منگل، 13 مئی، 2014

سفید کپڑوں والی


سفید کپڑوں والی (افسانہ)
محمد علم اللہ اصلاحی( نیو دہلی انڈیا)



رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ بسوں، کتوں اور الووں کی آوازیں سناٹے کو چیرتی ہوئی دور سے کبھی کبھی سنائی دے رہی تھیں۔ دور دور تک کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ،برگد کی جھکی ہوئی شاخیں جیسے کسی چڑیل کے بالوں کی لٹیں معلوم ہو رہی تھیں۔ فراز بڑی تیزی سے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اچانک آسمان میں شدید بجلی کڑکی ،چونک کر اس نے نظر اٹھا کے دیکھا۔ آسمان ایک طرف سے بالکل کالا دکھائی دے رہا تھا۔اور اس میں چاند اور تاروں کی جگہ اسے عجیب و غریب مخلوقات کے ہیولے دکھائی دے رہی تھیں۔ان کے منہ زمین کی طرف تھے اور وہ آگ کے شعلے اگل رہے تھے۔ کسی اجنبی اندیشے سے اس کا دل کانپ اٹھا۔ وہ چلنا چھوڑ کر اب دوڑنے لگا۔ اسی وقت آسمان سے آگ کے بڑے بڑے گولے گرنے لگے۔اور وہ گرتے ہی ارد گرد کے درختوں اور پودوں کو اپنی گرفت میں لینے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں فراز شعلوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس کو اپنی موت بالکل قریب نظر آ رہی تھی۔اچانک سامنے اسے ایک بچہ دکھائی دیا جو جلتی ہوئی آگ میں بھی ننگے پاوں اسی کی طرف بڑھا چلا آ رہا تھا۔ بچے کے ہاتھ میں ایک لالٹین تھی جس کی روشنی بہت محدود تھی۔پاس آ کر بچے نے اپنی انگلی اوپر اٹھا لی، فراز نے اسی سمت دیکھا تو ایک خاکسترشدہ درخت کے پاس ایک بڑھیا کھڑی تھی، جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھی اور بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتی تھی۔اسے دیکھ کر اس کی چیخ ہی نکل گئی۔
چیخ کے ساتھ ہی یک لخت کسی برتن کے ٹکرانے کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی تھی ،اس کا سارا بدن پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔اس نے اٹھتے ہی لائٹ آن کی تو دیکھا ایک کالی بلی فرش پر گرا ہوادودھ چاٹ رہی تھی ،وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اسے جتنی بھی قرآنی سورتیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں۔ گھڑی کی طرف نظر دوڑائی، ابھی رات کے تین بجے تھے، یعنی صبح ہونے میں ابھی بھی کافی وقت باقی تھا۔ اس نے اپنی بیوی کی طرف نظر ڈالی، وہ اس وقت آرام سے سو رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر اضمحلال کے آثار تھے، البتہ اس کے بچے بے فکری کی نیند سو رہے تھے۔پانی پی کر اس نے ایک سگریٹ سلگائی اور نیچے اتر کر گھر سے باہر آ گیا اور سگریٹ پیتے ہوئے سوچنے لگا۔ گزشتہ کئی ماہ سے ایسا ہی ہو رہا تھا۔ اسے اکثر رات کو ایسے ہی خوفناک خواب آنے لگے تھے۔اور آج تو یہ سفید کپڑوں والی بڑھیا بھی!!!
سگریٹ ختم کر کے وہ واپس بستر پر لیٹ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ صبح اٹھتے ہی کسی ڈاکٹر سے اس بارے میں مشورہ کرے گا اور یوں ہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔جب بیدار ہوا تو صبح کے سات بجے تھے۔اس نے مریم کی طرف دیکھا جو ابھی سو ہی رہی تھی، وہ تیزی سے باتھ روم کی طرف بھاگا۔ وہ آج پھرآفس کے لئے لیٹ نہیں ہونا چاہتا تھا۔ آدھے گھنٹے میں ہی تیار ہو کر وہ سائٹ کے لئے نکل پڑا۔اس طرح کا خواب وہ اس سے پہلے اس گھر میں اور بھی کئی مرتبہ دیکھ چکا تھا۔ لیکن اس نے اس کا اظہار کسی سے نہیں کیا تھا۔مریم سے بھی نہیں جو اس کی بیوی تھی بہت پیاری بیوی۔حالانکہ مریم بھی کئی مرتبہ اسے اس طرح کے خوفناک واقعات کا تذکرہ کر چکی تھی۔مریم نے اسے اپنے خواب کی ایک سفید لباس میں ملبوس بڑھیا کے بارے میں بھی بتایا تھا جو اسے لے جانا چاہتی تھی۔کئی مرتبہ مریم جیسے نیند میں اس سے کہہ چکی تھی ” فراز وہ مجھے لے جائے گی ،دیکھو دیکھو نا دروازے کے پیچھے۔۔ ہاں وہ وہ آ گئی مجھے لے جانے کے لئے۔۔۔ ۔“ اور وہ کبھی اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتی۔ فراز مریم کو پکڑنے کی کوشش کرتا لیکن وہ بھاگی ہی چلی جاتی اور پھر اکیلے ہی بڑبڑانا شروع کر دیتی ، کئی مرتبہ وہ اسی حالت میں بے ہوش بھی ہو گئی تھی۔اور جب ہوش میں آتی تو مریم کو حیرانی ہوتی کہ وہ یہاں کیسے چلی آئی تھی۔اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ خوف زدہ رہنے لگی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی آسیب یا چڑیل نے ان کے گھر میں ڈیرا جما لیا ہے ،مریم اکثرکام کرتے ،پڑھاتے یا بچہ کو دودھ پلاتی ہوئی بھی چیخ پڑتی۔ دو تین بار ڈاکٹروں کو بھی دکھایا، وہ نیند کی گولیاں دے دیتے یا ہاضمے کی، یا کچھ اور۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا اب تک۔
سائٹ سے کام نمٹا کر جب وہ گھر پہنچا تو اسے مریم کا چہرہ کچھ اترا ہوا دکھائی دیا۔
”کیا بات ہے آج پھر تمہارا چہرہ اترا اترا دکھائی دے رہا ہے “ فراز نے سوال کیا۔
”پھر وہی سفید کپڑوں والی بڑھیا آئی تھی!!“
جب مریم نے بتایا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ پھر ایک مرتبہ خوف اور ڈر کے سمندر میں غوطہ لگانے لگا۔ ایک دم جھر جھری سی طاری ہو گئی اس کے اوپر۔
مریم بتا رہی تھی ”آج میں نے پھر اس بڑھیا کو دیکھا وہ مجھے چلنے کے لئے کہہ رہی تھی۔ وہ مجھے مار دے گی فراز۔ وہ میرے پیچھے پڑ گئی ہے۔ اس کے پاوں الٹے تھے اور وہ لوہے کے بڑے بڑے نتھنے اور کان پر لمبی لمبی پیتل کی بالی پہنے ہوئے تھی۔اس کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا نما سانپ تھا جسے وہ پکڑی ہوئی تھی۔ اس کا ہاتھ سانپ کے پھن پر تھا۔“ مریم بتاتے بتاتے رونے لگی تھی۔
فراز نے اسے تسلی دی ”چلو یہ سب وہم ہے تمہارا ، بے پر کی باتیں مت سوچا کرو کتنی مرتبہ تم سے کہا ہے ”اپنے آپ کو مصروف رکھا کرو ،اور تنہا مت بیٹھا کرو ،خالی ذہن میں ایسے ہی خیالات آتے ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ یہ صرف تمہارے خیالات ہیں جھٹک دو انہیں۔“
فراز نے مریم کی بانہوں میں بانہیں ڈال دیں”چلو آج کہیں باہر چائے پینے چلتے ہیں اور باہر ہی رات کا کھانا بھی کھائیں گے۔بچوں کو بھی تیار کر لو“
