جمعہ، 1 مارچ، 2013

میڈیا اور اس میں مسلمانوں کی حصہ داری


محمد علم اللہ اصلاحی   
یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بہت ہی عام ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا نے بہت ہی اہم رول ادا کےا ہے اور اس کا معاندانہ رویہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ آج بھی جاری ہے اور مسلمان اس سوئے ظن مےں حق بجانب بھی ہیں۔ لیکن دوسری طرف میڈیا جب اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کہے تب بھی دنیا میں بد عقیدگی اور گمراہی کو عام ہی کر رہا ہے کیونکہ ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کی جانے والی فحاشیاں اور گمراہیاں ہر گھر میں ان ہی کے ذریعہ عام ہو رہی ہیں،کہیں سننے میں آتا ہے کہ فلاں لڑکا کسی لڑکی کو لے کر بھاگ گیا۔ کہیں یہ سننے میں آتا ہے کہ پچپن سال کے بوڑھے نے ایک کمسن بچی کی عصمت دری کی۔آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ وجہ صرف یہ ہے کہ ٹی وی وغیرہ پر دیکھ اور سن کر ہی ایک انسان یہ سب کچھ سیکھتا اور کرنے کی کوشش کرتا ہے ،ا گرچہ یہ دےکھنے میں مسلمانوں کے خلاف سازش نہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اس لئے زیادہ ضروری ہے کہ مسلمان اس کی روک تھام کے لئے اقدام بلکہ پہل کرےں، اس لئے کہ جس لیول پر دشمن فحاشی پھیلا رہا ہے اس سے کہیںبڑے پےمانے پر اس کی روک تھام ہونی چاہےے اور مسلمان تو خیر امت ہے جس کا پہلا فریضہ ہی امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔

اس تناظر میں جب ہم موجودہ میڈیااور اس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو تین چیزیں ابھر کر سامنے آتی ہیں :
 ۔میڈیا کا اسلام کو بدنام کرنے میں بہت ہی اہم رول رہا ہے۔
 ۔میڈیا بدعقیدگی اور فحاشی کو عام کر رہا ہے۔
 ۔ ضروری ہے کہ مسلمان میڈیا کو اپنے استعمال میں لائیں۔

پہلے نکتہ پر بے شمار لوگوں نے باتیں کی اور لکھا ہے کہ میڈیا کا رویہ اسلام کے ساتھ کیسا رہا ہے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا جس طرح سے فحاشی اور بدعقیدگیوں کو پھیلا رہا ہے، اسے بھی دور کرنا اشد ضروری ہو گیا ہے کیونکہ میڈیا کی ضرورت آج ہر انسان کو ہے، اس کے ذریعہ دلچسپ اور آسان انداز سے معلومات میں اضافہ بھی ہوتا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ فحاشی بھی ہوتی ہے جسے گوارا کرنا اس کی حماےت کرنا ہے، بالخصوص ایک مسلمان جو خیر امت کا دعوے دار اور مستحق ہے وہ اپنے اس عہدہ کی ذمہ داری اسی وقت پوری کرسکتا ہے جب وہ فحاشی پر خاموشی اختیارنہ کرے بلکہ اس کی روک تھام کرے اور اسلام پر ہونے والی تہمت تراشیوں کا کھل کر جواب دے، اس مہم کو چلانے کے لئے خود اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ یا طاقت ہونی چاہیئے جو کارآمد ثابت ہواور وہ طاقت یقینا میڈیا ہی ہے بالخصوص الیکٹرانک میڈیا۔اس لئے اس مضمون میں ہم اسی پر گفتگو کریں گے۔

ضروری ہے کہ ہم پہلے میڈیا کے معنی اور مفہوم کو سمجھ لیں ۔میڈیا دراصل معلومات کو جمع کرنے اور اس کی ترسیل کرنے کو کہتے ہیں،اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔پرنٹ میڈیا :اس میں روزنامہ، ماہنامے اور دیگر طباعتی کتب و مواد شامل ہے ۔
2۔الیکٹرانک میڈیا:اس میں ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ اور سی ڈی ، ڈی وی ڈیز وغیرہ کے نام آتے ہیں ۔

ایک آدمی جو پڑھنا لکھنا جانتا ہو اس کے لئے تو پرنٹ میڈیا بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے لیکن دیگر افراد جنہیں پڑھائی اور لکھائی سے کوئی شغف اور واسطہ نہیں پرنٹ میڈیا ان کے لئے کورے کاغذ کے علاوہ اور کچھ نہیں ، وہیں الیکٹرانک میڈیا دونوں طرح کے افراد کے لئے یکساں طور پر سود مند اور کار آمد ثابت ہوتا ہے ، اسی لئے آج یہ کتابوں رسالوں اور اخباروں سے زیادہ ریڈیو ٹیلی ویزن اور ویب سائٹس پر اثر انداز ہو رہا ہے اور اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر قوموں نے اس کے اندر قدم رکھا اور ترقی حاصل کی اور جس چیز سے ان کے ذاتی مفاد اور ان کے آبائی دین کو خطرہ لاحق ہوتا نظر آیا اسے ان لوگوں نے ہدف ملامت بناےا، اس مےں بدنمائیاں پےدا کیں، اس کے حقائق کو مسخ کر کے لوگوں کے سامنے پےش کےا اور یقینا ان کے لئے خطرہ اسلام ہی تھا کیونکہ اسلام دیگر مصنوعی اور تحریف شدہ ادیان کی طرح نہ کسی سے گناہ اور برائی میں سمجھوتہ کرتا ہے اور نہ ہی اپنے ماننے والوں کو اس کی اجازت دیتا ہے۔نہ صرف اسلام بلکہ ہر اس حقےقت پر پردہ ڈالا گےا جس کے واضح ہوجانے سے ان کے مفادات کو ٹھےس لگتی ےا ان کے اپنے مخالفےن کی مطلب براری ہوتی۔

گذشتہ دو عشروں سے پوری دنیا پرالیکٹرانک میڈیاکی یلغارہے۔جس نے معاشرتی واخلاقی اقدارکوبدل کررکھ دیا ہے۔ اگرچہ اخبارات ورسائل میں بھی روزافزوں ترقی کاعمل جاری رہا لیکن نجی ٹی وی چینلوں نے اسلامی ثقافت پر گہری ضرب لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس سلسلہ میں ہم یہاں پرایک انگریزی جریدہ میں شائع مضمون کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں ۔

” اسلام کے خلاف جنگ صرف فوجی میدان میں نہیں ہوگی بلکہ ثقافتی اورتہذیبی میدان میں بھی معرکہ آرائی ہوگی۔ امریکی فلمی مرکز ہالی ووڈ اسلام مخالف سازشوں کا مرکز گردانا جاتاہے۔ ایک صدی سے زائد مدت سے یہاں فلموں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و کدورت، بغض وکینہ پوری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔ بیسویں صدی کی آخری دودہائیوں میں ہالی ووڈنے مسلم دشمنی پرمبنی فلمیں ’ڈیلٹافورس‘، ’انتقام‘، ’آسمان کی چوری‘ بنائیں، جب کہ ورلڈٹریڈ سنٹرکا تجرباتی ڈراما اسٹیج کرنے کے لیے ۲۹۹۱ء میں’حقیقی جھوٹ‘ اور ’حصار‘ وغیرہ نامی فلمیں تیار کی گئیں، ان فلموں میں اسلام اور مسلمانوں کا تشخص بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔“

باطل نے دنیابھر کی معیشت اور میڈیا پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے،اسلام کے خلاف پروپیگنڈا مہم اس میڈیا کا مستقل موضوع ہے، کبھی مغربی ممالک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع کیے جاتے ہیں اور کبھی ہالینڈ میں قرآن اور اسلامی شعائرکے خلاف فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ مغربی میڈیا وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو’دہشت گرد‘، ’جہادی‘ اور’بنیادپرست‘ ثابت کرنے کے لیے اپنی مہم چلائے رکھتا ہے۔

حق کے خلاف باطل کا ایکا کوئی نئی چیز نہیں لیکن آج یہ اتنا نمایاں اتنا اس لیے ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے فروغ نے دنیا کو ’عالمی گاؤں ‘بنا دیا ہے۔کسی کے دل میں یہ خیال آسکتا ہے کہ جس دنیا کو ہم اسلام مخالف بتا رہے ہیں وہ تو حقوق انسانی کی پرچم بردار،فکر وعمل کی آزادی کی حامی ،عالمی بھائی چارے اور جمہوریت کی داعی ہے،ہم اسے اسلام مخالف کیسے کہہ سکتے ہیں؟جواب اس کا یہ ہے کہ نئی تہذیب کے خودفریب ترقی یافتہ انسان نے کائنات کے مرکز (نیو کلیس) سے خالق اور رب العالمین اللہ جل شانہ کو ہٹا کر اس کی جگہ ’مادہ ‘کو بٹھا رکھا ہے،وہ کہتا ہے کہ اول بھی مادہ تھااور آخر بھی مادہ ہے،درمیان میں ترقی کے مختلف مراحل ہیں،انسان اس ترقی کا نقطہ آخرہے،جنت اور دوزخ جو کچھ ہے وہ انسان کی اسی زندگی میں ہے،زندگی ختم تو سب کچھ ختم،اب جتنی بھی اچھی کار آمد اور مثبت قدریں مثلاً وقت اور عہد کی پابندی وغیرہ ہمیں جدید مادی تہذیب میں نظر آتی ہیں وہ اس لئے نہیں کہ وہ بذات خود اچھی ہیں بلکہ صرف اس لئے کہ وہ فائدہ اور منافع میں اضافے کا باعث ہوتی ہیں،کسی غیر پیداواری سرگرمی ،نیکی یا ہستی کی اس کمرشل تہذیب میں کوئی گنجائش نہیں،اس تہذیب میں انسان کی حیثیت اس کے ’صارف ‘ہونے کی صلاحیت متعین کرتی ہے،جو جتنا بڑا صارف ہے یا جتنا زیادہ صرف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ہے،جو قوت خرید ہی نہیں رکھتا اس کی کوئی ضرورت نہیں اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا،انفاق اور ایثار کی اس تہذیب میں اس لئے کوئی ضرورت نہیں کہ یہ دونوں غیر پیداواری سرگرمیاں ہیں،لہٰذا اس تہذیب میں حقوق انسانی ،اخوت اور آزادی کا جو تصور ہے ا س پر کوئی کنٹرول نہیں رکھا گیا ہے وہ مادر پدر آزاد اور بے لگام ہے،چوںکہ دنیا ایک بازار ہے اور انسان محض ایک صارف ،لہٰذا ہر چیز کو ’بازار ‘کی قوتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیا ہے،یہ جو آج ہر طرف ’عالمی اقتصادی بحران ‘کاچرچا ہے یہ بھی در اصل ان ہی بازار کی قوتوں کا لایا ہوا ہے او رفی الواقع یہ اخلاقی اقدار کا بحران ہے اور میڈیا کی تشہیری جنگ اس کا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار ہے،غالب کا یہ شعر :
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ----دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

موجودہ ذرائع ابلاغ پرپوری طرح صادق آتا ہے،ہمیں کتابوںمیں پڑھایا جا تاہے کہ ”میڈیاکا کام لوگوں کو سچ بتانا اور حقائق سے آگاہ کرنا ہے“،یہ بیان اس معنی میں غلط ہے کہ آج میڈیا کا استعمال حقائق کو آشکا رکرنے سے زیادہ حقائق کو چھپانے یاتوڑ مروڑ کرپیش کرنے یا جھوٹ کو پھیلانے کے لئے کیا جاتا ہے موجودہ میڈیا ہماری معلومات میں اضافہ کرنے سے زیادہ ہمیں بہکانے ،ورغلانے اور مشتعل کرنے کے کام کرتا ہے۔اور فی الواقع کمپین چلاتا ہے،آج پورا میڈیا او راسے استعمال کرنے والی تمام سیاسی ،سماجی اور اقتصادی طاقتیں اَن تَشِیعَ الفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا(اہل ایمان کے اندربداخلاقیاں پھیلیں) کے کام پر یعنی فواحش اور منکرات کے پھیلانے پر مامورہیں،مادّہ کو اِلہٰ بنا لینے والی طاقتیں ہی آج میڈیا کو اخلاقی انار کی پھیلانے کا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں،وہ ہمیں وہی بتاتے اور دکھاتے ہیں جتنا ان کی اسکیم میں فٹ بیٹھتا ہے،ہم اس پورے رویے کو اسلام مخالف یا غیراسلامی اس لئے کہتے ہیں کہ اسلام ایمان بالغیب سے شروع ہوتا ہے،جب کہ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ جتنا آنکھوں سے دیکھو بس اتنے ہی پر یقین کرو،دنیا کو سماجی اور اخلاقی کنٹرول سے آزادکرنے کے لئے میڈیاکا کنٹرول انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔

جب کہ اسلام انسان کے جذبات وخواہشات کو آزاد چھوڑتا ہے اور نہ عقل کو بے لگام چھوڑ دینے کا قائل ہے، وہ نفس اور قلب کا تزکیہ کرتا ہے اور عقل کے سرکش گھوڑے کے منہ میں حکمت کی لگام دیتا ہے،لیکن مادی تہذیب حاضر نے عقل اور خواہشات کو بے لگام چھوڑ کر انسان کی مادر پدرآزادی کا تصور دے کر وسائل حیات اور وسائل ابلاغ دونوں کواپنے قبضے میں کرلیا ہے اور اب اس کا ہدف خود ’حیات ‘پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تا کہ موت کے خوف سے نجات مل سکے،مادی انسان آخرت پر یقین نہ رکھنے کے باوجود موت سے صرف اس لئے ڈرتا ہے کہ آخرت کا تصورموت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے سے ہی وابستہ ہے ،لہٰذا اس کا خیال ہے کہ جب وہ موت پر قابو پا جائے گا تو زندگی اپنے آپ اس کے ’اختیار ‘میں آجائے گی،چوں کہ یوم آخرت کا مالک وہی ہے جو زندگی اورموت کا مالک ہے، لہٰذا ان کاخیال ہے کہ آخرت کی پکڑ سے بچنے کاا یک ہی طریقہ ہے وہ موت اور حیات کو پوری طرح اپنے قابو میں کرلیں،ایک طرف تو وہ زندگی کے راز کو جاننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اس نظام فکر کے خلاف ہر طرح کی جنگ چھیڑ رکھی ہے جو ان کی شیطانی کوششوںمیں رکاوٹ ڈال سکتا ہے،دنیااسلام کی حقانیت سے باخبر نہ ہوسکے،اسی لئے انہوں نے’ لہو الحدیث‘ کا نظام رائج کر کے دنیا کومجبور کردیا ہے کہ وہ پیسے خرچ کرکے گمراہی خریدے،اس مہم پر اتنا زور صرف اس لئے ہے کہ مسلمان پیسے خرچ کر کے کہیں قوت کا حصول نہ شروع کردے،کہیں وہ اپنی گاڑھی محنت کی کمائی رباط الخیل میں نہ لگا دے،رباط الخیل اور قوت کے حصول کا معاملہ ان کے نزدیک اتنا اہم ہے کہ انہوںنے صرف لہوالحدیث ہی کے خریدنے کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ کوشش یہ کی ہے کہ انسان رزق حلال ہی سے پوری طرح محروم ہوجائے،کیوںکہ نہ رزق حلال ہوگانہ مسلمان قوت اور رباط الخیل کے حصول کی طرف توجہ کرے گا،حرام مال کا مصرف اس سے بڑھ کر اور کیاہوسکتا ہے کہ صرف ’لہو الحدیث‘کی خریداری کی جائے،جس کے متعلق اللہ تعالی اپنی مقدس کتاب قران مجید میں فرماتا ہے ۔

وَاَعِدُّوا لَہُمُ مَّا استَطَعتُم مِّن قُوَّةِِ وَّ مِن رِّبَاطِ الخَیلِ تُر ھِبُونَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُم وَآخَرِینَ مِن دُونِہِم لَا تَعلَمُونَھُم اَللّٰہُ یَعلَمُہُم ۔(انفال آیت: 60 ) ( اورتم جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو، اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کروگے جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔)

