جمعہ، 4 جنوری، 2013

بچپن کی یاد



بچپن کی یاد 
محمد علم اللہ اصلاحی
 اس وقت رات کے تقریبا بارہ بج رہے ہیں ،میں عید کی چھٹیوں کے بعد واپس دہلی لوٹ رہا ہوں ،لائٹیں گل کر دی گئی ہیں ،بوگی کے سارے مسافر نیند کی آغوش میں جا چکے ہیں ، کہیں کہیں سے ایک دو بوڑھے مسافروں کی کھانسنے کی آواز ضرور آرہی ہے ،اس سے مجھے کوئی خلل نہیں ہو رہا ہے ،لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے نیند بالکل بھی نہیں آ رہی ہے ۔ سہی ہی کہا ہے میرزا ادیب نے جس جگہ پر انسان کا بچپن گزرا ہو وہ جگہ ہمیشہ دل کے پاس رہتی ہے۔ اور اکثر خواب بھی انسان اسی ماحول میں دیکھتا ہے۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ جو تصور اشیاءکے بارے میں قائم ہوتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ کے ساتھ مختص ہو جاتے ہیں۔ کوئی کہانی یا ناول پڑھتے ہوئے واقعات اور مقامات کے تصور کے ساتھ وہی جگہیں ابھرتی ہیں کہ جہاں ہم نے اپنے سنہرے دن گزارے تھے۔میں بھی اکثر کبھی خوابوں میں اور کبھی یونہی تنہائی میں اپنے ان لمحوں کو دیکھتا رہتا ہوں جہاں میں نے آنکھیں کھولی اور اپنی زندگی کے ایام گذارے۔آج میرزا ادیب کی مٹی کا دیاپڑھنے کے بعد اس میں اور بھی پختگی آ گئی ہے ۔حالانکہ ابھی میں نے اس کتاب کے کچھ ہی ابواب پڑھے ہیںلیکن میرزا ادیب کی اس دلچسپ تحریر کو پڑھ کر نا جانے میرا ذہن کہاں کہاںبھٹک رہا ہے ۔ماضی کی یادوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔آنکھوں سے آنسو جاری ہے اور بچپن کی کھوئی ہوئی یادیں ایک ایک کر کے چلی آ رہی ہیں۔
بچپن کی موہوم سی یاد
کومل سی معصوم سی یاد
بے مقصد سے آنسو ہیں
بے جا ، بے مفہوم سی یاد
شام کے ساتھ ہی آتی ہے
تنہا اور مغموم سی یاد
کیا کیا یاد دلاتی ہے
کوئی نا معلوم سی یاد
پھر سے دل بے تاب ہوا
جاگ اٹھی مرحوم سی یاد
شعروں میں ڈھل جاتی ہے
آتی ہے منظوم سی یاد
یوں تو ازل سے باقی ہے
لگتی ہے معدوم سی یاد
 میں انھیں یادوںکوآپ کے حوالہ کرنا چاہ رہا ہوں ،اس لئے نہیں کہ یہ تمام باتیں تجربات کی بھٹی میں تپی ہوئی یا آپ کے لئے کار آمد ہیں ۔میںکوئی ادیب بھی نہیں ہوں کہ اس میں آپ کو ادب کی چاشنی اور زبان کا چٹخارہ ملے گا تو پھر کیوں شایداوراق کالے کر نے کے لئے یا پھر آپ کا وقت ضائع کرنے کے لئے ۔مجھے خود بھی اس کا جواب نہیں معلوم اس لئے اب اس بابت مجھ سے دریافت نا کیجئے گا ۔شاید کہانی پڑھنے کے بعد آپ کو کچھ مل جائے۔

  میری پیدائش متحدہ بہار شہر رانچی کے قصبہ اٹکی میں جو موجودہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے تقریبا 22کیلو میٹر دور ہندو مسلم آبادی پر مشتمل ایک سر سبز و شاداب اور پر امن قصبہ ہے میں 15فروری 1989کوہوئی۔ یہاں پر پر امن کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اس بات سے قطع نظر کہ ادھر دو چار سالوں میں یہاں بھی فرقہ پرستی کی زہر گھولنے کی کوشش کی گئی ہے اور کئی مرتبہ حالات بگڑتے بگڑتے بچے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجودیہ علاقہ ہندو مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر آج بھی جانا جاتا ہے۔ جہاںمسلمان ہندووں کے خوشی و غمی کے موقع پر لوگوں کے سکھ اوردکھ میں شریک ہوتے ہیں، وہیں ہندو بھی عید و بقرعید سمیت ہر قسم کے تہوار میں شریک ہو کر مبارکباد دیتے اور ایک دوسرے کو خوشیاں بانٹتے ہیں۔ میرے زمانے تک یہاں کے زیادہ تر لوگ کھیتی ،باڑی یا اسی قسم کے معمولی پیشہ سے وابستہ تھے۔اب کافی تبدیلی آ گئی ہے لوگوں نے اپنے کھیتوں کو بیچ کر عالی شان عمارتیں تعمیر کر لی ہیں ، وہ جگہ جہاں کبھی سر سبزو شاداب کھیت لہرایا کرتے تھے آج عالی شان عمارتیں، بڑے بڑ ے مارکٹ اوردکانوں میں تبدیل ہو گئی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

 جہاں پر ہمارا آبائی گھر تھا ٹھیک اس کے پیچھے ہندوں کی آبادی تھی جو پیشہ سے یا تو لوہارتھے یا بت ساز،آس پاس کا علاقہ بہت زیادہ مہذب اور پڑھا لکھا نہ تھا۔ دیہاتی لوگ تھے سادہ سی زندگی اور محدود وسائل شاید اسی وجہ سے معمولی ساتویں آٹھویں بہت زیادہ ہوا تودسویں پاس کو لوگ واجبی سمجھ لیا کرتے تھے۔ البتہ ہمارے گھر میں ہم بہن بھائیوں کو جو ماحول ملا وہ علمی تھا۔ امی بہت زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں لیکن اردو ہندی پر اچھی پکڑ رکھنے والی خاتون والد محترم مولانا محمد اسماعیل رحمانی جامعہ رحمانیہ خانقاہ مونگیر اور دارالعلوم ندوہ العلما کے پر وردہ جبکہ چچا جان مولانا محمد ابراہیم ندوی بڑے عالم دین دار العلوم ند وۃ العلما اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے پروردہ۔ امی اور ابو کے علاوہ میں نے عربی کی ابتدائی کتابیں تمرین النحو ،تمرین الصرف قصص الانبیا ،القراہ الراشدہ اور اسی قسم کی دوسری کتابیں چچا محترم مولانا ابراہیم ندوی کی نگرانی میں ہی ختم کیں ۔میرے ایک اور چچا عزرائیل کی علمی لیاقت کا تو مجھے علم نہیں لیکن اتنا ضرور یادہے کہ انھوں نے مجھے کئی دعائیں یاد کرائیں ایک دعا یاد کرنے پر وہ پچاس پیسے یاایک روپئے انعام دیا کرتے تھے۔ میں نے بہت ساری دعائیں یاد کرکے نہ جانے اپنے چچا سے کتنے پیسے وصول کئے ،ایک اور چچا اسرائیل حافظ قران سے بہت زیادہ فیضیاب ہونے کا موقع نہیں ملا اس کی وجہ یہ رہی کہ ان کا زیادہ تر قیام کاروباری وجوہات کی بنا پر رانچی میں رہا۔

 مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے باضابطہ تعلیم کا آغاز کب کیا لیکن ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ ابا محترم ہم تمام بھائی بہنوں( بڑے بھائی ذکا ءاللہ ،دونوں آپی فرحت ،مسرت ،میں اور میرا چھوٹا بھائی روح اللہ )کو شام ہوتے ہی گھر کے بر آمدے میں چٹائی بچھا کر لالٹین یا پھر لیمپ کی مدھم روشنی میںپڑھانے بیٹھ جایا کرتے ، جہاںہم سب ابو کی نگرانی میںعشاءتک پڑھا ئی کرتے۔ابو چونکہ خاندان کے سب سے بڑے تھے اس لئے زمین جگہوں سے لیکر لڑائی جھگڑا ہر قسم کے حالات کے نپٹارے کی ذمہ داری بھی انھیں کی تھی ۔ابو جس دن اس طرح کے کاموں میں پھنسے ہوتے ہماری جیسے عید ہو جاتی ۔مجھے یاد پڑتا ہے جس بر آمدے میں ہم لوگ پڑھنے بیٹھتے تھے اسکے باہری دروازے پر ایک سوراخ تھاجسے ٹین سے بند کیا گیا تھا۔اس طرح کے حالات میں ابو اگر ہمارے ساتھ نا بیٹھ پاتے یا کہیں گئے بھی ہوتے تو بھی موقع ملتے ہی اس دروازے میں سے جھانک کر ضرور دیکھتے۔پڑھائی کے وقت اگر کوئی شرارت کرتے ہوئے یا پھر گپیں لڑا تے ہوئے مل جاتا تو اس کی خیر نہیں ہوتی ابو اکثر سیلف اسٹڈی پر زور دیتے اور کہا کرتے ڈنڈے کے زور پر پڑھائی کے عادی نہ بنو بلکہ اپنے اندر شوق پیدا کرو کہ یہ چیزیں بعد میں بھی انسان کے کام آتی ہیں ۔گھر پر ہر ایک کو نماز پڑھنے کی سخت تاکید تھی ۔اس سلسلہ میں امی بھی بڑی اسٹرکٹ(سخت) تھیں۔اگر کوئی بلا عذرنماز نہ پڑھتا تو اسے کھانا بھی نہیں ملتا۔مجھے یاد پڑتا ہے ایک مرتبہ میں ایسے ہی نماز کی غرض سے گھر سے نکلا اور تھوڑی دیر بعدبغیر نماز پڑھے ہی گھوم پھر کر گھرآ گیا ۔امی نے پوچھا نماز پڑھ لی میں نے کہا ہاں پڑھ لیا ۔پتہ نہیں امی کو کیسے شک ہو گیا کہ میں نے نماز نہیں پڑھی ہے فورا انھوں نے پاں دکھانے کے لئے کہا ،میں نے پاں جو دکھایاتو گندے تھے ۔امی نے وہیں پہلے تو جھوٹ بولنے پر تھپڑ رسید کئے اور پھرسے گھر پر وضو کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے کہا اور جب میں نے نماز پڑھ لی تبھی کھانا ملا ۔

 ابو پیشہ سے ٹیچر تھے اس لئے ان کے مزاج میں بھی ذرا رعب اور کڑک تھا۔جب کبھی ابوکسی بات پر ہم بہن بھائیوں سے غصہ ہوتے تو امی بالکل نرم پڑ جاتیں ۔مجھے یاد پڑتا ہے میرے زمانے میں گھر پر ایک مولوی صاحب ٹیوشن پڑھانے کے لئے آیا کرتے تھے ۔جسے ابو نے ہی ٹیوٹر کے طور پر رکھا تھا ۔وہ اس لئے کہ اب ابو کا تبادلہ ہوگیا تھا اوروہ گاں کے اسکول بالیکا اچیہ ودھیالیہ کوچھوڑ کر پلاموں ضلع کے پاکی نامی گاں کے کسی اسکول میں پڑھانے کے لئے چلے گئے تھے ۔حالانکہ پاکی میں بھی ابو نے کچھ ہی دن اپنی خدمات انجام دیںکیونکہ جلد ہی یہاں سے بھی ان کا تبادلہ ہو گیااوروہاں سے انھیں لوہردگا ضلع کے ندیا ہندو اچیہ ودھیالیہ میںاپنی ذمہ داریاں نبھانی پڑیں اوراس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر اور مستقل ایک جگہ قیام نہ ہونے کے سبب ہم سارے بھائی بہن ابوکی باضابطہ تعلیم سے محروم رہ گئے۔ ان تمام مجبوریوں کے باوجود ابو نے ہم سب کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ وقت برباد نہ ہو کہ کر اور بھی کئی کئی جگہ ٹیوشن کا انتظام کر دیا۔اس صبح و شام کی ٹیوشن نے ہمارا کھیل کود سب کچھ بند کر دیا ۔ انھیں دنوں ہمارے گھر پر ایک بوڑھے مولوی صاحب پڑھانے کے لئے آیا کرتے تھے انھوں نے مجھے کیا پڑھا یایہ یاد نہیں بس ایک ہلکا سا یادوں کا عکس ذہن کے پردہ پر رہ گیا ہے۔مولوی صاحب کی موٹے لینس والی عینک سے جھانکتی آنکھیں ،برسوں کے تجربات سے سفید ہوئی داڑھی اور حالات زمانہ کے سبب ہاتھوں میں پڑی ہوئی جھریاں اور اس میں موٹی سی بانس کی قمچی آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔

 جب میں نے اسکول جانا شروع کیا اس وقت میرے گھر پر ایک ماسٹرثناءاللہ صاحب پڑھانے کے لئے آیا کرتے تھے انتہائی مشفق استاذ ہم سب انھیں بھائی جان کہا کرتے تھے۔ میں نے جس اسکول سے پڑھائی کی وہ پورے علاقہ میں سب سے اچھااسکول مانا جاتا تھا،جماعت اسلامی ہند کے زیر نگرانی درسگاہ اسلامی نامی اس ادارہ میں اساتذہ انتہائی مشفق اور مہربان ہوا کرتے تھے۔ آج کل کی طرح پروفیشنل انداز نہ تھا۔ اساتذہ کے اندر خلوص اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ہمارے خاص اساتذہ میں اللہ دادکریم جنھیں ہم لوگ ایڈی کریم کہا کرتے تھے۔مولانا عبد الحفیظ کامی مولانا انعام اللہ رحمت ندوی ،مولانا نسیم انور ندوی ،مولانا سعید ندوی ،مولانا منیر الدین ،ماسٹر عبد الحفیظ ،مولانا فضل الحق ،حافظ شمیم ،مولوی عابداورماسٹرسہیل وغیرہ تھے۔افسوس ان میںسے ایک اب اس جہان میں نہیں رہے ۔ موت کا مزاتو ہر ذی روح کو چکھنا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں یقین نہیں آتا کہ عبد الحفیظ صاحب سچ مچ اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ مشیت الہی کے آگے انسان بے بس ہے یقین تو کرنا ہی پڑے گا ۔معلوم ہوا ہے کہ 27نومبربعد نماز ظہر ان کے آبائی وطن میں سیکڑوں نمناک آنکھوں کے ساتھ انھیں سپرد خاک بھی کر دیا گیا۔ استاذ مرحوم کے ساتھ بہت ساری یادیں وابستہ ہیں ۔موقع ملا تو جلد ہی الگ سے اس پر کچھ لکھوں گا۔