تھوڑی دیر بعد مریم گلفشاں کوسینے سے چپکائے ہوئے تھی اور انظر کو فراز گود میں لئے تھا۔ دونوں باہر نکل کر پیدل ہی پاس کے ہی ایک ریستوران کی طرف بڑھنے لگے ۔ فراز اپنے کسی خیال میں کھویا چل رہا تھا کہ مریم کی آواز نے جیسے اس کو چونکا دیا۔
”تم نے کچھ کہا؟“ فراز نے پوچھا۔
”ہاں، لیکن ریستوران پہنچ کر“
اور جب ریستوران میں کھانا سرو کر دیا گیا، تو پہلے دونوں نے بچوں کو کھلانا شروع کیا، لیکن فراز اور مریم دونوں کسی انجانے خوف سے اپنی پلیٹیں چھو بھی نہیں سکے۔ آخر مریم نے ہی سکوت ایک جھناکے سے توڑ دیا۔
”وہ۔۔۔ سفید کپڑوں والی بڑھیا کہہ رہی تھی کہ فراز سے پوچھو کہ کیا اسے سفید پری یاد نہیں“
”سفید پری ؟؟؟ لیکن میں تو کسی سفید پری کو نہیں جانتا“
”لیکن یاد کرو، کوئی پرانی یاد ہو ایسی تو۔۔۔ “
”میری زندگی میں تو کبھی کوئی لڑکی ہی نہیں آئی تھی، تم کو بتایا تھا نا۔۔۔ میں تو کالج کے زمانے سے ہی کلاسوں کے بعد ٹیوشن پڑھانے میں مصروف ہو جاتھا کہ اپنا اور گھر کا خرچ چلا سکوں۔ تم کو معلوم تو ہے وہ سب۔۔ پھر یہ عشق وشق کی لت کون پالتا۔۔“ فراز نے بوجھل ہوتے ماحول کو ذرا ہلکا پھلکا بنا دیا کہ مریم بھی مسکرا دی۔
تھوڑی دیر بعد فراز نے بولنا شروع کیا۔
”آج سائٹ پر ٹھیکے دار ایک ڈاکٹر کی بات کر رہا تھا جو بہت اچھا ذہنی معالج ہے۔ اس کا نام بھی اس نے بتایا تھا، عامر، پتہ نہیں یہ وہ عامر تو نہیں جو میرا اسکول کا دوست تھا مظفر نگر میں۔“
”اللہ جانے یہ کوئی بیماری بھی ہے یا نہیں“ مریم نے اپنی پلیٹ میں باقی کھانا ایسے ہی چھوڑ دیا۔ ”چلو، اب تم کھا چکو تو چلیں“
”بس میں بھی کھا ہی چکا ہوں“ فراز نے کہا اور ویٹر کو بل کے لئے اشارہ کیا۔
تھوڑی دیر بعد دونوں بچوں کو لے کر اٹھ گئے۔
گھر آ کر مریم تو بچوں کو سلانے میں لگ گئی، اور فراز اپنے بریف کیس میں وہ کاغذ دیکھنے لگا جس میں سائکیٹرسٹ کا نمبر تھا۔
جب بچوں کو سلاتے سلاتے مریم بھی اونگھنے لگی تو اس نے فون ملایا۔
”کیا میں ڈاکٹر عامر صدیقی سے بات کر رہا ہوں“
”سپیکنگ، آپ کون کہاں سے بول رہے ہیں؟“
عامر کی آواز سنتے ہی فراز نے اسے پہچان لیا اور فوراً کہنے لگا۔
’میں فراز بول رہا ہوں، مظفر نگر والا،لیکن فی الحال دہلی میں ہی ہوں جامعہ نگر میں“
’اوہو فراز!! آٹھ دس سال بعد اب تم سے رابطہ ہو رہا ہے، آج ہی تمہارا ذکر نکلا تھا۔ کیا کر رہے ہو آج کل؟ انجینئرنگ کا تو معلوم ہوا تھا تمہارا!!“
دونوں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔ فراز نے اپنے بارے میں تفصیل بتائی، مگر اپنے اور مریم کے بے تکے خوابوں کا فوراً تذکرہ نہیں کیا۔ سوچا کہ ملاقات پر ہی بتائے گا۔ عامر نے بھی اپنی تفصیلات بتائیں کہ اس نے علی گڑھ سے ڈاکٹری کی ڈگری لی اور پھر امریکہ چلا گیا تھا، وہیں شادی کر لی تھی۔
”لیکن امریکن لڑکی سے نہیں یار، اپنی طرف کی ہی ہندوستانی لڑکی سے۔ مزے میں گزر رہی ہے، بلقیس سے ملو گے تو تم بھی خوش ہو گے بس ایک کمی تھی، وہ بھی اب پوری ہو گئی ہے۔ اب ہمارے پاس ظفر آ گیا ہے، ہمارا بچہ، جسے ہم نے گود لیا ہے“
”واہ، میرا بیٹا انظر ہے اور تمہارا ظفر“
”اور وہ بھی کچھ ایسا انجانا نہیں، تم کو فرزانہ یاد ہے یا اسے بھول گئے؟ اسی تو ذکر نکلا تھا جو تمہاری یاد آئی تھی“
’‘کون فرزانہ؟ مجھے تو یاد نہیں“
”ارے وہی جسے ہم سفید پری کہتے تھے۔ بلکہ وہ تو تم سے باقاعدہ عشق فرماتی تھی یار!!“
فراز چونک گیا۔” سفید پری۔ سفید کپڑوں میں کوئی بھوتنی، یا چڑیل یا کوئی روح۔ کیا اس کا تعلق فرزانہ سے تو نہیں!!“ اس نے سوچا۔ عامر مزید بتا رہا تھا۔
”فرزانہ کی شادی بھی ہوئی تھی اور دہلی میں ہی تھی۔ لیکن وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں تھی۔ سننے میں بھی یہی آیا تھا کہ وہ کسی سے پیار بھی کرتی تھی، پہلے تو یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ تم ہی تھے یا تمہارے علاوہ کوئی اور۔ ایک بیٹا بھی ہوا تھا، وہی ظفر۔ لیکن وہ شادی کے بعد سے ہی ذہنی طور پر مستحکم نہیں تھی۔ شمیم اس کا شوہر میرے پاس لے کر آیا تھا اسے۔ میں نے علاج شروع ہی کیا تھا، لیکن پچھلے ماہ اس نے خود کشی کر لی۔ اور ظفر کو میں نے شمیم سے مانگ لیا، بلقیس بھی بہت خوش ہوئی۔ “
اب ساری گتھیاں سلجھ چکی تھیں۔ لیکن فراز سوچ میں پڑ گیا کہ اس کی مشکلوں کا حل کیا ہو گا، وہ عامر کو بتائے بھی یا نہیں۔لیکن ابھی عامر کی داستان اور بھی باقی تھی۔
”اور ہاں، آج ہی شمیم مجھ سے ملا تھا، بتا رہا تھا کہ اس کے خواب میں فرزانہ نے آ کر کہا کہ اب وہ ظفر کی طرف سے تو مطمئن ہو گئی ہے، بس ایک خواہش اس کی یہ اور ہے کہ اس کے دونوں چہیتے۔۔ ظفر اور فراز قریب قریب ایک دوسرے کی نظروں کے سامنے رہیں۔“
”عامر دوست، میں تو واقعی فرزانہ کو بھولا ہوا ہی تھا۔ حالانکہ ایک خط اس نے مجھے لکھا تھا، جس کا جواب بھی نہیں دیا تھا میں نے، وہ تو اسکول کی بات تھی نا۔ پھر میں دہلی آ گیا انجینئرنگ کے لئے۔۔ اور بالکل ذہن سے نکل ہی گئی فرزانہ“
”مگر بیٹا اس کا سچا عشق بھی تو دیکھو!!۔ اچھا چھوڑو اس کو، کل آ جاو تم، ہم دونوں چھٹی لے لیں اپنے کام سے اور دن بھر کا پروگرام بنایا جائے“
”مگر تم رہ کہاں رہے ہو“ فراز نے پوچھا۔
”ارے میں نے بہت بڑا گھر لے رکھا ہے ڈھولا کنواں میں۔ ”عامر نے جواب دیا ”اس میں دو پورشنس ابھی خالی پڑے ہیں، سوچا تھا کہ کرائے پر دے دوں گا، اب اگر تم آ سکتے ہو تو اس سے بہتر کیا بات ہو سکتی ہے ایک چھوٹا پورشن شمیم کو ہی دے رہا ہوں کہ وہ بھی اپنے بچے کے نزدیک رہے تو اچھا ہے۔ ایک حصہ کرائے پر اٹھانے کا سوچ رہا تھا کہ بلقیس کو بھی کوئی ساتھی مل جائے!!“
”ٹھیک ہے کل مل کر طے کر لیں گے۔ میرا بھی سارا کام ڈھولا کنواں کے آس پاس ہی ہو رہا ہے“
فراز نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔” بس کوئی جگہ بتا دو، وہاں پہنچ کر کال کرتا ہوں صبح نو دس بجے تک“
عامر اپنے مکان کا پتہ بتانے لگا۔
پھر خدا حافظ کہہ کر فراز فون رکھ ہی رہا تھا کہ مریم نیند سے اٹھ گئی۔
”ارے میں بھی بستر پر نہیں تھی اور تم بھی اب تک نہیں سوئے“
”عامر سے بات کر رہا تھا، کل اس کے گھر چلیں گے، ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا“۔
۔۔۔ ختم شد۔۔۔
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