اس کی تفسیر میں مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”یہ اس تیاری کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ کے اور تمہارے دشمنوں پر تمہارہ دھاک اور ہیبت قائم رہے کہ تمہیں نرم چارہ سمجھ کرکے وہ تم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کریں ۔یہاں مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اللہ کا دشمن ٹھہرایا ہے اس لئے کہ مسلمانوں کی جنگ جس سے بھی تھی اللہ کے دین کے لئے تھی اس میں کسی اور چیز کا کوئی دخل نہ تھا ۔“

مولانا مزید لکھتے ہیں:
”قرآن نے یہاں مزید مسلمانوں کو حاضر سے متعلق ہدایت دیتے ہوئے ان دشمنوں کی طرف بھی ایک اشارہ کر دیا جو مستقبل قریب یا مستقبل بعید کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں تاکہ مسلمان دور تک نگاہ رکھ کر منصوبہ بندی کریں “ ۔

اس روشنی میں ہم کہ سکتے ہیں کہ آج کل میڈیا جو سامراجی حکمرانوں کا آلہ کارہو چکا ہے عوام الناس کے لئے مفید کم اور مضر ت رساں زیادہ ہے بلکہ محض نقصان دہ ہے، مسلمانوں کے لیے تو موجودہ میڈیا کسی زہر ہلاہل سے کم نہیں، میڈیا پر حق وباطل اور مثبت ومنفی عناصر کا تناسب دس(10) اور نوے (90) کے بقدر ہے،لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اس جانب سے غفلت کسی خوفناک مستقبل کا پتہ دیتی ہے ۔
ایسے حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کی اس انسانیت مخالف تشہیری جنگ کے خلاف اقدام کرنے کی کوشش کریں، کیوںکہ اس کے ذریعہ ان کا مقصد ہی اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر حربہ اپنانا،معاشرے میں بدتمیزی اور انارکی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بد عقیدگی اور کفر و شرک پھیلا کر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنا ہے ،یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں مختصرا ًمیڈیا کی ایک جھلک قارئین سامنے پیش کر دیں تاکہ اس کی تصویر مزید واضح ہو سکے ۔

۱۔اگر کہیں بم بلاسٹ ہوتو فوراً اسلامی تنظیموں کی فہرست سے نیوز چینلوں کومزین کردیا جاتا ہے ،لیکن جیسے ہی یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کام کسی ہندو تنظیم کا ہے تو فورا ”مائی نیم از خان“کی نیوز”بریکنگ نیوز“بن جاتی ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان چار شادی کرے تو بطور عیب اسے دکھایا جاتاہے لیکن جب کوئی مشہور غیر مسلم نامور شخصیت دس دس رکھیل رکھے تو اس کا کوئی چرچا نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھار تورکھیلوں کے لئے وہ باعث فخر بنا دیا جاتا ہے۔ جب کسی مسلمان کو بڑے جرم کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے تو اسے سبھی دہشت گرد تنظیموں کا دوست اور رشتہ دار بنا دیا جاتا ہے لیکن جب دو یا تین دنوں بعد یہ انکشاف ہوتا ہے کہ سب جھوٹ تھا اوراس کی برا ءت کا حکومت اعلان کردیتی ہے تو اسے بریکنگ نیوز نہیں بلکہ یا تو دکھایا ہی نہیں جاتا یا پھر فٹ لائن نیوز میں دو یا تین مرتبہ دکھا کر معاملہ کو ختم کردیا جاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھار تو مجرم اوربم بلاسٹ کرنے والا غیر مسلم نکلتا ہے لیکن اس خبر کو ختم کردیا جاتا ہے یا اس شخص کو مسلمان بنا دیا جاتا ہے گرچہ وہ کافر ہی کےوں نہ ہو۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا یہی سمجھتی ہے کہ ہمیشہ مسلمان ہی ایسے کام کرتے ہیں اور وہی دہشت گرد ہوتے ہیں، مسلمان اسی طاقت سے جواب نہیں دیتے اور خود اپنے گلے میں بدنامی کا طوق ڈال لیتے ہیں،اگر جواب دیا بھی جاتا ہے تو اردو اخبارات اور مجلوں میں جسے ایک مسلمان کے علاوہ کوئی اور نہیں پڑھتا اور مسلمان جواب دے کر اور خود ہی پڑھ کر خوش ہوتے ہیں۔

۲۔ کہیں گھریلو ماحول پرمبنی پروگرام بنائے جاتے ہیں جس میں عورتوں کی آپسی لڑائی جھگڑے اور میاں بیوی کے درمیان اختلاف کیسے بڑھے ؟ دکھائے جاتے ہیں،حالانکہ ظاہری مقصدان مفاسدکی روک تھام ہوتا ہے لیکن جس انداز سے دکھایا جاتا ہے اس سے لوگ سدھرنے کے بجائے اور زیادہ بگڑ جاتے ہیں، ضروری نہیں کہ آپ زنا کے روک تھام کے لئے زنا کرکے لوگوں کو دکھائیں لیکن موجودہ الیکٹرانک میڈیا کا طریقہ یہی بن گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں ، ہماری ٹی آر پی بڑھے، اس لئے مرچ مسالہ بھی لگا دیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ میڈیا کا مقصد برائی کو روکنا اور فحاشی کو ختم کرنا نہیں بلکہ فحاشی کو بڑھانا اور پیسہ کمانا ہے،اگر غور کیا جائے تویہ آیت موجودہ میڈیا پر کھری اترتی ہے:
اِنَّمَا جَزَآئُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللّٰہَ وَ رَسُولَہ (المائدہ آیت :33)ان کی سزاجو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں ،

میں میڈیا کا پہلا چہرہ داخل ہوجاتا ہے جو اسلام یعنی اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور
وَ یَسعَونَ فِی الاَرضِ فَسَاداً (سورہ المائدہ آیت 33)اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں ،
میں میڈیا کا یہ چہرہ اور آگے ذکر ہونے والا چہرہ شامل ہوجاتا ہے۔اور ان کے لئے سزا بھی اللہ نے سخت متعین کردی کہ
اَن یُّقَتَّلُوآ اَو یُصَلَّبُوا اَو تُقَطَّعَ اَیدِیھِم وَ اَرجُلُھُم مِّن خِلاَفٍ اَو یُنفَوا مِنَ الاَرضِ ذٰلِکَ لَہُم خِزی فِی الدُّنیَا وَلَہُم فِی الاخِرَةِ عَذَاب عَظِیم(سورہ المائدہ آیت 33)یہ ہے کہ وہ قتل کردیے جائیں یا پھانسی چڑھادیے جائیں یا ان کے ہاتھ پیر مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا وہ ملک بدر کر دیے جائیں، یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

اس میں وہ پروگرام اور سیرئیلس بھی آجاتے ہیں جن میں فحاشی او ر ننگے پن کو کھلے طور سے دکھایا جاتا ہے جسے بچے اوروالدین ایک ساتھ مل کر دیکھتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچی بڑی ہوکر اپنے بوائے فرینڈ کو اپنے ساتھ گھر میں لے آتی ہے جسے کئی والدین فیشن اور آزادی کا نام دیتے ہیں تو کئی بول نہیں پاتے کیونکہ یہ تربیت بچوں نے اپنے والدین کے ساتھ دیکھ کر ہی پائی ہے۔

تو وہیں غریبوں کی عزت کو سر بازار ریلٹی شو کے نام پر خریدا اور بیچا جاتا ہے،ان کی نجی زندگی میں جھانک کر میاں اور بیوی میں طلاق کرانا اور کسی کو پھانسی پر چڑھا دینا یہ ریلٹی شو کی خصوصیات رہی ہیں،” آپ کی کچہری “کے نام پر خاندانی فسادات اور جھگڑوں کوانصاف دلانے کے نام پر ساری دنیا کے سامنے ان کی عزت کو نیلام کردیا جاتاہے،کیا ضروری ہے کہ انصاف دنیا کے سامنے ذلیل کرکے اور دنیا کے سامنے لڑاکر دلایا جائے؟

۳۔ میڈیانے اس بدعقیدگی کو پھیلانے اور بچوں کے ذہن کو کفر و شرک سے بھرنے نمایاں کردار ادا کیا ہے،ہم بچوں کے لئے آنے والے کارٹونز اور پروگرامس پر غور کریں کہ ان میں دکھایاکیا جاتا ہے؟ ہنومان ، رام اور کرشن کی اسٹوری کارٹونز میں دکھائی جاتی ہے اور کارٹون کے نام پر فحاشی بچوں کو دکھائی جاتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

ما من مولود الا یولد علی الفطرہ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ (بخاری :۱۲۷۰، مسلم)
” ہر بچہ کی پیدائش فطرت یعنی اسلام پر ہوتی ہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“۔

اس حدیث کا معنی محدثین اور شارحین حدیث نے یہ بیان کیا ہے کہ مثلا ًاگر یہودی کے گھر بچہ پیدا ہو تو وہ فطرت اسلام پر ہی رہتا ہے اس کے اندر ابتداءً اسلامی تعلیمات ہی اللہ رب العالمین کی طرف سے داخل کی جاتی ہیں، لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے یہودی والدین اسے یہودیت کی تعلیم دیتے رہتے ہیں تو بالآخر وہ بڑا ہوکر یہودی بن جاتاہے، لیکن موجودہ دور میں ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعہ مسلمانوں کے بچے بھی ہندو، یہودی اور نصرانی بنتے جار ہے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں پر دھیان نہیں دیتے کہ ان کا بچہ کیا دیکھ اور سن رہا ہے اور بچہ بڑاہونے کے بعد اگر کبھی مشکل میں آجاتا ہے تو وہی شرکیہ کام کرتا ہے جواس نے بچپن میں دیکھا اور سنا تھا۔

ہم نے اب تک دیکھا کہ کس طرح سے میڈیا بدعقیدگی پھیلارہاہے ، آزادی کے نام پر زناکاری اور ایڈس عام کر رہا ہے،گھریلو اختلافات کے حل کی بجائے گھریلو مشکلات کو بڑھاوا دے رہا ہے اور یہی میڈیا ہے جو ایک طرف کسانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو دوسری طرف کسانوں کو خودکشی پر مجبور کر رہا ہے۔ان سب کے علاوہ ہم ہمیشہ جو کچھ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ میڈیا اسلام کی غلط تصویر عوام میں پہنچا رہا ہے تووہ ایک واضح چیز ہے۔

اسی طرح ٹی وی پر آنے والے پروگرامز کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کوئی بچہ ٹی وی پر بچپن سے بتوں کی پوجا ہوتے دیکھتے آتا ہے تو مکلف ہونے کے بعد اسے بت پرستی دیکھ کر دل میں معمولی حرکت تک پیدا نہیں ہوتی ، کوئی برائی محسوس نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ بیشتر مسلمان اپنی دعوتی ذمہ داری کو بھول چکے ہیںاور برائیوں کو دیکھ دیکھ کر سود اور شراب جیسی لعنت میں پڑے ہوئے ہیں۔

اب ایسے ماحول میں ضرورت ہے کہ مسلمان بھی اپنی دعوت عام کریں، اپنی حقیقی اور صاف و شفاف تصویر دنیاکے سامنے پیش کریں اور ہورہی بہتان تراشیوں کا کھل کر جواب دیں،آپ کے ذہن میں آئے گا کہ ہم تو یہ سب کر رہی رہے ہیں… ہاں ! ہم جواب بھی دے رہے ہیں ، اسلام کی سچی تصویر پیش بھی کر رہے ہیں اور دعوت الی اللہ کا کام بھی جاری ہے۔ لیکن ، کہاں…؟ جمعہ کی تقریروں میں جہاں سامعین صرف مسلمان ہی ہوتے ہیں ، جلسہ اور اجتماعات میں جہاں مسلمانوں کے علاوہ کوئی نہیں آتا، اردو اخباروں اور مجلات میں جنہےں ہر انسان تو درکنار ہر مسلمان بھی نہیں پڑھ سکتا، ہماری مثال ایسی ہی ہے کہ انگریزی کے سوالیہ پرچہ کا جواب کوئی طالب علم دوسرے روز اردو کے جوابیہ پرچہ میں لکھ آئے گرچہ اس نے انگریزی کے پرچہ میں کئے گئے سارے سوالات کا صحیح صحیح جواب لکھا ہو، لیکن اس نے جہاں جواب دینا چاہیے تھا وہاں جواب نہیں دیا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا،الزام ہم پر الیکٹرانک میڈیا لگاتا ہے اور ہم جواب اپنے اسلامی جلسوں اور اردو میگزینس اور اردومجلوں میں دیتے ہیں۔

اس بات سے مجھے کوئی انکار نہیں کہ جلسہ اور جلوس کا یقیناً فائدہ ہوتا ہے اور جو جوابات ابھی جس طرح سے دیئے جارہے ہیں ان سے مسلمانوں کو ضرور فائدہ ہوتا ہے اور کئی لوگ تو اپنے سے ملنے جلنے والے غیر مسلموں تک وہ جوابات پہنچا کر انھیں مطمئن بھی کردیتے ہیں لیکن وہیں لا تعداد افراد ایسے بھی ہیں جن کا کوئی ملاقاتی مسلمان نہیں اور کئی ایسے مسلمان ہیں جن کاتعلق کئی غیر مسلموں سے ہے لیکن ان مسلمانوں کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ و ہ اسلامی تعلیمات سے کوسوں سے ہیں،ایسے افراد تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ہم نے کیا کیا؟ جن کے ذریعہ اسلام کی غلط تصویر ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعہ پہنچائی جا رہی ہے،جسے دیکھنے اور سننے کے بعد تو کئی لوگ مسلمانوں سے ملنا جلنا بھی پسند نہیں کرتے ،ایسے میںمسلمانوں کے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ میڈیاکی یلغارکا مقابلہ کرنے کے لیے جامع پالیسی تشکیل دیں،دنیامیں میڈیا سے وابستہ افرادکی فنی تربیت اور میڈیا کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے معیاری ’میڈیاانسٹی ٹیوٹ‘قائم کرنے بھی ضرورت ہے جو ایسے افراد تیار کرسکیں جو اسلامی تہذیب وثقافت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردارادا کرسکیں، الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں پیش رفت کے لیے موثراورجامع حکمت ِعملی کی ضرورت ہے، اسلامی تحریکیں، میڈیا، ادارے اور مسلم تنظیمیں ہرسطح پراس کے لیے بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں، مسلم دنیا اگر مجوزہ سفارشات اور خطوط پر منظم اور احسن انداز میں اقدامات اٹھائے تو امت مسلمہ میڈیا کے محاذ پر درپیش چیلنج کا بھرپور اور موثر جواب دے سکے گی،مسلمانوں کومغرب کی اندھی تقلیداورنقالی نہیں کرنی چاہیے، ٹی وی ڈراموں میں اسلامی تاریخ وثقافت کوپروان چڑھانا چاہیے، اگر احساس زندہ ہو تو آج بھی مثبت اور تعمیری تفریح کومسلم ممالک میں فروغ دیاجاسکتاہے، تعمیری، اصلاحی، تاریخی اورمعلوماتی پروگرام تیار کرنے کی ضرورت ہے، فلم کے میدان میں ایران نے خاصی ترقی کی ہے اور عالمی ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں، ایسی فلمیں جو اصلاح وتطہیر کا فریضہ انجام دیں اورجن کے ذریعے اسلامی معاشرے میں تعلیم وتربیت کاعمل بڑھ سکے ان کو مسلم ممالک میں رواج دینے کی ضرورت ہے۔