 بات چونکہ درسگاہ اور وہاں کے اساتذہ کی ہو رہی تھی اس لئے پھر وہیں چلتے ہیں ۔درسگاہ میں تمام ہی اساتذہ کی تربیت اور پڑھانے کا اپنا اپنا انداز تھا۔لیکن صحیح معنوں میں ماسٹر ایڈی کریم کا انداز ان سب میںسب سے جدا تھا۔وہ اچھے سے اچھے کائیاں اور ڈھیٹ لڑکوں کو بھی ٹھیک کر دیا کرتے تھے ،میں بھی کئی مرتبہ ان کے عتاب کا شکار ہوا اس لئے ان سے جڑے کئی واقعات میرے ذہن میں اب بھی محفوظ ہیں۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ماسٹر صاحب کلاس میں پڑھا رہے تھے ،پتہ نہیں کیسے مجھے نیند آ گئی اور میں اونگھنے لگا۔انھوں نے اشارے سے کسی بچے کو مارنے کے لئے کہا۔جیسے لڑکے اسی انتظار میں بیٹھے تھے تڑا تڑ کئی ہاتھ میرے سر پر پڑے اور میں رونے لگا۔ماسٹر صاحب نے ان لڑکوں کو بلایا اور سب کی گوش مالی کرتے ہوئے کہا میں نے اتنا زور سے مارنے کے لئے تھوڑے ہی کہا تھا ،میں تو محض جگانے کوکہا تھا۔ماسٹر صاحب کی تربیت کا انداز بھی عجیب و غریب تھا۔وہ بچوں کی ایمانداری کو آزمانے کے لئے سر راہ کچھ روپئے یا پیسے گرا دیتے اور یہ دیکھتے کہ بچہ اسے اٹھا کر رکھ لیتا ہے یا پھر ہیڈ ماسٹر کے حوالہ کرتا ہے۔ اگر بچے نے لے جاکر ہیڈ ماسٹر یا پھر جس کا سامان ہے اس کے حوالہ کر دیا تب تو ٹھیک اور اگر غلطی سے بھی رکھ لی تو اس کی خیر نہیں ،ایمانداری دکھانے پر ماسٹر صاحب شاباشی دیتے اور شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ماسٹر اللہ داد کریم ہم بچوں کو انگریزی پڑھایا کرتے تھے ،شکل وصورت سے تھے بھی بالکل انگریزوں کی طرح گورے چٹے اور لمبے تڑنگے۔سبق یاد نہ کرنے والے بچوں کی وہ ایسی دھنائی کرتے کہ بس۔ایسے موقع پر وہ اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“اور یہ کہتے ہوئے چھڑیوں جسے وہ تنبیہ الغافلین کہا کرتے تھے کی برسات کر دیتے۔ان کی چھڑی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اسے تیل پلاتے ہیں۔ماسٹر صاحب کے نزدیک ساری بیماریو ں کا علاج بس چھڑی سے ہی ممکن تھا۔

 مجھے یاد پڑتا ہے درسگاہ میں ہم سارے بچے کلاسیز شروع ہونے سے قبل ترانہ اور دعا پڑھا کرتے تھے۔دعا کیا تھی علامہ اقبال کی ”یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے “اور ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ اس وقت ہمیں ترانہ ختم ہونے ے بعد آداب سکھائے جاتے مثلا کوئی چیز گری پڑی ملے تو اس کا کیا کرنا ہے ،چھینک آئے تو الحمد للہ کہنا ہے ،سننے والے کو جواب میں یرحمک اللہ ،جمائی کے وقت الٹاہاتھ منھ پر رکھناہے،کھانا بسم اللہ سے شروع کرنا ہے ،کھانے کے بعد دعا پڑھنی ہے ،سڑک میں بائیں طرف سے جانا اور بائیںطرف سے لوٹنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ نہ جانے کیوں آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں توآنکھوں سے سےل اشک رواں ہے، پرانی یادیںایک ایک کرکے تازہ ہو رہی ہیں وہ چھوٹی چھوٹی شرارتیں ،سبق یاد نہ کرنے پر اساتذہ کی چھڑیاں،دوستوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا،چھٹی اور وقفہ میں چورن، چاکلیٹ ،لیمن چوس، پنیرا اور بیر کی خریداری اور دوستوں سے چھپا کر اورانھیں چڑھا کر کھانا،کبھی ان کی چیزیں چھین لینا اور کبھی اپنی چیزیں لٹادینا، ساری چیزیں ایک ایک کر کے یاد آ رہی ہیں۔

 میں آج بھی اپنے اسکول سے متصل اس بوڑھے آم کے پیڑ کو نہیں بھول سکتا ،جب اس کے نیچے لکڑی کی کرسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب ہمیں درس دیا کرتے تھے۔اور ہم بچے ان کے گرد حلقہ بنائے کھڑے ہوا کرتے تھے۔آہ! وہ بھی کیا زمانہ تھا ،بچپن کا لا ابالی پن اور شرارتیں کسی کا سلیٹ توڑ دینا تو کسی کا سر پھوڑ دینا،دوستوں کے ساتھ اسکول سے بھاگ جانااور ثواب کے مبینہ حصول کے لئے جھاڑیوں میں گرگٹ کا مارنا اس پر استاذ کی سختی اور جان کی اہمیت پر تقریر ،آم کی کیریاں اور املی کی ڈلیاں توڑنا ، ،کبڈی، لٹواورپتھر کی گولیاں ،پتنگ،گلی ڈنڈا اور آنکھ مچولی کھیلنا،بھائی بہنوں کا اسکول کے کاموں میں ہماری مدد کر نا ، نماز کے نام پر گھر سے نکلنا اور مسجد میں نہ جانا اس پر ابو کی جھڑکی ،ڈانٹ ،ڈپٹ اور تھپڑ، دوستوں کے ساتھ یا میدان میں کھیلتے ہو ئے ان میں مگن ہو کر ناکھا نا ناپینا اورپھرگھروقت پر ناپہنچنے پر ابو کی پٹائی اس پر امی کی شفقت اور باجی کی حمایت۔اب تو صرف اس کی یادیں ہی باقی
 : رہ گئی ہیں سچ کہا ہے کہنے والے نے
بچپن کے دن بھی کتنے اچھے ہواکرتے تھے
تب دل نہیںکھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشیاںبھی کیسی خوشیاںتھیں
تتلی پکڑ کر ا چھلا کرتے تھے
چھوٹے تھے تو مکرو فریب بھی چھوٹے تھے
دانہ ڈال کر چڑیاںپکڑا کرتے تھے
اپنے جل جانے کا بھی احساس نہ تھا
جلتے شعلوںکو چھیڑاکرتے تھے
اب تو ایک آنسو بھی رسوا کر جاتا ہے
بچپن میں تو جی بھر کے رویا کرتے تھے

 گزشتہ دنوں جب گاں جانا ہوا تو انھیں پرانی یادوں کو تازہ کرنے اور اساتذہ سے ملاقات کی غرض سے میں اپنے پرانے علمی گہوارہ میں بھی گیا۔جن اساتذہ کا ابھی میں نے ذکر کیا ان میں سے کئی اب اس دنیا میں نہیں رہے جوحیات ہیں وہ بھی ضعیف ہو چکے ہیں، اللہ ان کو صحت و عافیت سے نوازے اور مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔اپنی ان یادوں کے درمیان اسکول کی موجودہ حالت اوروہاں کے رویہ کو دیکھ کر کافی افسوس ہوا۔وہ ادارہ جس کا کسی زمانے میں طوطی بولتا تھا اور جو پورے علاقہ میں اپنے نظم و نسق اور تعلیمی ماحول کی بنا پر مثالی ادار ہ تھا۔آج اپنوں کی بے حسی کی وجہ سے آنسو بہا رہا تھا۔اسکول کی بابت وہاں کے طلبہ، اساتذہ اور مقامی لوگوں سے بات کرکے کافی تکلیف ہوئی۔کئی لوگوں نے اسے منتظمین کی کوتاہی کا نام دیا،تحقیق کرنے پر کئی وجوہ سامنے آئے میں نے دہلی آنے کے بعد جماعت اسلامی کے ذمہ داران کو اس جانب توجہ بھی دلائی اور ایک تفصیلی خط بھی لکھا جس پر تعلیمی امور کے ذمہ دار جناب اشفاق صاحب نے مجھے فون کے ذریعہ جلد ہی کاروائی کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ،انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد ہی وہاں کا دورہ کرنے والے ہیں لیکن معاملہ ہنوز سرد خانہ میں پڑا ہوا ہے۔

 میں نے اس اسکول میں مکتب پنجم تک تعلیم حاصل کی۔ہم کلاس میں کتنے بچے تھے یہ تو یاد نہیں لیکن ہاں چالیس ،پچاس سے کم نہیں رہے ہونگے ،یہاں آس پاس کے دیہات کندی ،مورو،ٹٹکندو،نگڑی اور پسکا و رانچی تک کے بچے پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ لیکن ان میں سے سوائے چند ایک کے کوئی بھی یاد نہیں رہ گیا ہے جن ساتھیو کے نام ابھی میرے ذہن میں ابھر رہے ہیں ان میں سے چند ایک کے نام کچھ اس طرح ہیں عارف حبیب ،آصف،ارشاد ، افروز،راشد ،فردوس ،رقیہ ،نزہت ،راحت وغیرہ۔ان میں سے کس نے آگے تعلیم جاری رکھی اور کون کہاں گیا مجھے کچھ پتہ نہیں ہاں مذکورہ بالا ناموں میں ایک نام مجھے کبھی نہیں بھولے گا اور وہ ہے میرے ہر دلعزیز دوست اور راز عارف حبیب کا جنھوں نے جامعۃ الفلاح سے عالمیت تک کی تعلیم حاصل کی اور عصری علوم کے لئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا رخ کیا ،یہاں سے عربی زبان میں گریجویشن کے بعداب کسب معاش کے سلسلہ میں ریاض میں مقیم ہیں ،اب ان سے بھی محض فون اور انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی ملاقات ہو پاتی ہے۔ان کی اہلیہ فردوس اطہربھی میرے کلاس کے ساتھیو میں سے ہے، گزشتہ سال دہلی قیام کے دوران دونوں سے ملاقات ہوئی تو کافی دیر تک ماضی کی یادوں پر گفتگو ہوتی رہی ،پرانی یادیں اور بچپن کی شرارتوں کو یاد کر ہم کافی محظوظ ہوئے۔

 درس گاہ میں تعلیم کے دوران ہی کچھ دن میرا دارالعلوم بنا پیڑھی میں بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا ،غالبا ان دنوں میں مکتب پنجم میںتھا۔میرے چچا محترم مولانا محمد ابراہیم ندوی یہیں پڑھایا کرتے تھے ،لیکن بہت زیادہ چھوٹا ہونے اور امی ابوکی یاد میں رونے کی وجہ سے چچا نے مجھے گھر واپس چھوڑ دیا ،یہ مےرا نو یا دس کا سن رہا ہوگا۔اس کے بعد ابا محترم نے اس ڈر سے کہ میں کہیںغلط صحبتوں میں نہ پڑ جاوں مجھے درسگاہ اسلامی میں ڈال دیا جہاںابھی نیا نیا ہاسٹل کھلا تھا،اس درمیان ابو کے ذہن میں یہ بات ضرور رہی ہوگی کہ وہ مجھے باہر پڑھنے کے لئے بھیجیں گے اور انھوں نے مجھے محض عادت ڈالنے کے لئے یہاں ڈالا تھا۔صبح صبح روزانہ سائیکل چلا کر ابو خود ملنے کے لئے آتے ،امی ناشتہ میں حلوہ،پوریاںاور نا جانے کیا کیا بنا کر بھیجتی ،آپا میرے کپڑے دھل کر اور پریس کر کے بھیج دیا کرتی تھیں،میں ہر جمعرات کو گھر جاتا رات وہیں گزارتا اور جمعہ کو ابو کے ساتھ ہاسٹل آجاتا،میں ہاسٹل آتے ہوئے کبھی خوش نہ رہتا ہمیشہ روتا ،مجھے ہاسٹل میں بالکل جی نہیں لگتا تھا ،جب کبھی بھی ابو ہاسٹل پہنچانے کی بات کرتے تو میں نہ جانے کی ضد کرتا ،روتا اور حیلہ بہانہ تراشتہ لیکن پھر بھی ابو مجھے ہاسٹل پہنچا دیتے۔ایسے موقع پر ابو مجھے بڑے ظالم نظر آتے تھے۔

 میر ا ننھیال گاں میں ہی تھا، میں بھاگ کر وہاں پہنچ جاتا، مجھے نانا ،نانی ،خالہ ،ماموں اور ممانی سبھی خوب مانتے لیکن ان سبھوں میں مجھے نانی ہی سب سے زیادہ مانتی تھی ،میںجب بھاگ کر نانی کے گھر جاتا تو نانی مجھے خوب پیار کرتی اپنے پوتے پوتیوں سے چھپا کر مٹھائیاںیا اور کوئی کھانے کی اچھی چیز رکھی ہوتی وہ مجھے لاکر دیتی ،پیسے دیتی اور پھر سمجھا بجھا کر ہاسٹل جانے پر راضی کر لیتی ،میں نانی کے کہنے پر ہاسٹل تو چلا جاتا لیکن پھر دوسرے دن بھاگ آتا نانی پھر ویسے ہی کرتی اور بہلا پھسلا کردوبارہ ہاسٹل بھیج دیتی۔نانی کی مجھ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں ،وہ بہت زیادہ پڑھی لکھی تو نا تھی لیکن تعلیم کی اہمیت سے خوب واقف تھی ،مجھے قصہ کہانیاں سناتی ،پرانے زمانے کے واقعات بتاتی اوراپنی آپ بیتی اس انداز سے سناتی کہ جی چاہتا سنتے ہی رہیں ،نانی کو میںکلمہ، مثنون دعائیں اور حمد و نعت سناتا تو بہت خوش ہوتی اور اپنے دو پٹہ کے آنچل سے کھول کر ہاتھوں میں پیسے تھما دیتی میں خوش ہوجاتا اور پھر ہاسٹل چلا جاتا،مجھے یاد پڑتا ہے جب کبھی میں ہاسٹل نہ جانے کی ضد کرتا اور رونے لگتا تونانی بھی رو دیتی ،نانی نے کئی مرتبہ ابو سے مجھے ہاسٹل نہ بھیجنے کی سفارش بھی کی ،آج میری نانی اس دنیا میں نہیں ہے تو شدت سے ان کی یاد آ رہی ہے ،میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔یاالہ العالمین تو میری نانی کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔

 درسگاہ اسلامی اٹکی کے ہاسٹل میں جن شخصیات سے مجھے بطور خاص استفادہ کا موقع ملا ان میں مولانا نسیم انور ندوی، مولانا عبد الحفیظ کامی اور مولانا انعام اللہ رحمت ندوی قابل ذکرہےں۔اول الذکر نے ہم طلبہ کے اندر تقریر و تحریر کا ذوق پیدا کیا ،ثانی الذکر ہاسٹل کے بچوں کو بعد نماز فجر خوشخطی ،انگریزی اور ریاضی سکھایا کرتے تھے جبکہ ثالث الذکر قرائت قران مجید، حمد ونعت اور ترانہ وغیرہ کی مشق کراتے ،آخر الذکر کی آواز بہت اچھی تھی جب وہ ”اللہ لے چل مورا مدینہ “اور” خودی کا سر نہاں لا الہ ا لا اللہ “اپنے مخصوص انداز میں پڑھتے تو ایک سماں بندھ جاتا۔الحمد للہ تینوں ابھی باحیات ہیں اور اسی ہمت ،حوصلہ اور خلوص کے ساتھ علم کی شمع کو روشن کرنے میں مصروف ہیں اللہ ان کو مزیدصحت اور طاقت دے۔