کچھ پھولوں کی کہانی



کچھ پھولوں کی کہانی



                   محمدعلم اللہ اصلاحی



’نمستے چاچا‘
نیرج کچھ جھجھکتا ہوا پھول والے کی دوکان پر کھڑا ہو گیا۔ بوڑھا دوکان دار نیرج کے محلے کا ہی تھا۔
’’آج مندر کے لیے پھول لینے کیسے آ گئے بیٹا ؟‘‘
اس نے کچھ جواب نہیں دیا۔ مندروں اور دیوی دیوتاؤں سے اسے نہ دل چسپی تھی نہ عقیدت۔ اس نے چپ چاپ پھولوں کا ایک گلدستہ اٹھا لیا اور بوڑھے کو دس کا نوٹ پکڑا دیا۔
وہ پھول مندر کے لیے نہیں سونیا کے لیے لینے آیا تھا لیکن اسے دوکاندار کو بتانے کی ضرورت؟ گلدستہ گاڑی میں رکھ کر اس نے اسے سٹارٹ کیا۔
اور خیالات کی بائک اس کے ذہن میں اتنی ہی رفتار سے بھاگ رہی تھی جتنی اسپیڈ سے وہ بائک چلا رہا تھا۔
کتنے ہی دنوں بعد ملاقات کا ایک بہانا بنا تھا۔
........