مغرب کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے جذبات کوجانچنے کے لیے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں ایشوزاٹھاتارہتاہے، اسلامی شعائرکی توہین کی جاتی ہے، تو مسلم دنیا میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہی ردِعمل سامنے آتا ہے، لیکن میڈیا کے ذریعے اس کا جواب نہیں دیا جاتا، مسلم دنیا کو الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ پراسلامی تشخص کوعام کرنے اور مغربی پروپیگنڈے کا موثر جواب دینے کے لیے اپنے دائرہ کاراورکاوشوں کو موثر اور منظم اندازمیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مسلم ممالک اورمغرب میں موجودمسلم تنظیمیں بڑے محدود دائرے میں میڈیاکاکام کررہی ہیں، مغرب نے جس سطح پر میڈیاسے کام لیا ہے، وہ مغربی ایجنڈا دنیا پرمسلط کرنے کے لیے خاصا کارگرثابت ہواہے، مسلم تنظیموں، اداروں اور تحریکوں کے لیے بے حد ضروری ہے کہ میڈیا کے لیے مناسب بجٹ مختص کریں، الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلوں کو ہدف بناکر کام کیا جائے، ’پروڈکشن ہاؤس‘کے ذریعے اینکرپرسنز اور پروڈیوسرز کی تربیت کابندوبست کیا جائے، آیندہ 10سال کا منظرنامہ سامنے رکھا جائے تو مسلم دنیا میں الیکٹرانک میڈیامیں ایسے افراد بڑی تعداد میں دستیاب ہوسکیں گے جو قومی اوردینی سوچ اور نظریاتی شناخت کے حامل ہوں گے۔

مسلم ممالک میں تنظیموں اوراداروں کو’میڈیاتھنک ٹینک‘ کا قیام عمل میں لانا چاہیے، ایسے ’میڈیا تھنک ٹینک‘ جو مغرب سے مکالمہ کرسکیں، امریکا اوریورپ کے ’میڈیا تھنک ٹینک‘ اسلام مخالف پروپیگنڈے میں پیش پیش ہیں، میڈیاتھنک ٹینک کے ذریعے مغربی پروپیگنڈے کا توڑ کیا جاسکتاہے اور حالات وواقعات کی اصل تصویردنیاکے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔

مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ کے منتظمین اپنی سطح پر محدود دائرے میں کام کررہے ہیں، مکمل ادراک (وڑن) نہ ہونے اور موثرحکمتِ عملی سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات صحیح طور پر مرتب نہیں ہو رہے، مسلم ممالک کی تنظیموں، اداروں اورتحریکوں کے میڈیاسے متعلق افراد کے نیٹ ورک کومنظم اورمربوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے انٹرنیشنل میڈیاکانفرنس کا انعقاد کیا جائے، اگرعالم اسلام کی ’میڈیاکانفرنس‘ کا انعقاد ایک تسلسل سے ہو تو نہ صرف میڈیا کے میدان میں پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے بلکہ درپیش چیلنجوں کے لیے موثر حکمت ِعملی بھی تشکیل دی جاسکے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیامیں الیکٹرانک میڈیااورانٹرنیٹ کی ٹکنالوجی پھیلنے سے مطالعے کا رجحان کم ہو گیا ہے، اب لوگ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات اورتفریح حاصل کرتے ہیں، ہندوستان سمیت مسلم دنیا کے لیے ناگزیر ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی پیغام کوعام کریں، اس مقصد کے حصول کے لیے جدید خطوط پر پروگراموں کی تیاری کے لیے ’پروڈکشن ہاؤس‘ بنانے چاہئےں۔ اس کی ایک کامیاب مثال Peace TVکی ہے، جہاں سے نشر ہونے والے پروگرام ہندوستان سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پرپھیل چکے ہیں، مختلف ممالک میں ایسے ٹی وی چینلوں کوقائم کرنے کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے جومعاشرے کی تعلیم وتربیت اورشعوروآگہی کوپروان چڑھاسکیں۔

اسلامی دنیامیں میڈیا سے وابستہ افرادکی فنی تربیت اور میڈیا کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے معیاری ’میڈیاانسٹی ٹیوٹ‘قائم کرنے بھی ضرورت ہے جو ایسے افراد تیار کرسکیں جو اسلامی تہذیب وثقافت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردارادا کرسکیں۔

امریکا اور یورپ میں الیکٹرانک میڈیاکے میدان میں جدید ٹکنالوجی کااستعمال بڑھتا جا رہا ہے، اب توامریکا اوریورپ میں شہروں کی سطح پرحکومت اوراین جی اوزکی سرپرستی میں پبلک براڈکاسٹنگ سنٹربنائے جارہے ہیں، ان ٹریننگ سنٹروں میں میڈیاسے دل چسپی رکھنے والے افراد کو اینکرپرسنز، پروڈیوسرز، اسکرپٹ رائٹرزاورکیمرہ اور ایڈیٹنگ کی تربیت دی جاتی ہے، اس تناظر میں ہندوستان سمیت مسلم ممالک میں بھی ایسے پبلک براڈکاسٹنگ سنٹرزکاقیام ضروری ہے، ان نشری تربیتی مراکز سے بہترین اینکر پرسنز، پروڈیوسر اور دیگر باصلاحیت افرادتیارکیے جاسکتے ہیں جو مسلم دنیا میں گہرے شعور و ادراک کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔

مغربی میڈیا کی جدید ٹکنالوجی کے جواب میں اگرچہ عالم اسلام میں بھرپور پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، لےکن سعودی عرب، کویت، قطر اور ترکی نے میڈیاکے میدان میں پیش رفت کی ہے، انٹرنیٹ اورٹی وی چینلوں کے ذریعے اسلام کی دعوت احسن اندازمیں پیش کی جارہی ہے۔ تاہم مسلم ممالک میں جدید میڈیا ٹکنالوجی سے ابھی تک خاطرخواہ استفادہ نہیں کیاجا سکا، الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں پیش رفت کے لیے موثراورجامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، اسلامی تحریکیں، میڈیا ادارے اور مسلم تنظیمیں ہرسطح پراس کے لیے بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلم دنیا اگر مجوزہ سفارشات اور خطوط پر منظم اور احسن انداز میں اقدامات اٹھائے تو امت مسلمہ میڈیا کے محاذ پر درپیش چیلنج کا بھرپور اور موثر جواب دے سکے گی۔






۔۔۔مزید

جمعرات، 28 فروری، 2013

صرف قرض نہیں مفاد عامہ میں کام کرنے کی ضرورت


محمد علم اللہ اصلاحی 

ہندوستان میں آئے دن کوئی نا کوئی نیا قانون اور منصوبہ بنتا ہے ۔نئے فیصلہ صادر ہوتے ،کمیٹیاں بنتیں اور اس کو لیکر بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں اور ان سب کے مقصد کے طور پر کہا جا تا ہے کہ اس سے جمہوریت مزید صحت مند،توانا اور مضبوط ہوگا ۔لیکن جب واقعتااور صحیح معنوں میں صدق دلی سے ان فیصلوں ،منصوبوں اور قوانین پر عمل آوری اور صدق دلی سے نفاذکی بات کی جاتی ہے تو سارے کے سارے منصوبے دھرے رہ جاتے ہیں ،کوئی قانون کام نہیں آتا بلکہ الٹے اس کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور تمام قسم کی یقین دہانیوں کے باوجود وہ قانون اور وہ منصوبہ محض کاغذ کے فائلوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے اورپھرچھا جاتی ہے وہی خاموشی،سناٹا اور سکوت تاآنکہ الیکشن کا موقع دوبارہ نہ آ جائے ۔اس کے قریب آتے ہی ایک مرتبہ پھر ایسے منصوبوں کی باز گشت سنائی دی جانے لگتی ہے اور عوام کو سبز باغ دکھانے کا عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے ۔اور اس عوام میں سب سے بھولی بھالی اور ان کے اس دام میں آ جانے والے سب سے زیادہ اقلیت ہی ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ ایسا کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے ۔

ابھی حال ہی میں حکومت نے ایک ایسے ہی فیصلہ کو حقیقی روپ دینے کی بات کہی ہے ۔اور یہ فیصلہ ہے انھیں دی جانے والی قرض میں اضافہ یعنی اس سے متعلقہ افراد کو اب سے پہلے 5لاکھ روپئے لون دیا جاتا تھا لیکن اب اس رقم کو بڑھا کر 10لاکھ روپئے تک کر دیا گیا ہے ،اسکی شرح سود بھی دیگر بینکوں یا کمپنیوں کی طرح نہ ہوکر محض 2فیصد شرح سودکے بطور رکھی گئی ہے ۔خبر کے مطابق یہ فیصلہ وزارت برائے اقلیتی امور کی ایک داخلہ میٹنگ میں لیا گیا ہے ۔اس سے قبل اقلیتی حلقہ سے وابستہ چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں کو قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی)کی جانب سے انتہائی کم شرح پر لون دیا جاتا تھا ۔جس کے تحت قر ض دینے کی حد پانچ لاکھ روپئے تک تھی مگر اب اسے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔وزارت کے اس فیصلہ سے چھوٹے تاجروں کو کم شرح پر دینے کی حد 10لاکھ کر دی گئی ہے ۔

این ایم ڈی ایف سی کے مطابق اب تک اقلیتی تاجروں کو 4فیصد سالانہ شرح سود پر پانچ لاکھ روپئے تک کا قرض دیا جاتا تھا جبکہ دیگر سرکاری قرضوں میں شرح سود 8سے لیکر 10فیصد تک ہوتا ہے ۔وزارت کے بقول اس لون کا مقصد اقلیتی حلقہ سے وابستہ تاجروں کو فائدہ پہنچانا ہے تاکہ وہ خود کفیل ہوں اور اپنی مدد آپ کرنے کے اہل ہو سکیں ۔وزارت کے ذرائع کے مطابق قرض کی حد بڑھانے کے ساتھ اعلی تعلیم کے حصول کے خواہشمند مسلم نوجوانوں کو 2فیصد شرح سود پر 20لاکھ روپئے تک کا تعلیمی لون دینے کی راہ کو ہموار کیا گیا ہے ۔بقول وزارت اس سے اعلی تعلیم کے حصول کے خواہشمند نوجوانوں کو سہولت ملے گی اور جن کے پاس اپنے تعلیمی سلسلہ کو بڑھانے کے لئے مالی ذرائع نہیں ہوتے انھیں اس کے ذریعہ اپنے خوابوں کی تکمیل میں مدد مل سکے گی ۔

اس سلسلہ میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورکے رحمان خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اس کے بعد ہمارا اگلا منصوبہ اقلیتوں کو مالی امداد کے علاوہ روزگار سے وابستہ ترقی کے بارے میں بھی سوچنا ہے ۔ان کے بقول ریاستی سطح پر بھی بینکوں میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات دلانے کے لئے وزارت کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے ۔اور بینکوں کے نام بھی سر کلر جاری کیا جائے گا کہ قرض دینے کے عمل میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کے عصبیت سے کام نہ لیں ۔ان کے مطابق اس تعلق سے ایم ایم اے نے وزارت مالیات کو ایک پروجیکٹ بھیجا بھی ہے جس میں اقلیتوں کی اقتصادی ترقی کی بابت خاص پروگرام کو نشان زد کیا گیا ہے ۔تاکہ انھیں مالیاتی پروڈکشن اور قرضوں کے لئے سود سے آزاد سہولیات دستیاب ہو سکیں ۔کے رحمان خان کے مطابق ان کی وزارت نے اقلیتوں کی تعلیم سے جڑے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے اقلیتی وزارت کو منتقل کرنے کی درخواست بھی ہائی کمان کو پہنچا دی دی ہے ۔خبروں کے مطابق ایم ایم اے کے نئے اپ ڈیٹ میں ابتدائی سطح پر اس پر رضا مندی بھی مل رہی ہے۔جس سے امید کیا جا رہا ہے کہ تعلیم سے وابستہ امور کو وزارت برائے اقلیتی امور کو سونپ دیا جائے ۔
دریں اثنا لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک اس سال پہلے جب کہ ایم ایم اے کی جانب سے اقلیتوں خاص کر مسلم تاجروں کے لئے قرض کی حد بڑھا دی گئی ہے ۔مانا جا رہا ہے کہ اس سے یو پی اے اقلیتوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہ رہی ہے ۔یہ خوش نودی انھیں ملتی ہے یا نہیں یہ تو ایک الگ بات ہے لیکن این ایم ایف ڈی سی کی حالیہ کارکردگیوں پر مسلم دانشور تجزیہ نگاروں کی جانب سے کئی سنگین سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔اس بابت گفتگو کرتے ہوئے یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے کنوینر ڈاکٹر سید احمد کہتے ہیں کہ یہ الیکشن 2014کی تیاری کے لئے مسلمانوں کو محض خوش کرنے کا ایک عمل بھرہے ان کے بقول اس سے قبل بھی اس قسم کے بیانات آتے رہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔تاہم ان تمام کے باوجود ڈاکٹر سید احمد کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے ،مسلمانوں کو اس کااستقبال کرنا چاہئے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اسی طرح ایک اور دانشور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ اب تک کا ریکارڈ تشفی بخش نہیں رہا ہے اسی لئے اسے بھی ہم ایک فراڈ ہی تصور کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے مسلمان اس سے اس لئے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے کہ اسلام میں سود حرام ہے ۔ان کے بقول بہت سے مسلمان اسی سبب اس طرح کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں تکلف محسوس کرتے ہیں ۔اگر حکومت اتنی ہی مسلمانوں کی خیر خواہ ہے تو وہ بغیر سود کے رقم مہیا کرائے یا پھر فائل چارچیز کے نام پر پیسے لے نا کہ سود کی شکل میں ۔

کئی دانشوروں نے این ایم اف ڈی سی کے سسٹم اور قرض دینے کے شرائط پر بھی تنقید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں شرائط کے سبب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے ۔اور دیگر اقلیتیں تو ممکن ہے اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہوں لیکن مسلمان فائدہ نہیں اٹھا پاتے ۔کئی داشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت خود تو یہ رقم فراہم کرتی نہیں بلکہ بینکوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں قرض مہیا کرائے اور عموما دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بینک کے افسران و ذمہ داران مسلمانوں کو قرض دینے یا اس قسم کی کسی بھی سہولت انھیں فراہم کرنے میںآنا کانی کرتے اورمسلمانوں کے ساتھ عصبیت کا رویہ اپناتے ہیں ۔اس قسم کے کئی مقدمات اخبارات کے ذریعہ بھی منظر عام پر آتے رہے ہیں ۔کئی جگہوں پر بینک افسران کے ذریعہ مسلمانوں کو ذلیل کرنے اور قرض لینے کے نام پر مذاق بھی اڑائے جانے کی اطلاعات ہیں ۔حالانکہ متعدد مسلم تنظیموں نے اس جانب حکومت کے اعلی ذمہ داران کو توجہ بھی دلانے کی کوشش کی ہے جن میں بقول سید قاسم رسول الیاس جماعت اسلامی ہند بھی شامل ہے لیکن حکومتی سطح پر اس معاملہ کو لیکراس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔اس سے اقلیتوں کے مسائل گھٹنے کے بجائے بڑھتے ہی رہے ۔ایسے میں وزارت کو محض قرض کی حد بھر بڑھا دینے سے معاملہ کا حل ممکن نہیں ہے بلکہ اس قرض کو مفاد عامہ کے لئے مفید اور کار آمد بنانے کے لئے بھی حکومت کو اقدامات کر نے ہونگے ۔

اور جیسا کہ بعض دانشوروں نے کہا ہے سود کی وجہ سے بہتیرے مسلمان ایسے سہولیات سے فائدہ اٹھا پانے سے قاصر ہیں تو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس کا کیا متبادل ہو سکتا ہے ۔اسے اور بھی آسان اور سہل کیسے بنایا جا سکتا ہے ۔اس قسم کی کسی بھی سہولت کی اطلاعات چند گنے چنے اخبارات میں دئے جاتے ہیں ۔اس کی وجہ سے بھی عام طبقہ کی رسائی ایسی سہولیات تک نہیں ہو پاتی تو حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگا ۔جو اخبارات مسلمان علاقوں میں پڑھے جاتے ہیں ان اخبارات میں اشتہارات دینے ہونگے ۔سمپوزیم اور سیمنار منعقد کرانے ہونگے ،مسلم دانشوران اور سماجی کارکنان کے درمیان کاونسلنگ کرنی ہوگی اور انھیں بتا نا ہوگا کہ وہ عام لوگوں کو بیدار کریں کہ وہ حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ۔بیداری کے لئے مہم چھیڑنی پڑے گی ۔سسٹم کو مزید منظم اور سیاسی دباؤ سے پرے ہٹ کر ایک مضبوط تقاضہ اور ضرورت کے تحت کام کو آگے بڑھانا ہو گا اگر ایسا ہوتا ہے تبھی حکومت کی کوئی بھی اسکیم کامیاب ہو سکتی ہے بصورت دیگر وہی ڈھاک کے تین پات والی بات ہوگی اور اس کا کوئی بھی حل نہیں نکل سکے گا ۔ 