 میرے اندر مطالعہ کا شوق بھی ا ن ہی دنوں پیدا ہوا ہمارے اسکول میںچھوٹے بچوں کے لئے لائبریری کا انتظام تو نہیں تھا ،ہاں گھر پر ابو اور چچا کی کچھ کتابیں تھیں لیکن وہ بچوں کے لئے نہیں تھیں ،ابو نے میرے اس ذوق کی تسکین کے لئے گاں کے ہی ایک کتب فروش جنھیں ہم لوگ چھوٹے ابو کہا کرتے تھے ان کا نام عالمگیر ہے ،میںموقع ملتے ہی چچاعالمگیر کی دکان پر جاتا اور” سندباد جہازی“،”گل بکاولی“،”کوہ قاف“،”کچھوے کی جیت“،”طفلستان“ اور پریوں کی کہانیاں جےسی کتابےں لے کرآتااور انہےں خوب مزے لے لے کر پڑھتا۔مجھے یاد ہے کہ عارف کے ماموں ماسٹر اقبال جنھیں ہم لوگ چھوٹے ابو کہا کرتے تھے کے یہاں ”نور“ اور”ہلال“بھی آیا کرتا تھا۔میں وہاں سے اس کے پرانے شمارے بھی لاکر پڑھتا تھا۔

 درسگاہ سے ابھی میں نے تعلیم مکمل بھی نہ کی تھی کہ ابونے مجھے چچا کے ساتھ پھر مدرسہ تعلیم القران تنگن گنڈی بھٹکل بھیج دیاتاکہ میں عربی کی تعلیم حاصل کر سکوںیہاںمیرا داخلہ مکتب ششم مجوزہ درجہ عربی اول میں ہوا تھا ، اساتذہ میں مولانا ایوب ندوی اور مولانا اسحق ندوی یاد رہ گئے ہیں اول الذکر نحو جبکہ ثانی الذکر ادب پڑھاتے تھے ،چچا محترم عربی انشاءاور اردو پڑھاتے ، اب دارالعلوم بنا پیڑھی کو چھوڑ کر چچا پڑھانے کی غرض سے یہاں آ گئے تھے ،یہ مسلم آبادی پر مشتمل ایک چھوٹا مگر انتہائی خوبصورت گاں تھا ،میںیہاںصرف ایک سال رہالیکن اس کی مدھم مدھم سی یاد ابھی بھی میرے ذہن میںباقی ہے ،ناریل اور کاجو کے درخت میں نے پہلی مرتبہ یہیں دیکھے۔جب میںیہاں پہنچا تو کئی دن تک نیند نہیں آئی مجھے محسوس ہوتا تھا سامنے سے کوئی ٹرین گذر رہی ہے میںتو کئی دن تک یہی سمجھتا رہا کہ قریب ہی ریلوے اسٹیشن ہے اور یہ دھڑام دھڑوم کی آواز وہیں سے آ رہی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ٹرین کی آواز نہیں بلکہ سمندری لہروں کے سر پٹکنے کی آواز ہے جسے عرف عام میں مدو جذر کہا جاتا ہے ۔

 یہ جگہ واقعی بڑی خوبصورت اور پر لطف تھی ۔میں وقت گذاری کے لئے اکثر بعد نماز عصر سمندر کے کنارے دیر تک ٹہلا کرتا۔دور تک سمندر کے کنارے بچھائے گئے پتھر پر بیٹھ کر تلاطم خیز موجوں اور ان کے تھپیڑوں کو دیکھ کر میں سب کچھ بھول جاتا تھا۔اور تنہائی میں امی ،ابو ،بھائی بہن اور گھر کو یاد کرکے روتا بھی ،پتہ نہیں کیوں میں یہاں ایک سال رہا لیکن امی ابو بھائی بہن سب کے چھوٹ جانے کا غم اکثر ستایا کرتاان سب کو یاد کر کے میں جی بھر کے روتا۔ کر رات کو اتنا زیادہ کہ تکیہ بھیگ جایا کرتا، گرچہ یہاں چچی تھی ساتھ میں چچا زاد بھائی اور بہن بھی لیکن حقیقی ماں باپ اور بھائی بہن جیسی محبت کوئی نہیں دے سکتا۔ چچا کے کہنے کے باوجودچچی اپنے اولادوں سے جس انداز سے پیار کرتی مجھے ویسا پیار نہیں دے سکتی تھیں اورظاہر ہے اس میں ان کا کوئی قصور نہ تھا یہ ان کی مجبوری تھی اور انسانی فطرت کا خاصہ بھی اگر اس کی جگہ میری اپنی سگی امی بھی ہوتی تو شاید ان کا رویہ اپنے اولاد کےساتھ جیسا ہوتا دوسروں کے اولاد کے ساتھ ویسا نہیں ہو سکتا تھا۔

 پھر بھی یہاں ایک دو واقعوں کا ذکرنا مناسب نا ہوگا ایک مرتبہ میرے بدن پر خارش نکل آئی ،جس نے مجھے بہت زیادہ پریشان کردےا،ایک پل بھی سکون نہ ملتا تھا ،کافی پریشانی کی حالت میں مدرسہ سے میں چچا کے یہاں آیا ،چچی نے کسی طرح کی کوئی توجہ نہ دی،میں حمیرہ کو گود لینا چاہتا تھا ،مجھے شروع سے ہی بچے بہت اچھے لگتے ہیں ،چچی نے منی کو چھونے نہ دیا ،میں بشری ،طہ کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا چچی نے دونوں کو اندر بلا لیا۔غالبا جمعہ کا دن تھا چچا نے کہا تم نہا لو پھر دوا دلانے ساتھ لے چلیںگے ،میں نہانے کے لئے جب غسل خانہ گیا تو چچا نے کہا کہ کپڑے نہ دھلنا چچی دھل دیں گی ،مجھے ایک مرتبہ کو تردد تو ہوا لیکن پھر چچا کے کہنے کی وجہ سے میں کپڑے غسل خانہ میں چھوڑ دئے اور نہا کردوسرے کپڑے پہن لئے ،دوا دلانے کے بعد چچا نے مجھے مدرسہ میں ہی چھوڑ دیا ایک ہفتہ بعد میں پھر چچا کے یہاںآیا کپڑالینے کے لئے۔ لیکن گھر آنے پر پتہ چلا کہ کھجلی والے کپڑے چچی کیونکر دھلتی۔جب میں غسل خانہ کپڑے لینے کے لئے گیا تو کیا دیکھتا ہوںہفتہ بھر پانی اور دھوپ میں بھیگنے کے سبب کپڑے خراب ہو چکے ،جگہ جگہ کالے پھپھوند پڑ چکے ہیں ،میں رو رو کر انھیں کپڑوں کوخود دھلتا ہوں لیکن کالے دھبے نہیں مٹتے ،سسکیوں کے ساتھ جب رونے کی آوازچچا نے سنی تو یہ کہ کر چپ کیا کہ تمہیں نیا کپڑے خرید دیں گے ،لیکن چچا نے نئے کپڑے نہیں خرید ے شاید چچی کے ہاتھوں وہ بھی مجبور تھے۔

 ایک اور واقعی چچا کے یہاں کہیں سے مٹھائیاں آئیں ،کھیلتے کھیلتے میں چچا کے گھر جا پہنچا ،چچی اس وقت مٹھائیاںاپنے بچوں کے درمیان تقسیم کر رہی تھیں۔چچی نے جیسے ہی مجھے دیکھا جھٹ مٹھائی اپنے آنچل میںچھپا لیا کہ جیسے میری نظر ہی نہیں پڑی۔چچی کی یہ حرکت میرے دل کو لگی اور میں الٹے پاوں مدرسہ واپس آ گیا۔ظاہر ہے اگر اس کی جگہ میری اپنی ماں ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتی۔اس کے علاوہ بھی اور ڈھیروں ایسے واقعات ہیں جس کا تذکرہ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ انھیں وجوہ کی بنا میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ مجھے ماں باپ کا پیار نہیں ملا۔میں نے ایک دو مرتبہ امی اور ابو سے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ابو نے یہ کہ کر ٹال دیا کہ ہا ں بغیر پیار کے ہی اتنے بڑے ہو گئے۔ لیکن بھلا میں امی اور ابو کو کیسے بتاتا کہ ایسا میں کیونکر کہتا ہوں۔اگر میں امی اور ابو سے ان واقعات کو بتاتا تو انھیں ضرور تکلیف ہوتی اور انھیں پتہ بھی چل جاتا کہ میں ایسا کیوں کہتا ہوںلیکن میں نے آج تک ان میں سے کسی بھی واقعہ کا کسی سے ذکر نہیں کیا ہے۔

 ایک سال گذار کر بھٹکل سے عید کی چھٹی کے موقع پررمضان المبارک میں چچا کے ساتھ جب گھر آیا توابواپنے چند دوستوں کے مشورسے مجھے اعظم گڈھ جامعۃ الفلاح یا مدر سۃ الاصلاح بھیجنے کا ارادہ کر چکے تھے ۔یہ مشورہ غالبا مولانا امین الدین اصلاحی کا تھا جو جامعۃ المحسنات کے نام سے لوہردگا ضلع میں لڑکیوں کا ایک ادارہ چلاتے ہیں ،بہر حال ابو نے جب مجھے یہ فیصلہ سنایا تو میں نے ہاں کہہ دی ،میرے ہاں کرنے کے پیچھے یہ بات بھی تھی کہ میں نے مکتب میں کہیں شہباز ہندی اور کوثر اعظمی کی کچھ نظمیں پڑھی تھیں جن کے تعارفی نوٹ میں بتایا گیا بتایا گیا تھا کہ انھوں نے مدرسۃ الاصلاح سے تعلیم پائی تھی میرے ننھے ذہن میں اسی وقت یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ مجھے مدرسۃ الاصلاح پڑھنے جانا ہے اور ان جیسا ایک قلم کار بننا ہے۔

 لیکن امی کسی بھی طرح مجھے باہر بھیجنے کے لئے راضی نہ تھیں ،مجھے آج بھی یاد پڑتا ہے جس دن مجھے اعظم گڈھ کے لئے روانہ ہونا تھا،اس رات امی بار بارمیرے پاس آتی اور میرے چہرے سے چادر اٹھا کر نا جانے کیا دیکھتی ،کبھی میرے گال کو چومتی تو کبھی میرے پیشانی کو، امی کی بار بار کے اس عمل سے جب میری نیند کھل گئی تو انھوں نے مجھے گلے لگا لیا اور کہنے لگی بھلا میں اس چھوٹے سے بچے کو کیسے اکیلے باہر بھیج سکتی ہوں،بھٹکل میںتو دیکھ ریکھ کرنے والا ابراہیم تھا تو کم از کم اطمینان رہتا تھا ،پھر کہتی نہیں نہیں میں نہیں جانے دونگی اور پھر گلے لگا کر رونا شروع کر دیتی ،صبح بھی امی کا یہی رویہ رہا ابو کو بھی تشویش ہوئی تو انھوں نے گاں کے ہی کئی بچوں کو ساتھ پڑھنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا ،لیکن کوئی بھی اپنے لخت جگر کو اپنے سے دور بھیجنا نہیں چاہتا تھا یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کی نظر مستقبل پر ہو اور جس کے اندر عزم ،ہمت اور حوصلہ ہو۔

 مجھے اچھی طرح معلوم ہے ابو بھی مجھے اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے،اپنی اولاد کسے پیاری نہیں ہوتی کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد نظروں سے اوجھل ہو ،لیکن ابو میرے بارے میں کچھ خواب سجائے ہوئے تھے اسی لئے انھوں نے دل پر پتھررکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔خیر کافی سمجھانے بجھانے کے بعد ایک دور کے ماموں کو ابو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے اپنے بیٹے کوبھی میرے ساتھ بھیجنے کا ارادہ ظاہر کر دیا، ابو بڑے خوش ہوئے اور ہم دونوں یعنی راقم الحروف اور ماموں زاد بھائی دانش عبد اللہ کو استاذ محترم مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی معیت میں اعظم گڈھ تعلیم کے لئے روانہ کر دیا۔میں آج بھی اس جدائی کے منظر کو نہیں بھول سکتا جب میں نے گھر سے نکلتے ہوئے امی ،نانی ،خالہ ،ممانی اور باجی ان سب کی آنکھوں کو ڈبڈبائی ہوئی دیکھا ،نانی تو فرط جزبات میں آنچل اٹھائی ہوئی رو رو کر میری کامیابی کی دعائیں دے رہی تھیں۔مجھے رانچی بس اسٹنڈ تک چھوڑنے کے لئے ابو کے ساتھ ساتھ ماموں ،چچا اوربھائی جان بھی آئے تھے سبھوںنے مجھے ڈھیر سارے روپئے اور طرح طرح کے سامان خرید کر دئے ،ماموں نے روپیوں کے علاوہ بہت سارے پوسٹ کارڈ اور لفافہ بھی دئے اور تاکید کی کہ جاتے ہی خط لکھنا ماموں نے توپوسٹ کارڈوں اور لفافوں میں پتے تک لکھ دئے تھے تاکہ مجھے پتہ بھی لکھنے میں دشواری نا ہو۔

 مجھے یہاں پر ایک واقعہ اور یاد ہے شاید اسے میں کبھی نہیں بھولوں گا یہ سردیوں کا موسم ہے ،کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے ،شام کے غالبا چھہ بج رہے ہیں گاڑی کے آنے میں ابھی ذرا دیر ہے ابو مجھے ایک ہوٹل میں لے جاتے ہیں، دو چائے کا آرڈر دیتے ہیں، چائے والا چائے لے کر آتا ہے ابو ایک مجھے دیتے ہیں اور ایک خوداپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں ،اب ابو مجھے نصیحت شروع کرتے ہیں”بیٹا دل لگا کر پڑھائی کرنا ،پہنچتے ہی فون ضرور کرنا ،وقت ضائع نہ کرنا ،کسی بھی قسم کی پریشانی ہو تو بلا جھجھک بتانابیٹا !میری لاج رکھنا،تم سے بڑی امیدیں ہیں“ یہ کہتے کہتے ابو کی آواز رندھ جاتی ہے اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ ابو کی آنکھیں ڈبڈبا گئی ہیں وہ آنسووں کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن آنسوہیں کہ چھپنے کا نام ہی نہیں لیتے ابو کو روتا دیکھ کر میں بھی رو دیتا ہوںتو ابو مجھے اپنے سینے سے لگا لیتے ہیں اوراپنے مفلر سے آنسو پوچھتے ہیں اورمجھے چپ کرتے ہوئے وہ مفلر میرے کاندھوں پر لپیٹ دیتے ہیں،میں سویٹر پہنا ہوا ہوں مجھے ٹھنڈ بھی بالکل نہیں لگ رہی ہے،لیکن اس کے باوجود ابو مفلر کو میرے گلے سے لپیٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں چلو کہیں بس کھل نہ جائے اور پھر ابو لمبے لمبے قدم بڑھاتے ہوئے بس کی طرف چل پڑتے ہیں ،میں بھی ان کی انگلی تھامے ان کے پیچھے چل پڑتا ہوں،سوار ہوتے ہی گاڑی فضا میں دھواں بکھیرتی ہوئی منزل کی طرف چل پڑتی ہے ،میں گاڑی کے شیشہ سے ابو ،ماموں ،بھائی جان،چچا سبھوں کو دیکھ رہا ہوں،سب اپنی اپنی باتوں میں محو ہیںسوائے ابوکہ جو دیر تک گاڑی کو دیکھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ گاڑی دور نکل جاتی ہے ، اور اب ابوبھی مری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں،لیکن دل کی نظروں سے ابواب بھی مجھے وہیں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ابو کا وہ مفلر آج بھی میرے پاس ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس میں میرے ابو، مجھ سے ٹوٹ کر پیار کرنے والے ابو کی محبتوں کے آنسو جذب ہیں۔

