ہفتہ، 17 دسمبر، 2011

شیر میسور سلطان ٹیپو شہید



 شیر میسور سلطان 
ٹیپو شہید
علم اللہ اصلاحی
   سلطان ٹیپو کو اس دنیا سے رخصت ہوئے آ ج212 برس بیت چکے ہیں، اس درمیان نہ جانے تاریخ نے کتنے پلٹے کھائے کتنے لوگ پیدا ہوئے اور مر گئے جن کا اب کوئی نام لیوا تک نہیں لیکن سلطان ٹیپو کی عظمت کا یہ ثبوت ہے کہ اب بھی اس کا نام لوگوں کے دلوں پر لکھا ہوا ہے۔ سلطان فتح علی خان المعروف ٹیپو سلطان کا باپ حیدر علی میسور کا حکمران تھے۔ انھوں نے انگریزوں سے کئی جنگیں لڑیں اور ان میں کامیاب ہوئے ۔سلطان ٹیپو نے فن سپاہ گری اپنے والد سے سیکھی تھیںجو کمال درجے کے دلیر اور بہادر حکمران تھے ٹیپو پر بھی باپ کا اثر پڑا اور سلطان ٹیپو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ساری زندگی فرنگی راج کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کردی۔ انگریز سلطان ٹیپو کو اپنے استعماری عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور ٹیپو کو اپنا بدترین دشمن تصورکرتے تھے۔

  حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو میسور کا حکمران بنکر اپنے اقتدار کے دوران عوامی فلاح وبہبود کیلئے بہت کام کیا لیکن انگریزوں نے اسے چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ انگریز اس کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑتے رہے۔ اس وقت اس علاقے میں انگریزوں کے علاوہ تین بڑی طاقتیں تھیں۔ایک سلطان ٹیپو دوسرا نظام حیدر آباد اور تیسرے مرہٹے۔انگریزوں نے چالاکی اور سازشوں سے نظام اور مرہٹوں کوساتھ ملا لیا اور ان کو سلطان کے خلاف لے آئے اس وقت دہلی میں مغل بادشاہ کی برائے نام حکومت تھی۔

 انگریز آہستہ آہستہ پورے برصغیر پر قبضہ کررہے تھے انگریز سلطان ٹیپو کو اپنے جارحانہ عزائم میں ایک بڑی دیوار خیال کرتے تھے انگریزوں کی سلطان ٹیپو کے خلاف پہلی دو جنگیں انگریزوں کے مقاصد پورے نہ کرسکیں، آخر کار برطانیہ سے ایک انتہائی سفاک اور چالاک آدمی کو بلایا گیا اور اسے سلطان ٹیپو کو شکست دینے کی ذمہ داری سونپی گئی اس کا نام لارڈ ولزلی تھا۔میسور کی آخری لڑائی شروع ہوئی انگریزی فوجیں سرنگاپٹم کے قلعے کے باہر کھڑی تھیں قلعہ پر انگریزوں کی گولہ باری جاری تھی۔چار مئی 1799ء کو صبح سلطان نماز فجر ادا کرکے اپنے خیمے سے باہر آیا وہ سرتاپا فوجی لباس میں غرق میدان کارزار کی طرف جانے لگے۔ شاہی جوتشی جو ہندو تھا ہاتھ جوڑ کر سلطان ٹیپو کے راستے میں کھڑا ہوگیا کہنے لگا سلطان آج آپ میدان  جنگ میں نہ جائیں ستارے نحوست دکھاتے ہیں۔ سلطان نے کہا تم اگر مجھے موت سے ڈرانا چاہتے ہو تو تمہیں مایوسی ہوگی۔یہ کہہ کر سلطان گھوڑے پر سوار آگے بڑھ گئے۔
  عصرکے وقت اپنوں کی غداری کی وجہ سے انگریزوں کی فوج قلعہ کے اندر داخل ہوچکی تھی سرنگام پٹم کی گلیوں میں سلطان کے جانثار سپاہی وفاداری اور غیرت مندی کی تاریخ رقم کررہے تھے۔ سلطان کے جانثار سپاہی کٹ کٹ کر گررہے تھے۔سلطان کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ انگریزی فوج سے لڑرہا تھے ساتھ ساتھ وہ اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بھی بڑھا رہا تھے۔ اتنے میں فرانسیسی دستے کا جرنیل وہاں آیا فرانسیسی سلطان ٹیپو کی فوج کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ کررہے تھے۔فرانسیسی جرنیل نے سلطان کو کہا ہماری فوج گھیرے میں آچکی ہے شکست سامنے دکھائی دے رہی ہے سلطان معظم آپ قلعہ کے عقبی دروازے سے نکل جائیں میں اپنے فرانسیسی دستوں کیساتھ آخری سانس تک انگریزوں سے لڑتا رہوں گا۔ آپ کسی اور مقام پر پہنچ کر تازہ دم ہو کر فوج کو منظم کریں۔سلطان اس کی بات سن کر مسکرایا اور کہا کہ تونے کیسے یہ سوچ لیا کہ میں تجھے چھوڑ کر بھاگ جاں گا۔مجھے جس ماں نے جنم دیا ہے اس نے اپنے دودھ کیساتھ مجھے یہ بھی سکھایا ہے کہ جھک جانے سے کٹ جانا بہتر ہوتا ہے اور شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔

  سلطان بہادری سے لڑتا رہا اس کو دو گولیاں لگ چکی تھیں شبیر میسور پر نقابت کے آثار نمودار ہورہے تھے اچانک ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اور سلطان ٹیپو کا سینہ چیر گئی۔ سلطان ٹیپو شہید ہوگیا دوسرے دن سلطان ٹیپو کا جنازہ اٹھایا گیا ،فضا ساکت تھی سلطان کے جانباز جو زخموں سے چور تھے بڑھ بڑھ کر جنازے کو کندھا دے رہے تھے عقیدت کے حیرت انگیز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔بچے بوڑھے جوان عورتیں اور مرد سب دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔جنازے کی نماز کے بعدانگریزوں نے سلطان ٹیپو کی بہادری کے پیش نظر اس کی میت کو توپوں کی سلامی دی، ابر کرم جم کر برسا گویا آسمان بھی اپنے محبوب کے غم میں آنسو بہا رہا تھا سچ کہا ہے کہنے والے نے ۔

موت اس  کی ہے  کرے جس  کا  زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے