نشہ کرتی نوجوان غریب نسل جو شائننگ انڈیا کو شرمسار کرتی ہے۔وہیں خود کے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے پہلے جب لوکل ٹرین رکتی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ کس کس طرح کے لوگ پٹریوں کے کنارے اسموکنگ، شراب نوشی کرتے ہوئے عجیب و غریب حالات میں ملتے ہیں“۔
اس مضمون کو لکھنے سے پہلے میں نے کئی علاقوں کا دورہ کیا ،لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل جاننا چاہے۔تو انھوں جو باتیں بتائی وہ خون کے آنسو رلا دینے والی تھیں کسی کا کہنا تھا کہ  گندگی اتنی ہے کہ میری بچیوں کے رشتے نہیں لگ رہے ،لوگ واپس لوٹ جاتے ہیں ،ایک اور شہری کا رونا تھا  کہ ڈائریا (پیچش)کی وجہ سے میرے جواں سال بیٹے کا انتقال ہو گیا ،ایک اور شہری کی دُہائی تھی کہ اس علاقہ میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہوگا جسے کچھ نہ کچھ بیماری نہ ہو۔ایک اور صاحب کا کہنا تھا کہ مسجد کو جاتے ہوئے ہمیشہ اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کپڑے ناپاک نہ ہو جائیں۔ہر زبان پر ایک الگ کہانی تھی۔کن کن کا ذکر کروں ،میرے قلم میں اتنی تاب بھی نہیں ہے۔
پڑھے لکھے لوگوں سے بات کی تو ان کی الگ داستانیں تھی۔ کسی کو جاب نہ ملنے کی شکایت تو کسی کو علاقہ میں بہتر اسکول نہ ہونے کا شکوہ۔کئی لوگوں نے بتایا کہ حق اطلاعات ایکٹ کے تحت پوچھے جانے والے سوالات کا بھی گو ل مول جواب دیا جاتا ہے۔لوگوں کی یہ بھی شکایت تھی کہ صفائی ملازمین کو ئی آٹھ دس دنوں میں ایک بار آ کر محض خانہ پری کر جاتے ہیں ، ہم لوگوں کے لاکھ کہنے پروہ نہیں مانتے، اِضافی رقومات کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ بھی پورا کر دیا جائے تب بھی وقت پر وہ نہیں آتے اور یوں ہفتوں ہفتوں گندگی پڑی رہتی ہے۔ نالی کی سڑاند اور تعفن کی وجہ سے آئے دن ہم نت نئی بیماریوں کے شکار رہتے ہیں ،اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمت کے ساتھ ساتھ علاج و معالجہ ہمارے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہے۔بہت سارے لوگ تو بات کرنے سے ہی کترا رہے تھے ،گویا خواجہ حیدر علی آتش کی زبان میں وہ کہنا چاہ رہے ہوں۔
چراغِ بزمِ ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ
جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد
اس سلسلہ میں حکومتی ذمہ داران سے بات کی جائے تو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور ساری ذمہ داری ایجنسیوں اور متعلقہ اداروں کی لاپرواہی پر ڈال دیتے ہیں وہیں جب عوام سے بات کی جائے تو وہ حکومت کی اندیکھی اور عصبیت پرستانہ رویوں کا رونا روتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے گندگی پھیلنے اور پھیلانے کے لئے جہاں ریاست کے عوام کو بری نہیں کیا جا سکتا، وہیں ریاستی حکومت اور مقامی بلدیہ اور حکومت کے محکمہ صحت کو بھی راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا مقامی انتظامیہ، میونسپل ادارے، اور دیگر ایجنسیاں گندگی کے اس انبار اور بیماری کی جڑ کے خلاف ایک وسیع مہم نہیں چھیڑ سکتیں؟ نالی اور نالوں کی صفائی کو لے کر کیا وسیع مہم نہیں چلائی جا سکتی ؟ جس سطح پر وزیر اعلی کی دیگر علاقوں پر نوازشات ہیں اسی سطح پر اگر ان علاقوں میں بھی حفظان صحت کے لئے بیداری کی مہم چلائی جائے تو انہیں کامیابی نہیں ملے گی ؟
لیکن سچ تو یہ ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر آنکھیں پھیر لی ہیں ،اگر کسی کو واقعی نیند آ جائے تو اسے جگایا اور بیدار کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر آنکھیں موند لے تو اسے کبھی بھی بیدار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال حکومت کا ہے ۔وہ چاہتی ہی نہیں یہاں کے مسائل حل کرنا ، ورنہ یہ صورت حال نہ ہوتی ،لوگ خون کے آنسو نہ رو تے ،بوڑھے کمزور اور ضعیف افراد اپنی تقدیر کو کوسنے کے علاوہ منتظمین ،حکومت اور اداروں کو برا بھلا نہ کہہ رہے ہوتے۔افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ اس علاقہ کے مکینوں کو بھی اس کی فرصت نہیں کہ وہ ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں او ر اپنے حقوق چھین سکیں۔ظاہر سی بات یہ ہے کہ جب بنیادی اور لازمی سہولیات کے فقدان کے باوجود عوام کا ایک بڑا طبقہ ذہنی طور پرکسی بیداری مہم کا حصہ بننے کو ہی تیار نہ ہو، تو چند مٹھی بھر بیدار لوگ کر بھی کیا سکتے ہیں؟




۔۔۔مزید