  ایک اور واقعہ سن لیجئے یہ بھی میرے اسکول کے زمانہ کی ہی بات ہے۔یہ یاد نہیں ہے کہ اس وقت میںکس کلاس میںتھا

 یہ گرمیوں کا موسم تھا ،ہم بچے گھر کے بر آمدے میں کھیل رہے تھے۔کہار اپنے کاندھوں پر اور آدی واسی خواتین اپنے سروں کے اوپر کچے آموں کی ٹوکریاں لئے ”آم لے لو ،آم لے لو“کی آواز لگاتے ہوئے گلی سے گذر رہے تھے۔امی نے آ م والوں کو رکوایا اور مول بھاکرنے لگی ،غالبا زیادہ مہنگے ہونے کے سبب امی نے آم نہیں خریدے۔لیکن میں نے ایک بڑھیا کی ٹوکری میں سے دو آم چرا کر چپکے سے چاول کی بوری میں چھپا دیا کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور دو چار دن میں کھانے لائق ہو جائیں گے۔لیکن یہ کیا جب دوپہر کے کھانے کے لئے امی بوری میں سے چاول نکالنے گئی تو اس میں سے دو تازے کچے آم دیکھ کر حیران ہوئی انھوں نے اندازہ لگا لیاتھا یہ صبح والے ہی آم ہیں ،خیر پوچھ گچھ شروع ہوئی کہ بوری میں آ م کس کے ہیں ،اس بابت جب مجھ سے دریافت کیا گیا تو جیسے میری زبان ہی گنگ ہو گئی ،امی کو اب ماجرا سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ آم میں نے بڑھیا کے ٹوکری میں سے بغیر اجازت لئے ہیں۔ اسوقت تک ابو بھی اسکول سے واپس آ چکے تھے۔ابو کو جیسے ہی اس بات کا انکشاف ہوا کہ شریف زادے نے آم چوری کئے ہیں۔ابو یوں بھی شروع سے ہی سخت مزاج ہیں ،ایسے موقع پر ان کا رویہ اوربھی سخت ہو جاتا ،آنکھیں سرخ ہو جاتیں ،چہرہ تمتما اٹھتا اور غصہ سے لال پیلےہو جاتے۔یہ سنتے ہی انھوں نے میری وہ درگت بنائی کہ الامان و الحفیظ وہ تو اچھا ہوا امی سامنے آ گئیں ورنہ میری کیا حالت ہوتی وہ میں ہی جانتا ہوں۔ابو نے مجھے سزا سناتے ہوئے کہا کہ میں آم والے کو نہ صرف آم واپس لوٹا آں بلکہ اس سے معافی بھی مانگوں اور جب میں نے ایسا کیا تبھی انھوں نے گھر میں قدم رکھنے دیا۔اس واقعہ کے بعد سے آج تک مجھے بلا اجازت کسی کا ساما ن اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔

 ایک اور واقعہ جو آج بھی مجھے دہلا دیتاہے ،ہم امردوتوڑنے اپنے چچیرے دادا کے یہاں گئے ہوئے تھے۔جو ہمارے گھر سے کچھ ہی دور پر تھا۔یہاں پر ہمارے دادا کی کافی زمینیں تھیں جن میں مختلف قسم کے پیڑ پودے لگے ہوئے تھے ،لیکن دادا کے ہاں کے امرودوں کی کچھ بات ہی الگ تھی ،میٹھےبڑ ے بڑے خوبصورت امرود کہ دیکھ کر اچھے اچھوں کا جی للچا جائے ،ہم تو ٹھہرے بچے۔دادای اماں جھولی میں بھر بھر امرودگھر پہنچا جاتی ،لیکن جو مزا خود سے توڑ کے کھانے میں ہے وہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ایک دن دادی کے منع کرنے کے باوجود میں درخت پر چڑھ گیا اور بندروں کی طرح کبھی اس ڈالی سے اس ڈالی اور کبھی اس ڈالی سے اس ڈالی امرودتوڑتا اور کھاتا رہا، بڑا مزا آ رہا تھا۔جس درخت پر میں چڑھا تھا ٹھیک اس کے سامنے گہرا کنواں تھا مجھے اس کا اندازہ ہی نہ تھا۔اچانک ایک ڈالی ٹوٹتی ہوئی رٹ رٹ کی آواز کے ساتھ نیچے آ رہی۔نیچے جو نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کنواں خطرناک اڑدہاکی طرح منہ کھولے کھڑا ہے۔یہ دیکھتے ہی اچانک میری چیخ نکل گئی ،مجھے موت انتہائی قریب نظر آنے لگی اور ایسا محسوس ہوا جیسے میں واقعی مر گیا ،تھوڑی دیر کے لئے سانس جیسے تھم سی گئی۔مری زبان سے بس یہی نکلا”اللہ بچا لے“۔ سچ کہا کہنے والے نے ”مصیبت کے وقت خدا یاد آتا ہے “اسی لمحہ اچانک ایک دوسری ڈال میرے ہاتھ کی گرفت میں آ گئی اور میں اس کی مدد سے زمین پر صحیح سلامت اترنے میں کامیاب ہوگیا۔واقعی یہ اللہ کا کرم تھا ورنہ اس دن میں کنویں میں گر ہی گیا تھا۔آج بھی جب میں دادی کے یہاں جاتا ہوں یہ منظر نہیں بھولتا ،بدن میں کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے۔
12/aug/2012




۔۔۔مزید

نرسری میں غرباء کا داخلہ پھردرد سر



! کے ساتھ تفریق برتنے کا امکان بعید از قیاس نہیں مسلم بچوں  

محمد علم اللہ اصلاحی

                نیا سال آتے ہی دہلی کے نرسری اسکولوں میں داخلے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے اور اس سال عام طبقے کے ساتھ اقتصادی طور پر کمزور (ای ڈبلیوایس) طبقے کے بچوں کے داخلے میں بھیڑ کافی بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ محروم طبقہ میں یتیم بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس سال کئی اسکولوں نے جنرل زمرے میں آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی پیش کی ہے تاہم اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے بچوں کو مشترکہ درخواست فارم بھرناہوگا۔محکمہ تعلیم نے مختلف اسکولوں کیلئے الگ الگ درخواست دینے کے بجائے اس بار ’مشترکہ درخواست‘کی سہولت فراہم کرائی ہے۔تعلیم ڈائریکٹوریٹ کی ویب سائٹ پر مشترکہ درخواست ڈالا گیا ہے۔


                دہلی کے ایک حالیہ تعلیمی سروے میں نرسری کے داخلے میں بڑی تعداد میں درخواستوں کی بات سامنے آئی ہے۔ 2012 میں نرسری کلاسوں میں داخلے کے لیے فی عمومی نشست کے لئے 50 درخواست آئے تھے۔آئی آئی ایم میں داخلے کے لیے فی عمومی نشست پر 61 درخواست آئے تھے جب کہ یہ قومی سطح کا داخلہ امتحان ہے۔دہلی اسکول کی تعلیم نامزدگی بورڈ نے حال ہی میں نرسری کلاس میں داخلے کے لئے عمر کی حدکے بارے میں کچھ تجاویز پیش کی تھی لیکن اسے رواںتعلیمی سیشن میں نافذ نہیں جائے گا۔کافی تعداد میں بچوںکے سرپرست نرسری میں داخلے کی موجودہ نظام سے مطمئن نہیں ہےں اور اس میں ترمیم کر کے نظام کو مجموعی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی اسکولوں میں نرسری میں داخلے کے لئے سابق طالب علموں کے بچوں کو 100 پوائنٹ میں سے 15 سے 30 پوائنٹ تک دیے جا رہے ہیں جس سے بہت سرپرست غیر مطمئن ہیں۔چھ سے 14 سال کے بچوں کو مفت میں فیس اور لازمی تعلیم کا حق قانون (آرٹی ای) کے تحت سماج کے کمزور طبقے کے بچوں کے لئے 25 فیصد سیٹ رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے کے لئے اس کسوٹی کو مکمل کرنا بھی اہم چیلنج ہوگا۔قومی دارالحکومت کے اسکولوں میں نرسری میں داخلے کے لئے 15 جنوری تک رجسٹریشن کرائے جا سکتے ہیں۔داخلے کے لیے پہلی فہرست 15 فروری کو اور دوسری فہرست 28 فروری کو جاری ہو سکتی ہے۔ داخلے کے لئے بچے کی پیدائش سرٹیفکیٹ اور پتے کے ثبوت اہم دستاویزات ہیں۔ پتے کے ثبوت کے طور پرآدھار کارڈ کو قبول کیا جائے گا۔اگر بچے کا صرف ایک سرپرست ہو تو اس کے لئے پوائنٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ لڑکیوں کو بھی داخلے میں توجہ دیتے ہوئے پوائنٹ رکھے گئے ہیں، اگر والدین میں سے کسی نے اس اسکول میںپڑھائی کی ہے تو اس کے لئے بھی پوائنٹ رکھے گئے ہیں۔معزور بچوں کے لئے بھی پوائنٹ ہیں۔


                کہا جا رہا ہے کہ بچوں کا نرسری میں اےڈمیشن ماں باپ کے لئے کسی لڑائی جیتنے جیسامعرکہ ہے۔ جس میں دہلی کے تقریبا 1200 اسکولوں میں نرسری ایڈمشن کے لئے یہ جنگ شروع ہوگی اور پوائنٹ سٹم کی بنیاد پر داخلے کے عمل کو مکمل کیا جائے گا۔اس کے تحت گھر اور اسکول کے درمیان کا فاصلہ (پڑوسی)، اسکول میں پہلے سے ہی پڑھ رہے بچے کے بھائی یا بہن اورقدیم کو بنیاد بنا کربھی پوائنٹس دیے جائیں گے سرپرست پوائنٹ سسٹم کے پیچ میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسکول اس سسٹم پر اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ(تعلیم سب کے لئے قانون)کے مطابق پوائنٹ سسٹم کے تحت بچوں کے داخلے کی بات کہی گئی ہے، لیکن اسکولوں کی من مانی کی وجہ سے پوائنٹ سسٹم میں تال میل کی کمی ہے۔ مثال کے طور پر ایلکان پبلک اسکول میں نرسری کی 160 نشستیں ہیں۔ایلکان آر ٹی ای کو دھیان میں رکھتے ہوئے بھائی بہن کو 40 پوائنٹس دے رہا ہے اوربھائی کو 25 پوائنٹس دے رہا ہے۔کیمبرج پرائمری اسکول بھائی بہن کو 15 اوربھائی کو 15 پوائنٹس دے رہا ہے۔دونوں اسکول کے طریقہ کار میں فرق صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں کیمبرج اسکول اپنے پوائنٹ سسٹم کی لسٹ میں والدین کو انٹر کلچرل ہونے پر بھی 10 پوائنٹ دے رہا ہے۔ دہلی میں کئی اسکول جین مذہب کے لوگ چلا رہے ہیں، یہاں سبزی خوراور غیر سبزی خور پس منظر کے والدین کو 10 پواٹس الگ سے دےے جا رہے ہیں۔اسکولوں کے من مانے رویے پر دہلی حکومت نے یہ عذرپیش کرتے ہوئے پلہ جھاڑ لیا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے۔شاید اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ والدین کو اپنی تیاری پوری کر لینی چاہئے کیونکہ ایڈمشن بھلے ہی بچے کا ہو لیکن اصل امتحان والدین کو پاس کرنا ہے۔


                اس مرتبہ ماہرین نے تخمینہ لگاتے ہوئے قیاس ظاہرکیا ہے کہ داخلے کے فارم بیچنے سے ہی اسکول والوں کو 1200کروڑ روپے کی کمائی ہونے کا امکان ہے۔ یہ تو محض ایک اتفاق ہے ملک بھر کے تمام پبلک اسکولوں کے اعدادو شمار کو جوڑا جائے تویہ رقم بہت بڑی بنے گی۔مگر پچھلے برس پرائیویٹ سیکٹر کے ان پبلک اسکولوں میں نرسری کے مہنگے فارم بیچ کر 1 ہزار کروڑ روپے کی کمائی کی تھی لیکن اس سال یہ رقم1200 کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی اچھے پبلک اسکول میں نرسری میں بچے کا داخلہ کرنا کوئی بڑی جنگ جیتنے سے کم نہیں ہے۔ اسی لئے ابھی زیادہ دن گذرے بھی نہیں ہیں کہ والدین کو کئی بڑے اسکولوں کے چکر لگانے پڑرہے ہیں بتایا جاتا ہے کہ اپنے لاڈلوں کی خاطر سرپرستوں کی یہ دوڑ دھوپ داخلہ مکمل ہونے تک 20 ہزار سے25 ہزار روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں۔لوگوں کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ داخلہ فارم کے فروخت کا عمل کچھ دنوں کے اندر بند کردیا جاتا ہے یا پھر بہت محدود رکھے جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی معیاری اسکول میں بچے کے داخلے کےلئے ماں باپ دن رات ایک کردیتے ہیں۔لیکن شایدمنتظمین کو عام لوگوں کو پریشان کرنے میں ہی مزا آتا ہے۔


                ایک این جی اوکے سروے کے مطابق دہلی میں چھوٹے بڑے تقریباً تین ہزار پبلک اسکول ہیں جو نرسری کے داخلے کے لئے ایک پورا دستورالعمل جاری کرتے ہیں جس میں داخلے کی تمام معلومات ہوتی ہیں۔ دہلی سرکار نے حال ہی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے داخلے میں 25 فیصد سیٹیں اقتصادی طور سے پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لئے مختص کرنے کو کہا ہے۔ اس سے عام زمرے کے بچوں کے لئے داخلے میں سیٹیں محدود رہ جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ والدین کو ایک دو نہیں بلکہ کئی اسکولوں میں داخلے کے فارم پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ سروے کے مطابق دہلی پبلک اسکولوں میں نرسری اور کے جی داخلے کے فارم دہلی یونیورسٹی ،انڈین مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ، چارٹرڈ اکاونٹٹنٹ اور دیگر تعلیمی اداروں سے بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔نرسری و پری پرائمری اسکول میں داخلہ فارم کی فیس کی قیمت ہی دیکھ کر پریشان ہونے والے والدین کا درد سر یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ فارم جمع کر نے کے بعد بھی انھیں مہنگائی کی مارکئی طرح سے جھیلنی پڑ تی ہے۔ قسطوں میں فیس کی ادائیگی تو تب بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن کئی اسکولوں میں یکمشت فیس جمع کرانے کی جو شرط مقرر ہے ،وہ والدین کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ نرسری کلاس بھلے ہی چھوٹی لگ رہی ہو لیکن اس کے خرچ کسی اعلی تعلیم کے خرچوں سے کم نہیں۔ سالانہ خرچ کی بات کریں تو دہلی میں ایسے اسکولوں کی کمی نہیں جو 70 ہزار سے1 لاکھ روپے تک کی فیس وصولتے ہیں۔ اس بابت مبصرین کا یہ کہنا کہ درمیانہ طبقے کے خاندان کے لئے اتنی رقم کا انتظام کرنا بہر حال ایک مشکل امر ہوگا ۔
           

                دہلی کی سب سے بڑی اقلیت بالخصوص مسلمانوں کاایک بڑا طبقہ بھی اسکولوں کے اس رویہ کو لیکر کافی پریشان ہے ۔چونکہ عموما اس طبقہ کے ساتھ ملک کے تمام ہی معاملات میں تفریق برتا جاتا ہے، اس لئے وہ کچھ زیادہ ہی پریشان ہیں اور اپنے بچوں کی بابت چاہتے ہیں کہ انھیں ایسے اسکول میںداخلہ ملے جو ان کے بچوں کے خلاف امتیازی سلوک نہ کرتے ہوں۔یہ بیان ہندستان کے ایک انگریزی روزنامہ میں شائع’ ہیم بور ‘کر کے مضمون میں ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے اپنے ایک سروے کے حوالہ سے کہا ہے کہ” اقلیتی طبقہ سے جڑے افراد کا یہ بیان اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کے سبب والدین کے اندر بڑھ رہی لاچاری اور غصہ کے احساس پر روشنی ڈالتا ہے“۔ بہت سے لوگ اپنے ’احساس‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ نجی اسکولوں نے پہلے سے ہی طے کیا ہے کہ’بس اتنے ہی طے شدہ مسلمانوں کو لینا ہے اور مزید کوئی مسلمان نہیں لینا ہے ۔اور چونکہ گزشتہ سال بھی دہلی کے اسکولوں میں نرسری درجے میں ہوئے داخلوں کے اعداد و شمار میں مسلمان بچوںکی تعدادتشفی بخش نہیں دیکھے کوملی تھی اس لئے اس برس بھی اس طبقہ کے لوگوں کو تشویش ہے۔


                واضح رہے کہ دہلی میں آبادی کی مناسبت سے مسلمان پندرہ فیصد ہیں جبکہ انہیں گزشتہ برس صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم ہی داخلے دیے گئے تھے ۔یعنی تقریباً 92 اسکولوں میں سے 12399 سیٹوں میں صرف 208 مسلم بچوں کو داخلے دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ 20 اسکولوں نے تو کسی مسلم بچے کو داخلہ ہی نہیں دیا جبکہ 17 اسکولوں نے صرف ایک ایک مسلم بچے کو داخلہ دیا تھا۔اس وقت حکومت نے انکوائری کرانے اور آئندہ ایسی غلطی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آج تک یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا ؟کیا اس بار بھی ایسا ہی ہوگا؟یہ ایک اہم سوال ہے۔بارہا چونکہ یہ دیکھا اور محسوس کیاجاتا رہاہے کہ ملت کے غمخواروں کی نینداُس وقت ٹوٹتی ہے،جب وقت گزرچکا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک بار پھر ملی قائدین داخلہ کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچ جانے کے بعد خواب غفلت سے بیدار ہونگے تو اس میں حیرانکردینے والی کوئی بات نہیں ہوگی۔
alamislahi@gmail.com




۔۔۔مزید

ہفتہ، 29 دسمبر، 2012

مدرسة الاصلاح .......ایک تحریک ایک تنظیم


مدرسة الاصلاح :ایک تحریک ،ایک تنظیم      
 نشاة ثانیہ اور کھوئے ہوئے وقارکی تلاش 
 محمد علم اللہ اصلاحی 
نئی دہلی 
          انیسویں صدی بر صغیر میں مسلم اقتدار کے زوال کے بعد کی صدی تھی ۔ مغل حکومت کے اختتام اور بر طانوی سامراج کے استحکام نے مسلم معاشرے کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دئے تھے ،اقتدار سے محرومی نے جہاں ایک طرف شکست خوردگی کی ذہنیت کو جنم دیا وہیں بہت سی معاشرتی برائیاں بھی در آئیں ۔جہالت ،بدعات اورمشرکانہ رسوم مسلم معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی تھیں ۔اعظم گڈھ کا دور افتادہ علاقہ ان مسائل سے کچھ زیادہ ہی متاثر تھا ۔چنانچہ یہاں کے کچھ حساس اور درد مند افراد نے اس صورتحال کی اصلاح کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور مولانا محمد شفیع کی قیادت میں اس مقصد سے ایک انجمن” اصلاح المسلمین“ کی بنیادرکھی گئی۔ اصلاح معاشرہ کے میدان میں اس تنظیم کی ناقابل فراموش خدمات ہیں ۔جب انجمن کی طرف سے کام شروع ہوا تو لوگوں کو یہ شدت سے محسوس ہوا کہ دعوت دین اور اصلاح ملت کے ساتھ ہی ایک دینی مدرسہ کا قیام بھی بہت ضروری ہے جس سے نونہالان قوم کو مذہب اسلام کی تعلیم دی جا سکے اور انہیں مسلکی اور گروہی عصبےت سے پاک خالص اسلامی افکار ونظرےات کا حامل بنایا جا سکے۔

 اس وقت تک اعظم گڑھ یا اس کے آس پاس کے علاقہ میں کوئی قابل ذکر تعلیمی ادارہ نہیں تھا بلکہ یہاں کے لوگوں کوعلم کے حصول کے لئے شہر جونپور کا رخ کرنا پڑتا تھا جو اپنی علمی حیثیت کے لحاظ سے شیرازہند کے لقب سے سرفراز تھا۔ اس لئے1908ءمیں باضابطہ طور پرانجمن اصلاح المسلمین کے نام پر مدرسہ اصلاح المسلمین کا قیام عمل میں آیا جو آگے چل کر مدرسة الاصلاح ہوگیا۔ اس مدرسے کے قیام کے کچھ ہی دنوں بعد یعنی 1910ء یا 1911ء میں مولانا محمد شفیع بانی مدرسہ کی دعوت پر مورخ اسلام علامہ شبلی نعمانی نے اس کی سر پرستی اور علامہ فراہی نے علامہ شبلی کی تجویز اور مشورہ پر اس کی نظامت سنبھالی اوراس کی بنیادی شکل بھی تیار کی جس کی تصدیق علامہ فراہی کے نام علامہ شبلی کے خط سے ہوتی ہے:"کیا تم کچھ دن سرائے میر کے مدرسہ میں قیام کر سکتے ہو میں بھی شاید آں اوراسکا نظم و نسق درست کر دیا جائے اسکو گروکل کے طور پر خالص مذہبی مدرسہ بنایا جائے یعنی سادہ زندگی اور قناعت اور مذہبی خدمت مطمح نظر ہو"۔
(شبلی، ۲اپریل1910) 

          چنانچہ ان نابغہ روزگارشخصیتوں نے مدرسہ کا انتظام و انصرام صحیح کیااور وقفہ وقفہ سے یہاں آکر اس کا جائزہ بھی لیتے رہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے تو ندو ة سے مایوسی کے بعد مدرسة الاصلاح اور دارالمصنفین کو اپنی تمام ترعلمی،عملی اور تعمیری کوششوںاور کاوشوں کا مرکز بنا لیا جیسا کہ شبلی نعمانی امام فراہی کے نام اپنے ایک خط میں شبلی نیشنل کالج کا مختصر ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:"بحث یہ ہے کہ ہماری قومی قوت سرائے میر پرصرف ہو یا اعظم گڑھ پر دونوں کے قابل قوم نہیں ہے ۔کم سے کم یہ کہ دونوں کی جداگانہ پوزیشن قائم ہونی چاہئے اور ان کا باہمی تعلق بھی، کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ،ان میں سے ایک کو مر کزبنا کر اسی کو دینی و دنیاوی تعلیم کا مرکز بنایا جائے ۔یہیں خدام دین بھی تیار ہوں اور مذہبی اعلی تعلیم بھی دلائی جائے ،گویا گر و کل ہو ۔تم اپنی رائے لکھو ۔ندوة میں لوگ کام کرنے نہیں دیتے تو اور کوئی دائرہ عمل بنانا چاہئے ہم سب کو وہیں بود وباش اختیار کرنی چاہئے ،ایک معقول کتب خانہ بھی وہاں جمع ہونا چاہئے اگر تم عزم و جزم موجود ہو تو میں موجود ہوں".
( 23اکتوبر عیسوی1913 شبلی ،)

                   حالات کے اس پس منظر میں علامہ شبلی نعمانی علی گڑھ کے بعد ندوہ کو خیر باد کہہ کر 1914ءمیں اپنے وطن اعظم گڑھ واپس لوٹ آئے اور مدرسة الاصلاح اور دار المصنفین پر توجہ مرکوز کر دی، ان کے وہ خواب جو ندوة میں شرمندہ  تعبیر نہ ہوسکے تھے، مدرسة الاصلاح کا مجوزہ منفردنظام تعلیم ان کی تعبیربن کر سامنے آنے والا تھا ، لیکن یہاں پہنچنے کے بعد ان کی زندگی نے وفا نہیںکی اور اپنے بعد اس خاکہ میں رنگ بھر نے کام اپنے خاص عزیزوںاورشاگردوں کے لئے چھوڑ کر دسمبر 1914ء میں ہمیشہ کے لئے اس دار دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔

                   علامہ شبلی نعمانی کے انتقال کے بعد ایک طرف دارالمصنفین کی ذمہ داری علامہ سید سلیمان ندوی نے سنبھالی، وہیں دوسری طرف مدرسة الاصلاح کی نظامت کی ذمہ داری امام فراہی نے اپنے سر لی ۔ اور 1919ءمیں حیدرآباد کی ملازمت سے سبکدوش ہو کرمدرسة الاصلاح کو اپنی تمام تر توجہات کا مرکز بنا لیا۔ یہاں کے اساتذہ اور درجات علےا کے طلبہ کو ہفتہ میں چند دن درس دیاکرتے ،مدرسہ کے لئے قدیم درس نظامی سے ہٹ کر ایک جامع نظام تعلیم اور مناسب حال نصاب تجویز کیاجس میں قرآن مجید تمام علوم و فنون کے محور کے طور پرتسلیم کیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ طلبہ میں وسیع علم اور تحقیقی صلاحیت کے ساتھ کمال درجہ کا اطمینان و صبر، تقوی اور للہےت اور عمدہ کرداروصفات بھی پیداہو سکےں اور اس طرح اپنی ساری سوچ اور علمی توانائی صرف کرکے انہوں نے اس بنجر زمین میں مولانا محمد شفیع کے لگائے ہوئے پودے کو ایک تناور درخت کی صورت دی ،اس پاکیزہ درخت کی مانند جس کی جڑ ےں(زمین میں) مضبوط ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں لیکن جب اس پودے نے برگ اور بارلانا شروع کیا تو اس کا مالی اس چمنستان سے جداہو کر دور بہت دور اپنے آقا کے جوار میں پہنچ گیا۔

          امام فراہی کی وفات کے بعد ان کے قابل اور لائق شاگردوں مولانا اختر احسن اصلاحی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے تشنہ تکمیل کاموں کو مکمل کرنے کی ذمہ داری سنبھالی اور شاگردی کا حق ادا کردیا،علمی دنیا تا ابد ان کے علمی کارناموں سے حظ اٹھاتی رہے گی۔ ایک نے علمی فکری وراثت سنبھالی اور ان کے نامکمل کی ترتیب اور ترجمہ و اشاعت کےلئے کاموں کو آگے بڑھایا تو دوسرے نے علم کے ساتھ شخصیت سازی پر توجہ دی۔امام فراہی کی غیر مطبوعہ تصانیف کی گیا 1935ءمیں مدرسہ الاصلاح میں دائرہ حمیدیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیااس کے علاوہ اس ادارہ سے اردومیں" الاصلاح"کے نام سے ایک معیاری رسالہ شائع کیا گیا تا کہ اردو دا ں طبقہ کو بھی امام فراہی کے نظریات اور خیالات سے واقف کرایا جا سکے۔ رسالہ نامساعد حالات کی وجہ سے کچھ سالوں میں ہی بند ہو گیا لیکن ادارہ بہر صورت کام کرتا رہا اور آج بھی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

          مدرسة الاصلاح کا نشان امتےاز قرآن مجید کی محققانہ تعلیم،حدیث کے ساتھ فقہ مقارن اور دینی کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی تعلیم بھی ہے ۔ یہ ہندوستان کا وہ ممتاز ادارہ ہے جس مےں طلبہ کیلئے عصری تعلیم لازم قرار دی گئی اورآج بھی یہاں کے نصاب تعلیم مےں انگریزی، ہندی، جغرافیہ، تاریخ، سیاسیات، اور اردوو فارسی کے علاوہ معاشیات، سماجی سائنس ریاضی، علم طبعیات،علم کیمیا اوراورحیاتیات جےسے عصری علوم کی بھی تعلیم دی جا رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہاں کے طلبہ جدید دانش گاہوں میں بھی حصول تعلیم کی اہلیت سے مکمل طورپرمتصف ہوکر فراغت حاصل کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین آج کئی جدید اداروں میں بڑے عہدوں پر بھی متمکن ہیں ۔مدرسة الاصلاح اےسا علمی افق ہے جس پر طلوع ہونے والا ہر ستارہ اپنے علم کی روشنی سے اےک عالم کو تابندہ کرتا رہا ہے اور ےہ سلسلہ تاحال قائم ہے،تاہم اب پہلی باتےں نہےں، جہاں مرور ایام سے بڑ ی بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں،تعلیم وتعلم کا ذوق بھی پھکا پڑ چکاہے جس کا ہر کسی کو احساس ہے، بس اس کے تسلیم کرلےنے اور تلافی مافات کی ضرور:ت ہے 

                                      کیسی وفا  و  الفت   کھاتے   عبث  ہو  قسمیں
                                      مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری  رسمیں
(میر تقی میر)

قلق تو ان اقدار کی پامالی کا ہے جن کی پاسبانی میں مدرسة الاصلاح ممیز تھا، ہم اپنے زخم اس لئےکریدتے ہیں تاکہ زخمی ہونے کا احساس زندہ اور علاج کی ضرورت محسوس ہوتی رہے،مدرسة الاصلاح کی تحریک ایسے مقام پر آپہنچی ہے کہ اب اس کی نشاة ثانیہ اوراس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانے کی ضرورت ہے اوریہ اسی وقت ممکن ہے جب مدرسہ کے تعلیمی وتربیتی نظام کا از سر نو جائزہ لے کر اصلاحات کے لئے اقدام کیا جائے۔
رابطہ کا پتہ:
alamislahi@gmail.com

۔۔۔مزید

غربت کو مٹانے کی مہم ہوگئی الٹی



دہلی کے غریبوں پر حکومت کی نمک پاشی 

مہنگائی کا طوفان روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔عام بازار میں آٹا، چینی، گوشت، دودھ ،دہی، سبزیاں اور گھی اور تیل سب ہی کچھ مہنگا ہوتا جارہا ہے، ڈیزل پیٹرول اور اب گھریلو استعمال کی گیس کے نرخ بڑھادیئے گئے ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف دالیں سو روپے سے بھی زیادہ کی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔سی این جی بھی دو گنا تک مہنگی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تکلیف دہ بجلی کاعذاب اور گیس کا کم پریشر گھریلو خواتین کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔بسا اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو ان عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن دوسری جانب حکمراں طبقہ ہے،جو اپنی تمام تر توانائیاں صرف اپنی ضروریات پر خرچ کرتا نظر آرہا ہے، اس طبقہکے اخراجات میں کسی قسم کی کمی نہیں آرہی ہے۔ اس مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ یامہنگائی سے نجات کیلئے کسی بھی قسم کی رعایت کا امکان معدوم ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ذمہ دار فرد کی جانب سے اس قسم کا بیان آ جائے کہ” پانچ ارکان کے غریب خاندان کے لئے 600 روپے مہینہ کافی ہے۔ یعنی ایک دن میں ایک آدمی کا کام صرف چار روپے کے اناج میں چل سکتا ہے“۔تو لوگوں کی کیا کیفیت ہوگی ؟ظاہر ہے یہ ان کے زخموں پر نمک پاشی اور ان کے جذبات کو مزید بھڑکانے والی بات ہوگی ۔

شاید اسی وجہ سے عوام دہلی کی وزیر اعلی کے اس بیان کو بحث کا موضوع بنائے ہوئے ہیں اور ہر خاص و عام میں گزشتہ سنیچر کو خوراک سری منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر شیلا کے اس بیان کو ان کی لاعلمی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔واضح رہے کہ اس موقع پر یو پی اے چیر پرسن سونیا گاندھی بھی موجود تھیں جس میں شیلا نے یہ بھی کہا تھا کہ دال، روٹی اور چاول کے لئے غریب خاندان کے لئے 600 روپے کی کیش سبسڈی کافی ہے۔ شیلا نے جب یہ بیان دیاغور طلب ہے کہ دہلی میں شروع ہونے والے اس اسکیم کے تحت ضرورت مندخاندان کو ہر ماہ 600 روپے راشن خریدنے کے لئے دیئے جائیں گے، جو براہ راست خاندان کی خاتون رکن کے بینک اکاو ¿نٹ میں ٹرانسفر کر دیے جائیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ 25 لاکھ لوگوں کو ملے گاتاہم ان سب کے باوجود اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں نے شیلا کے بیان پر سخت اعتراض کیاہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کس طرح اور کس حساب سے شیلا دکشت نے کہہ دیا کہ 5 ارکان پر مشتمل خاندان میں 600 روپے کافی ہے، کیا 5 ارکان والے گھر کے لوگ پانی پی کر رہتے ہیں اور ہوا کھا کر زندگی گزار دیتے ہیں، کیا اس گھر کے لوگ کبھی بیمار نہیں ہوں گے، وہ لوگ رہیں گے کہاں؟ ۔

بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کہا کہ پانچ سے سات افراد کے خاندان میں مہینے کا راشن 1000 سے 3000 روپے کے درمیان آتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ایک غریب خاندان کے لئے 600 روپے کافی ہیں تو بیماری، رہائش کے مسائل اور مہنگائی میں گزارا کیسے ہوگا۔ 600 روپے صرف ایک سہارا بھر ہے۔ نہیں سے اچھا ہے کہ کچھ تو ملے گا۔ گنگا دیوی نے کہا کہ وہ ہر ماہ راشن پر ،000 3روپے خرچ کرتی ہیں پھر 600 روپے میں کیا ہوگا؟منصوبہ کو شروع کرنے کے موقع پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیاد کارڈ سے وابستہ ہوگا اورپی ڈی ایس اسکیم سے الگ ہوگا۔ سونیا گاندھی نے اناج سری اسکیم نافذ کرنے کے لئے دہلی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پیسہ ضرورت مند خاندان کی خاتون رکن کو ملے گا۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یو پی اے اور کانگریس کی حکومت غریبوں کو کھانا دینے کی گارنٹی کو لے کر سنجیدہ ہے اور جلد ہی پارلیمنٹ میں فوڈ سیکورٹی بل پیش کیا جائے گا۔

کانگریسی رہنماں کے ان باتوں میں کتنا دم ہے اس کا اندازہ ہم ان دو امیر زادوں کے بیان سے لگا سکتے ہیں جنھوںنے گزشتہ دنوں 100 روپیہ یومیہ میں زندگی بسر کرنے کا کربناک تجربہ کیا ہے۔ ایک نوجوان کا تعلق ہریانہ سے ہے جو ایک اعلیٰ پولیس افسر کا بیٹا ہے ، اس نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے جب کہ دوسرا نوجوان کم عمری میں ہی اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلاگیاتھا۔ گزشتہ دنوں ان دونوں نوجوانوں نے یو آئی ڈی پروجیکٹ میں شرکت کی تھی اور یہاں ساتھ رہنے لگے تھے، دونوں نے ایک دن یہ فیصلہ کیاکہ کیوں نہ ہم ایک ہندوستانی کی اوسط آمدنی پر ایک ماہ گزار کر ہندوستانی عوام کی زندگیوں کو عملی طورپر سمجھنے کی کوشش کریں۔ انھوںنے اس دوران پایاکہ اب وہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ اس ادھیڑبن میں گزارتے تھے کہ دو وقت کے کھانے کا انتظام کس طرح کریں۔ اب ان کی زندگی کا دائرہ بہت محدود ہوگیاتھا۔ سستی غذائی اشیا کی تلاش ان کا روزمرہ کا معمول بن گیاتھا، بس کاسفر پانچ کلومیٹر سے زائد کا نہیں کرسکتے تھے۔ بجلی کا استعمال بھی بمشکل پانچ چھ گھنٹے ہی کرپاتے تھے اور نہانے کاایک صابن دونوں لوگ آدھا کاٹ کر استعمال کرتے تھے۔ گویا ان کی زندگی انتہائی مشکلات کاشکار ہوگئی تھی۔ جب کہ سوروپے یومیہ خرچ کرتے تھے۔ اب ذرا ہم ان 80 فیصد ہندوستانی عوام کی زندگی پر نگاہ ڈالیں جن کی آمدنی محض بیس روپے روزانہ ہے اور ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق شہروں میں 32روپے یومیہ اور دیہی علاقوں میں 26 روپے یومیہ خرچ کرنے والے افراد کو غربت کے دائرے سے باہر رکھاگیا ہے۔ ان کی زندگیاں کس طرح گزررہی ہیں،اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔؟ یہ تو ایک واقعہ ہے جس نے ہندوستانی غریب عوام کی زندگی کی صرف ایک جھلک بھر دکھایا ہے ۔

گزشتہ دنوں قوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ہندوستان کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے جبکہ افریقہ کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ غریب ایشیائی ممالک یعنی ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔خود حکومت کی تشکیل کردہ تیندولکر کمیٹی نے پنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کی آبادی کا37 فیصد حصہ انتہائی غربت کے زمرے میں آتا ہے لیکن یو این ڈی پی نے غریبوں کا تعین کرنے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ ٹینڈولکر کمیٹی اور منصوبہ بندی کمیشن کے طریقوں سے مختلف ہے۔ادارے نے آمدنی کے علاوہ حفظان صحت، تعلیم اور معیار زندگی کو بھی مد نظر رکھا ہے اور اس بنیاد پر غربت کا کثیر جہتی اشاریہ تیار کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انڈیکس سے ملک میں غربت کی ایک واضح تصویر ابھر کرسامنے آتی ہے جو صرف آمدنی کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔اس اشاریہ کے مطابق دنیا کے 10 غریب ترین ممالک تو افریقہ میں ہیں لیکن اگر کسی ایک ملک میں کل تعداد کی بات کی جائے تو دنیا کے سب سے زیادہ غریب جنوب ایشیائی ممالک یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔

لیکن ان سب کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے حالات میں تبدیلی نہ لانے کی ٹھان لی ہے تبھی تو ہم آئے دن یہ سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں نے فلاں جگہ پر کھانا نہ ملنے کے سبب دم توڑ دیااور مناسب تغذیہ نہ ملنے کے سبب بیماریوں کا شکار بن گیا۔ایسے مصیبت زدگان کی کہانیاں تو آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیںلیکن اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ سرکارغربت کے شکار افراد کے احساسات کو سمجھنے ،ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے نئے شوشے چھوڑ کر عام لوگوں کے زخموںپر نمک پاشی کا کام کر رہی ہے ؟حالانکہ جمہوری ریاست کے پھلنے پھولنے میں اہم محرک عوام کے حقوق کی فراہمی ہے جمہوریت کے ثمرات صرف محدود طبقات تک نہیں بلکہ عام آدمی کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے ورنہ عام آدمی یہی کہنے پر مجبور ہوگاکہ 
     غربت  کو  مٹا نے   کی   مہم   ہو گئی   الٹی 
گھر کوئی  بھی  مہنگائی  سے  بچتا نہیں لگتا
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اب الجھنیں بے باک 
تبد یلی   کوئی   آئے  گی   ایسا    نہیں   لگتا

http://dawatonline.com/Page4.aspx
MD Alamullah Islahi 
alamislahi@gmail.com


۔۔۔مزید

منگل، 13 نومبر، 2012

کانگریس کی ریلی یا شکتی پردرشن


 کانگریس کی ریلی یا شکتی پردرشن
محمد علم اللہ اصلاحی

دو ہزار چودہ کے الیکشن کی نوید سنائی دینے لگی ہے۔سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے انداز میں عوام لو لبھانے کے لئے ہاتھ پا?ں مارنے لگے ہیں۔ اس کے لئے جہاں نئی نئی اسکیموں کا اعلان ہو رہا ہے ،وہیں ریلی اور جلسہ و جلوس کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔اتوار کونئی دہلی میں کانگریس اور پٹنہ میں جے ڈی یو نے ریلی منعقد کی ، وہیں دوسری طرف اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی نے یوم سیاہ بھی منایا۔ بی جے پی نے دارالحکومت دہلی میں 14 جگہ عوامی جلسہ کاانعقاد کیا۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا تھا کہ کانگریس ایف ڈی آئی کی حمایت میں ریلی کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ عوام سمجھدار ہو چکے ہیں۔ کانگریس، عوام کو گمراہ کرنے کی جتنی کوشش کر لے وہ کانگریس کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔جبکہ دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی کانگریس کی ریلی کو عام انتخابات کی تیاریوں کابڑا آغاز تصورکیاجارہاہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے عرصے بعد دہلی میں ریلی کی اور بھیڑ کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔ ملک بھر سے کارکنوں، عہدیداروں کو دہلی بلایا اور مجموعی طور پر میڈیا اور ماہرین میں یہی رائے بنی کہ رام لیلا میدان کا شو موثر تھا۔ کانگریس کی قیادت میں یو پی اے حکومت 2004 سے مسلسل بنی ہوئی ہے۔ 2009 میں جب پھر سے یہ حکومت بنی تو کہا گیا کہ منریگا اور آر ٹی آئی قانون نے اسے دوبارہ اقتدار دلانے میں بڑا کردار ادا کیا۔مگر منموہن حکومت کادوسرا دور نہ تو اندرونی طور پر اور نہ ہی ظاہری طور پر کانگریس کے موافق رہا۔ بدعنوانی کے بڑے معاملات کے قسط وار سامنے آتے جانے سے اس کی شبیہ کو خاصا نقصان پہنچاتو وہیں حکومت کے کام کاج کو بھی نشانہ بنایا گیااور حکومت کی پالیسی سازی پر مختلف اندازمیںتنقیدشروع ہو گئی۔ ملک میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ عام انتخابات کی آہٹ دو ڈھائی سال پہلے سے ہی سنی جارہی ہے۔

اس سلسلے میں ہریانہ کے لیڈر اجے چوٹالا نے ایک دلچسپ بیان میں کہا ریلیوں سے طاقت مخالف مظاہرہ کرتے ہیں۔ کانگریس کی حکومت ہے تو وہ کسے طاقت دکھا رہی ہیں؟ منموہن حکومت کو کیوں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کے پیچھے عوام کھڑے ہیں۔ عوام ہے، تبھی تو وہ اقتدار میں ہے۔ ریلی سے بھلا حکومت کی کیاساکھ بنے گی؟کانگریس کو ریلی سے کیا حاصل ہوا؟ کیا خردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت کولوگوں نے محسوس کیا؟بلا شبہ ریلی کا مقصد یو پی اے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا تھا۔ اصلاحات کی حمایت میں سیاسی ماحول بنانا تھا۔ اس حیثیت سے کہہ سکتے ہیں کانگریس نے پوری طاقت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور چدمبرم کا حوصلہ بڑھایا ہے۔مخالف جماعتوں کو چھوڑ بھی دیں تو اس دوران عوام نے بھی بار بار سڑکوں پر اتر کر حکومت کی پالیسی میںپائی جانے والی ناکامیوں اور اس کی ترجیحات پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔ اب جب کہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت اور پارٹیوں پر الزامات کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، تو کانگریس اور اس کی قیادت والی حکومت کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ عوام کے سامنے اپنے موقف اور عزم کو مضبوطی سے رکھے۔ اتوار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس پارٹی کی ریلی کے پیچھے یہی مقصد پوشیدہ تھا۔

ریلی کے تینوں اہم مقررین نے اپنی اپنی طرح سے حکومت اور پارٹی کی پالیسیوں، کامیابیوں اور ترجیحات کو بیان کیا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ان الزامات کا بھی جواب دے رہے تھے، جو اس دوران ان پر لگے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بار اقتصادی اصلاحات جاری رکھنے کے قول و قرارکااعادہ کیا اور کہا کہ وہ ہر طرح کے احتجاج اور رکاوٹ کے باوجود اس کے لیے مسائل کا حل تلاش رہے ہیں۔ حکومت کے کچھ فیصلوں کو عام لوگوں کے لئے سخت مانتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے کئی بار ایسے ناخوشگوار فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے دیگر مقررین کے مقابلے میں اپنی بات مزیدمضبوط طریقہ سے رکھی۔ انہوں نے جہاں بدعنوانی کو ملک کے لئے ناسور قرار دیا، وہیں یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت لوک پال بل سمیت وہ تمام اقدامات ضرور کرے گی جس سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اپنی باتیں کہتے ہوئے وہ یہ بتانا بھی نہیں بھو ل سکیں کہ ملک کے غریب اور محروم طبقوں کے اعتماد کے بدولت ہی ان کی پارٹی ہمیشہ کامیاب ہوتی رہی ہے اور اب بھی ان کا دل گاو ¿ں سماج کے عام لوگوںپر لگا ہوا ہے اور کانگریس ان کے حق میں کسی بھی دوسرے کی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ اعتماد کے ساتھ کھڑی ہے۔

مطلب کانگریس نے ریلی کے ذریعہ سیاسی پیغام دیا ہے۔ ریلی کا انعقاد راہل گاندھی کی نئی ذمہ داری کی حیثیت سے بھی اہم ہیں۔ کچھ رہنماو ¿ں کے مطابق ریلی کو کامیاب بنانے کے پیچھے راہل گاندھی کی آمد کا مقصد بھی تھا۔ کیا ریلی سے راہل گاندھی کا پروجیکشن بنا؟رام لیلا میدان میں منعقدہ کانگریس کی ریلی تمام تنازعات، الزامات کی پس منظر میں ہوئی۔ اس حیثیت سے اپوزیشن اورناقدین کوجواب دیا جانا فطری تھا۔اس سے کانگرےس کی دھند ختم ہونی چاہئے تھی۔ پارٹی اور حکومت دونوں کو لے کرعام لوگوں میں جو رائے بنی ہے وہی ریلی کی کامیابی یا ناکامی ہے۔ڈھنگ سے کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت کو ریلی کر کے نہیں پارلیمنٹ میں اپنی طاقت دکھانی ہے۔ پارلیمنٹ کے سرما سیشن میں کانگریس اور حکومت دونوں کی طاقت کا امتحان ہونا ہے۔ سی پی ایم لیڈر پرکاش کرات نے چیلنج کیا ہے کہ اگر حکومت میں دم ہے تو وہ خردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دینے کی تجویز کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کےلئے رکھے۔لیفٹ کے اس طرح خم ٹھونکنے کی واجب وجوہات ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن سے پہلے دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس نے ریلی کر کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر خزانہ پی چدمبرم کے تئیں اپنی حمایت دکھادی۔ سونیا اور راہل گاندھی نے منموہن چدمبرم کی اقتصادی پالیسیوں کو غیر مشروط حمایت کی۔ساتھ ہی کیرل کو چھوڑ کر کانگریس کی حکمرانی والی تمام ریاستوں سے بھی حمایت دینے کی بات کہی گئی ہے۔اس سے پارلیمنٹ کے سرما ئی سیشن کا ایجنڈا طے کیا گیا ہے۔کانگریس نے آرپار کی لڑائی کا موڈبنایا ہے۔ اس ریلی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کانگریس اور اس کی حامی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر آئیں گی۔

ریلی میں جتنی بھیڑ نظر آئی اس سے کانگریس کی طاقت دیکھ کر اتحادی پارٹیوں کے دل میں سے یہ بھرم نکل سکتا ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے سبب کانگریس کمزور ہوئی ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس ریلی نے بکھرے ہوئے حزب اختلاف کو بھی متحد ہونے کاموقع دے دیا ہے۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں میں حکومت کو کوگھیرنے کے لئے متحدہ کوشش کی شروعات ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کا مقابلہ کانگریس اور یو پی اے حکومت کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔ اب تک کانگریس حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان کے اختلاف کا فائدہ لیتی رہی تھی۔اس ریلی کا ایک مقصد تو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو پارٹی کی حمایت دلانا تھا۔ لیکن دوسرا مقصد کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو بڑے کردار میںپیش کرنا بھی تھا۔ تاہم اس کردار کا اعلان سرکاری طور پر نہیں ہوا۔ لیکن فورم پر بیٹھنے کا انتظام اور تقریر کرنے کے سلسلے سے یہ طے ہو گیا کہ پارٹی میں سونیا گاندھی کے بعد راہل ہی ہیں۔ کانگریس کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ اس ریلی میں راہل گاندھی کی پالیسیوں پر اپنی رائے کانگریس کارکنان سے شیئر کریں گے۔اس لحاظ سے راہل اتنے موثر نہیں نظر آئے۔ اتنی بڑی ریلی کے لحاظ سے جیسی تیاری ہونی چاہئے تھی ویسی تیاری راہل کی نہیں دکھائی دی۔ اب کانگریس کے کئی لیڈران کا کہنا ہے کہ نو نومبر کے ڈائیلاگ سیشن میں راہل اپنی بات مزید قائد ے سے رکھیں گے۔

بہرحال رام لیلا میدان کی ریلی میں مقررین نے جو تقریر کی اس سے حکمت عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر ان کی مشکوکیت ظاہر ہوئی۔ ایک طرف وہ معاشی اصلاحات اور مہنگائی کا دفاع کر رہے تھے تو دوسری طرف اروندکیجریوال کی طرح نظام پر حملہ بھی۔ انہوں نے ساری بد انتظامی کا الزام موجودہ نظام کو دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام انہی کی پارٹی چلا رہی ہے اور وہ جن لیڈروں کا دفاع کر رہے تھے وہیں لوگ نظام کو چلا رہے ہیں۔کانگریسی لیڈروں کی تقریر سے ایسا لگا کہ وہ پارٹی اور حکومت چلانے کی عملی مجبوریوں کے ساتھ بھی ہیں اور این جی او کی ذہنیت والے اپنے کچھ مشیروں کے اثر میں بھی ہیں۔ اس لئے کبھی وہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور مہنگائی کے سبب مچی افرا تفری کا دفاع کر رہے تھے تو کبھی موجودہ نظام کو تمام مسائل کی جڑ قرار دے رہے تھے اور اس کو تبدیل کرنے کی بات کر رہے تھے۔ کانگریس جنرل سیکریٹری راہل گاندھی کا زور کانگریس کارکنان اور نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور تنظیمی سطح پر پارٹی کو مضبوط کرنے پر تھا۔ وہ اپنی اس سوچ کو نظام میں تبدیلی کی ضرورت سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے تھے۔ کانگریس کے ان تینوں لیڈروں کی باتیں سن کر ایک بات تو ضرور یہ کہی جا سکتی ہے کہ ملک کی سب سے پرانی پارٹی نے اپوزیشن کے حملوں اور تمام چیلنجوں سے گھرنے کے باوجود اپنا وہ حوصلہ ابھی نہیں کھویا ہے جس کے بل پر اگلے ڈیڑھ سال اسے حکومت چلانی ہے اور پھر انتخابی میدان میں اترنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس حوصلے کے جوش کو ایک بارگی نہیں بلکہ ہمیشہ ظاہرکرتے رہنا ہوگا بات تب ہی بنے گی۔لیکن بدقسمتی سے سیاست میں یہ دونوں اسٹینڈ ایک ساتھ نہیں چلیں گے راہل کو ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا۔
(Md Alamullah Islahi, Delhi)
 






۔۔۔مزید

پیر، 12 نومبر، 2012

دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی



دنیا کے ترقی پذیر شہروں میں 
نچلی سطح پر دہلی اور ممبئی
محمد علم اللہ اصلاحی 
ہمارے یہاں ہندوستان میں بہت ساری کمیوں اور خامیوں کے باوجود اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا روج ختم نہیں ہو رہا ہے ۔شاید اسی وجہ سے جب ہمیں کوئی شیشہ میں ہمارا چہرہ دکھا بھی دیتا ہے تو ہم اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ آئینہ دکھانے والے کو ہی برا بھلا کہ دیتے ہیں حالانکہ کہیں نہ کہیں اس میں صداقت بہر حال ہوتی ہے اور اس کو مان لینے سے اصلاح کے امکانات بھی باقی رہتے ہیں نیزیہ کہ حقیقت کاسامناکرنے سے ترقی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن ہم میںحقیقت سے آنکھیںملانے کی ہمت ہی نہیں ہے!اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اور ہمارا ملک ترقی کے نام نہاد نعروں کے درمیان مزید تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔اس کا انکشاف ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے جس میں اس عالمی ادارہ نے نئی دہلی اور ممبئی کو خوشحالی کی طرف جا رہے دنیا کے 95 شہروں کی فہرست میں ناکام اور سست رو بتایا ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہاں ماحولیات کی بدحالی، عدم مساوات، خراب انفراسٹکچر،پراڈکٹی وٹی ،لائف اسٹنڈرڈانتہائی پست ہے ۔اس رپورٹ کو پڑھتے ہی مجھے آج سے دو دہائی قبل میر تقی میر کا کہا ہوا کلام یاد آنے لگا جب انھوں نے دہلی سے عاجز آکر لکھنو ¿ جاتے وقت کہا تھا 
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویرانہ کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
اقوام متحدہ نے اسی اجڑے دیار کی کہانی اور اس کی حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے جو تمام تر ناکامیوں کے باجود ان شہروں کو پیرس اور لندن سے بھی زیادہ خوبصورت بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔حالانکہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے خوشحالی کی طرف بڑھتے دنیا کے 95 شہروں میں دہلی اور ممبئی کا نام ہر ہندوستانی کےلئے خوشی کی بات ہے۔لیکن ساری خوشیاں اس وقت کافور ہو جاتی ہیںجب بات ماحول کی اٹھتی ہے تو دہلی سب سے نچلی سطح پر کھڑا نظر آتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم بھلے ہی ہریالی کے کتنے ہی دعوے کر لیں، سچائی یہی ہے کہ ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کی امیروں کے شہروں کی فہرست میں دہلی اور ممبئی کو جگہ ملنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ اس فہرست میں دہلی کا مقام 58 واں اور ممبئی کا نمبر 52 واں ہے۔جبکہ پانچ سب سے اچھے شہروں میں ویانا، نیویارک، ٹورنٹو، لندن اور اسٹاک شامل ہے۔ حیدرآباد کو جہاں میڈیسن دارالحکومت کے طور پر تعریف کی گئی ہے وہیں آئی ٹی کی وجہ سے بنگلور کو کافی بہتر پایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انفراسٹکچر بڑھانے کےلئے ہندوستانی شہروں پر کافی پیسہ خرچ ہوا ہے، لیکن ان کی ترقی زیادہ گاؤں کی قیمت پر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دہلی کا مقام ممبئی سے کافی پیچھے ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں میٹروپولیٹن شہر خراب بنیادی ڈھانچے اور ابترماحولیاتی حالات کی وجہ سے چین کے بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں سے بھی کافی پیچھے ہیں۔اقوام متحدہ نے جن پانچ بنیادوں پر دنیا کے مختلف شہروں کا تجزیہ کیا و ہیں پیداوار، معیار زندگی، بنیادی ڈھانچے، ماحولیات اور مساوات جیسے مسائل شامل ہیں یہاں پر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ان پانچوں معیار میںصرف بنگلہ دیش اور نیپال ہی دلی ممبئی کے پیچھے آئے ہیں اور باقی سب ہمارے دونوں شہروں سے اوپر ہیں۔دل والوں کی دہلی اورعروس البلاد ممبئی ایشیا کے کئی شہروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔دہلی کو ماحول کے نام پر ہی 95 شہروں میں سب سے کم 0 448.نمبر ملے ہیں۔ آلودگی کے معاملے میں دہلی کی صورتحال صاف نہیں ہے لیکن ممبئی کو ماحولیات کے معاملے میں کافی بہتر کیا گیا ہے ۔ممبئی کو اس کےلئے درجہ بندی میں 645.0 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے معاملے، بجلی پانی جیسی ضروری چیزوں کے لئے بھی ممبئی کی جگہ دہلی سے کہیں آگے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ شہرت اور عمارت کی ترقی میں دہلی کی رفتار سست ہے۔ ماہرین کے مطابق خراب ماحول کی وجہ سے دہلی کو کافی نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے نامور 95 شہروں کے مقابلے میں دلی کی ساکھ اور اثر و رسوخ دونوں ہی کم ہوئی ہیں۔ہمارے لیڈر دہلی کو نیویارک اور ممبئی کو شنگھائی بنانے کی بات کرتے ہیں پر اس سمت میں کتنے موثر قدم اٹھائیں ہیں اس کی پول اقوام متحدہ کی رپورٹ نے کھول کر رکھ دی ہے۔مطلب یہ کہ نیویارک اور شنگھائی تک پہنچنے کے لئے ابھی لمبا سفر طے کرنا ہوگا۔ اس رپورٹ سے ایک حقیقت یہ بھی ابھر کر آتی ہے کہ ہمارے یہاں باتیں تو بہت کی جاتی ہیں پر ٹھوس اقدامات کرنے میں کہیں کوتاہی نظر اتی ہے۔رپورٹ میں ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کولکتہ، دہلی، ممبئی اور چنئی کو شامل کرنے والی بہتر اور خوبصورت منصوبے کی تعریف کی گئی ہے جو ہمارے لئے خوش آئند بات ہے۔تاہم یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے ملک میں انفراسٹکچرکی اپنی کوئی معاشی حیثیت ہی نہیں بن پائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بظاہر خوب ترقی کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ سڑکیں ذرا سی بارش میں بدحال ہو جاتی ہیں۔ عوامی سہولیات کے نام پر خواتین کے لئے ٹولےٹ کی بات تک نہیں کی جاتی۔آمدورفت کے ذرائع میں دہلی کا عالم یہ ہے کہ جن راستوں پر میٹرو کا لنک نہیں ہے وہاں ٹریفک کانظام خستہ ہے۔ وہیں اچھے پارک اور میدان کی بھی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بچے کھیلنے کی جگہ تلاشتے رہ جاتے ہیں۔ روز مرہ کی ضروریات کی چیزیں ہر جگہ ایک ہی قیمت پر اور مساوی سطح کی نہیں مل پاتیں۔ہندوستان کے پروڈکشن سینٹر جیسی دہلی اور ممبئی کی شناخت ابھی ماضی کی باتیںہوکر رہ گئی ہیں۔ زیادہ تر سامان باہر سے لا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ دہلی کی ہریالی کو لے کر کافی دعوے کئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس محاذ پر بھی یہ شہر اب کہیں نہیں ٹھہرتا۔ یہاں جس رفتار سے جنگل کاٹ کر عمارت کھڑے کئے جارہے ہیں، اس رفتار سے درخت نہیں لگائے جا رہے۔کسی اسکیم کے لاگو ہوتے وقت کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس سے جتنے درختوں کا نقصان ہوگا اتنے پھر لگائے جائیں گے، لیکن ایسا کبھی ہو نہیں پاتا۔ہماری حکومتیں اگر اس رپورٹ کو درکنار کرنے یا اس سے پریشان ہونے کی بجائے، اس کے مثبت پہلو کو سمجھنے کی کوشش کریں گی تو ہو سکتا ہے مستقبل میں ہمارے شہروں کی تصویر بدل جائے۔ملک کا دل کہی جانے والی دہلی اورعروس البلاد ممبئی بھلے ہی ہمارے ملک میں ترقی یافتہ شہر کہے جاتے ہوں پر دونوں ہی دنیا کے کئی دوسرے شہروں سے پیچھے ہیں۔ کسی شہر کی شکل بنانے میں سب سے بڑا حصہ وہاں کی اصل سوچ اور فکر کا ہوتا ہے۔یہاں پریشانی یہ بھی ہے کہ جو وسائل دستیاب ہیں، ان کا استعمال سمجھداری سے نہیں کیا جا رہا ہے۔حالانکہ اس میں ایسا نہیں ہے کہ بڑے شہروں پر پیسہ خرچ نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ پیسہ امیر علاقوں میں ہی لگ رہا ہے، غریب علاقوں کو بہتر بنانے میں یہ پیسہ نہیں لگ رہا ہے۔ پھر جس طرح سے ہمارے شہروں کی ترقی ہو رہی ہے، اس میں غریب لوگ حاشیے پر جا رہے ہیں، جہاں نہ وہ خود محفوظ ہیں اورنہ ہی مستقل روزگار کے مواقع ہی دستیاب ہیںنا بجلی، پانی، سیور، ٹرانسپورٹ جیسی ضروری خدمات۔ ممبئی کی تو آدھی سے زیادہ آبادی گندی بستیوں میں رہتی ہے۔ دہلی کی حالت اس سے کچھ ہی بہتر ہے۔ لیکن شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار اور ضروری سہولیات دلوانے کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ ہمارے شہری منصوبہ بندی میں کہیں نظر نہیں آتی۔کافی سارے مسائل تو مبینہ منصوبہ بندی سے ہی پیدا ہوئی ہیں۔ اگر شہروں میں جھگی بستیاں یا غیر قانونی کالونیاں بڑھی ہیں اور اچھے اور سستے مکانوں کا بحران ہے، تو اس کا بہت کچھ کریڈٹ حکومت یا ایسے ہی ترقی اتھارٹیوں کو جاتا ہے، جنہوں نے شہری زمین پرنا حق قبضہ کر لیا اور ضرورت کے مطابق ترقی کی کوشش نہیں کی۔ اس سے غیر قانونی تعمیرات اور روزگار علاقوں سے کئی گنا مزید بڑھ گئے۔یہاں مسائل اس لئے بھی پیدا ہوئے کہ شہروں کی ترقی کے ذرائع کے مقامی اداروں کے نہیں، ریاست یا مرکزی سطح کی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں رہے۔نتیجہ کے طور پر لیڈران کے ووٹ بینک تو دیہی علاقوں میں تھے اس لئے انہوں نے شہری ترقی کی بے اعتنائی کی اور شہروں کو صرف پیسہ اور جائیداد حاصل کرنے کا ذریعہ مانا، شہروں میں صرف خوشحالی کے کچھ جزائر بنا لئے گئے، جن میں با اثر لوگ رہتے ہیں اور بڑی آبادی کو بغیر شہری سہولیات کی گندی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ممبئی کے علاوہ دہلی اس بات کی مثال ہے کہ یہاں قدرتی وسائل کی بربادی کس طرح کی جاتی ہے۔جمنا ندی میں صرف سیور کا پانی بہتا ہے اور باقی سینکڑوںٹن پانی برباد جاتے ہیں۔ دہلی کو ریگستانی ہواؤں سے بچانے والے اراولی کے جنگل ہی نہیں پہاڑ تک کاٹ دیے گئے ۔کسی بھی شہر یا چھوٹے شہرکی ترقی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا خیال نہیں رکھا گیا، گڑگاوں یا گریٹر نوئیڈا میں آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ تقریبا نہیں ہے۔ حکومت کی اس آبادی بنام بربادی سے کچھ لوگ امیر ہو سکتے ہیں، لیکن سب کی خوشحالی صرف سمجھداری سے وسائل کے استعمال اور تقسیم سے ہو سکتی ہے، اوپر جن اچھے شہروں کے نام گنائے گئے ہیں ان کے مقامی ادارے ہمارے ملک کی طرح حکومت کی طرف سے کئے گئے پیسے پر انحصار نہیں کرتے ہیں ۔ ان کا اپنا آزاد اقتصادی بنیاد ہوتا ہے ۔آج ضرورت ہے کہ معیار زندگی اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بہتر بنایا جائے،یہی اس رپورٹ کا ہندوستان کے لئے پیغام ہے۔
     (Md Alamullah, Delhi)  