سونیا اس کی زندگی میں بہار بن کر آئی تھی۔وہ اس سے مل کر اتنا خوش ہوتا جیسے اسے پوری کائنات مل گئی ہو۔وہ اکثر چھٹیوں کے بعد اور پھر کلاس کے وقفہ کے درمیان دیر تک سونیا سے باتیں کرتا۔لیکن کورس مکمل ہوتے ہی دونوں کے درمیان دوریاں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھیں۔دونوں میں سے کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ حالات دونوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور کر دیں گے۔دونوں کے لیےملاقات کا اب بس ایک ہی سہارا رہ گیا تھا۔۔۔ موبائل یا پھر انٹرنیٹ سے چیٹنگ۔اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں رہ گیا تھا اور پھر کالج کے بعد خاص کر سونیا کے پاس کوئی ایسا بہانا بھی نہیں تھا کہ وہ اس کا سہارا لےکر گھر سے باہر نکلتی اور دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ڈھیر ساری باتیں۔
مگر آج دونوں کو ایک بہانا ملا تھا ۔بہت اچھا بہانا ۔جس سے دونوں ایک دوسرے سے مل سکتے تھے ،باتیں کر سکتے تھے جی بھر کے۔
آج جب فون میں بات کرتے کرتے سونیاپہلے ہی کی طرح ہنس دی، تو نیرج نے کہا  ’’یار ہم دونوں کو ملے ہوئے کتنے دن ہو گئے۔اس اتوار کو کیوں نہ ملاقات ہو جائے۔‘‘
ملاقات کا پلان کئی مرتبہ بنا تھا مگر ہر مرتبہ کچھ نہ کچھ آڑے آ جاتا جب حکومت کی جانب سے سرکاری ٹیچر کے لیے ملازمت نکلی تھی اور دونوں نے اپلائی کیا تھا۔تب بھی ٹیچر ٹیسٹ کے دن ملنے کا پروگرام بنا تھا لیکن دونوں کا سینٹر الگ الگ پڑنے کی وجہ سے اس دن بھی ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔سونیا کو جب بھی کوئی کام ہوتا تو یا تو بھائی ساتھ میں ہوتے یا اسکے پتا جی ایسے میں ملنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔
چند مہینوں کے بعد رزلٹ آ یا تو دونوں ٹیچر کی حیثیت سے منتخب کر لیے گئے تھے۔یہ دونوں کے لیے بہت خوشی کی بات تھی مگر دونوں کی الگ الگ شہروں میں تعیناتی ہوئی تھی۔ پہلے  جب وہ ایک ہی شہر میں تھے تب بھی ملاقات آسانی سے نہیں ہو پاتی تھی لیکن اب تو وہ دونوں دو الگ الگ شہروں میں تھے ۔
اب فون ہی ایک ملاقات کا ذریعہ رہ گیا تھا۔لیکن بات کرتے کرتے اچانک سونیا کبھی یہ کہہ کر فون کاٹ دیتی کہ پتا جی آ رہے ہیں یا اب بھیا کے آنے کا وقت ہو گیا ہے تو نیرج اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا۔
وہ بہت ناراض ہوتا وہ ،اور ابھی کچھ کہنے کے لیے سوچ ہی رہا ہوتا کہ فون کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔مگر اب کی جب وہ دہلی آیا تو یہ سوچ کر آیا کہ اب کی کسی حال میں بھی ملاقات کرنی ہی ہے۔
" بھاڑ میں جائے یہ سماج ، یہ معاشرہ" وہ دل ہی دل میں بڑ بڑایا ۔
وہ اکثر کالج کے دنوں کو یاد کرتا اور سوچتا تھا کتنے خوبصورت تھے وہ دن جب ہم پنچھی کی طرح آزاد تھے۔نہ کسی قسم کی ذمہ داری تھی نہ گھر والوں کی کوئی پوچھ گچھ
کلاس کرو یا نہ کرو حاضری لگ ہی جاتی تھی
مگر حالات کیسے بدلتے ہیں یہ سوچ کر وہ دُکھی ہو جاتا تھا۔
کبھی وہ خود کو کوستا اور کبھی سونیا کو فون کر کے اپنی کم مائیگی اور بے بسی کا اظہار کرتا۔
’’یار، ہم لوگ اس صدی میں جینے کے باوجود اتنے بے بس ہیں کہ ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے!! تف ہو ایسے سماج پر!!‘‘
 وہ کہتا۔ لیکن وہ کر تو کچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہتا تو سونیا اسے روک دیتی تھی۔
کئی مرتبہ اس نے سونیا سے کہیں بھاگ لینے کا کہا بھی کہ دونوں کسی تیسرے شہر جا بسیں گے، لو میرج کر لیں گے اور دونوں ایک نیا آشیانہ ،بن لیں گے۔لیکن سونیا گھبرا سی جاتی تھی۔
خوف سے کبھی کبھی تو وہ رو بھی دیتی تھی۔پھر وہ دیر تک اسے سمجھاتا۔
’’نہیں پگلی۔میں تو بس مذاق کر رہا تھا۔تم نے سیر یس کیسے لے لیا ؟ نہیں یار ہم لوگ شادی کریں گے تو سب کی خوشی شامل ہوگی اس میں۔‘‘
اور تھوڑی دیر میں وہ ہنس دیتی۔
نیرج اس سے کہتا " یار تم بہت بھولی ہو،بہت جلدی مان جاتی ہو" ۔
گرم لوہے پر ہتھوڑا رکھنا سونیا بھی جانتی تھی وہ کہتی "پھر تم شادی کیوں نہیں کرتے ؟جلدی کرو نا۔نہیں تو پتا جی کہیں اور لڑکا ڈھونڈ رہے ہیں" ۔
سچ مچ سونیا کے لئے رشتہ کی تلاش جاری بھی تھی۔
نیرج کہتا " یار بس چھوٹی بہن کی شادی ہو جانے دے لو۔پھر بہت جلد ہماری بھی شادی ہو جائے گی بابو جی  اور ماں ابھی کسی بھی صورت میں راضی نہیں ہو نگے۔پھر ہمارے بارے میں بڑی دیدی کو سب کچھ پتہ بھی تو ہے۔میں نے سب بتا دیا ہے انھیں۔وہ خود بھی تم سے ملنا چاہتی ہیں۔مل کر بہت خوشی ہوگی انھیں۔لیکن ابھی کچھ اور دن ہم لوگوں کو انتظار کرنا پڑے گا"
بولتے بولتے جیسے وہ بھول ہی جاتا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے ۔
لیکن سونیا اس کی مجبوری کو سمجھتی تھی
" ہاں جب ہمیں کسی اور کے ساتھ باندھ دیا جائے گا تب آنا"
" جھے پتہ ہے یہ سب نہیں ہوگا۔میں نہیں ہونے دوں گا۔سونیا تم یہ سب سوچ کیسے لیتی ہو۔یار میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔اگر کسی نے تمہارے اوپر قبضہ جمانے کی کوشش کی نا تو میں چھین لوں گا اس سے تمہیں میں کبھی بھی تمہیں کسی کے ساتھ نہیں جانے دوں گا" نیرج کہتا۔
سونیامسکرا دیتی اور مذاق کرتے ہوئے کہتی " اگر میں خود چلی گئی کہیں تو ؟"
" ایسا نہیں ہو سکتا ، کبھی نہیں" ۔نیرج کو یقین تھا
" نیرج ایسا ہو جائے گا۔میں لڑکی ذات کچھ نہیں کر سکوں گی" ۔
اور ابھی جب کل ہی فون پر بات ہوئی تو سونیا نے یہی بات نکالی۔
" دیکھو آج بھی رشتہ دیکھنے کے لیےلکشمی نگر سے کچھ لوگ آئے تھے۔میں  نے سوچا ایک مرتبہ  کہہ ہی  دوں کہ مجھے نہیں منظور یہ رشتہ، لیکن پھر پتہ نہیں میں کیوں چپ رہی۔میں کچھ نہیں کہہ سکی نیرج۔کچھ بھی نہیں " اور پھر رونے لگی۔
پھر نیرج اسے منانے لگا ’’ہم لوگ بہت جلد رشتہ کے لیے آئیں گے‘‘ وہ دلاسا دیتا
مگر اس  دلاساے نے اسے سکون نہیں پہنچا  یاتھا ، اسے تو ساری باتیں پتہ تھیں اس کے والدین نے زبردستی اس کا رشتہ کہیں اور کر دیا تھا۔ اس کی مرضی کے خلاف، اس لیے آج  وہ نیرج سے کترا رہی تھی۔
لیکن اب  جب نیرج نے کچھ زیادہ ہی ضد کی، تو اس نے اسکول چھٹی ہونے کے بعد ملاقات کا پلان بنا لیا۔
دونوں نے کل ملنا ہےکہہ کر جلد ہی فون بھی کاٹ دیا۔
نیرج پوری رات سو نہیں سکا تھا۔
اسے ایک ایک پل صدیوں جیسا معلوم ہوتا تھا۔کبھی وہ رضائی کے اندر منہ چھپائے گھڑی دیکھتا تو کبھی کھڑکی سے باہر۔اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت آج تھم سا گیاہے۔قریب ہی مندر کے گھنٹہ کی آواز آئی تو اسے معلوم ہوا کہ صبح ہو چکی ہے۔
وہ رضائی بستر سے پھینک کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ ماں نے اس سے کہا " چلو ذرا مندر تک چھوڑ دو "
اس نے بہانا بنا دیا
" میں ایک دوست سے ملنے جا رہا ہوں "
 اسے مندر سے بے حد چڑ تھی۔
آج اس نے خلاف معمول  بائک صاف کی۔اپناشیو بنایا۔اور نیلا والاکوٹ جو سونیا کو بے حد پسند تھا دھوبی کو پریس کے لئے دے آیا۔اسکول میں چھٹی دو بجے ہوتی ہے۔اور اب دو بجے تک کے لئے وقت کاٹنا اسے دنیا کا مشکل ترین کام معلوم ہورہا تھا۔
اور اب وہ بائک لیکر وہ سب سے پہلے پھول والے کی دوکان پر آیا تھا۔
اب اس نے بائک سیدھے اسکول کی جانب موڑ دی۔
ابھی دو بجنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔اس درمیان اس نے اسکول کے کئی چکر بھی لگائے۔کلپ سی میسج کی آواز سے وہ تھوڑی دیر کے لئے ہل سا گیا تھا۔
میسیج سونیا کا تھا اس نے لکھا تھا " آج مت آنا اب کسی اوردن ملیں گے۔آج مجھے ماماکے ساتھ جانا پڑے گا"۔
نیرج نے جلدی سے میسیج کیا " مذاق مت کیا کرو،ہمیشہ مذاق اچھا نہیں لگتا۔جلدی باہر نکلو میں اسکو ل کے باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں" ۔
سونیا نے پھر میسیج کیا "سچی ! میں مذاق نہیں کر رہی ہوں بھگوان قسم !جھوٹ نہیں بول رہی ماما کے ساتھ جانا پڑ رہا ہے تو کیسے ملوں گی۔اگر ملی تو ماما ساری بات گھر میں بتا دیں گے وہ بھی اسکول کے باہر ہی انتظار کر رہے ہیں"۔
تھوڑی دیر کے بعد نیرج نے بیک کال کیا ۔
"میں سچ بتا رہی ہوں ۔ماما یہیں قریب میں رہتے ہیں اور اتفاق سے آج انھیں بھی گھر جانا ہے ابھی ابھی انھوں نے فون کیا کہ میں گھر جا رہا ہوں تو تم بھی ساتھ ہی چلنا میں چھٹی کے بعد اسکو ل سے تمہیں پک کر لوں گا"۔ یہ سونیا کی آواز تھی ۔
نیرج کچھ بول نہیں سکا، بس اتنا کہا " تو پھر کبھی سہی"۔
" لیکن تم اپنی ایک جھلک تو دکھلا دو ،تھوڑی دیر کے لیے بات تو کر سکتی ہو" ۔اس سے برداشت نہیں ہو سکا ۔
" نہیں نا ماما کو پتہ چل جائے گا تو پورا گھر سر پر اٹھا لیں گے سب"۔سونیا کہہ رہی تھی ۔
’’اچھا چلو تم ایک مرتبہ دیکھ کر مسکرا دینا میرے لیے یہی کافی ہے" مجبور نیرج اور کہہ بھی کیا سکتا تھا ۔
"اگر تمہاری طرف دیکھوں گی اور ماما کو پتہ چل گیا تب" ۔سونیا اب بھی ڈری ہوئی تھی ۔
" ارے نہیں پتہ چلے گا۔میں پیچھے پیچھے بائک سے ہونگا"۔نیرج اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اسکول کی چھٹی ہوئی اور سونیا باہر نکلی۔سونیا کی آنکھوں میں بے زاری تھی جسے نیرج صاف محسوس کر سکتا تھا۔
سونیا نیرج کے جذبات کو محسوس کر رہی تھی لیکن مجبور تھی۔دونوں ہی ایک دوسرے سے ملنا چاہتے تھے لیکن چاہ کر بھی نہیں مل سکتے تھے۔سونیا کس کے ساتھ بائک میں بیٹھی تھی ،نیرج کو پتہ نہیں تھا۔
" سونیا نے کہا تو تھا کہ وہ اس کے ماما کے ساتھ جا رہی ہے، کیا واقعی یہ سونیا کے ماما ہیں" ؟ وہ سوچ رہا تھا " ماما کا قتل کر دے اور چھین لے اس سے سونیا کو" ۔
ٹریفک لائٹ کے سرخ سگنل پر جب وہ رکا تو اس نے سونیا کو میسیج کیا ’’میں تمہارے پیچھے والی بائک میں ہوں۔‘‘
سونیا پیچھے دیکھ کر مسکرائی تو اسے ایسا لگا جیسے ساری کائنات اسے مل گئی ہے۔ اس کا جی چاہا کہ " وہ اسے اپنی بانہوں میں لے لے۔لیکن وہ اس کے جواب میں ہلکا سا مسکرا ہی سکا۔اور ریڈ لائٹ کے بعد دونوں کی منزل ایک دوسرے سے جدا ہو گئی۔
تھوڑی دور جاکر اس نے مایوسی سے گاڑی پلٹائی، پھول کا گلدستہ لیے نیرج سوچ ہی رہا تھا کہ اب کیا کرے۔ اسی وقت سونیا کا میسیج آیا، ’’ میں تم سے مل کر سب کچھ بتا دینا چاہتی تھی لیکن میں ہمت نہیں کر سکی۔مجھے معاف کرنا۔ میرا رشتہ میرے ماں باپ نے ماما کے دوست کے بیٹے کے ساتھ کر دیا ہے۔‘
نیرج کو ایسا لگا جیسے اس کے پاوں تلے سے زمین کھسک گئی ہو۔پھول کا وہ حسین گلدستہ اسے اب ناگ کا پھن محسوس ہو رہا تھا۔
اچانک اسے ایک مندر نظر آیا۔ اس نے اپنی بائک کا رخ مندر کی طرف کیا۔ اس کے باوجود کہ اسے دیوی - دیوتا پر بھروسا نہیں تھا، وہ پھول مندر میں چڑھا آیا۔شاید مندر کی دیوی اس کے اوپر مہربان ہو جائے۔
٭٭٭