۔۔۔مزید

مولانا آزاد ایجوکیشن فاونڈیشن کارکردگی اور بجٹ



محمد علم اللہ اصلاحی 
کسی بھی جمہوری ملک میں آئین و قانون کی رکھوالی کرتے ہوئے اقلیتوں کو واجب حصہ داری فراہم کرانا سب سے بڑا چیلنج ہوا کرتا ہی۔وطن عزیز کی مٹی بھی اس لحاظ سے خاصی سنگلاخ واقع ہوتی رہی ہے کہ یہاں آئینی و قانونی تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے اقلیتوں کی فلاح  و ترقی کو کماحقہ یقینی بنانے کی غرض سے کئی اداروں کی تشکیل تو کی گئی مگر حق تو یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت ایسے کئی ذمہ دار اور فعال اداروں کی موجودگی اور سریع الحرکتی کے باوجود سچر کمیٹی کے لفظوں میں’’دلتوں سے بدتر‘‘زندگی گزارنے پر مجبور ہی۔ہرچند کہ ہماری حکومت اقلیتوں کی فلاح  و ترقی کیلئے پابندعہد ہے اور اس طرح کے کئی اقدامات بھی کئے گئے ہیں جن سے نہ صرف ان کی زبان، مذہب اور ثقافت کی حفاظت ہو سکے بلکہ ان کی ہمہ جہت ترقی  اور اقتصادی اورسماجی  خوشحالی بھی آسکے۔اور اس سلسلہ میں اقلیتوں کو اصل و قومی دھارے میں لانے کیلئے خصوصی کوششیں ہوتی رہی ہیں،یہ اور بات ہے کہ اس مقصد میں حکومت کو ہنوز واضح کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 کے قوانین کے مطابق پانچ مذہبی فرقوں مسلمان، عیسائی، سکھ، بودھ اور پارسی کو اقلیتی کمیونٹی کے زمرے میں رکھا گیااور کہا گیا کہ اقلیتوں میں مسلمان اور خاص طور پر مسلم خواتین پر زیادہ توجہ دی جائے گی کیونکہ دیگر فرقوں کے مقابلے وہ سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔

اسی مقصد کی تکمیل کے لئے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (AEF) کا قیام 1989 میں رضا کارانہ طور پرعمل میں آیاجو درحقیقت ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش سوسائٹی کی حیثیت سے اقلیتوں کے تعلیمی معیار کو فروغ دینے کی خاطر سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈکیا گیا تھا ۔ اس ادارہ کے اہم مقاصد میں خاص طور سے تعلیمی اعتبار سے پسماندہ، اقلیتوں اور عام طور پر کمزور طبقوں کے فائدے کے لئے تعلیمی اسکیمیں وضع کرنا اور ان کے نفاذکویقینی بنا نا تھا جس میں خاص طور سے طالبات کو جدید تعلیم فراہم کرنے کے لئے رہائشی اسکول اور تعاون سے لیکر دیگر تحفظات کی بات بھی شامل تھی۔
لیکن جب اس پس منظر میں حالات کا جائزہ جائزہ لیا جاتا ہے تو مایوسی ہی ہاتھ لگتی ہے اور اس کے ذریعہ بہت زیادہ تبدیلی واقع ہو گئی ہو ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ہم یہاں پر یہ نہیں کہہ رہے کہ اقلیتی طبقہ کو سرے سے اس سے کوئی فائدہ ہی نہیں پہنچا، ہو سکتا ہے کہ اس سے کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہو لیکن اکثریت کو اس طرح کے مراعات یا فنڈز کا پتہ نہیں چلتا۔ اس حقیقت کو سچر کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیاہے۔ اس بابت اگر مرکزی حکومت اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی اور بہبود کے تئیں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہوتی تو اس میں تبدیلی لائی جاتی اور اصلاحات کیلئے مزید بجٹ کا اضافہ کرتی۔

گزشتہ دنوں مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے ملک بھر میں اقلیتی برادریوں کیلئے پانچ یونیورسٹی کھولے جانے اور اقلیتی غلبہ والے اضلاع میں حکومت کی طرف سے مرکزی اسکول ماڈل ادارے بنانے کے تجویز پرمرکزی اقلیتی امور کے وزیر کے رحمان خان نے لوک سبھا میں بتایاتھا کہ اس سلسلے میں مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور تین یونیورسٹیوں کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ لیا جا چکا ہی۔ جن میں بنگلور میں ٹیپو سلطان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اجمیر میں خواجہ غریب نواز پروفیشنل، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اور بہار کے کشن گنج میں رفیع احمدقدوائی یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز شامل ہیں۔یہ فیصلہ محض فیصلہ تک ہی محدود رہے گا یا عملی طور پر بھی اس کیلئے کچھ اقدامات کئے جائیں گے ،اس پر تو ہم گفتگو نہیں کرنا چاہتے لیکن اس کے علاوہ بھی فاؤنڈیشن کی دیگر سرگرمیوں کے بارے میں سن کر کافی تکلیف ہوتی ہے ۔ طلباء کو فارم پر کئے جانے کے باوجود اسکالر شپ نہ ملنا ،دور گائوں اور دیہات سے آنے والی درخواستوں کا غائب ہو جانا ،سالوں گذر جانے کے باوجود بھی ریسرچ اسکالروں کو فیلو شپ نہ دیا جانا،اس قسم کی خبریں تو مستقل سننے کو ملتی ہیں۔

یہ شاید حکومت کا پہلا ادارہ ہوگا جو کہ گزشتہ چار سالوں سے بغیر کسی مستقل سکریٹری کے بیساکھی کے بل پر چل رہا ہے ۔ اسٹاف کی کمی کی خبریں تو آتی ہی رہی ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس کے پاس با قائدہ اپنا آفس بھی نہیں ہے جس میں یہ اپنے کام کو احسن طریقہ سے نبھا سکے اور ایک انفراسٹکچر قائم کر سکے ۔حالانکہ جس وقت اس کا قیام عمل میں آیا تھا اس کے اغراض و مقاصد میں کل چودہ نکات تھے ۔لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اب تک صرف دو نکات کو نافذ العمل بنایا جا سکا ہے،وہ دو نکات ہیں گرانٹ ان ایڈ (اس میں اقلیتوں کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکولوں کے انفراسٹکچر کی توسیع ،ہاسٹل اور عمارات وغیرہ کا قیام بھی شامل ہی)جبکہ دوسرا نکتہ ہے لڑکیوں کیلئے اسکالر شپ اسکیم ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاونڈیشن نے ان دونوں نکات پر عمل آوری میں ممکنہ حد تک ایمانداری سے کام لیا ہی۔یہ الگ بات ہے کہ اس سلسلہ میں بھی شاکایات موصول ہوتی رہی ہے ۔لیکن بقیہ 12مقاصد کی جانب کوئی پیش قدمی کیوں نہیں ہوئی ۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے حکومت خود کو بچا نہیں سکتی ۔اس بابت فاؤنڈیشن کے ذرائع سے بات کی جاتی ہے تو وہ مالی وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں ۔اور ہمیشہ ان کا یہی ٹکا سا جواب ہوتا  ہے کہ ’’ہم کیا کریں ہمارے پاس تو بجٹ ہی کم ہے ‘‘۔

آخر اس قسم کی باتیں کیوں سننے میں آتی ہیں۔ ایک طرف تو حکومت اقلیتوں کا معیارزندگی اونچا کرنے کی بات کرتی ہے دوسری جانب عملی طور پر جب بات کرنے کی آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتی ہے یا ایسی سرد مہری کا رویہ اپناتی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ 1993-94میں حکومت نے کارپس فنڈ کی شکل میں 5کروڑ روپئے کا گرانٹ دیا تھا جو کہ 2003تک پہنچتے پہنچتے 750کروڑ تک ہوا اس کے بعد سے اب تک اس میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ۔جب کہ مہنگائی ڈائن اسی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔ لیکن اس میں واقعی اضافہ ہوگا بھی یا نہیں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ ذرائع نے حالانکہ بتایا ہے کہ آنے والے بجٹ کیلئے فاونڈیشن کی جانب سے 750کروڑ کو ڈبل یعنی 1500کروڑکرنے کا پرپوزل بھیج دیا گیا ہے ۔ معلوم ہو کہ فاونڈیشن کی بابت کہا جاتا ہے کہ یہ اپنی اسکیموں کا نفاذ اپنے کارپس فنڈ سے حاصل ہونے والے سود سے کرتا ہے جو کہ اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ حکومت اس بامقصد ادارے کو فعال اور زیادہ اثر دار بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے بجٹ میں کٹوتی کرکے اس کے پر کو ہی کاٹنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ گھسٹ گھسٹ کر بھی نہ چل سکے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مزید اسکے اختیارات اور اہدافات میں اضافہ کیا جاتا ،نوکرشاہی کے من مانے رویہ جو فنڈز اوراسکیموں کے استعمال کو صحیح طریقہ نہیں ہو نے دیتے کی سرزنش کی جاتی ،فنڈ کے حصولیابی کو ممکن اور سہل الحصول بنایا جاتا ۔ اسے ایک نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ بنایا جاتا ۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اقلیتوں کی ترقی کیلئے اسے مزید فعال اور متحرک بنائے جانے کے اقدامات کئے جاتے ۔ اسے زیادہ سے زیادہ فنڈ دیکر اقلیتوں کے تعلیمی اور سماجی معیار کو بلند کر نے کے بندوبست کئے جاتے ۔ اس قدر حساس کام کرنے والے ادارے کے اندر کسی قسم کا کوئی کرپشن یا سیاسی دباو نہ ہو اس پر دھیان دیا جاتا ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے بظاہر ایک نیک 
اور اچھے کام کیلئے بنائے گئے ادارہ کا مقصد ہی فوت ہو کر رہ گیا ۔

اب بھی وقت رہتے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیت کم از کم احساس کمتری سے باہر نکلیں اور دیگر کمیونٹی کی طرح ان کا بھی معیار اور اسٹیٹس بلند ہو۔ اگر حکومت نے اس جانب توجہ دی تو واقعی یہ ایک بڑا کام تو ہوگا ہی ساتھ ہی یہ جمہوریت کے لئے بھی مفید اور کاآمد ہو گا ۔اور ہندوستان جس کا خواب ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر ابھرنے کا عزم ہے وہ بھی پورا ہوگا ۔


۔۔۔مزید

جمعہ، 15 فروری، 2013

سالگرہ پر شکریہ اور دعا کی درخواست


سالگرہ پر شکریہ اور دعا کی درخواست 
 محمد علم اللہ اصلاحی
کہتے ہیں وقت گذرتے پتہ نہیں چلتا ۔یہ تو برف کے مانند پگھل جاتاہے ۔اور ایک دن مکمل پگھل کر اپنا وجود کھو دے گا ۔ میں نے بھی ایسے ہی آج اپنی زندگی کے چوبیس بہاریں کھو دیں ۔پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں حسرت و مایوسی اور اپنی ناکامی پر رونا آتا ہے آگے دیکھتا ہوں تو منزل دور بہت دور نظر آتی ہے ۔بس خدا ہی سے مدد کا طالب ہوں۔

اس موقع پر میں دور و نزدیک کے ان تمام دوستوں اور محبین کاشکریہ ادا کرتا ہوں۔جنھوں نے مجھے اپنے دلپذیر چاہتوں کاپیغام ارسال کیا ۔دعائیں دیں اور اپنی نیک تمناﺅں اور خواہشوں کا اظہار کیا ۔خواہ وہ ایس ایم ایس کے ذریعہ ہو،میل کے ذریعہ یا پھر فون و زبانی۔

بلاشبہ فطرت کے ڈھیر سارے تحفوں میں سے خوبصورت تحفہ مخلص اور قدر دان دوست بھی ہوتے ہیں جو منزل تک پہنچنے میں رہبری کرتے اورترقی کی جانب بڑھنے میں ہمیشہ رہنمائی اور مدد کرتے ہیں، انکا ساتھ کبھی بھی تھکاٹ کا احساس ہونے نہیں دیتا۔ مجھے لکھتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ مجھے آپ جیسے بے شمار دوست اور محبین ملے ہیں جو دکھ سکھ، خوشیاں تقسیم کرتے ہوئے فاصلے سمیٹ رہے ہیں۔

ایک مرتبہ تمام کا پھر شکریہ
!!اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو




۔۔۔مزید

بدھ، 13 فروری، 2013

منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلہ


منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلہ
محمد علم اللہ اصلاحی
حج کواسلام کا پانچواں نبیادی ستون کہاگیا ہے اورصاحب ایمان کیلئے استطاعت رکھنے کی صورت میںکم از کم زندگی میں ایک بارادائیگی کو فر ض قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایک سے زائدحج کی مسلمہ فضیلتوںسے انکار کی بھی گنجائش نہیں۔شاید اسی سبب ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک بار ضرور حج کرنے کےلئے مکہ مدینہ جائے۔اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حکومت ہند نے مسلمانوں کو دی جانے والی حج سبسڈی کوایک عازم کے لئے پانچ سال میں ایک بار کے بجائے زندگی میں صرف ایک بار دینے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ عدالت میں پیش کئے گئے ایک بیان حلفی میں حکومت نے بتایا کہ انہوں نے حج کے حوالے سے نئی پالیسی ترتیب دی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان عازمین کو حج پر جانے کا موقع ملے جو پہلے کبھی حج پر نہیں گئے ہوں۔ مرکزی حکومت نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ”سبسڈی پر پانچ سال کے بجائے زندگی بھرمیں صرف ایک بار حج پر جانے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ ایک بڑا فیصلہ ہے، اس سے ایک حاجی کو زندگی میں صرف ایک بار سبسڈی کا فائدہ ملنے کے علاوہ ان لوگوں کو حج کرنے کا موقع ملے گا جو پہلی بار حج پر جانا چاہتے ہوں۔

واضح ہو کہ حکومت ہند کی جانب سے ہر سال حج کمیٹی کے ذریعہ فریضہ ¿ حج کی ادائیگی کے خواہشمندعازمین کو فضائی کرائے میں سبسڈی دی جاتی رہی ہے ۔حکومت خودسبسڈی پر آنے والا صرفہ حکومت ایئر انڈیا کو ادا کرتی ہے۔حال میںہی مرکزی حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس التمش کبیر اور جسٹس رجنا پرکاش دیسائی کی بنچ نے یہ حکم دیاتھا کہ حکومت کی طرف سے جو سبسڈی دی جا رہی ہے اس کا فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگ ایک بار سے زیادہ حج کے لیے چلے جاتے ہیں ، جس کا براہ راست اثر ان مسلمانوں پر پڑتا ہے جو ایک بھی باربھی حج کرنے نہیں جا سکے ہیں۔ اس لئے آئندہ دس برسوں کے اندر یہ سبسڈی ختم کی جانی چاہئے اور ایسے مسافروں کو ترجیح دی جانی چاہئے جو پہلی بار حج کرنے جا رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ کا یہ بھی حکم تھا کہ سرکاری خرچ پر حج کے لیے جانے والے کابینہ کے ارکان کی تعداد میں بھی کمی کی جائے۔

دیگر معاملات کی طرح اس معاملہ کو لیکر بھی ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے درمیان بحث و مباحثہ اور حمایت و مخالفت کا دور شروع ہو گیا ہے ۔اس سلسلہ میں دہلی میں ایک فیڈریشن کا بھی وجود عمل میں آگیا ہے جس نے حکومت کے اس فیصلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پلیٹ فارم بنا کر تحریک چلانے کی بات کہی ہے ۔اس فیڈریشن کا نام ”فیڈریشن آف این جی اوز آف دہلی فار حج “رکھا گیا ہے ۔اس فیڈریشن نے اپنے مطالبہ کو لیکر جہاں حکومتی اہلکاروں کو مکتوب ارسال کیا ہے وہیں حج کمیٹی آف انڈیا ،مسلم پرسنل لاءبورڈ،اقلیتی کمیشن اوردہلی حج کمیٹی کو بھی حکومت کے رویہ میں تبدیلی لانے کے لئے توجہ دلانے کی بات کہی ہے ۔فیڈریشن کو حمایت دینے والوںمیں بطور خاص دہلی حج کمیٹی کے ڈاکٹر پرویز میاں ہیں جنھوں نے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این جی اوز کے مطالبات درست اور جائز ہیں اور مجھے اس سے پوری طرح اتفاق ہے ،وہیں بعض تنظیموں کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔

جبکہ بعض تنظیموں کی جانب سے اس قسم کی بھی باتیں آئی ہیں کہ حکومت نے یہ فیصلہ پوری طرح غیر جانب دار رہ کر، مسلمانوں کے مفاد میں کیا ہے ۔ان کے بقول یہ ان لوگوں کے لئے زیادہ سود مند ثابت ہوگا جو کبھی حج کرنے کے لئے نہیں گئے۔کئی تنظیموں نے کہا ہے کہ دین اسلام میں ہر مسلمان کو ایک بار حج پر جانے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے ہونے والی لاپرواہی اور نظر انداز کی جانے والی پالیسی کی وجہ سے بہت سے لوگ پیسہ ہونے کے باوجود سرکاری سبسڈی کا فائدہ اٹھا کر کئی بار حج کرنے چلے جاتے ہیں جبکہ حقیقی مستحقین حکومت کی سبسڈی کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ان کے بقول یہ سیاسی سرگرمیوںکا حصہ ہے جس سے مسلمان اچھی طرح سے واقف ہیں اس لئے اس حکم پر بھی سیاسی چادر چڑھانے کی پوری پوری کوشش کی جانے کی امید ہے،مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے ۔

اس معاملہ کو لے کر مسلم پرسنل لاءبورڈ،جماعت اسلامی اور جمعیة العلماءسمیت دیگرمقتدر ملی تنظیموں کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان تنظیموں نے برابر کہا ہے کہ حج کے سفر کے لئے کوئی سبسڈی ہونی ہی نہیں چاہئے۔ان کے بقول حج ایک مذہبی سفر ہے اور اسے ملک بھر کے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ملی سبسڈی کی بنیاد پر مکمل نہیں مانا جا سکتا۔ سفرحج پر ویسے ہی لوگ جا سکتے ہیں، جو اقتصادی اور جسمانی طور پر فعال ہوں۔ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک حج سفر کرنا بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کئی اور باتیں بھی استعمال ہوئی ہیں، جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے یوںتو عدالت کی تنبیہ کے بعد اب نوٹس لیا ہے، لیکن اس ملک کے بہت سے دانشور بہت پہلے سے ہی کوشش کر رہے تھے کہ اس کو سرے سے ہی ختم کر دیا جائے۔کیونکہ یہ حج سفر پر سبسڈی مٹھی بھر لوگوں کو خوش کر کے، کروڑوں کے ووٹ بینک کو اپنا بنانے کا ہتھکنڈہ بھر ہے ۔آج بہت سی چیزوں پر ہماری حکومت سبسڈی دیتی ہے ۔مثال کے لئے رسوئی گیس کو لے لیجیے۔ بغیر سبسڈی کے یہ تقریبا 1000 کا سلنڈر پڑتا ہے۔ سبسڈی کے ساتھ آج یہ تقریبا 425 کا ہے۔ یہ شرح 3600 ماہانہ والے ایک عام مزدور کےلئے ہی نہیں ہے، بلکہ50ہزار سے زائد ماہانہ پانے والے کسی بھی اعلی درجے کے افسر یا ملازم یا دیگر پیشہ ورافراد کےلئے بھی ہے۔ یہی حال پٹرول اور ڈیزل کے معاملے میں بھی ہے ایک مڈل کلاس دو پہیہ گاڑی ہولڈر کو بھی پٹرول تقریبا 70 روپے لیٹر ملتا ہے اور وہی شرح لکھپتی اورکروڑپتی دو پہیہ، چار پہیہ گاڑی ہولڈرز کے لئے بھی ہے۔ اسی طرح کی سبسڈی دیکر حکومت مسلمانوں کو برابر احسان جتاتی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات تک کے لئے بے درغ پیسے خرچ کر رہی ہے ۔حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ماصل معاملہ کیا ہے ۔

مسلمانوںکاایک بڑا طبقہ بہت پہلے سے یہ بات کہتارہاہے کہ حج سبسڈی سے حاجیوں کو نہیں بلکہ جہاز کمپنیوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور جہاز کمپنیاں کی آڑ میں نہ جانے کتنامنافع حاصل کررہی ہےں، اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔کسی جہاز کمپنی کو ایک ساتھ سوا لاکھ کسٹمر ملنا بہت بڑی بات ہے۔ حکومت سبسڈی نہیں دے گی تو جس کمپنی کو مسافر کی ضرورت ہے، وہ خود ہی کرایہ کم کرے گی۔حج سبسڈی کوسیاسی کھیل بتانے والوںکاخیال ہے کہ ایک طرف اگر ووٹ بینک کی لالچ ہے تو دوسری طرف خود غرضیاں ہیں۔انجام کارحجاج کرام عرصہ  دراز سے سبسڈی کے نام پر بے وقوف بنائے جاتے رہے ہیں۔حج کی ادائیگی کے دوران نہ صرف یہ کہ سبسڈی کے نام پر ہی عازمین کوٹھگاجاتا رہاہے بلکہ جانکاروںکا خیال ہے کہ عازمین 
کے قیام سے لے کر جملہ امور میں بھی عجیب و غریب قسم کی بے ضابطگی کا عمل دخل ہے۔


یہ تذکرہ بے محل نہیں کہ ماضی میں حرم شریف کے نزدیک حاجیوں کے قیام کی سہولت مہیاکرانے کی بجائے حرم پاک سے خاصا دورٹھہرنے کا بندوبست کیاگیا جبکہ عازمین کو اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ انہیں خصوصی مراعات فراہم کرائی جائے گی۔جانکاروںکاعام خیال یہ بھی ہے کہ سفرحج کے دوران عازمین کی پریشانیوںمیں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ایماندار قسم کے سرکاری اہلکار اگر ایک طرف ذاتی منفعت کی خاطرمصلحت آمیز فیصلے لیاکرتے ہیں وہیں دوسری جانب سرکاری سطح پر بھی پالیسیوںک انفاذووٹ بینک کو ذہن میں رکھ کر ہی کیاجاتارہا ہے۔ حال میں آرٹی آئی کے ذریعہ حاصل معلومات سے یہ نتیجہ بھی اخذکیاجاچکاہے کہ حج خیر سگالی وفد کو بھی مخصوص طبقہ کو خوش کرنےکیلئے آلئہ کار کی حیثیت سے استعمال کرنے کی کوشش ہو چکی ہے۔ایسے میں عدالت عظمیٰ کی خصوصی دلچسپی بے سبب بھی نہیں۔امید کی جارہی ہے کہ حج کی ادائیگی کے عوامل میں پائی جانے والی والی بے ضابطگیاں جلددور ہوںگی بشرطیکہ حج کو ڈیل بنانے والوں کے خلاف لوگ عدلیہ سے رجوع کریں اوروہاں اپنے موقف کو درست طریقے سے رکھیں۔

۔۔۔مزید

جمعہ، 8 فروری، 2013

عالمی کتاب میلہ اور پاکستانی اسٹالس


عالمی کتاب میلہ اور پاکستانی اسٹالس

 محمد علم اللہ اصلاحی

آج دہلی میں منعقدہ عالمی کتاب میلہ میں جانے کااتفاق ہوا۔میں بطور خاص پاکستانی بکس اسٹالس میں بہت امیدوں کے ساتھ گیا کہ کچھ کتابیں خرید سکوں لیکن بہت مایوسی ہوئی۔ اکثر اسٹالوں میں وہی جنت کی کنجی،بہشتی زیور،پنج سورہ،پاکستانی سولہ سورہ ،وہابی ازم ایک فتنہ،بریلویوں کا پوسٹ مارٹم وغیرہ جیسی کتابیں ملی۔اسے دیکھ کر کافی حیرت ہوئی اور افسوس بھی ۔کچھ کتابیں نئے موضوعات پر تھیں بھی تو اسکی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ خریدنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔پھر بھی میں نے قدرت اللہ شہاب صاحب کی شہاب نامہ اورسید عبد اللہ کی اداس نسلیں خریدی ۔ منثورات والوں نے بھی وہی کتابیں اپنے اسٹال میں لگائی تھیں جو مرکزی مکتبہ بہت پہلے سے چھاپتا اور بیچتا رہا ہے۔کئی کتابوں کے اسٹالس ایسے بھی نظر آئے جو بالکل خالی پڑے تھے تاہم اس پر پاکستانی بک اسٹالوں کے نام درج تھے ۔ پاکستانی انا ہزارے یعنی طاہرالقادری کی تصویر بھی ایک بک اسٹال میں نمایاں انداز میں آویزاں نظر آئی۔معلوم ہوا کہ موصوف کے ادارہ سے شائع ہونے والی کتابوںکا یہ اسٹال تھا جہاں بے چارے کتب فروش جھک مارتے نظر آئے(شایدمکھی ومچھر کی کمی کابھی یہاں انہیں بہت زیادہ احساس ہورہا ہوگاکہ لوگ خالی اوقات میںمچھرمار کر اور مکھیاں بھگا کراپنے اوقات صرف کرلیاکرتے ہیں)۔پتہ نہیں یہ اسٹال ہندوستانیوں کو کیوںمتوجہ نہیں کرسکا،حالانکہ ان کے عقائد کے ماننے والوںکی ایک کثیر تعدادیہاں بھی موجود ہے۔شاید پچھلے زمانہ میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے طاہرالقادری کی ملاقات اور مصافحہ و معانقہ کا یہ اثررہاہوگا یاپھراسلام آباد کو تحریر اسکوائر میں بدل ڈالنے کا خواب سجانے والے روحانی مبلغ کی اپنے مشن 
میں ناکامی کا شاخسانہ کہ اس اسٹال پر”ہو کا عالم“دیکھنے کو ملا۔

بزم قلم والوں نے جگہ نہیں دیا ۔  بزم قلم میں شائع اس تاثر پر اشرف کمال صاحب کے ایک اعتراض کا جواب ،جسے : نوٹ
 اشرف کمال صاحب
تسلیمات

آپ کا جواب دیکھا محترم سچ بتاﺅں آپ کے یہاں ایسا ہوتا ہوگا، ہمارے یہاں تو ایسا کوئی بھی رواج نہیں ہے ۔یہ واقعی کتاب میلہ ہے یا نہیں ،دیکھنا یا جاننا چاہتے ہیں تو خود یا کسی ایلچی کو بھیج کر حقیقت حال معلوم کر لیجئے ۔ہمارے یہاں کتاب میلوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔یہ آپ کے یہاں کی طرح کسی کمپنی کی مشہوری کے لیے فٹ پاتھ پہ سجا عالمی کتاب میلانہیں بلکہ ستر کی دہائی سے لگاتار جاری23واںعالمی کتاب میلہ ہے۔ یوں تو ہندوستان میں ہر سال کتاب میلے لگتے ہیں لیکن یہ وہ عالمی میلہ ہوتا ہے جس کاانعقادہر دوسرے سال. 38300 مربع میٹر پر مشتمل دہلی کے پرگتی میدان میںمنعقدکیا جاتا ہے۔ آپ کے علم کے لئے عرض کر دوں کہ دہلی کایہ عالمی کتاب میلہ فرینک فرٹ کتاب میلہ اور لندن بک فیئر کے بعد سب سے زیادہ معززاور معتبر مانا جاتا ہے۔یہ ہم نہیں کہ رہے بلکہ دوسروں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے ۔مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کتاب میلہ کی شہرت کی وجہ ہندوستان کے اشاعتی گھرانوں کا تخلیقی و تحریری معیار ہی نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں شائقین علم و ادب اورکتابوں کا بڑھتا بازاربھی ہے۔آپ سی این این ،رائٹر ،بی بی سی لندن اور الجزیرہ وغیرہ کی رپورٹیں ہی دیکھ یا پڑھ لیتے تو یہ تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ ہندوستان دنیا میں کتابوں کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔شاید اسی سبب پوری دنیا کے ناشروں کی نظرہندوستان کے بازار پر قبضہ کرنے یا پھر وہاں سے منافع کمانے پر لگی ہے۔یہ منظر صرف انگریزی کو لے کر ہی نہیں ہے،اردو،ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کا مارکیٹ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے اور آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ بے سبب ہی نہیں فرینک فرٹ بک فیئرنے ہندوستان کو دو مرتبہ سب سے عمدہ کتابیں چھاپنے کا ایوارڈدے دیا ہے۔اگر میں آپ سے کہوں گا کہ اس وقت ہمارے ملک میں تقریبا بارہ ہزار پبلشر ہیں اور ہر سال تمام زبانوں کو ملا کر تقریبا ایک لاکھ نئی کتابیں چھپ رہی ہیں تو آپ تو مانیں گے نہیں۔ اس لئے اب زیادہ کیا بتاﺅں۔ویسے اس ذیل میںآپ اپنے ملک کے ہی دانشوروں اور اہل علم سے حقیقت جان لیتے،اور پھر کوئی رائے قائم کرتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔اپنے منہ میاںمٹھوبنناور تخلیقی معیار میں پاکستان کوخود سے منفردشناخت کامالک تصور کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک کہ ذی علم ہستیاں آپ کے مفروضے کو درست نہ قرار دے دیں۔ہندوستان میں بطور خاص اردوکتابوں کی اشاعت کے طویل سلسلوں اور صحافتی سرگرمیوںپر آپ کے ملک سے تعلق رکھتے والے ممتاز دانشور محمود شام کی گہری نظر ہے۔ڈینگیں ہانکنے سے قبل ذرا ان کے خیالات جان لیجئے۔موقع نہ ہو کم از کم ان کے یہ دو مضامین ضرور پڑھ لیں،جس کا لنک میں ذیل میں پیش کررہاہوں تاکہ بے عقلی والی باتیں دوبارہ آپ نہ لکھیںاور مجھے تلخ تبصرے کی ضرورت درپیش نہ ہو۔



 ولسلام 
علم اللہ 


۔۔۔مزید

ہفتہ، 2 فروری، 2013

دہلی میں مسجد نور کے بعد اب غوثیہ مسجد کی شہادت

دہلی میں مسجد نور کے بعد ۔۔۔
غوثیہ مسجد کی شہادت 


محمد علم اللہ اصلاحی

ہندوستان کو دنیا کا سب سے بڑا سیکولر اور جمہوری ملک کہا جاتا ہے۔ سیکولر ریاست کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ ایسی ریاست جس میںمذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کی کہیںکوئی گنجائش بھی نہ ہو اور ارباب اقتدار کے ذریعہ عملاًکسی بھی مذہب کو نہ تو سرپرستی حاصل ہو اور نہ ہی سرکار اپنے فیصلوں کے اثرو نفوذمیں مذہبی سروکاررکھے۔ ایسی ریاست نہ کسی مذہب کے حق میں اور نہ ہی مخالفت میں قدم اٹھاتی ہو۔لیکن صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے توہمارے یہاں بہت سارے معاملوں میں سیکولرزم محض کاغذوںتک محدود ہے، حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔ شاید اسی سبب سے ایک خاص فرقہ کی املاک کو تباہ و برباد کرنا،ان کی مساجد و مقابر کوزمیں بوس کردینا ،ان کی مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کرنا ،حکومتی سرپرستی میں فسادات کروانا ، ان کے بچوں کو زندہ جلا دینا ،ان کی خواتین کے ساتھ سر عام بد تمیزی اور عصمت کو تار تار کرنا ،ان کے بے قصور نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں میں ڈال دینااور ہر طرح سے انھیں ہراساں و پریشاںکر ان کی زندگی کا قافیہ تنگ کردینا معمول کا حصہ بن گیا ہے۔حکومتیں اس طرح کا گھٹیا کام کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی نہیں ہچکچاتیں، اس طرح کا کام کرتے ہوئے انھیں نہ تو عدالتوں کا ڈر ہوتا ہے اور نا ہی انسانیت کا غم ۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد تابڑ توڑ فسادات سے ابھی یہ قوم ابھر بھی نہیں پائی تھی کہ ایک مرتبہ پھر اس قسم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ابھی حال ہی میں دھولیہ میں اسی قسم کے ایک فساد کے بعد جس میں 5مسلمان پولس کے ذریعہ یک طرفہ کا روائی میں بھون دئے گئے ۔وہیں تمام قوائد و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے راجدھانی دہلی میں ایک اور مسجد شہید کر دی گئی ۔سخت سردی میں غیر قانونی کالونیوں کے نام پرانہدامی کاروائی کے سبب تین لوگوں کی جانیں تلف ہو چکی ہیں لیکن کسی کو اس کی پرواہ نہیں ہے ۔حیرت یہ بھی ہے کہ ایسے موقع پربھی مسلمان ،ان کے ذمہ داران اور ان کی تنظیمیں اتحاد کا ثبوت دینے کے بجائے ایک دوسرے کے اوپر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں ۔ میڈیا نے بھی حسب معمول اس خبر کو اہمیت دینا مناسب نہیں سمجھا اور ڈی ڈی اے کے ذریعے بغیر کسی اطلاع کے5 دسمبر2012کو غوثیہ کالونی (خسرا نمبر 217مہرولی) میں انہدامی کارروائی کی ابتدا کے بعد 12دسمبر 2012کو 400سال پرانی مسجد ،سیکڑوں قبریں اور درگاہوں کو بھی مسمار کردیا گیا

آج تک کالونی والے کھلے آسمان کے نیچے اس کڑکڑاتی سردی میں جینے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ایک مہینہ میں سردی کی وجہ سے تین لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور کئی لوگ زیر علاج ہیں۔جو مسجد منہدم کی گئی ہے حقیقت میں وہ آثارِ قدیمہ سے متعلق ہے لیکن اپنی روایت کے مطابق ڈی ڈی اے معاملہ کی لیپا پوتی میں لگ گیا ہے اور اب تو اس قسم کی بھی باتیں کی جانے لگی ہیں کہ ہم نے آثارِقدیمہ والی مسجد منہدم نہیں کی ہے بلکہ غلطی سے صرف ایک طرف کی دیوار ٹوٹ گئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈی ڈی اے نے چھت سمیت پوری مسجد شہید کر دی ہے ،صرف ایک دیوار باقی ہے۔ سردی میں جہاں دہلی سرکاربے گھر لوگوں کو سر چھپانے کے لئے انتظام کر رہی ہے ،وہیں دوسری طرف اسی سرکارنے برسوں سے گھر بناکر رہ رہے لوگوں کے سر سے چھت چھین لیاہے۔پولس والے ڈنڈے کی زور پر ان کے لحاف اور بستر تک چھین لے جاتے ہیں ۔

خبروں کے مطابق ستمبر میں ڈی ڈی اے نے اس زمین کو خالی کرانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد وقف بورڈ کی طرف سے اس کومکتوب ارسال کیا گیا تھا کہ یہ قدیم قبرستان ہے۔ اس لئے اسے ایسے ہی رہنے دیا جائے۔ اس پر توجہ دیئے بغیر ڈی ڈی اے نہ صرف اندھا دھندانہدامی کاروائی نجام دیتے ہوئے تمام جھگیوں اور جوبھی رہائشی شکل کے مکانات تھے ،سب کو تباہ کر دیا بلکہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بے شمار قبور کی توہین کی اور انہیں منہدم کر دیا۔ قبریں اندر سے اکھاڑ کر ان کے نشان بھی زمیں بوس کر دئے۔ انھوں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ اس علاقہ کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ ان میں ان بزرگان عظام کی قبریں بھی ہیں جنھوں نے مذہب و ملت سے پرے ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارے کا جذبہ پیدا کیاتھا ۔لیکن افسوس یہاں ساری چیزوں کو ملیا میٹ کر دیا گیااور مسجد و قبرستان سمیت بہار شریف میں مدفون بزرگ حضرت یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے پیر اور مرشدحضرت نجیب الدین فردوسی کی سات سو سال پرانی قبرپر بھی بلڈوزر چلا دیا جس کا ذکروقف بورڈ کے 1980 کے گزٹ میں بھی موجودہے۔


ڈی ڈی اے کی نگاہ تو اس زمین پر پہلے سے ہی تھی۔ اس کا یہ کہنا کہ ہم نے یہ زمین پہلے ہی اکوائر کر لی تھی اور اب تو ہم صرف غیر قانونی قبضہ ہٹا رہے ہیں اس حد تک درست ہے جب اس پر متبرک مزار، درگاہیں، قدیم قبریں اور مسجدنہ ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ 1957 میں ہی یہ زمین حکومت نے ایکوائر کر ڈی ڈی اے کودے دی تھی۔ وقف بورڈ نے کئی مرتبہ حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہی لیکن اس کا کوئی خاص نتیجہ یا حل نہیں نکل سکا۔ ایک مقدمہ درگاہ کے متولی کی طرف سے ہوا کہ قبرستان ان کی تولیت میں ہے لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیااور کہا کہ وہاں موجود قبروں کو چھوڑ کر باقی زمین ڈی ڈی اے کی ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ڈی ڈی اے نے اپنی کارروائی میں قبروں اور وہاں موجود غوثیہ مسجدتک کو نہیں چھوڑا۔یہ مسجد ایک قناتی شکل میں تھی جسے گزشتہ تیس چالیس سالوں میں مسلمانوں نے باقاعدہ مسجد بنا کر اس کا نام مسجدغوثیہ رکھ دیا تھا اور وقف بورڈ نے باقاعدہ اسکے لئے تنخواہ دار امام بھی مقررکیا ہوا تھا ۔


یہاں بات بات صرف مسجد اورقبروں کو شہید کر دینے تک محدود نہیں ہیبلکہ ڈی ڈی اے نے ایک ہزار خاندانوں کو سردی کے سخت موسم میں بے گھر کر دیا۔ یہ ڈی ڈی اے سے کی جانے والی سب سے بے رحم کارروائی تھی جسے غیر ضروری عمل قرارددیکر ان کی باز آبادکاری کے اقدامات کئے جانے چاہئے تھے۔مگر تا ہنوز ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ ایک طرف توکانگریس کہتی ہے کہ ہم لاکھوں غریب لوگوں کے لئے گھر بنا رہے ہیں یا جو لوگ سردی میں سڑک پر سو رہے ہیں، ان کیلئے رین بسیرا بنا رہے ہیں دوسری طرف جن لوگوں کے سرجھگیاں چھپائے تھیں ان کے سر سے چھت چھین لی اور سردی کے اس موسم میں لوگوں کو آسمان کے نیچے ڈال دیا۔لیفٹیننٹ گورنرکی جانب سے ایک مذہبی کمیٹی قائم ہے جس کے سامنے اس طرح کے تمام معاملات رکھے جاتے ہیں۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس معاملہ میں اس کمیٹی سے رابطہ تک کرنا مناسب نہیں سمجھاگیا۔


مبصرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ دہلی وقف بورڈ کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاناچاہئے وہ غلطی پر ہیں۔ زمین ایکوائر کے 53 سال بعداب فیصلہ ڈی ڈی اے کے حق میں ہونے کے زیادہ امکان ہیں ۔ پہلے جو متولی عدالت گئے انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مسلمانوں کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک طرف تو ڈی ڈی اے دھیرے دھیرے ان کی زمین کو ہضم کرنے میں لگا ہے وہیں جب خود مسلمانوں سے کچھ بد روزگارو بد قماش افراد ان کی زمین پر قبضہ کرتے ہیں تو کوئی آواز نہیں اٹھتی۔ جب یہ زمین ایکوائر کی جا رہی تھی اور نہ ہی گزشتہ 53 سال میں زمین کو ڈی ڈی اے سے واپس لینے کی کوشش یا اقدامات کئے گئے ۔دھیرے دھیرے خسرہ نمبر 217 کے عظیم قبرستان پر مسلمانوں میں سے کئی لوگوں نے جھگیاں بنا لیں۔ خبروں کے مطابق دلی میں سر چھپانے کے لئے جگہ تلاش کرنے والے غریبوں کو جھگیاں حال کے دنوں تک ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے میں دی جاتی رہیں اس وقت بھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔


اس ملک میں نہ جانے کتنی ایسی وقف املاک ہیں جن پر ناجائز سرکاری اور غیر سرکاری قبضہ ہے۔مذکورہ’مسجد‘ وقف کی زمین پر تھی‘ وقف ذمے داران کو اب تک یعنی گذشتہ 35 برسوں میں ساری دقتیں اور الجھنیں حل کر لینی چاہئے تھیں۔ بھلا اس طرح کے لاپرواہ وقف ذمے داران کو کب تک مسلمان برداشت کرتے رہیں گے۔مسجد کی شہادت سے رنجیدہ مسلمانوں کے زخموں پر اب نمک پاشی بھی شروع کردی گئی ہے۔مسجد کی شہادت کا جوا ز تلاش کیا جارہا ہے۔ ایک گروپ کا یہ کہنا ہے کہ ہندوانتہا پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی سے اٹھے شوروغل کو دبانے کے لئے اورانتہا پسند ہندؤں کی توجہ ہٹانے کے لئے کانگریس نے مسلمانوں کی مسجد شہید کرائی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہنگائی کے جِن اور اپنی بدعنوانیوں پر سے توجہ ہٹانے کی یہ کوشش ہے۔مسلمانوں کا سوال ہے کہ توجہ ‘ہٹانے کیلئے کیا مسلمانوں کی مسجد ہی شہادت کے لئے ملی تھی۔


یہاں ایک حقیقت کی طرف مزید توجہ ضروری ہے۔تعصب۔سرکاری اہلکاران اور پولیس کا مسلمانوں کے تئیں تعصب اب ایک دم بے نقاب ہوگیا ہے۔ پہلے یہ بم دھماکوں میں بے نقاب ہوا اور اب دہلی میں مسجد کی شہادت نے اسے بے نقاب کیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکومتوں اور سیاستدانوں کو پڑی نہیں ہے کہ سرکاری اہلکاران اور پولیس والوں کے ذہنوں کوخبث اور تعصب سے پاک کیا جائے اور پڑی بھی کیوں ہوگی ان کے ذہن جو خود تعصب کے زہر سے مسموم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم تنظیمیں اور جماعتیں مل کر انتخابات کی تیاری میں مصروف کانگریس کواپنی طاقت اور حیثیت دکھا دیں تاکہ وزیر اعلی اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو فکر بدلنے پر مجبورکیا جا سکے اور ڈی ڈی اے سے کہا جائے کہ پبلک انٹرسٹ میں مہرولی میں خسرہ نمبر 217 کی زمین واپس اس کے اصل مالکان کو بھیجی جا رہی ہے۔ ایسانہ کر اس مسئلہ کو مسلکی رنگ دینامسجد کی آڑ میں اپنی روٹیاں سینکنے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔حکمت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان متفقہ طور پر حکومت کوبتائیں کہ مسجد، درگاہ اورقبور کی شہادت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت نے 53 سال پہلے خسرہ نمبر 217 کی زمین لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت ہی عوامی انٹرسٹ میں زمین لوٹا سکتی ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہو گا جب ہم متحد ہوں۔

۔۔۔مزید

بدھ، 9 جنوری، 2013

سردی کا قہریا حکومت کی بے حسی



                              سردی کا قہریا حکومت کی بے حسی                         
محمد علم اللہ اصلاحی
برف کے بت ہی بنانے میں وہ رہے مصروف
اور  میں  اپنی   جگہ  برف   میں  تبدیل   ہوا
یہ شعردار السلطنت دہلی کے ان غریبوں پر صادق آتا ہے جنھیں اس کڑاکے کی سردی میں سر چھپانے کےلئے چھت،تن ڈھانکنے کےلئے کپڑے اور ٹھنڈ سے بچنے کے لئے کمبل یا لحاف نصیب نہیں ہو سکااور انھوں نے یونہی ٹھٹھر ٹھٹھر کرموت کو گلے لگا لیا۔اس خبر نے اس سے قطع نظر کہ میڈیا میں اسے وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دی جانی چاہئے ہر حساس اور انسانیت کا درد رکھنے والے دل کو مضطرب اور بے چین کرکے رکھ دیا ہے۔ایسا ملک کی اس راجدھانی میں ہو رہا ہے جسے لندن ،پیرس اور میکسکو جیسا شہر بنانے کاارباب اقتدار کی جانب سے بار بار عزم و ارادہ ظاہر کیاجاتارہاہے۔ ابھی جب کہ پورا موسم بھی نہیں گذرا ہے، 100 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ یہاں کے سب سے بڑے شفا خانہ” آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز“ میں مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب عوام بیت الخلاءمیں رات گذارنے پر مجبور ہیں۔جھگیوں ،جھوپڑیوں اور فٹ پاتھوں میںبے چارے ان غریبوںکی پوری زندگی گذر جاتی ہے، مگرجمہوریت کاچوتھا ستون جسے تل کو پہاڑ بنانے کا ہنربھی بدرجہ اتم آتا ہے ،کی نظر ان پرنہیں پڑتی اوراسی سبب وہ اس پر گفتگو کرنا یاپھر اس قدر’ حساس‘موضوع پرحکومت کی توجہ دلانا مناسب نہیں سمجھتی ۔

ہر موسم کی تبدیلی کے ساتھ مرنے والوں کا نیا اعداد و شمار سامنے آتا ہے۔ یہ اعداد و شمار کبھی سرد لہروں کے ہوتے ہیں،تو کبھی لو کے تھپےڑو ں کے ،کبھی سیلاب اور باد و باراں کے تو کبھی حکومتی لا پرواہی اور بیماری کے لیکن اپنے اپنے آشیانوں میں دبکے ہوئے کول کول’ ایسی ‘اور گرم گرم ’ہیٹر‘ کا مزا لیتے امراء،مصاحب اور انسانیت کے’ مبینہ ‘علم برداروںکو اس کی پراہ نہیں ہوتی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری حکومت کی ناکامی اور نا اہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ہم نے بڑے بزرگوں سے سنا تھا کہ انصاف پسند بادشاہ رات کو کمبل اور اونی لباس لے کر نکلتے ، تاکہ فٹ پاتھ پر کوئی غریب سردی سے نہ مرے۔لیکن یہ’ احساس ‘جمہوریت کے’ جدید بادشاہوں ‘میں کہاں ہے؟ گاہے بگاہے عدالت کوسرد لہروں سے موت کے اعداد و شمارکا گراف بڑھتے دیکھ کر رین بسیروں اور عوامی الاؤ کا انتظام کرنے کا حکم دینا پڑتا ہے اور حکومت وانتظامیہ کی عام سمجھ والے موضوعات پر بھی عدالت کو ہی پہل کرنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد بھی اس پر عدالتی سرگرمی کا الزام جڑ دیا جاتا ہے۔بے گھرو ں اور بے موتوں کی موت سے حکومت اور انتظامیہ کی مایوسی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ملک میں ہر سال کتنے بے گھر مرتے ہیں حالانکہ اس کا کوئی باضابطہ سرکاری اعداد و شمار نہیں ہے، پھر بھی یہ خیال کہ سب سے زیادہ اموات گرمیوں میں ہوتی ہیں، پھر برسات میں لوگ بے گھر مرتے ہیں اور جو اس وقت بھی بچ جائے اس کا سامناپئے بہ پئے مار کی طرح سردی سے ہوتا ہے غلط نہیں ہے۔گزشتہ سال بھی ایسے ہی موسم میں سپریم کورٹ نے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے برآمدے کے باہر ٹھٹھرتے لوگوں کی تصاویر دیکھ کر دہلی سمیت تمام ریاستی حکومتوں کو اس بات کی ہدایات دی تھی کہ کسی بھی شخص کی موت سردی سے نہیں ہونی چاہئے مگر لگتا ہے کہ حکومت نے غریبوں کی مفاد کی خاطر کسی بھی حکم کو نہ ماننے کی ٹھان لی ہے تبھی تو لاکھوں لوگ یا تو تنگ جھونپڑیوں میں، یا پھر کسی سہارے کی اوٹ لے کر ٹھٹھرتی ہوئے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ پتہ نہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے کہ یہ لوگ اکثر ترقی کی اسکیموں میں پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔کسی کو بھر پیٹ کھانا نصیب نہیں ہے تو کسی کو سات پشتوں کی فکر ہے۔آدمی موسم سے نہیں، غربت سے مرتا ہے۔ اقتصادی اصلاحات غریبوں کو اور بھی غریب بنا تے جارہے ہےں ۔ملک کا آئین ہر شہری کو جینے کا بنیادی حق دیتا ہے،ہر شہری کو کھانے کے علاوہ سر چھپانے کےلئے چھت اور تن ڈھانکنے کےلئے کپڑے مہیا کرانے کی بات کہتا ہے لیکن جمہوری ،فلاحی اور رفاہی کا موں کیلئے خود کو وقف رکھنے کاراگ الاپنے والی حکومتیں عملی طور پر اس سمت میں کوئی کارگر قدم نہیں اٹھاتیں اور بے گھر لوگوں کی ضروریات پر ان کی زبان گنگ اور بجٹ تنگ پڑ جاتی ہے ۔

ایک طرف تو کہا جاتا ہے ہندوستان دنیا کی گنی چنی بڑھتی معیشت کی علامت ہے اور دوسری جانب آج تک ہم غریب، بے سہارا آدمیوں کےلئے ٹھیک ڈھنگ سے رین بسیرے تک نہیں بنا سکے؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو ان غریبوں کی فکر ضرور ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد دہلی ہائیکورٹ نے کہا کہ کڑاکے کی اس ٹھنڈ میں ہزاروں بے سہارا لوگ سڑکوں پر راتیں گذارنے کو مجبور ہےں لیکن سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ عدالت نے ان 84 عارضی نائٹ شیلٹروں کو دوبارہ سے قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان2021ءکے حساب سے مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھنے کیلئے 184 پختہ رین بسیرے بنانے کی بھی ہدایت دی تھی عدالت نے اس سے وابستہ معاملوں میں سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو بھی سبھی شہروں میں رین بسیروں کے مناسب انتظام کرنے کو کہا تھا۔لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں نصف سے کچھ ہی زیادہ رین بسیرے ہیں جو چل رہے ہیں۔ ان میں بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔حالات اتنے خراب ہیں کہ بے گھر ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ ان میں آنا پسند نہیں کرتے۔کہنے کو حکومتیں ہر سال میونسپل کارپوریشن اور اورنگرپالیکاؤوں کو لاکھوں کروڑوں روپے رےن بسےرے آپریشن کرنے کے لیے دیتی ہے،مگر یہ رقم کہیں بھی صحیح طریقے سے خرچ نہیں کی جاتی۔مثلا 1985 سے دہلی حکومت ہر سال اپنے بجٹ میں رین بسیروں کےلئے الگ سے 60 لاکھ روپے مختص کرتی ہے لیکن اس رقم کا زیادہ تر پیسہ ملازمین کی تنخواہوں، انتظامیہ اور دیگر مد میں خرچ ہو جاتا ہے۔یقینا یہ المیہ ہی ہے کہ سردی کا موسم بھی غریبوں کےلئے کسی آفت جیسا ہو گیا ہے۔سردی کا موسم بے گھر اور بے سہارا لوگوں کےلئے مصیبت بن کر آتا ہے۔ان کیلئے موسم گرما تو جیسے تیسے فٹ پاتھ پر سوکر کٹ جاتی ہیں لیکن سردی قہر بن کر ٹوٹتی ہے اور ملک کے مختلف مختلف حصوں میں موسم سرما سے ٹھٹھرکر مرنے والوں کی خبریں آنے لگتی ہیں۔

اعداد و شمار اور رپورٹ بتاتی ہے کہ سردی سے مرنے والوں کی تعداد گاؤں کی نسبت شہروں میں زیادہ ہے۔ گاؤں میں روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے غریب دن بہ دن شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیںمگر شہروں میں ان کے پاس سر چھپانے کیلئے چھت تک نہیں ہوتی۔اور بے چارے موسلا دھار بارش اورخون کو منجمد کر دینے والی سردی حتی کہ تپتی دھوپ میں بھی وہ آسمان تلے رات گزارنے کو مجبور ہوتے ہیں۔امراءواور ملک کے ٹھیکیدارحضرات تو خود گرم ملبوسات‘ حفاظتی تدابیر اور انڈہ‘ مچھلی‘ مرغ اور میوہ جات پر مشتمل غذاﺅںسے اپنے نظام صحت کے گرد مناسب حفاظتی حصار استوار کئے رہتے ہیں لیکن غریب اور مزدور پیشہ افراد اپنی اقتصادی و معاشی ناہمواریوں کے تحت شدید سردی کے ان ایام میں موسم کے برفیلے تھپیڑے سہنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ ناکافی لباس اور مطلوبہ لوازم میسر نہ آسکنے کی وجہ سے امراض میں گھرے رہتے ہیں۔شہروںمیں رین بسیرے بنوانے اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اورنگرپالیکاؤوں اور مقامی منصبوں کی ہے، لیکن انہیں اس جانب توجہ دینے کی فرصت نہیں۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کہیں رےن بسیروں میں فالتو اشیاءرکھی ہونے کی خبریں آتی ہیں تو کہیں دبنگو ںکے قبضے کی حالت سنائی دیتی ہیں جسے ہٹانے کی پولس اور انتظامیہ بھی ہمت نہیں جٹا پاتی۔کئی کی حالت خود عام لوگوں نے اتنی خراب کر دی ہے کہ غریب تو کیا جانور بھی ان میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔

افسوس کہ سماجی انصاف اور اس کے اصول کی وکالت کرتے ہوئے خوشحال طبقہ اپنی جائیداد کو سماج کے حاشیے پر ڈالے گئے لوگوں کی امانت سمجھنے کی بات تو کرتا ہے مگرحکومت کے ساتھ ساتھ سر مایہ کے پیچھے بھاگنے والے سماج کو بھی اس کا احساس نہیں۔ غریب کو بھی سردی لگتی ہے اور ان کے بچوں کو بھی سویٹر،ہیٹرو لحاف کی ضرورت ہوتی ہے،گرمی میںانہیںبھی پانی ،پنکھا اور کولر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کہا تو جاتا ہے کہ ہمیں ایک حساس سماج کا کردار ادا کرتے ہوئے محروم سماج کے دکھ تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے مگر ملک میں کمبلوں کی تقسیم صرف پریس نوٹس اور اخبارات میں تصویر شائع کرنے کےلئے زیادہ ہوتی ہے۔ کہا تو جاتا ہے کہ ملک سے غریبی کو ختم کیا جائے گا لیکن غریبی نہیں غریبوں کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں ۔صحیح معنوں میں کوئی شخص خود غریب نہیں ہونا چاہتا۔حالات و وسائل ،بد عنوانی اور سماجی و نسلی ناانصافی اور نا برابری غربت کی تعداد بڑھاتے ہیں۔بے شک کئی دہائیوں سے گونج رہے غریبی دور کرنے کے نعرے کھوکھلے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ووٹ جٹانا ہی رہا ہے۔نظام پر لگے بدعنوانی کے داغ کو چھڑانا نہیں۔یہاں پر سوال محض حکومت کی پیشگی تحفظ یا رےن بسےرں تک ہی محدود نہیں ہے۔سوال حکومت کی ان نئی لبرل معاشی پالیسیوں پر بھی کھڑے ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ہمارے شہروں میں ایسے غریبوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جن کے سر پر نہ چھت ہے، نہ پیٹ میں دانا اور نہ جسم پر لباس۔ سردی سے غریبوں کو بچانے میں اس وقت کامیابی مل سکتی ہے، جب حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی ترجیحات تبدیل ہوں۔ جل، جنگل، زمین اور اناج سمیت تمام بنیادی ضروریات اور اس سے متعلق پروگراموں کو موثر طریقے سے نفاذکے ساتھ ہی حکومت، انتظامیہ اور سماج سبھی کا فرض بنتا ہے کہ موسم سے جوجھتے ہوئے جان گنوانے والے لوگوں کی مدد کو آگے آئیں۔ صحیح معنوں میںبدلتے موسم سے ہونے والی اموات قومی شرم کی بات ہے جس سے نجات کو اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر موسم کی تبدیلی ایک قدرتی آفات کی طرح یوں ہی قہر برپاکرتی رہے گی۔ 

۔۔۔مزید

جمعہ، 4 جنوری، 2013


   عصمت دری کے خلاف دہلی میں احتجاج کی آندھی
محمد علم اللہ اصلاحی
نئی دہلی
دہلی میں اجتماعی عصمت دری معاملہ پرپوراملک غصے میں ہے، شرمندگی بھی ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ملک کے دارالحکومت میں سرعام سڑکوں پر چلتے گاڑیوں میں لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور آزادی کے ساتھ ان کی عصمت کو تار تار کر دیا جاتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ ملک میں عصمت دری کا یہ کوئی پہلا واقعہ ہے یاملک میں درندگی کی ایسی واردات پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔مگر اس بار شایدعوام کے صبرکاپیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔جس کی محض ایک جھلک بھر گذشتہ دنوں دار السلطنت دہلی میں ہم سب کو دیکھنے کو ملا ۔لوگوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر صرف عصمت دری معاملہ کو لیکر ہی نہیں تھا بلکہ ظلم ،تشدد،غنڈہ گردی،مہنگائی ،بدعنوانی اور مختلف مسائل سے دوچار عوام کا یہ وہ لاوا تھا جوسالوں سے ان کے سینوں میں پل رہا تھا۔تھے جس کے حل کی خاطر لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہرناصرف نکل آئے تھے بلکہ تشدد پر بھی اتارو تھے اور ان کا یہ غصہ اور غم نیوز چینلز ہو یا نیوزپورٹلس، سوشل میڈیاسائٹ ہو یا سڑک، ہر جگہ دیکھنے کو ملا ۔جسے خون کو منجمد کر دینے والی سردلہریں،ٹھٹھرا دینے والی ٹھنڈ ہوائیں اور ہڈیوں کو چیر دینے والا جاڑا بھی پست اورفرو نہیں کر پایا۔اس واقعہ کے بعد جس طرح سڑکوں پر انسانوں کا بحر بے کراں، نوجوانوںکا ہجوم ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباءو طالبات کا انبوہ اور خواتین کی شکل میںجوجم غفیر امڈا اس سے بہر صورت یہ ظاہر ہوگیاکہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ایسی تبدیلی جس سے انھیں امن و سکون ملے اور ان کی زندگی دشوار کن نہ ہو ۔

عدم تحفظ کے خلاف عوام نے اپنے غصے کا اظہار جس طرح حکومت اور نظام کے اہم مراکز پرچڑھکر کیا اسے کسی بھی طرح معمولی نہیں کہا جا سکتا ۔ اس میں شک نہیں کہ صدارتی محل کے سامنے غصہ کا اظہار کے ساتھ جو فساد ہوا اس کے لئے کہیں نہ کہیں پولیسائی طاقت کااستعمال اوراسکی فطرت بھی ذمہ دار ہے۔تاہم ایک جمہوری ملک میںاس بات کو بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ عوام جب مزاحمت اور اظہار کے اپنے حق کا پر امن طریقے سے استعمال کرےںتو اس پرسنگینوں اور آنسو گیس کے گولوں سے قابو پایانے کی کوشش کی جائے۔اس معاملہ کو لیکر حالانکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ غم وغصہ کے اظہار کے ساتھ لاقانونیت کا کوئی مطلب نہیںبنتا۔ غم وغصہ کا اظہار پرامن اور ڈسپلن طریقے سے ہو سکتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینی طور پر پالیسی سازی اوراس کے ذریعہ حکومت پر دباو ¿ بنانے میں مدد ملتی ۔ان کے بقول اس معاملہ میں نوجوانوں کا غصہ اگر کنٹرول میں ہوتا تو الگ الگ مطالبات اور قیادت کے فقدان کے باوجود وہ اپنی بات موثر انداز میں کہنے کے قابل ہو سکتے تھے۔ تشدد اور لاقانونیت نے ان سے یہ موقع چھیننے کا کام کیا ۔اس معاملہ میں حالانکہ مبصرین نے یہ بھی کہاکہ ایسی صورت حال کسی بھی حکومت کی طاقت کے بجائے اس کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے عوامی غصہ کا حل مظالم نہیں بلکہ فوری بات چیت کے عمل کے ذریعہ حل پر مضمرہے، ایک منتخب حکومت کو اپنی اس بنیادی سمجھ کو بہر حال بحال رکھنا چاہئے۔

دہلی میں اس سے قبل بھی متعدد احتجاج ہوتے رہے ہیں اس بابتکچھ ماہ قبل بدعنوانی کے خلاف یوگ گروبابا رام دیو اور ان کے حامیوں کے بھوک ہڑتال پر آدھی رات کو ٹوٹے پولسیائی قہر کو اگر ایک استثنائی عمل مان بھی لیں تو، حکومت نے باقی موقعوں پر بات چیت کے ذریعہ ہی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس بار بھی یہ طریقہ اپنایا جا سکتا تھا۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اس طرح کی پہل کو آگے بڑھا بھی رہے تھے۔مگر اس پورے عمل کی سنجیدگی اس وقت ختم ہو گئی، جب پولیس نے طاقت کے ذریعہ لوگوں کے غصے پر قابو پانے کا فیصلہ لیا۔ حالانکہ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت نے کہا کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے اور پولیس کو ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہئے تھا۔اس درمیان سشما سوراج نے کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تو مایاوتی نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی بات کہی۔ اور بعد میں وزیر اعظم نے بھی ملک کو خطاب کرتے ہوئے لوگوں کی ناراضگی کو صحیح بتایا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ایک ایسی زبان میں پیغام دیا جسے عوام نہیں سمجھتی تاہم انھوں نے بھی یہی کہاکہ وہ امن بنائے رکھیں ۔جب حکومت بھی یہ کہہ رہی ہے کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے تو اس کا اظہار کرنے سے روکنے کی کوشش کیوں کی گئی؟اس پر بھی لوگوں نے سوال کھڑے کئے ہیں۔

مختلف ریاستوں کی عصمت دری کی خبریں تقریبا ہر روز آتی ہیں، ان میں الگ الگ پارٹیوں کی حکومتیں ہیں۔ ان میں سے کسی بھی حکومت کے ریکارڈ سے ایسا نہیں لگتا کہ ایسے واقعات کو روکنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ نہ تو پولیس انتظامیہ کو عورت مخالف تشدد کے حوالے سے حساس بنانے کی پہل ہوئی ہے نہ ایسے جرائم کو روکنے کے دوسرے اقدامات کئے گئے ہیں۔اگر انتخابات کے وقت نامزدگی کے ساتھ دیئے گئے تفصیلات درجنوںکے خلاف بھی جنسی زیادتی کے الزام درج ملیں گے۔ انہیں امیدوار بنانے کا فیصلہ کون کرتا ہے، انہیں تحفظ کہاں سے ملتا ہے؟ اگر جماعتیں واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں پہلے سیاست کو مجرموں سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا وعدہ لینا چاہئے۔خواتین کے عدم تحفظ کا یہ مسئلہ محض قانونی نظام سے وابستہ نہیںہے،اور یہ کہ فی ا لوقت سماج کی موجودہ تخلیق بھی اس کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر خواتین کے مصیبتیں بڑھتی جا رہی ہیں، تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ترقی اور خوشحالی کے فہرست اس سے منسلک ہیں۔ عورت کی تصویر اور اس کے استعمال کی بازار وادی رویے کو اگر بے لگام چھوڑا گیا تو پھر اس کے نفرت کے نتائج بھی سامنے آتے رہیں گے۔وقت اور سماج کی نئی بیداری اس خطرے کو بھی سمجھے گی ایسی امید کرنی چاہئے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں حکومت کو کئی بار شہری معاشرے کے تشددکا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس معاملہ کے بعد یہ بھی محسوس کیا جانے لگا کہ جمہوریت میں عدم تشدد کی تحریک شہری مزاحمت کا جوخلا گزشتہ کچھ دہائیوں سے خالی ہو گیا تھا، وہ اب تیزی سے پر ہورہا ہے۔ جو کام بچا ہے، وہ یہ کہ سرکاری نظام کو عوام کے اوپر نہیںبلکہ اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مشترکہ ثقافت تیار ی ہے۔

اسی سال جولائی میں گوہاٹی میں ایک لڑکی کو سرعام پریشان کیا گیا تھا، اس وقت بھی غصے کا ایک بڑا ابال نظر آیا تھا۔مگر دہلی کے واقعہ کے بعدخواتین کے ساتھ سماج کا ہر طبقہ اب فیصلہ کن طور پر یہ چاہتا ہے کہ حکومت ایسی پالیسی کا فورا نفاذ کرے، جس سے یہ اعتماد بحال ہو کہ خواتین کے تئیںبڑھ رہے مسائل کو لے کر حکومت واقعی سنجیدہ ہے۔ ملزم کو پھانسی کی سزا، ایسے معاملات کی فوری سماعت اور پولیس کی حفاظت کا پختہ بندوبست یہ کچھ ایسے مطالبات ہیں، جنہیں حکومت بھی قابل غور گردان رہی ہے۔ ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ عصمت دری کے سنگین معاملات میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید کی جگہ پھانسیدئے جانے کے بارے میں حکومت اقدامات کر سکتی ہے۔لیکن معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کہ کچھ سرکاری اعلان کر دی جائیں اور کچھ کو لے کر عمل شروع کرنے یا کمیٹی بنا دینے جیسی باتیں کہہ دی جائیں۔ جمہوریت کی نمائندگی کرنے والوں کو یہ بات اب ےقےنی طور پر سمجھنی ہوگی کہ وہجمہوری قدروں اور فکر کو نظر انداز لمبے عرصے تک نہیں کر سکتے ہیں۔چھ دہائیوں کے جمہوری تجربے نے عوام کے حصے جو مایوسی اوریاسیت بڑھائی تھی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہعوام اب پہلے کے مقابلے میں نہ صرف مزیدمتفکرہیں بلکہ اپنے حق اورانصاف کو لے کرپہلے کے مقابلہ زیادہ سنجیدہ اور بیدارہیں۔ اس شعور کے انکشاف میں ابھی بھلے کچھ لوگ تنظیمی اور نظریاتی پختگی کی کمی کی بات کریں۔

اس سارے احتجاجی کارکردگی سے حکومت نے عصمت دری اور جنسی زیادتی سے متعلق قوانین کا جائزہ اور ان میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جےےس ورما کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ دے دے گی۔دہلی میں ایسے معاملات کی عدالتی کارروائی فوری عدالتوں میں چلے گی اور دہلی ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ ان کی سماعت روزانہ ہوگی۔ اورچونکہ دہلی اور ملک کے دوسرے حصوں میں جنسی بے راہ روی اور جرم کے حوالے سے عوامی مزاحمت کا سلسلہ اب بھی تھما نہیں ہے لہذا پولیس اور انتظامیہ کو کچھ بھی ایسا کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے جس سے لوگ اوربھڑک اٹھیں اور شدد پر اتارو ہو جائےں۔ ایسے موقع پر سب سے بڑی جوابدہی حکومت کی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ہر ایسی کوشش کرے جس سے عوام میں خوف کی جگہ ایک اعتماد بحال ہو۔ قانونی بہتر ی اور فوری انصاف کے عمل سے آگے حکومت کو اپنے ایکشن کومثبت طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہئے چاہئے ۔ ورنہ
اب کے بھی اک آندھی چلی اب کے بھی سب کچھ اڑ گیا
اب کے بھی سب باتیں ہوئیں لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
والا معاملہ اور وہی ڈھاک کے تین پات والی بات ہوگی ۔جب تک ہماری حکومت ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے سسٹم میں شامل انتظامیہ، پولیس، عدالتوں کو ذمہ دار نہیںبنائے گی، اس وقت تک دہلی گینگ ریپ جیسے معاملات پر روک یا قدغن لگانا مشکل ہی ہوگا۔



۔۔۔مزید

عصمت دری اور فحش اشتہارات میں میڈیا کا کردار
محمد علم اللہ  اصلاحی
نئی دہلی
میڈیا کا اخلاقی فرض ہے کہ سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں سے سماج کو روشناس کرائے۔ ملک اور سماج کے مفاد کے لئے عوام کو بیدار کرے۔اور معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر قسم کی برائیوں سے نجات دلانے کے اقدامات کرے، لیکن ایسامحسوس ہوتا ہے کہ پیسہ کمانے کی اندھی دوڑ میں جمہوریت کا یہ چوتھا ستون اپنی تمام تر اقدار اور اخلاقیات کو پامال کرچکاہے ۔ تمام اخبارات میں ایڈیٹران روزانہ بڑے بڑے اداریہ اور مضامین لکھ کرانسانیت کا درس دیتے اور عوام کو اپنے قلم کی طاقت سے آگاہ کرتے نہیں تھکتے، الیکٹرانک میڈیا کا بھی یہی حال ہے لیکن عملی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دولت کی جھولی بھرنے کے لئے تمام قوائد و قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ تمام پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں فحش اور غیر اخلاقی اشتہارات کی بھر مار ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں۔ لیکن کسی میڈیا والے کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ ان اشتہارات کی حقانیت کو پرکھنے کی کوشش کرے۔ دولت کمانے کی’ ہوس‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ’کاوش‘ اور ہر جائز ناجائز طریقے سے اپنے حریف پر سبقت لے جانے کی ’کوشش ‘نے میڈیا کے اس رویہ کو ایک غیر اخلاقی عمل بنادیا ہے۔ مانا کہ ایڈورٹائزنگ مارکیٹنگ کا ایک اہم اور لازمی جزو ہے جس کا بنیادی مقصد خریدار کو متوجہ کرنا، اسے پراڈکٹ کے بارے میں تفصیلات بتانا اور خریدنے پر مجبور کرنا ہے۔ لیکن اسی کے ذریعہ عورت کے وجود کا ایک ایک انگ اور حصہ نمایاں کرنے اور کیش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نیم عریاں عورت کے ساتھ ساتھ ، فحش ڈائلاگز، بے ہنگم موسیقی، آبرو باختہ لطیفے ، نوجوانوں کو رات بھر عشقیہ باتوں کی ترغیب اور دیگر پہلو بھی شامل ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ اس آندھی نے پورے معاشرے کو اس طور پر لے لیا ہے کہ ہندوستانی ثقافت کی دھجیاں اڑتی نظر آرہی ہیں لیکن اسے کوئی برائی تصور کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے ۔ انگریزی اخبارات میں پہلے اور اب بھی مساج پارلرزکے اشتہار طرح طرح کے ناموں سے شائع ہو رہے ہیں۔ اشتہار میں کوئی ماڈل لیٹی ہوئی نسوانی اعضاءکو نمایاں کر رہی ہے تو کسی میں برہنہ پشت کی نمائش جار ی ہے۔ کہیں چست لباس اعضاء کو ابھارنے میں مصروف ہے تو کہیں خطرناک حد تک چاک گریباں ناظرین و قارئین کودعوت گناہ دے رہا ہے۔ ان اشتہارات میں صاف کہا جارہاہے کہ مساج کے لئے روسی، افغانی، کشمیری، پنجابی، ترکی، رشین، ہسپانوی ماڈل قسم لڑکیاں موجود ہیں جو فائیو اسٹار اور سیون اسٹار ہوٹلوں میں ہی اپنی سروس دیتی ہیں۔ رابطہ کرنے کے لئے ان کا فون نمبر بھی اخبارات میں موجود ہوتا ہے۔ کونٹکٹ کرنے پر یہ انگریزی زبان میں اپنی فیس اور مساج کے نام پر کس طرح کی سروس وہ فراہم کریں گی تک کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔ ان اشتہارات میں یہ واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ تمام کریڈٹ کارڈ قبول کئے جائیں گے۔ فل باڈی مساج کے نام پر کھلی جسم فروشی، تشہیر کی زبان سے یہ سمجھ لینا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس طرح اسکارٹ ایجنسیوں کے اشتہارات بھی خوب شائع ہوتے ہیں۔اسکارٹ ایجنسیاں لوگوں کو خاتون اسکارٹ فراہم کرتی ہیں یہ ملکی اور غیر ملکی، دونوں طرح کی ہوتی ہے۔ ان سے رابطہ کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر ان تصاویر کے ساتھ ان کی قیمت اور ان کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیلات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

دراصل یہ ہائی پروفائل حرافائیں ہوتی ہیں جواپنے اپر کلاس گاہکوں کے ساتھ سیر سپاٹے پر بھی جاتی ہیں انٹرنیٹ پر ہر شہر کی ہائی پروفائل جسم فروش خواتین کی تصاویر، فون نمبر اور ریٹ صاف صاف لکھے ہوتے ہیں۔ جہاں تک مساج پارلرز کا سوال ہے کئی عورتوں میں یہ ذکر رہتا ہے میل ٹو میل مساج۔ ان اشتہارات میں واضح اور کھلے الفاظ میں لکھا رہتا ہے کہ کمسن افغانی، کشمیری اور دیگر امرد لڑکے دستیاب ہیں ۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ میل ٹو میل مساج کے تحت کیسے گل کھلائے جاتے ہوں گے۔ لیکن اس طرح کی فحش اشتہارات پر روک لگانے کی آواز کہیں سے بھی اٹھتی نظر نہیں آتی۔ اب تو ان سے بھی آگے بڑھے ہوئے اشتہارات اخبارات میں نظر آنے لگے ہیں جن کے اشتہارات میں لکھا ہوتا ہے ’ ضرورت ہے امرد لڑکوں کی، ماڈلوں اور ہائی پروفائل عورتوں کا مساج کرنے کے لئے یومیہ 000 10روپے سے زیادہ کمائیں'۔مختلف اخباروں میں اس طرح کے آٹھ دس اشتہارات کا مل جانا کوئی معمولی بات ہے ۔اور تو اور اب کچھ نجی موبائل کمپنیاں بھی ماہانہ فیس لے کر فری نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان دوستی کروانے کا ثوابی کام کر رہی ہیں۔ اس طرح نوجوانوں اور ہر عمر کے لوگوں کو ٹھگنے والے اس بات سے بھلی طرح واقف ہوتے ہیں کہ سماج میں زیادہ تر لوگ جنسی بیماریوں میں مبتلا ہیں ان کی اس بیماریوں سے فائدہ اٹھانے والو ں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

ان سب کے باوجود ایسے نام نہاد ترقی پسندوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو جسم فروشی اور ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کی وکالت کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر جسم فروشی اور ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا جائے گا تو ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن حکومت نے جسم فروشی سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے کے دوران یہ کہا ہے کہ کسی طوائف کے یہاں کلائنٹ کے طور پر جانے والے شخص کو بھی مجرم تصور کیا جائے گا اور اس کے لئے سخت سزا کا انتظام کیا جائے گا اگر ایسا ہوتا ہے تب تو ٹھیک۔ مگر صاف پانی کے تالاب میں گندگی ڈالی جائے تو پانی دھیرے دھیرے گدلا ہونے لگتا ہے اور اس کا دیکھنے والوں کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہمارے اشتہارات میں یہ غیر اخلاقی پہلو اس آہستگی کے ساتھ سرایت کررہاہے کہ اب یہ سب کچھ شرفاءکو بھی برا نہیں لگتا۔ اس کے نتیجے میں   پورا معاشرہ نیم عریانی، فحش کلامی، گھٹیا مذاق اور بے ہنگم موسیقی کے ساتھ سمجھوتہ کرتا نظر آرہا ہے۔ایسے بہت سے اشتہارات ہیں جن میں کوئی پتہ نہیں ہوتا، صرف موبائل نمبر دے دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لاکھ کوشش کرنے کے باوجودبھی ایسے مشتہرین نے اپنا پتہ نہیں بتایا۔ اس طرح کی کئی شکایات تھانے میں درج بھی کرائی گئی ہیں۔ لیکن اس پر کاروائی نہیں کے برابر ہوتی ہے ایسے مشتہر عوام سے رقم اینٹھ کر فرارہو جاتے ہیں۔ کیا ان کے جنسی استحصال میں میڈیا بھی برابر کا حصہ دار نہیں ہے؟ایڈیٹر کو معاشرہ اور ملک و سماج کے لئے ذمہ دار ہونا چاہیے، تبھی ان کے ادارتی تحریروں کے وقار کا احساس عوام کو ہو گا اور ان کے دروس و اسباق کا فائدہ ملک اور سماج کو مل سکے گا۔اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ آج سماجی برائی کے لیے کافی حد تک میڈیا بھی ذمہ دار ہے۔ اگر انٹرنیٹ کی بات چھوڑ دیں تو، اس طرح کے گمراہ کرنے والے اشتہارات سے کی جانے والی کمائی سے ملک میں اور خاص طور پر بڑے شہروں میں عصمت دری جیسے واقعات نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا؟

سالوں پہلے بھی جب پنجاب کیسری اخبار ،ڈلہی ٹائمس اور اس طرح کے دیگر اخبارات میں غیر ملکی خواتین کی فحش تصویر شائع ہوتے تھے تو بہت سے بیدار قارئین نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن یہ آج تک جاری ہے ۔ستم بالائے ستم کہ بعض اردو اخبارات بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں اور اب اردو اخبارات میں بھی اس طرح کی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ صرف اسی وجہ سے ایسے اخبارات کو پسند کرنے لگ گئے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ ہر شخص امیر بننا چاہتا ہے، چاہے اس کے لئے سماج اور ملک کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ جب ہم نرمل بابا اور دوسرے مذہب کے ٹھیکیداروں، بدعنوان لیڈروں کو کوستے ہیں، تومیڈیا کے ذمہ داران اور اخبارات کے مدیران کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ ہم کیوں پیڈ نیوز اور اشتہارات کے ذریعہ چند لوگوں کے فائدہ کے لئے سماج کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں؟سماج کے کئی سرمایہ دار افراد اور امیر شخص ان دھوکہ بازوں کے شکار ہوتے ہیں، لیکن اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔اطلاعات و نشریات کے وزیر کئی بار ٹی وی پر بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف بولتے ہیں اور چینلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرحد کی لکیر خود طے کریں، یعنی فحاشی تو’ پروسیں‘پر اس کو’اوورڈوز‘ نہ ہونے دیں۔ سینسر بورڈ جو فلموں کو نمائش کے لیے سرٹیفیکیٹ دیتا ہے، وہ اطلاعات و نشریات کی وزارت کے تحت ہی آتا ہے۔ لیکن بورڈ میں چند افسران کے علاوہ زیادہ تر فلمی دنیا کے ہی لوگ رکن اور صدر ہوتے ہیں۔ یہ اعلان تو کرتے ہیں کہ فلم میں تشدد اور جنسی عناصرکے مناظر میں کمی لائی جائےگی، مگرکیا کمی آئی۔ جنسی، تشدد اور عریانی کے مناظر کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

ضرورت ہے کہ میڈیا اور اخبارات و رسائل کے ذمہ داران عوام کے مفاد میں گراہک بن کر ایسے افراد کی سرگرمیاں معلوم کریں اور اس کاانکشاف کرکے ان کے ناپاک عزائم کو طشت ازدبام کرکے ان کے حوصلوں کو توڑیں ۔اس موقع پر صنعت کاروں ، تاجروں اور حکومتی اداروں کوبھی مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلا ش کرنا ہوگا تاکہ اس طرح کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جائے جو مارکیٹنگ کے مقاصد بھی حاصل کرتا ہو اور فحاشی کے زمرے میں بھی نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نتیجے کے طور پر جنسی ناآسودگی، آبروریزی اور آزادانہ جنسی اختلاط کا ایک طوفان جنم لے گا جو محض چند طبقات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا شکار ہر دوسرا محلہ اور گھر ہوگا اور کیا خبر یہ اسی اشتہار دینے والے کا گھر ہو جس نے عریانی کے ذریعے دولت کمانے کی کوشش کی تھی۔


۔۔۔مزید