۔۔۔مزید

پیر، 22 اکتوبر، 2012

اسمگلروں کے چنگل میں بچپن



اسمگلروں کے چنگل میں بچپن 
محمد علم اللہ اصلاحی

بچے کسی بھی ملک اور قوم کا مستقبل ہیں،انھیں کے دم سے کائنات کی خوبصورتی اور رونق ہے شاید اسی سبب انہیں جنت کے پھو ل بھی کہا گیا ہے اور چونکہ ملکوں اور قوموں کا عروج وزوال قوموں کی مجموعی صورت حال اور ان کی اخلاقی صفات سے ہوتاہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچے قوموں کی تعمیر و ترقی میں سب سے اہم اورمرکزی کردار ادا کرتے ہیںمگرآج معاملہ بالکل اس کے بر خلاف ہے بلکہ نسل انسانی کے اس مخلوق کے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی نارو سلوک کیا جا رہا ہے روزانہ ان معصوم بچوں کے ساتھ برا سلوک ،زیادتی، جنسی استحصال ،مار پیٹ ،تشدد کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے ۔حالانکہ ایسے رویوںپر لگام کسنے کیلئے سخت قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم میںکوئی کمی ہونے کی بجائے اس میںمزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔یہ اضافہ ساری دنیا میں ہو رہا ہے جس نے حقوق انسانی کی تنظیموں سمیت ہر ایک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بچوں سے جڑے جرائم کچھ زیادہ ہی ہو رہے ہیں ۔یہ اطلاع ابھی حال ہی میں عدالت عظمی نے ایک فیصلہ کے تناظر میں دیا ہے عدالت کے مطابق جو بچے گم ہو جاتے ہیں یا اغوا کرلئے جاتے ہیں ان میں سے بیشتر فقیروں یا کوٹھے چلانے والوں اور انسانی اسمگلنگ میںملوث افرادکی درندگی کے شکار بن جاتے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں آئے وزارت برائے شماریات اور پروگرام وعملدرآمد کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بچوں کے خلاف جرائم کے 33،098 معاملے اجاگر ہوئے، جبکہ 2010 میں یہ تعداد 26،694 تھی۔ اس طرح بچوں کے خلاف جرائم میں 24 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پورٹ کے مطابق افسوس ناک بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ ان جرائم کے بہت سے معاملات میں ان کے قریبی رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف انہیں جنسی کاروبار کی اندھیری دنیا میں ڈھکیلنے والے کئی منظم گروہ سرگرم ہیں۔تازہ مطالعہ میں ایسے سب سے زیادہ کیس مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں پائے گئے ہیں۔ریاستوں میں اتر پردیش کا ریکارڈ سب سے زیادہ خراب ہے۔پڑھائی لکھائی اور تمام بیداری مہمات کے باوجود معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں میں تفریق کاسلسلہ ہنوزختم نہیں ہو پایا ہے۔ مگر مسئلہ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینے کی ذہنیت تک محدود نہیں ہے،بلکہ مسئلہ اس سے بھی بہت زیادہ آ گے بڑھ گیا ہے ۔خاص طور کمزور طبقوں کے بچوں کے لئے سماج میں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں اور ان میں عدم تحفظ کااحساس بھی۔ ان کے لاپتہ ہونے کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔پولیس ایسے معاملات کا نوٹس لینے اور ان کی تلاش کرنے میں کبھی مستعد نہیں دکھائی دیتی۔ اب تک کے جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گم ہونے والے زیادہ تر بچے بدحال خاندانوں کے ہوتے ہیں۔ انسانی اسمگلروں کے ذریعہ ایسے بچوں کے ماں باپ کو بہلا پھسلا کر، روزگار کے لالچ دے کر ان کا’شکار‘کیاجاتاہے۔ چونکہ بہت سے ماں باپ کےلئے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا مشکل ہے، اس لئے وہ بآسانی انہیں شہروں میں گھریلو نوکر یا پھر دکان یا کارخانے وغیرہ میں کام کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ 

ان اسمگلروں کے چنگل میں پھنسنے کے بعد ان بچوں کا نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار، جھارکھنڈ وغیرہ کے قبائلی علاقوں سے گھریلو کام کاج کے نام پر شہروں میں لے جائی گئی ہزاروں لڑکیاں لاپتہ ہیں۔ اسی طرح بڑے شہروں کی جھگی بستیوں سے بچوں کے غائب ہونے کے واقعات عام ہیں۔جہاںوہ بچوں کوبندھوا مزدور بھی بنا دیتے ہیں یا پھر انہیں اپاہج بنا کر مندروں، مالس اور مصروف چوراہوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جبکہ عام طور پر لڑکیوں کو جسم فروشی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ملک کی راجدھانی دہلی کوملک کاقلب کہا جاتا ہے، لیکن ہر سال یہاں بڑی تعداد میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے کتنے ماں باپ کے دل چھلنی ہو رہے ہیں، اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں اور ان میں سے بہت سے بچوں کا تو کبھی کوئی علم ہی نہیں ہو پاتا۔دہلی خواتین کے لئے تو پہلے ہی محفوظ نہیں تھی، اب یہ بچوں کے لئے بھی محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ شاید اسی سبب یہ بات ہلا دینے والی ہے کہ سال 2009 سے لے کر اب تک یہاں 19 ہزار سے زائد بچے لاپتہ ہو چکے ہیں جن میں سے 1731 لڑکیوں اور 1574 لڑکوں سمیت کل 3305 بچوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔عیاں رہے کہ یہ معلومات حال ہی میں وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ میں دی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وزارت ان لاپتہ بچوں کے لئے انسانی اسمگلروں سے بھی زیادہ ذمہ دار ان کے والدین کو مانتا ہے۔

وزارت کی طرف سے بتائے گئے 11 وجوہات میں انسانی اسمگلنگ کو آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق بچوں کے لاپتہ ہونے کے لیے زیادہ تر ماں باپ ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کہ ہے کہ ابھی کچھ ہی دن قبل سپریم کورٹ نے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں بچوں کے لاپتہ ہونے کو ایک ’انتہائی سنجیدہ معاملہ‘ قرار دیا تھا اور 16 اگست کو عدالت نے تمام ریاستوں سے ملک بھر میں لاپتہ 55 ہزار بچوں کا پتہ لگانے کے لئے کی جارہی کوششوں کی بھی معلومات ما نگی تھی۔اس کا فالو اپ کیا ہوا کچھ پتہ نہیں ایسے ہی سست روی کا نتیجہ ہے کہ صرف دہلی میں روز سو سے اوپر بچے غائب ہورہے ہیںاور بجائے اس میں کمی آنے کے اضافہ ہی ہو رہا ہے پولیس بھی ان بچوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ حالانکہ حکومت اس بات سے انجان نہیں ہے کہ اس طرح غائب ہونے والے بچوں کو بھیک مانگنے، بندھوا مزدوری کرانے، جسم فروشی، فحش فلموں وغیرہ کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دہشت گرد تنظیم بھی ایسے بچوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ایسے واقعات کے تار براہ راست غربت سے جڑے ہیں۔ مگر ملک کی ایک بڑی آبادی کا غریب ہونا کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ اس لئے غریبی کا حوالہ دے کر انسانی اسمگلنگ سمیت بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم سے سختی سے نمٹنے کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس سوال کے جواب میں کہ دہلی سے اتنی بڑی تعداد میں آخر بچے کیوں لاپتہ ہو رہے ہیں،ریاستی وزیر جتندر سنگھ نے بچوں کےلئے ماں باپ کے ناقص سلوک، ان سے ڈانٹ ڈپٹ اور خاندان کے لئے بچوں کے غصہ کو ہی ذمہ دار قرار دیا۔ اسکول میں زیادہ نمبر لانے کا دباو ¿، محبت کے چکر میں گھر سے بھاگنا، راستہ بھٹک جانا، دماغی حالت کی خرابی، اپنی مرضی سے چلے جانا اور کسی دوست کے گھر جا کر نہ لوٹنا وغیرہ بچوں کے کھونے کےاسباب ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2009 میں 5946 بچے راجدھانی میں لاپتہ ہوئے جبکہ 2010 میں 5091، 2011 میں 5111 اور اس سال 15 اگست تک 3171 بچے یہاں لاپتہ ہو چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2009 اور 2010 میں لاپتہ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کم تھی تاہم گزشتہ سال سے یہ رجحان بدل چکا ہے۔ 2011 سے اب تک 864 لڑکوں کے مقابلے میں 1103 لڑکیاں لاپتہ ہو چکی ہیں۔ جن 3305 لاپتہ بچوں کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے، وہ انسانی اسمگلنگ کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔ 2009 اور 2010 سے لاپتہ تقریبا 1400 بچے گزشتہ 2 سالوں سے اپنے گھروں کو نہیں لوٹے۔

ایک این جی او ”بچپن بچا
آندولن “کے قومی سکریٹری راکیش سےگر کا کہنا ہے کہ” دہلی سے دیگر شہروں کو بچوں کی اسمگلنگ کرنے والے کسی بھی بڑی تعداد کا پتہ لگانے میں دہلی پولیس ناکام رہی ہے۔ حال کے پانچ سالوں میں دہلی سے لاپتہ بچے میرٹھ، سہارنپور اور باغپت میںفیکٹری اور کھیتوں میں کام کرتے دیکھے گئے ہیں۔ایک اور کیس میں اقبال علی نامی شخص کا 2 سال سے لاپتہ 11 سالہ بیٹا عرفان پنجاب سے بھاگ کر دہلی اپنے گھر لوٹنے میں کامیاب رہا۔عرفان کو اغوا کر کے اسے لدھیانہ لے جا کر ایک شخص کو فروخت کر دیا گیا جو اس سے کھیتوں اور فیکٹری میں کام کرواتا رہا۔ عرفان کے ساتھ اسی علاقے سے 4 لڑکیاں بھی لاپتہ ہوئی تھیں جن کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔جامعہ ملیہ میں شعبہ سماجیات کی پروفیسر گومتی بودرا کا کہنا ہے ”بچے سب سے سافٹ ٹارگیٹ ہوتے ہے اس لئے مجرم انہیں اپنا نشانہ بناتے ہیں اور آسانی سے چھوٹ بھی جاتے ہیں۔ قانون میں بچوں کے لئے ہونے والے جرائم کے لئے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ سماج میں بڑھتی فاطرانہ ذہنیت اور خاندانوں میں آنے والی دوری کو اس کی وجہ بتاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ہی بچے ماں باپ سے کھل کر اپنی پریشانیاں شیئر نہیں کر پاتے۔تاہم بچوں کے حقوق کے لئے کئی غیر سرکاری ادارے موجود ہیں جو ان کے مفاد میں کام کر رہی ہےںمگر بچوںکے جنسی استحصال کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لئے بیداری لانا مزید ضروری ہے۔ پروفیسر گومتی سماجی سطح پر حالت کوبہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ بچوں کے لئے ورکشاپ کا انعقاد کیا جانا چاہئے اور انہیں اسکولی سطح پر بیداری بنایا جائے۔

اخیر میں یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ دارالحکومت دہلی ہندوستانی اقتدار کا مرکز ہونے کے علاوہ دنیا بھر کے سفارت خانوں کا مرکز بھی ہے اور اس لحاظ سے یہاں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ سخت عوامی سلامتی ہونے کی توقع کی جاتی ہے لیکن اس اعداد و شمار سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ دہلی تو بچوں کے لئے بالکل بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب ملک کی دارالحکومت میں یہ حال ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں صورتحال کیسی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جا رہی ہے کہ دنیا کے تقریبا وہ تمام ممالک جو خود کو انسانیت کا ہمدردقراردیتے ہیںانہیں یہ چیزیںدکھائی نہیں دیتیں اور ان کے نزدیک یہ کوئی معاملہ ہی نہیں ہے۔ حالانکہ تمام ہی بچوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے منشور پرہندوستان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ملک میںبچوں کے حقوق کے تحفظ کے کمیشن بھی موجودہے،مگر ان کے حقوق اور ان کے لئے بنے قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔کاش اس جانب صدق دل سے کام کیا جاتا تو مثبت نتائج بر آمد ہوتے۔

alamislahi@gmail.com
(Md Alamullah, Delhi)


۔۔۔مزید