۔۔۔مزید

انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو ویکیپیڈیاکی لمبی چھلانگ ، پچاس ہزار مضامین مکمل




انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو ویکیپیڈیاکی لمبی چھلانگ ، پچاس ہزار مضامین مکمل
منتظمین کااردو برادری سےاپنی مادری زبان کے فروغ کے لئے آگے آنے کی اپیل
نئی دہلی (محمد علم اللہ اصلاحی)یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ اردو ویکیپیڈیا نے 50،000 مضامین کا سنگِ میل طے کر لیا ہے۔ مجھے حقیقی خوشی ہو رہی ہے کہ اردو ویکیپیڈیا اس وقت انگریزی ویکیپیڈیا کے صفحہ اول کے بائیں جانب والی زبانوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ کہنا ہے فن لینڈ میں مقیم اردو کے ایک محب اور اردو ویکیپیڈیا کے رکن منصور قیصرانی کا۔
انٹرنیٹ گفتگو میں نامہ نگار سے گفتگو کے دوران ہندوستان میں مقیم اردو وکی پیڈیا کے منتظم اور اس کے شعبہ ادارت سے منسلک محمد شعیب نے بتایا کہ منصوبہ ویکیپیڈیا یا تحریک ویکیپیڈیا کی ابتدا جنوری 2001 میں ہوئی تھی جبکہ اس تحریک کے پرچم تلے اردو زبان نے اپنی ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری 2004ءمیں کیا۔انھوں نے بتایا کہ اردو ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری 2001 میں شمس الدین محمد نے کیا تھا جو ایک پاکستانی شہری اور علم و ادب کے شائق ہیں۔
ان کے مطابق ویکیپیڈیا کی اس ترقی و ترویج میں ثاقب سعود، سمرقندی، اردو ٹیکسٹ، خاور، فہد کیہر، کاشف عقیل اور ساجد امجد ساجد وغیرہ صارفین سرگرم رہے ہیں۔ ہندوستان میں مقیم اردو ویکیپیڈیا کے منتظم اور اس کے شعبہ ادارت سے منسلک محمد شعیب سے اس بابت تفصیل جاننی چاہی تو ان کا کہنا تھا، بلاشبہ یہ خوشی کی بات ہے کہ اردو ویکیپیڈیا نے ایک ہدف کو عبور کرلیا ہے۔تاہم انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ویکیپیڈیا ہمیشہ افرادی قوت کی کمی کا شکار رہا ہے، اس لیے اب تک دنیا کی دیگر زبانوں مثلا ہندی، عربی، فارسی، جاپانی، چینی ویکیپیڈیاوں کی صف میں شامل نہیں ہوسکا۔لیکن اس کی منزل یہی نہیں ہے بلکہ ابھی اسے حد پرواز سے اور بھی اونچا جانا ہے اور ہم اس کے لئے اپنے تئیں کوشش کرتے رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اردو ویکیپیڈیا نے اپنے آغاز سے ہی کافی سرد وگرم ماحول کو دیکھا ہےاور انتہائی صبرآزما مراحل سے گذرا ہے، تاہم یہ خوشی کی بات ہے کہ آج اردو ویکیپیڈیا نے ایک لمبی چھلانگ لگا کر اپنے وجود کو تسلیم کروا لیا ہے۔ نامہ نگار سے بات چیت میں انھوں نے اس کا سارا کریڈٹ اردو برادری اور خصوصا اردو ویکیپیڈیا میں تعاون کرنے والے محبین اردو کو دیتے ہوئے کہا کہ در اصل یہ ان افراد کی بے پناہ قربانیوں کا صلہ ہے جن کی زندگی کی اولین ترجیح اردو ویکیپیڈیا کی ترقی رہی، اور اس راہ میں ان افراد نے اپنے مال وزر، وقت و صلاحیتوں کا بے دریغ استعمال کیا۔
اس سلسلہ میں انھوں نے اردو ویکیپیڈیا سے کئی افراد کے چلے جانے یا چھوڑ دینے پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی کے تمام مراحل میں سرخرو و کامیاب ہوں اور زندگی انہیں اتنی فرصت مہیا کردے کہ وہ دوبارہ لیلائے ویکیپیڈیا کی گیسوؤں کو سنوارنے کے لیے یہاں وارد ہوں اور اپنی سرگرمیوں کو جاری کرسکیں۔مادری زبان کی ترویج و اشاعت اوراس کو  عالمی زبانوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے لئے بات چیت کے دوران انھوں نے اردو برادری کو بڑی تعداد میں اردو کے لئے  حصہ داری نبھانے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ اگر طلباء، اساتذہ اور بڑی تعداد میں موجود قلمکار و صحافی توجہ دیں تو اردو کا ایک بڑا سرمایہ تیار ہو سکتا ہے، جو مفت اور اوپن سورس بھی ہوگا نیز آن لائن ہونے کی وجہ سے ہمہ وقت قابل رسائی بھی۔
اس بابت انھوں نے بطور خاص اردو اکادمیوں، انجمنوں، کونسلز، یونیورسٹیز، اداروں اور جملہ محبان اردو سے گذارش کی  ہے کہ اردو دنیا کے اس آن لائن عظیم الشان منصوبہ کی ترقی و ترویج میں بھرپور معاونت فرمائیں،اور اپنے طلباء واساتذہ کوبھی اس طرف متوجہ کریں، وہ اپنی فیلڈ سے متعلقہ مضامین کو تحریر اور ترجمہ کریں تاکہ اردو دنیا کا یہ عظیم الشان منصوبہ جس کے ساتھ ساتھ اردو ویکشنری (اردو ویکی لغت)، ویکی اقتباسات، ویکی ماخذ، ویکی اخبار، ویکیورسٹی، ویکی کتب اور ویکی سفر جیسے دیگر اہم منصوبے بھی چل رہے ہیں، ترقی کرے اور دیگر عالمی زبانوں کے ہم پلہ ہوسکے۔


۔۔۔مزید

پیر، 17 مارچ، 2014

کیوں مانگا جاتا ہے بار بار ہم سے وطن پرستی کا ثبوت؟

محمد علم اللہ اصلاحی 
ابھی حال ہی میں ہندوستان پاکستان میچ کے بعد ملک میں جس قسم کے حالات پیدا ہوئے اس نے سنجیدہ طبقہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ملک کس راہ پر گامزن ہے ۔اولا اترپردیش کے شہر میرٹھ کی سوامی ویویکا نند سوبھارتی یونیورسٹی سے چھپن کشمیری طلبہ کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی پذیرائی کرنے اور پاکستانی بلے بازوں کی ستائش پر تالیاں بجانے کی پاداش میں ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔اور یونیورسٹی سے معطل بھی کر دیا یہ الگ بات ہے کہ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی طور پر جگ ہنسائی کے بعد مقدمہ واپس بھی لے لیا گیا ۔ابھی یہ معاملہ پوری طرح حل بھی نہیں ہوا تھا کہ اسی قسم کا ایک اور واقعہ پیش آیا اور میرٹھ یونیورسٹی کے رویہ پر ہی گامزن کچھ شر پسند طلبہ کے مطالبہ کے بعد شادرا یونیورسٹی گریٹر نویڈا سے چھہ طلبہ کو ہاسٹل سے بے دخل کیا گیا میڈیائی رپورٹوں کے مطابق جن چھ طالب علموں کو ہاسٹل سے نکالا گیا ہے ان میں چار کشمیر کے ہیں جبکہ دو کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہندوستان پاکستان میچ کے بعد خصوصاً اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔اس سے قبل بھی صرف اسی طرح کے میچ کو بہانا بناکر کئی ریاستوں میں فساد کراکر مسلمانوں کے سرمایہ کو تباہ برباد کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔تو کئی جگہ ہندو مسلم تشدد کے واقعات ہوئے ہیں ۔بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ بعض عناصر مستقل فیس بُک اور اسی طرح سوشل میڈیا کا سہارا لے کر تشدد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے عناصر بہت تھوڑے ہیں لیکن ان کی حرکتوں سے پورے ملک کی بد نامی ہوتی ہے ،اور ان کی شرارتوں کی وجہ سے پوری قوم کو دکھ ہوتا ہے شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان میچ نہ ہو وہ ہی بہتر ہے ۔ 

اس مرتبہ بھی اس میچ کو لیکر سوشل سائٹوں پرغیر سنجیدہ تبصرے اور غیر متوازن تحریریں پیش کی گئی ہیں ،ان میں مستقل مسلمانوں کے اوپر ان کی قومیت اور ملک سے محبت پر سوال اٹھائے گئے ہیں ۔بعض نوجوانوں کی جانب سے اس کا جواب بھی دینے کی کوشش کی گئی ، بعض جواب ایسے بھی دئے گئے جن کا موضوع سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا،مثال کے طور پر ایک نو مسلم ’’ٹھاکر ایم اسلام ونئے ‘‘ نے اپنے ہندی بلاگ’’ ٹھاکر اسلام ‘‘ نامی بلاگ میں ’’مسلمانوں ہندوستان چھوڑ دو اور پاکستان چلے جاؤ ؟‘‘کے عنوان سے اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے سوالوں کا جواب بھی دینے کی کوشش کی ہے وہ لکھتے ہیں’’ایک صاحب بس میں بیٹھے میری طرف اشارہ کرکے اپنے ساتھیوں سے میرے بارے میں برا بھلا کہہ رہے تھے،میں نے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہے ہو بھائی؟ وہ صاحب بولے تم لوگ کھاتے ہو ہندوستان کا اور گاتے ہو پاکستان کا میں نے کہا ایسا آپ سے کس نے کہا وہ بولے ہندوستان اور پاکستان کا میچ ہوتا ہے تو مسلمان پاکستان کی تعریف کرتے ہیں جب کہ رہتے ہندوستان میں ہیں۔ میں نے کہا یہ تو کھیل کا اصول ہے جو بہتر کھیلے گا اس کی تعریف ہونی ہی چاہئے کیا انگلینڈ یا ویسٹ انڈیزکے کھلاڑی جب اچھا کھیلتے ہیں تو آپ ان کی تعریف نہیں کرتے ؟ ‘‘

اس کے بعدوہ مزید جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’اسلام میں کہا گیا ہے کے وطن پرستی نصف ایمان ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو کیا مسلمان اپنے پیغمبر کی بات نہیں مانیں گے ؟کیا سرحدوں پر مسلمان فوجی جنگ کے دوران کسی سے پیچھے رہتے ہیں ؟ کیاہندوستان کو آزاد کرانے میں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ نہیں دیا؟ ‘‘ پھر وہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر کوئی آدمی کسی ملک میں پانچ سال مسلسل رہ لے تو اسے اس ملک کی وطنیت مل جاتی ہے جبکہ مسلمانوں کے ماں باپ دادا پردادا اسی ہندوستان میں پیدا ہوے وہ کسی اور ملک کیوں جائیں گے ؟ جب دنیا میں چار ہی تہذیبیں تھیں یعنی چار جزیرے 1 ۔ وادی دجلہ 2 ۔ وادی نیل3۔وادی فرات 4۔وادی سندھ یہیں پر دنیا آباد تھی نہ ہندوستان تھا نہ ہی کوئی اور ملک اس وقت آریہ آئے تھے دوسرے ممالک سے سندھ وادی پر جس نے بڑھتے بڑھتے بعد میں ہندوستان کی شکل لی کیا آریہ ہندوستان کو چھوڑ کر کسی اور ملک جا سکتے ہیں ؟ ‘‘پھر انھوں نے آگے لکھا ہے ’’ آر ایس ایس کے ایس کے سی سدرشن نے ریٹائر منٹ لینے کے بعد کچھ دن پہلے لکھنؤ میں مسلمانوں کے اجلاس میں کہا تھا کہ ثقافت کبھی نہیں لڑتی ہمیں لڑاتی ہے تو صرف سیاست۔وہ لوگ میرا منہ دیکھ رہے تھے‘‘۔

اس سلسلہ میں ایک اور بلاگر نور محمد نے اپنے بلاگ میں ایک واقعہ رقم کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں ’’ میرے ماموں بھارت پیٹرولیم میں ملازمت کرتے تھے،کرکٹ سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ تھا کبھی بھی میچ نہ دیکھتے تھے،ایک بارہند وپاک کا میچ چل رہا تھا، ان کے آفس ( ڈپارٹمنٹ) میں یہ واحد مسلم شخص تھے۔ تولوگوں نے ان سے کہا کہ سر آج کون جیتنا چاہیئے ماموں جان سمجھ گئے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر ان سے پوچھ رہے ہیں۔ اب انہوں نے جو جواب دیا ۔ وہ بہت ہی مزے دار تھا۔ماموں جان ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر آج ہندوستان بمقابلہ پاکستان ہے تو ہندوستان کو جیتنا چاہئے اور اگر یہ مقابلہ ہندو اور مسلمان کے بیچ ہے تو مسلمان کو۔اب کہو تم کس مقابلے کی بات کر رہے ہو۔بے چارے سب اپنا سا منہ لے کر چلے گئے۔آگے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’۔ہم ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں ہم اگر ہمت سے کام لیں تو ہمیشہ مدمقابل کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔پھر انھوں نے آگے لکھا ہے ’’میرا گمان ہے کہ شاید ہی کوئی ہندی مسلم اس طرح کے سوالات سے بچ پاتا ہوگا۔اسی لئے میں نے اسے شیئر کرنا مناسب سمجھا کہ ہمیں اس طرح کے جذباتی سوالات کا اطمینان بخش جواب دینا آسان ہوجائے۔یعنی سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اگر ہم ان کے باتوں میں آ کر جذباتی ہو گئے تو پھر ہمیں ہی نقصان ہوتا ہے‘‘۔
نور محمد کا کہنا اپنی جگہ بالکل درست ہے اوراس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہیں جن کا اگر میں تذکرہ کرنے لگوں تو صرف اسی پر کئی صفحات لکھے چلے جائیں گے ۔خود میرے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آچکے اورمیں نے کچھ ایسے مشاہدات کیے جنہوں نے مجھے یہ تمام چیزیں لکھنے پر مجبور کیا ۔میرے ایک دوست نے مجھ سے بتایا ’’میں ندوہ میں طالب علم تھا شہر کسی کام سے آیا ۔میں ایک دوکان کے پاس سے گذر رہا تھا جہاں پر کافی بھیڑ لگی ہوئی تھی ۔کچھ لوگوں نے میرے اوپر کمنٹ کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو (ایک انتہائی غلیظ لفظ جسے میں یہاں نہیں لکھ سکتا)آگیاپاکستانی ۔ مجھے کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی میں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا ؟تو وہ لوگ آپس میں یہ کہتے ہوئے ٹھہاکہ مار کر ہنسنے لگے کہ دیکھا کیسا بے وقوف بنا رہا ہے یہ ہم لوگوں کو اور پھر گالیاں ۔۔‘‘چند احباب کی جانب سے اسی قسم کی باتیں سننے اور پڑھنے کے بعد میں نے اپنے بلاگ اور فیس بک میں اسٹیٹس اپڈیٹ کیا تو کئی لوگوں نے میرے اوپر ہی کمنٹ کرنا شروع کر دیا ۔
نو مسلم ونئے کی تحریر کے کے جواب میں برادران وطن کے جانب سے جس قسم کے غلیظ کمنٹ کئے گئے ہیں ۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا ۔تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ وطن پرستی نصف ایمان ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو۔یہ حدیث نہیں ہے۔محدثین نے اسے موضوع قرار دیا جس کی دسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔حدیث حب الوطن من الایمان لا اصل لہ عند الحفاظ (المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ص: 91)اسلام میں وطن پرستی مقدم ہوتی تو نبی کریم کبھی ہجرت نہ فرماتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ انسان کو فطری طور پر اپنے پیدائشی وطن سے محبت ہوتی ہے اور یہ نبی کریم کو بھی مکہ مکرمہ سے تھی ۔
وطن اور وطنیت کے حوالہ سے پچھلے ایک سو سال سے برصغیر پاک و ہند میں دونظریے ہیں جن میں سے ایک نظریہ کے علم برداراقبال تھے اور دوسرے کے مولانا حسین احمد مدنی ،میں اس موضوع پر نہیں جانا چاہتا تھا تاہم اپنے ایک ہندو دوست کی جانب سے کہ ہندوستانی مسلمان کھیل میں پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں کیا یہ ملک کے خلاف نہیں ہے اس سوال کے جواب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معروف پروفیسرکیسونت نے جو جواب دیا وہ نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں انھوں نے کہا’’ قومیت کے تئیں کسی ملک کے عوام کو مطمئن کرنا اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔اگر مسلمان کھیل میں پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو یہ اسٹیٹ کی ناکامی ہے، ان کے ساتھ ظلم اور تشدد کا رویہ اپنایا جاتا ہے اس لئے وہ اس طرح کرتے ہیں۔لیکن اس سے قومیت مجروح ہوتی ہو ،ایسا بالکل بھی نہیں ہے ‘‘۔ پروفیسر کیسونت کی بات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم وتشدد کا رویہ نہیں اپنایا جا رہا؟کیا انھیں انصاف مل رہا ہے؟ان کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا رہا ہے ؟
ظاہر ہے ایسی صورت حالات میں مستقل طور پر زندگی گذارنے والا انسان جھلاہٹ اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اس صورت حال میں ماہرین نفسیات کے مطابق وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے لیکن یہاں پراس بات کی داد دینی چاہیے کہ اب تک مسلمانوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن نا انصافی اور حق تلفی کے احساس کا لاوا ان کے اندرمستقل پک رہا ہے۔اور یہ احساس اور چبھن کا نتیجہ ہے۔جسے آپ احتجاج کی ایک شکل بھی کہہ سکتے ہیں۔اس کے اور بھی وجوہات ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگ مسلمانوں میں ناخواندگی کو بھی اس کی وجہ مانتے ہیں۔ تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاذ ہیں جوپاکستان کو کرکٹ میں سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی تو اپنی جگہ درست ہے کہ تمام مسلمان پاکستان کو سپورٹ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ہندوستان کو ہی سپورٹ کرتی ہے۔اس بارے معترضین کچھ کیوں نہیں کہتے۔ پھر ایسے بہت سے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟
اس کا جواب معروف ہندی صحافی پر بھاش جوشی اپنی کتاب ’’کھیل صرف کھیل نہیں ہے ‘‘ میں دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’پاکستانیوں میں بھارت کولے کر انتہائی جارحیت دکھائی دیتی ہے وہ طاقت یا اپنی طاقت کے عدم اعتمادکا نہیں ہے وہ در اصل طاقت کی کمی اور اپنے کمزور ہونے کا ڈر ہے ۔کیا ہندوستان کو بھی پاکستان کو لے کر ایسا ڈر ہے؟سب لوگوں میں ہو یا نہ ہو ان لوگوں میں تو ہے ہی جو ہواہوا جیسا شور مچاکر کہتے ہیں کہ ہندو نہیں جاگے تو پاکستان ہندوستان کو نگل جائے گا ۔ایک دوسرے مقام پر یہ ڈر مسلمانوں کی تعداد کو لے کر بھڑکایا جاتا ہے کہ ان میں چار شادیاں نہ روکی گئیں تو دس بیس سال میں اتنے مسلمان ہو جائیں گے کہ ہندو اپنے ہی ملک میں اقلیت ہو جائیں گے چار الگ عورتیں چار الگ آدمیوں سے شادی کریں گی تو زیادہ بچے ہونگے یا ایک آدمی چار بیویاں رکھے گا تو زیادہ بچے ہونگے ۔لیکن جس ملک میں بیاسی فیصد ہندو ہوں اور بارہ چودہ فیصد مسلمان وہاں کیا ہندو کبھی اقلیت ہو سکتے ہیں ؟ لیکن آپ پائیں گے کہ ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں اور کچھ لوگ ہیں جو ان پر یقین کر لیتے ہیں ۔)مزیدتفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں کتاب کا صفحہ (204‘۔
اس سوال کا جواب ’’رام پنیانی ‘‘نے بھی اپنی کتاب’’ سمپردائک راجنیتی: تتھئے ایوم متھک ‘‘میں لکھا ہے ۔وہ کہتے ہیں ’’کرکٹ راشٹرواد بڑامشکل اور لاینحل عنصر ہے ۔جنوبی افریقہ،امریکہ ،انگلینڈ اور دوسرے دیشوں میں جاکر آباد ہوئے اور وہاں کی شہریت لینے والے ہندوستانی وہاں ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن مناتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے 50سالوں میں مشکل سے ہی کوئی مسلمان پاکستان کے لئے جاسوسی کرتا ہوا پکڑا گیا ہو ۔ابھی حال ہی میں مالوانی بمبئی میں شیو سینکوں نے کچھ مسلمانوں کو پیٹا ۔یہ لوگ کرکٹ میں پاکستان پر بھارت کی جیت کا جشن منا نا چاہ رہے تھے ۔انگلینڈ،افریقہ اور جنوبی افریقہ میں ایسے ہندوستانی ہیں جو وہاں کے باشندے ہیں لیکن اپنے دیشوں میں بھارت کی جیت کا جشن مناتے ہیں ۔کسی ایک کھیل ٹیم سے تعلق اور دل چسپی اپنی پہچان ،دیش بھکتی یاوطن سے غداری کی علامت نہیں قرار دی جاسکتی ۔ہمیں پوری کمیونٹی کے وسیع رویہ اور سماجی ،معاشی زندگی میں اسکی حصہ داری کو دیکھنا چاہئے اور معاشرے کے تشدد پسند افراد کی طاقت کی بنیاد پر ان کے خلاف فیصلہ سنانے کے بجائے محروم اقلیتوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ‘(تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں صفحہ 94۔
ٹیلی ویژن پر کھیل کے دوران اور کھیل کے بعد جب ماہرین تفصیل سے کھیل کے فنی رموز اور اس کے محاسن ونقائص پر اپنی رائیں پیش کرتے ہیں اور کبھی ہندوستان اورکبھی پاکستان کی ٹیم اور ان کے کھلاڑیوں کی تعریف تو کبھی ان پر تنقید کرتے ہیں ، اس وقت بھی ایسے سوالات پیدا کرنے والوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ یہ لوگ کب محب وطن ہوتے ہیں اور دوسرے ہی لمحہ کب وہ ملک سے غداری کے مرتکب ٹھہر جاتے ہیں، اس طرح کے سطحی رجحانات اگر چہ دیر پا تاثیر نہیں رکھتے لیکن وقتی طورپر ان کے ذریعہ جو فتنہ برپا ہوتا ہے اس کے نتائج بہت دور رس اور بھیانک ہوتے ہیں، اس لیے دانش مندوں کو ان سے پرہیز اور گریز کرنا چاہیے۔


          





          

۔۔۔مزید

پیر، 10 مارچ، 2014

رہائشی ادارہ یا بچپن کا مقبرہ​

رہائشی اسکول ،دارالاقامہ یا ہاسٹل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ میں بھی ایسے اقامت گاہوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں رہائشی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلانا امراء و روساء ہی کی شان تھی۔ والدین اپنے بچوں کو وسیع ترمفادات جس ،میں صحت و تندرستی کے علاوہ معیاری تعلیم اور تربیت بھی شامل ہوتی کے حصول کے لیے رہائشی اقامت گاہ یا ہاسٹل بھیجا کرتے تھے۔ کس رہائشی ادارہ میں کس خاندان کے کتنے افراد نے تعلیم حاصل کی ، اسی بنا پر رہائشی اداروں کا معیار بھی طے پاتا اور والدین اپنے بچوں کے لیے بھی اسی طرز پرادارے کا انتخاب کیا کرتے۔ ایک بہترین جدیدتعلیمی و تربیتی ادارہ کا انتخاب اس لیے بھی والدین کے لیے اہم ہوتا کہ اس قسم کے مدارس میں ان کے بچے امراء و روساء کے بچوں کے ساتھ پرورش پاتے جو انکے لیے وقاراور افتخار کی بات ہوتی۔
مگر فی زمانہ رہائشی ادارے یا ہاسٹل صرف ایک روایت اور فیشن بن کر رہ گئے ہیں۔ ماں اور باپ دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی مصروفیات کے سبب بچوں کی تربیت پر زیادہ دھیان نہیں دے پاتے ہیں ۔اورایسی صورت میں انھیں ایک ہی آسان راستہ نظر آتا ہے ،وہ ہے ہاسٹل کا ،یعنی بچے کو ہاسٹل بھیج دیا اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو گئے ۔لیکن اس بابت اصل مسئلہ کو دیکھا جائے جو والدین نہِیں سمجھ پاتے ، وہ ہے بچوں کے ذہنی، جسمانی و جذباتی نشونما اور ارتقا کا۔ایک بچے کے لئے بہر حال والدین کی محبت و شفقت اور رہنمائی انتہائی اہم ہوتی ہے جس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں ۔آج کے رہائشی اسکول یا ادارے والدین اور اولاد کے اس محبت کے رشتہ کو ختم کر رہے ہیں۔وہ والدین جو اپنے بچوں کو رہائشی اداروں میں حصول علم کے لیے بھیجنا پسند کرتے ہیں، ان دلائل سے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۱-رہائشی اداروں کی زندگی بچوں میں خود مختاری کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ وہ پہلے ہی دن سے وہاں (ہاسٹل میں ) دوسروں پر منحصر نہ رہنا اور اپنی مدد آپ کرنا سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور روزمرہ کی پریشانیوں کو بہتر طریقے سے حل کرنے کے اہل بنتے ہیں۔
۲-بچوں کی وہاں(ہاسٹل میں ) مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ اچھی شخصیات سے تعارف ہوتا ہے جس سے انکا پیمانہ علم اور وسیع ہوتا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں بالیدگی آتی ہے۔ان کے اندر صبر و شکر کا مادہ پیدا ہوتا ،نیز خود مختار ہونے اور خود کی خدا داد صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے مواقع میسر آتے ہیں ۔
۳۔رہائشی اداروں میں بچے مختلف قسم کے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں جیسے: تیراکی، گھوڑسواری، مجسمہ سازی، شاعری، دوڑ، اسکاش، ٹینس، سکائی ڈائیونگ،ببیڈمنٹن وغیرہ اور بحث ومباحث، و خود اعتمادی کے مقابلوں میں شرکت انھیں چست اور تندرست بنا دیتی ہے۔
۴۔بچوں کی ذہانت کو سراہنے اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ رہائشی اداروں کی زندگی انھیں جزباتی طور پر مستحکم و مضبوط بناتی ہے۔
۵۔رہائشی اداروں کی زندگی انسان کا نظریہ بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کچھ والدین اپنا ذاتی تجربہ بھی پیش کرتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے مال و دولت اوراثر و رسوخ کی نہیں، اس کے ذریعہ انسان کی قدر کرنا سیکھی۔
۶۔خود اعتمادی بھی ایک بہترین نعمت ہے جو رہائشی اداروں میں حاصل ہوتی ہے۔
۷-رہائشی زندگی انسان کے برتاو میں بھی بہت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ جو بچے پہلے ضدّی اور تنک مزاج ہوا کرتے تھے،ہاسٹل سے نکلنے کے بعد روادار اور نرم مزاج ہوجاتے ہیں ۔
تبصرہ :میں لوگوں کے سوچ اور نظریات کی قدر کرتا ہوں لیکن پھر بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوں کہ بچوں کومحض اس لیے رہائشی اداروں میں بھیج دیا جائے کیوں کہ آپکے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہر دوسرے دن اخبار کی سرخیوں میں یہی خبریں نظر آتی ہیں کہ سینئرس کی ریگنگ کے ڈر سے بچے ہوسٹل سے فرار، ہوسٹل واپس نہیں جانے کے لیے گھر والوں سے بحث کے بعد طالب علم کی خود کشی کی کوشش، ہوسٹل کے ماحول میں تعلیم پر برابر توجہ نہ دے پانے پر بچے احساس کمتری کا شکار۔(ہاسٹل میں لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکت کرنے والا پرنسپل گرفتار،نابالغ طالبہ نے ہاسٹل میں دیا بچے کو جنم،ہاسٹل وارڈن نےمعصوم کے ساتھ کیا جنسی استحصال)پھر بھی کئی لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ہر سکّہ کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اور سکّہ کا دوسرا رخ جو لوگ محسوس کرتے ہیں:
۱-بچہ خاندان ، تہوار وغیرہ سے دور ہوجاتا ہے۔
۲-رہائشی اداروں کی زندگی بچوں کو خاندانی نظام اور ریت رواج نہیں سکھاپاتی۔
۳-بچہ کو رہائشی مدرسے میں بھیجنے سے بچہ اور والدین کے بیچ ایک کھائی سی بن جاتی ہے جس کا پاٹنا بہت مشکل ہوتا ہےکیونکہ ہاسٹل میں رہنے کے سبب والدین کے درمیان زندگی کا جو بہترین وقت گزرنا ہوتا ہے وہ ضائع ہوجاتا ہے۔
۴-رہائشی ادارے میں رہنے سے بچوں کے پاس ماضی میں پلٹ کر دیکھنے کے لیے کچھ بھی خوبصورت یادیں نہیں رہتیں۔ کیونکہ سارا بچپن تو ہوسٹل میں گذر چکا ہوتا ہے۔
۵۔کچھ بچّے جنھیں رہائشی اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تعطیل میں گھر ہی نہیں جانا چاہتے۔ انہیں گھر میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق والدین صرف تعطیل کے شروع اور آخر کے دن میں انکا خیال رکھتے ہیں باقی دنوں میں بچے اکیلا پن اور خود کو تنہا تنہا محسوس کرتے ہیں کیونکہ والدین اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
۶۔گھر کے محفوظ ماحول سے دور ہوجانے پر ناکامی، غصہ اور دھوکہ کی وارداتیں بچوں کے ذہن ہر گہرے نشانات چھوڑتے ہیں۔ جس کا اثر تا عمر ان کے ذہنوں پر قاائم رہتا ہے۔
۷۔بہت سے والدین کو بلا واسطہ ہونے والے اس عمل کا ذرا بھی گمان نہیں ہوتا کہ وہ بچہ کو رہائشی ادارہ یا ہاسٹل بھیج کر بوڑھے دادا ،دادی کا پیار، شفقت اور محبت سب کچھ ان سے چھین لے رہے ہیں۔
۸۔وہ بچے جو اپنے گھر پر رہ کر اسکول کی تعلیم پاتے ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ ایک مضبوط جزباتی رشتہ قائم کرتے ہیں وہ رہائشی اداروں میں رہنے والے بچوں میں کبھی بھی مضبوط نہیں ہو پاتا۔ کیونکہ رہائشی اداروں سے بچے سال میں دو ہی بار گھر آتے ہیں اور وہ بھی محض ۶ تا ۸ ہفتوں کے سے زیادہ کے لیے نہیں۔ اس وقت والدین اپنے بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور سارا وقت صرف انکی خاطر تواضع میں ہی لگا دیتے ہیں۔ بچہ کے ساتھ خاندان کے ایک فرد کی طرح نہیں بلکہ مہمان کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔
حاصلِ گفتگو : یہی ہے کہ ہمیں اپنے کم سن بچوں کو رہائشی اداروں میں بھیجنے سے گریز کرنا چاہئے، کیونکہ بالغ ہونے کے بعد ویسے بھی انہیں اعلیٰ تعلیم یا ملازمت کے لیے تو باہر جانا ہی ہوتا ہے۔ بچے کی زندگی کے ابتدائی سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ انہی سالوں میں جزباتی ربط مضبوط ہوتا ہے اور مستقبل بھی بہت حد تک طے ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات دیہی علاقوں میں رہنے والے والدین اور ایسے والدین جن کا تبادلہ بہت جلد ہوجاتا ہے ان کے لیے اپنے بچوں کو رہائشی اداروں میں بھیجنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا، پھر بھی یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا جانا چاہئے۔ اور اس میں بھی اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ فیصلہ ہمیشہ بچہ کے فلاح و بہبود اور حق میں ہو۔کیونکہ اس کا اثربہر حال مثبت یا منفی بچہ کی تمام تر زندگی پرپڑتاہے۔ایک اور بہت اہم عنصر ہے جو اس چیز کا فیصلہ کر سکتا ہے وہ یہ کہ بچہ کو اس وقت ہی گھر سے باہر بھیجنا چاہئے جب بچہ خود اپنا خیال رکھنے کے قابل ہو جائے اور اسے اتنی سمجھ آجائے کہ گھر سے دور رہنے سے اسکا کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور کیا نقصان۔


۔۔۔مزید

سوال جس کے جواب کی تلاش ہے ۔

مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو کیوں ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ میں نے اس کے اوپر غور کیا تو یہی بات سمجھ میں آئی کہ قومیت کے تئیں کسی ملک کے عوام کو مطمئن کرنا (یہاں پر میں نے عوام کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے) اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے ۔

اگر مسلمان پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ مجھے اس بات پر بھی اعتراض ہے اس لئے کہ اسلام میں سرحد کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اس پر علماء نے کافی بحث بھی کی ہے۔اسلام سرے سے ہر قسم کی عصبیت پر قدغن لگا تا ہے ۔لیکن پھر بھی اگر وہ پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں تو اس کی وجہ (بہ ظاہر) مجھے یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ اسٹیٹ کی ناکامی ہے ۔مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھ ظلم و تشدد کا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔انھیں انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جسے شاید ہی کوئی انصاف پسند جھٹلا سکتا ہے ۔

ایسی صورت میں فطری طور پر انسان جھلاہٹ اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور اس صورتحال میں میں ماہرین نفسیات کے مطابق وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے لیکن یہاں پراس بات کی داد دینی چاہیے کہ اب تک مسلمانوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن نا انصافی اور حق تلفی کے احساس کا لاوا ان کے اندرمستقل پک رہا ہے ۔اور یہ احساس اور چبھن کا نتیجہ ہے ۔جسے آپ احتجاج کی ایک شکل بھی کہہ سکتے ہیں ۔

اسکی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ کچھ لوگ مسلمانوں میں نا خواندگی کو بھی اس کی وجہ مانتے ہیں ۔ تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاذ ہیں جوپاکستان کو کرکٹ میں سپورٹ کرتے ہیں ۔ کچھ تو بات ہوگی ؟ کچھ تو وجہ ہے ۔ مجھے بھی جواب کی تلاش ہے ؟۔

یہ بات بھی تو اپنی جگہ درست ہے کہ سارے مسلمان پاکستان کو سپورٹ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو ہندوستان کو ہی سپورٹ کرتی ہے۔اس بارے معترضین کچھ کیوں نہیںکہتے۔ پھر ایسے بہت سے غیر مسلم بھی تو ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں ان کو غدار کیوں نہیں کہا جا تا؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے تمل سری لنکن تمل سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس پر معترضین اپنی زبان کیوں بند کر لیتے ہیں ؟

مجھے کھیلوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ہے ۔لیکن بار بار میسیج ،فیس بُک میں بھڑکانے والے بعض برادران وطن کے اسٹیٹس اور کچھ احباب کا بے تکا بحث و مباحثہ مجبور کرتا ہے کہ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کی تلاش کی جانی چاہئے ۔

۔۔۔مزید

اتوار، 2 مارچ، 2014

افسانہ نگار عبید قمر کا انتقال

محمد علم اللہ اصلاحی 
معروف افسانہ نگار عبید قمر کا آج صبح پٹنہ میں انتقال ہو گیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون نمازِ جنازہ آج بعد نماز عصر محمد پور مسجد (شاہ گنج، پٹنہ) میں ادا کی جائے گی۔قمر مرحوم کا اصل نام  عبدالکریم تھا ،آپ کی پیدائش ۴؍ستمبر ۱۹۴۸ء کو بہار ہوئی تھی ۔  بی ایس سیاور ادیب کامل کے بعد میڈیکل ریپر زنٹیٹو کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے والے عبید قمر صاحب ۱۹۶۸ء سے افسانے لکھ رہے تھے ۔اب تک ان کے متعدد افسانے ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہو کر ادبی حلقہ میں اپنی پہچان تسلیم کروا چکے تھے۔ ان کے دو افسانوی مجموعے آخری کش ۱۹۸۲ ءاور ۱۹۸۲ء اور ننگی آوازیں،۱۹۸۸ء میں شائع ہو چکے ہیں جسے کافی پذیرائی ملی ۔عبید قمر افسانوں کے علاوہ بچوں کیلئے کچھ کہانیاں اور چند انشایئے وغیر ہ بھی لکھ چکے ہیں۔ 

عبیدقمر کا شمار جدید افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا لیکن ان کی جدیدیت ایسی نہیں ہوتی  جو قارئین کو ابہام میں مبتلا کر دے، انہوں نے تمثیل اور علامت نگاری کو فنکاری کے ساتھ اپنا یا ہے سعادت حسن منٹو اور بیدی وغیرہ نے جو روایات چھوڑیں انہیں بر قرار رکھنے والے بہت سے اچھے افسانے نگاروں میں ایک نام عبید قمر کا بھی ہے انہوں نے کہا نی سے کہانی پن کو نہیں نکالا ہے، بھلے ہی پیرایہ بیان علامتی ہی کیوں نہ رہا ہو۔

مختصر یہ کہ انہوں نے نہ تو پروپگنڈہ زدہ ترقی پسندی کواور نہ ہی انتہا پسند یدیت کے شکار رہے ،وہ ہمیشہ ماحول سے پیدا شدہ نفسیاتی گرہ کھولنے کی کوشش کرتے رہے ہیں انہوں نے خود ہی لکھا ہے۔"میں نے ساری کہانیاں جھیل کر لکھی ہیں، ماحول میں ڈوب کر لکھی ہیں،میں پروپگنڈہ زدہ ترقی پسندی اور انتہا پسند جدیدیت سے ہمیشہ دور رہا، اپنے ماحول سے بے پرواہو کر لکھنا تو خلاء میں بھٹکنے کےسواکچھ بھی نہیں ہے ابہام واہمال زدہ تخلیقات کی ڈھیر پر کھڑے ہو کر چند نے اپنا قداونچا کرنا چاہا نتیجہوہی ہوا کہ جدیدیت کے سیلاب میں اپلانے والے خس وخاشاک آج لا پتہ ہیں"۔

نوٹ : اس تحریر کے لئے  کامران غنی اور اردو یوتھ فورم کے ہم شکر گذار ہیں کہ بیشتر معلومات وہیں سے اخذ کی گئی ہیں ۔

۔۔۔مزید